
رمضان المبارک کے قیمتی شب و روز گزارنے کے لیے سب سے بہتر طریقہ وہ ہے جو نبی کریم علیہ السلام نے اختیار فرمایا کیونکہ آپ اللہ تعالی کی رضا سے بھی واقف ہیں اور رمضان کی اہمیت سے بھی۔ پھر نبی کریم یم کا یہ فرمان که *إذا سلم رمضان سلمت السنة* یعنی جس کا رمضان اچھا گزرے اس کا مکمل سال اچھا گزرتا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ رمضان کو بہتر طور پر گزارنا کتنا ضروری ہے۔ لہذا اگر ہم رمضان المبارک کو اچھے انداز سے بالخصوص نبی کریم ملی اسلام کے انداز سے گزار لیں تو ان شاء اللہ ہمارا پورا سال ترتیب سے اور خیر و برکت کے ساتھ گزرے گا۔
1122
انرولمنٹس
124
مکمل
4.9
ریٹنگ
رمضان المبارک کے روزے دو ہجری میں فرض ہوئے جس کے بعد تقریبا ۹ مرتبہ آپ علیہ السلام کی زندگی میں رمضان آیا۔لیکن حضور ﷺ کا رمضان سے تعلق اس سے پہلے کا ہے بلکہ اعلان نبوت سے بھی پہلے کا ہے۔ابن اسحق روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اعلان نبوت سے قبل سال میں ایک ماہ کے لیے غار حرا عبادت کے لیے تشریف لے جاتے تھے یہاں تک کہ وہ مہینہ آگیا جس میں اللہ تعالی نے آپ کو اعلان نبوت فرمانے کا حکم دیا تھا اور وہ مہینہ کوئی اور نہیں بلکہ ذالک الشھر شھر رمضان یعنی وہ مہینہ رمضان کا مہینہ تھا۔ نبی کریم ﷺ رمضان المبارک کی آمد سے پہلے رمضان کے لیے خاص تیاریاں (Arrangements) فرماتے جو کہ درج ذیل ہیں: *1۔ رمضان المبارک کے حصول کے لیے دعافرماتے* نبی کریم ﷺ رمضان المبارک سے کتنی محبت فرماتے کہ آپ رجب کے آغاز ہی سے ان کلمات کے ذریعے رمضان کو حاصل کرنے کی دعا شروع فرما دیتے کہ: *اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبٍ وَشَعْبَانَ، وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ۔ * ترجمہ: اے اللہ ہمارے لیے رجب اور شبعان میں برکتیں عطا فرما اور ہمیں رمضان المبارک کا مہینہ عطا فرما۔ *2۔ شعبان سے ہی رمضان کی تیاری فرماتے * نبی کریم ﷺ رمضان کی تیاری کے طور پر شعبان کے مہینے سے ہی عمل میں اضافہ فرما دیتے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں : وَمَا رَأَيْتُهُ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ۔ یعنی جتنے روزے آپ شعبان میں رکھتے میں نے کسی مہینے میں اس سے زیادہ روزے رکھتے آپ کو نہیں دیکھا۔ یعنی جس طرح کسی اہم کام سے قبل اس کی مشق (Practice ) کی جاتی ہے گویا اسی طرح نبی کریم ﷺ بھی رمضان میں عبادات کو اچھی طرح بجا لانے کے شعبان ہی سے اس کی تیاری شروع فرما دیتے۔ اور آپ کو اس کی حاجت ہر گز نہ تھی بلکہ یہ تو امت کی تعلیم کے لیے تھا۔ (الدعاء للطبرانی : 911) (صحیح بخاری: 1868) *3۔ شعبان کا چاند دیکھنے کا خاص اہتمام فرماتے* رمضان کی تیاری کے لیے نبی کریم ﷺ شعبان کے چاند کو دیکھنے کا بھی خاص طور پر اہتمام فرماتے۔ اور نہ صرف خود سے اہتمام فرماتے بلکہ حکم بھی فرماتے کہ شعبان کے چاند کا بھی خیال رکھو کیونکہ رمضان کے چاند کا دارومدار بھی شعبان کےچاند پر ہی ہے۔ سنن ابو داؤد کی روایت میں آتا ہے: *كان رسولُ الله -صلَّى الله عليه وسلم- يتحفظ من شعبانَ ما لا يتحفَّظ مِن غيرهِ۔* یعنی رسول اللہ ﷺ جتنا خیال شبعان کے چاند کا فرماتے اتنا کسی دوسرے مہینے کا نہ فرماتے۔ نبی کریم ﷺ جتنے روزے شعبان میں رکھتے اس سے زیادہ کسی اور مہینے میں نہ رکھتے، اسی طرح جتنا خیال آپ شعبان کے چاند کا رکھتے اتنا کسی دوسرے مہینے کا نہیں رکھتے۔ یہ دونوں روایات بتا رہی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی رمضان کی طرف رغبت غیر معمولی تھی۔
*4۔رمضان سے پہلے خطبہ ارشاد فرماتے * نبی کریم ﷺ رمضان کے لیے کس قدر تیاری فرماتے اس کا اندازہ آپ کے خطبہ رمضان سے لگایا جا سکتا ہے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ماہِ شعبان کے آخری دن ہمیں رمضان کی عظمت و فضیلت سے متعلق خطبہ ارشاد فرمایا جو کچھ یوں ہے: *o أيها الناس قد أظلكم شهر عظيم شهر مبارك* اے لوگو! تمہارے پاس عظیم اور برکت والا مہینا آیا۔ *o شهر فيه ليلة خير من ألف شهر* وہ مہینا جس میں ایک رات ایسی ہے ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ *o جعل الله صيامه فريضة وقيام ليله تطوعا* اس کے روزےاللہ تعالی نے فرض کیے اور اس کی رات میں قیام (سنّت) ہے۔ *o من تقرب فيه بخصلة من الخير كان كمن أدى فريضة فيما سواه، ومن أدى فريضة فيه كان كمن أدى فريضة فيما سواه* جو اِس میں نیکی کا کام کرے تو ایسا ہے جیسے اور کسی مہینے میں فرض ادا کیا اور جس نے اس میں فرض ادا کیا تو ایسا ہے جیسے اور دنوں میں 70 فرض ادا کیے۔ *o وهو شهر الصبر، والصبر ثوابه الجنة وشهر المواساة، وشهر يزاد فيه رزق المؤمن* یہ مہینا صبر کا ہے اور صبرکا ثواب جنت ہے اور یہ مہینا مُؤَاسات(یعنی غمخواری اور بھلائی ) کاہے اور اس مہینے میں مومن کا رزق بڑھایا جا تا ہے۔
*o من فطر فيه صائما كان له مغفرة لذنوبه وعتق رقبته من النار، وكان له مثل أجره من غير أن ينتقص من أجره شيء* جو اِس میں روزہ دار کو افطار کرائے اس کے گناہوں کو معاف کر دیا جائے گا اور اس کو جہنم سے آزاد کر دیا جائے گا اور اِس اِفطار کرانے والے کو ویسا ہی ثواب ملے گا جیسا روزہ رکھنے والے کو ملے گا۔ *o قلنا: يا رسول الله كلنا يجد ما يفطر الصائم فقال رسول الله صلّى الله عليه وسلّم: يعطي الله هذا الثواب من فطر صائما على مذقة لبن أو تمرة أو شربة من ماء، ومن أشبع صائما سقاه الله من حوضي شربة لا يظمأ حتى يدخل الجنة* صحابہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! ہم میں سے ہر شخص استطاعت نہیں رکھتا کہ وہ روزہ افطار کروائے۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالی یہ ثواب تواس شخص کو بھی دے گا جو ایک گھونٹ دودھ یا ایک کھجوریا ایک گھونٹ پانی سے روزہ افطار کروائے اور جس نے روزہ دار کو پیٹ بھر کرکھلایا ، اس کو اللہ تعالی میرے حوض سے پلائے گا کہ کبھی پیاسا نہ ہوگا، یہاں تک کہ جنت میں داخل ہوجائے ۔ *o وهو شهر أوله رحمة وأوسطه مغفرة وآخره عتق من النار* یہ وہ مہینا ہے کہ اِس کا اول (یعنی ابتدائی دس دن ) رحمت ہے اور اس کا اوسط(یعنی درمیانی دس دن ) مغفرت ہے اور آخر ( یعنی آخری دس دن ) جہنَّم سے آزادی ہے۔ *o فاستكثروا فيه من أربع خصال، خصلتان ترضون بها ربكم، وخصلتان لا غنى لكم عنهما* اِس مہینے میں چار باتوں کی کثرت کرو، ان میں سے دو ایسی ہیں جن کے ذریعے تم اپنے ربّ کو راضی کرو گے اور بقیہ دو ایسی ہیں جو تمہارے لیے ضروری ہے *o فأما الخصلتان اللتان ترضون بهما ربكم فشهادة أن لا إله إلا الله وتستغفرونه* پس وہ دو باتیں جن کے ذریعے تم اپنے رب کو راضی کرو گے وہ یہ ہیں : *لَا اِلٰہ اَلَّا اللہُ *کی گواہی دینا اور استغفار کرنا۔ *o وأما اللتان لا غنى لكم عنهما فتسألون الله الجنة وتعوذون به من النار۔ * جبکہ وہ دو باتیں جو تمہارے لیے ضروری ہیں وہ یہ ہیں : اللہ تعالی سے جنت طلب کرنا اور جہنم سےاللہ تعالی کی پناہ طلب کرنا۔ اس خطبہ سےمعلوم ہوتا ہے کہ کس طرح نبی کریم ﷺ رمضان المبارک کی عظمت اور اس کے فضائل بیان فرماتے تا کہ دل اس مبارک مہینے میں عبادت کی طرف زیادہ سے زیادہ راغب ہو۔اس خطبہ رمضان سے حاصل ہونے والے چند اہم عملی نکات یہ ہیں: • روزہ ، تراویح اور دیگر نیک اعمال کی پابندی کرنا • مسلمان بھائیوں کے ساتھ بھلائی کرنا • روزہ داروں کو افطار کروانا • لا الہ الا اللہ کا ورد اور استغفار کی کثرت کرنا • جنت طلب کرنے اور جہنم سے پناہ مانگنے کی دعا کرنا (شعب الایمان: 3608)
رمضان المبارک کی آمد پر نبی کریم ﷺ کیا کیفیت (Feelings) ہوتی؟ اور آپ اس موقع پر کیا اعمال فرماتے؟ذیل میں ہیں: *1۔ رمضان المبارک کا چاند دیکھ کر خاص دعا پڑھنا* حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ: *كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى هِلَالَ رَمَضَانَ قَالَ: هِلَالُ خَيْرٍ وَرُشْدٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ آمَنْتُ بِالَّذِي خَلَقَكَ۔ * ترجمہ: جب نبی کریم ﷺ رمضان المبارک کا چاند دیکھتے تو آپ فرماتے: بھلائی اور ہدایت کا چاند (یہ آپ تین مرتبہ فرماتے)، میں اس ذات پر ایمان لایا جس نے تجھے تخلیق فرمایا۔ *2۔ رمضان المبارک کو خوش آمدید کہنا* نبی کریم ﷺ رمضان المبارک کے آنے پر خوشی کا اظہار فرماتے اور رمضان کا استقبال کرتے ہوئے اسے خوش آمدید کہتے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رمضان کی آمد کے موقع پر آپ فرماتے: *أَتَاكُمْ شَهْرُ رَمَضَانُ، أَتَاكُمْ سَيِّدُ الشُّهُورِ، فَمَرْحَبًا وَأَهْلا بِشَهْرِ مَصَحَّةٍ وَأَجْرٍ وَخَيْرٍ، وَهُوَ شَهْرُ الصَّبْرِ، تُغَلُّ فِيهِ الشَّيَاطِينُ، وَتَنْزِلُ فِيهِ الرَّحْمَةُ ، وَتُبْسَطُ فِيهِ التَّوْبَةُ، وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ النَّارِ، وَتُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ۔* ترجمہ:لوگوں تمہارے پاس رمضان کا مہینہ آیا، مہینوں کا سردار آیا، ہم ایسے مہینے کو خوش آمدید کہتے ہیں جو اصلاح کرنے والا ہے، اجر و خیر والا ہے، یہ صبر کا مہینہ ہے، اس میں شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے، اس میں رحمتوں کا نزول ہوتا ہے، اس مہینے میں توبہ کو قبول کیا جاتا ہے، اس میں جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ (الدعاء للطبرانی : 906) (جزء بانتخاب ابی طاهر: 19)
*3۔ رمضان المبارک کے آغاز پر خاص دعا فرمانا* رمضان المبارک کی ساعات کس قدر اہمیت کی حامل ہیں، اس کا اندازہ نبی کریم ﷺ کی اس دعا سے ہوتا ہے کہ جب رمضان کا آغاز ہوتا تو آپ اپنے رب کے حضور یہ خاص دعا فرماتے کہ : *اللَّهُمَّ سَلِّمْنِي لِرَمَضَانَ، وَسَلِّمْ رَمَضَانَ لِي، وَتَسَلَّمْهُ مِنِّي مُتَقَبَّلًا۔* ترجمہ: اے اللہ مجھے رمضان کے لیے اور رمضان کو میرے لیے سلامت رکھ، اور اس میری اس مہینے کی عبادات کو قبول فرما۔ یعنی اس مہینے عبادات کی کثرت کی خاطر نبی کریم ﷺ اپنے رب سے خاص طور پر صحت و تندرستی کا سوال کرتے اور اس دعا میں امت کے لیے بھی یہ تعلیم ہے کہ رمضان میں زیادہ سے زیادہ عبادات کی جائیں۔ *4۔ صحابہ کرام کو رمضان المبارک کی مبارکباد دینا* جب رمضان المبارک کا آغاز ہوتا تو نبی کریم ﷺ کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو ان الفاظ کے ساتھ مبارکباد دیتے: أَتَاكُمْ رَمَضَانُ شَهْرٌ مُبَارَكٌ، فَرَضَ اللهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ، تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ، وَتُغَلُّ فِيهِ مَرَدَةُ الشَّيَاطِينِ، لِلهِ فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ۔ ترجمہ: اے صحابہ تمہارے پاس رمضان کا برکت والا مہینہ آیا ہے ، اللہ تعالی نے اس کے روزے تم پر فرض فرمائے ہیں، اس مہینے میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ،جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو باندھ دیا جاتا ہے۔اللہ کی قسم اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ، جو اس کی بھلائیوں سے محروم رہا تو پس وہ محروم رہا۔ اس حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان المبارک کی آمد پر مبارکباد بھی دینی چاہیے۔ (الدعاء للطبرانی : 913) (سنن نسائی : 2106)
*5۔ رمضان المبارک کی آمد پر محتاط ہونا* نبی کریم ﷺ رمضان المبارک کی ہر ساعت کو بہت قیمتی سمجھتے لہذا اس مہینے حق اللہ کی ادائیگی میں ادنی سی کمی کو بھی آپ نا پسند فرماتے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں: *كَانَ إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ تَغَيَّرَ لَوْنُهُ۔* ترجمہ: جب رمضان المبارک کا آغاز ہوتا تو نبی کریم ﷺ کے چہرہ مبارکہ کا رنگ تبدیل (سرخ) ہوجاتا۔ اور اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ نبی کریم ﷺ اس چیز سے خوف محسوس فرماتے کہ اس مہینے میں کوئی ایسی صورتحال نہ پیش آجائے جس کی وجہ سے میں اللہ تعالیٰ کا کوئی حق ادا نہ کر سکوں۔ ایک طرف نبی کریم ﷺ کا رمضان کو لے کر یہ رویہ ہے کہ آپ محتاط ہوجاتے کہ اللہ تعالی کے حق میں کوئی کمی یا کوتاہی نہ ہو جائے جبکہ آپ کی ذات سے تو یہ تصور بھی محال ہے۔ اور ایک طرف ہم ہیں جو رمضان کی مبارک ساعتیں بھی غفلت میں گزارد یتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کے اس ادا میں ہمارے لیے یہ سبق ہے کہ رمضان کی ہر ایک ساعت میں عبادتِ الہی کی نذر کی جائے۔
رمضان المبارک کے وہ خاص معمولات جنہیں نبی کریم ﷺ پورا رمضان مستقل طور پر بجا لاتے، درج ذیل ہیں: *1۔ تلاوتِ قرآن کا اہتمام اور کثرت* رمضان اور قرآن پاک کا تعلق بہت گہرا ہے کیونکہ قرآن پاک کا نزول اسی مہینے میں ہوا۔ گو کہ نبی کریم ﷺ پورا سال ہی قرآن پاک کی تلاوت فرماتے لیکن رمضان المبارک کے مہینے میں آپ اس کا اہتمام اور کثرت فرماتے۔حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں : *كان جبريل يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ۔* ترجمہ: حضرت جبریل علیہ السلام رمضان کی راتوں میں نبی کریم ﷺ کے پاس تشریف لاتے تو آپ ان سے قرآن پاک کا دور فرماتے یعنی انہیں قرآن پاک سناتے اور ان سے سنتے۔ اس حدیث پاک سے اندازہ ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ رمضان المبارک میں تلاوتِ قرآن کا کس قدر اہتمام فرماتے کہ جبریل امین ہر رات آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور آپ نہ صرف انہیں قرآن سناتے بلکہ ان سے بھی سنتے۔ اور جس سال آپ نے اس دنیا سے پردہ فرمایا اس سال آپ نے دو مرتبہ دور فرمایا۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں: *إن جبريل كان يعارضني القرآن كل سنة مرة، وإنه عارضني العام مرتين، ولا أراه إلا حضر أجلي۔ * ترجمہ: جبریل ہر سال مجھ سے ایک مرتبہ قرآن پاک کا دور کرتے اور اس سال انہوں نے دو مرتبہ دور کیا، جس سے میں یہ سمجھا ہوں کہ میرے وصال کا وقت قریب ہے۔ (صحیح بخاری: 3048) (صحیح بخاری: 3426)
*2۔ صدقہ وخیرات کی کثرت* نبی کریم ﷺ سب سے بڑھ کر سخی ہیں ۔اور رمضان المبارک میں آپ کی سخاوت میں اور بھی اضافہ ہوجاتا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں: *فَلَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حين يلقاه جبريل أجود بالخير من الريح المرسلة۔ * ترجمہ: رمضان المبارک میں جب جبریل امین آپ کے پاس ہر رات حاضر ہوتے تو ( آپ کی سخاوت میں اضافہ ہو جاتااور) آپ تیز ہوا سے بھی زیادہ تیزی سے اللہ کی راہ میں مال خرچ فرماتے ۔ سنن ترمذی کی روایت میں آتا ہے کہ جب نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سا صدقہ افضل ہے؟ تو آپ نے فرمایا:*صَدَقَةٌ فِي رَمَضَانَ۔ * یعنی وہ صدقہ جو رمضان میں کیا جائے۔ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ رمضان المبارک میں نبی کریم ﷺ نے نہ صرف خود کثرت سے صدقہ و خیرات فرمایا بلکہ امت کو اس کی ترغیب بھی دلائی۔ *3۔ دعاؤں کی کثرت* دعا ایسی اہم عبادت ہے جس کے ذریعے بندے کا رب سے تعلق مضبوط ہوتا ہے۔ لیکن آج ہماری اکثریت اسے اہمیت نہیں دیتی۔ رمضان المبارک میں نبی کریم ﷺ کے خاص معمولات میں سے ایک دعا بھی ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رمضان المبارک کا مہینہ آتا تو *اِبْتَهَلَ فِي الدُّعاءِ * یعنی آپ دعاؤں میں زیادہ عاجزی اور کثرت فرماتے۔ (صحیح بخاری : 3048) (سنن ترمذی: 663) (جامع الصغیر: 9877)
اس حدیث میں واضح طور پر رمضان المبارک میں دعا کی کثرت کا ذکر ہے۔ مزید یہ کہ اگرنبی کریم ﷺ کے ابتدائے رمضان سے انتہائے رمضان تک کے معمولات کو دیکھا جائے تو ہمیں ہر جگہ دعا ہی نظر آتی ہے۔ رمضان کے آنے سے قبل بھی آپ دعا فرما رہے ہیں، رمضان کے آغاز پر بھی آپ دعا فرما رہے ہیں، خطبہ رمضان میں بھی آپ دعا کی تلقین فرما رہے ہیں، آخری عشرے کا خاص عمل جو آپ نے امت کو دیا وہ بھی دعا ہے اور افطار کے وقت بھی آپ امت کو دعا کی تعلیم فرما رہے ہیں۔ *4۔ قیام اللیل کا اہتمام اور ترغیب* چوتھا عمل جو رمضان المبارک میں نبی کریم ﷺ مستقل فرماتے وہ ہے قیام اللیل یعنی نمازِ تراویح۔آپ رمضان کی راتوں میں 20 رکعات قیام اللیل (نمازِ تراویح) کا اہتمام فرماتے۔ حضرب عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ : *أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم كان يصلي في رمضان عشرين ركعة والوتر۔* ترجمہ: رسول اللہ ﷺ رمضان کی راتوں میں بیس رکعات اور وتر ادا فرماتے۔ نبی کریم ﷺ نے قیام اللیل کی ترغیب دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا: *مَنْ قَامَ رَمَضَانَ، إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غفر له ما تقدم من ذنبه۔* ترجمہ: جس نے رمضان کی راتوں میں ایمان کے ساتھ اور ثواب اور اللہ تعالی کی رَضا حاصل کرنے کے لیے قیام کیا تو اس کے پچھلے تمام صغیرہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ ترایح کی نماز بیس رکعات ہیں اور یہ سنت مؤکدہ ہے یعنی اس کو ادا کرنا ضروری ہے۔ مذکورہ حدیث کے علاوہ دیگر دلائل سے بھی یہ بات ثابت ہے۔ صحابہ کرام، تابعین، اکابر آئمہ اور ہر زمانے کے علمائے کرام کا اسی پر تعامل رہا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ: 7902) (صحیح بخاری: 37)
عبادات کے علاوہ رمضان المبارک سے متعلق نبی کریم ﷺ کے چند معمولات درج ذیل ہیں: *1۔روزے میں مسواک فرماتے* مسواک منہ کی نظافت و طہارت حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہےاور نبی کریم ﷺ کی ایک اہم سنت ہے جسے آپ نے روزے کے دوران بھی اختیار فرمایا۔ عبد اللہ بن عامر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو روزے کی حالت میں مسواک فرماتے ہوئے دیکھا۔ اور نبی کریم ﷺ نے نہ صرف خود روزے کی حالت میں مسواک کی بلکہ اس کی ترغیب بھی دی۔ آپ فرماتے ہیں: *مِنْ خَيْرِ خِصَالِ الصَّائِمِ السِّوَاكُ۔* ترجمہ: روزہ دار کی بہترین عادت مسواک کرنا ہے۔ *2۔ روزے میں ٹھنڈک حاصل فرماتے* روزے کی حالت میں نبی کریم ﷺ کا ایک پیارا طرز ِ عمل یہ بھی تھا کہ گرمی یا پیاس کے باعث آپ ٹھنڈک حال کرنے کے لیے اپنے سر پر پانی ڈالتے۔ ایک صحابی رسول بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے لیے جاتے ہوئے راستے میں نبی کریم ﷺ نے اپنے اصحاب کو روزہ کھولنے کا حکم دے دیا (یعنی روزہ توڑنے کا) لیکن نبی کریم ﷺ نےخود روزہ رکھا۔ اورراستے میں عرج کے مقام پر میں نے دیکھا کہ: *يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ، وَهُوَ صَائِمٌ مِنَ الْعَطَشِ، أَوْ مِنَ الْحَرِّ۔ * ترجمہ: گرمی یا پیاس کی وجہ سے نبی کریم ﷺ اپنے سر اقدس پر پانی ڈال رہے ہیں گرمیوں کے موسم میں عموما لوگ یہ عمل کرتے ہیں لہذا اب جب بھی یہ عمل کیا جائے تو نبی کریم ﷺ کی اس ادا کو بھی یاد کر لیا جائے۔ (سنن ابو داؤد: 2364) (سنن ابن ماجہ: 1677) (سنن ابو داؤد: 2365)
*3۔قیدیوں کو آزاد فرماتے* حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما روایت کرتے ہیں: *كان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - إذا دخل شهر رمضان أطلق كل أسير۔ * ترجمہ: جب رمضان کا مہینہ آتا تو نبی کریم ﷺ ہر قیدی کو آزاد فرماتے۔ اسی طرح خطبہ رمضان سے متعلق صحیح ابن خزیمہ کی روایت میں یہ الفاظ بھی موجود ہیں کہ: *مَنْ خَفَّفَ عَنْ مَمْلُوكِهِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ، وَأَعْتَقَهُ مِنَ النَّارِ۔* یعنی جو اس مہینے اپنے غلام پر کام میں تخفیف اور نرمی کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دے گا اور اسے جہنم سے آزاد فرما دے گا۔ آج کے دور میں غلام تو نہیں پائے جاتے لیکن ماتحت کام کرنے والے افراد ضرور ہوتے ہیں لہذا اس حدیث کی روشنی میں چاہیے کہ رمضان کے مہینے میں ما تحت کام کرنے والے افراد پر کام کا زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے اور انہیں کسی نا کسی طرح آسانی اور تخفیف دی جائے ۔ جیسے کام کا دورانیہ کم کر دیا جائے وغیرہ۔ (شعب الایمان: 3357) (صحیح ابن خزیمہ: 1887)
روزہ اسلام کا تیسرا بنیادی اور اہم رکن ہے اور یہ رمضان المبارک کی سب سے اہم عبادت ہے لہذا ضروری ہے کہ نبی کریم ﷺ کی روزے سے متعلق تعلیمات کو جانا جائے تا کہ روزے کے ثمرات و برکات کامل طور پر حاصل ہوں۔اس ضمن میں تین احادیث درج ذیل ہیں: 1. سنن نسائی کی حدیث ہے نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں : *الصَّوْمُ جُنَّةٌ مَا لَمْ يَخْرِقْهَا۔ *یعنی روزہ آدمی کے لیے ڈھال کا کام دیتا ہے جبکہ وہ اسے پھاڑ نہ ڈالے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی غیبت نہ کرے۔ 2. صحیح بخاری کی حدیث ہے آپ فرماتے ہیں: *وَإِنِ امْرُؤٌ قَاتَلَهُ أَوْ شَاتَمَهُ، فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ۔ *یعنی اگر کوئی روزہ دار سے روزے کی حالت میں جھگڑا کرے یا گالی دے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے بس اتنا جواب دے کہ میں روزے سے ہوں۔ 3. صحیح بخاری کی ایک اور حدیث میں آپ فرماتے ہیں: *مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وشرابه۔* یعنی جو بری بات کہنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ پاک کو اس کی کچھ حاجت نہیں کہ اس نے کھانا پینا چھوڑ دیا۔ ان تینوں احادیث میں یہ بات مشترک (common) ہے کہ زبان کی حفاظت کی جائے۔ روزے کی حالت میں نہ غیبت کی جائے، نہ زبان سے لڑائی جھگڑا کیا جائے، نہ گالی دی جائے اور نہ ہی کوئی اور بری بات کی جائے۔ یعنی ان تینوں احادیث میں نبی کریم ﷺ سے روزے کا یہ ادب بیان فرما رہے ہیں کہ اس عبادت میں اپنی زبان پر خاص طور پر قابو رکھنا ہے۔ اور جب زبان پر قابو رکھنے یعنی کوئی بری بات نہ کہنے پر اس قدر زور ہے تو اندازہ کیجیے کہ کوئی برا عمل کرنا کس قدر مذموم ہوگا۔ لہذا روزے میں جہاں ہم پیٹ پر قابو رکھتے ہیں وہیں بالخصوص زبان پر اور جسم کے دیگر اعضاء پر قابو رکھنا بھی بہت زیادہ ضروری ہے ورنہ روزے کی حلاوت نصیب نہیں ہوگی۔ (سنن نسائی: 2233) (صحیح بخاری: 1795) (صحیح بخاری: 1804)
قرآن پاک میں اللہ تعالی نے تقوی کے حصول کو روزے کا مقصد قرار دیا ہے۔ تقوی کہتے ہیں فرائض کو بجالانا اور حرام اسے اجتناب کرنا۔ روزہ تقوی اس طرح پیدا کرتا ہے کہ روزے میں ایک بندہ مؤمن اللہ تعالی کے حکم سے حرام کے ساتھ ساتھ حلال (کھانے پینے وغیرہ)سے بھی بچتا ہے تو روزہ بندے کو یہ احساس دلاتا ہے کہ جس رب کے حکم پر آج ہم ایک محدود وقت کے لیے حلال کو بھی ترک رہے ہیں اسی رب کے حکم پر ہم نے ہمیشہ کے لیے بس حرام سے بچے رہنا ہے۔ تو یوں روزے میں حلال سے رکنے کی بھی قوت پیدا ہوجاتی ہے جو حرام سے بچنے میں معاون و مددگار ثابت ہوتی ہے اور تقوی حاصل ہوتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص روزے میں بھی برائیوں سے نہ بچ سکے، روزےمیں بھی حرام کاموں میں مبتلا رہے تو اس کا حلال (کھانے پینے وغیرہ) سے بچنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس کا فرض تو ادا ہوجائے گا لیکن جو روزہ کا مقصد ہے وہ اسے نہیں پا سکے گا۔
روزہ رمضان المبارک کی سب سے اہم عبادت ہے اور روزہ کا نکتہ آغاز ہے سحری۔ سحری محض کھانے پینے کا نام نہیں ہےبلکہ یہ ایک بہت مبارک عمل ہے کیونکہ اس کے ذریعے ایک اہم فریضے کی ابتداء ہوتی ہے۔ *1۔ سحری کی فضیلت* نبی کریم ﷺ نے سحری کو * "الغداء المبارک"* یعنی صبح کی بابرکت غذا قرار دیا ہے۔ *2۔ سحری کی اہمیت* حضرت عمر بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا:*فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السَّحَرِ ۔ * ترجمہ: ہمارے اور اہلِ کتاب کے روزے کے درمیان سحری تناول کرنے کا فرق ہے۔ *3۔ سحری کی ترغیب* ایک صحابی رسول بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور اس وقت آپ سحری فرما رہے تھےتو آپ نے فرمایا :*إِنَّهَا بَرَكَةٌ أَعْطَاكُمُ اللهُ إِيَّاهَا فَلَا تَدَعُوهُ۔* ترجمہ: سحری سراپا برکت ہے اللہ تعالی نے یہ خصوصا تمہیں عطا فرمائی ہے لہذا اسے نہ چھوڑا کرو۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ: *السَّحُورُ أَكْلُهُ بَرَكَةٌ، فَلَا تَدَعُوهُ، وَلَوْ أَنْ يَجْرَعَ أَحَدُكُمْ جُرْعَةً مِنْ مَاءٍ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الْمُتَسَحِّرِينَ۔ * ترجمہ: سحری پوری کی پوری برکت ہے پس تم اسے نہ چھوڑو چاہے یہی ہو کہ تم پانی کا ایک گھونٹ پی لو۔ بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے سحری کرنے والوں پر رحمت بھیجتے ہیں ۔ اندازہ کیجیے کہ سحری کس قدر اہمیت ہے کہ ایک گھونٹ پانی سے ہی سہی لیکن سحری کی جائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ تعالی کے فرشتے سحری کرنے والوں پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر سحری کے روزہ رکھنا کمال نہیں ہے بلکہ سحری کرنا اصل کمال ہے۔ (سنن ابو داؤد: 2344) ( صحیح مسلم: 1096) (سنن نسائی: 2162) (مسند احمد: 11086)
*4۔ سحری کا فائدہ* نبی کریم ﷺ نے جہاں سحری کرنے کی اہمیت اور ترغیب ارشاد فرمائی وہیں سحری کا ظاہری فائدہ بھی بیان فرمایا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:*اسْتَعِينُوا بِطَعَامِ السَّحَرِ عَلَى صِيَامِ النَّهَارِ، وَبِقَيْلُولَةِ النَّهَارِ عَلَى قِيَامِ اللَّيْلِ۔* ترجمہ: روزہ رکھنے کیلئے سحری کھا کر قوت حاصل کرو اوردن میں قیلولہ (یعنی آرام) کرکے رات کی عبادت کیلئے طاقت حاصل کرو۔ *5۔ سحری میں تاخیر* نبی کریم ﷺ سحری تاخیر سے فرماتے اور آپ نے امت کو بھی سحری تاخیر سے کرنے کا حکم دیا۔ حجرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت زیدبن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت زید نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ سحری کی پھر وہ آپ کے ساتھ نماز کے لیے چل دیے ۔ حضرت انس سے پوچھا گیا کہ ان کی سحری اور نماز میں کتنا وقفہ تھا تو آپ نے فرمایاپچاس آیت کی تلاوت کی مقدار کے برابر۔ یعنی اس میں اشارہ ہے کہ آپ نے سحری تاخیر سے فرمائی۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ نے حکم فرمایا: *تَسَحَّرُوا مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ۔* یعنی سحری رات کے آخری حصے میں کرو۔سحری میں تاخیر کا حکم دینے میں یہ حکمت بھی نظر آتی ہے کہ جتنی تاخیر سے سحری ہوگی بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا دورانیہ اتنا ہی کم ہوگا۔ *6۔ سحری میں کھجور تناول فرماتے* حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سحری کے وقت نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر تھا کہ آپ نے مجھ سے فرمایا کہ اے انس میرا روزہ رکھنے کا ارادہ ہے لہذا کچھ کھانے کے لیے لے آؤ۔ حضرت انس کہتے ہیں کہ میں نے کچھ کھجوریں اور پانی آپ کی خدمت میں پیش کیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ آپ نے کھجور کو بہترین سحری قرار دیا۔ آپ فرماتے ہیں:* نِعْمَ سَحُورُ الْمُؤْمِنِ التَّمْرُ۔* یعنی مؤمن کے لیے بہترین سحری کھجور ہے۔ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مطابق *رُبَّمَا لَمْ يَكُنْ إِلا تَمْرَتَيْنِ* یعنی نبی کریم ﷺ کی سحری اکثر صرف دو کھجوروں پر مشتمل ہوتی۔ نبی کریم ﷺ کی سحری کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ آپ: • سحری اہتمام سے فرماتے ۔ • سحری میں تاخیر فرماتے۔ • سحری کھجور سے فرماتے۔ • زیادہ تر دو کھجور تناول فرماتے۔ (المستدرک علی الحاکم: 1551) (صحیح مسلم: 1097) (معجم الکبیر: 322) (سنن الکبری: 2488) (صحیح ابن حبان: 1720) (مسند ابو یعلی: 4679)
افطاری روزے کی تکمیل کرتی ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ افطاری کے بھی آداب جانے جائیں۔ *1۔ افطار میں تعجیل* حضرت عبد اللہ بن ابو اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ سفر کیارمضان کے مہینے میں سفر، جب سورج غروب ہوگیا تو آپ نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: اے بلال سواری سے اترو اور ہمارے لیے ستو تیار کرو۔ حضرت بلال نے عرض کیا یا رسول اللہ ابھی تو دن باقی ہے تو آپ نے پھر فرمایا: اے بلال سواری سے اترو اور ہمارے لیے ستو تیار کرو۔ تو وہ اترے ستو تیار کیا اور نبی کریم ﷺ نے اسے پیا۔ پھر آپ نے فرمایا: *إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَا هُنَا، وَجَاءَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ۔* ترجمہ:جب ادھر سے سورج غروب ہوجائے اور ادھر سے رات آجائے تو روزہ دار افطار کر لے۔ اس حدیث سے اندازہ ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کو جیسے ہی سورج غروب ہونے کا علم ہوتا آپ فورا افطار فرما لیتے اور تاخیر نہیں فرماتے۔ آپ کا یہ عمل امت کے لیے بھی نمونہ ہے بلکہ آپ نے یہاں تک فرمایا:*لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الفطر۔ *یعنی جب تک لوگ افطار میں تعجیل (جلدی) کریں گے تب تک لوگ خیر کے ساتھ رہیں گے۔ 2۔ افطار کے وقت دعا افطار کا روزہ دار کے لیے بہت خاص ہے اور یہ وقت دعاؤں کی قبولیت کا وقت ہے۔ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں: *إِنَّ لِلصَّائِمِ عِنْدَ فِطْرِهِ لَدَعْوَةً مَا تُرَدُّ۔* یعنی افطار کے وقت روزہ دار کی دعا ردّ نہیں کی جاتی۔ لہذا نبی کریم ﷺ کا خود بھی یہ معمول تھا کہ آپ افطار کے وقت دعا فرماتے اور وہ یہ دعا یہ ہے: *اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ، وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ۔* ترجمہ: اے اللہ میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے ہی عطا کردہ رزق سے افطار کیا۔ یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ افطار کی دعا افطار کے بعد کرنی چاہیے۔ (صحیح مسلم: 1101) (صحیح بخاری: 1856) (سنن ابن ماجہ:1753) (سنن ابو داؤد: 2358)
*3۔ دعوتِ افطار میں شرکت* حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کی نبی کریم ﷺ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےیہاں تشریف لے گئے تو وہ آپ کے لیے روٹی اور زیتون لائے تو نبی کریم ﷺ نےا سے کھایا۔ پھر آپ نے ان سے فرمایا : تمہارے یہاں روزہ داروں نے افطارکیا، نیک لوگوں نے تمہارا کھانا کھایا اور تم پر ملائکہ نے رحمت نازل فرمائی۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ افطار کی دعوت بھی قبول فرماتے تھے۔ *4۔ نبی کریم ﷺ کی افطاری* نبی کریم ﷺ افطار میں کیا پسند فرماتے ، اس حوالے سے ہمیں مختلف روایات میں چند چیزیں ملتی ہیں جو کہ درج ذیل ہیں: 1. حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں : *كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى رُطَبَاتٍ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ رُطَبَاتٌ فَتُمَيْرَاتٌ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تُمَيْرَاتٌ حَسَا حَسَوَاتٍ مِنْ مَاءٍ۔* ترجمہ: نبی کریم ﷺ نماز سے پہلے تر کھجوروں سے روزہ افطار فرماتے، تر کھجوریں نہ ہوتیں تو چند خشک کھجوروں سے اور اگر یہ بھی نہ ہوتیں تو چند چلّو پانی پیتے۔ 2. ایک روایت میں آتا ہے : *كان يستحب إذا أفطر أن يفطر على لبن۔ * ترجمہ: نبی کریم ﷺ دودھ کے ساتھ افطار کرنا پسند فرماتے۔ 3. *كانَ يُحِبُّ أَنْ يُفْطِرَ عَلَى ثَلَاثِ تَمَرَاتٍ أَوْ شَيْءٍ لَمْ تُصِبْهُ النَّارُ۔ * ترجمہ: نبی کریم تین کھجوروں کے ساتھ افطار پسند فرماتے اور افطار میں ایسی چیز پسند فرماتے جو آگ کے ذریعے نہ پکی ہو۔ نبی کریم ﷺ کی افطاری کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ آپ: • افطار جلدی فرماتے۔ • افطار کے بعد دعا فرماتے۔ • افطار کی دعوت قبول فرماتے۔ • زیادہ تر افطار کھجور اور پانی سے فرماتے۔ (سنن ابو داؤد: 3854) (سنن ترمذی : 696) (کنز العمال: 18075) (جامع الصغیر: 10013)
رمضان المبارک کا پورا مہینہ ہی خاص ہے لیکن اس کا آخری عشرہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ نبی کریم ﷺ کے آخرے عشرے سے متعلق کچھ منفرد معمولات درج ذیل ہیں: *1۔ آخری عشرے میں بہت زیادہ عبادت فرماتے* نبی کریم ﷺ یوں تو سارا سال ہی عبادت و ریاضت میں مشغول رہتے لیکن رمضان المبارک اوربالخصوص اس کے آخری عشرے میں بہت زیادہ عبادت فرماتے۔ روایات میں یہاں تک آتا ہے کہ آخری عشرے میں آپ عبادت کے لیے کمر کس لیتے یعنی بہت زیادہ عبادت فرماتے۔صحیح مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ : *كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، مَا لَا يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ۔ * ترجمہ: رسول اللہ ﷺ آخری عشرے میں جنتی عبادت فرماتے، اتنی اور دنوں میں نہ فرماتے۔ *2۔ آخری عشرے میں پوری رات جاگتے اورگھر والوں کو بھی جگاتے* آخری عشرے کے معمولات سے متعلق نبی کریم ﷺ کا ایک بڑا دلچسپ طریقہ ملتا ہے کہ آپ آخری عشرے میں جہاں خود پوری رات جاگتے وہیں اپنے اہلِ خانہ کوبھی جگاتے۔ صحیح مسلم ہی کی روایت ہے :*كَانَ رسول الله صلى الله عليه وسلم، إذا دَخَلَ الْعَشْرُ، أَحْيَا اللَّيْلَ وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ وَجَدَّ وشد المئزر۔* ترجمہ: جب رمضان المبارک کا آخری عشرہ آتا تو نبی کریم ﷺ پوری رات جاگتے اور اپنے اہلِ خانہ کو بھی جگاتے اور آپ عبادت کے لیے کمر کس لیتے۔ (صحیح مسلم: 1175) (صحیح مسلم: 1174)
نبی کریم ﷺ کے اس عمل میں ہمارے لیے بھی یہ سبق ہے کہ ہم بھی آخری عشرے میں اپنے گھر والوں کو عبادت کی طرف راغب کریں اور اپنا بھی زیادہ سے زیادہ وقت عبادت میں صرف کریں۔ *3۔ شبِ قدر کو تلاش فرماتے* رمضان المبارک کا آخری عشرہ سب سے خاص ہے اور اسی عشرے میں شبِ قدر بھی ہے جس میں قرآن پاک کا نزول ہوااور قرآن پاک کی نص کے مطابق شب ِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔یہ رات چونکہ قدر والی رات ہے اسی لیے اسے تلاش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔نبی کریم ﷺ نے اس رات کو آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرنے کا حکم دیا۔ بلکہ آپ نے خود بھی اس رات کو تلاش فرمایا ۔آپ فرماتے ہیں: *إِنِّي اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الْأَوَّلَ. أَلْتَمِسُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ. ثُمَّ اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ. ثُمَّ أُتِيتُ. فَقِيلَ لِي: إِنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ۔* ترجمہ: میں نے پہلے عشرے کا اعتکاف کیا تا کہ لیلۃ القدر کو حاصل کر سکوں۔ پھر دوسرے عشرے کا اعتکاف کیا۔ پھر مجھے بتایا گیا کہ وہ آخری عشرے میں ہے۔ یعنی شب قدر کی تلاش کے لیے آپ نے اعتکاف فرمایا اور گویا اعتکاف کا مقصد ہی شبِ قدر کی تلاش قرار دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں بھی آخری عشرے میں شب قدر کی تلاش کے لیے کوشاں رہنا چاہیے اور ہو سکے تو اعتکاف کے ذریعے اس مبارک رات کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے۔ *4۔ اعتکاف فرماتے* رمضان المبارک کے آخری عشرے کی سب سے خاص عبادت اعتکاف ہے اور نبی کریم ﷺ ہر سال اعتکاف فرماتے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما روایت کرتے ہیں: *كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ۔* ترجمہ: نبی کریم ﷺ رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری : 1931) (صحیح مسلم: 1167)
اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: *أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثم اعتكف أزواجه من بعده۔ * ترجمہ: نبی کریم ﷺ اپنے وصال تک رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف فرماتے رہے ، پھر اس کے بعد آپ کی ازواج بھی اعتکاف فرماتی۔ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: *وكان يعتكف كل عام عشرا، فاعتكف عشرين في العام الذي قبض فيه۔ * ترجمہ: نبی کریم ﷺ ہر سال آخری عشرے کا اعتکاف فرماتے اور جس سال آپ نے وصال فرمایا اس سال آپ نے دو عشروں کا اعتکاف فرمایا۔ ان احادیث سے بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ اعتکاف کس قدر اہم عبادت ہے کہ نبی کریم ﷺ ہر سال پابندی کے ساتھ فرماتے۔ *5۔ لیلۃ القدر میں قیام اور دعا فرماتے* لیلۃ القدر چونکہ بہت خاص رات ہے لہذا یہ جاننا بھی بے حد ضروری ہے کہ نبی کریم ﷺ یہ رات کیسے گزارتے اور آپ نے یہ رات کس طرح گزارنے کا حکم فرمایا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ اگر میں لیلۃ القدر کو پالوں تو اس میں کیا پڑھوں ؟ تو آپ نے فرمایا کہ اس طرح اللہ تعالیٰ سے دعا کیا کرو *اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي۔ * ترجمہ: اے اللہ تو معاف فرمانے والا ہے، معافی کو پسند فرماتا ہے پس مجھے معاف فرما۔ معلوم ہوا کہ یہ دعا شب قدر کا بہت خاص عمل ہے۔ اور شب قدر کا دوسرا خاص عمل قیام اللیل ہے ۔آپ فرماتے ہیں: *مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ۔* یعنی جس نے لیلۃ القدر میں ایمان کے ساتھ اور اپنا احتساب کرتے ہوئے قیام (عبادت)کیا اس کے پچھلے گناہ معاف ہوجائیں گے۔ (صحیح بخاری: 1921) (صحیح بخاری: 1922) (صحیح بخاری: 4712) (سنن ترمذی : 3513) (صحیح بخاری: 1802)