
اسمائے مصطفٰی کورس
119
انرولمنٹس
30
مکمل
4.2
ریٹنگ
اللہ پاک نے ہمارے پیارے آقا ﷺ کو جو عظمتیں عطا فرمائی ہیں، ان کو احاطہ قلم میں لانا مشکل امر ہے۔ آپ ﷺ کے نامِ مبارک کی عظمت و شان یہ ہے کہ وہ عرش و کرسی پر لکھا ہوا ہے، سِدْرَۃُ المُنتہیٰ اور جنّتی درختوں کے پتّوں پر نقش ہے، جنّت کے محلّات پر کندہ ہے، بلکہ شانِ مصطفی تو ایسی ہے کہ ان اشیاء کو جو عظمتیں ملی وہ سرکار ﷺ کے نام مبارک کے طفیل ملی۔ تمام انبیا و رسول علیھم الصلوٰۃ والسلام آپ کا ذکر کرتے رہے، آپ ﷺ پر ایمان لانے کا اپنی اپنی امت سے وعدہ لیتے رہے۔ ہر آسمانی کتاب میں آپ ﷺ کا ذکر موجود ہے۔
سوانح نگاری کی دنیا میں سب سے زیادہ کتابیں آپ ﷺ کی سیرت پر لکھی گئیں، بیانِ فضائل میں دنیا میں سب سے زیادہ کتابیں آپ ط کے فضائل کے متعلّق تحریر کی گئیں۔ نظم کی صورت میں دنیا کی تاریخ میں سب سے زیادہ کلام یعنی نعتیں آپ ﷺ کے بارے میں لکھی گئیں۔ سب سے زیادہ زبانوں میں آپ ﷺ ہی کا تذکرہ ملتا ہے۔ مقررین و واعظین و خطباء سالہا سال سے سرکار کی عظمتوں کے چرچے کررہے ہیں لیکن شان مصطفی ﷺ ایسی ہے کہ جس کے بارے امام یافعی رحمۃ اللہ علیہ مراٰۃ الجنان میں فرماتے ہیں: "ساری کائنات میں نبیِّ پاک ﷺ کے اوصاف وکمالات کا چرچا ہے اور اگر ساری دنیا ان اوصاف و کمالات کو شمار کرنے کیلئے جمع ہو جائے تو ان کے شمار کردہ اوصاف ایسے ہی ہیں جیسے سمندر کے سامنے ایک قطرہ ہے۔" کسی نے منظوم انداز سے اس بات کو بیان کیا: "زندگیاں ختم ہوئیں اور قلم ٹوٹ گئے" "تِرے اوصاف کا اِک باب بھی پورا نہ ہوا"
ہم اگر صرف سرکار ﷺ کے نام مبارک پر ہی گفتگو کریں تو وہ بھی نامکمل ہی ہوتی ہے کیونکہ قرآن کریم میں سرکار ﷺ کے مختلف نام مبارک آئے ہیں، آپ ﷺ سے پہلے انبیاء پر نازل ہونے والی کتابوں میں سرکار ﷺ کو مختلف ناموں سے ذکر کیا گیا، احادیث مبارکہ میں سرکار ﷺ کے مختلف نام موجود ہیں۔ پھر علمائے اسلام نے سرکار ﷺ کے جو نام شمار فرمائے، کسی نے کہا کہ سرکار ﷺ کے نام مبارک کی تعداد اسمائے الہیہ کے برابر ہے یعنی جس طرح اللہ رب العزت کے 99 نام ہیں، یونہی تعداد کے اعتبار سے سرکار ﷺ کے بھی 99 نام ہیں۔ اللہ رب العزت کے اسماء تو بے حد و شمار ہیں۔ اللہ پاک نے اپنے محبوب ﷺ کو جو شان عطا فرمائی، اس کا بیان بھی مخلوق کے بس کی بات نہیں ہے۔ اسی وجہ سے جب علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے صرف سرکار ﷺ کے نام مبارک پر کتاب لکھی تو اس کتاب میں سرکار ﷺ کے ایک ہزار نام شمار فرمائے۔ مشہور حنفی عالم دین علامہ ہاشم ٹھٹھوی رحمۃ اللہ علیہ نے خاص سرکار ﷺ کے نام پر کتاب لکھی جس میں ایک ہزار سے زائد نام تحریر فرمائے۔ یہ تو صرف نام کی شان ہے، شانِ رسول ﷺ کا اندازہ کیسے کیا جاسکتا ہے؟
ہم اس کورس میں کیا سیکھنے والے ہیں، اس کے مختلف مضامین یہاں کورس کرنے والوں کے لئے پیش کئے جارہے ہیں: 1-سرکار ﷺ کے نام مبارک کی برکات و فضائل 2-قرآن کریم اور پچھلی آسمانی کتابوں میں سرکار ﷺ کے نام مبارک 3-احادیث مبارکہ میں سرکارﷺ کے نام اور اس کی تشریح بزبان مصطفی ﷺ 4-اسلاف کی کتابوں سے سرکار ﷺ کے بعض نام اور اس کی مختصر تشریح 5-درود تاج میں سرکار ﷺ کے صفاتی نام 6-نبی پاک ﷺ کا صفاتی نام "امی" کی تشریح و توضیح 7-شہر نبی (مدینہ منورہ) کے نام مبارک 8-آقا ﷺ اچھے ناموں کو پسند فرماتے، (تبدیلی نام کے واقعات) 9-نبی پاک ﷺ کے بعض صحابہ کو کنیت عطا فرمانے کے دلچسپ واقعات 10-سرکار ﷺ کا اپنے استعمال کی اشیاء کے نام رکھنا
سرکار اقدس ﷺ کے اسمائے مبارک تمام مسلمانوں کے یہاں معظم ہیں بلکہ اہل ایمان نے جس قدر اسمائے مصطفی ﷺ کی تعظیم و توقیر کی وہ تو اظہر من الشمس ہے دیگر مذاہب کے ماننے والوں نے بھی سرکار ﷺ کے اسمائے مبارکہ کو نظریاتی اختلاف کے باوجود قدر واہمیت کی نگاہ سے دیکھا ۔ آپ ﷺ کے اسمائے مبارکہ میں سے دو نام " محمد " اور "احمد" یہ سرکار ﷺ کے ذاتی نام ہے ۔ ان دونوں ناموں کا ذکر قرآن کریم میں بھی ہوا اور اس کے علاوہ آپ ﷺ کے جتنے اسماء ہیں وہ صفاتی اسماء ہیں جن کی تعداد سینکڑوں میں ہے ۔ اسمائے رسول ﷺ کا اتنا زیادہ ہونا، یہ آپ ﷺ کی عظمت و رفعت کی دلیل ہے کیونکہ کسی کے ناموں کی کثرت کا ہونا اس کی شان و عظمت کی وجہ سے ہو تا ہے ۔ عربی کامشہور قول ہے :* کثرۃ الاسماء دالۃ علی العظمۃ* یعنی : جس کے نام زیادہ ہو ، اس کی عظمت بھی زیادہ ہی ہوتی ہے ۔ اسمائے رسول کے بارے میں تفصیلی معلومات جاننے سے پہلے نبی پاک ﷺ کے نام مبارک *اسم محمد* اور *اسم احمد* کی برکات و فضیلت جانتے ہیں ۔ کیونکہ اس نام کی خاص فضیلتیں روایات میں بیان کی گئیں ہیں ۔
*يُوقف عَبْدَانِ بَين يَدي الله عز وَجل فيأمر بهما إِلَى الْجنَّة فَيَقُولَانِ رَبنَا بِمَا استأهلنا مِنْكُم الْجنَّة وَلم نعمل عملا نجاز لَهُ الْجنَّة فَيَقُول الله عز وَجل لَهما عبَادي ادخلا فَإِنِّي آلَيْت على نَفسِي أَن لَا يدْخل النَّار من اسْمه أَحْمد وَمُحَمّد* ترجمہ : روزِ قِیامت دو شخص اللہ پاک کے حُضُور کھڑے کئے جائیں گے ، حکم ہو گا :انہیں جنَّت میں لے جاؤ۔ وہ دونوں عرض کریں گے :اِلٰہی!ہم کس عمل پر جنَّت کے قابِل ہوئے ؟ہم نے تو جنَّت کا کوئی کام کیا نہیں! فرمائے گا:جنَّت میں جاؤ، میں نے حَلف کیا (یعنی قسم فرمائی) ہے کہ جس کا نام احمد یا محمد ہو دوزخ میں نہ جائے گا۔ (فردوس الاخبار بماثور الخطاب، جلد 05 حدیث: 8515) *روى أبو نعيم بسنده مرفوعا قال الله تعالى وعزتي وجلالي لا عذبت أحدا تسمى باسمك في النار* ، ترجمہ : ابو نعیم سے صحیح سند کے ساتھ یہ روایت مرفوعا مروی ہے کہ اللہ پاک نے اِرشاد فرمایا: میری عزت و جَلال کی قسم !جس کا نام تمہارے نام پر ہوگا(یعنی محمد یا اَحمد ہو گا) تو میں اسے عذاب نہیں دوں گا۔ (کشف الخفاء ، حدیث 1245)
(3) *من ولد له مولود ذكر فسماه محمدا حبا لي وتبركا باسمي كان هو ومولوده في الجنة* ترجمہ : جس کے لڑکا پیدا ہو اور وہ اُس کا نام محمد رکھے میری مَحَبَّت اور میرے نام سے بَرکت حاصِل کرنے کیلئے وہ (والد)اور اُس کا لڑکا دونوں بَہِشت(یعنی جنَّت) میں جائیں گے ۔ (کنز العمال، حدیث:45223)
*ماضر أحدكم لو كان في بيته محمد ومحمدان وثلاثة*. ترجمہ : تم میں کسی کا کیا نقصان ہے اگراس کے گھر میں ایک محمد یا دو محمد یا تین محمد ہوں۔ (کنز العمال، حدیث:45205)
*إذا سميتم الولد محمدا فأكرموه وأوسعوا له في المجلس ولا تقبحوا له وجها* ترجمہ : جب لڑکے کا نام محمد رکھو تو اُس کی عزّت کرو اور مجلس میں اُس کیلئے جگہ کُشادہ کرو اور اُسے بُرائی کی طرف نسبت نہ کرو۔ (جامع صغیر ، حدیث 557) ان احادیث مبارکہ سے نام محمد اور نام احمد کے فضائل و برکات پتا چلتے ہیں کہ سرکار ﷺ کا نام مبارک کتنا برکت والا ہے ۔ اور جو اس نام سے موسوم ہوجائے ، جب اس کی بھی تعظیم کا حکم دیا جارہا ہے تو ایک مسلمان کا اپنے نبی ﷺ سے ادب و تعظیم کا کتنا گہرا تعلق ہونا چاہیئے ۔ اللہ پاک ہمیں نام محمد اور نام احمد کی برکات عطا فرمائے ۔
امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب " الریاض الانقہ فی شرح اسماء خیر الخلیفۃ" کے نام سے کتاب تحریر فرمائی جس میں تقریبا سرکار ﷺ کے ایک ہزار نام تحریر فرمائے ۔ اس کے علاوہ بھی علمائے کرام نے اسمائے مصطفی ﷺ پر کتابیں تحریر فرمائی ۔ سرکار ﷺ کے تمام اسماء کو یہاں ذکر نہیں کیا جاسکتا اس لئے صرف حروف تہجی کے اعتبار سے نبی پاک ﷺ کے 29 نام یہاں بیان کئے جائینگے ۔
لفظ *اطیب الاخلاق* کا معنی "پاکیزہ اخلاق والے " کے ہیں ۔ حضور سید عالم ﷺ سب سے زیادہ پاکیزہ اخلاق والے ہیں ۔ جن کے اخلاق کے بارے میں اللہ رب العالمین نے قرآن پاک میں فرمایا : *وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ* ترجمہ : اور بیشک تم یقینا عظیم اخلاق پر ہو۔(پارہ 29، سورۃ القلم ، آیت 04)
لفظ : البصیر کے معنی بصیرت والے ، یا ظاہر و باطن کو دیکھنے والے۔ کے ہیں ۔ نبی مکرم ﷺ کے لئے اللہ پاک نے زمین کو سمیٹ دیا اور آپ ﷺ نے مشرق سے مغرب تک کے تمام حصوں کو دیکھ لیا ۔ آپ ﷺ کی بصیرت کا عالم یہ تھا کہ آپ ﷺ لوگوں کی قلبی کیفیات کوبھی جان لیا کرتے تھے ۔ سائل ، سوال کے لئے حاضر ہوتا تو نبی مکرم ﷺ اس کے سوال کرنے سے پہلے ہی سوال بھی بتادیتے اور اس کا جواب بھی بتادیتے ۔ اسلئے آپ کا ایک نام *بصیر * بھی ہے۔
لفظ " تُقیٰ کے معنی " سب سے زیادہ اللہ پاک سے ڈرنے والے " کے ہیں ۔ نبی پاک ﷺ تمام عالمین کے لئے رحمت ہیں ۔ آپ کے صدقے امت بخشی جائے گی۔ آپ کو اللہ پاک کی بارگاہ میں سب سے زیادہ قُرب حاصل ہے ۔ اور آپ گناہوں سے معصوم بھی ہیں اس کے باوجود سب سے زیادہ اللہ پاک سے ڈرنے والے بھی ہیں ۔ آپ ﷺ کے خوف خدا میں رونے کا انداز کیسا تھا ، روایت میں آتا ہے عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : *أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يُصَلِّي وَلِجَوْفِهِ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الْمِرْجَلِ* ترجمہ : میں سرکار ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ ﷺ نماز ادا فرمارہے تھے،اور ( خوفِ خدا سے ) رونے کی وجہ سے آپ کے سینہ مبارکہ سے ہنڈیا جیسی آواز آ رہی تھی۔ (سنن نسائی ، حدیث 1214)
لفظ *الثمال* کے معنی جائے پناہ " کے ہیں ۔ نبی پاک ﷺ جائے پناہ ہیں ۔ جن کے دامن سے وابستہ ہوجانے کے بعد امن و سلامتی حاصل ہوجاتی ہیں ۔ جن کی اطاعت و فرمانبرداری کرنے سے بندہ مومن جنت کی ابدی نعمت کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا ۔
لفظ :الجامع " کے معنی " مجموعہ کمالات " کے ہیں ۔ آپ ﷺ کی شخصیت میں اللہ تعالیٰ نے ہر خوبی کو بدرجۂ اتم جمع کر دیا۔ آپﷺ کی صداقت، امانت، شجاعت، علم، حِلم، عدل، اور رحم دلی بے مثال ہیں۔ آپ ﷺکی گفتار میں شیرینی اور کردار میں نورانیت کا ایسا امتزاج تھا کہ ہر دیکھنے والا آپﷺ کا گرویدہ ہو جاتا۔ آپ ﷺ حقیقتاً وہ ہستی ہیں جن کے کمالات کا احاطہ انسانی عقل سے ممکن نہیں۔
لفظ *الحیی* کے معنی " حیاء کرنے والے " کے ہیں ، حضور سرور کونین ﷺ کا وصف حیاء ایسا ہے جسے اللہ پاک نے قرآن کریم میں بیان فرمایا ،اسی طرح حدیث پاک میں حضور ﷺ کی صفت حیاء کا ذکر یوں کیا گیا کہ :نبی پاک ﷺ کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیاء فرمانے والے تھے۔ آپ ﷺ نے شرم وحیاء کو اختیار کرنے کی بھی ترغیب دی ۔اس لئے سرکار ﷺ کا ایک وصف " الحیی " بھی ہے۔
لفظ *الخاتَم* کے معنی ٰ "آخری نبی " کے ہیں ۔ نبی رحمت ﷺ اللہ پاک کے آخری نبی ہیں اور یہ " الخاتم " آپ کا صفاتی نام اسی مناسبت سے ہے کہ آپ ﷺ انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام میں سب سے آخر میں تشریف لائے اور اب آپ ﷺ کے بعد کو ئی نیا نبی نہیں آئے گا۔
لفظ * دائم البِشر* کے معنی ہمیشہ خوش رہنے والے کے ہیں ۔ نبی پاک ﷺ جب کسی سے ملاقات فرماتے خندہ پیشانی سے ، مسکرا کر ، اچھے انداز سے ملاقات فرماتے ۔ ہمیشہ اللہ پاک کی رضا پر راضی رہتے ۔ سخت مشکلات و مصائب میں بھی کبھی شکوہ و شکایت نہیں کی ۔ آپ ﷺ نے زندگی کے ہر مرحلے میں، خواہ حالات کیسے ہی ہوں، اپنے چہرے پر وہ مسکراہٹ رکھی جس نے دوسروں کے دلوں کو سکون اور راحت بخشی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ جب بھی ہم نے حضورﷺ کو دیکھا، آپﷺ کے چہرۂ انور پر ایک خاص نورانی مسکراہٹ موجود ہوتی تھی۔ آپ ﷺ کی بشاشت نہ صرف ظاہری بلکہ باطنی سکون اور اللہ تعالیٰ پر کامل یقین کی دلیل تھی۔
لفظ *ذو المعجزات الباہرۃ * کے معنی "روشن معجزات والے " کے ہیں ۔ نبی کریم ﷺ کے صفاتی ناموں میں اسلاف نے اس نام کو بھی شامل فرمایا ہے ، جو آپ ﷺ کے بے شمار معجزات کو بیان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو وہ معجزات عطا فرمائے جو عقلوں کو حیران اور دلوں کو ایمان سے منور کرتے ہیں۔صحابہ کرام علیہم الرضوان نے ان معجزات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور ایمان میں مزید پختہ ہوئے۔ یہ معجزات نہ صرف آپ ﷺ کے زمانے کے لوگوں کے لیے ہدایت کا سبب بنے بلکہ آج بھی ان کے ذکر سے مسلمانوں کے دلوں میں عشق و ایمان کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔
لفظ *رفیع الدرجات* کے معنی بلند درجات والے " کے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء اور مخلوقات پر فضیلت عطا فرمائی۔ آپ ﷺ کو معراج کی شب وہ مقام عطا کیا گیا جہاں کسی اور مخلوق کی رسائی ممکن نہیں۔ آپ ﷺ کے درجے دنیا اور آخرت میں سب سے بلند ہیں ۔ اللہ کریم نے آپ کے ذکر کو بلند فرما یا ، ارشاد باری تعالی ہے : *وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ* ترجمہ : اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کردیا۔ (پارہ 30، سورہ الم نشرح ، آیت 04)۔
لفظ *زین المعاشر * کے معنی "جماعتوں کی زینت " کے ہیں ۔ نبی پاک ﷺ جب اپنے اصحاب کے ساتھ تشریف فر ما ہوتے تو دیکھنے والے یہ محسوس کرتے جیسے چودھویں کا چا ند ، ستاروں کی جھرمٹ میں اپنی نورانیت سے عالم کو روشنی دے رہا ہے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی جانب ایک شعر منسوب ہے جس میں آ پ رضی اللہ عنہ نے نبی پاک ﷺ کا صفاتی نام بیان فرمایا: *فَکَیْفَ الحَیَاةُ لِفَقْدِ الحَبِیبِ وَزِینُ المُعَاشِرِ وَالمَشهَدِ* محبوب کی جدائی کے بعد زندگی کا کیا مزہ حالانکہ آپ ﷺ محفل کی زینت ہیں (شرح اسماء النبی الکریم ، صفحہ 192)
لفظ "سید الکونین " کے معنی دوجہاں کے سردار " کے ہیں ۔ نبی رحمت ﷺ کو اللہ پاک نے دونوں جہاں کی بادشاہت و حکومت عطا فرمائی ۔ اسی مناسبت سے آپ ﷺ کا ایک صفاتی نام " سید الکونین " بھی ہے ۔
لفظ *الشارع * کے معنی "دین سکھانے والے " کے ہیں۔ نبی پاک ﷺ نے صرف اللہ کی وحدانیت کا پیغام نہیں دیا بلکہ آپ کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ، جو دین لے کر تشریف لائے ، اس دین کی تعلیمات و احکامات لوگوں کو سیکھاتے بھی ہیں ۔ اللہ کریم نے ارشاد فرمایا : *وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ* ترجمہ : اور وہ انھیں کتاب اور حکمت سکھاتے ہیں۔ (پارہ 02، سورۃ البقرۃ ، آیت 129)
لفظ *صادق الوعد* کے معنی " سچا وعدہ کرنے والے " کے ہیں ۔ آپ کا صادق الوعد ہونا اس قدر معروف تھا کہ اہل مکہ آپ ﷺ کے اعلان نبوت کرنے سے پہلے ہی یہ جان چکے تھے کہ یہ اپنی بات کے پکے ، وعدے بڑے سچے ہیں ۔ اس لئے آپ ﷺ کا ایک وصف صادق الوعد ہونا بھی ہے ۔
لفظ *الضمین* کے معنی" امت کے ضامن یعنی ذمہ داری لینے والے " کے ہیں۔ نبی پاک ﷺ نے مختلف مواقع پر یہ بیان فرمایا کہ فلاں بات پر عمل کرو ، تمہارا میں ضامن ہو گا ، یعنی تمہیں نجات دلانا میری ذمہ داری ہے ۔ امتیوں کو مختلف گناہوں اور اللہ پاک کی ناراضگی والے کاموں سے رکنے کی ترغیب ارشاد فرمائی ، اور جنت کی ضمانت بھی عطا فرمائی ۔ اس لئے آپ ﷺکا ایک وصف " الضمین " بھی ہے ۔
لفظ *الطبیب* کے معنی "روحانی و جسمانی حکیم " کے ہیں ۔ جسمانی امراض کا علاج ہو یا روحانی بیماری کا علاج ہو ، سرکار اقدس ﷺ کی مبارک ذات ہر اعتبار سے ایک بہترین معالج و رہنما بھی ہیں ۔
لفظ *الظاہر* کے معنی " غلبہ حاصل کرنے والے " کے ہیں ۔ نبی رحمت ﷺ کی نبوت و رسالت کسی زمانے یا مکان کے ساتھ نہیں ہے ۔ بلکہ اللہ پاک نے آپ کو تمام انسانوں کے لئے نبی و رسول بنا کر بھیجا ۔او ر ساتھ ہی آپ ﷺ کو اخلاقیات کے اعتبار سے ، عبادات کے اعتبار سے ، معاملات کے اعتبار سے ، کردار وگفتار کے اعتبار سے ، قیامت تک آنے والی نسل انسانیت پر غالب کردیا ۔ اس لئے آپ ﷺ کا ایک وصف " الظاہر " یعنی غلبہ حاصل کرنے والے کے ہیں ۔
لفظ *العالم* کے معنی " جاننے والا " کے ہیں ۔ اللہ کریم نے آپ ﷺ کو ماکان ومایکون کا علم عطا فرمایا ۔ آپ اللہ پاک کی عطا سے سب کچھ جانتے ہیں ۔ اللہ پاک نے آپ کو وہ سب کچھ سکھا دیا جو آپ پہلے نہیں جانتے تھے ۔ ارشاد فرمایا : *وَ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ-وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا* ترجمہ : اور اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی اور آپ کو وہ سب کچھ سکھا دیا جو آپ نہ جانتے تھے اور آپ پر اللہ کا فضل بہت بڑا ہے۔ (پارہ 05، سورۃ النساء ، آیت 113)
لفظ *الغوث* کے معنی " مددگار " کے ہیں۔ نبی رحمت ﷺ اللہ پاک کے اذن سے بےکسوں ، کمزوروں، ضعیفوں، مظلوموں کی مدد فرمانے والے ہیں اور میدان محشر میں بھی اپنے گنہگار امتیوں کی رب کی بارگاہ میں شفاعت کرکے ، ان کی مدد فرمائینگے ۔
لفظ *الفطن* کے معنی " ذہین " ہونے کے ہیں ۔ اللہ کریم نے آپ کو کمال فہم و فراست عطا فرمائی ۔ نبی پاک ﷺ کی قوت ادراک ، فہم وشعور ، عقل و آگہی سب سے بڑھ کر ہے ۔ اللہ پاک نے آپ ﷺ کو وہ ذہانت عطا فرمائی، جس کے سامنے ساری دنیا کے انسانوں کی ذہانت ریت کے ذرے کے برابر ہے ۔
لفظ *قائد المساکین* کے معنی مسکینوں کے پیشوا وسردار " کے ہیں ۔ آپ ﷺ محتاجوں اور ضرور ت مندوں کی مدد فرماتے ، انہیں جس چیز کی حاجت ہوتی ، اس ضرورت کو پورا فرماتے تھے ۔ اس لئے آپ کو " قائد المساکین " کا لقب دیا گیا ہے ۔
لفظ *کریم* کے معنی " کرم فرمانے والے " کے ہیں ۔ محبوب کریم ﷺ کا یہ وصف اللہ پاک نے قرآن کریم میں بیان فرمایا : *اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْم* ترجمہ : بیشک یہ ضرور عزت والے رسول کا کلام ہے۔ (پارہ 30، سورہ التکویر ، آیت19)
لفظ *اللطیف* کے معنی " بڑے مہربان " کے ہیں ۔ لطف و مہربانی کے پیکر رسول ، جن کی سیرت بھی لطیف ، جن کی صورت بھی لطیف ، اورجن کا کردار بھی لطیف ،جن کی گفتار بھی لطیف ہے ۔اللہ پاک اس لطف و مہربانی فرمانے والے آقا ﷺ کی عقیدت و محبت سیرت و اخلاقیات کو ہمیں اپنے عمل میں لانے کی توفیق عطا فرمائے ۔
لفظ *المتبسم* کے معنی "مسکرانے والے " کے ہیں ۔ نبی رحمت ﷺ کے چہرہ انور پر ہر وقت خوشی کے آثار موجود رہتے اور چہرہ انور ﷺ پر مسکراہٹ و تبسم سجی رہتی تھی۔ اس لئے آپ ﷺ کا نام " المتبسم " بھی ہے ۔
لفظ *ناطق* کے معنی "کلام فرمانے والے " کے ہیں۔ نبی رحمت ﷺ کا نطق یعنی بولنا ، مختصر اور پُر اثر ہوتا ۔حضور ﷺ کا کلام دلوں پر گہرا اثر ڈالتا تھا۔ آپ ﷺ کی باتیں لوگوں کے دلوں میں اتر کر انہیں ہدایت دیتیں۔ جب آپ ﷺ کسی کو بات کہتے، تو وہ بات لوگوں کی زندگی میں تبدیلی لے آتی۔
لفظ " ولی " کے معنی " دوست و مددگار " کے ہیں ۔رسول پاک ﷺ دنیا و آخرت میں اپنے امتیوں کے مددگار ہیں ۔
لفظ *ھاد* کے معنی "رہنمائی کرنے والے "کے ہیں۔ پیارے آقا ﷺنیکی کی راہ کی طرف رہنمائی کرنے والے ہیں ، برائی سے بچانے کی رہنمائی کرنے والے ہیں ۔ مختصر یہ کہ اللہ پاک نے پیارے آقا ﷺ کو سراپا ہدایت بنا کر امت کی رہنمائی کے لئے بھیجا ۔ اس لئے آپﷺ * ھادی * بھی ہیں ۔
لفظ *یس* یہ حروف مقطعات میں سے ہے ۔ مفسرین نے حروف مقطعات کو بھی سرکار ﷺ کے ناموں میں سے شمار کیا ہے ۔
پیارے آقا ﷺ نے خود اپنے مختلف ناموں کا ذکر فرمایا اور ان ناموں کی خود ہی وضاحت بھی فرمادی ۔ بخاری و مسلم کی حدیث پاک ہے : *عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إنَّ لِي أَسْمَاءً: أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللّٰهُ بِي الْكُفْرَ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلٰى قَدَمِي وَأَنَا الْعَاقِبُ ". وَالْعَاقِبُ: الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهٗ شَيْءٌ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)* ترجمہ : روایت ہے حضرت جبیر ابن مطعم سے فرماتے ہیں میں نے نبی ﷺ کو فرماتے سنا کہ میرے بہت نام ہیں میں محمد ہوں میں احمد ہوںمیں ماحی (یعنی محو کرنے والا) ہوں کہ اللہ میرے ذریعہ کفر کو محو فرمائے گااور میں جامع ہوں کہ لوگ میرے قدموں پر جمع کیے جائیں گےاور میں عاقب ہوں،عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ (جامع ترمذی ، حدیث 2840) ایک اور حدیث پاک جس میں نبی پاک ﷺ نے اپنے مزید کچھ ناموں کا ذکر فرمایا :. *عَنْ أَبِي مُوْسَی الْأَشْعَرِيِّ رضي الله عنه قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم يُسَمِّي لَنَا نَفْسَه أَسْمَاءً. فَقَالَ: أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَحْمَدُ، وَالْمُقَفِّي، وَالْحَاشِرُ، وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ، وَنَبِيُّ الرَّحْمَةِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ* ترجمہ : حضر ت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے لئے اپنے بعض نام بیان فرما ئے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : میں محمد ہوں ، میں احمد ہوں ، میں مقفی (بعد میں آنے والا ) ہوں ، میں حاشر ہوں ، میں نبی التوبہ (یعنی اللہ پاک کی طرف رجوع کرنے والا ) ہوں اور میں نبی رحمت (یعنی رحمت بانٹنیں والا ) ہوں ۔ (صحیح مسلم ، حدیث 2355) سرکار دو عالم ﷺ نے اپنے ان ناموں کا ذکر خود فرمایا اور ساتھ ہی پہلی حدیث میں ذکر کئے گئے تین ناموں کی وجہ بھی ذکر فرمائی ۔ نام محمد اور نام احمد کی وجہ کو حدیث میں ذکر نہیں فرمایا البتہ دیگر روایات میں اس کا تذکرہ بھی موجود ہے ۔ نام محمد اور نام احمد کے فضائل و برکات اس کورس کے پہلے مرحلے میں جان لئے گئے ہیں اور ان ناموں کے معانی ، وجہ کے ساتھ دوسرے مرحلے میں بیان کردئیے گئے ۔ یہاں حدیث میں دیگر اسماء کے معانی سے متعلق مختصر وضاحت پیش کی جارہی ہے ۔
لفظ * ماحی * کے معنی "مٹانے والے " کے ہیں۔ نبی رحمت ﷺ نے خود ہی اپنے اس نام کی وجہ کا ذکر فرمایا کہ " میرے ذریعے اللہ کفر کو مٹائے گا" اور ایسا ہی ہوا ، نبی پاک ﷺ نے جب اظہار نبوت فرمایا کچھ آزمائشیں آئی لیکن نبی پاک ﷺ نے دین کی دعوت دینے کو نہ چھوڑا ، اور اس کا نتیجہ یہ ظاہر ہوا کہ لوگ تیزی سے اسلام کی طرف مائل ہونے لگے حتی کہ پورے کے پورے وفد سرکا ر ﷺ کی خدمت میں آکر اسلام کے دامن میں داخل ہونے لگے ۔ اللہ پاک نے قرآن کریم میں بھی اس کا ذکر فرمایا : *وَرَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا* ترجمہ : اور تم لوگوں کو دیکھو کہ اللہ کے دین میں فوج درفوج داخل ہو رہے ہیں۔ (پارہ 30، سورۃ النصر، آیت02)
لفظ *حاشر* کے معنی "جمع کرنے والے " کے ہیں ۔ نبی پاک ﷺ نے اس نام کی وجہ بھی ذکر فرمادی کہ "لوگ میرے قدموں پر جمع کیے جائیں گے" اور یہ معاملہ قیامت کے دن ہوگا ۔ سب سے پہلے قبر انور سے نبی پاک ﷺ اٹھیں گے ، پھر سرکار ﷺ کے پیچھے ساری مخلوق اٹھے گی ۔ پھر اہل محشر شفاعت کے منتظر ہونگے ۔ سب جمع ہو کر ایک ایک نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس جائینگے اور آخر کار سب سرکار ﷺ کے پاس جمع ہوجائینگے اور شفاعت کی درخواست کرینگے ۔ جس کا احادیث میں وضاحت کے ساتھ ذکر موجود ہے ۔ اس لئے نبی پاک ﷺ حاشر ہیں ۔ (ملخصاً مراٰۃ المناجیح ، شرح حدیث 5776)
لفظ " عاقب " کے معنی " سب سے بعد آنے والا" کے ہیں اسی طرح "المقفی" کے معنی بھی " سب کے بعد آنے والا" کے ہی ہیں یہاں دونوں کی وضاحت ایک ساتھ ہی دی جارہی ہے ۔ نبی پاک ﷺ نے اس نام کی وجہ بھی ذکر فرمائی اور فرمایا کہ : "عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو" ۔ نبی پاک ﷺ کی اس وضاحت سے جہاں یہ پتا چلا کہ حضور ﷺ کا ایک نام " عاقب " کیوں ہیں ؟ وہی یہ عقیدہ بھی واضح ہوگیا کہ سرکار ﷺ ہی اللہ پاک کے آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد کسی نئے نبی کے آنے کی صورت نہیں ہے ۔قرب قیامت حضرت عیسی ٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد کا ہونا اس سے حضور ﷺ کی ختم نبوت کے عقیدے کو باطل نہیں کرتا کیونکہ حضرت عیسٰی علیہ الصلوۃ والسلام نئے نبی نہیں ہوں گے بلکہ آپ کا زمانہ نبوت گزر چکا ہے اور اب آپ کی آمد نبی پاک ﷺ کے امتی کی حیثیت سے ہوگی ۔ اللہ کریم اس عقیدے اور نظریئے پر ہمیں استقامت عطا فرمائے ۔ ایک اور حدیث پاک جس میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مزید کچھ ناموں کا ذکر فرمایا :. *عَنْ أَبِي مُوْسَی الْأَشْعَرِيِّ رضي الله عنه قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ يُسَمِّي لَنَا نَفْسَه أَسْمَاءً. فَقَالَ: أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَحْمَدُ، وَالْمُقَفِّي، وَالْحَاشِرُ، وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ، وَنَبِيُّ الرَّحْمَةِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ* ترجمہ : حضر ت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے لئے اپنے بعض نام بیان فرما ئے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : میں محمد ہوں ، میں احمد ہوں ، میں مقفی (بعد میں آنے والا ) ہوں ، میں حاشر ہوں ، میں نبی التوبہ (یعنی اللہ پاک کی طرف رجوع کرنے والا ) ہوں اور میں نبی رحمت (یعنی رحمت بانٹنیں والا ) ہوں ۔ (صحیح مسلم ، حدیث 2355)
نبی التوبہ اس کے مختلف معانی و مفاہیم علماء نے بیان فرمائے ہیں ۔ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب میں احادیث و شروحات احادیث کی روشنی میں اس نام کے 13 وجوہات ذکر فرمائی ہیں اور 04 وجہیں اپنی جانب سے بھی ذکر کی ہیں ۔ یہاں ہم انہی توجیہات میں سے پانچ توجیہات ذکر کررہے ہیں ۔ پہلی وجہ : پیارے آقا ﷺ خود کثیرُ التّوبہ ہیں ، یعنی کثرت سے اللہ پاک کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہیں حالانکہ انبیائے کرام علیھم الصلوۃ والسلام گناہوں سے بالکل معصوم ہوتے ہیں سرکار ﷺ کا کثرت سے توبہ کرنا یہ امت کی تعلیم کے لئے تھا ۔ صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں روز اللہ سبحانہ سے سو بار اِستِغفار کرتا ہوں۔ دوسری وجہ : حضورِ اقدس ﷺ کی ہدایت سے عالَم (جہان یعنی بہت بڑی تعداد)نے توبہ اور رُجوع اِلیٰ اللہ کی دولتیں پائیں ، حضور کی آواز پر متفرق جماعتیں ، مختلف امتیں اللہ پاک کی طرف پلٹ آئیں۔ تیسری وجہ : نبیِّ رحمت ﷺ کی امت کی توبہ سب امتوں سے زیادہ مقبول ہوئی ، کہ ان کی توبہ میں صرف ندامت ، گناہ کو فوراً چھوڑ دینا اور آئندہ نہ کرنے کا عزم کافی ہوا ، نبیِّ رحمت ﷺ نے ان کے بوجھ اتار لئے ، اگلی امتوں کے سخت و شدید بار اِن پر نہ آنے دئیے ، اگلوں کی توبہ سخت سخت شرائط سے مشروط کی جاتی تھی۔ چوتھی وجہ : بندوں کو حکم ہے کہ آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر توبہ و استغفار کریں اللہ تو ہر جگہ سنتا ہے ، اُس کا علم ، اُس کا سمع ، اُس کا شہود سب جگہ ایک جیسا ہے مگر حکم یہی فرمایا کہ میری طرف توبہ چاہو تو میرے محبوب کے حضور حاضر ہوجاؤ : *وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا* ترجمہ : اگر وہ جو اپنی جانوں پر ظلم کریں تیرے پاس حاضر ہو کر خدا سے بخشش چاہیں اور رسول ان کی مغفرت مانگے تو ضرور خدا کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔ (پارہ 05، سورۃ النساء ، آیت64) پانچویں وجہ : رسولِ مکرم ﷺ کی امت کے آخر زمانے میں توبہ کا دروازہ بند ہوگا ، اگلی نبوتوں میں اگر کوئی ایک نبی کے ہاتھ پر تائب نہ ہو تا تو ان کے بعد آنے والے کسی دوسرے نبی کے ہاتھ پر توبہ کرلیتا تو بھی مقبول ہوتی ، جبکہ حضور خاتمُ النّبیین ﷺ کی آمد پر بابِ نبوت (نبوت کا دروازہ )بند ہوگیا اورجب (قیامت سے قبل دنیا سے)آپ ﷺ کی امّت رخصت ہوجائے گی(اور صرف کفار باقی بچیں گے) تو توبہ کا دروازہ بھی بند ہوجائے گا ، جو کوئی آپﷺ کے دستِ اقدس پر توبہ نہ لائے (یعنی آپﷺ پر ایمان نہ لائے) اس کے لئے کہیں توبہ نہیں۔
نبی رحمت کے معنی " رحمت فرمانے والے نبی " کے ہیں ۔ سرکار دو عالم ﷺ کو اللہ پاک نے سارے عالمین کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے ۔ اس کا ذکر قرآن کریم میں بھی فرمایا : *وَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ* ترجمہ : اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رَحْمت سارے جہان کےلئے۔ (پارہ 17۔، سورۃ الانبیاء ، آیت 107) نبی پاک ﷺ کی رحمت کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔ جس کا احاطہ کرنا انسانی عقل کی طاقت نہیں کیونکہ آپ ﷺ کی رحمت صرف انسانوں تک ہی محدود نہیں بلکہ تمام عالمین کو آپ کی رحمت شامل ہے ۔ اسی لئے آپ نبی رحمت ہیں ۔ نبی پاک ﷺ کے یہ چند اسماء احادیث رسول سے بیان کئے گئے ، جس کی تشریح و توضیح خود سرکار ﷺ نے بھی فرمائی اور کچھ کی تائید قرآن و حدیث سے بیان کی گئی ۔ اب اگلے مرحلے میں ہم نبی پاک ﷺ کے ان ناموں کا ذکر کرینگے جو اسلاف نے اپنی کتابوں میں بیان کئے ہیں۔
اللہ پاک نے پیارے آقا ﷺ کو عظیم کمالات و خصوصیات عطا فرمائیں ۔ انہی خصوصیات و کمالات میں آپ کا ایک وصف *امی* ہونا ہے ۔ یہ لقب اللہ پاک نے صرف نبی پاک ﷺ کو ہی عطا فرمایا ۔ لفظ " اُمِّی" کے لغوی معنی " جو پڑھنا لکھنا نہ جانتا ہو " ہونے کے ہیں ۔ عام لوگوں کے حق میں " اُمّی" ہونا معیوب ہے جبکہ اللہ پاک کے پیارے حبیب ﷺ کے حق میں *اُمّی* ہونا ہر عیب سے پاک ، قابل تعریف ، اور کامل علم والا ہونے پر دلالت کرتا ہے ، اس لئے کہ سرکار ﷺ کی طرف جب امی کی نسبت ہوگی تو اس کے معنیٰ یہ ہونگے کہ "کسی سکھانے والے کے سکھائے سے آپ نے پڑھنا ، لکھنا نہ سیکھا بلکہ رب تعالیٰ نے آپ کو ایسی شان و عظمت عطا فرمائی کہ آپ بے پڑھے پڑھنا اور بے لکھے لکھنا جانتے تھے ۔ اور یہ بات بھی روایتوں سے بالکل ظاہر ہے کے آپ ﷺپر نازل ہونے والی وحی کو لکھنے والے جو صحابہ کرام تھے ، ان کو آپ ﷺ بعض مواقعوں پر لکھنے کا انداز بھی سکھا یا ۔ حضور ﷺ کے اس صفاتی نام *امی* کا علیحدہ سے ذکر اس لئے بھی کیا جارہا ہے کہ بعض احباب کم علمی کے باعث اس کے معنی کو سمجھ نہیں پاتے اور اس کا ایسا ترجمہ کردیتے ہیں جو شان رسول ﷺ کے مناسب نہیں ہوتا ۔ اس وصف پر علماء نے مستقل کتابیں بھی تصنیف فرمائیں ۔
اللہ کریم نے حضور ﷺ کے وصف "امی " کو قرآن کریم میں دو مقامات پر بیان فرمایا ۔ارشاد ہوا : *اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ* ترجمہ : وہ جو غلامی کریں گے اس رسول بے پڑھے غیب کی خبریں دینے والے کی جسے لکھا ہوا پائیں گے اپنے پاس توریت اور انجیل میں۔ (پارہ 09، سورۃ الاعراف ، آیت 157)۔ دوسری مرتبہ اسی سورت کی اگلی آیت میں ذکر کیا ۔ ارشاد فرمایا : *فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ* ترجمہ : تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول بے پڑھے غیب بتانے والے پر کہ اللہ اور اُس کی باتوں پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی غلامی کرو کہ تم راہ پاؤ۔(پارہ 09، سورۃ الاعراف ، آیت 157)
اس وصف " "امی" کی وضاحت قرآن کریم کی ہی ایک آیت سے علمائے مفسرین نے بیان فرمائی ۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے : *وَمَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِیَمِیْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ* ترجمہ : اور اس سے پہلے تم کوئی کتاب نہ پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتے تھے یوں ہوتا تو باطل والے ضرور شک لاتے۔ (پارہ 21، سورۃ العنکبوت، آیت 48) اس آیت کی تفسیر میں امام علی بن ابراہیم رحمۃُ اللہِ علیہ لکھتے ہیں:قراٰنِ پاک کے نازل ہونے سے پہلے تم کوئی کتاب نہ پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتے تھے اگر آپ لکھتے یا پڑھتےتو ضرور اہلِ کتاب کہتے کہ ہماری کتابوں میں نبیِّ آخر الزّماںﷺ کی صفت یہ مذکور ہے کہ” وہ اُمّی ہوں گے نہ لکھیں گے نہ پڑھیں گے، حالانکہ یہ تو وہ نہیں۔“ یا مکہ کے مشرکین یہ اعتراض کرتے کہ ہوسکتا ہے تم نے قراٰن کو لوگوں سے سیکھ کر اپنے ہاتھ سے لکھا ہو۔ (تفسیر خازن ،)
علامہ قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ شفا شریف میں لکھتے ہیں: معجزاتِ نبوی میں اہم اور عظیم ترین معجزہ قراٰنِ حکیم ہے جو معارف اور علوم کو شامل وحاوی ہے اور اس میں وہ فضائل و شمائل ہیں کہ جن کے ذریعے اللہ پاک نے حضور علیہ السلام کی تعریف و توصیف فرمائی اور یہ تعجب کی بات ہے جس شخص نے نہ دنیا میں کسی سے پڑھا ہو،نہ کبھی کچھ لکھا ہو نہ کسی مدرسہ میں کسی استاد کے سامنے زانوئے ادب تہہ کئے ہوں ان سے ایسے کارناموں کا اظہار تعجب ہے اس طرح کے اُمی ہونے میں کوئی توہین نہیں بلکہ اسے معجزات میں شمار کیا جائے گا۔
علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے نبیِّ پاک ﷺکی اس صفت *اُمی* کی بڑی پیاری حکمتیں نقل کیں جن میں سے چند یہ ہیں : (1) اگر آپ ﷺ لکھتے تو آپ کی تحریر مبارک بسااوقات ایسے لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچ جاتی جو اسے نہ پہچانتے اور اس کی تعظیم اس طرح نہ کرتے جس طرح کرنے کا حق ہے۔ (2)تحریر اس شخص کے لئے وسیلہ ہے جو حفظ نہ کر سکتا ہو جیسے لا ٹھی نابینا کے لئے چلنے کا آلہ ہے ۔(اللہ پاک نے حضور ﷺ کو وہ عظیم قوت حافظہ عطا فرمایا کہ لکھنے کے محتاج ہی نہ تھے۔) (3)ایک حکمت یہ بھی ہے کہ جسے رسول اللہ ﷺ نے خود بیان کیا چنانچہ فرمایا: *لَا اُرِیْدُ الْخَطَّ لِاَنَّ ظِلَّ الْقَلَمِ یَقَعُ عَلٰی اِسْمِ اللہ تَعَالٰی* یعنی میں تحریر کو نہیں چاہتا کیونکہ قلم کا سایہ اللہ پاک کے اسم پر پڑتا ہے ۔ اللہ پاک نے آپ کے اس ادب و احترام کی یہ جزا دی کہ آپﷺ کے سایہ کو زمین سے اٹھا دیا تاکہ اس پر کسی کا قدم نہ پڑے، اس لئے آپ ﷺکا سایہ نہ تھا ۔ (الریاض الانیقہ، صفحہ نمبر 19)
شیخ الحدیث عبد المصطفیٰ اعظمی رحمۃ اللہ علیہ ”سیرت مصطفیٰ“ میں ذکر کرتے ہیں:آپ ﷺ کے اُمی لقب ہونے کا حقیقی راز کیا ہے؟ اس کو تو خداوند علام الغیوب کے سوا اور کون بتا سکتا ہے؟ لیکن بظاہر اس میں چند حکمتیں اور فوائد معلوم ہوتے ہیں: (1) تمام دنیا کو علم و حکمت سکھانے والے حضور اقدس ﷺ ہوں اور آپ ﷺ کا استاد صرف خداوند عالم ہی ہو، کوئی انسان آپ کا استاد نہ ہو؛ تاکہ کبھی کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ پیغمبر تو میرا پڑھایا ہوا شاگرد ہے۔ (2) کوئی شخص کبھی یہ خیال نہ کر سکے کہ فلاں آدمی حضورﷺکا استاد تھا تو شاید وہ حضور ﷺ سے زیادہ علم والا ہو گا۔ (3)حضور ﷺ کے بارے میں کوئی یہ وہم بھی نہ کر سکے کہ حضور ﷺ چونکہ پڑھے لکھے آدمی تھے اس ليے انہوں نے خود ہی قرآن کی آیتوں کو اپنی طرف سے بنا کر پیش کیا ہے اور قرآن انہیں کا بنایا ہوا کلام ہے۔ (4) جب حضور ﷺ ساری دنیاکو کتاب وحکمت کی تعلیم دیں تو کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ پہلی اور پرانی کتابوں کو دیکھ دیکھ کر اس قسم کی انمول اور انقلاب آفریں تعلیمات دنیا کے سامنے پیش کررہے ہیں۔ (5) اگرحضور ﷺ کا کوئی استاد ہوتا تو آپ کو اس کی تعظیم کرنی پڑتی،حالانکہ حضور ﷺ کو خالق کائنات نے اس ليے پیدا فرمایا تھا کہ سارا عالم آپ ﷺ کی تعظیم کرے، اس لئے اللہ پاک نے اسے گوارا نہیں فرمایا کہ میرا محبوب کسی کے آگے زانوئے تلمذ تہ کرے اور کوئی اس کا استادہو۔(واللہ تعالیٰ اعلم) امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "ایسا اُمّی کس لئے مِنَّت کَشِ اُستاذ ہو " "کیا کفایت اس کو اقرء ربک الاکرم نہیں" شرح:یعنی نبیِّ پاک ﷺ کو کسی استاد کا احسان مند ہونے کی کیا ضرورت ہے جسے اس کا ربِّ کریم خود پڑھائے سکھائے۔ خلاصہ کلام یہ ہوا کہ : *امی* ہونا یہ سرکار ﷺ کی ذات مبارکہ کے لئے عیب نہیں ہے ۔ اللہ پاک نے اپنے محبوب کو ہر عیب سے ستھرا پیدا فرمایا ۔ اُمِّی ہونا ، یہ پیارے آقا ﷺ کی عظمت و شان کو بڑھاتا ہے ۔
بزرگان دین نے درود پاک کی فضیلت کے پیش نظر مختلف درود پاک لکھے ،جیسے : دلائل الخیرات یہ مکمل ایک درود پاک کی کتاب ہے، اسی طرح قصیدہ بردہ شریف جو بڑا ہی معروف قصیدہ ہے " مولا یا صل وسلم دائما ابداً کثرت سے پڑھا اور سنا جاتا ہے ،یہ بھی درود پاک ہے یونہی درود تاج بھی ایک درود ہے ۔ اس درود کی خاصیت یہ ہے کہ مختصر بھی ہے اور اس میں نبی پاک ﷺ کے خوبصورت انداز میں صفاتی نام بھی ذکر کئے گئے ہیں ۔ ہم یہاں اس درود پاک میں ذکر کئے گئے سرکارﷺ کے صفاتی نام کی مختصر وضاحت کرینگے ۔
*اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ صَاحِبِ التَّاجِ وَ الْمِعْرَاجِ وَ الْبُرَاقِ وَ الْعَلَمِ ط دَافِعِ الْبَلَآءِ وَ الْوَبَآءِ وَ الْقَحْطِ وَ الْمَرَضِ وَ الْاَلَمِ ط اِسْمُہٗ مَکْتُوْبٌ مَّرْفُوْعٌ مَّشْفُوْعٌ مَّنْقُوْشٌ فِی اللَّوْحِ وَ الْقَلَمِ ط سَیِّدِ الْعَرَبِ وَ الْعَجَمِ ط جِسْمُہٗ مُقَدَّسٌ مُّعَطَّرٌ مُّطَہَّرٌ مُّنَوَّرٌ فِی الْبَیْتِ وَ الْحَرَمِ ط شَمْسِ الضُّحٰی بَدْرِ الدُّجٰی صَدْرِ الْعُلٰی نُوْرِ الْہُدٰی کَہْفِ الْوَرٰی مِصْبَاحِ الظُّلَمِ ط جَمِیْلِ الشِّیَمِ ط شَفِیْعِ الْاُمَمِط صَاحِبِ الْجُوْدِ وَ الْکَرَمِط وَاللّٰہُ عَاصِمُہٗ وَ جِبْرِیْلُ خَادِمُہٗ وَ الْبُرَاقُ مَرْکَبُہٗ وَ الْمِعْرَاجُ سَفَرُہٗ وَ سِدْرَۃُ الْمُنْتَہٰی مَقَامُہٗ وَ قَابَ قَوْسَیْنِ مَطْلُوْبُہٗ وَ الْمَطْلُوْبُ مَقْصُوْدُہٗ وَ الْمَقْصَوْدُ مَوْجَوْدُہٗ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ شَفِیْعِ الْمُذْنِبِیْنَ اَنِیْسِ الْغَرِیْبِیْنَ رَحْمَۃٍ لِلْعٰلَمِیْنَ رَاحَۃِ الْعَاشِقِیْنَ مُرَادِ الْمُشْتَاقِیْنَ شَمْسِ الْعَارِفِیْنَ سِرَاجِ السَّالِکِیْنَ مِصْبَاحِ الْمُقَرَّبِیْنَ مُحِبِّ الْفُقَرَآءِ وَ الْغُرَبَآءِ وَ الْمَسَاکِیْنَ سَیِّدِ الثَّقَلَیْنِ نَبِیِّ الْحَرَمَیْنِ اِمَامِ الْقِبْلَتَیْنِ وَسِیْلَتِنَا فِیْ الدَّارَیْنِ صَاحِبِ قَابَ قَوْسَیْنِ مَحْبُوْبِ رَبِّ الْمَشْرِقَیْنِ وَ الْمَغْرِبَیْنِ جَدِّ الْحَسَنِ وَ الْحُسَیْنِ مَوْلَانَا وَ مَوْلَی الثَّقَلَیْنِ اَبِیْ الْقَاسِمِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ نُوْرِ مِّنْ نُوْرِ اللّٰہِ ط یَآ یُّہَا الْمُشْتَاقُوْنَ بِنُوْرِ جَمَالِہٖ صَلُّوْا عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ اَصْحَابِہٖ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا* ترجمہ :اے اللہ پاک رحمت فرماہمارے سرداراورہمارے آقامحمد، تاج ومعراج والے، بُراق اوربلندی والے پر، بَلِیَّات ووَبا، قحط ومرض، دُکھ اور مصیبت کے دورکرنے والے پر، جن کااِسمِ گرامی لکھاہواہے بلندہے اوراللہ پاک کے نام کے ساتھ جڑاہواہے لوحِ محفوظ اورقلم میں رنگ آمیزی کیاہواہے ، عرب اورعجم کے سردار، جن کاجسم مبارک ہرعیب سے مبرّا، خوشبو کا منبع ، انتہائی پاکیزہ، نورٌعلی نور، اپنے گھراورحرم میں (ان تمام احوال کے ساتھ آج بھی موجودہیں )صبح کے روشن اورخوشنما سورج، چودھویں رات کے چاند، بلندی کے ماخذ، ہدایت کے نور، مخلوق کی جائے پناہ، تاریکیوں کے چراغ، بہترین خلق وعادات والے، امّتوں کی شفاعت کرنے والے ، سخاوت اورکرم کے والی پردُرُودوسلام اور اللہ پاک ان کامحافظ ہے جبریل امین خادِم ہیں اور بُراق سواری ہے معراج ان کاسفرہے اورسدرۃالمنتہیٰ ان کامقام ہے اورقاب قوسین (کمال قرب الٰہی )ان کامطلوب ہے اورمطلوب یعنی کمال قرب الٰہی وہی مقصودہے اورمقصودحاصل ہوچکاہے تمام رسولوں کے سردار، تمام انبیاء کے بعدآنیوالے، گنہگاروں کی شفاعت کرنے والے ، مسافروں اوراجنبیوں کے غمگسار، تمام جہانوں پررحم فرمانے والے، عاشقوں کی راحت اور مشتاقوں کی مراد، جملہ ہائے عارفوں کے سورج، سالکوں کے چراغ، مقربین کی شمع، فقیروں پر دیسیوں اور مسکینوں سے محبت والفت رکھنے والے، جنات اورانسانوں کے سردار، حرم مکہ اورحرم مدینہ کے نبی، بیت المقدس اورخانہ کعبہ دونوں قبلوں کے امام، دنیا و آخرت میں ہمارے وسیلہ، قاب قوسین کی نویدوالے، مشرقوں اورمغربوں کے رب کے حبیب، امام حسن اورامام حسین کے نانا، ہمارے آقا، جملہ جن واِنس کے والی، یعنی ابوالقاسم محمد بن عبد اللہ ، اللہ پاک کے نورمیں سے عظمت ورفعت والے نورپردُرُودوسلام، ان کے نورِجمال کے عاشقو، خوب صلاۃ وسلام بھیجوان کی ذات والاصفات پراوران کی آل واصحاب پر۔
بزرگان دین رحمۃ اللہ علیہم اجمعین نے اس خوبصورت الفاظ پر مشتمل درود پاک کی اپنے تجربات کی روشنی میں برکات بھی بیان فرمائی ہے ۔ترغیب کے لئے یہاں ان برکات کو بیان کیا جارہا ہے (1) روزی میں بَرَکت کے لئے سات باربعدنمازِفجر ہمیشہ وِرد رکھے۔ (2) دشمنوں ، ظالموں ، حاسِدوں اور حاکموں کے شرسے محفوظ رہنے کیلئے اور غم وغربت دورہونے کے لئے چالیس شب متواتر(یعنی بلاناغہ) بعد نمازِ عشا 41 بارپڑھے۔ (3) سحروآسیب جن وشیطان کے دفع کیلئے اورچیچک کے لئے 11 بارپڑھ کردَم کرے اِن شآءَ اللہ فائدہ ہوگا ۔ (4)قلْب کی صفائی کے لئے ہرروزبعدنمازصبح ساٹھ باراوربعدنمازِعصرتین باراور بعد نمازِعشا3 باروِرْد رکھے۔ (5) جوشخص عروجِ ماہ(یعنی چاندکی پہلی سے چودھویں تک) شبِ جمعہ میں بعد نمازِ عشا باوضو پاک کپڑے پہن کرخوشبو لگاکرایک سو ستر بار اس دُرُودِ پاک کو پڑھ کر سو رہے ، گیارہ شب مُتواتر (یعنی بلاناغہ) اسی طرح کرے اِن شآءَ اللہ حضورِ اکرم ﷺ کی زِیارت سے مشرَّف ہو گا۔ (مدنی پنجسورہ)
لفظ *صاحب التاج * کا معنی " تاج والے " ہیں ۔ تاج سے مراد " عمامہ" ہے ۔ یعنی نبی پاک ﷺ عمامے والے ہیں ۔ روایت میں ہے کہ نبی پاک ﷺ نے عمامے کا استعمال فرمایا ۔ عامہ شریف پیارے آقا ﷺ نے ہمیشہ اپنے سر منور پر سجائے رکھا ۔ اسی مناسبت سے یہاں صاحب التاج کا نام سرکار ﷺ کے لئے استعمال ہوا ۔
صاحب المعراج کے معنی " معراج والے " ہیں ۔ معراج پیارے آقا ﷺ کا عظیم معجزہ ہے ، جو آپ ﷺکو 27 رجب المرجب کی رات عطا فرمایا گیا ۔ جس میں آپ ﷺ کو ساتوں آسمانوں کی سیر کروائی گئی ، جنت کی سیر بھی ہوئی ، سدرۃ المنتھیٰ ، عرش معلی ، بیت المعور پر آپ ﷺ کو لے جایا گیا۔ اور اسی رات اللہ پاک نے اپنے محبوب ﷺ کو اپنا دیدار بھی عطا فرمایا ۔ اسی مناسبت سے آپ کو صاحب المعراج کا نام دیا گیا ۔
دافع البلاء کا معنی " بلاوں کو دور کرنے والے " کے ہیں ۔ حقیقی طور پر بلاوں اور مصیبتوں کو دور کرنے والی ذات اللہ رب العالمین ہی ہے ۔ اور اللہ پاک نے اپنے محبوب ﷺ کو بھی یہ وصف عطا فرمایا ۔ آپ ﷺ اللہ پاک کے حکم سے بلاوں کو دور فرماتے ہیں ۔ سب سے بڑی آزمائش تو اہل ایمان کے لئے میدان محشر ہے ، جہاں حساب و کتاب کا معاملہ ہونا ہے ، اس وقت میں بھی اہل ایمان کی شفاعت فرما کر ، اس آزمائش سے نجات دلانے والے پیارے محبوب ﷺ ہیں۔ اسی لئے آپ کو دافع البلاء کا نام بھی دیا گیا ۔
سید العرب والعجم کے معنی " عرب کے سردار اور عجم کے سردار " کے ہیں ۔ نبی پاک ﷺ عرب و عجم کے سردار ہیں ۔ حدیث پاک ہے : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ ﷺ: *أَنَا سَیِّدُ وَلَدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ* ترجمہ : آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں اولاد آدم کا سردار ہو ۔ (ابن ماجہ ، حدیث 4308)
شفیع امت کے معنی " امت کی شفاعت کرنے والے " کے ہیں ۔ نبی پاک ﷺ بروز قیامت اپنی امت کی شفاعت فرمائینگے اور آپ ﷺ ہی سب سے پہلے شفاعت فرمانے ہیں اور سب سے پہلے آپ کی شفاعت اللہ پاک کی بارگاہ میں قبول کی جائے گی۔ حدیث پاک ہےآپ ﷺ نے ارشاد فرمایا *وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ، وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ، وَلَا فَخْرَ * ترجمہ :میں ہی سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں اور میری شفاعت ہی سب سے قبول کی جائے گی ، (اللہ پاک نے یہ مقام عطا فرمایا، ) اس پر میں فخر نہیں کرتا۔ (ابن ماجہ ، حدیث 4308)۔ اسی مناسبت سے آپ کا ایک صفاتی نام " شفیع الامت " بھی ہے ۔
صاحب جو دو کرم کے معنی "سخاوت کرنے والے " نبی پاک ﷺ کے انداز سخاوت کو حضور ﷺ کی سوشل لائف کورس میں ذکر کیا گیا ہے۔ آپ ﷺ کی سخاوت کے بارے میں حضرت صفوان رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنی قوم سے کہا کہ *أَي قوم أَسْلمُوا فو الله إِنَّ مُحَمَّدًا لَيُعْطِي عَطَاءً مَا يَخَافُ الْفَقْرَ.* اے میری قوم ! تم اسلام لے آؤ !اللہ پاک کی قسم! محمدﷺ ایسی سخاوت فرماتے ہیں کہ فَقْر(مُحتاجی) کا خوف نہیں رہتا۔ ( مشکوۃ المصابیح ، حدیث 5806)
محب الفقراء والغرباء کے معنی " غریبوں اور محتاجوں سے محبت کرنے والے "کے ہیں۔ پیارے آقا ﷺ غرباء و مساکین و محتاجوں پر شفقت فرمانے والے ہیں ۔ اللہ پاک ، آپ ﷺ کی نرمی و شفقت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے :* فَبِمَارَحْمَةٍمِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ* ترجمہ : تو اے حبیب! اللہ کی کتنی بڑی مہربانی ہے کہ آپ ان کے لئے نرم دل ہیں۔ (پارہ 04، سورہ اٰل عمران ، آیت 159)۔
وسیلتنا فی الدارین کا معنی " دنیا و آخرت میں ہمارے وسیلہ" کے ہیں ۔ یعنی دنیا میں بھی سرکار ﷺ ہمارے لئے رب کی بارگاہ میں وسیلہ ہیں اور میدان محشر میں بھی سرکار ﷺ کی ذات مبارکہ ہی ہمارے لئے نجات و بخشش کا ذریعہ اور وسیلہ ہیں ۔ اسی مناسبت سے آپ کا ایک صفاتی نام " وسیلتنا فی الدارین " بھی ہے ۔
صاحب قاب قوسین سے مراد شب معراج سرکار ﷺ کو اللہ پاک نے جو اپنا قرب خاص عطا فرمایا ، اس کی مناسبت سے آپ ﷺ کو صاحب قاب قوسین کا نام دیا گیا۔
*نور من نور اللہ* کا معنی " اللہ پاک کے نور سے پیدا ہونے والے " کے ہیں ۔ نبی پاک ﷺ کا یہ نام مبارک حدیث پاک سے لیا گیا ہے جس میں سرکار ﷺ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : *یاجابر! ان اللہ تعالیٰ قد خلق قبل الاشیاء نور نبیک من نورہ* ترجمہ : اے جابر اللہ پاک نے تمام اشیاء سے پہلے تیرے نبی کے نور کو اپنے نور سے پیدا فرمایا۔ (مصنف عبدالرزاق )۔ علامہ عبدالحکیم شرف قادری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ نے اپنے نور سے کسی چیز کے واسطے کے بغیر آپ کا نور پیدا فرمایا " ۔ (عقائدو نظریات ، صفحہ 284)
سیرت رسولﷺ سے اپنے استعمال کی اشیاء کے نام رکھنا بھی ثابت ہے ۔ سرکار ﷺ اپنے ، عمامہ شریف ، اپنی سواریوں ، اور بکریوں کے نام بھی رکھا کرتے تھے ۔ سیرت رسول ﷺ کی اتباع میں اسلاف کا بھی یہ انداز رہا کہ وہ اپنی اشیاء کے نام رکھا کرتے تھے۔ کورس کے اس مرحلے میں ہم پیارے آقا ﷺ کی مختلف اشیاء و سواریوں کے نام کی تفصیل ذکر کررہے ہیں ۔ تاکہ اسوہ رسول پر چلتے ہوئے ہم بھی اپنے استعمال کی اشیاء کے نام رکھیں اور سیرت رسول کے اس پہلو پر بھی عمل کرکے برکت حاصل کریں ۔
نبی پاک ﷺ کے برتنوں میں پانچ پیالے تھے ۔ ہر ایک کا مختلف نام تھا ۔ ایک پیالے کا نام *سعۃ* تھا ۔ جس کے معنی کشادہ کے ہیں۔ اور دوسرا پیالہ جو کافی بڑا تھا اس کا نام *غرّاء* تھا۔ غراء کے معنی چمکدار ہونے کے ہیں۔ تیسرے پیالے کا نام ریان تھا۔ *ریان* کا معنی ہیں کسی چیز کا بھرا ہوا ہونا۔ چوتھے پیالے کا نام مغیث کے ہیں یعنی مددگار اور پانچویں پیالے کا نام * مضیب * تھا، جس کے معنی ٰ چاندی چڑھا ہوا ہونے کے ہیں ؛ اس پیالے پر چاندی کے تار لگے ہوئے تھے ۔
حضور ﷺ کی مبارک سواریوں میں گھوڑا ، خچر ، اونٹنی ، اور دراز گوش (جسے ہمارے عرف میں گدھا" کہتے ہیں ) یہ شامل تھے ۔ گھوڑوں کے نام :ایک کا نام : *لحیف* (لمبی دم والا)۔ دوسرے کانام : *ظرب*(مضبوط و طاقتور )۔ تیسرے کا نام *لزار* (تیز رفتار )۔ چوتھے گھوڑا جو جس کا رنگ سیاہ تھا اس کا نام *سکب* (تیز رفتار) تھا ۔ خچر کا نام : ایک سیاہی مائل سفید خچر تھا ، اس کا نام *دلدل* تھا ۔ اونٹنی کا نام :ایک اونٹنی تھی جس کا نام *قصواء* تھا ۔ دراز گوش کا نام : ایک دراز گوش جس کا نام *یعفور* تھا ۔ (نام رکھنے کے احکام ، صفحہ 111، مکتبۃ المدینہ)
امام محمد بن یوسف الصالحی الشامی علیہ الرحمہوالرشاد میں نقل فرماتے ہیں :*قال: كانت منائح رسول الله ﷺ من الغنم عشرا.الأولى: عجوة.الثانية: زمزم.الثالثة: سقيا.الرابعة: بركة. الخامسة: ورسة.السادسة: إطلال.السابعة: إطراف.الثامنة: قمرة.التاسعة: غوثة أو غوثيّةوعنز تسمى اليمن.* ترجمہ: ابن سعد سے روایت ہے کہ رسول کائنات ﷺ کی دس دودھ دینے والیاں بکریاں تھی (ان کے مختلف نام تھے ) :(1)عجوہ (2)زمزم (3)سُقیا (4)بَرَکۃ (5)ورسۃ (6)اطلال (7)اطراف (8)قمرہ (9)غوثیۃ (10) یُمن (سبل الہدیٰ والرشاد ، جلد 7، صفحہ 412، مطبوعہ بیروت)
نبی پاک ﷺ اچھے ناموں کو پسند فرماتے تھے ، اس لئے نبی پاک ﷺ مختلف وجہ سے صحابہ کرام کے ناموں کو تبدیل فرما کر اپنا پسندیدہ نام عطا فرمایا ۔ نبی پاک ﷺ نے جن کے نام تبدیل فرمائے ، ان میں سے بعض کا ذکر ہم اس مرحلے میں سنیں گے ۔ سرکار ﷺ کے اس انداز سے ہمیں یہ بھی سیکھنے کو ملتا ہے کہ اچھے نام رکھے جائیں اور جن کے معانی اچھے نہ ہو ان ناموں کو تبدیل کردینا چاہیئے ۔
حضرت ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : زمانۂ جاہلیت میں میرانام عبدِشَمْس ( سُورج کا بندہ ) تھا پھر حضورِ اکرم ﷺ نے میرا نام عبدُالرّحمٰن رکھا۔ (ماہنامہ فیضان مدینہ ، ستمبر 2023، بحوالہ اسد الغابہ)
امُّ المومنین حضرت زینب بنتِ جحش اور حضرت زينب بنتِ ابو سلمہ رضی اللہ عنہما دونوں ہی کا نام برّہ تھا رسولِ اکرم ﷺ نے بدل کر زینب رکھ دیا۔ اسی طرح اُمُّ المؤمنین حضرت جُوَیریہ رضی اللہ عنہا کا نام بھی بَرّہ تھا ، آپ ﷺ نے بدل کر جُویریہ رکھ دیا۔ ( چونکہ بَرّۃ کا مطلب ہے نیکی ) تو آپ ﷺ کو یہ کہا جانا پسند نہیں تھا کہ نیکی کے پاس سے چلا گیا۔ (فتح الباری ، تحت الحدیث 6192)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ایک بیٹی کا نام عاصیہ تھا جس کا معنی گنہگار کے ہیں ۔ آپ ﷺ نے اسے بدل کر جمیلہ رکھ دیا۔ حضرت مطیع بن اَسْوَد کا نام عاصی ( گناہ گار ) تھا آپ ﷺ نے مطیع رکھ دیا۔ (صحیح مسلم ، حدیث 5605، 4628)
عبدُ الجبار بن حارث رضی اللہ عنہ کا سابقہ نام جبّار تھا آپ ﷺ نے تبدیل کرتے ہوئے فرمایا : تم * عَبْدُ الْجَبَّار* ہو۔ (ماہنامہ فیضان مدینہ، ستمبر 2023، بحوالہ اسد الغابہ)
حضرت عبدُ الرحمٰن بِن اَبُوسَبْرَہ کا نام عَزِیز تھا ( یہ اللہ پاک کے صفاتی ناموں میں سے ہے ) حضورِ اکرم ﷺ نے *عبدُ الرّحمٰن* رکھا اور فرمایا سب سے اچھے نام عبدُ اللہ ، عبدُالرّحمٰن اور حارِث ہیں۔ (ماہنامہ فیضان مدینہ ، ستمبر 2023، بحوالہ اسد الغابہ)
نام خواہ کسی فردکا ہو یا کسی شے کا ، وہ نام اس فرد یاچیز کا ایک تعارف ہوتا ہے ۔ اسی لئے دین اسلام میں اچھے نام رکھنے کی اہمیت بھی بیان کی گئی ہے اور اس کی ترغیب بھی دی گئی ۔ اللہ رب العالمین نے خود قرآن پاک میں اپنی ذات کے لئے اس بات کو بیان فرمایا کہ اللہ پاک کے نام اچھے ہیں ، اللہ پاک کو انہی ناموں سے پکارو ، ارشاد فرمایا : *وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا* ترجمہ : اور اللہ ہی کے ہیں بہت اچھے نام تو اسے ان سے پکارو۔ (پارہ 09، سور ۃ الاعراف ، آیت 180) اسی طرح اللہ رب العالمین نے قرآن پاک میں جہاں انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر فرمایا ان میں سے بعض مقامات ایسے بھی ہیں جہاں اللہ پاک نے انبیاء کرام کو نام عطا فرمائے ، جس سے نام رکھنے کی اہمیت بھی واضح ہوتی ہے ۔ حضرت زکریا علیہ الصلوۃ والسلام کو جب اولاد کی خوشخبری سنائی تو ساتھ نام بھی عطا فرمایا ۔ ارشاد ہوا : *یٰزَكَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ-ﹰاسْمُهٗ یَحْیٰىۙ-لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا* ترجمہ : اے زکریا ہم تجھے خوشی سناتے ہیں ایک لڑکے کی جن کا نام یحییٰ ہے اس کے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی نہ کیا۔ ( پارہ 16، سورہ مریم ، آیت 07)۔ پیارے آقا ﷺ نے بھی اچھے نام رکھنے کی ترغیب دی اور اچھے نام کو پیدا ہونے والے بچے کے لئے پہلا تحفہ قرار دیا ۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا : *اَوَّلُ مَا یُنْحِلُ الرَّجُلُ وَلَدَہٗ اِسْمُہٗ فَلْیُحْسِنْ اِسْمَہٗ* یعنی آدمی سب سے پہلا تحفہ اپنے بچے کو نام کا دیتا ہے اس لئے چاہئے کہ اُس کا نام اچھا رکھے ۔ (مجمع الذوائد ، حدیث 8875)
حضرت مُطیع بن اسود رضی اللہ عنہ نے خواب میں دیکھا کہ انہیں کھجوروں کی تھیلی دی گئی، انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اپنا خواب بیان کیا ، تو آپ نے پوچھا : کیا تمہاری زوجہ اُمید سے ہے ؟ انہوں نے عَرْض کی : جی ہاں۔ حضورِ اقدس ﷺ نے فرمایا : عنقریب اس سے تمہارا بیٹا پیدا ہوگا۔ جب بچّہ پیدا ہوا وہ اسے بارگاہِ رسالت میں لے کر حاضر ہوئے، آپ نے اسے کھجور کی گھٹی دی ، اس کا نام عبدُ اللہ رکھا اور اس کے لیے بَرَکت کی دعا بھی فرمائی۔ (ماہنامہ فیضان مدینہ ، ستمبر 2023)
حضرت ابو موسیٰ اَشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی تو میں اسے رسولُ اللہ ﷺ کی بارگاہ میں لے گیا، آپ نے اس کا نام *اِبراہیم * رکھااور اسے کھجور سے گھٹی دی۔ (صحیح مسلم ، حدیث 5615)
حضرت سَلَمَہ ہُذَلی رضی اللہ عنہ جو غزوۂ حُنین میں رسولُ اللہ کے دفاع کے لئے تیر برسا رہے تھے ، اسی دوران اپنے ہاں بیٹا پیدا ہونے کی خوشخبری ملی تو کہنے لگے ا : رسولُ اللہ ﷺ کی حفاظت کے لئے تیر برسانا مجھے اس خوشخبری سے زیادہ عزیز ہے پھر بعد میں اپنے بیٹے کو بارگاہِ رسالت میں لائے ، تو حضورِ اکرم ﷺ نے انہیں گھٹی دی، ان کے منہ میں لعابِ دَہن ڈالا، دعا سے نوازا اور سِنَان (یعنی نیزے کی نوک) نام رکھا۔ ( ماہنامہ فیضان مدینہ ، بحوالہ الاستیعاب ، ستمبر 2023)
حضرت سیِّدُنا ابو مریم رضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں کہ میں نے خدمتِ اقدس میں حاضر ہوکر عرض کی : یارسولَ اللہ ! آج رات میرے ہاں بچی کی ولادت ہوئی ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا: آج رات مجھ پر سورۂ مریم نازل ہوئی ہے ، پھر آپ نے میری بیٹی کا نام مریم رکھ دیا اور میری کنیت *ابو مریم* رکھی۔ (ماہنامہ فیضان مدینہ ، بحوالہ اسد الغابہ ، ستمبر 2023)
حضرت یحییٰ بن خَلَّاد رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے اور بارگاہِ اقدس میں لائے گئے ، آپ نے کھجور چبا کر گھٹی دی اور فرمایا : میں اس کا وہ نام رکھوں گاجو حضرت یحییٰ بن زکریا علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد کسی کا نہیں رکھا گیا، پھر آپ نے ان کا نام یحییٰ رکھا۔ ( ماہنامہ فیضان مدینہ ، بحوالہ اسد الغابہ ، ستمبر 2023) جس طرح نبی پاک ﷺ نے اچھے نام رکھے اسی طرح آپﷺ نے اپنے اصحاب کو کنیت بھی عطا فرماتے تھے۔ کنیت سے مراد: *اَلْکُنْیَۃُ مَا صَدَرَ بِاَبٍ اَوْ بِاُمٍ اَوْ اِبْنٍ اَوْ اِبْنَۃٍ کُنْیَت* سے مرادوہ نام ہے جو *اَبْ، اُمْ، اِبْن* یا *اِبْنَۃْ* سے شروع ہو ۔
ایک بار سرکارِ نامدار ﷺ نے حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی آستین میں چھوٹی سے بلی ملاحظہ فرمائی تو فرمایا : *یَااَبَا ہُرَیْرَۃ* یعنی اے چھوٹی سی بلی والے ۔ (ہریرہ عربی زبان میں چھوٹی بلی کو کہتے ہیں ) (عمدۃ القاری ، تحت الحدیث4393)
ایک موقع پر نبی پاک ﷺ سیدتنا فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے تو سیدناعلی المرتضی رضی اللہ عنہ کو گھر میں نہ پایا ، ایک شخص کو آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خبر لانے کے لئے بھیجا ، وہ شخص واپس آیا اور عرض کی : یارسول اللہ ﷺ وہ مسجد میں لیٹے ہوئے ہیں ۔ نبی پاک ﷺ خود مسجد میں تشریف لائے ، سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کو آرام کرتا پایا ، ان کے ایک پہلو سے چادر ہٹ گئی تھی ، اور پہلو مبارک پر مٹی لگی ہوئی تھی ، نبی پاک ﷺ ان کے پہلو سے مٹی ہٹاتے ہوئے فرمانے لگے *قُمْ یَا ابا تُرَاب!قُم یَا ابا تُرَاب!* اٹھ اے خاک والے !اٹھ اے خاک والے (بخاری، حدیث 441)
شارحِ بخاری شمس الدین محمد بن عمر بن احمد سفیری شافعی نَقْل کرتے ہیں : حضرتِ سیِّدُنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوذَر اس لئے ہوئی کہ آپ کے پاس روٹی رکھی تھی کہ اچانک اس پر چیونٹیاں نمودار ہو گئیں ، آپ نے چیونٹیوں سمیت روٹی کا وَزْن کیا تو اس سے روٹی کے وزن میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، آپ نے ارشاد فرمایا : ان چیونٹیوں کودیکھو!دنیا کے ترازو میں ان کا کوئی اثر ظاہر نہیں ہوااور پلڑا بھاری نہیں ہوالیکن آخرت کا میزان بڑا ہونے کے باوجودہلکاہے اور ایک چیونٹی کی وجہ سے بھی وزن بڑھ جاتاہے ، اس دن سے آپ کی کنیت ابوذَررکھ دی گئی ۔ (شرح البخاری للسفیری، ۲ / ۴۴)
نسبت رسول ﷺ جس چیز کو حاصل ہوئی وہ عظمت والی ہوگئی ۔ مدینہ منورہ کو بھی نبی پاکﷺ سے نسبت حاصل ہے ، اسی وجہ سے حضور ﷺ سچی محبت کرنے والوں کے دل اس شہر کی طرف مائل ہوتے ہیں بلکہ حاضری مدینہ منورہ کے لئے ان کی آنکھیں اشکبار رہتی ہیں۔ مدینہ منورہ کی عظمت یوں بھی ظاہر ہے کہ علماء نے اس شہر کے سو سے زیادہ نام بیان فرمائے ہیں، پوری دنیا میں کوئی ایسا شہر نہیں جس کےاتنے زیادہ نام ہو ۔ ہم یہاں شہر مدینہ کے چند نام اور اس کی مختصر تشریح سنتے ہیں تاکہ ہمارے دل میں جو مدینہ منورہ کی محبت ہے اس میں مزید اضافہ ہو۔
طیبہ کا معنی "پاک " ہے ۔ شہر مدینہ کا نام سرکار ﷺ نے طیبہ رکھا ۔ خود پیارے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا : *اِنَّ اللهَ اَمَرَنِي اَنْ اُسَمِّيَ الْمَدِينَةَ طَيْبَةَ* ترجمہ : اللہ پاک نے مجھے حکم دیا کہ میں مدینے کا نام طیبہ رکھوں۔ (معجم کبیر ، حدیث1987)
طابہ کا معنی " پسندیدہ" ہیں ۔ حدیث پاک میں سرکار ﷺ نے اس بات کو بیان فرمایا کہ مدینہ منورہ کا نام "طابہ" اللہ رب العلمین نے رکھا ۔ *اِنَّ اللَّهَ تَعَالَى سَمَّى الْمَدِينَةَ طَابَةَ* ترجمہ: بے شک اللہ پاک نے مدینے کا نام طابہ رکھا ہے۔ (صحیح مسلم ، حدیث 3357)
ارض اللہ کا معنی " اللہ کی زمین " کے ہیں ۔ ویسے تو پوری کائنات کی زمین اللہ پاک کی ہی ہے البتہ قرآن کریم میں جہاں یہ لفظ ذکر کیا گیا ، وہی ہجرت کا بھی کہا گیا ۔ چونکہ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے اس سرزمین کی طرف ہجرت کی تو اسی مناسبت سے اس سرزمین کا ایک نام "ارض اللہ" بھی شمارکیا گیا ۔ قرآن کریم میں ہے : *قَالُوْۤا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَا* ترجمہ : کیا اللہ کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرجاتے؟ (پارہ 05، سورۃ النساء ، آیت 97)
ارض الہجرۃ کا معنی " وہ زمین جس طرف ہجرت ہوئی " کے ہیں ۔ ویسے تو مسلمانوں نے حبشہ کی طرف بھی ہجرت کی ہے البتہ نبی پاک ﷺ نے ابتداء جس سرزمین کی طرف ہجرت فرمائی وہ مدینہ منورہ ہے اور قرآن کریم میں بھی اللہ پاک کی زمین کی طرف ہجرت کا ذکر موجود ہے ۔ اسی مناسبت سے اس سرزمین کا ایک نام " ارض الہجرۃ " بھی شمارکیا گیا ۔ قرآن کریم میں ہے : *قَالُوْۤا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَا* ترجمہ : کیا اللہ کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرجاتے؟ (پارپ 05، سورۃ النساء ، آیت 97)
لفظ " حبیبہ " کا معنی "جس سے محبت کی جائے " کے ہیں ۔ محبوب آقا ﷺ نے اپنی دعا میں اس شہر کی محبت کا ذکر فرمایا : *اَللّٰهُمَّ حَبِّبْ اِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ اَوْ اَشَدَّ* ترجمہ: اے اللہ پاک! ہمیں مدینہ ایسا محبوب بنا دے جیسا ہمیں مکہ محبوب ہے یا اس سے بھی زیادہ ،مدینہ محبوب بنادے ۔ (صحیح بخاری ، حدیث 1890) اسی مناسبت سے اس شہر کا نام حبیبہ بھی ہے اور محبوب بھی ہے ۔
لفظ *حرم* کا معنی " عزت والا " ، یا " محترم " کے ہیں ۔ مدینہ منورہ کے اس نام کا ذکر بھی حدیثوں میں کیا گیا ، ارشاد ہوا : *اَلمَدِینَۃُ حَرَمٌ* ترجمہ : مدینہ عزت و احترام والا شہر ہے۔ (صحیح بخاری ، حدیث 1870)
لفظ *حسنہ * کے معنی "خوبصورتی " کے ہیں ۔ شہر مدینہ کی خوبصورتی ظاہری بھی ہے ، باطنی بھی ہے ۔ ظاہری خوبصورتی تو مدینہ منورہ کی یہ ہے کہ وہاں باغات ہیں ، بلند پہاڑ ہیں ، چشمے ہیں ، کشادہ فضائیں ہیں اور باطنی خوبصورتی شہر مدینہ کی یہ ہے کہ اس شہر کی نسبت رسول اللہ ﷺ سے ہے ۔ اس شہر کی نسبت اٰل رسول و اصحاب رسول سے ہے ۔ اور نبی پاکﷺ بھی ، اصحاب رسول و اہل بیت اطہار رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین بھی اس شہر میں آرام فرماہیں ۔
لفظ "خیر " کا معنی " بھلائیوں والی جگہ " کے ہیں ۔ مدینہ منورہ خیر و بھلائی کا جامع ہے ۔حدیث پاک میں ہے : *اَلْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ* ترجمہ : مدینہ ان کے لئے خیر و بہتر ہے اگر وہ جانتے۔ (صحیح بخاری ، حدیث 1875)
لفظ *الشافیہ* کے معنی شفاء دینے والا " کے ہیں۔ مدینہ منورہ کی مٹی میں اللہ پاک نے شفاء رکھی ہے ۔ حدیث پاک میں ہے ، نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے *اِنَّ فِیْ غُبَارِھَا شِفَاءً مِّنْ کُلِّ دَآءٍ* بے شک مدینۂ پاک کے غُبار میں ہر بیماری کی شِفَا ہے۔ (الترغیب والترہیب ، حدیث 28۹
لفظ * قریۃ الانصار * کے معنی "انصار کی بستی " کے ہیں ۔ اس نام کی وجہ یہ ہے کہ جب مکہ سے مدینہ منورہ کی جانب صحابہ کرام علیہم الرضوان نے ہجرت فرمائی تھی تو وہاں کے مکینوں یعنی رہائشیوں نے ہجرت کرکے آنے والوں کی مدد فرمائی تھی ۔ اسی مناسبت سے انہیں انصار یعنی مددگار کہا جاتا ہے ۔ اور مدینہ منورہ کو انصار کی بستی کہا جاتا ہے ۔
یہ چند ہی نام ، ان کے معانی و مضمون کے ساتھ پیش کئے ہیں ،اس کے علاوہ بھی مدینہ منورہ کے کئی سارے نام ہیں ۔ آپ کے ذوق کے لئے مزید یہاں صرف چند نام ذکر کرتے ہیں : جیسے: *دارُ الابرار، دارُ السنۃ، دارُ السلام، ذاتُ الحجر، ذاتُ النخل، سیدُ البلدان، ، طائب، المطیبہ، ، العاصمہ، قبۃُ الاسلام، قلبُ الایمان، المؤمنہ، المبارکہ، مبینُ الحلال والحرام، المحرمہ، المحفوظہ، المدینہ، المختارہ، المرزوقہ، المقدسہ، الناجیہ* وغیرہ۔ ان میں سے ہر نام کا کوئی نہ کوئی پیارا و خوب صورت معنی و مطلب بھی ہے ۔ اللہ پاک ہمیں شہر مدینہ میں حاضری کی سعادت بھی عطا فرمائے ۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے تو شہر مدینہ کی فضیلت میں یہ بھی بیان فرمایا کہ *مَنِ اسْتَطَاعَ اَنْ يَّمُوتَ بِالْمَدِينَةِ فَلْيَمُتْ بِهَا* ترجمہ : تم میں سے جس سے ہو سکے کہ وہ مدینےمیں مرے تو مدینے ہی میں مرے ، فَاِنِّي اَشْفَعُ لِمَنْ يَمُوْتُ بِهَا ترجمہ : کیونکہ میں مدینے میں مرنے والے کی شفاعت کروں گا۔ (جامع ترمذی ، حدیث 3943)