حیات نبوی ﷺ  کے معاشی پہلو
لائیوفعال

حیات نبوی ﷺ کے معاشی پہلو

حیات نبوی ﷺ کے معاشی پہلو

182

انرولمنٹس

9

مکمل

3.3

ریٹنگ

اقسام

قرآن و حدیث کی روشنی میں اسلامی نظام معیشت

قرآن و حدیث کی روشنی میں اسلامی نظام معیشت

معیشت کے معنی "زندگی گزارنے کے وسائل" کے ہیں ۔ جب ہم اسلامی نظام معیشت کی بات کرتے ہیں تو اس کا آسان معنی یہ ہے کہ معیشت کے حوالے سے پیارے آقاﷺ کی کیا تعلیمات ہیں ۔ اس میں بنیادی طور پر اپنی محنت سے کمانا ، حلال طریقے سے کمانا ، قناعت و میانہ روی اختیار کرنا ، خرچ میں اعتدال ، اسراف سے اعتزال (یعنی : ضرورت کے مطابق خرچ کرنا ،اور مال کو ضائع کر نے سے بچنا )، اپنے ملازمین کے ساتھ نیک برتاؤ ، اپنے گاہک (customer) کے ساتھ حسن سلوک ، ملک و ملت کے مالی و اقتصادی حالات میں بہتری کے لئے جدوجہد و کوشش کرنا ، وغیرہ امور اس میں شامل ہوتے ہیں ۔ کورس کےاس مرحلے میں ہم ابتداء اسلامی نظام معیشت کا ذکر کرینگے پھر اسلامی نظام معیشت سے متعلق قرآن و حدیث کی تعلیمات کا ذکر کیا جائے گا ۔

اسلامی نظام معیشت

اسلام کا معاشی نظام وہ فلاحی نظام ہے جس میں عدل و انصاف، حلال کمائی ، اور دولت کی منصفانہ تقسیم موجود ہے ۔ اس نظام کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ دولت کی گردش صرف امیروں تک محدود نہ ہو بلکہ معاشی طور پر غیر مستحکم اور تنگ دست افراد تک دولت پہنچنے کا مناسب اور آسان ذریعہ بھی ہو ۔ حضورﷺ نے اہلِ اسلام کو لین دین ، کاروبار و ملازمت کے ایسے اصول عطا کئے جو اخلاقیات سنوارنے کے ضامن بھی ہیں اور معیشت کو زوال و نقصان سے بچانے اور اوجِ ثریا تک پہنچانے کے لئے کافی بھی ہیں۔

اسلامی نظام معیشت اور قرآن پاک

قرآن کریم میں اللہ پاک نے اسلامی نظام معیشت کے اصول و قوانین کو متعدد مقامات پر مختلف انداز سے بیان فرمایا ہے ، اس لئے ایک مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ قرآن کریم کے بیان کردہ اصولوں کے مطابق اپنی نجی معاشی ذمہ داریاں ہوں یا کسی منصب کی بنیاد پر قومی معاشی ذمہ داریاں ہوں اسے شریعت کے مطابق پورا کرے کیونکہ جو قرآن و حدیث کے مطابق اپنی ان ذمہ داری کو پورا نہ کرے اس کی معیشت تنگ کردی جاتی ہے ۔ اللہ پاک قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے : *"وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا"* ترجمہ : اور جس نے میرے ذکر سے منہ پھیرا تو بے شک اس کی زندگی تنگ رہے گی ۔ (پارہ 16، سورہ طحہ ، آیت 124) مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ نے تفسیر نعیمی میں اس آیت کے تحت کلام کرتے ہوئے فرما یا کہ : ایسے شخص کی دنیوی زندگی بے سکونی اور پریشانیوں ، الجھنوں والی ہوگی خواہ امیر اور لاکھوں کروڑوں دولتوں کا مالک ہو کر جئے یا غریب تنگ دست ، بھوکا رہ کر جئے کسی کیفیت وحالت میں سکون و اطمینان نہ ملے گا ۔ (تفسیر نعیمی، جلد 16، صفحہ 934) اس آیت میں "معیشۃ ضنکا" سے متعلق مفسرین نے مختلف معانی بیان کئے ہیں یہاں ہم نے موضوع سے متعلق جو معنی ہے اسے تفسیر نعیمی کی روشنی میں بیان کیا ہے ۔ اور اس سے پتا چلتا ہے کہ جو اللہ و رسول ﷺ کے بیان کردہ اصولوں کے مطابق زندگی نہیں گزارے گا اس کی زندگی میں پریشانی اور بے سکونی رہے گی خواہ مالدار ہو یا غریب ہو ۔ لہذا معاشی تنگی سے بچنے کے لئے اپنی زندگی کو اللہ و رسول ﷺ کے بیان کردہ طریقے کے مطابق گزارنا ضروری ہے تاکہ دین ، دنیا وآخرت کی زندگی کو پرسکون بنایا جاسکے ۔

معاشی زندگی کے اصول قرآن کی روشنی میں , پہلا اصول : دولت کی منصفانہ تقسیم ہوتی رہے

اسلامی معیشت کے نظام میں یہ بڑی اہم پالیسی ہے کہ معاشرے کے نادار طبقے کو مستحکم کیا جائے ، ان کی ضروریات کا بھی خیال کیا جائے ۔ زمانہ جاہلیت میں دستور یہ تھا کہ جو مال غنیمت انہیں حاصل ہوتا اس میں سے ایک چوتھائی سردار لے لیا کرتے تھے اور باقی قوم کے لئے چھوڑدیتے اور اس میں سے بھی مالدار لوگ زیادہ لے لیتے اور غریبوں کے لئے بہت ہی تھورا باقی رہتا تھا لیکن اسلام نے اس نظام کو ختم کیا اور اللہ پاک نے قرآن کریم میں مال غنیمت کی تقسیم کا طریقہ بھی بیان کردیا اور ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بیان کردی ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : *مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِۙ- كَیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُم* ترجمہ : اللہ نے اپنے رسول کو شہر والوں سے جو غنیمت دلائی تووہ اللہ اور رسول کے لیے ہے اور رشتہ داروں کے لیے اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے تاکہ وہ دولت تمہارے مالداروں کے درمیان (ہی) گردش کرنے والی نہ ہوجائے۔ (پارہ 28، سورۃ الحشر ، آیت 07) سوشل میڈیا کی 2016 کی ایک تحریر میں یہ لکھا تھا کہ 1987ء یا 1988ء سے آج تک کا تجزیہ کریں تو 20 فیصد مالداروں کی آمدنیوں میں 12 فیصد اضافہ ہواہے جبکہ 20 فیصد غرباء کی آمدنیوں میں 21 فیصد کمی واقع ہوئی ہے ۔ دولت میں غیر منصفانہ تقسیم سے دولت نچلے طبقے تک Trickle down نہیں کر رہی ہے جس کی وجہ سے اس طبقے میں احساس محرومی بڑھ رہا ہے جو انہیں انتہاءپسندی اور جرائم کی دنیا میں دھکیلنے کا باعث بن رہا ہے۔(سوشل میڈیا) اس تحریر سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ 1400 سال پہلے معیشت کی ترقی کا ایک اصول جو قرآن کریم نے دیا ، آج اس اصول پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے کتنا نقصان ہورہا ہے کہی کوئی غربت و افلاس سے تنگ آکر خودکشی کرلیتا ہے ، کہی کوئی ڈپریشن کا شکار ہوکر اپنے آپ کو بیماریوں کے حوالے کردیتا ہے ، کہی دولت کی حرص نے بھائی کو بھائی سے اولاد کو والدین سے ، باغی بنادیا ہے ، کہی غربت کا شکار شخص جرائم کا مرتکب ہو کر اپنی زندگی خراب کردیتا ہے ۔ اب جرائم کا سدباب کرنے کے لئے ، لوگوں کو مایوسی کی وادی سے نکالنے کے لئے ضروری ہے کہ ارتکاز دولت سے نکل کر عام لوگوں تک ان کے حقوق کو پہنچایا جائے تاکہ معیشت کو زیادہ سے زیادہ ترقی مل سکے۔

دوسرا اصول : حلال و حرام کی حدود کا خیال

دین اسلام نے مسلمانوں کو مال کمانے سے نہیں روکا بلکہ مال کمانے کی ، تجارت کرنے کی آزادی دی ہے لیکن یہ آزادی ایسی نہیں ہے کہ اس میں اچھے اور برے ، حلال و حرام کی تمییز ہی نہ رکھی جائے ۔ مسلمان پر لازم ہے کہ حلال اور حرام کی حدود کا خیال رکھتے ہوئے تجارت اور لین دین کے معاملات کرے ۔ ۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے : *یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ(87)وَ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا* ترجمہ : اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ قرار دوجنہیں اللہ نے تمہارے لئے حلال فرمایا ہے اور حد سے نہ بڑھو۔ بیشک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو ناپسند فرماتا ہے۔ اور جو کچھ تمہیں اللہ نے حلال پاکیزہ رزق دیا ہے اس میں سے کھاؤ۔ (پارہ 07، سورۃ المائدہ ، آیت 87، 89) ایک اور مقام پر اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے : *وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تَاْكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْهِؕ-وَ اِنَّ كَثِیْرًا لَّیُضِلُّوْنَ بِاَهْوَآىٕهِمْ بِغَیْرِ عِلْمٍؕ-اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ* ترجمہ : اور تمہیں کیا ہے کہ تم اس میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے حالانکہ وہ تمہارے لئے وہ چیزیں تفصیل سے بیان کرچکا ہے جو اس نے تم پر حرام کی ہیں سوائے ان چیزوں کے جن کی طرف تم مجبور ہوجاؤ اور بیشک بہت سے لوگ لاعلمی میں اپنی خواہشات کی وجہ سے گمراہ کرتے ہیں۔ بیشک تیرا رب حد سے بڑھنے والوں کو خوب جانتا ہے۔ (پارہ 08، سورۃ الانعام ، آیت 119) دونوں آیات میں غور کرنے سے پتا چلتا ہے کہ جن چیزوں کو اللہ پاک نے حلال کیا ہے ان کو حرام کہنا حد سے تجاوز کرنا ہے کیونکہ اللہ پاک نے حرام اشیاء کا مفصل بیان کردیا ہے ، اب جو حد سے تجاوز کرتا ہے یعنی حلال کو حرام ، یا حرام کو حلال ٹھہراتا ہے اسے اللہ رب العزت جانتا ہے ؛ ایسے لوگ اپنی خواہشات کی پیروی کرنے کی وجہ سے خود بھی گمراہ ہوچکے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں ۔

تیسرا اصول : اسراف و بخل سے اجتناب

جہاں خرچ نہیں کرنا چاہیئے وہاں خرچ کرنا یہ اسراف ہے اور جہاں کرنا چاہیئے وہاں نہ کرنا یہ بخل ہے ، دین اسلام نے اپنے ماننے والوں کو اس بات پر زور دیا ہے کہ جو اللہ پاک کے نیک بندے ہیں وہ نہ بے جا خرچ کرتے ہیں اور نہ ہی خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں بلکہ جہاں خرچ کرنے کی حاجت و ضرورت ہوتی ہے وہاں خرچ کرتے ہیں اور جہاں حاجت و ضرورت نہیں ہوتی وہاں خرچ کرنے سے بچتے ہیں ۔ ان کے اسی اعتدال و میانہ روی کی وجہ سے ان کی نجی معاشی زندگی پرسکون اور خوشگوار رہتی ہے ۔ اللہ پاک قرآن کریم میں ارشا د فرماتا ہے : *وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا* ترجمہ : اور وہ لوگ کہ جب خرچ کرتے ہیں تونہ حد سے بڑھتے ہیں اور نہ تنگی کرتے ہیں اور ان دونوں کے درمیان اعتدال سے رہتے ہیں۔ (پارہ 19، سورۃ الفرقان ،آیت 67)

چوتھا اصول :فضول خرچی سے اجتناب

اسلامی نظام معیشت فضول خرچی کی مذمت کرتا ہے ، جس شخص یا قوم کی عادت فضول خرچ کرنے کی ہو گی وہ فرد یا قوم اپنی معیشت کے وسائل و اسباب سے محروم ہوجائینگے ۔ اللہ پاک نے قرآن کریم میں فضول خرچ کرنے والوں کو شیطان کا بھائی قرار دیا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے : *وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا(26)اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِؕ-وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا*(27) ترجمہ : اور فضول خرچی نہ کروبیشک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔ ( پارہ ، 15، سورہ بنی اسرائیل ، آیت 26، 27) تفسیر مدارک میں اس آیت کے تحت لکھا ہے کہ بیشک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں کیونکہ یہ ان کے راستے پر چلتے ہیں اور چونکہ شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے، لہٰذا اُس کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔(تفسیر مدارک)

پانچواں اصول : فریقین کے درمیان معاہدات کی دستاویز

اسلامی نظام معیشت کا ایک حُسن یہ بھی ہے کہ اس نظام میں ہر وہ طریقہ و انداز جو دو افراد کے درمیان جھگڑے اور فساد کا سبب بن سکتا ہو ، اس کی روک تھام کے اقدامات کئے ہیں مثال کے طور پر قرض کا لین دین ہے ، اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے : *یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُؕ-وَ لْیَكْتُبْ بَّیْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ۪-وَ لَا یَاْبَ كَاتِبٌ اَنْ یَّكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّٰهُ فَلْیَكْتُبْۚ-وَ لْیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ وَ لَا یَبْخَسْ مِنْهُ شَیْــٴًـاؕ-فَاِنْ كَانَ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ سَفِیْهًا اَوْ ضَعِیْفًا اَوْ لَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یُّمِلَّ هُوَ فَلْیُمْلِلْ وَلِیُّهٗ بِالْعَدْل* ترجمہ : اے ایمان والو! جب تم ایک مقرر مدت تک کسی قرض کا لین دین کرو تو اسے لکھ لیا کرو اور تمہارے درمیان کسی لکھنے والے کو انصاف کے ساتھ (معاہدہ) لکھنا چاہئے اور لکھنے والا لکھنے سے انکار نہ کرے جیسا کہ اسے اللہ نے سکھایا ہے تو اسے لکھ دینا چاہئے اور جس شخص پر حق لازم آتا ہے وہ لکھاتا جائے اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور اس حق میں سے کچھ کمی نہ کرے پھر جس پر حق آتا ہے اگر وہ بے عقل یا کمزور ہو یا لکھوا نہ سکتا ہو تو اس کا ولی انصاف کے ساتھ لکھوا دے۔ اس آیت کے ترجمہ کو ایک بار دوبارہ پڑھ کر غور کریں کہ ایک قرض دینے والا ہے اور قرض لینے والا ہے دونوں کو ہی اللہ پاک نے اس قرض کو لکھنے کا حکم دیا ، لکھنا نہیں آتا تو پھر کسی سے لکھوالیں ، اس قدر اہتمام کیوں ہیں ؟ پھر اسی آیت کے اگلے حصے میں اللہ پاک نے گواہوں کو مقرر کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔اس کا کیا سبب ہے ؟ اس آیت میں بیان کئے گئے اس حکم سے متعلق تفسیر صراط الجنان میں لکھا ہے کہ "جب ادھار کا کوئی معاملہ ہو، خواہ قرض کا لین دین ہو یا خریدوفروخت کا، رقم پہلے دی ہو اور مال بعد میں لینا ہے یا مال ادھار پر دیدیا اور رقم بعد میں وصول کرنی ہے، یونہی دکان یا مکان کرایہ پر لیتے ہوئے ایڈوانسیا کرایہ کا معاملہ ہو، اس طرح کی تمام صورتوں میں معاہدہ لکھ لینا چاہیے۔ یہ حکم واجب نہیں لیکن اس پر عمل کرنا بہت سی تکالیف سے بچاتا ہے۔ ہمارے زمانے میں تو اس حکم پر عمل کرنا انتہائی اہم ہو چکا ہے کیونکہ دوسروں کا مال دبا لینا، معاہدوں سے مکر جانا اور کوئی ثبوت نہ ہونے کی صورت میں اصل رقم کے لازم ہونے سے انکار کرنا ہر طرف عام ہوچکا ہے۔ لہٰذا جو اپنی عافیت چاہتا ہے وہ اس حکم پر ضرور عمل کرلے ورنہ بعد میں صرف پچھتانا ہی نصیب ہوگا۔ اسی لئے آیت کے درمیان میں فرمایا کہ ’’ اور قرض چھوٹا ہو یا بڑا اسے اس کی مدت تک لکھنے میں اکتاؤ نہیں۔(تفسیر صراط لجنان ) بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ رشتے داری کی بنیاد پر ، دوستی کی بنیاد پر قرض کا یا کوئی بھی مالی لین دین کا معاملہ ہوا ، تو لکھنے میں اکتاتے ہیں کہ رشتے داری خراب ہوجائے گی ، دوستی ختم ہوجائے گی ، لیکن قرآن نے کہا کہ یہاں اکتاہٹ نہیں ہونئ چاہیئے بلکہ قرآن کے حکم پر عمل ہونا چاہیئے ۔ آج ہم دیکھ لیں بہت سے نزاعی اور جھگڑوں کے معاملات میں جہاں لین دین کے جھگڑے ہو وہاں کوئی تحریری دستاویز نہیں ہوتی ، کوئی گواہ نہیں ہوتا تو کبھی قرض دینے والے کو نقصان اٹھانا ہوتا ہے یا کبھی قرض لینے والے کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس حکم پر عمل نہ کرنے کا معاشی نقصان تو ہوتا ہی ہے، ساتھ ہی معاشرتی وسماجی نقصان بھی ہوتا ہے ، قتل وغارت گری ، بغض و کینہ ، عداوت و دشمنی ، جیسی خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔

چھٹا اصول :ناپ تول میں انصاف

اسلامی نظام معیشت کا ایک اصول یہ بھی ہے کہ ناپ اور تول کے معاملے میں انصاف سے کام لو ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : * وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْط* ترجمہ : اور ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری کرو ۔ (پارہ 08، سورۃ الانعام ، آیت 152) ۔ گزشتہ قوموں میں سیدنا شعیب علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم گزری ہے ، جن پر عذاب الہی آنے کے اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی تھا کہ وہ ناپ اور تول میں کمی کرتے تھے ۔ اللہ پاک نے ان کا ذکر قرآن کریم میں متعدد بار فرمایا ۔ اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے : * وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًاؕ-قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ-قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَاؕ-ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْن* ترجمہ : اور مدین کی طرف ان کی برادری سے شعیب کو بھیجا کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں بے شک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیل آئی تو ناپ اور تول پوری کرو اور لوگوں کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں انتظام کے بعد فساد نہ پھیلاؤیہ تمہارا بھلا ہے اگر ایمان لاؤ۔ ( پارہ 08، سورۃ الاعراف ، آیت 85)

ساتوں اصول : ناحق اموال پر قابض ہونا

باطل طور پر کسی کا مال کھانا، غصب کی صورت میں ہو یا رشوت کی صورت میں ہو یا اموال پر قابض ہونے کی صورت ہو ، یہ سارے کام شرعا ، قانونا ، اخلاقا جرم ہی ہیں اور ساتھ ہی اس کا معیشت پر بھی گہرا اثر پڑتا ہے ،اس لئے اللہ پاک نے قرآن کریم میں اس کی ممانعت فرمائی، ارشاد باری تعالیٰ ہے : *وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْن* ترجمہ : اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لئے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پرجان بوجھ کر کھالو۔ ( پارہ 02، سورۃ بقرہ، آیت 188) ناحق کسی کا مال کھانے یا اس پر قابض آنے سے معاشرے کا امن وسکون برباد ہوتا ہے ، اس سے غریبوں کو معاشی نقصان پہنچتا ہے ، آج اگر ہم دیکھیں قانونی جھگڑے کس قدر بڑھتے جارہے ہیں مظلوم و نادار افراد ایسے لوگوں کا شکار ہوتے ہیں جن میں انسانیت کے ساتھ بھلائی اور خیر خواہی کا جذبہ بالکل ختم ہوچکا ہے ، بس اپنا مفاد پیش نظر ہوتا ہے ، نتیجہ جو کمزور ہے ، وہ اپنی جنگ ہار جاتا ہے ۔ قرآن کریم نے اس معاشرتی و معاشی نقصان سے بچنے کے لئے اسلامی نظام معیشت میں یہ اصول دے دیا کہ اگر معاشی ترقی چاہیئے ، معاشرتی امن چاہیئے تو اس کے لئے ناحق اموال کھانے والے قبیح و برے فعل سے بچنا ہوگا ۔

آٹھواں اصول : معاش کی تلاش فضل الہی ہے

یہ بات حقیقت ہے کہ رزق کا ضامن اللہ رب العزت ہی ہے ۔ اللہ پاک قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے : *وَمَامِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا* ترجمہ: اور زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ کرم پر نہ ہو۔ (پارہ 12، سورہ ھود، آیت06) لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ بندہ اپنے آپ کو فارغ کرلے اور رزق حلال کے لئے کوشش نہ کرے ۔ اللہ پاک نے رزق حلال کی تلاش کو اپنے فضل سے تعبیر فرماکر،اس کا حکم دیا ۔ ارشاد باری تعالی ہے : *فَإِذَاقُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانْتَشِرُوافِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوامِنْ فَضْلِ اللَّهِ وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ* ترجمہ : پھر جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور اللہ کو بہت یاد کرو اسامید پر کہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ (پارہ 28، سورۃ الجمعۃ ، آیت 10) ابو اللیث نصر بن محمد بن احمد سمرقندی علیہ الرحمہ اپنی تفسیر میں *"وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ" *سے متعلق فرماتے ہیں : يعني: *اطلبوا الرزق من الله تعالى بالتجارة والكسب*. ترجمہ : مراد اس سے یہ ہے کہ تجارت اور محنت کے ذریعے رزق حلال کی تلاش کرو۔ (تفسیر سمرقندی )

اسلامی نظام معیشت کے اصول حدیث کی روشنی میں پہلا اصول :حلال رزق کی ترغیب

پیارے آقا ﷺ نے اسلامی نظام معیشت کی ترقی کا جو اہم ترین اصول عطا فرمایا وہ یہ کہ بندہ مومن پر حلال کمائی کے لئے کوشش کرنا لازم و ضروری ہے ۔ اس اصول پر اگر غور کیا جائے تو یہ اپنے اندر بڑی جامعیت و وسعت رکھتا ہے کیونکہ جب ایک مسلمان کی توجہ حلال کمائی کی جانب ہوگی تو وہ اپنے آپ کو کئی ساری چیزوں سے بچا رہا ہوگا ۔ وہ جھوٹ سے بچ رہا ہوگا ، وہ وعدہ خلافی والے عمل سے بچ رہا ہوگا ، وہ، وہ دھوکا دینے سے بچے گا ، اپنا کام پوری توجہ اور لگن سے کرے گا ، جہاں کوتاہی ہوئی ہوگی ، اس کا فوری ازالہ کرنے کی کوشش کرے گا ، اس کی صرف ایک توجہ اسے کئی سارے ایسی چیزوں سے بچالے گی جو معیشت کو نقصان پہنچاتے ہیں اور کئی ایسی باتوں کی طرف راغب کردے گی تو معیشت کو فائدہ پہنچانے والے ہیں ۔ اللہ کے حبیب ﷺ نے ارشا دفرمایا : *طَلَبُ الحَلالِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُسلِمٍ* ترجمہ :حلال روزی کمانا ہر مسلمان پر واجب ہے۔ (طبرانی فی الاوسط ۔ حدیث : 8615)

دوسرا اصول :تجارت میں سچائی اور امانت داری

سچائی اور امانت داری کی ضد جھوٹ اور خیانت ہے ۔ ہر ذی شعور سمجھتا ہے کہ جہاں جھوٹ اور خیانت آجائے وہاں آپس کا تعلق کیسا بھی ہو؛ خراب ہوجاتا ہے ۔ رشتے ٹوٹ جاتے ہیں ۔ اسی طرح معیشت کو بھی یہ بڑا نقصان پہنچاتے ہیں اسی لئے نبی پاک ﷺ نے ایک تاجر کو سچائی اور امانت داری اختیا ر کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : *قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم * *التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الأَمِينُ مَعَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ* ترجمہ : سچ بولنے والا اور امانت دار تاجر انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔ (سنن الترمذی، حدیث 1209)

تیسرا اصول :دھوکادہی سے ممانعت

اسلامی نظام معیشت میں مسلمانوں کو دھوکا دہی سے بچنے کی سخت تاکید کی گئی ہے ایسے شخص سے نبی پاک ﷺ نے سخت ناراضگی کا اظہارکرتے ہوئے فرمایا : * مَن غَشَّ فَلَيْسَ مِنِّي* ترجمہ : جس نے دھوکہ دیا، وہ ہم میں سے نہیں۔ ( صحیح مسلم ۔ حدیث 102) دھوکادہی کا معیشت پر بڑا منفی اثر پڑتا ہے کیونکہ دھوکا معیشت کے ڈھانچے کو کمزور کرتا ہےوہ اس طرح کہ دھوکا دہی سے صارفین و سرمایہ دار طبقے کے درمیان عدم اعتماد کی فضاء قائم ہوگی اور عدم اعتماد کی وجہ سے معیشت تعلقات اچھے نہیں بن پاتے ، اس طرح معیشت کی ترقی کی رفتار کمزور ہوتی ہے ۔ لہذا ایک مسلمان کو بحیثیت مسلم اپنے آقا ﷺ کے اس دئیے ہوئے اصول پر مستقل مزاجی سے عمل کرنا چاہیئے ۔

چوتھا اصول :سود کی مذمت اور اس کا حرام ہونا

پوری دنیا میں معیشت کو جو نقصان پہنچ رہا ہے اس کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک وجہ سود کا عا م ہونا ہے ۔ اس وقت دنیا کا معاشی نظام سُودی معیشت پر مبنی ہے، بینُ الاقوامی، قومی اور نجی مالی معاملات میں سُود کا عمل دخل ہے اور علماء اس کی حرمت و شناعت و قباحت پر وقتاً فوقتاً کلام کرتے رہتے ہیں اور کرتے رہیں گے اور یہ سب کلام اُن کا اپنی طرف سے نہیں اور نہ ہی انہوں نے سُود کو خود سے حرام کیا ہے بلکہ سُود کی حرمت قرآن نے بیان کی ہے اور ایک دو آیتوں میں نہیں، بہت سی آیات میں اور ایک دو حدیثوں میں نہیں بلکہ درجنوں احادیث میں بیان ہوئی ہے۔ اب اگر کسی کو سود کی لَت لگی ہے یا اُس کی نظر میں گویا نظامِ کائنات ہی سود پر چل رہا ہے تو وہ جو مرضی سمجھے لیکن مسلمان ہونے کے ناطے اسے سود سے بچنا فرض ہے اور سود کی حرمت اِدھر اُدھر نہیں ہوسکتی اور اب اگر اِس حکم میں کسی کو مشکل یا بہت مشکل یا بہت ہی مشکل نظر آتی ہے تو اسے یہی عرض ہے کہ جنابِ رحمۃٌ لِّلعالمین ﷺ نےاسے باربار بیان کیا ہے۔یہ علماء کی کوئی ذاتی خواہش و ایجاد نہیں ہے،لہٰذا غریب ہو یا امیر، ریڑھی والا ہویا بزنس مین،کسی بینک کا سربراہ ہویا بڑی بڑی انشورنس کمپنیوں کا مالک ہر ایک کو اس کی حرمت پر یقین رکھتے ہوئے اس سے ہر حال میں بچنا ہی پڑے گا۔ سود کی حرمت کو اللہ پاک نے قرآن میں بیان فرمایا ، ارشاد باری تعالیٰ ہے : *اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا* ترجمہ : اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیا سود کو ۔(پارہ 03، سورۃ البقرۃ ، آیت 275) یونہی حدیث پاک میں نبی پاکﷺ نے بیان فرمایا : *لَعَنَ اللَّهُ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَكَاتِبَهُ* ترجمہ : اللہ تعالی نے سود کھانے والے، کھلانے والے، گواہ بننے والے اور لکھنے والے پر لعنت بھیجی ہے۔ (صحیح مسلم ، حدیث 1598)

پانچواں اصول :ذخیرہ اندوزی کی ممانعت

کاروباری اور معاشی ترقی کے لئے جائز تدبیر اختیار کرنے میں حرج نہیں البتہ اسلامی نظام معیشت ہمیں ایسے طریقوں سے روکتا ہے جس سے معاشرتی یا سماجی نقصان ہو اور معاشی ترقی کا پہیہ رک جائے ، حرص و لالچ میں اضافہ ہو ، اور لوگ مشکلات کا شکار ہو۔ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے ، اس نے بعض مسلمانوں کو لالچی اور مفاد پرست بنادیا ہے۔ شیطان نے معیشت کو نقصان پہنچانے والے جن کاموں میں انسان کو لگایا ہوا ہے ان میں ایک ذخیرہ اندوزی بھی ہے ۔ جس میں بدقسمتی سے بعض مسلمان بھی شامل ہیں باوجود اس کے کہ یہ ناجائز و حرام ہے ۔ ذخیرہ اندوزی کی صورت یہ ہے کہ کوئی مہنگائی کے زمانے میں غلّہ خریدلے اور اُسے فروخت نہ کرے بلکہ اس لئے روک لے کہ لوگ جب پریشان ہوں گے تو خوب مہنگا کرکے بیچوں گا اور اگر یہ صورت نہ ہو بلکہ فصل میں غلہ خریدتا ہے اور رکھ چھوڑتا ہے کچھ دنوں کے بعد جب مہنگا ہو جاتا ہے بیچتا ہے یہ نہ *اِحْتِکار* ہے نہ اس کی ممانعت۔ (بہار شریعت،ج2،ص725، ملخصاً) صدرُالشّریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القَوی لکھتے ہیں: غلہ (اناج) کے علاوہ دوسری چیزوں میں *اِحْتِکار* (یعنی ذخیرہ اندوزی) نہیں۔(بہار شریعت،ج2،ص725) نبی کریمﷺ نے معیشت کو نقصان پہنچانے والے اس عمل سے برسوں پہلے روک دیا تھا ۔ پیارے آقا ﷺ کا فرمان ہے :لا*"يَحْتَكِرُ إلا خَاطِئٌ"* ترجمہ :گناہگار ہی ذخیرہ اندوزی کرنے والا ہوتا ہے۔ (صحیح مسلم ، حدیث 1605)

چھٹا اصول :ناپ و تول میں عدل کرنا

ناپ و تول میں کمی کرنا ، مال گھٹا کردینا یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ گزشتہ اقوام میں سے ایک ایسی قوم بھی گزری ہے جن پر عذاب ناپ و تول میں کمی کرنے کی وجہ سے آیا تھا ۔ اللہ پاک نے اپنے محبوب ﷺ کے ذریعے جو نظام معیشت ہمیں عطا فرمایا ہے ، وہ اپنے اصولوں کے مطابق کامل ترین ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ بدقسمتی سے آج کل ناپ تول کی ہیرا پھیری میں جتنی تیزی آچکی ہے اور بازاروں میں جتنے طریقے اپنائے جارہے ہیں اتنے پہلے کبھی نہیں تھے، حالانکہ مسلمان ہونے کے ناطے ہم پر اللہ رسول کے احکامات ماننا اور ان پر عمل کرنا ضروری بھی ہے اور اسی میں ہماری دینی و دنیاوی کامیابی کی ضمانت بھی، قراٰنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے جگہ جگہ انصاف کے ساتھ ناپ تول کرنے کا ارشاد فرمایا، سورۂ رحمٰن میں اللہ پاک کا فرمان ہے: *وَالسَّمَآءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِیْزَانَۙ(۷) اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ(۸) وَاَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ* ترجمہ : اور آسمان کو اللہ نے بلند کیا اور ترازو رکھی کہ تولنے میں نا انصافی نہ کرو اور انصاف کے ساتھ تول قائم کرو اور وزن نہ گھٹاؤ۔ (پارہ 27، سورۃ الرحمن ، آیت 07 تا 09) رسول کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا ::*إِذَا وَزَنْتُمْ فَأَرْجِحُوا* ترجمہ : جب ناپو تو زیادہ دو ۔ (سنن ابن ماجہ ، حدیث 2222)

ساتواں اصول :قرض دار کو مہلت دینا اور قرض کی ادائیگی کی تاکید

اسلامی نظام معیشت کی یہ بڑی پیاری خوبی ہے کہ جہاں معاملہ دو افراد کے مابین کسی چیز کا ہوتا ہے تو ان دونوں کی الگ الگ ذمہ داری کو بیان فرما کر ،ہر طرح کی معاشرتی و معاشی بدامنی کا سد باب کیا ہے ۔قرض دینے والا اور قرض لینے والا ان دونوں کو ہی قرآن پاک میں حکم دیا گیا کہ اس معاہدے کو لکھ لیں اوراس پر گواہ بھی بنالیں ۔ اب آتا ہے قرض کی ادائیگی کا معاملہ تو یہاں بھی شریعت اسلامیہ نے دونوں کی تربیت فرمائی قرض دینے والے سے کہا گیا کہ اپنے قرض کو لینے کے لئے مطالبہ میں احسن انداز رکھے بلکہ اس کا مقروض اگر قرض کی واپسی کرنے کے معاملے میں عاجز ہے تو اسے کچھ وقت دے دے یا قرض معاف کردے ، اگر اس نے ایسا کیا تو محشر کے میدان میں اسے اللہ پاک اپنے عرش کا سایہ عطا فرمائے گا ۔ اللہ کے حبیب ﷺ نے ارشاد فرمایا : *مَن أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَو وَضَعَ لَهُ، أَظَلَّهُ اللَّهُ يَوْمَ القِيَامَةِ فِي ظِلِّهِ* ترجمہ :جس نے تنگدست کو مہلت دی یا قرض معاف کر دیا، اللہ اسے قیامت کے دن اپنے سائے میں رکھے گا۔ (صحیح مسلم ، 3006) تربیت کا اسلوب و انداز دیکھیں صرف سمجھایا نہیں بلکہ اس کا فائدہ بھی ساتھ ہی بتادیا ۔ اس کا معاشی فائدہ یہ ہوگا کہ قرض لینے والے کو قرض کی ادائیگی کے لئے مہلت مل جائے گی جب اسے وقت ملے گا تو وہ اپنی کوشش بڑھا کر جلد اس کی ادائیگی کرےگا اور اسے کچھ قرض یا مکمل قرض قرض خواہ نے معاف کردیا تو اس طرح بھی معاشی طور پر قرض دار کو فائدہ ہوگا اور قرض دینے والے کو میدان محشر میں اللہ پاک کے عرش کا سایہ مل جائے گا، اس سے بڑا فائدہ اور کیا ہوسکتا ہے ۔ دوسری جانب قرض لینے والے کو بھی سمجھایا گیا کہ وہ بھی قرض کی ادائیگی میں بلاوجہ کی تاخیر نہ کرے ، اگر وہ قرض دینے میں بغیر کسی وجہ کے ٹال مٹول کرتا ہے تو حدیث پاک اسے ظالم کہا گیا ۔ نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا : مالدار کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ (بخاری ، ، حدیث : 2400)اس فرمانِ مصطفٰی ﷺ کی شرح میں شارحِ بخاری مفتی شریفُ الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : مالدار کو یہ جائز نہیں کہ میعاد پوری ہونے پر قرض کی ادائیگی میں حیلہ بہانہ کرے۔ ہاں اگر کوئی تنگ دست ہے تو وہ مجبور اور معذور ہے۔ (نزھۃ القاری ، 3 / 578) آج ہمارے معاشرے میں دیگر کئی چیزوں کے ساتھ قرض کی واپسی کے معاملے میں بھی نامناسب اور غلط رویے نظر آتے ہیں۔ غیرت و مروّت کا تقاضا تو یہ ہے کہ جس سے قرض لیا ہے اپنے اُس محسن کے گھر جلد جاکر شکریہ کے ساتھ قرض ادا کر آتے ، مگر آج کل حالات اس کے اُلَٹ ہیں۔ بہت سے لوگوں کا حال یہ ہے کہ وقت پر واپس کرنے کی یقین دہانی کرا کے قرض مانگتے ہیں ، لیکن جب لوٹانے کی باری آتی ہے تو ادائیگی پر قادر ہونے کے باوجود قرض خواہ کو دھکے کھلاتے اور مختلف حیلے بہانے کرکے اسے پریشان کرتے ہیں۔ اس سے نظام معیشت متاثر ہوتا ہے کیونکہ لوگوں کا ایک دوسرے پر سے اعتماد ختم ہوجاتا ہے ، پھر ضرورت مند کو قرض ملتا نہیں کہ جس سے وہ اپنی ضرورت کو پورا کرے ، نتیجہ معاشی بے راہ روی بڑھتی ہے ، مفلسی بڑھتی ہے اور جرائم کا ارتکاب کیا جاتا ہے ۔ اسلامی نظام معیشت کے اصول کے مطابق چلا جائے تو ہر ایک فائدے میں ہے ۔

آٹھواں اصول :وراثت کے اصولوں کی پابندی

وراثت سے مراد کسی شخص کے انتقال کے بعد ، اس کی ملکیت کا جو مال ہے ، شرعی اصولوں اور قوانین کے مطابق وارثوں کے درمیان تقسیم کرنا ۔ دین اسلام نے تقسیم وراثت کا بھی ایسا مضبوط نظام دیا ہے جس پر عمل کرنے سے اس معاملے میں پیدا ہونے والی معاشرتی و معاشی خرابیوں کو ختم کیا جاسکتا ہے کیونکہ جب وارثوں کے درمیان شریعت کے اصول کے مطابق جائیداد و اموال کی تقسیم ہوجائے گی تو اس سے امن کی فضاء قائم ہوگی اور معاشرتی بے امنی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ہر ایک معاشی لحاظ سے آسودہ ہوگا ۔ اللہ پاک نے وراثت کے حقدار وارثوں کا تفصیلا ذکر قرآن کریم میں فرمایا ہے ۔ اس لئے نبی پاک ﷺ نے مختصر لفظوں میں یہ اصول عطا فرمادیا ، ارشاد فرمایا :* إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ* ترجمہ : بے شک اللہ نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا ہے۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث 2712) اس اصول و قانون کی پابندی کرنا ہر مسلمان پر لازم و ضروری ہے ۔

دسواں اصول: فضول خرچی

اسلامی نظام معیشت کی مضبوطی کا ایک اور اصول یہ ہے کہ ایمان والوں کو فضول اخراجات سے بچ کر اپنے خرچ میں اعتدال کا حکم دیا گیا ۔ اخراجات میں اعتدال کا ہونا انتہائی اہم ہے بالخصوص ہمارے اس دور میں جہاں مہنگائی عروج پر ہے اور آمدنی اس کے مقابلے میں کم ہے خرچ میں اعتدال کا حکم دیتے ہوئے سرکار ﷺ نے ارشاد فرمایا: *الِاقْتِصَادُ فِي النَّفَقَةِ نِصْفُ الْمَعِيشَةِ * ترجمہ حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللهﷺ نے خرچ میں اعتدال آدھی زندگی ہے ۔ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں : سبحان الله! عجیب فرمان عالی ہے۔خوش حالی کا دارومدار دو چیزوں پر ہے: کمانا،خرچ کرنا مگر ان دونوں میں خرچ کرنا بہت ہی کمال ہے،کمانا سب جانتے ہیں خرچ کرنا کوئی کوئی جانتا ہے،جسے خرچ کرنے کا سلیقہ آگیا وہ ان شاءالله ہمیشہ خوش رہے گا۔ امیر ہو یا غریب ہر ایک کو اپنی خواہشات اور ضروریات کو پورا کرنے کے لئے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے،جس کے پاس جتنا پیسہ ہوتا ہے وہ اپنے معاملات میں اسی اعتبار سے خرچ کرتا ہے۔اسلام نے جس طرح مال کمانے کے احکام بیان فرمائے ہیں ایسے ہی مال خرچ کرنے کے آداب بتا کر اس میں میانہ روی کا حکم دیا ہے۔مال خرچ کرنے میں میانہ روی اسلام کے نزدیک اچھا عمل ہے جب کہ فضول خرچی اور کنجوسی برے اوصاف ہیں جو ایک مسلمان کی شان کے لائق نہیں،قرآن مجید نے مومن کی یہ شان بتائی ہے: اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں،نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں۔(پارہ 19،الفرقان: 67) لہذا مال خرچ کرتے وقت ایسی فضول خرچی بھی نہ کی جائے کہ بعد میں اپنی ضروریات کے لئے بھی کچھ باقی نہ بچے اور دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑے اور نہ ہی ایسا بخیل ہوں کہ جہاں اسلامی اور معاشرتی اعتبار سے خرچ کرنا ضروری ہو وہاں بھی خرچ نہ کریں بلکہ اعتدال کے ساتھ جہاں جتنا خرچ کرنا ضروری ہو اتنا ہی خرچ کریں۔حدیث پاک میں ہے : *"من اقتصد أغناه الله، ومن بذر أفقره الله"* جو شخص اعتدال قائم رکھتا ہے،اللہ پاک اسے مالدار بنا دیتا ہے اور جو آدمی ضرورت سے زائد خرچ کرتا ہے اللہ پاک اسے فقیر کر دیتا ہے ۔ (کنز العمال، حدیث 5437)

نواں اصول :نظام زکوٰۃ سے مستحقین کی کفالت

اسلام کے معاشی نظام میں زکوۃ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے حضور سرور کونین ﷺ نے اپنی ظاہری حیات میں زکوۃ ،لینے اور اسے خرچ کرنے کا ایک منظم نظام عطا فرمایا اور اسی کے مطابق خلفائے راشدین بھی عمل کرتے رہے ۔ اسلامی نظام معیشت میں زکوۃ ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ہےتاکہ معاشرے میں موجود معاشی دور میں پیچھے رہ جانے والوں کی مدد ہوسکے اور وہ معاشی بحران سے نکل کر اپنی پرسکون زندگی گزار سکیں ۔نبی کریم ﷺ نے معاذ بن جبل کو اہل یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا : جب تم اہل یمن کے پاس پہنچو تو پہلے ان کو دعوت دینا کہ وہ اسلام قبول کرلیں ، اسلام قبول کرلیں تو اب انہیں نماز کا حکم دینا اگر وہ اس کو بھی تسلیم کرلیں تو پھر ان سے کہنا کہ * أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً، تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ فِي فُقَرَائِهِمْ،* ترجمہ : بے شک اللہ نے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور ان کے ہی محتاجوں میں خرچ کی جائے گی ۔(صحیح بخاری ، حدیث 1496)۔ اس حدیث سے واضح ہے کہ اسلا می معیشت کا مقصود معاشی طو ر پر کمزور افراد کو خود مختار بنایا جائے اور ان کا حق مالداروں کے مال میں رکھ کر مالداروں کو اس بات کا پابند کردیا کہ اپنے مال سے ان کی مدد کرنی ہے تاکہ زکوۃ کے ذریعے معاشرتی فرق کو کم کرکے معاشی مساوات کو فروغ دیا جائے ، غربت و افلاس ختم ہو معاشرہ معاشی طور پر ترقی کرے ۔

اعلان نبوت سے پہلے نبی پاک ﷺ کی معاشی زندگی

اعلان نبوت سے پہلے نبی پاک ﷺ کی معاشی زندگی

حضور ﷺ نے اظہار نبوت چالیس سال کی عمر میں فرمایا ۔ اس سے پہلے نبی پاک ﷺکی معاشی زندگی کے معاملات کس طرح کے تھے ، اس مرحلے میں ہم اس کا ذکر کر رہے ہیں ۔ سیرت النبی ﷺ کا یہ حصہ ان افراد کے لئے جو مالی اعتبار سے زیادہ مضبوط نہیں ہوتے اور غربت وافلاس کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں ، ان کے لئے بہترین رہنماء ثابت ہوگا ۔ اسی طرح وہ لوگ جو تجارت کے پیشے سے تعلق رکھتے ہیں ان کی بھی تربیت کے نمایاں پہلو اس میں موجود ہیں ۔

دائی حلیمہ کے سوا ظاہر ی غربت کی وجہ سے کسی نے گود نہ لیا

سرکار دوعالم ﷺ کی ولادت باسعادت سے پہلے ہی آپﷺ کے والد محترم اس دنیا سے پردہ فرماچکے تھے ۔اور والدہ کی معاشی صورت حال بھی ظاہری اعتبار سے بہتر نہ تھی ۔ مکہ کے لوگ اپنے نومولود بچوں کو دیہات بھجوا دیا کرتے تھے تاکہ وہ بچہ وہاں رہ کر خالص فصیح زبان سیکھے ۔ سیدتنا آمنہ رضی اللہ عنہا کی بھی یہی خواہش تھی ۔ جب قبیلہ بنی سعد بن ابی بکر کی چند خواتین مکہ میں بچوں کو گود لینے آئیں ، ان میں حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں ۔ آپ نے خود اس بات کو بیان فرمایا کہ میرے ساتھ آنے والی ہر دائی کو حضور ﷺ کو گود لینے کی سعادت ملی ، لیکن سب نے ہی دیکھ کرکہ ان کے والد حیات نہیں ہیں ، ہمیں کیا فائدہ ہوگا ؟ یہ سوچ کر انہوں نے حضور ﷺ کو گود نہ لیا ۔ میرے ساتھ آنے والی ہر دائی کو بچہ ملا گیا لیکن مجھے نہ ملا تو میں نے اپنے شوہر حارث سے کہا کہ میں خالی ہاتھ گھر نہیں جاوں گی ۔ وہی بچہ جس کے والد نہیں ہے، اسے گود لے لیتی ہوں ۔ میرے خاوند نے مجھ سے کہا کہ ایسا کرلو تو بہت اچھی بات ہے شاید وہی بچہ ہمارے لئے برکت کا سبب بن جائے ۔ لہذا میں نے حضور ﷺکو گود لے لیا ۔ (البدایہ والنہایہ صفحہ 273)* *تبصرہ*: یہاں سرکار دو عالم ﷺ کی معاشی صورت حال کی جھلک ہمیں پتا چلی کہ ظاہری طور پر غربت بھی تھی اور والد بھی اس دنیا سے پردہ فرما چکے تھے ۔ یہ بات بہت مختصر ہے لیکن اس میں ہمارے لئے کافی نصیحت ہے ۔ سیدتنا آمنہ رضی اللہ عنہا کا اپنے بیٹے کو فصاحت سکھانے کے لئے دیہات بھیجنا ، اس سے پتا چلا کہ اپنی اولاد کو بااخلاق اور اچھا بنانے کے لئے ماوں کو بڑا دل رکھنا چاہئے اور ان کے مستقبل کے لئے حدود شرع میں رہ کر کچھ نہ کچھ قربانی دینی چاہیے ۔ اسی طرح سیدتنا حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کا اخلاص دیکھیں ، انہوں نے تحائف و نذارانوں کی خواہش کے بغیر ہی نبی پاک ﷺ کو گود لے لیا ، اور جنہوں نے چھوڑا انہوں نے یتیم ہونے کی وجہ سے چھوڑا لیکن کسے پتا تھا کہ یہ عظیم سعادت سے محرومی تھی اور یہ سعادت حلیمہ سعدیہ کا مقدر تھی ۔

والدہ ماجدہ کا وصال اور دادا کی کفالت کا زمان

پیارے آقا ﷺ کی عمر مبارک جب چھ سال ہوئی تو آپ کی والدہ کا انتقال ہوگیا اور اب آپ ﷺ کی معاشی کفالت کی ذمہ داری آپ کے دادا نے سنبھالی ۔ لیکن وہ بھی دو سال بعد اس دنیا سے پردہ فرماگئے ۔

دادا کے وصال کے بعد چچا ابو طالب اور چچا زبیر نے آپ کی کفالت کی

نبی پاک ﷺ کی چچا ابو طالب نے اپنے والد کے انتقال کے بعد اپنے بھتیجے کی کفالت کی ذمہ داری لے لی۔ لیکن ابو طالب خود کثیر العیال یعنی ابو طالب کے خود کے دس بیٹے تھے اورمالی لحاظ سے کمزور تھے ۔ اس لئے معاشی اعتبار سے انہیں بھی مسائل کا سامنا رہتا لیکن نبی پاک ﷺ کو اپنے بھتیجے کی حیثیت سے بہت پیار دیتے اور اپنی اولاد سے بھی عزیز سمجھتے تھے ۔

سرکار ﷺ کا بکریاں چرانا

سرکار ﷺ کی عمر مبارک جب 12 سال ہوگئی تو اِس عمر میں آپ ﷺاہل مکہ کی بکریاں اجرت پر چرایا کرتے تھے ۔ اس وقت عرب میں بکریاں چرانا ایک قابل قدر پیشہ تھا ، بڑے بڑے شیوخ و امراء کے بچے بکریاں چرایا کرتے تھے ۔ بخاری شریف کتاب الاجارہ کی روایت ہے : *عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: مَا بَعَثَ اللّٰهُ نَبِيًّا إِلَّا رَعَى الْغَنَمَ» . فَقَالَ أَصْحَابُهٗ : وَأَنْتَ؟ فَقَالَ:«نَعَمْ كُنْتُ أَرْعٰى عَلٰى قَرَارِيطَ لِأَهْلِ مَكَّةَ* ترجمہ : روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم ﷺ سے راوی فرماتے ہیں کہ اللہ نے کوئی نبی نہ بھیجا مگر انہوں نے بکریاں چرائیں صحابہ نے عرض کیا حضور آپ نے؟ فرمایا: ہاں میں مکہ والوں کی بکریاں کچھ قیراط کے عوض چَراتا تھا (صحیح بخاری ، کتاب الاجارۃ ) مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : قیراط دینار کا بیسواں حصہ یا چوبیسواں حصہ ہے،حضور انور ﷺ نے اہل مکہ کی بکریاں ایک قیراط روز یا ماہوار کے عوض چرائی ہیں۔( مراٰۃ المناجیح ، جلد 04، حدیث 2983) بعض احباب نے قراریط کے معنی کسی مقام کے کئے ہیں کیونکہ وہ سرکار ﷺ کی طرف اجرت پر بکریاں چرانے کی نسبت کو معیوب سمجھتے ہیں ۔ حالانکہ اسے معیوب سمجھنا درست نہیں کیونکہ اس وقت یہ پیشہ عرب میں معزز لوگوں کا پیشہ رہا ہے ۔ دوسری بات یہ کہ سرکار ﷺ کا 12 سال کی عمر سے کسی پیشے کو اختیار کرنا ، یہ حضور صلی اللہ عنہ وسلم کی عظمت کو ہی ظاہر کرتا ہے کہ آپ ﷺ نے گویا کہ چچا ابوطالب کی غربت کو دور کرنے کے لئے اجرت پر کام کرنا شروع کیا ہو ۔ نبی پاک ﷺ کے اس عمل سے محنت کرنے کی ترغیب ملتی ہے اور ساتھ سرکار ﷺ کے اس عمل سے خود داری کا درس بھی ملتا ہے ۔ سرکار ﷺ کا بکریاں پال کر اپنے معاش کا اہتمام کرنا معیو ب نہیں بلکہ ہمارے لئے بہت بڑی تر غیب و نصیحت ہے کہ ہمیں اپنی محنت سے کمانے کی کوشش کرنی چاہیئے یاد رہے مال کی محبت یہ الگ چیز ہے اور ضرورت کی خاطر مال کمانا برا نہیں بلکہ مطلوب شریعت ہے ۔

شباب(جوانی) مصطفی ﷺ اور معاشی زندگی

نبی پاک ﷺ نے اپنی جوانی میں تجارت کا پیشہ اختیار فرمایا ، اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ قبیلہ قریش تجارت سے تعلق رکھتے تھے اور قبیلہ قریش تجارت کے حوالے سے معروف تھا۔ تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ تجارت نبی پاک ﷺ کے آباو اجداد کا انداز رہا ہے ۔ سب سے پہلے آپ ﷺ نے چند تجارتی سفر اپنے چچا ابوطالب کے ساتھ کئے اور اسی سے آپ ﷺ نے تجارتی معاملات کا تجربہ حاصل کیا ۔ آپ ﷺ کے تجارتی انداز کا ہر ایک گرویدہ ہوچکا تھا کیونکہ تجارت کے معاملات میں صدق و امانت اور معاملے کا بالکل صاف و بے غبار ہونا ، آپﷺکا ایک خاص وصف تھا ۔ یہ بات حقیقت ہے کہ معاشی ترقی کے لئے کاروباری معاملے کو بالکل صاف و شفاف رکھنا ، دھوکا دہی ، جھوٹ سے بچنا ضروری ہے ورنہ کاروباری ترقی متاثر ہوتی اور بندہ معاشی بدحالی کا شکار ہوجاتا ہے ۔ نبی پاک ﷺ کا تجارت کے اس پیشے میں کیسا انداز تھا ۔ ایک صحابی حضرت عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ ہیں ۔ جب یہ مسلمان ہوئے اور سرکار ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہاں موجود صحابہ کرام علیہم الرضوان ان کے سامنے سرکار ﷺ کے اوصاف بیان کرنے لگے ۔ جب حضرت عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ نے سنا تو وہ کہنے لگے : میں حضور ﷺ کو تم سے زیادہ جانتا ہوں ، حضور ﷺ میرے تجارتی ساتھی ہیں ، اور آپ ہمیشہ اپنا تجارتی معاملہ صاف و شفاف رکھتے تھے ۔ (سنن ابی داأد ) اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ جب حضرت عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سرکار ﷺ کے پاس آئے تو حضور ﷺ نے خود پوچھا : کیا تم مجھے پہچانتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : کیوں نہیں ! آپ ﷺ میرے تجارت کے بہترین ساتھی ہیں ، آپﷺ نہ کسی بات کو ٹالتے تھے اور نہ ہی کسی بات کا تکرار کرتے تھے ۔ یہ ایک تاجر کے لئے بہت ضروری بھی ہے کیونکہ اسی سے معاشی اعتبار سے وہ ترقی کرسکے گا ۔ اگر اس کا انداز تجارت میں تکرار کا ہو، لڑائی جھگڑے کا ہو ، باتوں کو گھمانے پھرانے جیسا ہو تو ایسا شخص معاشی ترقی سے بہت پیچھے ہوجاتا ہے ۔

سرکار ﷺ کا حلف الفضول میں شریک ہونا

اسلام سے پہلے عربوں میں جنگوں کا سلسلہ رہتا تھا۔روز روز کی لَڑائیوں سے عَرَب کے سینکڑوں گھرانے بَرباد ہو گئے تھے۔ہر طرف بدامنی اور آئے دن کی لُوٹ مار سے ملک کا اَمن و اَمان غارت (تباہ و بَرباد) ہو چُکا تھا۔ کوئی شخص اپنی جان و مال کو محفوظ نہیں سمجھتا تھا۔ نہ دن کو چین،نہ رات کو آرام،اِس وحشت ناک صُورتِ حال سے تنگ آکر کچھ صُلْح پسند لوگوں نے ایک اِصلاحی تحریک چلائی۔ چنانچہ بَنُو ہاشِم،بَنُو زُہْرَہ، بَنُو اَسَد وغیرہ قَبائِلِ قُرَیْش کے بڑے بڑے سَردار،عَبْدُاللہ بِن جُدْعَان کے مکان پر جمع ہوئے اور آپ ﷺ کے چچا زُبَیْر بِن عُبْدُالْمُطَّلِب نے یہ تجویز پیش کی کہ موجودہ حالات کو سدھارنے کے لئے کوئی مُعَاہَدَہ کرنا چاہیے،چنانچہ خاندانِ قُرَیْش کے سَرداروں نے”جِیو اور جینے دو“کی قسم کا ایک معاہدہ کیا اور حَلْف(قَسَم)اُٹھا کر عہد(وعدہ) کیا کہ ہم لوگ ملک سے بے امنی دور کریں گے،مسافروں کی حِفاظت کریں گے، غریبوں کی اِمداد کرتے رہیں گے،مَظلوم کی حمایت کریں گے،کسی ظالِم یا غاصِب (زبردستی حَق چھیننے والے) کو مکّہ میں نہیں رہنے دیں گے۔(سیرت مصطفے،ص۸۹) جب یہ معاہدہ ہوا اس وقت نبی پاک ﷺ کی عمر مبارک بیس سال تھی ۔ حلف الفضول کے اس معاہدے سے جہاں معاشی بدامنی پھیلی ہوئی تھی ، غریبوں کا حق دبایا جارہا ہے ، ظلم و بربریت عام ہورہی تھی ، معاشرتی خرابیاں تو پیدا ہوہی رہی تھیں ساتھ ہی عرب کی معیشت کو بھی نقصان پہنچ رہا تھا ، اس لئے امن وامان کو قائم کرنے کے لئے، ظلم کو ختم کرنے کے لئے یہ ضروری تھا۔ سرکار ﷺ بھی معیشت کی ترقی کی بحالی کے لئے اس میں شریک تھے اور سرکار ﷺ اس معاہدے کو اتنا پسند فرماتے تھے کہ اظہار نبوت کے بعد جب اس کا ذکر کر تے ،تو فرماتے کہ مجھے آج بھی اس طرح کے معاہدے کی دعوت دی جائے تو میں اسے قبول کروں گا ۔ حلف الفضول کے اس معاہدے سے یہ بھی پتا چلا معیشت کی ترقی صرف اس بات پر منحصر نہیں کہ کون کتنا کمارہا ہے ، مارکیٹ میں زرمبادلہ کی گردش ہورہی ہے یا نہیں ہورہی ، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ معیشت کی ترقی کے لئے ظلم کو بھی ختم کرنا ضروری ہے ، کمزوروں کو ان کا حق ملنا بھی ضروری ہے ، ورنہ معیشت ترقی نہیں کرسکتی ۔

عمر مبارک کاپچیسواں سال اور ملک شام کی طرف تجارتی سفر

سرکار دو عالم ﷺ ابتدا سے ہی بہترین کردار کے مالک تھے۔ جب آپ ﷺ کی عمر مبارک 25سال ہوئی تو آپ ﷺ کی صداقت اور دیانت کے ہر طرف چرچے ہونے لگے۔ مکہ کی فضاؤں میں آپ ﷺ کے لقب “ صادق وامین “ ہر طرف گونجنے لگے۔ شہرِ مکہ کی ایک معزز اور مالدار خاتون تھیں جن کا نام تھا “ خدیجہ “ انہیں ایسے امانت دار شخص کی ضرورت تھی جو ان کا مال ملکِ شام لے کر جائے اور وہاں فروخت کر کے نفع کما کر لائے۔ آپ ﷺ کی امانت و صداقت کی شہرت جب حضرت خدیجہ تک پہنچی تو انہوں نے آپ ﷺ کو پیغام بھیجا کہ آپ میرا مالِ تجارت ملکِ شام لے کر جائیں! جومعاوضہ میں دوسروں کو دیتی ہوں آپ ﷺ کو اس کا دوگنا(Double) دوں گی۔ آپ ﷺ نے ان کی یہ درخواست قبول فرمالی اور تجارت کا سامان اور مال لے کر ملکِ شام روانہ ہو گئے۔ اس سفر میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا غلام “ مَیْسَرہ “ بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھا جو آپ ﷺ کی خدمت اور دیگر ضروریات پوری کرتا تھا۔ ایک بار پھر جب آپ ﷺ ملکِ شام کے مشہور شہر “ بُصریٰ “ پہنچے تو وہاں “ نسطورا “ راہب کی عبادت گاہ کے قریب قیام فرمایا۔ وہ راہب میسرہ کو پہلے سے جانتا تھا ، اسی بنیاد پر وہ اس کے پاس آیااور آپ ﷺ کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگا : یہ کون ہیں جواس درخت کے نیچے اترے ہیں؟ میسرہ نے جواب دیا : یہ شہرِ مکہ کے رہنے والے ہیں ، بنوہاشم سے تعلق ہے ، ان کا نام “ محمد “ ہے اور لقب “ امین “ ہے۔ راہب کہنے لگا : سوائے نبی کے آج تک اس درخت کے نیچے کوئی نہیں اترا۔ پھر اس نے پوچھا : کیا ان کی آنکھوں میں سرخی رہتی ہے؟ میسرہ نے جواب دیا : ہاں ہے اور وہ ہر وقت رہتی ہے۔ یہ سن کر نسطورا کہنے لگا : یہی اللہ کے آخری نبی ہیں ، مجھے ان میں وہ تمام نشانیاں نظر آ رہی ہیں جو توریت و زبور میں پڑھی ہیں۔ کاش! میں اس وقت زندہ ہوں جب یہ اپنی نبوت کا اعلان فرمائیں گے ، اگر میں زندہ رہا تو ان کی بھرپور مدد کروں گا اور ان کی خدمت میں پوری زندگی گزار دیتا۔ اے میسرہ! میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ کبھی ان سے جدا مت ہونا ، ان کی خدمت کرتے رہنا ، کیونکہ اللہ پاک نے انہیں نبوت کا شرف عطا فرمایا ہے۔ آپ سامانِ تجارت بیچ کر جلد واپس تشریف لے آئے۔ جب نبی پاک ﷺ اس تجارت سے دگنا نفع لے کر مکہ پہنچے تو کچھ وقت بعد حضرت سیدتنا خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا کی جانب سے پیغام نکاح ملا اور مشاورت کے بعد آپ ﷺ کا 25 سال کی عمر میں سیدتنا خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا سے نکاح ہوگیا ۔ حضرت سیدتنا خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا نے اپنا سارا مال و اسباب سرکار ﷺ کی خدمت میں پیش کرکے نبی پاک ﷺ کو مالی تفکرات سے مستغنی و بے نیاز کردیا ۔ جس کا ذکر خود نبی پاک ﷺ نے بھی حدیث میں کیا ہے ۔

نکاح کے بعد سے اعلان نبوت تک کی معاشی زندگی

نکاح کے بعد جب حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا نے اپنا سب کچھ سرکار ﷺ کو پیش کردیا ، اس کے بعد بھی سرکار ﷺ نے اپنے تجارتی مشاغل کو جاری رکھا البتہ اس سے متعلق روایات کم ہیں ، لیکن اتنا ثبوت روایات سے ظاہر ہے کہ تجارت کچھ نہ کچھ جاری رکھی ہوئی تھی ، جسے ابن کثیر نے بھی ذکر کیا ہے ۔ اس کے علاوہ اپنی تجارتی معاشی مصروفیات کے ساتھ دیگر کی بھی معاشی ضروریات کو پورا فرمایا کرتے تھے جس کا ثبوت پہلی وحی کے نازل ہونے کے بعد حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا کی گفتگو سے ہوتا ہے ۔ جب پہلی و حی کا نزول ہوا اور سرکار ﷺ کے جسم مبارک وحی الہی کے جلال کی وجہ سے ایک کیفیت طاری تھی ، اس وقت سرکار ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے سیدتنا خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا نے عرض کی : اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کے ساتھ اچھا ہی فرمائے گا کیونکہ آپ ﷺ صلۂ رحمی فرماتے، عیال کا بوجھ اٹھاتے، ریاضت و مجاہدہ کرتے، مہمان نوازی فرماتے، بیکسوں اور مجبوروں کی دستگیری کرتے، محتاجوں اور غریبوں کے ساتھ بھلائی کرتے لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آتے، لوگوں کی سچائی میں انکی مدد اور ان کی برائی سے حذر فرماتے ہیں، یتیموں کو پناہ دیتے ہیں سچ بولتے ہیں اور امانتیں ادا فرماتے ہیں۔ روایات سے یہ بھی بات سامنے آتی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے چچا ابو اطالب سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کفالت کی ذمہ داری خود لے لی تھی ۔ ابتداء میں ہم نے اس بات کا ذکر کردیا کہ ابو طالب کثیر العیال تھے ، اس لئے نبی پاک ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کفالت کی ذمہ داری خود لے لی اور ابو طالب کے ایک بیٹے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی ذمہ داری آپ کے دوسرے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے لے لی تھی۔ حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا کی اس گفتگو سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سرکار ﷺ غریبوں ، محتاجوں کی مدد فرماتے تھے ، مجبور اور بے سہارا لوگوں کی دستگیری فرماتے تھے ،۔ نادار و کمزور افراد کی معاشی نگہبانی کرنا ، ان کا خیال رکھنا ، ان کی ضروریات کو پورا کرنا ، معیشت کی ترقی کے لئے بہت ضروری ہے ۔ کورس کے اس مرحلے میں ہم نے تفصیلا اس بات کو جان لیا کہ سرکار ﷺ کی معاشی زندگی جو اعلان نبو ت سے پہلے کی ہے کس انداز سے گزری ۔ اس میں ہمارے لئے خود داری ، محنت ، کفایت شعاری ، غریبوں کے ساتھ ہمدردی ، جیسی ترغیبات موجود ہیں ۔

اظہار نبوت سے لے کر ہجرت سے پہلے تک کی معاشی زندگی

اظہار نبوت سے لے کر ہجرت سے پہلے تک کی معاشی زندگی

اظہار نبوت کے بعد سے ہجرت سے پہلے تک کی نبی پاک ﷺ کی زندگی مبارک کے تقریبا تیرہ سال بنتے ہیں ۔ بعثت نبوی سے پہلے تک کے معاشی حالات کا ذکر تو ہم نے جان لیا ، اس میں غور و فکر کریں تو پتا چلتا ہے کہ اسلام کے داعی ہمارے پیارے آقا ﷺ نے جو نظام معیشت ہمیں عطا فرمایا ہے ، وہی نظام کسی ریاست و حکومت کی ترقی وعروج کے لئے مرکزی حیثیت رکھتا ہے ۔ آپ ﷺ کا دیا ہوا معاشی نظام ہی رہتی دنیا تک کے تمام لوگوں کے لئے بہترین معاشی نظام ہے ۔ اب ہم کورس کے اس مرحلے میں نبی پاک ﷺ کے اظہار نبوت کے بعد سے لے کر ہجرت کرنے تک کے معاشی معاملات کا ذکر کررہے ہیں ، وہ اگرچہ کم ہیں کیونکہ اعلان نبوت کے بعد دعوت اسلام کی تبلیغ کی بھی مصروفیات رہی ہیں جو کہ سب سے اہم اور بڑی ذمہ داری تھی ۔

نبی پاک ﷺکا اعلان نبوت اورقریش کے مالداروں کا انکار

نبی کریم ﷺ کی چالیس سالہ زندگی قریش کے لوگوں کے درمیان گزری ، اور آپ ﷺ کے صدق و امانت ، آپ ﷺ کے اوصاف و محاسن کو قریش جانتے تھے لیکن جب سرکار دو عالم ﷺ نے اظہار نبوت فرمایا تو قریش کے مالداروں نے صرف اس وجہ سے آپ ﷺ کی نبوت کو ماننے سے انکار کردیا کہ حضور ﷺ ظاہری اعتبار سے مال و دولت نہ رکھتے تھے ۔ اللہ پاک نے اسے قرآن کریم میں بھی ذکر کیا ، ارشاد باری تعالیٰ ہے : *وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ* ترجمہ : اور کہنے لگے: ان دو شہروں کے کسی بڑے آدمی پریہ قرآن کیوں نہ اتارا گیا؟۔ (پارہ 25، سور ۃ الزخرف ، آیت 31) اس آیت کے تحت تفسیر صراط لجنان میں لکھا ہے :کفار مکہ رسولُ اللہ ﷺ کے بارے میں کہنے لگے کہ ان پر قرآن کیوں اترا؟ ان دو شہروں مکہ اور طائف میں رہنے والوں میں سے کسی بڑے آدمی جو مال و دولت اور غلاموں کی کثرت رکھتا ہو اس پریہ قرآن کیوں نہ اتارا گیا؟ اس بڑے آدمی سے مراد مکہ مکرمہ میں ولید بن مغیرہ اور طائف میں عروہ بن مسعود ثقفی ہے۔( تفسیر صراط الجنان) کفار قریش کا خیال یہی تھا کہ ہم زیادہ مالدار ہیں ، ہم اس کی پیروی اور غلامی کیسے اختیار کریں جو مالدار نہیں ہے ۔ ان کو یہ بھی ڈر تھا کہ اگر نبی مکرم ﷺ کی پیروی اختیار کرلی تو ہم سے کعبہ کی تولیت چلی جائے گی ، جوکہ ان کے لئے معاشی طور پر نقصان دہ ہوگا ۔ کفار مکہ نے معاذاللہ سرکار ﷺ کی ذات سے متعلق یہ خیال کیا کہ شاید انہیں مال و دولت چاہیئے ، سرداری چاہیئے ، تاکہ معاشی طور پر وہ مضبوط ہوجائیں ، انہوں نے یہ سوچ کر سرکار ﷺ سے کہنا شروع کردیا کہ آپ کو مال و اسباب چاہیئے ہم آپ کو دینگے ، آپ کو سرداری چاہیئے وہ بھی دینگے لیکن نبی پاک ﷺ نے ان سب باتوں کا انکار فرمایا اور اللہ کریم کے وحدانیت کی دعوت دیتے رہے ۔سیرت ابن ہشام میں یہ تفصیلاً ذکر کیا گیا ہے ۔ نبی کریم ﷺ پر ابتدائی طور پر جن کثیر افراد نے ایمان لانے کی سعادت حاصل کی تھی وہ معاشی اعتبار سے پسماندہ اور غریب تھے ، اس میں ہمارے دور کے غرباء و مساکین کے لئے بڑی نصیحت و ترغیب موجود ہے کہ اسلام کے دامن میں آ نے والے اور سرکار ﷺ کی غلامی اختیار کرنے والے ابتدائی طور پر غرباء تھے لہذا ہمیں اسلام کی روشن تعلیمات کو مضبوطی سے رکھنا چاہیئے۔ آج حالات دیکھیں تو ایک تعداد غربت و مفلسی کی وجہ سے نہ جانے کیسے کیسے جملے بول دیتے ہیں کہ ان کا ایمان ہی ضائع ہوجائے ۔ اللہ کی پناہ ، ایسا بھی ہوتا ہے کہ غربت کی وجہ سے خودکشی ہی کرلی ، یہ بھی سناجاتا ہے کہ غربت کی وجہ سے اپنے ہی بچوں کو ، گھر والوں کو قتل کرکے پھر خود کشی کرلی ، مسلمان کا ایمان اس قدر کمزور ہوتا جارہا ہے ،غریب طبقے کے افراد کے لئے تو یہ اعزاز کی بات ہے کہ سرکار ﷺ بلکہ تمام ہی انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام پر ایمان لانے والوں میں ابتداء غرباء ہی تھے ۔ اور اسلام میں داخل ہونے کے بعد کفار کی جانب سے انہیں طرح طرح کی تکالیف کا بھی سامنا کرنا پڑتا لیکن ان کے قدم کبھی اسلام کی تعلیم کے خلاف نہیں ہوئے ، وہ اپنے دین و ایمان پر مضبوطی سے قائم بھی رہے اور ان اذیتوں اور تکلیفوں کو برداشت بھی کرتے رہے ۔ اللہ کریم ان کا صدقہ ہمیں بھی ایمان و اسلام پر استقامت عطا فرمائے ۔

اسلام کا پھیلنا اور کفار قریش کی جانب سے مسلمانوں کا معاشی بائیکاٹ

اسلام پھیلتا جارہا تھا ، لوگ اسلام کے دامن میں داخل ہوتے جارہے تھے ، کفارقریش نے ظلم و ستم بھی بہت کیا لیکن جو اسلام لائے اور جو لارہے تھے ، وہ اسلام کے دامن کو چھوڑنے کے لئے بالکل تیار نہ تھے ، جب کفار قریش نے یہ دیکھا کہ یہ اسلام قبول کرنے والے اکثر معاشی طور پر مستحکم نہیں ہے لہذا ان کا معاشی بائیکاٹ کیا جائے ۔ آپس میں کفار قریش کے سرداروں نے مشورہ کیا اور مسلمانوں کے ساتھ خریدوفروخت کا بائیکاٹ کیا گیا ، ساتھ ہی مسلمانوں تک کھانے پینے کا سامان پہنچنے میں بھی رکاوٹیں حائل کردی ۔تاکہ مسلمان بھوک و افلاس سے تنگ آکر اسلام کو چھوڑدیں ۔لیکن مسلمانوں کے پائے استقلال میں ذرہ برابر بھی لغزش نہ آئی ۔ نبی پاک ﷺ بھی اپنے غلاموں کے ساتھ ان معاشی حالات سے گزر رہے تھے ۔تین سال تک یہ معاشی بائیکاٹ چلتا رہا ۔ جب یہ بائیکاٹ ختم ہوا، جس کا ایک سبب ابو طالب بنے تھے ،اسی سال میں ابو طالب کا انتقال ہوگیا پھر چند روز بعد حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا کا بھی انتقال ہوگیا ، اس کے بعد دوبارہ کفار قریش کے ظلم کا آغاز ہوگیا ، نبی کریم ﷺ نے اس سال کو عام الحزن (غم کا سال ) کا نام دیا ۔ (یہ تمام تفصیل طبقات ابن سعد، سیرت ابن ہشام اور مواہب لدنیہ میں موجود ہے )

حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سے نکاح اور مہر کی ادائیگی

نبی رحمت ﷺ نے حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا کے وصال فرمانے کے کچھ ماہ بعد حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا ، (اس کاسبب خاندان مصطفی کورس میں بیان ہوچکا ہے ) ۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کا مہر 400 درہم ادا فرمایا۔ کورس کے پہلے مرحلے میں ہم نے اس بات کا ذکر کیا تھا کہ دولت کی منصفانہ تقسیم یہ اسلامی معاشیات کا ایک اہم باب ہے ۔ اسلامی معاشیات میں مہر کی ادائیگی بھی گردش دولت کا ایک ذریعہ ہے ۔جو عورت کا حق ہے اور شوہر پر لازم ہوتا ہے ۔ نکاح کے وقت مہر کا تقرر اعلان نبوت سے پہلے بھی لوگوں میں رائج تھا ۔ جسے نبی پاک ﷺ نے اسلام میں باقی رکھا اور جہاں بہتری کی ضرورت تھی وہاں اس کی درستی بھی فرمائی۔ اور یہ نکاح ہجرت سے تین سال پہلے ہوا تھا ، جس سے پتا چلتا ہے کہ سرکار دوعالم ﷺ کی معاشی کیفیت ایسی نہ تھی کہ آپﷺ مہر ادا نہ کرسکے ۔ پیارے آقا ﷺ نے مہر بھی ادا فرمایا اور ساتھ جو ولیمہ ہوا وہ بھی اسلامی نظام معیشت کے اصولوں کی عکاسی کرتا ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کے بعد ولیمہ کھجور اور ستو اور کچھ کھانے کا اہتمام کرکے فرمایا ۔ اس سے دو باتیں سیکھنے کو ملتی ہیں کہ سید المرسلین پیارے آقا ﷺ نے اپنا ولیمہ نہایت سادہ انداز سے فرمایا، اس میں کوئی فضول خرچی ، اسراف کا تصور تک نہیں تھا ۔ آج ہمارے معاشرے میں ولیمے کی رسومات ہی لاکھوں روپے میں چلی جاتی ہیں جس کا مقصد عام طور پر نمائش ہوتا ہے یا بلاوجہ کے تقاضوں کی وجہ سے مجبورا ایسا کرتے ہیں ، اس میں فضول خرچی ، اسراف اور گناہوں والے کاموں میں بھی خرچہ کیا جارہا ہوتا ہے ۔ ہمیں چاہیے کہ سیرت رسول ﷺ کے مطابق اپنے نکاح اور شادی کے معاملات کو بنائیں تاکہ معاشی معاملات میں بھی تنگی نہ آئے اور اسلامی نظام معیشت کے اصولوں کی پاسداری بھی ہو ۔

سرکار ﷺ کی تین شہزادیوں کا نکاح ہجرت سے پہلے

سرکار دو عالم ﷺ نے اپنی تین شہزادیوں کا نکاح حضرت زینب ، حضرت رقیہ اور اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہن کا نکاح بھی ہجرت سے پہلے ہی فرمایا تھا ، یہ نکاح بھی بڑے سادگی کے ساتھ ہوئے ۔ بیٹیوں کا نکاح کرنا بھی ، معاشی معاملات میں سے ہے ۔ سرکار دو عالم ﷺ کو اس وقت کفار کی طرف سے اسلام کی دعوت کے معاملے سخت ترین حالات کا سامنا تھا ، مسلمانوں کا سوشل بائیکاٹ بھی تھا ۔ لیکن نبی کریم ﷺ نے اپنی اس گھریلوں معاشی ذمہ داری کو پورا فرمایا اور نہایت سادہ انداز سے اس کو تکمیل تک پہنچا کر قیامت تک آنے والے مسلمانوں کو یہ پیغام بھی دیا کہ حالات جس قدر کٹھن ہو اپنی ذمہ داریوں کو سادہ انداز سے اس طرح پورا کریں کہ معاشی زندگی متاثر نہ ہو ۔ ( سرکار ﷺ کی چوتھی شہزادی کا نکاح ہجرت کے بعد ہوا )

سرکار ﷺکی ہجرت اور امانتوں کا اہم معاشی مسئلہ

جب سیدتنا خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا کا وصال ہوا ، اس وقت نبی پاک ﷺ کی عمر مبارک پچاس سال تھی۔ سرکار ﷺ کے لئے ایک یہ غم کی بات تھی دوسری طرف کفار مکہ کی تکذیب کا سامنا تھا ، اللہ کریم نے اپنے محبوب ﷺ کو اس غم کی کیفیت سے نکالا اور انہیں معراج جسمانی کا معجزہ عطا فرمایا کہ نبی پاک ﷺ نے اس رات اللہ کریم کا اپنی ظاہری آنکھوں سے دیدار کیا ۔ ( اس معجزے کا کچھ ذکر اسفار مصطفی کورس میں کیا گیا ہے اور تفصیلا اس معجزے پر علیحدہ سے کورس ڈیزائن کیا جائے گا )۔ جب نبی پاک ﷺ نے اس بات کی خبر دی کہ آپ ﷺ رات کے مختصر سے حصے میں مسجد الحرام سے مسجد اقصی گئے وہ انبیاء کی امامت فرمائی تو کفار اس بات کو بھی ماننے سے انکار کرنے لگے شقاوت غالب تھی ۔ جن کے مقدر میں ایمان تھا وہ دامن اسلام میں داخل ہوتے جارہے تھے ۔ جب کفار کا ظلم بڑھتا رہا تو سرکا ر ﷺ نے مسلمانوں کو ہجرت کا حکم دے دیا ۔پھر مسلمانوں وقتا فوقتا ہجرت کرنا شروع کردی ۔ ابھی نبی پاک ﷺ کو حکم نہیں ہوا تھا ۔ جب کفار مکہ نے یہ دیکھا کہ مسلمانوں کو مدینہ منورہ میں پناہ مل گئی انہیں یہ خطرہ ہوا کہ مسلمان اس طرح معاشی لحاظ سے اپنے آپ کو مضبوط کر کے ہم پر غالب آجائینگے ۔ اس خدشے کے پیش نظر انہوں نے حضور ﷺ کو معاذاللہ قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس کی اطلاع اللہ کریم نے اپنے محبوب کو عطا فرمادی اور ہجرت کا حکم ہوگیا ، نبی پاک ﷺ کے پاس کفار مکہ کی کچھ امانتیں موجود تھیں ، اس کے لئے آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا کہ یہ امانتیں لوٹا کر وہ مدینے آجائیں ۔ امانت کی حفاظت اور اسے سلامتی کے ساتھ ساتھ اس کے مالک تک پہنچادینا یہ اسلامی معاشیات کا ایک اہم حصہ ہے ۔ اگر امانتوں کی حفاظت نہ ہو ، اس معاملے میں خیانت عام ہو تو اس سے معاشرتی بگاڑ کے ساتھ ساتھ معاشی نظام میں بھی خرابی پیدا ہوجاتی ہے ۔ لہذا سیرت رسول ﷺ سےحاصل ہونے والے اس اہم معاشی اصول کا لحاظ ہر مسلمان کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیئے ۔ کورس کے اس مرحلے میں نبی مکرم ﷺ کے ہجرت تک کے معاشی معاملات کو ذکرکردیا گیا ہے ۔ اس مرحلے میں ہم نے یہ سیکھا کہ معاشی لحاظ سے جتنی پسماندگی ہو، حق کے راستے پر استقامت کے ساتھ قائم رہنا چاہیئے اور ساتھ ہی حق بات کے اعلان سے ڈرنا نہیں چاہیئے چاہے دشمن جتنا مضبوط ہو ۔ اللہ کریم استقامت کےساتھ ہمیں سیرت رسولﷺ پر قائم و دائم رکھے ۔ (آمین )

ہجرت کے بعد نبی پاک ﷺ کی معاشی زندگی

ہجرت کے بعد نبی پاکﷺ کی معاشی زندگی

ہجرت کے بعد سے وصال ظاہری فرمانے تک نبی پاک ﷺ کی زندگی مبارک کے دس سال بنتے ہیں ۔ سفر ہجرت کا جب آغازہو ا تو سرکار ﷺ کو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک اونٹنی پیش کی جس کا نام قصوی تھا ۔ نبی پاک ﷺ نے اس تحفے کو قبول فرمایا لیکن اس کی قیمت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو عطا فرمائی ، اس سے پتا چلتا ہے کہ سفر ہجرت کے لئے سرکار ﷺ نے اپنے معاش یعنی گزر بسر کا اہتمام بھی فرمایا تھا ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی سیرت ابن ہشام میں مذکور ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے پانچ یا چھ ہزار درہم اپنے ساتھ رکھے تھے ۔ سفر ہجرت شروع ہوتا ہے اور غار ثور میں ابتداء تین دن قیام فرمایا اس کے بعد مدینہ منورہ کی طرف روانگی ہوئی اس کے لئے راستے میں رہنمائی کے لئے"عبداللہ بن اریقط" نامی شخص کو جو ابھی مسلمان نہیں تھا اسے آپ ﷺ نے اجرت پر مقرر کردیا ۔ یہ بھی سرکار ﷺ کی حیات کے معاشی پہلو کو اجاگر کرتا ہے کہ یہاں سفر ہجرت میں اجارے پر ایک شخص کو جوکہ غیر مسلم تھا اسے مقرر فرمایا، پتا چلا غیر مسلم سے بھی اجرت پر خدمت لی جاسکتی ہے ۔

مدینے میں آمد سرکار ﷺ اور مدینہ منورہ کی معاشی حالت

نبی مکرم ﷺ جب ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے اس وقت مدینہ منورہ کے اقتصادی و معاشی معاملات کی حالت اچھی نہیں تھی ،سرمایہ دار ، غریبوں کے حقوق پر قابض ہوتے اور زمیندار ، کسانوں کے حقوق کا خیال نہ کرتے تھے۔ سود کے معاملات اس حد تک بڑھ چکے تھے کہ کسی غریب کو معمولی قرض بھی چاہیے ہوتا؛ تو بغیر سود کے اسے قرض نہ ملتا ۔ مدینہ منورہ میں بڑی تعداد غرباء کی تھی، ایک طرف یہ معاشی مسئلہ ، دوسری طرف ہجرت کرکے آنے والے وہ مسلمان جو اپنا سب کچھ چھوڑ کر مدینے آرہے تھے ، ان کی کفالت عامہ کی ذمہ داری کے بھی معاملات دیکھنے تھے ۔ اور ظاہر ہے صرف یہ معاشی معاملات تو نہیں تھے ، دعوت دین کی ذمہ داری بھی ہے ، مدینے میں موجود یہود جو کہ سرمایہ دار تھے اور مدینے کے بازاروں پر قابض تھے ، ان کی معاشی اصلاح بھی ضروری تھی اور دین حق کی دعوت کو بھی عام کرنا تھا ۔ قربان جائیں نبی مکرم ﷺ کی ذات مبارک پر بڑے سے بڑے چیلنجز کا سامنا کیا ، سخت ترین حالات آئے لیکن پیارے آقا ﷺ صبرو استقامت کے ساتھ ، رضائے الہی پر راضی رہتے ہوئے ہر معاملے کو دانشمندانہ انداز میں حل کرتے رہے ۔ ہمارا اس کورس سے اصل مقصود نبی مکرم ﷺ کی اپنی معاشی زندگی کے بارے میں جانناہے ، اس لئے صحابہ کرام علیہم الرضوان یا اس وقت کے معاشی مسائل سے متعلق گفتگو نہیں کی جائے گی ۔

مدینے میں سرکار ﷺ کا قیام

سرکار دوعالم ﷺ جب مدینے پہنچ گئے تو اللہ پاک کے حکم سے حضرت سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر قیام فرمایا ، سات ماہ تقریبا یہ قیام رہا ، سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اور دیگر انصار مسلمانوں نے نبی مکرم ﷺکی اور ہجرت کرکے آنے والے مسلمانوں کی خوب مہمان نوازی کی ، سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے یہاں جب تک نبی پاک ﷺ کا قیام رہا ، سرکار ﷺ کے خورودنوش (کھانے ،پہنے ) کی ذمہ داری آپ رضی اللہ عنہ کے حصے میں ہی رہی البتہ بعض انصاری صحابہ بھی سرکار ﷺ کی خدمت میں کھانا بھجوایا کرتے تھے ۔ دلائل النبوۃ میں موجود ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اس وقت کا ایک روایتی کھانا " طفیشل " نبی پاک ﷺ کے لئے بھجوایا ، حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سرکار ﷺ کو طفیشل بڑی رغبت سے کھاتے ہوئے دیکھا۔ دلائل النبوۃ کی دوسری جلد میں اس کی تفصیل موجود ہے سرکار ﷺ کے لئے حضرت سعد بن عبادہ اور ابو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہما کے گھر سے روزانہ ہی کھانا آتا تھا اور نبی پاک ﷺ کے ساتھ کھانےمیں روزانہ دس سے پندرہ افراد بھی شریک ہوتے تھے ۔

زمانہ میزبانی کے بعد قیام گاہ کا اہتمام

سات مہینے تک سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی میزبانی کے بعد نبی کریم ﷺ کے لئے مستقل ایک قیام گاہ کی تعمیر کا سسلسلہ ہوا ۔ پہلے مسجد نبوی کے لئے جگہ خریدی گئی اور یہ خریدار حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے ۔ پھر نبی کریم ﷺ کے لئے قیام گاہ کی تعمیر عمل میں لائی گئی اس کے لئے زمین کی خریداری اور مکان کی تعمیر اور گھر کا سامان وغیرہ مختلف صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ہدایا اور تحائف سے کیا گیا ۔ اس کے بعد نبی پاک ﷺ نے دو صحابہ کرام کو مکہ المکرمہ بھیجا کہ وہ نبی کریم ﷺ کے گھر والوں حضرت سودہ اور دو شہزادیوں ام کلثوم اور بی بی فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنھن کو لے کر آئیں ۔ (حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے بھی سرکار ﷺ کا ہجرت سے پہلے نکاح ہوچکا تھا البتہ رخصتی ہجرت کے بعد ہوئی تھی ،اس لئے سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے گھر والوں کے ساتھ ہجرت کرکے آئیں ۔) اس کے لئے نبی پاک ﷺ نے ان دو صحابہ کرام کو 500 درہم عطا فرمائے ۔ یہ 500 درہم سرکار ﷺ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ادھار لئے تھے ۔ (طبقات ابن سعد) ابتداء دو حجرے تعمیر کئے گئے ، اس کے بعد نبی کریم ﷺ کے دیگر نکاح ہوئے تو حجرے تعمیر کئے جاتے رہے ۔ صحابہ کرام کے گھروں سے نبی پاک ﷺ کے لئے اور ازواج کے لئے مختلف کھانے اور مشروبات کے تحائف آتے رہتے تھے ۔ اس کے علاوہ نبی کریم ﷺ کی صحابہ کرام اپنے اپنے گھروں پر دعوتیں بھی کیا کرتے تھے اور سرکار ﷺ ان کے یہاں تشریف لے جایا کرتے تھے ۔ معاشی زندگی میں کھانا ، پینا اور مکان ، یہ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ہجرت کے ابتدائی ادوار میں دیکھا جائے تو نبی پاک ﷺ کے لئے مکان اور کھانے ، پینے کی اشیاء کا اہتمام ؛ صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ہدایا و تحائف سے ہوتا رہا ۔ یہاں یہ بات یاد رہے ایسا نہیں تھا کہ نبی پاک ﷺ اور آپ کے اہل عیال کا گزر بسر صحابہ کے بھجوائے ہوئے تحائف پر تھا بلکہ خود سرکارﷺ کی ازواج بھی اپنے گھروں میں کھانا پکاتی تھیں ، مشروبات کا بھی اہتمام ہوتا تھا ۔ بلکہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کی دعوت کا بھی بسا اوقات اہتمام کیا جاتا تھا ۔

اسلامی معیشت کے بنیادی اصول اور جدید طرز معیشت

اسلامی نظام معیشت کے بنیادی اصول اور جدید طرز معیشت

اس کورس کے پہلے مرحلے میں ہم نے اسلامی معیشت کے اصولوں کو قرآن و حدیث کی روشنی میں سمجھا ، اس کے بعد نبی کریم ﷺ کی مکمل زندگی کے معاشی پہلو پر بھی نظر کی ہے ۔ پہلے دور کے مقابلے میں مسلمان تعداد کے اعتبار سے بہت زیادہ ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ اس زمانے میں معاشی لحاظ سے امن و سکون رہا ، ترقی ہوتی رہی حتی کے مسلمان سپر پاور بھی بن گیا ، لیکن اس کے بعد آہستہ آہستہ مسلمان کی معیشت ختم ہوتی گئی ، معاشرتی بگاڑ پیدا ہوتےرہے اور آج مسلمان ظاہری پستی کا شکار ہے ۔ اس مرحلے میں ہم صرف تقابل کرینگے کہ آج کی جدید معیشت میں ایسا کیا ہے مسلمان ترقی نہیں کررہا ۔ اسلامی نظام معیشت اور جدید طرز معیشت کا تقابل : 01۔اسلامی نظام معیشت اللہ اور اس کے رسولﷺآکے حکم پر مبنی ہے ۔ جبکہ جدید طرز معیشت سیکولر نظریات پر مبنی ہے ۔ 02۔ اسلامی نظام معیشت یہ ہے کہ دولت زکوۃ ، صدقات ، اور دیگر ذرائع سے گردش کرتی رہے ۔ جبکہ جدید طرز معیشت دولت صرف سرمایہ دار کے ہاتھوں میں رہے ۔ 03۔ اسلامی نظام معیشت میں سود حرام ہے ، اس کی کسی صورت اجازت نہیں ہے ۔ جبکہ جدید طرز معیشت کی بنیاد ہی سود ہے۔ 04۔ اسلامی نظام معیشت میں دھوکہ، ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری، اور حرام تجارت (جیسے شراب، جوئے) منع ہے۔ جبکہ جدید طرز معیشت میں زیادہ تر کاروباری فیصلے منافع پر مبنی ہوتے ہیں، چاہے اسکے لیے دھوکہ خیانت ہی کا سہارا کیوں نہ لیا جائے۔ 05۔ اسلامی نظام معیشت میں مضاربہ اور مشارکہ جیسے اصولوں کے تحت کاروبار میں منافع اور نقصان کی شراکت ہوتی ہے۔ جبکہ جدید طرز معیشت میں سرمایہ کاری اور قرضے زیادہ تر سودی بنیاد پر دیے جاتے ہیں، بغیر نقصان کی شراکت کے۔ 06۔ اسلامی نظام معیشت کا مقصد صرف دولت کمانا نہیں، بلکہ سماجی بھلائی اور انصاف کو فروغ دینا ہے۔ جبکہ جدید طرز معیشت میں منافع سب سے بڑی ترجیح ہوتی ہے، خواہ انسانی فلاح و بہبود متاثر ہو۔ 07۔اسلامی نظام معیشت میں حلال ذرائع (حلال تجارت، محنت) سے دولت کمانا ضروری ہے۔ جبکہ جدید طرز معیشت میں کئی حرام ذرائع (سود، جوا، حرام کاروبار) بھی جائز سمجھے جاتے ہیں۔ 08۔ اسلامی نظام معیشت میں وعدوں اور معاہدوں کی پاسداری ضروری ہے، ورنہ یہ خیانت کے زمرے میں آتا ہے۔ جبکہ جدید طرز معیشت میں کئی کمپنیاں اور ادارے دھوکہ دہی سے معاہدے توڑتے ہیں۔ 09۔ اسلامی نظام معیشت میں ملازمین کے حقوق، عزت اور محنت کا صلہ دیا جاتا ہے۔ جبکہ جدید طرز معیشت میں زیادہ تر کمپنیاں ملازمین کو صرف منافع کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ 10۔ اسلامی نظام معیشت میںقیمتوں میں اعتدال کا اصول ہے اور مصنوعی مہنگائی کو روکنے کے لیے حکومتی مداخلت کی اجازت ہے۔ جبکہ جدید طرز معیشت میں بڑی کمپنیاں قیمتوں پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیتی ہیں او مصنوعی قلت پیدا کر کے اشیاء قیمتیں بڑھاتی ہیں۔ اس تجزئیے کے ذریعے ہر ذی شعور سمجھ جائے گا کہ آج مسلمان اپنے نبی ﷺ کی سیرت سے کتنا دور چکا ہے ، اسے کس قدر اپنی ترقی کی کوشش کرنی ہے ۔ ۔لہذا کم از کم اتنا ضرور ہو کہ ہم اپنی ذات سے تبدیلی لائے معاشرے میں بھی ان شاء اللہ تبدیلی آجائے گی ۔