
سیرت رسول ﷺ کا ایک اہم باب " غزوات النبی " بھی ہے۔ کتب حدیث و سیرت میں اس باب کو کبھی "کتاب المغازی" کبھی کتاب الجہاد، اور کبھی کتاب السیر کا نام دیا گیا ہے۔ محدثین واَہل سِیَر کی اِصطلاح میں غزَوہ وہ لشکر ہے جس میں رسول اللّٰہ ﷺ بذات خود شامل ہوۓ اور اگر حضور ﷺ بذات خود شامل نہ ہوٸے ہو بلکہ اپنے اصحاب میں سے کسی کو دشمن کے مقابلہ میں بھیج دیں تو وہ لشکر سَرِیَّہ کہلاتا ہے۔ غزوات تعداد میں ستائیس ہیں ۔ جن میں سے نو میں قتال یعنی لڑاٸی وقوع میں آٸی اور وہ یہ ہیں : (01) *بَدْر* (02) *اُحُد* (03) *مُرَیْسِیْع* (04) *خندق* (05) *قُرَیْظَہ* (06) *خیبر* (07) فتح مکہ (08) *حُنَین* (09) طائف سرایا کی تعداد سینتالیس ہے۔ غزوات میں سب سے پہلا اور حق و باطل کا فیصلہ کن معرکہ جو سن 2 ہجری میں پیش آیا، اس میں اللہ پاک نے مسلمانوں کو نسبت رسول ﷺ کی وجہ سے بہترین کامیابی عطا فرماٸی۔ خداۓ پاک نے دی ظلم کی پاداش دشمن کو ہوٸی ہے بدر کے اندر شکست فاش دشمن کو معرکہ بدر کو سمجھنے اور ایمان کی تازگی و تقویت کے لٸے سیرت کی دنیا ایپ کی جانب سے ایک زبردست کورس بنام " غزوہ بدر کورس " پیش کیا جارہا ہے۔ آئیں، معرکۂ بدر کو ایمان افروز انداز میں سیرتِ رسول ﷺ کی روشنی میں جانیے۔
927
انرولمنٹس
60
مکمل
4.9
ریٹنگ
غزوۂ بدر تاریخِ اسلام کا عظیم تَرِین معرکہ ہے، یہ اِسلامی تاریخ کی پہلی لڑائی ہے جو حق اور باطِل کے درمیان ہوئی۔ *بدر کیا ہے؟* بدر مدینہ منورہ سے اسی (80) میل کے فاصلے پر ایک گاوں کا نام ہے۔ جہاں زمانہ جاہلیت میں سالانہ میلہ لگتا تھا۔ اسی جگہ ایک کنواں بھی تھا۔ جس کے مالک کا نام بدر تھا۔ اور اسی کے نام پر اس جگہ کا نام " بدر " رکھا گیا۔ اسی مقام پر جنگ بدر کا وہ عظیم معرکہ ہوا جس میں کفار قریش اور مسلمانوں کے درمیان سخت خونریزی ہوئی اور مسلمانوں کو وہ عظیم الشان فتح مبین نصیب ہوئی جس کے بعد اسلام کی عزت و اقبال کا پرچم اتنا سر بلند ہوگیا کہ کفار قریش کی عظمت و شوکت بالکل ہی خاک میں مل گئی ۔ اللہ پاک نے غزوہ بدر کے دن کا نام قران پاک میں "یوم الفرقان " رکھا۔ اور قرآن کریم کی سورہ انفال میں تفصیل کے ساتھ اور دوسری سورتوں میں اجمالا بار بار اس معرکے کا ذکر فرمایا ۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے : *اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِؕ * ترجمہ : اگر تم اللہ پر اور اس پر ایمان رکھتے ہو جو ہم نے اپنے خاص بندے پر فیصلہ کے دن اتارا جس دن دونوں فوجیں آمنے سامنے ہوئی تھیں اور اللہ ہر شے پر قادر ہے ۔ ( پارہ 10,سورة الانفال، آیت 41 ) امام بغوی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : *﴿يَوْمَ الْفُرْقَانِ﴾ يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ، فَرَقَ اللَّهُ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ وَهُوَ ﴿يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ﴾ حِزْبُ اللَّهِ وَحِزْبُ الشَّيْطَانِ، وَكَانَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِسَبْعَ عَشْرَةَ مَضَتْ مِنْ رَمَضَانَ، ﴿وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾ عَلَى نَصْرِكُمْ مَعَ قِلَّتِكُمْ وَكَثْرَتِهِمْ. *ترجمہ : *﴿یَوْمُ الْفُرْقَانِ﴾* سے مراد غزوۂ بدر کا دن ہے؛ وہ دن جب اللہ تعالیٰ نے حق اور باطل کے درمیان واضح فرق کر دیا۔ یہی وہ دن ہے* ﴿يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ﴾* یعنی جب دو جماعتیں آمنے سامنے آئیں: ایک اللہ کی جماعت اور دوسری شیطان کی جماعت۔ یہ جمعہ کا دن تھا، رمضان المبارک کی سترہ تاریخ ہوچکی تھی۔ (تفسیر بغوی ، سورة الانفال ، تحت الآیت 41) تفسیر صراط الجنان میں ہے : اس دن سے روز ِبدر مراد ہے اور دونوں فوجوں سے مسلمانوں اور کافروں کی فوجیں مراد ہیں اور یہ واقعہ سترہ رمضان کو پیش آیا۔ صحابۂ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کی تعداد تین سو دس سے کچھ زیادہ تھی اور مشرکین ہزار کے قریب تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں ہزیمت دی، ان میں سے ستر سے زیادہ مارے گئے اور اتنے ہی گرفتار ہوئے۔ (تفسیر صراط الجنان ، تحت الایت 41 ،سورة الانفال )
غزوہ بدر کا ایک سبب تو یہ تھا کہ سن 02 ہجری رجب کے مہینے میں نبی پاک ﷺ نے حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کو امیر لشکر بنا کر طاٸف اور مکہ کے درمیان مقام نخلہ میں روانہ فرمایا قافلہ رجب کی آخری تاریخ میں مقام نخلہ پہنچا اسی دن کفار قریش کا ایک تجارتی قافلہ وہاں پہنچا اس تجارتی قافلے میں عامر بن الحضرمی بھی تھا۔ امیرقافلہ حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے جان کی حفاظت کی خاطر اس تجارتی قافلے پر حملے کا فیصلہ کیا۔ حملہ کرتے ہوۓ حضرت واقد بن عبداللہ تمیمی نے ایک تیر مارا وہ تیر عمرو الحضرمی کو لگا وہ اسی وقت مرگیا۔ (اس سریہ کو بدرصغری کا نام بھی دیا گیا) اس واقعے سے کفار قریش کا غضب مزید بڑھ گیا۔ اور خون کا بدلہ خون یہ نعرے لگنا شروع ہوگئے ۔ جنگ بدر اسی واقعے کے ردعمل میں واقع ہوئی۔ اس غزوہ بدر کو بدر الکبری کا نام بھی دیا گیا ہے۔
اس کا سبب عمر وبن حضرمی کا قتل اور قافلہ قریش کا شام کی طرف سے آنا تھا۔ یہ وہی قافلہ تھا جس کے قصد (ارادے) سے حضور اقدس ﷺ ذوالعشیرہ تک تشریف لے گئے تھے۔ امیر قافلہ ابو سُفْیان تھا ،( ابوسفیان اس وقت ایمان نہیں لاۓ تھے) . اس قافلے میں قریش کا بہت سا مال تھا۔ جب یہ قافلہ بَدْر کے قریب پہنچا تو حضور اقدس ﷺ کو خبر لگی آپ نے فوراً مسلمانوں کو نکلنے کی دعوت دی۔ اس لئے جلدی سے تیاری کرکے آپ بتاریخ ،12 ماہِ رمضان بروز ہفتہ مدینہ سے نکلے اور مدینہ منورہ سے ایک میل کے فاصلہ پر *’’ بئر ابِی عتبہ " *پر لشکر گاہ مقرر ہوا۔ یہاں لشکر کا جائزہ لینے کے بعد آپ نے صغیر السن صحابہ (مثلاً ابن عمر، براء بن عازِب، انس بن مالک ، جابر، زیدبن حارِث اور رافع بن خدیج رضی اللہ تعالٰی عنہم ) کو واپس کر دیا اور باقی کو لے کر روانہ ہوئے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص کے بھائی عُمیر جن کی عمر سولہ سال کی تھی حضور اقدس ﷺ سے آنکھ بچارہے تھے کیونکہ ان کو شہادت کا شوق تھا مگر ڈرتے تھے کہ کہیں چھوٹی عمر کے سبب واپس نہ کردیئے جائیں چنانچہ جب پیش ہوئے تو واپسی کا حکم ملا۔ اس پر آپ رونے لگے لہٰذا اس رحمۃ للعالمین ﷺ نے شمولیت کی اجازت دے دی بلکہ ان پر خود اپنی تلوار کا پَرتَلا لگادیا۔ واضح رہے کہ مسلمان صرف قریش کے تجارتی قافلے کو روکنے کے لئے نکلے تھے ان کو علم نہ تھا کہ فوج قریش سے مقابلہ کرنا پڑے گا۔ اس لئے فوری ناتمام تیاری کی گئی۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ’’ جس کا سواری کا اونٹ موجود ہو وہ سوار ہو کر ہمارے ساتھ چلے۔ ‘‘ انصار آپ سے ان اونٹوں کے لانے کے لئے جو مدینہ کے حصہ بالائی میں تھے اجازت مانگنے لگے۔ آپ نے فرمایا: ’’ نہیں صرف وہی ساتھ چلے جس کا سواری کا اونٹ حاضر ہے۔ ‘‘
آپ ﷺ کے ساتھ صرف ستر اونٹ دو گھوڑے اور تین سو آٹھ مجاہدین تھے۔ جن میں سے مہاجرین کچھ ساٹھ سے اوپر تھے اور باقی سب انصار تھے۔ آٹھ صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم اور تھے جو بوجہ عذر شامل نہ ہو سکے۔ حضور اقدس ﷺ نے ان کو بھی غنیمت میں سے پورا حصہ دیا لہٰذا یہ بھی اصحابِ بَدْر میں شامل ہو تے ہیں ۔ ان آٹھ میں سے تین تو مہاجرین تھے۔ یعنی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالٰی عنہ جو اپنی اہلیہ حضرت رقیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا بنت رسول اللّٰہ ﷺ کی تیمارداری کے لئے حضور ہی کے ارشاد سے مدینہ منورہ میں رہ گئے تھے اور حضرت طلحہ بن عبید اللّٰہ اور سعید بن زید ( یہ دو عشرہ مبشرہ میں سے ہیں ) جن کو حضور نے روانگی سے دس روز پہلے قافلہ قریش کی خبر لانے کے لئے بھیج دیا تھا اور وہ آپ کی روانگی کے بعد مدینہ میں واپس آئے تھے اور پانچ انصار تھے۔ یعنی ابو لُبَابَہ بن عبدالمُنْذِر جن کو آنحضرت ﷺ نے اپنی غیبَت میں مدینہ کا حاکم مقرر کیا ۔ عاصِم بن عَدِی العَجْلانی جو رَوحا سے ضربِ شدید کے سبب واپس کر دیئے گئے اور مدینہ منورہ کی بالائی آبادی (عالیہ ) کے حاکم بنائے گئے۔ حارِث بن حاطِب العمری جن کو حضور اقدس ﷺ نے روحا سے کسی خاص کام کے لئے بنو عَمرو بن عَوْف کے پاس بھیج دیا۔ حارث بن الصمَّہ جو رَوحاء میں ٹانگ پر ضرب شدید آنے کے سبب واپس کر دیئے گئے اور خوَّات بن جبَیر جو اَثنائے راہ میں ساق (پنڈلی) پر پتھر لگنے کے سبب مقام صفرا سے واپس کر دیئے گئے۔
سواری کے لئے تین تین مجاہدین کو ایک ایک اونٹ ملا ہوا تھا۔ حضور اقدس ﷺ اور حضرت علی اور حضرت مَرثَد غنَوِی رضی اللہ عنہما ایک اونٹ پر اور حضرت ابو بکر وحضرت عمر و حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنھم دوسرے پر باری باری سوار ہوتے تھے۔ طبقات ابن سعد میں ہے کہ : مقام روحاء تک حضرت مرثد کی جگہ حضرت ابو لبابہ تھے۔ جب حضور اقدس ﷺ کی باری پیدل چلنے کی آتی تو حضرت علی وابولبابہ رضی اللہ تعالٰی عنہما عرض کرتے کہ آپ سوار ہوجائیں ہم اپ کی جگہ پیدل چلتے ہیں مگر حضور ﷺ فرماتے : تم پیدل چلنے پر مجھ سے زیاد ہ قادر نہیں ہو اور نہ میں تمہاری نسبت اجر کا کم خواہاں ہوں۔ سیدالعالمین ﷺ کی سیرت کا یہ کتنا پیارا اور خوبصورت پہلو ہے کہ آپ سیدالانبیاء ہیں۔ لیکن سفر کا رفیق ہونے کی حیثیت سے یہاں بھی عدل و مساوات کو قائم رکھا۔ حضور ﷺ کی سیرت کا یہ حصہ ہر سربراہ (leader ) کے لئے قابل تقلید عمل ہے. جب نبی پاک ﷺ روحاء سے چل کر صفراء کے قریب پہنچے تو آپ نے حضرت بَسْبَس بن عَمرْو اور عَدِی بن اَبی الزّغْبَاء کو قافلہ قریش کی خبر لانے کے لئے بھیجا۔ وہ بَدر میں پہنچے اور وہاں سے یہ خبر سن کر آئے کہ قافلہ کل یا پرسوں بَدر میں پہنچے گا.
ابو سفیان کو شام میں خبر لگی تھی کہ مسلمان قافلے کی واپسی کا انتظار کر رہے ہیں ۔اس لئے اس نے حجاز کے قریب پہنچ کر ضَمْضَم بن عَمر و کو بیس مِثقال سونے کی اُجرت پر مکہ میں قریش کے پاس بھیجا تاکہ ان کو قافلے کے بچانے کی ترغیب دے۔ چنانچہ ضَمْضَم اونٹ پر سوار ہو کر فوراً روانہ ہو گیا۔ مکہ پہنچ کر ضمْضَم نے اپنے اونٹ کے ناک کان کاٹ دیئے تھے۔کجاوہ اُلٹ دیا تھا اور اپنی قمیص پھاڑ دی تھی۔ اس مخصوص انداز میں وہ اپنے اونٹ پر سوار، یوں پکار پکار کر کہہ رہا تھا: ’’ اے گر وہ قریش! قافلہ تجارت! قافلہ تجارت! تمہارا مال ابو سفیان کے ساتھ ہے۔ محمد ﷺ اور اس کے اصحاب اس کے راستے میں آچکے ہیں ۔ میں خیال نہیں کرتا کہ تم اسے بچا لوگے۔ فریاد! فریاد! ۔ ‘‘ یہ سن کر قریش کہنے لگے: کیا محمد ﷺ اور اس کے اصحاب گمان کرتے ہیں کہ یہ قافلہ بھی عَمرْ وبن حَضْرَمی کی مانند ہو گا! ہر گز نہیں ۔ اللّٰہ کی قسم! اُنہیں معلوم ہو جائے گا کہ ایسا نہیں ۔ غرض قریش جلدی نکلے اور ان کے اشراف میں سے سوائے ابولہب کے کوئی پیچھے نہ رہا اور اس نے بھی اپنی جگہ ابو جہل کے بھائی عاص بن ہشام کو بھیجا اور چار ہزار درہم جو بطورِ سود اُس سے لینے تھے اس صلے میں اس کو معاف کردئیے۔ اُمیّہ بن خلف نے بھی پیچھے رہ جانے کا ارادہ کیا تھا کیونکہ اس نے حضرت سعد بن معاذ سے ہجرت کے بعد مکہ مشرفہ میں سنا تھا کہ وہ حضور اقدس ﷺ اور آپ کے اصحاب کے ہاتھ سے قتل ہوگا مگر ابوجہل نے کہا : تو وادی مکہ میں رہنے والوں کا سردار ہے اگر تو پیچھے رہ گیا تو دوسرے بھی دیکھا دیکھی تیرے ساتھ رہ جائیں گے۔ غرض غوروفکر کے بعد ابو جہل کے اِصرار پر وہ بھی ساتھ ہو لیا۔ قریش جب بڑے سازوسامان سے اس طرح چلنے کو تیار ہو گئے تو انہیں بنو کنانہ کی طرف سے حملے کا اندیشہ پیدا ہوا کیونکہ بَدْر سے پہلے قریش وکنانہ میں لڑائی جاری تھی۔ اس لئے قریش ڈر رہے تھے کہ ایسا نہ ہو بنوکنانہ ہمارے یہاں سے جانے کے بعد بغض و عداوت کے سبب ہمارے پیچھے ہم کو کوئی ضرر پہنچائیں۔ اس وقت ابلیس بصورت سُراقہ بن مالک ظاہر ہوا جو کنانہ کا سردار تھا، اور کہنے لگا: میں ضامن ہوں تمہارے پیچھے، بنو کنانہ سے تمہیں کوئی ضرر و نقصان نہیں پہنچے گا۔ میں تمہارے ساتھ ہوں ۔ اس طرح ابلیس لعین بصورتِ سُراقہ لشکر قریش کے ساتھ تھا۔ اس کے علاوہ اہل مکہ کے ساتھ گانے والی عورتیں اور لہو ولعب کا سامان بھی تھا۔ کھانے کا اہتمام یہ تھا کہ اُمَرائے قریش عباس، عُتْبہ بن ربِیعہ، حارِث بن عامر، نَضْربن حارث، ابوجہل، امیَّہ وغیرہ باری باری ہر روز دس دس اونٹ ذبح کرتے اور لوگوں کو کھلاتے تھے۔عُتْبہ بن رَبِیعہ جو قریش کا سب سے معزز ر ئیس تھا فوج کا سپہ سالا رتھا۔
جب ابو سفیان مدینہ کے نواح میں پہنچا اور قریش کی فوج اس کی مدد کو نہ پہنچی تو وہ نہایت خوفزدہ ہوا کہ کہیں مسلمان چھپ کر حملہ کرنے کی تیاری میں نہ ہوں ۔ اسی حال میں وہ بَدْر میں جا پہنچا وہاں اس نے مَجْدی بن عَمْر و سے پوچھا: کیا تو نے محمد ﷺ کے جاسوسوں میں سے کسی کو دیکھا ہے؟ مجدی بولا: ’’ اللہ کی قسم! میں نے کسی اجنبی شخص کو نہیں دیکھا، ہاں اس مقام پر دوسوار آئے تھے۔ یہ کہہ کر عَدِی و بَسْبَس کے مُنَاخ کی طرف اشارہ کیا۔ابوسفیان نے ان کے اونٹوں کی مینگنیوں کو لے کر توڑا تو کیا دیکھتا ہے کہ ان میں کھجور کی گٹھلیاں ہیں ۔ کہنے لگا: ان اونٹوں نے یثرب (اس وقت مدینے کا نام یثرب ہی تھا ) کی کھجوریں کھائی ہیں ۔ وہ تو محمد ﷺ کے جاسوس تھے لہٰذا اس نے اپنے قافلے کے اونٹوں کے منہ پھیر دیئے اور بدر کو بائیں ہاتھ چھوڑ کر ساحل سمندر کے ساتھ ساتھ مکہ کو روانہ ہوا۔ جب وہ قافلے کو محلِ خطر سے بچا لے گیا تو اس نے قیس بن اِمرَیٔ ُالقَیس کے ہاتھ قریش کو کہلا بھیجا کہ میں نے قافلے کو بچا لیا ہے لہٰذا تم واپس چلے جاؤ۔ یہ قاصد جُحْفَہ میں قریش سے ملا اور انہیں ابو سفیان کا پیغام پہنچایا۔ قریش نے واپس ہو نے کا ارادہ کیا مگر ابوجہل بو لا کہ ہم بَدْر سے وَیسے ہی واپس نہ ہوں گے۔ وہاں تین دن ٹھہریں گے، اونٹ ذبح کریں گے اور کھائیں کھلائیں گے۔ شراب پئیں گے اور راگ سنیں گے۔ اس طرح قبائل عرب کے اَطراف میں ہماری عظمت و شوکت کا رعب پھیل جائے گا اور وہ ہمیشہ ہم سے ڈرتے رہیں گے۔ پس ابوجہل کی رائے پر عمل کیا گیا۔ جُحْفَہ ہی میں اَخْنَس بن شَریق الثقَفِی نے اپنے حلیف بنو زُہرہ کو جو ایک سو اور بقول بعض تین سو مرد تھے مشور ہ دیا کہ واپس چلے جاؤ۔ چنانچہ وہ واپس چلے گئے اس طرح بنو عدی بن کعب جو قریش کے ساتھ آئے تھے ثَنِیَّۂ لَفْت سے واپس لوٹ گئے اور واپسی میں ابو سفیان ان سے ملا اور کہنے لگا: اے بنو عدی! تم کیونکر لوٹ آئے۔ *لاَ فِی الْعِیْر وَلاَ فِی النَّفِیْر*۔( نہ قافلے میں اور نہ قریش میں ) وہ بولے کہ تو نے ہی تو قریش کو لوٹ جانے کا پیغام بھیجا تھا۔ غرض بنو زُہرہ اور بنو عَدی کے سوا تمام قریش کے قبائل لڑائی میں شامل تھے۔
مقام صَفْراء کے نزدیک وادی ذَفِرَان میں حضور ﷺ کی خدمت میں حضرت جبرئیل علیہ السّلام دو جماعتوں میں سے ایک کا وعدہ لائے۔ پس آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ تَعالٰی عنہم سے مشورہ کیا اور پو چھا کہ تم کیا چاہتے ہو، عِیر (قافلہ) یا نَفِیر (گروہ قریش ) یعنی قریش کے قافلہ تجارت کا ہی تعاقب کیا جاۓ یا گروہ قریش کے سے مقابلہ کیا جاۓ۔ مسلمان چونکہ محض قافلہ کے قصد سے نکلے تھے، تعداد بھی کم تھی اور سامان جنگ بھی کافی نہ تھا، اس لئے ایک فریق اس حالت میں لڑائی سے ہچکچاتا تھا۔ وہ بولے: عِیر یعنی قافلہ۔ یہ سن کر حضور ِاقدس ﷺ ناخوش ہو ئے ، لہٰذا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کھڑے ہو کر تقریر کی اور خوب کہا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے تقریر کی اور اچھی کی۔ پھر حضرت مِقْداد بن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہ کھڑے ہوئے اور بولے کہ ’’ یا رسول اللہ! ﷺ اللہ تعالٰی نے جو آپ کو بتایا ہے وہ کیجئے ہم آپ کے ساتھ ہیں ، اللہ کی قسم! ہم نہیں کہتے جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی قوم نے کہا تھا: *فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ * بلکہ ہم آپ کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے لڑیں گے۔ ‘‘ یہ سن کر حضور اقدس ﷺ خوش ہوئے اور حضرت مقداد رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حق میں دعا ئے خیر فرمائی۔ پھر آپ نے انصار کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ مجھے مشورہ دو۔ انصار نے جب حضور ﷺ کا ارشاد سنا تو حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جو اَکابر ِاَنصار میں سے تھے یوں جواب دیا: ’’ ہم آپ پر ایمان لائے ہیں اور گواہ ہیں اس امر پر کہ جو کچھ آپ لائے ہیں وہی حق ہے اور اس تصدیق پر ہم نے آپ کو اپنی اطاعت کے وعدے دیئے ہو ئے ہیں ۔ یا رسول اللہ! ﷺ آپ جہاں چاہیں چلیں ہم آپ کے ساتھ ہیں اللہ کی قسم! جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے، اگر آپ ہمارے ساتھ اس سمندر کو عبور کرنا چاہیں اور اس میں کود پڑیں تو بیشک ہم بھی آپ کے ساتھ اس میں کود پڑیں گے اور ہم میں سے ایک بھی پیچھے نہ رہے گا۔ ہمیں یہ نا گوار نہیں کہ کل کو آپ ہمیں ساتھ لے کر دشمن کا مقابلہ کریں ۔ہم لڑائی میں صابر اور دشمن کے مقابلے کے وقت صادق ہیں ۔ شاید اللہ تعالٰی مقابلے میں ہمارے ہاتھ سے آپ کو وہ دکھائے کہ جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ، لہٰذا آپ ہم کو اللہ کی برکت سے لے چلیں ۔ ‘‘ حضور ﷺ حضرت سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ کے اس قول سے خوش ہوئے اور فرمایا کہ ’’ اللہ کی برکت سے چلو! اللہ تعالٰی نے مجھ سے دوباتوں (قافلہ اور فوجِ قریش ) میں سے ایک کا وعدہ کیا ہوا ہے۔ اللہ کی قسم ! گو یا میں قریش کی موت کی جگہوں کو دیکھ رہا ہوں۔
حضور ﷺ نے جھنڈے تیار کیے۔سب سے بڑا جھنڈا مہاجرین کا تھا جو حضرت مصْعَب بن عمیر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ہاتھ میں تھا اور قبیلہ خزرج کا جھنڈا حضرت حباب بن المنذر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس تھا اور قبیلہ اَوس کا جھنڈا حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اٹھایا ہوا تھا۔ مشرکین کے ساتھ بھی تین جھنڈے تھے۔ ایک ابو عزیر بن عمیر دوسرا نضر بن حارث اور تیسرا طلحہ بن ابی طلحہ کے ہاتھ میں تھا۔ حضور اقدس ﷺ بتاریخ 17 ماہِ رمضان جمعہ کی رات کو بَدْر میں قریب کے میدان میں اترے اور قریش دوسری طرف اترے۔ حضور انور ﷺ نے حضرات علی وزبیر و سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہم کو مشرکین کا حال دریافت کر نے کے لئے بھیجا وہ قریش کے دو غلام پکڑلائے۔ اس وقت حضور اقدس ﷺ نمازپڑھ رہے تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے ان غلاموں سے پوچھا: کیا تم ابوسفیان کے ساتھی ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو قریش کے ساقی (پانی پلانے پر مقرر ) ہیں ۔ قریش نے ہمیں پانی پلا نے کے لئے بھیجا ہے۔ اس پر صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے انہیں مارا۔ جب وہ درد سے بے چین ہو ئے تو کہنے لگے کہ ہم ابو سفیان کے ساتھی ہیں ۔ اتنے میں حضرت ﷺ نماز سے فارغ ہوئے۔ آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا: ’’ جب یہ تم سے سچ بول رہے تھے تم نے ان کو مارا اور جب تم سے یہ جھوٹ کہنے لگے تو تم نے ان کو چھوڑ دیا۔ اللّٰہ کی قسم! انہوں نے سچ کہا وہ قریش کے ساتھی ہیں ۔ ‘‘ پھر حضور اقدس ﷺ نے ان غلاموں سے قریش کا حال دریافت کیا۔انہوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! یہ ریت کا ٹیلہ جو نظر آرہا ہے اس کے پیچھے ہیں ۔۔آپ نے دریافت فرمایا کہ قریش تعداد میں کتنے ہیں ؟ وہ بولے کہ ہمیں معلوم نہیں ۔ پھر آپ نے پوچھا کہ وہ روزانہ کتنے اونٹ ذبح کرتے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ایک دن دس اور ایک دن نو۔ آپ نے فرمایا کہ وہ ہزار اور نوسو کے درمیان ہیں ۔ (واقع میں وہ ساڑھے نو سو تھے اور ان کے پاس سو گھوڑے تھے۔) پھر آپ نے پوچھا: سرداران قریش میں سے کون کون آئے ہیں ؟ وہ بولے عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ ، ابو جہل بن ہشام، ابو البختر ی بن ہشام، حکیم بن حزام، نوفل بن خویلد ، حارث بن عامر بن نوفل ، طعیمہ بن عدی ابن نو فل ، نضر بن حارث، زمعہ بن اسود ، امیہ بن خلف ، نبیہ و منبہ پسر انِ حجاج ، سہیل بن عمرو ، عمرو بن عبد ود یہ سن کر حضور ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا: ’’ لو! مکہ نے اپنے جگر پارے تمہاری طرف بھیج دیئے ہیں ۔ ‘‘ پس حضور اقدس ﷺ جلدی کوچ کر کے کنوئیں کی طرف آئے اور جو کنواں بَدْر کے سب سے قریب تھا اس پر اترے۔ حضرت حباب بن منذر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ ﷺ جہاں آپ ہیں وہ اچھی جگہ نہیں ۔
آپ ہمیں اس کنویں پر لے چلیں جو قریش کے سب سے نزدیک ہو میں بَدْر سے اور وہاں کے کنووں سے واقف ہوں ۔ وہاں ایک میٹھے پانی کا کنواں ہے جس کا پانی ختم نہیں ہوتا۔ ہم اس پر ایک حوض بنا لیں گے اس میں سے پئیں گے اور جنگ کریں گے اور باقی کنووں کو بند کردیں گے تا کہ کفار کو پانی نہ ملے۔ حضرت جبرئیل علیہ السّلام حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ حباب کی رائے درست ہے۔ اس کے علاوہ جہاں مسلمان اترے ہوئے تھے وہ نرم ریتلی زمین تھی جس میں آدمیوں کے پاؤں اور چو پایوں کے ُکھر اور سُم دَھنستے تھے اور جہاں کفار ٹھہرے ہوئے تھے انہوں نے وہاں کوئیں کھود لئے تھے اور پانی جمع کر لیا تھا۔ مسلمانوں میں سے بعض کو غسل جنابت اور بعض کو وضو کی حاجت تھی اور پیاسے تھے پانی نہ ملتا تھا۔ پس شیطان نے ان کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈالا کہ تمہارا گمان ہے کہ ہم حق پر ہیں ، پیغمبر ہمارے درمیان ہیں اور ہم اللہ کے پیارے ہیں ، حالانکہ مشرکین پانی پر قابض ہیں اور تم جنب (بےغسل) اور محدث(بےوضو) ہونے کی حالت میں نمازیں پڑھتے ہو، پھر تمہیں کس طرح امید ہو سکتی ہے کہ تم ان پر غالب آجاؤ گے۔ ایسی حالت میں اللہ تعالٰی نے ان پر نیند طاری کر دی۔ جس سے ان کا رنج وتعب (تھکاوٹ) دور ہو گیا اور بارش برسادی جس سے انہوں نے پیا، غسل کیا اپنے چوپایوں کو پلایا اور مشکیں بھر لیں اور ریت سخت ہو گئی جس پر چلنا آسان ہو گیا اور کفار کی زمین کیچڑ ہو گئی جس پر چلنا دشوار ہو گیا۔ اس طرح وسوسۂ شیطان جاتا رہا اور اطمینان حاصل ہو گیا۔ غرض حضور اقدس ﷺ اور آپ کے اصحاب وہاں سے چل کر کفار سے پہلے آب بَدْر پر پہنچ گئے اور قریش کے سب سے قریب کنویں پر اترے اور اس پر حوض بنا کر پانی سے بھر لیا اور دوسرے کنووں کو بند کر دیا پھر حضور اقدس ﷺ کے لئے اونچی جگہ پر ایک عریش (کھجور کی شاخوں کا سائبان ) بنایا گیا۔ نبی پاک ﷺ صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ساتھ عریش میں داخل ہوئے یار غار یہاں بھی عریش کے اندر اپنے آقائے نامدار ﷺ کی حفاظت کے لئے شمشیربرہنہ بلند کیے ہوئے تھے اور دروازے پر حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالٰی عنہ تلوار آڑے لٹکا ئے پہر ہ دے رہے تھے۔ غزوہ بدر میں جس جگہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریم رؤف رحیم ﷺکی حفاطت کیلئے سائبان (چھپر) بنایا تھا۔ جنگ کے بعد عاشقان رسول نے وہی ایک اعلیٰ شان مسجد تعمیر کی ۔آج بھی شہدائے بدر کے مزارات کے پہلو میں وہ مبارک مسجد موجود ہے ۔ سرکار دوعالم ﷺ کے سائبان کی نسبت کی برکتیں حاصل کرنے کیلئے عشاق مصطفٰی نے اس مسجد کا نام " مسجد عریش " رکھا ۔کیونکہ سائبان کو عربی زبان میں " عريش " کہتے ہیں اسی وجہ سے اس مسجد کا نام مسجد عريش رکھا گیا۔
نبی پاک ﷺ نے اپنے اصحاب کو میدان بدر میں مرنے والے کافروں سے متعلق پہلے ہی بتادیا تھا۔ اور اتنا ہی نہیں بلکہ نبی کریم ﷺ کون کافر میدان بدر میں کس جگہ مرے گا ان حدود کا بھی پہلے ہی تعین فرمادیا تھا۔ مشکوة المصابیح کی روایت ہے جس کے راوی حضرت انس رضی اللہ عنہ ہیں۔ اپ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ہمیں اہل بدر کے بارے میں بتایا کہ *إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُرِينَا مَصَارِعَ أَهْلِ بَدْرٍ بِالْأَمْسِ يَقُولُ هٰذَامَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا إِنْ شَاءَ اللهُ قَالَ عُمَرُ: وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا أَخْطَؤُوا الْحُدُودَ الَّتِي حَدَّهَا رَسُولُ اللہ ﷺ* ترجمہ : رسول الله ﷺ نے ہم کو ایک دن پہلے بدر کے کافروں کی قتل ہونے کی جگہ کے بارے میں بتایا اور فرمایا کہ ان شاء الله کل یہ جگہ فلاں کی قتل گاہ ہوگی اور ان شاء الله کل یہ جگہ فلاں کی قتل گاہ ہوگی جناب عمر رضی اللہ عنی فرماتے ہیں کہ اس کی قسم جس نے انہیں حق کے ساتھ بھیجا کہ وہ لوگ ان حدود سے جو نبی ﷺ نے مقرر فرمائی تھیں بالکل نہ ہٹے ۔ (مشکوة المصابیح، حدیث 5938) *کہاں مریں گے ابو جہل و عتبہ و شیبہ* *کہ جنگ بدر کا نقشہ حضور جانتے ہیں*
شب غزوہ بدر 17 رمضان المبارک جو شب جمعہ بھی تھی۔ نبی مکرم ﷺ نے ساری رات دعا میں مصروف رہے ۔ صحیح مسلم شریف کی روایت ہے : حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنھما نے فرمایا *” حدثني عمر بن الخطاب، قال: لما كان يوم بدر نظر رسول الله ﷺ إلى المشركين وهم ألف، وأصحابه ثلاث مائة وتسعة عشر رجلا، فاستقبل نبي ﷺ القبلة، ثم مد يديه، فجعل يهتف بربه: «اللهم أنجز لي ما وعدتني، اللهم آت ما وعدتني، اللهم إن تهلك هذه العصابة من أهل الإسلام لا تعبد في الأرض“* ترجمہ: مجھے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے بیان فرمایا کہ بدر کے دن رسول اللہ ﷺ نے مشرکین کی طرف نظر فرمائی وہ ایک ہزار تھے اور آپ ﷺ کے صحابہ 319 کی تعداد میں تھے،تو اللہ تعالی کے نبی ﷺ نے قبلہ کی طرف چہرہ کرکے اپنے ہاتھوں کو پھیلایا اورگڑگڑا کر اپنے رب تعالی سے یوں دعا کرنے لگے:" اے اللہ تونے مجھ سے جو وعدہ کیا اسے پورا فرما،اے اللہ تونے جس چیز کا مجھ سے وعدہ کیا وہ مجھے عطا فرما،اے اللہ اہل اسلام کا یہ گروہ اگر ہلاک ہوگیا تو زمین میں تیری عبادت نہ ہوگی۔ " (صحیح مسلم، حدیث 1763 ) صبح نمودار ہوئی تو آپ ﷺ نے لوگوں کو نماز کے لئے بیدار فرمایا پھر نماز کے بعد قرآن کی آیات جہاد سنا کر ایسا لرزہ خیز اور ولولہ انگیز وعظ(speech )فرمایا کہ مجاہدین اسلام کی رگوں کے خون کا قطرہ قطرہ جوش وخروش کا سمندر بن کر طوفانی موجیں مارنے لگا اور لوگ میدان جنگ کے لئے تیار ہونے لگے۔ (سیرت مصطفی ص218 مکتبہ المدینہ)
رمضان المبارک جمعہ کے دن وعظ وخطبے کے بعد نبی پاک ﷺ صف آرائی میں مشغول ہوئے۔ آپ ﷺ کے دست مبارک میں ایک تیر کی لکڑی تھی ۔جس سے کسی کو آپ اشارہ فرماتے کہ آگے ہو جاؤ اور کسی سے ارشاد فرماتے تھے کہ پیچھے ہو جاؤ۔ چنانچہ حضرت سؤاد بن غزیہ انصاری رضی اللہ عنہ جو صف سے آگے نکلے ہوئے تھے حضور اقدس ﷺ نےاس لکڑی سے ان کے پیٹ پر ایک کونچا دے کر فرمایا تو *اِستَوِ يَاسَوَاد *یعنی اے سواد برابر ہوجاو ۔ حضرت سواد رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول الله! آپ نے مجھے ضرب شدید لگائی ہے حالانکہ آپ کو الله کریم نےحق و انصاف کے ساتھ بھیجا ہے آپ مجھے قصاص دیں۔ یہ سن کر حضور ﷺ نے اپنی شکم مبارک کپڑا ہٹایا اور فرمایا : اپنا قصاص لے لو، اس پر حضرت سواد رضی اللہ عنہ صاحب جود وکرم ، دافع رنج والم ﷺ کے گلے سے لپٹ گئے اور آپ کے شکم مبارک کو بوسہ دیا۔ پیارے مصطفٰی ﷺ نے پوچھا: اے سواد! تو نے ایسا کیوں کیا؟ حضرت سواد رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول الله !موت حاضر ہے میں نے چاہا کہ آخر عمر میں میرا بدن آپ کے بدن اطہر سے مس کر جائے ، یہ سن کر آپ ﷺ نے اس کے لئے دعائے خیر و برکت فرمائی اور حضرت سواد رضی اللہ عنہُنے بارگاہ رسالت میں معذرت کرتے ہوئے اپنا قصاص معاف فرما دیا۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سيدنا سواد رضی اللہ عنہ کی اس عاشقانہ ادا کو حیرت سے دیکھتے ہوئے ان کا منہ تکتے رہ گئے۔(السیرة النبوةلابن ھشام۔ غزوہ بدر الکبری ص258۔ 259) اس واقعے سے جہاں حضرت سواد رضی اللہ عنہ کا عشق رسول ظاہر ہوتا ہے وہی پر نبی پاک ﷺ کی سیرت کا پہلو بھی نمایاں ہوتا ہے کہ آپ نے حضرت سواد رضی اللہ عنہ کے مطالبے پر اپنے شکم مبارک کو قصاص کے لٸے پیش کردیا۔ یقینا۔۔ آسمان زمین نے کبھی کسی بادشاہ کا یہ انکساری والا انداز نہیں دیکھا ہوگا۔
حضرت سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ’’میں اور حضرت حُسَیل رضی اللہ عنہ کہیں سے آرہے تھے کہ راستے میں کفار نے ہم دونوں کو روک کر کہا ’’ تم دونوں بدر کے میدان میں حضرت محمد ﷺ کی مدد کرنے کے لئے جا رہے ہو۔ ہم نے جواب دیا: ہمارا بدر جانے کا ارادہ نہیں ہم تو مدینے جا رہے ہیں ۔ کفار نے ہم سے یہ عہد لیا کہ ہم صرف مدینے جائیں گے اور جنگ میں رسولُ اللہ ﷺ کے ساتھ شریک نہ ہوں گے ۔ اس کے بعد جب ہم دونوں(بدر کے میدان میں) بارگاہِ رسالتﷺ میں حاضر ہوئے اور اپنا واقعہ بیان کیا تو حضورِ اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’تم دونوں واپس چلے جاؤ، ہم ہر حال میں کفار سے کئے ہوئے عہد کی پابندی کریں گے اور ہمیں کفار کے مقابلے میں صرف اللہ پاک کی مدد درکار ہے۔ (مسلم، کتاب الجہادوالسیر، باب الوفاء بالعہد، ص988 ) سچے نبی سے محبت کرنے والے امتیوں ۔۔۔ اس واقعے سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دین اسلام میں وعدہ پورا کرنے کی کتنی اہمیت ہے کہ ایسی سنگین حالت( situation )کہ پہلی جنگ ہے اور اوپر سے صرف 313 یا 319 مجاہدین جن کے پاس چند گھوڑے، تلواریں ،زریں اور تیر ہیں اور سامنے کیل کانٹے سے لیس ایک ہزار کا لشکر ہے اب ایسی حالت کہ ایک ایک سپاہی کتنا قیمتی اور اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔لیکن قربان جائے جناب صادق وامین نبی ﷺ پر کہ کفار سے کیے ہوئے وعدہ کو بھی پورا کیا۔ آج ہمارا کیا حال ہے۔۔؟ ہمارے آقا ﷺ تو وہ ہیں جو کفار سے کیے ہوئے وعدے کو پورا کریں اور ان سے محبت کرنے والا اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ وعدہ خلافی کرے،کسی سے قرض لے تو مقرر تاریخ پر بلاعذر شرعی ادا نہ کرے،کسی کو وقت (Time) دئے تو مقررہ وقت پر نہ پہنچ کر اگلے کو تکلیف و آزمائش میں مبتلا کرے۔ یقینا فکر آخرت رکھنے والوں کیلئے اس میں لمحہ فکریہ ہے۔ وعدے کی پاسداری مسلمان کی خوبی ہے۔ ہمیں سیرت رسول ﷺ سے اس کا واضح پیغام ملتا ہے۔
صفیں درست کرنے کے بعد نبی پاک ﷺ سائبان میں تشریف لے گئے ۔ سائبان میں یار غار سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی نہ تھا ۔ اس وقت اللہ پاک کی رحمت والے پیارے نبی ﷺ بارگاہ الہی میں یوں دعا مانگ رہے تھے " اے اللہ !تو نے مجھ سے جو وعدہ فرمایا آج اسے پورا کردے" پیارے آقا ﷺ پر اس قدر رقت اور محویت طاری تھی کہ جوش گریہ میں چادر مبارک دوش انور سے گر پڑتی تھی مگر آپ کو خبر نہیں ہوتی تھی کبھی آپ سجدہ میں سر رکھ کر اس طرح دعا مانگتے کہ "الہی! اگر یہ چند نفوس ہلاک ہو گئے تو پھر قیامت تک روئے زمین پر تیری عبادت کرنے والے نہ رہیں گے۔“ ( المواھب اللدنیة و الزرقانی ج2ص 278) سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کے یارغار تھے۔ آپ کو اس طرح بے قرار دیکھ کر ان کے دل کا سکون وقرار جاتا رہا اور ان پر رقت طاری ہوگئی اور انہوں نے چادر مبارک کو اٹھا کر آپ کے مقدس کندھے پر ڈال دی اور آپ کا دست مبارک تھام کر بھرائی ہوئی آواز میں بڑے ادب کے ساتھ عرض کیا کہ حضور ! اب بس کیجئے خدا ضرور اپنا وعدہ پورا فرمائے گا۔ اپنے یار غار صدیق جاں نثار کی بات مانتے ہوئے نبی رحمت ﷺ نے دعا ختم کر دی اور آپ کی زبان مبارک پر اس آیت کا ورد جاری ہو گیا۔ *سَیُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ یُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ*۔ (پارہ 27 ،القمر 45) ترجمہ کنزالایمان :اب بھگائی جاتی ہے یہ جماعت اور پیٹھیں پھیر دیں گے۔
آپ ﷺ اس آیت کو بار بار پڑھتے رہے جس میں فتح مبین کی بشارت کی طرف اشارہ تھا۔اللہ کریم نے اپنے پیارے نبی ﷺ کی دعا کو قبولیت کا تاج پہنایا اور مسلمانوں کو عظیم فتح نصیب ہوئی۔ اعلیٰ حضرت امام اہلسنت دعائے مصطفے کے بارے میں کیا خوب فرماتے ہیں۔ *اِجابت کا سہرا عنایت کا جوڑا دُلہن بن کے نِکلی دُعائے مُحَمَّد* *اِجابت نے جُھک کر گلے سے لگایا بڑھی ناز سے جب دُعائے مُحَمَّد* (حدائق بخشش ص66) اس سے پتا چلتا ہے کہ کیسے ہی کٹھن حالات پیدا ہو جائیں ہمیں نظر اسباب نہیں بلکہ مسبب الأسباب جل جلالہ پررکھنی چاہئے اور دعا سے ہرگز غفلت نہیں کرنی چاہئے ۔ کہ فرمان آخری نبی ﷺ ہے *اَلدُّعَاءُ سِلَاحُ المُؤْمِن* یعنی دعا مومن کا ہتھیار ہے۔(مسند ابی یعلی ج 1ص 215 حدیث435) غزوة بدر میں دشمنوں کو اپنی بھاری تعداد اور کثرت اسلحہ (weapon)پر ناز تھا اور مسلمانوں کو الله رب العزت اور اس کے پیارے محبوب ﷺ پر بھروسا۔ مجاہدین میں جذبہ شہادت کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اور مسلمانوں کا بچہ بچہ شوق شہادت سے سرشار تھا۔ (ابو جہل کی موت ص17)
نبی پاک ﷺ کی دعا کی برکات یہ ظاہر ہوٸی کہ اللہ پاک نے مسلمانوں کی مدد کے لئے آسمان سے فرشتوں کا نزول فرمادیا جو غزوہ بدر میں کفار کے مقابلے میں ان شہادت کے طلب گاروں کی مدد کرتے رہے۔ اللہ پاک نے قرآن کریم میں اس مدد کا ذکر بھی فرمایا۔ ارشاد باری تعالی ہے : *اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓىٕكَةِ مُرْدِفِیْنَ* ترجمہ : یاد کرو جب تم اپنے رب سے فریا د کرتے تھے تو اس نے تمہاری فریاد قبول کی کہ میں ایک ہزار لگاتار آنے والے فرشتوں کے ساتھ تمہاری مدد کرنے والا ہوں۔ (پارہ 09 ،سورة الانفال، ایت 10) اس آیت میں ایک ہزار فرشتوں کا ذکر ہو اور سورہ آل عمران میں پانچ ہزار فرشتوں کا نزول فرمایا۔ ارشاد باری تعالی ہے : *وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌۚ-فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ* ترجمہ : اور بیشک اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی جب تم بالکل بے سر و سامان تھے تو اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ۔ *اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ اَلَنْ یَّكْفِیَكُمْ اَنْ یُّمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓىٕكَةِ مُنْزَلِیْنَ ٭بَلٰۤىۙ-اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا وَ یَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰذَا یُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓىٕكَةِ مُسَوِّمِیْنَٛ* ترجمہ : یاد کرو اے حبیب! جب تم مسلمانوں سے فرمارہے تھے کیا تمہیں یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب تین ہزار فرشتے اتار کرتمہاری مدد کرے۔ ہا ں کیوں نہیں ،اگر تم صبرکرو اور تقویٰ اختیارکرو اور کافر اسی وقت تمہارے اوپر حملہ آور ہوجائیں تو تمہارا رب پانچ ہزار نشان والے فرشتوں کے ساتھ تمہاری مدد فرمائے گا۔
اللہ پاک چاہتا تو ایک فرشتے کے ذریعے ہی مسلمانوں کی مدد فرماتا اور رب قدیر تو کن فیکون کا مالک ہے وہ چاہتا تو کن فرماتا سارے سارے کفار ہی زمین بوس ہوجاتے لیکن اس کا کوٸی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا ، رب ذوالجلال نے پانچ ہزار فرشتوں کا نزول فرمایا اور زبان مصطفی ﷺ سے اس کی خبر مسلمانوں کو عطا فرماٸی جس سے مسلمانوں کے حوصلے مزید بلند ہوۓ کہ آسمان سے پانچ ہزار فرشتوں کا نزول ہونا کوئی عام بات نہ تھی۔ اللہ پاک نے پانچ ہزار فرشتوں کو بھیجنے کی حکمت بھی اگلی آیت میں بیان فرمادی ۔ ارشاد فرمایا : *وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى لَكُمْ وَ لِتَطْمَىٕنَّ قُلُوْبُكُمْ بِهٖؕ-وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِۙ * ترجمہ : اور اللہ نے اس امداد کو صرف تمہاری خوشی کے لئے کیا اور اس لئے کہ اس سے تمہارے دلوں کو چین ملے اور مدد صرف اللہ کی طرف سے ہوتی ہے جو زبردست ہے حکمت والا ہے۔ (پارہ 04، سورہ آل عمران، آیت 123 تا 126) یعنی پہلے ایک ہزار فرشتے آئے پھر تین ہزار پھر پانچ ہزار۔۔ (صراط الجنان ) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ مسلمان اس دن کافروں کا تعاقب کرتے تھے اور کافر مسلمانوں کے آگے آگے بھاگتا جاتا تھا کہ اچانک اُوپر سے کوڑے کی آواز آتی اور سوار کا یہ کلمہ سنا جاتا تھا *’’ اَقْدِمْ حَیْزومُ‘‘* یعنی آگے بڑھ اے حیزوم (حیزوم حضرت جبریل علیہ السّلام کے گھوڑے کا نام ہے) اور نظر آتا تھا کہ کافر گر کر مر گیا اور اس کی ناک تلوار سے اڑا دی گئی اور چہرہ زخمی ہوگیا۔ صحابۂ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے سرکارِ دو عالم ﷺ سے اپنے یہ معائنے بیان کئے تو حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ یہ تیسرے آسمان کی مدد ہے۔ (مسلم، حدیث 1763)
پیارے نبی ﷺ کے پیارے صحابہ اس دلیری و بہادری سے لڑے کہ لشکرِ کفار کو عبرتناک شکست ہوئی، 70 کفار واصلِ جہنم اور اور 70 گرفتار ہوئے (صحیح مسلم، حدیث:4588) جبکہ 14 مسلمانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ (عمدۃ القاری،10/122) شہید ہونے والے صحابہ کرام میں چھ مہاجرین اور باقی انصار صحابہ تھے۔ شہدائے غزوہ بدر : غزوہ بدر میں جامِ شہادت نوش فرمانے والے صحابۂ کرام کے اسمائے مبارک یہ ہیں : (1) حضرت عبید ہ بن حارِث (2) حضرت عمیر بن ابی وَقَّاص (3) حضرت ذُوالشِّمالین عمیر بن عبد عمرو (4) حضرت عاقل بن ابی بکیر (5) حضرت مِہجَع مولیٰ عمر بن الخطاب (6) حضرت صَفْوان بن بیضاء (یہ 6 مہاجرین ہیں) (7)حضرت سعد بن خَیْثَمَہ (8)حضرت مبشربن عبدالمُنْذِر (9)حضرت حارِثہ بن سُراقہ (10)حضرت عوف بن عفراء (11) حضرت معوذ بن عفراء (12)حضرت عمیر بن حُمام (13)حضرت رَافِع بن مُعلّٰی (14)حضرت یزید بن حارث بن فسحم یہ 08 انصار صحابہ کرام میں سے ہیں۔ (سیرت ابنِ ہشام، ص295)
غزوۂ بدر میں مسلمان بظاہر بغیر سامان و اسلحے کے تھے اور تعداد میں بھی کم تھے مگر ایمان و اخلاص کی دولت سے مالامال تھے ، ان کے دل پیارے آقا ﷺ کے عشق و محبت اور جذبہ ٔاطاعت سے لبریز تھے اور اللہ پاک کی مدد اور پیارے آقا ﷺ کی دعائیں ان کے شاملِ حال تھیں۔ یہی وہ اسباب تھے جنہوں نے اس معرکے کو یاد گار اور قیامت تک کے مسلمانوں کے لئے مشعلِ راہ بنادیا۔ مقتولین کفار : غزوہ بدر کو یوم فرقان اس لئے کہتے ہیں کہ حق اپنے مخالف کی تمام تر سازشوں کے باوجود فتح وکامرانی کےساتھ ظاہر ہو اور باطل نے اپنی پوری طاقت، چالاکی، شور و غوغا اور جنگی تدبیروں کے باوجود شکست کھائی۔ ۔اسلام اور کفر کےدرمیان خطہ امتیاز کھینچ دیا گیا۔ 17 رمضان کا دن کفار کے بڑے بڑے پیشواؤں، سرداروں کی عبرت ناک موت کا دن قرار دیا گیا۔ سرداران قریش جو بڑے ہی طمطراق کےساتھ صحابہ کی جماعت کو ختم کرنے آئے تھے وہ خود واصل جہنم ہوئے۔ عتبہ، شیبہ، ابو جہل وغیرہ کفار قریش کے سرداروں کی ہلاکت سے کفار مکہ کی کمر ٹوٹ گئی اور ان کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ ہتھیار ڈال کر بھاگ کھڑے ہوئے۔اس جنگ میں کفار کے ستر آدمی قتل اور ستر آدمی گرفتار ہوئے۔ باقی اپنا سامان چھوڑ کر فرار ہو گئے اس جنگ میں کفارِ مکہ کو ایسی زبردست شکست ہوئی کہ ان کی عسکری طاقت ہی فنا ہو گئی۔ کفار قریش کے بڑے بڑے نامور سردار جو بہادری اور فن سپہ گری میں یکتائے روزگار تھے ایک ایک کرکے سب موت کے گھاٹ اتار دئیے گئے۔ ان ناموروں میں عتبہ، شیبہ،ابو جہل، ابو البختری، زمعہ،عاص بن ہشام، اُمیہ بن خلف، منبہ بن الحجاج، عقبہ بن ابی معیط، نضر بن الحارث وغیرہ قریش کے سرتاج تھے یہ سب مارے گئے۔ (سیرت مصطفی ، 232, 233)
*حضرت مھجع رضی اللہ عنہ* مسلمانوں میں سے جو سب سے پہلے لڑائی کیلئے نکلے وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے آزاد کر دہ غلام مِہْجَعْ نام تھا۔ جسے عامر بن حَضْرَ می نے تیرسے شہید کیاوہ مسلمانوں میں سے غزوہ بدر کے پہلے شہید تھے۔ *حضرت عمیر بن حمام انصاری رضی اللہ عنہ* حضرت مھجع کے بعد نبی پاک ﷺ نے مسلمانوں کو ترغیب دی اور فرمایا: بہشت(جنت) کی طرف اٹھو جس کا عرض آسمان وزمین ہے یہ سن کر حضرت عمیر بن حُمَام اَنصاری بولے: ’’ یا رسول اللّٰہ! ﷺ بہشت جس کا عرض آسمان وزمین ہے؟ ‘‘ آپ نے فرمایا: ہاں ! تب حضرت عمیر نے کہا: واہ وا۔ رسول اللّٰہ ﷺ نے پوچھا کہ تو نے واہ وا کیوں کہا؟ حضرت عمیر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ! ﷺ فقط اس تو قع پر کہ میں اہل بہشت سے ہو جاؤں ۔ ‘‘ آپ نے فرمایا: ’’ تم بیشک اہل بہشت میں سے ہو۔ ‘‘ جیسے ہی حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے یہ بشارت سنی آپ اس وقت چھوارے کھارہے تھے ،فورا ہی چھوارے کھانا چھوڑ دٸیے اور جہاد کرنے میں مشغول ہوگٸے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔ (صحیح مسلم، حدیث 1901) *"بدخلق اسود بن عبدالاسد مخزومی واصل جہنم "* اس کے بعد صف اَعدا میں سے اسودبن عبدا لاسد مخزومی جو بد خُلْق تھا، آگے بڑ ھا اور کہنے لگا: ’’ میں اللہ سے عہد کرتا ہوں کہ مسلمانوں کے حوض سے پانی پیوں گا یا اسے ویران کر دوں گا یا اس کے پاس مر جاؤں گا۔ ادھر سے حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالٰی عنہ نکلے۔ اسود حوض تک پہنچنے نہ پایا کہ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس کا پاؤں نصف پنڈلی تک کاٹ دیا اور وہ پیٹھ کے بل گرپڑا پھر وہ حوض کے قریب پہنچا یہاں تک کہ اس میں گر پڑا تاکہ اس کی قسم پوری ہوجائے۔ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس کا تعاقب کیا اور حوض ہی میں اس کا کام تمام کر دیا۔
* تین مجاہدین اسلام ایک ساتھ* اس کے بعد شَیْبَہ بن رَبیعہ اور عُتْبَہ بن رَبیعہ اور وَلید بن رَبیعہ نکلے۔ مشرکین نے چلا کر کہا: ’’ اے محمد ! ہماری طرف اپنی قوم میں سے ہمارے جوڑ کے آدمی بھیجئے۔ ‘‘ یہ سن کر حضور ﷺ نے فرمایا: ’’ اے بنی ہاشم! اٹھو اور اس حق کی حمایت میں لڑو جس کے ساتھ اللّٰہ تعالٰی نے تمہارے نبی کو بھیجا ہے کیونکہ وہ باطل لائے ہیں تاکہ اللہ کے نور کو بجھا دیں۔ ‘‘ پس حضرت حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ (جن کے سینہ مبارک پر بطور نشان شتر مرغ کا پر تھا) اور علی بن ابی طالب اور عبیدہ بن مطلب بن عبدمناف رضی اللہ تعالٰی عنہ دشمن کی طرف بڑھے اور ان کے سروں پر خود (لوہے کی ٹوپیاں) تھی۔ عتبہ نے کہا: ’’ تم بولو تاکہ ہم پہچان لیں ۔ ‘‘ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا: ’’ میں حمزہ بن عبدالمطلب شیر خدا اور شیر رسول ہوں ۔ ‘‘ عتبہ بولا: ’’ یہ اچھا جو ڑہے ، میں حلیفوں کا شیر ہوں ۔‘‘ پھر اس نے اپنے بیٹے سے کہا: ولید اٹھ۔ پس حضرت علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ ولید کی طرف بڑھے اور ایک نے دوسرے پر وار کیا مگر حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس کو قتل کر دیا، پھر عتبہ اٹھا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اس کی طرف بڑھے اور اسے قتل کر دیا پھر شیبہ اٹھا حضرت عبیدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ جو اصحاب میں سے عمر میں سب سے بڑے تھے اس کی طرف بڑھے شیبہ نے تلوار کی دھار حضرت عبیدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاؤں پر ماری جو پنڈلی کے گوشت پر لگی اور اسے کاٹ دیا پھر حضرت حمزہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہما شیبہ پر حملہ آور ہوئے اور اسے قتل کر دیا اور حضرت عبیدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اٹھا کر حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں لائے۔ حضرت عبیدہ نے عرض کیا: ’’ یارسول اللہ کیا میں شہید نہیں ؟ ‘‘ حضور ﷺ نے فرمایا: ’’ ہاں ۔ ‘‘
یہ سب کچھ دونوں فوجوں کے اجتماعی حملہ سے پہلے وقوع میں آیا۔ حضور اقدس ﷺ نے لڑائی شروع ہو نے سے پہلے اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا تھا کہ ’’ مجھے معلوم ہے کہ بنوہاشم وغیرہ میں سے چند لوگ زبردستی کفار کے ساتھ شامل ہو کر آئے ہیں جو ہم سے لڑنا نہیں چاہتے۔ اگر ان میں سے کوئی تمہارے مقابل آجائے تو تم اسے قتل نہ کرو۔ ‘‘ حضور انور ﷺ نے ان لوگوں کے نام بھی بتا دیئے تھے۔ان میں سے ایک ابو البختری عاص بن ہشام تھا جو مکہ میں حضور اقدس ﷺ کو کسی قسم کی اذیت نہ دیا کرتا تھا۔ ابو البختری کے ساتھ جنادَہ بن مُلیحہ بھی اس کا رَدِیف تھا۔ مُجَذّر بن ذِیاد کی نظر جو ابو البختری پر پڑی تو کہا کہ ’’ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں تیرے قتل سے منع فرمایا ہے اس لئے تجھے چھوڑ تا ہوں ۔ ‘‘ ابو البختری نے کہا: میرے رفیق کو بھی۔ مُجَذّر نے کہا: ’’ اللہ کی قسم! ہم تیرے رفیق کو نہیں چھوڑ نے کے، ہمیں رسول اللّٰہ ﷺ نے فقط تجھے چھوڑ نے کا حکم دیا ہے ۔ ‘‘ ابولبختری نے کہا: ’’ تب اللہ کی قسم! میں اور وہ دونوں جان دیں گے، میں مکہ کی عورتوں کا یہ طعنہ نہیں سن سکتا کہ ابو البختری نے اپنی جان بچانے کے لئے اپنے رفیق کا ساتھ چھوڑ دیا۔ ‘‘ جب مُجَذّر نے حملہ کیا تو ابوالبختری بھی حملہ آور ہوا اور مار اگیا۔ ابوجہل کا انجام : جب میدان کا رزار سر دہو گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ایسا کون ہے جو ابوجہل کی خبر لائے؟ یہ سن کر حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ گئے اور اسے اس حال میں پایا کہ عَفْراء کے بیٹوں معاذ اور معوذ نے اسے ضرب شمشیر سے گرایا ہوا تھا اور اس میں ابھی رمق حیات باقی تھا۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ اس لعین کے سینے پر بیٹھ گئے اور اس کی ناپاک ڈاڑھی کو پکڑ کر کہا: کیا تو ابوجہل ہے؟ بتا آج تجھے اللّٰہ نے رسوا کیا؟ اس لعین نے جواب دیا: ’’ رسوا کیا کیا! تمہارا مجھے قتل کرنا اس سے زیادہ نہیں کہ ایک شخص کو اس کی قوم نے قتل کرڈالا۔ کاش! مجھے کسان کے سوا کوئی اور قتل کرتا۔ ‘‘ اس جواب میں اس لعین کا تکبر اور انصار کی تحقیر پائی جاتی ہے کیونکہ حضرت معاذ اور معوذ رضی اللہ تعالٰی عنہما انصار میں سے تھے اور انصار کھیتی باڑی کا کام کیا کرتے تھے۔ پھر حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس لعین کا کام تمام کر دیا اور یہ خبر حضور اقدس ﷺ کی خدمت اقدس میں لائے۔ حضور ﷺ نے یہ سن کر تین بار *’’ اَللّٰہُ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُو ‘‘ * پڑھا۔ چوتھی بار یوں فرمایا: *’’ اَللّٰہُ اَکْبَر اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ صَدَّقَ وَعْدَہٗ وَ نَصَرَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہ ‘‘* پھر آپ ﷺ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کو ساتھ لے کر اس لعین کی لاش کے پاس تشریف لے گئے اور دیکھ کر یہ فرمایا: ’’ یہ اس امت کا فرعون ہے۔ ‘‘ ( صحیح بخاری، حدیث 3963)
حضور اقدس ﷺ کی عادت شریف تھی کہ جب دشمن پر فتح پاتے تو تین دن میدان جنگ میں قیام فرماتے۔ چنانچہ بَدْر میں بھی تیسرے روز سوار ہو کر مقتولین کے گڑھے پر تشریف لے گئے اور ان سے یوں خطاب فرمایا: ’’ اے بیٹے فلاں کے! اے فلاں بیٹے فلاں کے! کیا اب تمہیں تمنا ہے کہ اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرتے، جو کچھ ہمارے پروردگار عزّوجلّ نے ہم سے وعدہ فرمایا تھا ہم نے اسے سچ پایا۔ کیاتم نے بھی اسے جو تمہارے پروردگار نے تم سے وعدہ کیا تھاسچ پایا! ‘‘ یہ دیکھ کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کیا: ’’ یارسول اللّٰہ ﷺ آپ ان بے روح جسموں سے کیا خطاب فرمارہے ہیں ؟ ‘‘ اس پر حضور اقدس ﷺ نے فرمایا: ’’ قسم ہے خدا کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، تم میری بات کو ان سے زیادہ نہیں سنتے۔ پھر جناب رسالت مآب ﷺ اسیرانِ جنگ اور غنائم کے ساتھ مدینہ کو واپس ہوئے۔ جب آنحضرت ﷺ مقام صَفْراء میں پہنچے جو بَدْر سے ایک منزل ہے تو آپ نے تمام غنیمت مجاہدین میں برابر برابر تقسیم فرمادی۔ اسی مقام پر حضرت عُبیدہ بن حارِث رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جن کا پائے مبارک کٹ گیا تھا وفات پائی۔ صَفْراء ہی میں نَضْر بن حارِث کو قتل کر دیا گیا ۔یہاں سے روانہ ہو کر جب عرق ُالظبیہ میں پہنچے تو آپ ﷺ کے حکم سے عُقْبَہ بن اَبی مُعَیط قتل کر دیا گیا۔ مدینہ میں اس فتح کی اتنی خوشی تھی کہ لوگوں نے مبارکباد کہنے کے لئے حضور اقدس ﷺ کا مقام رَوحاء میں استقبال کیا۔ اسیرانِ جنگ جناب سر ور عالم ﷺ کے ایک دن بعد مدینہ میں پہنچے۔ آپ نے ان کو صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم میں تقسیم کر دیا تھا اور تاکید فرمادی تھی کہ ان کے ساتھ نیک سلوک کیا جائے چنانچہ ابو عزیز بن عمیر کا بیان ہے کہ جب مجھے بَدْر سے لا ئے تو میں انصار کی ایک جماعت میں تھا وہ صبح یا شام کا کھانا لاتے تو روٹی مجھے دیتے اور خود کھجور یں کھاتے ان میں سے جس کے ہاتھ روٹی کا ٹکڑا آتا وہ میرے آگے رکھ دیتا مجھے شرم آتی میں اسے واپس کرتا مگر وہ مجھ ہی کو واپس دیتا اور ہاتھ نہ لگاتا۔ جن قید یوں کے پاس کپڑے نہ تھے ان کو کپڑے دلوائے گئے۔ حضرت عباس َرضی اللہ تعالٰی عنہ چونکہ دراز قد تھے کسی کا کرتہ ان کے بدن پر ٹھیک نہ اترتا تھا، عبد اللہ بن اُبی (رئیس المنافقین ) نے جو حضرت عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ہم قد تھا اپنا کرتہ منگواکر دیا۔ صحیح بخاری میں سُفْیَان بن عُیَیْنَہ کا یہ قول منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے عبد اللّٰہ مذکور کو قبر سے نکلوا کر جو اپنا کر تہ پہنا یا تھاوہ اکثر کے نزدیک اسی احسان کا معاوضہ تھا۔
رسول اللہﷺ نے قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب سے مشورہ کیا۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللّٰہ ﷺ یہ آپ کی قوم اور آپ کا قبیلہ ہیں ، انہیں قتل نہ کیا جائے بلکہ ان سے فدیہ لیا جائے، شاید اللہ تعالٰی ان کو اسلام کی تو فیق دے۔ ‘‘ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللّٰہ ﷺ میری تووہ رائے نہیں جو ابو بکر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی ہے بلکہ میری رائے تو یہ ہے کہ آپ ان کو ہمارے حوالے کر دیں تا کہ ہم ان کو قتل کر ڈالیں ، مثلاً عقیل کو حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حوالہ کر دیں اور میرے فلاں رشتہ دار کو میرے سپرد کردیں ‘‘حضور انور * بِاَ بِیْ ہُوَ وَ اُ مِّیْ* نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی رائے پر عمل فرمایا۔ اس دن سے اسلام کا سکہ کفار کے دل پر جم گیا اور اہل مدینہ میں بہت سے لوگ ایمان لائے۔ اہل بَدْر کے فضائل میں اتنا ہی کہہ دینا کا فی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ان کے حق میں فرمایا ہے: ’’ بیشک اللّٰہ اہل بَدْر سے واقف ہے کیونکہ اس نے فرمادیا: تم عمل کر و جو چاہو البتہ تمہارے واسطے جنت ثابت ہو چکی یا تحقیق میں نے تمہیں بخش دیا۔ ‘‘ آخرت میں مغفور ہو نے کے علاوہ دنیا میں بھی بَدْری ہو نا خاص امتیاز کا سبب شمار کیا جاتا تھا بلکہ وہ ہتھیار بھی جن سے بَدْر میں کام لیا گیا تبرک خیال کیے جاتے تھے چنانچہ حضرت زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جو بر چھی عبیدہ بن سعید بن عاص کی آنکھ میں ماری تھی۔ وہ یاد گار رہی بدیں طور کہ حضور اقدس ﷺ نے حضرت زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مُسْتعار لی، پھر آپ کے چاروں خلیفوں کے پاس منتقل ہو تی رہی۔ اس کے بعد حضرت عبد اللّٰہ بن زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس رہی یہاں تک کہ ۷۳ھ میں حجاج نے ان کو شہید کر دیا۔ اللہ کریم غزوہ بدر کے تمام شہداء کے درجات بلند فرماۓ۔ آمین آمین۔ (نوٹ : کورس کا مکمل میٹر سیرت رسول عربی ، سیرت مصطفٰی، فیضان غزوہ بدر کتابیں اور دعوت اسلامی کی ویب سائٹس سے لے لیا گیا ہے۔ مشکل الفاظ یا جملے کو بعض مقام پر تبدیل کی گیا تاکہ شرکاء کورس سے آسانی ہو۔)