پیارے آقا  ﷺ  کی معاشرتی زندگی
لائیوغیر فعال

پیارے آقا ﷺ کی معاشرتی زندگی

پیارے آقا ﷺ کی معاشرتی زندگی

136

انرولمنٹس

20

مکمل

5.0

ریٹنگ

اقسام

سماجی رہنما ء

سماجی رہنما ء

ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم کو اللہ پاک نے ایسے نبی کا امتی بنایا جن کی زندگی کے صبح و شام ، جن کی سیرت طیبہ کا ہر پہلو رہتی دنیا تک کہ تمام ہی لوگوں کے لئے بہترین رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ مخلوق خدا کی بہتری ، اس کا نظم و ضبط قائم کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے لئے بھی اگر ہم سیرت رسولﷺ سے رہنمائی لیں ، تو بہترین انداز سے ہم سماج (سوسائٹی /معاشرہ) میں تبدیلی لاسکتے ہیں کیونکہ رسول کائناتﷺ بہترین سماجی رہنماء تھے ۔آپ کی سماجی خدمات اعلان نبوت سے پہلے ہی اہل عرب میں معروف تھیں ۔ نبی پاکﷺ کی سماجی خدمات کے حوالے سے ہم کورس کے اس پہلے مرحلے میں جانے گے اور معاشرے کا ایک بہترین فرد بننے کی کوشش کرینگے ۔ 


عدل و انصاف کا قیام

عدل و انصاف ایک ایسا وصف ہے جس کو اللہ رب العزت پسند فرماتا ہے اور معاشرے کے ہر فرد، بالخصوص عدل و انصاف قائم کرنے کے منصب و عہدے پر جو لوگ موجود ہیں، ان کی اولین ذمہ داری ہے کہ اپنے اس منصب و عہدے کے ساتھ مخلص رہیں ۔ اگر یہی لوگ ظالم بن جائیں تو اس سے صرف معاشرے کا امن ہی برباد نہیں ہوتا بلکہ اس معاشرے سے خیر و برکت بھی چلی جاتی ہے۔ اللہ رب العزت قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے : *اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ* ترجمہ : بے شک اللہ عدل کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے ۔(پارہ 26 ، سورۃ الحجرات ، آیت نمبر 09) خود نبی پاک ﷺ نے بھی عدل وانصاف کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : *عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رَسُولُ الله صَلَى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: اِنَّ الْمُقْسِطِينَ عِنْدَ اللهِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ :الَّذِينَ يَعْدِلُوْنَ في حُكْمِهِمْ واَهْلِيْهِم وَمَا وَلُوْا.* ترجمہ : حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہےکہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اِنصاف کرنے والے اللہ پاک کے ہاں نور کے منبروں پر ہوں گے (یہ وہ لوگ ہیں)جو اپنی حکومت،اپنے اہل و عیال اور اپنے ما تحت لوگوں میں عدل و انصاف سے کام لیتے تھے۔ (ریاض الصالحین ، جلد 05، حدیث 660، مکتبۃ المدینہ)



قبیلہ بنو مخزوم کی عورت کا واقعہ

عورت جس کا نام فاطمہ بنت اسود بن عبد الاسد تھا جو قریش کے ایک بہت بڑے قبیلے بنو مخزوم کی عورت تھی ،ابو جہل بھی اسی قبیلہ سے تھا ۔اس عورت کی عادت یہ تھی کہ یہ لوگوں سے عاریتاً سامان لیتی اور پھر اس کا انکار کردیتی ۔ اس نے کسی کا مال چوری کیا تھا تو مال کی چوری پر رسول اللہ ﷺ نے ہاتھ کاٹنے کی سزا سنائی۔عمدۃ القاری میں ہے:”چوری کا یہ واقعہ فتح مکہ کے موقع پر ہوا۔ایک روایت میں ہے کہ اُس مخزومی عورت نےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کاشانۂ اَقدس سے ایک چادر چُرائی تھی جبکہ بعض جگہ یہ ذکر ہوا کہ اس نے زیور چُرایا تھا تو ان دونوں باتوں کو جمع کرنا ممکن ہے وہ اس طرح کہ اس نے زیور چادر میں رکھا ہو اور چادر سمیت زیور چوری کئے ہوں ۔“چنانچہ اس عورت کی قوم کے لوگوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس عورت کی سزا کے بارے میں نبی پﷺ کی بارگاہ میں سفارش کون کرے گا تو بعض نے کہا کہ حضرت اُسامہ بن زیدرضی اللہ عنہ یہ کام کر سکتے ہیں۔حضرت اُسامہ بن زیدرضی اللہ عنہ نے اِس آیت پر نظر رکھتے ہوئے سفارش کی کہ: *مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَاۚ* ترجمہ :جواچھی سفارش کرے اُس کے لیے اس میں سے حصّہ ہے۔(پارہ 05، سورۃ النساء ، آیت نمبر 85) انہوں نے یہ گمان کیا کہ یہ سفارش بھی اچھی شفاعت میں داخل ہے۔لہذا انہوں نے نبی پاک ﷺ کی بارگاہ میں سفارش کردی جس پر نبی پاکﷺ نے فرمایا : *اَتَشْفَعُ فِيْ حَدٍّ مِنْ حُدُوْدِ اللهِ تَعَالٰی؟ ثُمّ قَامَ فَاخْتَطَبَ ثُمَّ قَالَ: اِنَّمَا اَهْلَكَ مَنْ قَبْلَكُمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا اِذَا سَرَقَ فِيْهِمُ الشَّرِيْفُ تَرَكُوْهُ وَاِذَا سَرَقَ فِيْهِمُ الضَّعِيْفُ اَقَامُوْا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَاَيْمُ اللهِ! لَوْ اَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا.* (ملخصاً ریاض الصالحین ، جلد 05، حدیث 651) ترجمہ : کیا تم اللہ پاک کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں مجھ سے سفارش کرتے ہو۔“ پھر آپ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:” اے لوگو! تم سے پہلے لوگ اِس لئے ہلاک ہوئے کہ اُن میں سے جب کوئی مالدارشخص چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اُس پر حد قائم کرتے۔ خدا کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں ضرور اُس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا ۔



کمزوروں کی مدد سیرت رسول کی روشنی میں


نبی پاک ﷺ کو اللہ پاک نے سارے عالم کے لئے رحمت بنا کر بھیجا یہی وجہ تھی کہ آپ کسی کو تکلیف میں دیکھتے ، تو اس تکلیف کو دور کرنے کی فکر ہوجاتی ، اس کی مدد فرماتے ، اور جب سرکارﷺ کی اس کی تکلیف دور فرمادیتے تو آپ کے چہرہ مبار ک پر خوشی کے آثار دیکھے جاتے ،غریبوں کی مدد، کمزوروں کی دادرسی کا درس نبی پاکﷺ نے اپنے اصحاب کو بھی دیا اور ساتھ ہی اس کے فضائل بھی بیان فرمائے ۔ آپﷺ کا فرمان ،مبارک ہے : *السَّاعِي عَلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ كَالَّذِي يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ* (صحیح البخاری: 5353، صحیح مسلم: 2982) ترجمہ: بیوہ اور مسکین کی مدد کرنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے، یا اس شخص کی طرح ہے جو دن میں روزہ رکھے اور رات بھر عبادت کرے۔
 
کمزوروں کی مدد کا سیرت رسول سے بہترین واقعہ
ہمارے پیارے آقاﷺ کی کوئی ترغیب صرف زبانی نہیں ہوتی تھی بلکہ آپ ﷺ اس پر عمل بھی کرکے دکھاتے جیساکہ مسلم شریف کی روایت ہے کہ : * كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَدْرِ النَّهَارِ، قَالَ فَجَاءَهُ قَوْمٌ حُفَاةٌ عُرَاةٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ أَوِ الْعَبَاءِ، مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ، عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ، بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا رَأَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ، فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ، فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ} [النساء: 1] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، {إِنَّ اللهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا} [النساء: 1] وَالْآيَةَ الَّتِي فِي الْحَشْرِ: {اتَّقُوا اللهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللهَ} [الحشر: 18] «تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِينَارِهِ، مِنْ دِرْهَمِهِ، مِنْ ثَوْبِهِ، مِنْ صَاعِ بُرِّهِ، مِنْ صَاعِ تَمْرِهِ - حَتَّى قَالَ - وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ» قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِصُرَّةٍ كَادَتْ كَفُّهُ تَعْجِزُ عَنْهَا، بَلْ قَدْ عَجَزَتْ، قَالَ: ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ، حَتَّى رَأَيْتُ كَوْمَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَثِيَابٍ، حَتَّى رَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَهَلَّلُ، كَأَنَّهُ مُذْهَبَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً، فَلَهُ أَجْرُهَا، وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً، كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ* ترجمہ : روایت ہے حضرت جریر سے فرماتے ہیں کہ ہم صبح سویرے حضور ﷺ کے پاس حاضر تھے کہ آپ کی خدمت میں ایک قوم آئی جو ننگی اور کمبل پوش تھی تلواریں گلے میں ڈالے تھےان میں عام بلکہ سارے ہی قبیلہ مضر سے تھے ان کا فاقہ دیکھ کر حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ کا رنگ تبدیل ہوگیا لہذا اندرتشریف لے گئے پھر باہر تشریف لائے حضرت بلال کو حکم دیا انہوں نے اذان و تکبیر کہی پھر نماز پڑھی پھرخطبہ فرمایا ارشاد فرمایا *{يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ}* [النساء: 1] اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا فرمایا آخر آیت رقیبًا تک تلاوت فرمائی اور اسکے بعد سورۂ حشر کی آیت تلاوت فرمائی *{اتَّقُوا اللهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللهَ} [الحشر: 18]* ترجمہ: اللہ سے ڈرو ہر شخص غورکرے کہ اس نے کل کے لیے کیا بھیجا،(پھر اسکے بعد سرکار ﷺ نے صدقہ کی ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا) ہر شخص اپنے دینار درہم اپنے کپڑے گندم وجَو کے صاع میں سے خیرات کرے حتی کہ فرمایا کھجور کا ٹکڑا ہی سہی راوی، فرماتے ہیں کہ ایک انصاری تھیلی لائے جس کے وزن سے ان کا ہاتھ تھکا جاتا تھا بلکہ تھک ہی گیا پھر لوگوں کا تانتا بندھ گیا حتی کہ میں نے کھانے کپڑے کے ڈھیر دیکھے پھر میں نے حضورﷺ کا چہرۂ انور دیکھا کہ چمک رہا ہے گویا سو نے کی ڈلی ہے تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو اسلام میں اچھا طریقہ ایجاد کرے اسے اپنے عمل اور ان کے عملوں کا ثواب ہے جو اس پر کار بند ہوں ان کا ثواب کم ہوئے بغیر اور جو اسلام میں بُرا طریقہ ایجاد کرے اس پر اپنی بدعملی کا گناہ ہے اور ان کی بدعملیوں کا جو اس کے بعد ان پر کاربند ہوں اس کے بغیر ان کے گناہوں سے کچھ کم ہو۔ (صحیح مسلم، باب الحث علی الصدقہ، حدیث1017 مطبوعہ بیروت) یعنی جس نے پہلے نیک عمل کیا اس کو اپنی اس نیکی کا ثواب بھی ملے گا اور جس نے اس شخص سے ترغیب لیتے ہوۓ وہی نیکی کا عمل کیا ، اس کا ثواب بھی ، اس نیک عمل کی ابتداء کرنے والے کو ملے، اور ترغیب لے کر عمل کرنے والے کے ثواب میں بھی کمی نہیں آۓ گی۔


معاشرے میں اتحاد پیدا کرنا

معاشرتی ہم آہنگی سے مراد ہے کہ معاشرے میں رہتے ہوئے ہر فرد کا آپس میں محبت و مودت کے ساتھ رہنا ، باہمی اختلافات کو نظر انداز کرکے اتفاق و اتحاد کے ساتھ رہنا ہے ۔ رسول کریمﷺ کی مبارک سیرت سے بھی ہمیں باہمی محبت کا درس ملتا ہے۔ نبی پاک ﷺ نے ارشادفرمایا : *الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ، وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ* ترجمہ : "مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے تنہا چھوڑتا ہے۔ جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرے، اللہ اس کی ضرورت پوری کرے گا۔ جو کسی مسلمان کی پریشانی دور کرے، اللہ قیامت کے دن اس کی پریشانی دور کرے گا۔ اور جو کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے، اللہ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا۔ (صحیح البخاری: 2442، صحیح مسلم: 2580)


معاشرتی اتفاق سیرت رسول کی روشنی میں


جب نبی پاک ﷺ نے مکہ سے مدینہ ہجرت فرمائی تو ہجرت کے پہلے سال ہی اسلام کا پہلا تحریری معاہدہ و دستور جو مسلمانوں اور مدینے میں رہنے والے یہودیوں سے متعلق تھا۔ نبی پاک ﷺ نے اس معاہدہ کو تحریر فرما کر یہ بات واضح کردی کہ معاشرے کا امن و سکون ، اور نظم و ضبط انتہائی ضروری ہے ۔ کوئی کسی کو تکلیف نہ پہنچائے ، ایک دوسرے کے حقوق کا خیال کیا جائے۔ اس معاہدے کی تفصیل کتب سیرت میں تفصیلاً موجود ہے ۔ سیرت مصطفی میں حضرت علامہ عبدالمصطفی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ نے اختصارا جو بیان فرمایا اسے یہاں نقل کیا جارہا ہے : " مدینہ میں انصار کے علاوہ بہت سے یہودی بھی آباد تھے۔ ان یہودیوں کے تین قبیلے بنو قینقاع، بنو نضیر، قریظہ مدینہ کے اطراف میں آباد تھے اور نہایت مضبوط محلات اور مستحکم قلعے بنا کر رہتے تھے۔ ہجرت سے پہلے یہودیوں اور انصار میں ہمیشہ اختلاف رہتا تھااور وہ اختلاف اب بھی موجود تھا اور انصار کے دونوں قبیلے اوس و خزرج بہت کمزور ہو چکے تھے۔ کیونکہ مشہور لڑائی ''جنگ بعاث'' میں ان دونوں قبیلوں کے بڑے بڑے سردار اور نامور بہادر آپس میں لڑ لڑ کر قتل ہو چکے تھے اور یہودی ہمیشہ اس قسم کی تدبیروں اور شرارتوں میں لگے رہتے تھے کہ انصار کے یہ دونوں قبائل ٖہمیشہ ٹکراتے رہیں اور کبھی بھی متحد نہ ہونے پائیں۔ ان وجوہات کی بنا پر حضورِ اقدس ﷺ نے یہودیوں اور مسلمانوں کے آئندہ تعلقات کے بارے میں ایک معاہدہ کی ضرورت محسوس فرمائی تا کہ دونوں فریق امن و سکون کے ساتھ رہیں اور آپس میں کوئی تصادم اور ٹکراؤ نہ ہونے پائے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے انصار اور یہودکو بلاکر معاہدہ کی ایک دستاویز لکھوائی جس پردونوں فریقوں کے دستخط ہوگئے۔ اس معاہدہ کی دفعات کا خلاصہ حسب ِذیل ہے۔ (۱)خون بہا(جان کے بدلے جو مال دیا جاتا ہے) اور فدیہ(قیدی کو چھڑانے کے بدلے جو رقم دی جاتی ہے) کا جو طریقہ پہلے سے چلا آتا تھا اب بھی وہ قائم رہے گا۔ (۲)یہودیوں کو مذہبی آزادی حاصل رہے گی ان کے مذہبی رسوم میں کوئی دخل اندازی نہیں کی جائے گی۔ (۳)یہودی اور مسلمان باہم دوستانہ برتاؤ رکھیں گے۔ (۴)یہودی یا مسلمانوں کو کسی سے لڑائی پیش آئے گی تو ایک فریق دوسرے کی مدد کریگا۔ (۵)اگر مدینہ پر کوئی حملہ ہو گا تو دونوں فریق مل کر حملہ آور کا مقابلہ کریں گے۔ (۶)کوئی فریق قریش اور ان کے مددگاروں کو پناہ نہیں دے گا۔ (۷)کسی دشمن سے اگر ایک فریق صلح کریگا تو دوسرا فریق بھی اس مصالحت میں شامل ہو گالیکن مذہبی لڑائی اس سے مستثنیٰ رہے گی۔ (سیرت مصطفی ؛ بحوالہ سیرتِ ابن ہشام ج۴ ص۵۰۱ تا ۵۰۲)

بے مثال بیٹا

بے مثال بیٹا

رسول کائنات ﷺ کی ذات بابرکت ہر اعتبار سے ہی کامل و اکمل ہے ۔ آپ کے جس وصف اور کمال کی طرف نظر کی جائے آپ کا اس وصف میں کوئی ثانی نہیں ہے ۔ آپ کی سیرت طیبہ سے ہر طبقے کا فرد رہنمائی لے سکتا ہے۔ رسول کائنات ﷺ کے والد حضرت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا وصال آپ ﷺ کی ولادت سے پہلے ہی ہوگیا تھا اور آپ ﷺ کی عمر مبارک جب چھ سال تھی ، تب آپ کی والدہ ماجدہ کا وصال ہوگیا ، اس کے باوجود اگر کوئی بیٹا رسول اللہ ﷺ کی سیرت سے ایک بیٹا ہونے کی حیثیت سے رہنمائی لینا چاہے تو وہ بھی محروم نہیں رہتا کہ حضور ﷺ کی سوشل لائف میں بیٹے کا کردار بھی بے مثال ہے۔

والدین کی عزت

قرآن کریم میں اللہ پاک نے بعض مقامات پر اپنی عبادت کا حکم دینے کے بعد اگلا حکم ہی والدین کے ساتھ ادب و احترام کا دیا ہے اور ساتھ ہی والدین کی عزت و تکریم کا بھی حکم ارشاد فرمایا ؛ جیسا کہ قرآن کریم میں ہے : *وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا(23)* ترجمہ : اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر تیرے سامنے ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے اُف تک نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے خوبصورت ، نرم بات کہنا۔ (پارہ 15، سورۃ بنی اسرائیل ، آیت 23) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا: *أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ قَالَ: الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا، قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: بِرُّ الْوَالِدَيْنِ، قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ* "ترجمہ: "میں نے پوچھا: کون سا عمل اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: وقت پر نماز پڑھنا۔ میں نے کہا: اس کے بعد کون سا؟ آپ نے فرمایا: والدین کے ساتھ حسن سلوک۔ میں نے کہا: پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد۔ ( صحیح بخاری ، حدیث 527)

نبی پاک ﷺ کا اپنی رضاعی والدہ کا احترا م کرنا

جب حضرتِ حلیمہ حضور انور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتیں تو آپ ﷺ ان کا ادب و احترام فرماتے اور محبت سے پیش آتے۔ چنانچہ ایک مرتبہ غزوۂ حُنین کے موقع پر جب حضرت سیّدتنا حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا محبوبِِ خدا ﷺ سے ملنے آئیں تو آپ ﷺ نے ان کے لئے اپنی چادر بچھائی۔ (الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب،ج 4،ص374)

محبت کا اظہار

والدین کے ساتھ اپنی عقیدت اور محبت کا اظہار بھی کرتے رہنا چاہیئے کہ اس سے ان کا دل خوش ہوتا ہے ۔ سیرت رسول ﷺ سے ہمیں یہ بھی سیکھنے کو ملتا ہے ۔ اور خود نبی کریم ﷺ نے والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا حکم دیا ، صلہ رحمی کا ایک ذریعہ والدین کے ساتھ محبت کا اظہار بھی ہے ۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ان کی والدہ ان کے پاس آئیں، تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: *يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ وَهِيَ رَاغِبَةٌ، أَفَأَصِلُهَا؟* ترجمہ :یا رسول اللہ! میری والدہ میرے پاس آئیں ہیں اور وہ (مال یا مدد) کی خواہشمند ہیں، کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا:"نَعَمْ، صِلِي أُمَّكِ"ہاں، اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کرو (صحیح بخاری: 5978)

نبی پاک ﷺ کا اپنی رضاعی والدہ سے اظہار محبت

حضور جان عالم ﷺ اپنی رضاعی والدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا سے ملاقات کے لئے ان کے پاس تشریف لے جاتے تھے جیساکہ روایت میں ہے : *عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ اَبُوْ بَكْرٍ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بَعْدَ وَفَاةِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اِنْطلِقْ بِنَااِلَى اُمِّ اَيْمَنَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا نَزُوْرُهَا كَمَا كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُوْرُهَا* ترجمہ : حضرتِ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ ﷺ کی وفات کے بعد حضرتِ سَیِّدُنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرتِ سیدنافاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے فرمایا : آئیے حضرتِ ام ایمن رضی اللہ عنہا سے ملاقات کے لیے چلتے ہیں جیساکہ رسولُ اللہ ﷺ ان سے ملاقات فرمایا کرتے تھے ۔ " اس حدیث کی شرح میں علامہ محمدبن علان شافعی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : ’’حضورِ اکرم نُورِ مجسم شاہ بنی آدم ﷺ حضرت سیدتنا ام ایمن کا بہت اکرام فرماتے تھے اور فرمایا کرتے : ’’اُمِّ اَیْمَن میری والدہ ہیں ۔‘‘ اسی وجہ سے آپ ﷺ کثرت سے ان کی زیارت کے لیے جایا کرتے ، آپ ان کے یہاں بیٹے کی طرح تھے اور وہ بھی آپ سے بیٹوں جیسا برتاؤ کرتی تھیں ۔ (ریاض الصالحین ، جلد 04، حدیث 360)

نبی پاک ﷺ کا اپنی والدہ سے اظہار محبت اور آپ کا آبدیدہ ہونا

ایک بار نبیِّ کریم ﷺ اپنی والدہ بی بی آمنہ رضی اللہ عنہا کی قبر پر آئے تو رونے لگے، حاضرین نے رونےکا سبب پوچھا تو فرمایا: مجھے اپنی والدہ کی شفقت ومہربانی یاد آگئی تَو میں روپڑا۔ (السیرۃ الحلبیہ،ج1،ص154)

خدمت اور خیال اور والدین دعا

والدین کی خدمت کرنا ، ان کا خیال کرنا یہ جہاد سے بھی افضل ہے ، قرآن کریم میں اللہ پاک نے والدین کی خدمت کا بھی حکم دیا اور ساتھ ہی ان کے لئے دعا کرنے کا بھی حکم دیا جیساکہ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا : *وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا(24)* اور ان کے لیے نرم دلی سے عاجزی کا بازو جھکا کر رکھ اور دعا کر کہ اے میرے رب! تو ان دونوں پر رحم فرما جیسا ان دونوں نے مجھے بچپن میں پالا۔ (پارہ 15، سورۃ بنی اسرائیل ، آیت 23) *عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ السَّلَمِيِّ، أَنَّ جَاهِمَةَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَدْتُ أَنْ أَغْزُوَ وَقَدْ جِئْتُ أَسْتَشِيرُكَ، فَقَالَ: هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَالْزَمْهَا، فَإِنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ رِجْلَيْهَا* ترجمہ : حضرت معاویہ بن جاہمہ سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جاہمہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئے اور کہا: "یا رسول اللہ! میں جنگ میں شرکت کرنا چاہتا ہوں اور آپ سے مشورہ لینے آیا ہوں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا تمہاری کوئی والدہ ہے؟جاہمہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: "جی ہاں!" تو آپ ﷺ نے فرمایا: "پھر اس کی خدمت اختیار کرو، کیونکہ جنت اس کے قدموں کے نیچے ہے۔ (سنن نسائی، حدیث 3104)

نبی پاک ﷺ کا اپنی رضاعی والدہ سے کی خدمت میں تحفہ بھیجنا

حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ عنہا سے جب حضورِ انور ﷺ نے نکاح کرلیا تو حضرت ثُویبہ رضی اللہ عنہا نبیِّ کریم ﷺ کے پاس آیا کرتی تھیں، آپ ﷺ ان کا بہت احترام فرماتے تھے اور مدینۂ منورہ سے حضرت ثویبہ رضی اللہ عنہا کے لئے تحائف وغیرہ بھیجا کرتے تھے۔ (الکامل فی التاریخ ،ج1،ص356)

بے مثال بھائی

بے مثال بھائی

نبی پاک ﷺ کے حقیقی بھائی یا بہن تو نہیں تھے البتہ حضور ﷺ کے رضاعت کے رشتے سے بھائی اور بہن دونوں تھے اور ان کے ساتھ سرکار دو عالم ﷺ کا انداز ایک بھائی کے لئے زبردست رہنمائی کا ذریعہ ہے ، کیونکہ یہ وہ محبت بھرا رشتہ ہے جس میں عموما خلوص ، محبت ، اتفاق واتحاد ، ایک دوسرے کی پریشانی میں مدد، کے لئے فطری طور پر میلان ہوتا ہے ، نبی پاک ﷺ کا انداز اپنے رضاعی بھائی اور بہنوں کے ساتھ کیسا تھا یقینا اس سے بھی سیرت رسول ﷺ میں ہمارے لئے رہنمائی موجود ہے ۔

حضور ﷺ کا اپنی رضاعی بہن کے ساتھ حسن سلوک

حضرت شیماء رضی اللہ عنہا جوکہ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کی بڑی بیٹی اور حضور ﷺ کی رضاعی بہن تھیں ۔ ایک موقع پر مسلمانوں کی جب قبیلہ ہوازن سے جنگ ہوئی اور ان کے لوگ مسلمانوں کے ہاتھوں قیدی بنے تو ان میں رسول اللہ ﷺ کی یہ رضاعی بہن شیماء بھی شامل تھیں ۔ اس وقت تک حضرت شیماء رضی اللہ عنہا ایمان نہیں لائی تھیں ۔ آپ نے خود ہی نبی پاک ﷺ کو اپنا تعارف کروایا کہ میں آپ کی رضاعی بہن ہوں۔ پیارے آقا ﷺ نے انہیں بچپن کے بعد اب دیکھا تھا ،اس لئے پوچھا کہ اس کی کیا علامت ہے؟ انہوں نے ایک نشانی دکھائی جس سے رسول اللہ ﷺ پہچان گئے اور بچپن کے لمحات یاد کرکے رونے لگے پھر اپنی چادر مبارک زمین پر بچھا کر حضرت شیماء رضی اللہ عنہا کو انتہائی احترام کے ساتھ اپنی چادر پر بٹھایا ۔ پھر نبی پاکﷺ نے ان سے فرمایا : *إن أحببت فأقيمي عندي محبّبة مكرّمة وإن أحببت أن أمتعك فترجعي إلى قومك فعلت* ترجمہ : تم یہاں رہنا چاہو تو نہایت سکون سے رہو اور اپنے قبیلے میں جانا چاہو تو اس بات کا اختیار ہے " حضرت شیماء رضی اللہ عنہا نے پہلے خوش دلی کے ساتھ اسلام کی دعوت کو قبول کیا اور اپنے قبیلے جانے کو پسند فرمایا ۔ نبی پاک ﷺ نے انہیں انعامات و تحائف عطا فرماکر بحفاظت اہتمام کے ساتھ ر خصت فرمایا۔ ( سبل الہدی والرشاد، جلد 01، صفحہ 380مطبوعہ لبنان ، بیروت

اختلافات کا حل

جب مسلمانوں کے درمیان کسی بات کو لے کر اختلاف ہوجائے تو اس اختلاف کو ختم کروانا اوران کے مابین رشتہ محبت کو قائم رکھنا یہ پیارے آقا ﷺکی سیرت کا بہت حسین پہلو ہے ۔ حضور ﷺ نے اس کی اہمیت کو بھی بیان فرمایا : *كُلُّ سُلَامَىٰ مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيهِ الشَّمْسُ، تَعْدِلُ بَيْنَ ٱثْنَيْنِ صَدَقَةٌ.* ترجمہ :انسان کے ہر جوڑ پر ہر دن صدقہ لازم ہے جس دن سورج طلوع ہو۔ دو افراد کے درمیان انصاف کے ساتھ صلح کرانا صدقہ ہے۔" (صحیح بخاری، حدیث 2989)

حضوﷺ کا اپنے رضاعی بھائیوں کے اختلاف کو حل کرنا

نبی پاک ﷺ کو اللہ پاک نے فہم و فراست بھی اعلی قسم کی عطا فرمائی ۔ آپ کسی معاملے میں فیصلہ فرماتے تو وہ فیصلہ ایسا ہوتا کہ فریقین کا اختلاف ہی ختم ہوجاتا ایک موقع پر آپ کے رضاعی بھائیوں حضرت جعفر بن ابی طالب اور حضرت علی کے مابین ایک اختلاف ہوگیا جس کو نبی پاک ﷺ نے حل فرمایا ، معاملہ یہ ہوا کہ حضرتِ سیّدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے شہید ہونے کے بعد اپنے پیچھے ایک چھوٹی صاحبزادی بھی چھوڑی جن کا نام “ امامہ “ تھا۔ جب بچی کی کفالت کا وقت آیا تو ان کی پرورش کے لیے تین دعوےدار کھڑے ہوگئے۔ حضرت سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ ﷺ ! یہ میری چچازاد بہن ہے اور میں نے اس کو سب سے پہلے اپنی گود میں اٹھالیا ہے اس لیے مجھے اس کی پرورش کا حق ملنا چاہیے۔ ‘‘ حضرت سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے گزارش کی کہ : ’’یارسولَ اللہ ﷺ ! یہ میری چچازاد بہن بھی ہے اور اس کی خالہ میری بیوی ہے اس لیے اس کی پرورش کا حقدار میں ہوں۔ ‘‘ حضرت سیدنا زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ : ’’یارسولَ اللہ ﷺ ! یہ میرے دینی بھائی حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی لڑکی ہے اس لیے میں اس کی پرورش کروں گا۔ ‘‘ان تینوں صاحبوں کا بیان سن کر حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت ﷺ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ : “ خالہ ماں کے برابر ہوتی ہے۔ “ لہٰذا یہ لڑکی جعفر رضی اللہ عنہ کی پرورش میں رہے گی۔ (ریاض الصالحین، جلد 03، حدیث355

غم کو دور کرنا

نبی کریم ﷺ غمزدوں کے غمگسار ہیں ، آپ ﷺ جب کسی کو پریشان ، اور غم میں مبتلا دیکھتے تو اس کے غم کو دور فرمادیتے حتی کہ اس کی پریشانی بالکل دور ہوجاتی اور خود نبی پاک ﷺ نے صحابہ کرام کو ترغیب بھی دی اور ارشاد فرمایا : *عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُّؤمِنٍ كُرْبَةً مِّنْ كُرَبِ الدُّنيَا نَفَّسَ اللهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِّنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ يَّسَّرَ عَلٰى مُعْسَرٍ يَّسَّرَ اللهُ عَلَيهِ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ* ترجمہ : حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے کسی مومن سے دنیا کی کوئی پریشانی دور کی تو اللہ پاک قیامت کے دن کی پریشانیوں میں سےاس کی ایک پریشانی دور فرمائے گا اور جس نے کسی تنگ دست پر آسانی کی تو اللہ پاک اس پردنیا و آخرت میں آسانی فرمائے گا۔ (شرح اربعین نوویہ ، حدیث 36)

نبی پاک ﷺ کا حضرت علی سے غم دور کرنے کا واقعہ

*عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: آخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ فَجَاءَ عَلِيٌّ تَدْمَعُ عَيْنَاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ آخَيْتَ بَيْنَ أَصْحَابِكَ وَلَمْ تُؤَاخِ بَيْنِي وَبَيْنَ أَحَدٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْتَ أَخِي فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ* ترجمہ : حضرتِ سیدنا عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب مدینہ طیبہ میں اُخوت یعنی بھائی چارہ قائم فرمایا تو حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ روتے ہوئے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:یارسول اللہ! ﷺ آپ نے سارے صحابہ کرام علیھم الرضوان کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا مگر مجھے کسی کا بھائی نہ بنایا ، حضورِ اکرم،نورِ مجسم ﷺ نے ارشاد فرمایا: *اَنْتَ اَخِیْ فِی الدُّنْیَا وَالاٰخِرَۃِ* یعنی(اے علی) تم دُنیا میں بھی میرے بھائی ہو اور آخرت میں بھی میرے بھائی ہو۔ (جامع ترمذی ، حدیث 3720)

بے مثال والد

بے مثال والد

ہمارے معاشرے میں اولاد کی تربیت کے حوالے سے کافی غفلت کا سلسلہ ہوتا ہے شاید اس کی بنیادی وجہ یہی ہوتی ہے کہ والدین خود قرآن و سنت کی تعلیم سے واقف نہیں ہوتے یا وہ چاہتے تو ہیں کہ ہماری اولاد نیک سیرت بنے اور اس خواہش میں وہ اپنی اولاد پر بے جا سختی کرجاتے ہیں جس کا نتیجہ مثبت کے بجائے منفی آتا ہے اور اولاد باغی ہوجاتی ہے بالخصوص ایک والد کو اپنی اولاد کے ساتھ کیسا انداز رکھنا چاہیے سیرت مصطفی ﷺ کی روشنی میں اس کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے اور یہ تربیت کا معاملہ بچپن سے ہی شروع ہوجانا چاہیئے ۔کسی دانا کا قول ہے کہ "بچے کو بچپن میں ہی بچائیں بچپن کے بعد اسے بچانا مشکل ہوجاتا ہے . حدیث پاک ہے : *اَلْعِلْمُ فِيْ صِغَرِهِ كَالنَّقْشِ عَلَى الحَجَرِ* ترجمہ : بچپن میں علم حاصِل کرنا پتھر پر نقش کی طرح (پختہ)ہوتا ہے۔ (مجمع الزوائدحدیث5015) مراد یہی ہے کہ بچپن کی تربیت بہت موثر ہوتی ہے ۔ بہر حال یہ بات بھی حقیقت ہے کہ اولاد چاہے بڑھاپے کو پہنچ جائے اپنے والدین کی تربیت کی محتاج ہی رہتی ہے ، ایک سمجھدار اولاد اپنے آپ کو اپنے والدین سے زیادہ سمجھدار کبھی نہیں سمجھتی

شفقت و محبت

اولاد بچپن سے ہی اپنے والدین کی شفقت و محبت کو دیکھتی ہے ، جس کی وجہ سے وہ اپنے والدین سے زیادہ مانوس ہوجاتی ہے ، بچہ رورہا ہو، کسی اور کے ہاتھ میں جانے سے خاموش نہ ہو اور والدین میں سے کسی ایک کے پاس آتے ہی خاموش ہوجائے، بچے کا یہ انداز بتاتا ہے کہ وہ اپنے والدین کو پہچاننے لگا ہے، بس والدین کو بھی سمجھنا چاہیئے کہ یہ بچہ شفقت و محبت چاہتا ہے ۔ نبی پاک ﷺ بھی اپنے شہزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے لئے جاتے ، انہیں اپنے ہاتھوں میں لیتے اور چوما کرتے تھے جیساکہ مسلم شریف کی روایت میں ہے : *عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَرْحَمَ بِالْعِيَالِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ، قَالَ: «كَانَ إِبْرَاهِيمُ مُسْتَرْضِعًا لَهُ فِي عَوَالِي الْمَدِينَةِ، فَكَانَ يَنْطَلِقُ وَنَحْنُ مَعَهُ فَيَدْخُلُ الْبَيْتَ وَإِنَّهُ لَيُدَّخَنُ، وَكَانَ ظِئْرُهُ قَيْنًا، فَيَأْخُذُهُ فَيُقَبِّلُهُ، ثُمَّ يَرْجِعُ* ترجمہ: حضرت انس سے راوی ہیں فرماتے ہیں کہ میں نے کسی کو نہ دیکھا جو بال بچوں پر رسول اللہ ﷺ سے زیادہ مہربان ہو آپ کے فرزند ابراہیم بیرون مدینہ میں شیرخوارگی (دودھ پیتے تھے )کرتے تھے تو آپ تشریف لے جاتے تھے ہم آپ کے ساتھ ہوتے تھے آپ گھر میں تشریف لے جاتے حالانکہ وہاں دھواں ہوتا تھا ان کا رضاعی والد لوہار تھا آپ بچے کو لیتے اسے چومتے پھر لوٹ آتے ۔ (صحیح مسلم ، حدیث : 2316)

حضور ﷺ کی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پر شفقت

نبی پاک ﷺ سیدہ خاتون جنت رضی اللہ عنہا پر بھی شفقت فرمایا کرتے روایت میں آتا ہے کہ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا حضور ﷺ کے پاس حاضر ہوتیں تو حضور ﷺ انہیں مرحبا کہتے اور اپنے پاس بٹھالیتے ۔ مسلم شریف کی روایت ہے : *عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنَّ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهُ، لَمْ يُغَادِرْ مِنْهُنَّ وَاحِدَةً، فَأَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ تَمْشِي، مَا تُخْطِئُ مِشْيَتُهَا مِنْ مِشْيَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَلَمَّا رَآهَا رَحَّبَ بِهَا، فَقَالَ: «مَرْحَبًا بِابْنَتِي» ثُمَّ أَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ* ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:"نبی کریم ﷺ کی تمام ازواج آپ کے پاس موجود تھیں اور ان میں سے کوئی بھی غیر حاضر نہ تھی۔ اسی دوران حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا چلتی ہوئی آئیں، اور ان کا چلنا نبی کریم ﷺ کے چلنے کے انداز سے بالکل مختلف نہ تھا۔جب رسول اللہ ﷺ نے انہیں دیکھا تو ان کا خیر مقدم کیا اور فرمایا: مرحبا، میری بیٹی!' پھر آپ ﷺ نے انہیں اپنے دائیں یا بائیں جانب بٹھا لیا۔" (صحیح مسلم ، حدیث 2450)

حکمت سے تربیت

اولاد کی تربیت میں والد کو بالخصوص حکمت عملی پیش نظر رکھنی چاہیے تاکہ اولاد اس سے دور نہ ہو بلکہ وہ خود اپنی اصلاح کی کوشش میں لگ جائے ۔ ایک آسان مثال کے ذریعے اس کو سمجھیں ، مثلاً : والد اور والدہ کے درمیان کبھی کوئی بات ہوگئیں تو والدین میں سے کوئی اپنی اولاد کے سامنے ایک دوسرے کے خلاف بات نہ کرے اس سے ہوسکتا ہے کہ اولاد کے ذہن میں کسی ایک کے ادب واحترام میں کمی آجائے اور اولاد کبھی کچھ کہہ بھی دے تو سختی اختیار نہ کرے بلکہ بات ایسی کرے جس سے اولاد پر مثبت اثر ہو اور والد یا والدہ کے ادب میں کمی بھی نہ آئے ، یہ حکمت عملی ہمیں سیرت رسول ﷺ سے بھی سیکھنے کو ملتی ہے جیساکہ روایت میں ہے : ایک مرتبہ سیدہ پاک زہرا بتول حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کسی بات پر بارگاہِ رسالت ﷺ میں ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کے بارے کچھ کہا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: *إِنَّهَا حِبَّةُ أَبِيكِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ* اے بیٹی! وہ تیرے والد کی پیاری ہے۔ (سنن ابی داؤد ، حدیث 4898)

اولاد کو وظائف پڑھنے کی تعلیم

والدین کو اپنی اولاد کی تربیت میں اس بات کو بھی شامل کرنا چاہیے کہ اسے کچھ نہ کچھ وظیفہ یا درود پاک پڑھنے کی ترغیب دے ، بلکہ اس کے ساتھ مل کر پڑھے تا کہ وظائف پڑھنے سے وہ اپنے آپ کو اللہ پاک کے ذکر میں مشغول رکھے ۔ سرکار دو عالم ﷺ نے بھی سید ہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کو وظیفہ پڑھنے کی ترغیب بھی دی اور تاکید بھی فرمائی : *عن أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِفَاطِمَةَ: " مَا يَمْنَعُكِ أَنْ تَسْمَعِي مَا أُوصِيكِ بِهِ أَنْ تَقُولِي إِذَا أَصْبَحْتِ، وَإِذَا أَمْسَيْتِ: يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ، أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، وَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرَفَةَ عَيْنٍ* ترجمہ :حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:"تمہیں کیا چیز روکتی ہے کہ تم وہ بات نہ سنو جو میں تمہیں وصیت کر رہا ہوں؟ جب صبح ہو یا شام ہو تو یہ دعا پڑھا کرو: *يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ، بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ، أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، وَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرَفَةَ عَيْنٍ* ترجمہ: اے زندہ جاوید، اے قائم و دائم، میں تیری رحمت کے وسیلے سے مدد طلب کرتا ہوں، میرے تمام امور درست فرما دے، اور مجھے ایک لمحے کے لیے بھی میرے نفس کے حوالے نہ کر۔ (مستدرک للحاکم ، حدیث 2000)

مشکل وقت میں صبر کی تلقین

دنیا میں انسان پر مختلف قسم کی آزمائش اور مشکل لمحات آتے ہیں ۔ اس وقت کسی بڑے کی دی ہوئی ڈھارس، ایک دعائیہ جملہ، ایک مہربان لفظ انسان کے دل کو مضبوط کرتا ہے ، اور اس کو پہنچی ہوئی تکلیف دور ہوتی ہے ، اور آیا ہوا مشکل وقت گزارنا آسان ہوجاتا ہے ، بالخصوص جب مشکل لمحے میں والدین کا ساتھ ہو۔ اسی لئے اولاد پر جب کوئی مشکل لمحہ آئے تو والدین کو اس وقت اہم کردار ادا کرنا ہوتا ہے مثلاً :صبر کی تلقین کرنا ، رضائے الہی پر راضی رہنے کی نصیحت کرنا تاکہ اولاد اپنے آپ کو بے بس ، اکیلا، اور تنہا محسوس نہ کرے ، اور آنے والی مشکل گھڑی میں بےصبری کا مظاہرہ کرکے اللہ پاک کو ناراض نہ کردے ۔ نبی مکرم ﷺ کی سیرت طیبہ سے ہمیں اس کی رہنمائی بھی ملتی ہے جیسا کہ حدیث پاک میں ہے : *عَنْ اُسَامَةَ بْنِ زَيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: اَرْسَلَتْ اِحْدٰى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِلَيْهِ تَدْعُوْهُ وَتُخْبِرُهُ اَنَّ صَبِيًّا لَهَا اَوْ اِبْنًا فِي الْمَوْتِ فَقَالَ لِلرَّسُوْلِ:ارْجِعْ اِلَيْهَا فَاَخْبِرْهَا اَنَّ لِلهِ تَعَالٰی مَا اَخَذَ وَلَهُ مَا اَعْطٰی وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِاَجَلٍ مُسَمًّى فَمُرْهَا فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ* ترجمہ : حضرت سیّدنا اُسامہ بن زَید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:حضور نبی کریم ﷺ کی ایک صاحِبزادی(حضرت سیّدتنا زینب رضی اللہ عنہا )نےبارگاہ رسالت میں پیغام بھجوایاکہ میرا بچہ موت و حیات کی کشمکش میں ہےلہٰذاآپ ﷺ تشریف لائیے۔ نبی کریم ﷺ نے قاصِد سے فرمایا:”جاؤ!اور میری لختِ جِگر سے کہہ دو کہ جو چیز (یعنی اَولاد وغیرہ) خدا نے لے لی وہ بھی اسی کی تھی اور جو چیز اس نے دے رکھی ہے وہ بھی اسی کی ہے اوراس کے عِلم میں ہرچیزکا ایک وقْت مُقَرَّر ہے لہٰذا ان سے کہو کہ وہ صبر کریں اور ثواب کی اُمید رکھیں۔" (ریاض الصالحین ، حدیث 924)

بے مثال شوہر

بے مثال شوہر

جب کسی شخص کی سوشل لائف میں ہم دیکھتے ہیں تو عمومی طور پر معاشرے کے دیگر افراد کے ساتھ اس کا انداز اچھا ہوتا ہے ،کہا جاتا ہے جس کے گھر والے بھی اس کی عادت و اطوار اور اخلاق کی گواہی دیں تو یقینا وہ بااخلاق ، اور عظیم کردار والا ہوتا ہے ۔ نبی پاک ﷺ کے گھر والوں میں ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن جن کی تعدداد گیارہ تھی اور ساری ازواج ہی حضورﷺ کے اخلاق کریمہ ، حسن سیرت سے متاثر تھی ۔ حضور ﷺ سب کے درمیان عدل فرماتے ، ان کے ساتھ بیٹھتے ، انہیں اپنا وقت عطا فرماتے حتی کہ پیارے آقا ﷺ گھر کے کاموں میں بھی حصہ لیتےتھے۔ شوہر اپنی بیوی کے ساتھ کیسا سلوک کرے اِس حوالے سے رسول اللہ ﷺ کی زندگی ” بحیثیت شوہر “ ہمارے لئے بہترین نمونہ ہے۔ ایک بہترین اور عظیم شوہر کے لئے جن خصوصیات کا تصور کیا جاسکتا ہے وہ ساری کی ساری خصوصیات ہمارے پیارے آقا ﷺکی ذاتِ والا صفات میں کامل طور پر موجود تھیں۔

شفقت و محبت

اِسلام سے قبل عورت کو ہمیشہ نفرت و حقارت کی نظر سے دیکھاجاتا تھا ، اِس کی کوئی قدر و اَہمیت نہ تھی ، اِسلام نے عورت کو اس کا حقیقی مقام دے کر عزت و عظمت سے نوازا اور اِس کی قدر و منزلت میں اِضافہ کرتے ہوئے اسے بہترین متاع قرار دیا ہے چنانچہ حدیثِ پاک میں ہے : *عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الدُّنْيَا مَتَاعٌ، وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ* ترجمہ :حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : دُنیا متاع ( یعنی قابلِ اِستفادہ چیز ) ہے اور دُنیا کی بہترین متاع نیک عورت ( بیوی ) ہے۔ (صحیح مسلم ، حدیث 1467) آپ ﷺ اپنی اَزواجِ پاک سے محبت فرماتے اور اِس کا اِظہار بھی فرماتے چنانچہ حضرت خدیجہ ضی اللہ عنہا کے بارے میں فرمایا : *إِنِّي قَدْ رُزِقْتُ حُبَّهَا* ترجمہ : مجھے اِن کی محبت عطا فرمائی گئی ہے۔(صحیح مسلم ، حدیث 2435) آپ ﷺ کا اپنی اَزواج سے محبت واُلفت کا یہ عالَم تھا کہ ان کے ساتھ مل کر کھانا تناول فرماتے اور کسی بھی حال میں انہیں اِحساسِ کمتری کا شکار نہ ہونے دیتے تھے اِس بات کا اَندازہ اِن احادیث مبارکہ سے کیجئے کہ ؛ *عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ أَتَعَرَّقُ الْعَرْقَ فَيَضَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاهُ حَيْثُ وَضَعْتُهُ وَأَنَا حَائِضٌ، وَكُنْتُ أَشْرَبُ مِنَ الْإِنَاءِ فَيَضَعُ فَاهُ حَيْثُ وَضَعْتُ وَأَنَا حَائِضٌ* ترجمہ : ا ُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ :میں ہڈی سے گوشت نوچ کر کھاتی، تو رسول اللہ ﷺ اپنا دہن مبارک وہیں رکھتے جہاں میں نے رکھا ہوتا، حالانکہ میں حیض کی حالت میں ہوتی۔ اور میں برتن سے پانی پیتی، تو رسول اللہ ﷺ اپنا دہن مبارک اسی جگہ رکھتے جہاں میں نے رکھا ہوتا، حالانکہ میں حیض کی حالت میں ہوتی۔" (سنن نسائی ، حدیث 341)

گھریلوں کاموں میں شرکت

ہمارے پیارے آقا ﷺ چاہتے تو اِنتہائی شاہانہ اَنداز میں زندگی گزار سکتے تھے اور اپنی اَزواجِ مطہرات کو بھی دُنیا کی تمام راحتیں اور آسائشیں فراہم کر سکتے تھے ، لیکن آپ ﷺ نے اِنتہائی سادگی اور عاجزی کے ساتھ زندگی بسر فرمائی۔ آپ کی عاجزی کا یہ عالَم تھا کہ گھریلو کام کاج میں اپنی اَزواج کے ساتھ ہاتھ بٹاتے۔ *عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا سُئِلَتْ مَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ؟ قَالَتْ: " كَانَ يَخِيطُ ثَوْبَهُ، وَيَخْصِفُ نَعْلَهُ، وَيَعْمَلُ مَا يَعْمَلُ الرِّجَالُ فِي بُيُوتِهِمْ* " ترجمہ : اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صِدّیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ رَسُولِ کریم ﷺ گھر میں کیا کام کرتے تھے ؟ تو انہوں نے جواب دیا: "آپ ﷺ اپنے کپڑے سیتے، اپنی جوتی کی مرمت کرتے، اور وہ سب کام کرتے جو مرد اپنے گھروں میں کرتے ہیں۔" (مسند احمد ، حدیث 24903)

ازواج مطہرات کو سلام بھی کرتے

اللہ پاک نے خود قرآن کریم میں بھی حکم دیا اور آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرنے کی بار بار مختلف مواقع پر سرکار دو عالم ﷺ نے ترغیب بھی دلائی ۔ ایک حدیث پاک میں ہے : *عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَدْخُلُوا الجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا، أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَمْرٍ إِذَا أَنْتُمْ فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ؟ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ* ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم جنت میں نہیں داخل ہو سکتے جب تک کہ تم ایمان نہ لاؤ، اور تم ایمان نہیں لا سکتے جب تک کہ تم آپس میں محبت نہ کرو۔ کیا میں تمہیں ایک ایسا عمل نہ بتاؤں جسے تم اختیار کرو تو تم آپس میں محبت کرنے لگو؟ وہ یہ ہے کہ تم آپس میں سلام کا پیغام عام کرو۔" ( سنن ترمذی ، حدیث 2688) آپ ﷺ کی عادتِ کریمہ تھی کہ جس طرح آپ گھر سے باہر بچوں بڑوں سبھی کو سلام کرتے اور سلام کرنے میں پہل فرماتے اِسی طرح جب آپ گھر میں تشریف لاتے تو اپنی اَزواج کو سلام فرماتے ، ان کے لئے دُعائے خیر فرماتے اور ان کی مزاج پُرسی بھی فرماتے۔ سیرتِ مبارکہ کے اِس پہلو سے معلوم ہوا کہ آدمی جب اپنے گھر میں داخل ہو تو بیوی کو سلام کرے۔ افسوس ! آج کل میاں بیوی کے آپس میں اتنے گہرے تعلقات ہوتے ہوئے بھی سلام جیسے عمدہ اخلاق سے محرومی دیکھنے کو ملتی ہے ، حالانکہ سلام جس کو کیا جاتا ہے اس کے لئے سلامتی کی دُعا ہے ، اِس سے روزی میں برکت ہوتی ہے اور گھر میں لڑائی جھگڑا بھی نہیں ہوتا۔ (لہذا سیرت رسول ﷺ کے اس پہلو پر ہر شوہر کو غور کرنا چاہیے اور اس انداز کو اختیار بھی کرنا چاہیئے ۔ (ماہنامہ فیضان مدینہ، ستمبر 2023)

بے مثال نانا

علی بن ابی العاص سے محبت

نبی پاک ﷺ کے سب سے بڑے نواسے جو قریب البلوغ تھے اور ان کا انتقال ہوگیا تھا حضرت علی بن ابی العاص رضی اللہ عنہ ، یہ نبی پاک ﷺ کی سب سے بڑی شہزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے بیٹے تھے ۔ ان سے نبی پاک ﷺ بڑی محبت فرماتے تھے ۔ کتب سیر میں اس بات کا ذکر بھی ملتا ہے کہ نبی پاک ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر حضرت علی بن ابی العاص کو اپنے پیچھے اونٹنی پر بٹھایا ہوا تھا ، اسے علامہ حافظ ابو نعیم نے اپنی معرفۃ الصحابہ میں ذکر کیا ہے ۔

امامہ بنت ابی العاص سے محبت

حضور رحمتِ عالمﷺ کی نواسیوں میں ایک سعادت مند نواسی حضرت سیدتنا اُمامَہ بنتِ ابوالعاص رضی اللہ تعالٰی عنہما ہیں، آپ نبیِ کریم ﷺ کی سب سے بڑی اور لاڈلی نواسی تھیں ، سیدتنا زینب رضی اللہ عنہا کی بیٹی تھیں ۔ نبی پاک ﷺ ان سے بھی بڑی محبت فرماتے تھے ۔ بخاری شریف کی روایت ہے : *حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَةَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي العَاصِ عَلَى عَاتِقِهِ، فَصَلَّى، فَإِذَا رَكَعَ وَضَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَفَعَهَا* ترجمہ : حضرت ِسیّدنا ابو قتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بار رسولُ اللہ ﷺ تشریف لائے تو آپ (اپنی نواسی) اُمامہ بنت ابوالعاص کو اپنے مبارَک کندھے پر اُٹھائے ہوئے تھے ۔ پھر آپ ﷺ نماز پڑھانے لگے تو رکوع میں جاتے وقت انہیں اُتار دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو انہیں اُٹھا لیتے۔ (صحیح بخاری، ، حدیث:5996)

نواسے سے ملاقات کے لئے جانا

نبی کریم ﷺ اپنے نواسے امام حسن رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے لئے گئے اور حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا سے امام حسن کے بارے میں جب پوچھا تو اس میں بڑے پیارے محبت بھرے الفاظ سے یاد فرمایا ہے جیساکہ عام طور پر گھروں میں بھی ہوتا ہے کہ چھوٹے بچے کو، منا، ببلو، چھوٹو کہہ کر پکارتے ہیں۔ اس طرح پکارنا یہ محبت کی بھی ایک علامت ہے مسلم شریف کی روایت ہے : *عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةٍ مِنَ النَّهَارِ، لَا يُكَلِّمُنِي وَلَا أُكَلِّمُهُ، حَتَّى جَاءَ سُوقَ بَنِي قَيْنُقَاعَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، حَتَّى أَتَى خِبَاءَ فَاطِمَةَ فَقَالَ: «أَثَمَّ لُكَعُ؟ أَثَمَّ لُكَعُ؟» يَعْنِي حَسَنًا فَظَنَنَّا أَنَّهُ إِنَّمَا تَحْبِسُهُ أُمُّهُ لِأَنْ تُغَسِّلَهُ وَتُلْبِسَهُ سِخَابًا، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ يَسْعَى، حَتَّى اعْتَنَقَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ، فَأَحِبَّهُ وَأَحْبِبْ مَنْ يُحِبُّهُ* ترجمہ :حضرت ابوھریرہ فرماتے ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دن کے کچھ حصے میں نکلا، نہ وہ مجھ سے بات کرتے تھے اور نہ میں ان سے بات کرتا تھا۔ پھر ہم بنی قینقاع کے بازار میں پہنچے، اور وہاں سے واپس ہوتے ہوئے حضرت فاطمہ کے خیمے کے پاس آئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا یہاں چھوٹو ہے ؟ کیا یہاں چھوٹو ہے ؟" یعنی آپ کا اشارہ حضرت حسن کی طرف تھا۔ ہم نے سمجھا کہ حضرت حسن کو ان کی والدہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اس لیے روکا ہے تاکہ ان کو نہلایا جائے اور لباس پہنا دیا جائے۔ کچھ دیر بعد حضرت حسن دوڑتے ہوئے آئے اور دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ، فَأَحِبَّهُ وَأَحْبِبْ مَنْ يُحِبُّهُ"، یعنی: " اے اللہ! میں اس سے (حسن) سے محبت کرتا ہوں، پس تو بھی اسے محبوب بنا اور جو بھی اس سے محبت کرے، اسے بھی محبوب بنا۔" (صحیح مسلم ، حدیث 2421)

نواسوں کے لئے دعا کرنا

نبی پاک ﷺ اپنے نواسے امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہما کے لئے خصوصی دعا فرماتے تھے ، جس سے ایک نانا کو سیرت رسول ﷺ سے اس بات کا بھی درس ملتا ہے جہاں وہ اپنی اولاد کے لئے دعا کرتے ہیں وہی اپنی دعاوں میں اپنے نواسے او ر نواسیوں کے لئے بھی دعا کریں بخاری شریف کی روایت ہے: *عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ الحَسَنَ وَالحُسَيْنَ، وَيَقُولُ: " إِنَّ أَبَاكُمَا كَانَ يُعَوِّذُ بِهَا إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لاَمَّةٍ * ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ:"رسول اللہ ﷺ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کے لئے پناہ طلب کرتے تھے اور فرماتے تھے: 'تمہارے دادا (حضرت ابراہیم علیہ السلام ) اس دعاء کے ذریعے حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق علیہما السلام کے لئے اللہ پاک کی پناہ طلب کرتے تھے : *"أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ" *یعنی: 'میں اللہ کی کامل کلمات کے ذریعے پناہ مانگتا ہوں، ہر شیطان، ہر زہریلی مخلوق اور ہر بری نظر سے۔ (صحیح بخاری ، حدیث 3371)

نواسے امام حسن کو نماز سکھائی

بچوں کونماز سیکھانا اورانہیں نماز پڑھنے کی تلقین کرنایہ بھی گھر کے بڑوں کی ذمہ داری ہے ۔ نبی پاک ﷺ نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو نماز سکھائی ۔ مسند احمد کی روایت ہے : *عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، فَسُئِلَ مَا عَقَلْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: عَقَلْتُ مِنْهُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ* ترجمہ : حضرت ابو الحوراء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:"ہم حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، تو ان سے پوچھا گیا: 'آپ نے رسول اللہ ﷺ سے کیا سیکھا ہے ؟' حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے پانچ وقت کی نماز سیکھی ہے ۔ (ملتقطا مسند احمد ، حدیث 1725)

دونوں ہاتھ پھیلائے نواسے کو پکڑنے کے لئے سرکار ﷺ کا دوڑنا

حضور ﷺ کا امام حسین رضی اللہ عنہ کو پکڑنے کے لئے دوڑنا اور انہیں اپنے پکڑنے کے بعد بوسہ دینا پھر دعا دینا ، محبت کا یہ انداز اپنے نواسے کو بہلانے اور اسے خوش کرنے کے لئے تھا ۔اور یہی انداز ہمیں بھی اپنے بچوں کے ساتھ رکھنا چاہیئے ۔ ادب المفرد کی روایت میں ہے : *عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ودُعينا إِلَى طَعَامٍ فَإِذَا حُسَيْنٌ يَلْعَبُ فِي الطَّرِيقِ، فَأَسْرَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَامَ الْقَوْمِ، ثُمَّ بسط يديه، فجعله يَمُرُّ مَرَّةً هَا هُنَا وَمَرَّةً هَا هُنَا؛ يُضَاحِكُهُ حَتَّى أَخَذَهُ فَجَعَلَ إِحْدَى يَدَيْهِ فِي ذَقْنِهِ وَالْأُخْرَى فِي رَأْسِهِ، ثُمَّ اعْتَنَقَهُ فَقَبَّلَهُ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ، سَبِطَانِ مِنَ الْأَسْبَاطِ* ترجمہ :حضرت یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:"ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے اور ہمیں کھانے پر مدعو کیا گیا۔ اس دوران ہم نے دیکھا کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ راستے میں کھیل رہے ہیں۔ تو رسول اللہ ﷺ جلدی سے آگے بڑھے، پھر دونوں ہاتھ پھیلائے اور حضرت حسین کو اس طرح گود میں اٹھایا کہ ایک بار یہاں اور ایک بار وہاں دوڑتے ہوئے ان کو ہنسانے لگے، جب تک کہ ان کو اٹھا کر اپنی ایک ہاتھ کی انگلیوں کو ان کے ٹھوڑی میں اور دوسری کو ان کے سر میں نہیں رکھا، پھر انہیں گلے لگایا اور بوسہ دیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس شخص کو محبوب رکھے جو حسن اور حسین سے محبت کرے، یہ دونوں میرے خاندان کے دو عظیم ترین حصے ہیں۔ (ادب المفرد ، باب معانقۃ الصبی)

مخلص دوست

مخلص دوست

طبیعتِ انسانی میں شامل ہے کہ انسان ہم ذہن افراد سے رغبت رکھتا ہے۔ انہی ہم ذہن افراد کو بعض اوقات دوست کا نام دیا جاتا ہے۔شریعتِ اسلامیہ میں ہے کہ دوست اگر اچھا ہو تو دین و دنیا میں کامیابی کا ذریعہ ہوتا ہے۔ دین جس طرح دیگر معاملات میں ہماری راہ نمائی کرتا ہے اسی طرح دوستی کے احکامات بھی بتاتا ہے۔ اور بالخصوص جب دوستی کی بنیاد نیکی و پرہیزگاری ہو تو ایسی دوستی دنیا میں بھی کام آنے والی ہے اور آخرت میں بھی کام آنے والی ہے ۔ اللہ رب العزت قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے : *اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَىٕذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَ* ترجمہ : اس دن گہرے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے سوائے پرہیزگاروں کے۔(پارہ 25، سورۃ الزخرف آیت 67) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ جنتی کہے گا: میرے فلاں دوست کا کیا حال ہے؟ اور وہ دوست گناہوں کی وجہ سے جہنم میں ہوگا۔اللہ تعالٰی فرمائے گا کہ اس کے دوست کو نکالو اور جنت میں داخل کردو تو جو لوگ جہنم میں باقی رہ جائیں گے وہ یہ کہیں گے کہ ہمارا کوئی سفارشی نہیں ہے اور نہ کوئی غم خوار دوست۔ ( تفسیر بغوی، الشعراء، تحت ھذہ الایۃ) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،سیّد المرسَلین ﷺ نے ارشاد فرمایا: *الرَّجُلُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ، فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ* آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، اسے یہ دیکھنا چاہیے کہ کس سے دوستی کرتا ہے۔ (جامع ترمذی، الحدیث: 2378) نبی پاک ﷺ کا اپنے اصحاب یعنی دوستوں کے ساتھ کیسا انداز تھا ، ایک اچھا دوست بننے کے لئے سیرت رسول ﷺ میں ہمارے لئے اس حوالے سے بھی رہنمائی موجود ہے ۔ پیارے آقا ﷺ کی دوستی (friend ship) دنیا کی سب سے بہترین دوستی ہے۔

اپنے ایک دوست کا قرضہ اتارنے میں مدد فرمائی

نبی پاک ﷺ کے ایک دوست مقروض ہوگئے ، ہوا یوں کہ انہوں نے مہنگائی کے وقت میں ادھار پر پھل خریدے فروخت کرنے کے لئے پھر اچانک ہی پھلوں کی قیمت گرگئی یا وہ پھل خراب ہوگئے ، جس کی وجہ سے ان پر کافی سارا قرض چڑھ گیا نبی پاک ﷺ نے ان کا ساتھ دیا اپنے دیگر ساتھیوں سے کہا : *تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ * ان پر صدقہ کر و (یعنی قرض اتارنے میں ان کی مدد کرو) *فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ،* پس لوگوں نے ان کی (جو ہوسکا) مددکی *فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ،* لیکن ابھی بھی مکمل قرض ادا نہیں ہوا *فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِغُرَمَائِهِ:* تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے قرض خواہوں سے کہا *«خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ، وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ»* جو موجود ہے اس میں سے اپنا حصہ لے لو ، اس کے علاوہ ابھی نہیں مل سکتا ،(یعنی ان کو قرض کی ادائیگی کے لئے مہلت دے دو۔ (مراٰۃ المناجیح) (صحیح مسلم ، حدیث 1556)

سرکار نے اپنے دوست سے دعا کرنے کو کہا

نبی پاک ﷺ کے دوست ، اسلام کے دوسرے خلیفہ سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ عمرے پر جارہے تھے تو سرکار ﷺ کے پاس آئے اور اجازت طلب کی ، نبی پاک ﷺ کا تو اپنے ہر صحابی کے ساتھ محبت و الفت کا دوستانہ تعلق رہا ہے ، نبی پاک ﷺ نے اجازت عطا فرمائی اور فرمایا : *أَشْرِكْنَا يَا أُخَيَّ فِيْ دُعَائِكَ وَلَا تَنْسَنَا* ترجمہ : اے میرے بھائی ! ہمیں بھی اپنی دعا میں شریک کرنا اور ہمیں بھول نہ جانا ۔(ایک روایت میں اشرکنا کے الفاظ کے ساتھ ہے اور ایک روایت میں لاتنسنا کے الفاظ کے ساتھ ہے ) (ابو داؤد ، حدیث 1498)

مشکل لمحے میں اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر کام کرنا

غزوہ خندق کے موقع پر جب خندق کھودنے کا مشورہ دیا گیا تو رسول کائنات ﷺ نے اس مشورے کو قبول فرمایا اور صحابہ کرام کو خندق کھودنے کا حکم دیا ، عام طور پر جو سردار اور بادشاہ ہوتے ہیں وہ حکم دے کر نگرانی کرتے ہیں لیکن پیارے آقا ﷺ نے صرف حکم نہیں دیا بلکہ خود بھی خندق کھودنے میں صحابہ کرام کے ساتھ شریک ہوئے ۔بخاری و مسلم کی روایت ہے جس میں بتایا گیا کہ حضور ﷺ خندق بھی کھود رہے تھے اور دعا بھی فرمارہے تھے : *وَعَنِ الْبَرَّاءِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقُلُ التُّرَابَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ حَتّٰى اِغْبَرَّ بَطْنُهٗ يَقُولُ:وَاللّٰهِ لَوْلَا اللّٰهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَافَأَنْزِل سَكِيْنَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا إِنَّ الأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهٗ: أَبَيْنَا أَبَيْنَا .(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)* ترجمہ : روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں کہ رسول الله ﷺ خندق کے دن مٹی ہٹا رہے تھے حتی کہ آپ کا پیٹ غبار آلود ہوگیا فرماتے تھے رب کی قسم اگر الله نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے نہ صدقہ کرتے نہ نماز پڑھتے تو ہم پرسکون اتار اور اگر ہم دشمن سے مڈھ بھیڑ کریں تو ہم کو ثابت قدم رکھ یقینًا ان کفار نے ہم پر زیادتی کی جب انہوں نے فتنہ کا ارادہ کیا تو ہم نے انکارکردیا نبی پاک علیہ السلام لفظ *ابینا* پر اپنی آواز بلند فرمارہے تھے۔ (صحیح مسلم، حدیث 1803، صحیح بخاری ، حدیث4104 )

رشتے داروں کے ساتھ کریمانہ انداز

رشتے داروں کے ساتھ کریمانہ انداز

رسول اکرم ﷺ کی پاکیزہ اور روشن تعلیمات پر عمل کر کے ہی معاشرے کو جنت نشاں بنایا جا سکتا ہے ، انہی تعلیمات مصطفی ﷺ میں اپنے رشتے داروں کے ساتھ حسن سلوک ، باہمی ہم آہنگی ، اخوت و بھائی چارہ ، مشکل وقت میں تعاون و ہمدردی ، بھی شامل ہے اور ان تعلیمات سے ترک تعلق کے نقصانات بالکل روشن اور واضح ہیں۔اس لئے ایک اچھا رشتہ دار وہی ہے جو مصطفی جان رحمت ﷺ کی ان تعلیمات کے مطابق اپنے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہے, اللہ پاک نے خود قرآن کریم میں رشتے داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : *بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى* ترجمہ : اور ماں پاب سے بھلائی کرو اور رشتہ داروں(کے ساتھ حسن سلوک کرو) (پارہ 05، سورۃ النساء ، آیت 36) اس آیت میں رشتے داروں کا ذکر کیا گیا کہ ان کے ساتھ بھی حسن سلوک کرنا ہے ۔ خود نبی پاک ﷺ نے بھی رشتے داروں کے ساتھ حسن سلوک کی ترغیب دی اور رشتے داروں سے(بلاوجہ شرعی) تعلق ختم کرنے کی سخت مذمت فرمائی ۔ حدیث پاک میں ہے : *تَعَلَّمُوا مِنْ اَنْسَابِكُمْ مَا تَصِلُونَ بِهِ اَرْحَامَكُمْ، فَاِنَّ صِلَةَ الرَّحِمِ مَحَبَّةٌ فِي الْاَهْلِ مَثْرَاةٌ فِي الْمَالِ، مَنْسَاَةٌ فِي الْاَثَر* ترجمہ : تم اپنا نسب اتنا سیکھوکہ جس سے تم رشتے داروں سے صلۂ رحمی کرسکو ،کیونکہ رشتہ جوڑنا گھر والوں میں محبت، مال میں برکت (اور) عمر میں درازی (کا ذریعہ) ہے۔(جامع ترمذی ، حدیث 1986) حضرت علامہ علی قاری رحمۃُ اللہ علیہ اس حدیثِ مبارکہ کے شروع کے الفاظ کا معنیٰ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: *تَعَرَّفُوا اَقَارِبَكُمْ مِنْ ذَوِي الْاَرْحَامِ لِيُمْكِنَكُمْ صِلَةَ الرَّحِمِ* یعنی تم اپنے ذی رحم رشتہ داروں کی پہچان رکھو تاکہ تمہارے لئے صلہ ٔرحمی کرنا ممکن ہو۔ (مرقاۃ المفاتیح ، جلد 08، تحت الحدیث 4934) اسی حدیث کے تحت حکیمُ الامت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ لکھتے ہیں: اپنے دَدْھیال (یعنی دادا کے خاندان) نَنْھیال (یعنی نانا کے خاندان) کے رشتوں کو یاد رکھو اور یہ بھی دھیان میں رکھو کہ کس سے ہمارا کیا رشتہ ہے تاکہ بقدر رشتہ ان کے حق ادا کرتے رہو،اگر تم کو رشتہ داروں کی خبر ہی نہ ہوگی تو ان سے (اچھا)سلوک کیسے کرو گے۔ (مراٰۃ المناجیح ) سیرت رسول ﷺ کی روشنی میں بھی عملی طور پر ہمیں سرکار دو عالم ﷺ کا اپنے رشتے داروں کے ساتھ حسن سلوک ، انکی مشکل وقت میں مدد کرنا ، ان کی خیر خیریت معلوم کرنے کے لئے ا کے پاس جانا، یہ ساری باتیں سیکھنے کو ملتی ہے ، ہمیں بھی سیرت رسول ﷺ کو اپناتے ہوئے اپنے رشتے داروں کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرنا چاہیئے تاکہ قرآن و حدیث کی تعلیمات و سیرت مصطفی ﷺ پر عمل بھی ہو اور معاشرتی وسماجی اعتبار سے بھی محبت و مودت کو فروغ ملے ۔

تعلقات قائم رکھنا

حضرت سیدتنا ام ایمن رضی اللہ عنہا نبی پاک ﷺ کی رضاعی والدہ ہیں ۔ آپ ﷺ اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود وقت نکال کر حضرت سیدتنا ام ایمن رضی اللہ عنہا سے ملاقات کے لئے جاتے اور جو آپ رضی اللہ عنہا کے ساتھ جورضاعت کا تعلق تھا ، اسے آپ ﷺ نے نظر انداز نہیں فرمایا ۔ روایت میں ہے : *عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ اَبُوْ بَكْرٍ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بَعْدَ وَفَاةِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اِنْطلِقْ بِنَااِلَى اُمِّ اَيْمَنَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا نَزُوْرُهَا كَمَا كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُوْرُهَا* ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ ﷺ کی وفات کے بعد حضرتِ سَیِّدُنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرتِ سیدنافاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’آئیے حضرتِ ام ایمن رضی اللہ عنہا سے ملاقات کے لیے چلتے ہیں جیساکہ رسولُ اللہ ﷺ ان سے ملاقات فرمایا کرتے تھے ۔ ٗ (فیضان ریاض الصالحین ، جلد 04، حدیث 360)

جھگڑے ختم کرنا

جب حضور ﷺ مقام ’’جحفہ‘‘ میں پہنچے تو وہاں حضور ﷺ کے چچا حضرت عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ یہ مسلمان ہوکر آئے تھے بلکہ اس سے بہت پہلے مسلمان ہوچکے تھے اور حضور ﷺ کی مرضی سے مکہ میں مقیم تھے اور حجاج کو زمزم پلانے کے معزز عہدہ پر فائز تھے اور آپ کے ساتھ میں حضور ﷺ کے چچا حارث بن عبدالمطلب کے فرزند جن کا نام بھی ابوسفیان تھا اور حضور ﷺ کے پھوپھی زاد بھائی عبداللہ بن ابی امیہ جواُم المؤمنین حضرت بی بی اُمِ سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہاکے سوتیلے بھائی بھی تھے بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے ان دونوں صاحبوں کی حاضری کا حال جب حضور ﷺکو معلوم ہوا تو آپ ﷺ نے ان دونوں صاحبوں کی ملاقات سے انکار فرما دیا۔ کیونکہ ان دونوں نے حضور ﷺ کو بہت زیادہ ایذائیں پہنچائی تھیں ۔ خصوصاً ابوسفیان بن الحارث آپ کے چچازاد بھائی جو اعلان نبوت سے پہلے آپ کے انتہائی جاں نثاروں میں سے تھے مگر اعلان نبوت کے بعد انہوں نے اپنے قصیدوں میں اتنی شرمناک اور بیہودہ ہجو حضور ﷺ کی کر ڈالی تھی کہ آپ کا دل زخمی ہوگیا تھا۔ اس لئے آپ ان دونوں سے انتہائی ناراض و بیزار تھے مگر حضرت بی بی ام سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہانے ان دونوں کا قصور معاف کرنے کے لئے بہت ہی پرزور سفارش کی اور ابوسفیان بن الحارث نے یہ کہہ دیا کہ اگر رسول اللہ ﷺ نے میرا قصور نہ معاف فرمایا تو میں اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو لے کر عرب کے ریگستان میں چلا جاؤں گا تاکہ وہاں بغیر دانہ پانی کے بھوک پیاس سے تڑپ تڑپ کر میں اور میرے سب بچے مر کر فنا ہوجائیں ۔ حضرت بی بی اُمِ سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا نے بارگاہ رسالت میں آبدیدہ ہوکر عرض کیا کہ یارسول اللہ ! (ﷺ ) کیا آپ کے چچا کا بیٹا اور آپ کی پھوپھی کا بیٹا تمام انسانوں سے زیادہ بدنصیب رہے گا؟ کیا ان دونوں کو آپ کی رحمت سے کوئی حصہ نہیں ملے گا؟ جان چھڑکنے والی بیوی کے ان درد انگیز کلمات سے رحمۃ للعالمین ﷺ کے رحمت بھرے دل میں رحم و کرم اور عفوودرگزر کے سمندر موجیں مارنے لگے۔ پھر حضرت علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے ان دونوں کو یہ مشورہ دیا کہ تم دونوں اچانک بارگاہ رسالت میں سامنے جاکر کھڑے ہوجاؤ اور جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے کہا تھا وہی تم دونوں بھی کہو کہ *قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِـٕیْنَ* ترجمہ : کہ یقینا آپ کو اللہ تَعَالٰی نے ہم پر فضیلت دی ہے اور ہم بلاشبہ خطاوار ہیں ۔ چنانچہ ان دونوں صاحبوں نے دربار رسالت میں ناگہاں حاضر ہوکر یہی کہا۔ ایک دم رحمت عالم ﷺ کی جبینِ رحمت پر رحم و کرم کے ہزاروں ستارے چمکنے لگے اور آپ نے ان کے جواب میں بعینہٖ وہی جملہ اپنی زبانِ رحمت نشان سے ارشاد فرمایا جو حضرت یوسف علیہ السّلام نے اپنے بھائیوں کے جواب میں فرمایا تھاکہ *لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَؕ-یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ٘-وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ* ترجمہ : آج تم سے کوئی مواخذہ نہیں ہے اللہ تمہیں بخش دے۔وہ ارحم الر احمین ہے۔جب قصور معاف ہوگیا تو ابوسفیان بن الحارث رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے تاجدار دوعالم ﷺ کی مدح میں اشعار لکھے اور زمانہ جاہلیت کے دور میں جو کچھ آپ کی ہجو میں لکھا تھا اس کی معذرت کی اور اس کے بعد عمر بھر نہایت سچے اور ثابت قدم مسلمان رہے مگر حیاء کی و جہ سے رسول اللہ ﷺ کے سامنے کبھی سر نہیں اٹھاتے تھے اور حضور ﷺ بھی ان کے ساتھ بہت زیادہ محبت رکھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ مجھے امید ہے کہ ابوسفیان بن الحارث میرے چچا حضرت حمزہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے قائم مقام ثابت ہوں گے۔ (سیرت ابن ہشام ،جلد02، صفحہ400)

رشتے دار کو تحفہ عطا فرمانا

ایک موقع پر پیارے آقا ﷺ لشکر کی تیاری میں مصروف تھےکہ اتنے میں حضرت عباس بھی آگئے ، آپ نے حضرت عباس کو دیکھ کر ارشاد فرمایا : یہ تمہارے نبی کے چچا ہیں جوکہ عرب میں سب سے بڑھ کر سخی اور صلہ رحمی (یعنی عزیزوں اور رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک) کرنے والے ہیں۔ (تاریخ ابن عساکر ، 26 / 324) پیارے آقا ﷺ کی بارگاہ میں وفدِ داریین آیا جنہوں نے آپ کو کئی تحائف دئیے ، ان میں ایک ریشمی جبہ بھی تھا جو سونے سے آراستہ تھا ، حضورِ اکرم ﷺ نے وہ جبہ حضرت عباس رضی اللہُ عنہ کو دیا تو آپ نے عرض کی : میں اس کا کیا کروں گا! (یہ ریشم کا ہے اور سونا تو مَردوں پر حرام ہے۔ ) حُضور نبیِّ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس سے سونا الگ کرکے اپنی خواتین کے لئے زیور بنالیں یا ویسے ہی اس سونے کو اپنے اہلِ خانہ پر خرچ کرلیں اور ریشمی جبہ فروخت کرکے اس کی قیمت کو استعمال میں لے لیں۔ چنانچہ وہ جبہ آپ نے ایک یہودی کو آٹھ ہزار درہم میں بیچ دیا۔ (سبل الہدیٰ والرشاد ، 6 / 334 )

مشکل وقت میں رشتے داروں کا ساتھ دینا

آپ ﷺ کے چچا ابو طالب اپنے دوسرے بھائیوں کی طرح خوشحال نہ تھے ۔اکثر تنگی کا سا منا رہتا تھا ،مکہ میں جب قحط پڑا تو اس سے ان کی مالی حالت اور کمزور ہوگئی، حضور رحمت عالم ﷺ سے آپ کی یہ تکلیف نہ دیکھی گئی،حضور اپنے چچا حضرت عباس کے پاس گئے اور اس بات کی ترغیب دی کہ ہمیں مل کر جناب ابو طالب کا بوجھ بانٹ لینا چا ہئے ،ان کا ایک بیٹا میں لے لیتا ہوں ،اس کی پرورش میں کروں گا ۔ایک لڑ کا آپ لے لیں ،اور اس کی پرورش کی ذمہ داری آپ اپنے ذمے لے لیں اس طر ح ان کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا ۔چنا نچہ آپ ﷺ اور حضرت عباس ابو طالب کے پاس گئے اور اپنے آنے کا مقصد بتایا۔جناب ابو طالب کے چار بیٹے تھے، طالب،عقیل،جعفر،علی۔ انہوں نے کہا :طالب اور عقیل کو آپ میرے پاس رہنے دیں اور باقی بچوں کے بارے میں جو آپ لوگوں کی مرضی ہو کریں ۔چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جو سب سے کم عمر تھے ۔رحمت عالم ﷺ نے ان کی پرورش کی ذمہ داری اپنے سر لے لی اور جعفر کو حضرت عباس رضی اللہ عنہ لے گئے۔ (ضیاء النبی،جلد دوم،صفحہ:۲۲۹۔ ۲۳۰)

بے مثال پڑوسی

بے مثال پڑوسی

ایک ہی محلے یا سوسائٹی میں رہنے والے لوگ اگر ایک دوسرے سے میل جول نہ رکھیں، دُکھ درد میں شریک نہ ہوں تو بہت سی مشقتیں اور پریشانیاں پیدا ہو سکتی ہیں اس لیے اسلام نے جہاں ماں باپ اور عزیز و اقارب کے ساتھ حسنِ سلوک، ہمدردی و اخوت، پیار و محبت، اَمْن و سلامتی اور ایک دوسرے کے دُکھ درد میں شریک ہونے کی تعلیم دی ہے وہیں مسلمانوں کے قرب و جوار میں بسنے والے یعنی پڑوسیوں کو بھی محروم نہیں رکھا بلکہ ان کی جان و مال اور اہل و عیال کی حفاظت کا ایسا درس دیا کہ اگر اُس پر عمل کیا جائے تو بہت سے معاشرتی و سماجی مسائل حل ہو سکتے ہیں اور اِس کے نتیجے میں ایک ایسا خوبصورت معاشرہ وجود میں آسکتا ہے جہاں ہر ایک دوسرے کے جان و مال، عزت و آبرو اور اہل و عیال کا محافظ ہوگا۔ قرآن کریم میں بھی اللہ پاک نے پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دی ارشاد فرمایا گیا : *وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ* ترجمہ : قریب اور دور کے پڑوسیوں کے ساتھ (بھی حسن سلوک کرو) (پارہ 05، سورۃ النساء ، آیت 36)۔ رسول کریم ﷺ نے بھی پڑوسیوں کے حقوق کی ادائیگی پر کافی زور دیا۔ اور اس انداز سے پڑوسیوں کے حقوق کو بیان فرمایا کہ صحابہ کرام یہ گمان کرنے لگے کہ حضور ﷺ پڑوسیوں کو مالی وراثت میں بھی حقدار بنادینگے ، اس حد تک پڑوسیوں کا خیال کرنے ، اور کے ساتھ ہمدردی کرنے کا درس فرامین مصطفٰی ﷺ میں دیا گیا ۔ ان میں سے چند احادیث بطور ترغیب کے پیش کی جارہی ہیں تاکہ ہم بھی ایک اچھے پڑوسی ہونے کی فہرست میں شامل ہوجائیں ۔

حقوق کا خیال رکھنا

حضورِ اکرم ﷺ کی مبارک تعلیمات انسانیت کی حقیقی محافظ ہیں۔ آپ ﷺ نے ایک ستھرے اور انسان دوست معاشرے کی بنیاد رکھی۔ آپ ﷺ کی حسن معاشرت والی تعلیمات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم اپنے پڑوسی کے حقوق کا خیال رکھیں،ان کے ساتھ مل جل کر رہے ۔ شعب الایمان کی روایت ہے جس میں سرکار دو عالم ﷺ نے پڑوس کے چند حقوق شمار فرمائے اور صحابہ کرام علیھم الرضوان سے پوچھا : *أَتَدْرِي مَا حَقُّ الْجَارِ* : کیا تمہیں معلوم ہے کہ پڑوسی کا کیا حق ہے؟ *إِذَا اسْتَعَانَكَ أَعَنْتُهُ* ، یہ کہ جب وہ تم سے مدد مانگے، مدد کرو *وَإِذَا اسْتَقْرَضَكَ أَقْرَضْتَهُ* اور جب قرض مانگے، قرض دو *وَإِذَا افْتَقَرَ عُدْتَ عَلَيْهِ،* اور جب محتاج ہو تو اسے دو * وَإِذَا مَرِضَ عُدْتَهُ* اور جب بیمار ہو تو عِیادَت کرو ، *وَإِذَا أَصَابَهُ خَيْرٌ هَنَّأْتَهُ* ، اور جب اسے بھلائی پہنچے تو مبارک باد دو *وَإِذَا أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ عَزَّيْتَهُ*، اور جب مصیبت پہنچے تو تعزیت کرو *وَإِذَا مَاتَ اتَّبَعْتَ جِنَازَتَهُ،* اور وفات پا جائے تو جنازہ کے ساتھ جاؤ *وَلَا تَسْتَطِيلُ عَلَيْهِ بِالْبِنَاءِ تَحْجُبُ عَنْهُ الرِّيحَ إِلَّا بِإِذْنِهِ* اوراس کی اجازت کے بغیر اپنی عمارت بلند نہ کرو کہ اس کی ہوا روک دو *وَلَا تُؤْذِيهِ بِقُتَارِ قِدْرِكَ إِلَّا أَنْ تَغْرِفَ لَهُ مِنْهَا* ، اور اپنی ہانڈی کی خوشبوسے اس کو ایذا نہ دومگر اس میں سے کچھ اسے بھی دو *وَإِنِ اشْتَرَيْتَ فَاكِهَةً فَاهْدِ لَهُ* اور پھل خریدو تو اس کے پاس بھی ہدیہ کرو *فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَأَدْخِلْهَا سِرًّا، وَلَا يَخْرُجُ بِهَا وَلَدُكَ لِيَغِيظَ بِهَا وَلَدَهُ* اور اگر ہدیہ نہ کرنا ہو تو چھپا کر مکان میں لاؤ اورتمہارے بچے پھل لے کر باہر نہ نکلیں کہ پڑوسی کے بچوں کو رَنج ہوگا۔ *أَتَدْرُونَ مَا حَقُّ الْجَارِ* ، تمہیں معلوم ہے کہ پڑوسی کا کیا حق ہے؟ *وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا يَبْلُغُ حَقُّ الْجَارِ إِلَّا قَلِيلًا مِمَّنْ رَحِمَ اللهُ فَمَا زَالَ يُوصِيهِمْ بِالْجَارِ حَتَّى ظَنُّوا أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ* قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مکمل طور پر پڑوسی کا حق ادا کرنے والے تھوڑے ہیں ، وہی ہیں جن پر اللہ پاک کی مہربانی ہے۔ حضور ﷺ پڑوسیوں کے حقوق بیان فرماتے رہے یہاں تک کہ لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ حضور ﷺ پڑوسی کو وارث بھی بنادینگے ۔ ( شعب الایمان ، حدیث 9113)

پڑوسی سے محبت بڑھانے کا انداز

محبت کو بڑھانے کے مختلف انداز اور طریقے ہوسکتے ہیں ، پڑوس میں محبت کے بڑھانے کا ایک پیارا انداز سرکار ﷺ نے بیان فرمایا *:يَا عَائِشَة إِذا دخل عَلَيْك صبي جَارك فضعي فِي يَدَيْهِ شَيْئا فَإِن ذَلِك يجر مَوَدَّة * ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ:رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ:اے عائشہ! پڑوسی کا بچہ آجائے تو اس کے ہاتھ میں کچھ رکھ دو کہ اس سے محبت بڑھے گی۔ (الفردوس بماثور الخطاب ، حدیث 8630)

پڑوسی کو اپنے بنائے گئے کھانے میں شریک کرنا

اس قدر پڑوسی کی اہمیت کو ہمارے آقا ﷺ نے واضح فرمادیا کہ کھانا عموما گھر میں بنتا ہے ، اس کھانے میں شوربہ زیادہ کردیا جائے تاکہ اس میں سے پڑوسی کو بھی دیا جاسکے فرمایا گیا : *عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: إِنَّ خَلِيلِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَانِي: إِذَا طَبَخْتَ مَرَقًا فَأَكْثِرْ مَاءَهُ، ثُمَّ انْظُرْ أَهْلَ بَيْتٍ مِنْ جِيرَانِكَ، فَأَصِبْهُمْ مِنْهَا بِمَعْرُوفٍ* ترجمہ :حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:میرے خلیل ﷺ نے مجھے وصیت فرمائی کہ: اے ابو ذر!جب تم سالن(یعنی گو شت وغیرہ)پکاؤتو اس میں شوربا زیادہ رکھو۔ پھر اپنے پڑوسی کا خیال رکھو اور اس میں سے کچھ ان کے لئے بھی بھیج دو۔ (مسلم،حدیث: 2625) اس حدیث سے پڑوسیوں کا خیال کرنے کی بڑی واضح ترغیب موجودہے ۔ افسوس ہمارے معاشرے سے تعلیمات مصطفٰی ﷺکے یہ حسین اور خوبصورت انداز مفقود ہورہے ہیں۔ اللہ ہمیں اس پر عمل کی سعادت عنایت کرے

خوشگوار تعلقات

معاشرے کی خوبصورتی اس میں ہے کہ ماحول خوشگوار ہو ، بدامنی ، دلوں کی کدورتیں، بغض ،کینہ ، حسد ،لڑائی جھگڑے یہ معاشرے میں بدامنی و ناخوشگواری کا سبب بنتے ہیں۔ بالخصوص جہاں ہم رہتے ہیں وہاں آپس میں ماحول کا خوشگوار ہونا انتہائی اہمیت رکھتا ہے اسی وجہ سے اسلام نے پڑوسیوں کے اکرام اور ان کو عزت دینے کا حکم دیا اور اسے ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کے ساتھ ملادیا محسنِ انسانیت ، حضور نبیِّ رحمت ﷺ نے فرمایا: *مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَه* ترجمہ: جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اُسے چاہئے کہ وہ اپنے پڑوسی کا اکرام کرے۔ (بخاری، حدیث 6019) پڑوسی کا اکرام کیا ہے ، اس حوالے سے علامہ زرقانی رحمۃ اللہِ علیہ لکھتے ہیں: یعنی خندہ پیشانی اور بشاشت سے ملے، اسے خیر اور نفع پہنچائے، اس سے تکلیف کو دور کرےاور اگر اُس کی جانب سے اِسے کوئی پریشانی پہنچے تو اسے برداشت کرے۔ (ماہنامہ فیضان مدینہ بحوالہ زرقانی، جون 2024) جب پڑوس میں رہنے کا انداز ایسا ہوگا تو ماحول خوشگوار رہے گا اور آپس میں محبت بھی رہے گا۔ سیرت رسول ﷺ کی روشن تعلیمات سے پڑوسیوں کے حقوق ، ان کا اکرام ، ان کو اپنے کھانے میں سے دینا ، انہیں اپنی جانب سے تکلیف و اذیت پہنچانے سے بچے رہنا یہ سب سیکھنے کو ملتا ہے ۔اللہ کریم ہمیں اچھا پڑوسی بننے کی توفیق عطا فرمائے ۔

رسول اللہ ﷺم کا وعدہ نبھانے کا انداز

رسول اللہ ﷺ وعدہ نبھانے والے

ایک دوسرے کی مدد کے بغیر دنیا میں زندگی گزارنا بہت مشکل ہے، اس معاونت میں مضبوطی پیدا کرنے کے لئے قدم قدم پر یقین دہانی کی ضرورت پڑتی ہے، اس یقین دہانی کا ایک ذریعہ وعدہ ہے۔ مستحکم تعلقات، لین دین میں آسانی، معاشرے میں امن اور باہمی اِعتماد کی فضا کا قائم ہونا وعدہ پورا کرنے سے ممکن ہے، اسی لئے اسلام نے اِیفائے عہد یعنی وعدہ پورا کرنے پر بہت زور دیا ہے۔ قراٰن و احادیث میں بہ کثرت یہ حکم ملتا ہے کہ وعدہ کرو تو پورا کرو۔ اللہ رب العزّت کا فرمان ہے: ? *وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا* ترجمہ : اور وعدہ پورا کرو بے شک وعدے کے بارے میں سوال ہونا ہے ۔ (پ15، بنی اسرائیل:34) یہاں وعدے کی پاسداری کا حکم ہے اور پورا نہ کرنے پر باز پرس کی خبر دے کر وعدے کی اہمیت کو مزید بڑھایا گیا ہے۔ نبی پاک ﷺ کے فرامین میں بھی وعدہ پورا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے پیارے آقا ﷺکا فرمان ہے : تمہارے بہترین لوگ وہ ہیں جو وعدہ پورا کرتے ہیں۔ (مسند ابی یعلیٰ،ج1،ص451)

وعدے کی پابندی

وعدہ کرنا اور پھر اسے پورا کرنا یہ فطری طور پر بھی انسانی طبیعت کو اچھا لگتا ہے ، لوگ اسے پسند بھی کرتے ہیں ۔ دین اسلام نے اپنے ماننے والوں کو وعدہ کر کے پورا کرنے کی ترغیب پر بڑا زور دیا ہے اور خود پیارے آقا ﷺ کی سیرت طیبہ سے وعدہ پورا کرنے کی عملی مثالیں موجود ہیں ۔ سرکار دو عالمﷺکا وعدہ پورا کرنے والا وصف یہ ایک ایسی خوبی ہے جو اعلان نبوت سے پہلے ہی اہل مکہ میں معروف و مشہور تھی کہ آپ صادق الوعد ہیں ۔ یعنی اپنی بات کے بڑے پکے ہیں ، جو کہتے ہیں وہ کرتے ہیں ۔ حضور ﷺ اپنے وعدے کے کس قدر پابند تھے ابو داؤد شریف کی اس روایت سے اندازہ لگائیں : *عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْحَمْسَاءِ، قَالَ: بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَيْعٍ قَبْلَ أَنْ يُبْعَثَ وَبَقِيَتْ لَهُ بَقِيَّةٌ فَوَعَدْتُهُ أَنْ آتِيَهُ بِهَا فِي مَكَانِهِ، فَنَسِيتُ، ثُمَّ ذَكَرْتُ بَعْدَ ثَلَاثٍ، فَجِئْتُ فَإِذَا هُوَ فِي مَكَانِهِ، فَقَالَ: «يَا فَتًى، لَقَدْ شَقَقْتَ عَلَيَّ، أَنَا هَاهُنَا مُنْذُ ثَلَاثٍ أَنْتَظِرُكَ* ترجمہ : حضرت عبداللہ بن ابی الحمساء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ، آپ کی بعثت سے پہلے، ایک تجارتی معاملہ کیا۔ کچھ رقم میرے ذمے باقی رہ گئی، جسے میں نے وعدہ کیا کہ میں باقی رقم آپ کو اسی مقام پر لا کر دیتا ہوں لیکن میں بھول گیا اور تین دن گزر گئے۔ پھر مجھے یاد آیا، تو میں وہاں پہنچا۔ دیکھا کہ آپ ﷺ اسی جگہ موجود ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے نوجوان! تم نے مجھے مشقت میں ڈال دیا۔ میں تین دن سے یہاں تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔" (سنن ابی داؤد ، حدیث 4996)

حالت جنگ میں افرادی قوت کی کمی کے باوجود عدہ پورا فرمایا

جنگ بدر میں ہم سب ہی جانتے ہیں مسلمانوں کی تعدا د کم تھی اور کافروں کی تعداد مسلمانوں سے دگنی بلکہ اس سے بھی زیادہ تھی ، اس موقع پر نبی پاکﷺ کے دو صحابی جو راستے میں تھے اور کفار نے انہیں راستے میں گھیر لیا اور س بات کا عہد لیا کہ وہ اس جنگ میں شریک نہیں ہونگے پھر انہیں جانے دیا ۔ جب وہ دونوں صحابی بارگاہ ِ رسالت ﷺ میں حاضر ہوئے اور سب کچھ بتایا تو حضور ﷺ نے انہیں جنگ میں شرکت کی اجازت نہ دی *انْصَرِفَا، نَفِي لَهُمْ بِعَهْدِهِمْ، وَنَسْتَعِينُ اللهَ عَلَيْهِمْ*: ہم ہر حال میں عہد کی پابندی کریں گے، ہمیں صرف اللہ پاک کی مدد درکار ہے۔ (مسلم، حدیث:1787)

بہترین تاجر

بہترین تاجر

پیارے آقا ﷺ ہر ہر معاملہ میں کامل و اکمل ہیں ، آپ ﷺ نے زندگی کے ہر شعبے میں ہماری راہنمائی فرمائی ہے اور کیوں نہ ہو کہ ربُّ العالمین کا فرمان ہے : *لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ* ترجمہ : بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔ (پارہ 21، سورۃ الاحزاب ، آیت 21) انسانی زندگی میں تجارت کی اہمیت و ضرورت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ، اسے اچھے اور بہترین انداز میں چلانے اور ترقی دینے کیلئے اس میں حسنِ معاملہ ، صداقت اور دیانت داری کا ہونا ضروری ہے جبکہ جھوٹ ، دھوکا اور وعدہ خلافی سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے، نبی مکرم ﷺ کی سیرت مبارکہ سے جہاں ہمیں تجارت کے بنیادی اصول سیکھنے کو ملتے ہیں ،، وہیں پیارے آقا ﷺ کے ایسے فرامین و ترغیبات بھی ملتی ہیں جو آپ ﷺ نے اپنی امت کو عطا فرمائی ۔ اگر تجارت و کاروبار میں ان تعلیمات پر عمل پیرا ہوا جائے تو معاشرتی و سماجی ترقی کے ساتھ ساتھ معاشی و اقتصادی ترقی بھی حاصل ہوجائے گی ۔

بہترین شراکت دار

لوگوں کے ساتھ اچھے انداز سے پیش آنا ، اسلام کی خوبیوں میں سے ایک خوبی ہے۔ اس کے ذریعہ سے انسان دوسروں سے ممتاز اور معاشرے کا بااثر شخص بن جاتا ہے ، اگر یہی خوبی ہمارے تجارتی معاملات میں ہو تو کامیابی قدم چومے گی اور دین اسلام کی طرف غیر مسلم مائل ہوں گے۔ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن سائب رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ میں زمانۂ جاہلیت میں حضورِ اکرم ﷺکا شریکِ تجارت تھا ، میں جب مدینۂ منورہ حاضِر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا : مجھے پہچانتے ہو؟میں نے عرض کی : کیوں نہیں! آپﷺ تو میرے بہت اچھے شرِیکِ تجارت تھے نہ کسی بات کو ٹالتے اور نہ کسی پر جھگڑا کرتے تھے۔ (ماہنامہ فیضان مدینہ ، اکتوبر 2021، بحوالہ خصائص الکبری)

دیانت دار تاجر

فی زمانہ دیکھا جائے تو آج لوگ امانت کو چھوڑ کر خیانت میں فائدہ تلاش کررہے ہیں جبکہ فائدے کا دار و مدار حضور نبیِّ کریمﷺ کی سنّت و اسلامی طریقہ اختیار کرنے میں ہے ، دیانتدار تاجر کے بارے میں نبی پاک ﷺ کا فرمان ہے : *اَلتَّاجِرُ الصَّدُوقُ الاَمِينُ مَعَ النَّبِيِّينَ ، وَالصِّدِّيقِينَ ، وَالشُّهَدَاء* یعنی سچا اور دیا نت دار تاجر (جنّت میں) انبیا ، صدیقین اور شہدا کے ساتھ ہو گا۔ ( جامع ترمذی ۔ 1209) منقول ہے کہ آپ ﷺ نے تجارت کی غرض سے ملکِ شام و بصریٰ اور یمن کا سَفَر فرمایا اور ایسی راست بازی اور امانت و دیانت کے ساتھ تجارتی کاروبار کیا کہ آپ کے شرکا اور تمام اہلِ بازار آپ ﷺ کو امین کے لقب سے پکارنے لگے۔ (سیرت مصطفٰی، صفحہ 103)

محنت و جدوجہد

نبی ﷺ شروع سے ہی تجارت اور کام میں دلچسپی لیتے رہے ہیں ، بارہ سال کی عمر میں بھی اپنے چچا کے ساتھ تجارتی سفر کیا اس کے بعد بھی مختلف مواقع پر آپ ﷺ نے تجارتی سفر کئے اور سفر کے علاوہ اہل مکہ میں رہ کر سرکار دو عالم ﷺ نے اہل مکہ کی بکریاں بھی سنبھالی ہیں ۔ خود پیارے آقا ﷺ ایک موقع پر صحابہ کرام سے فرمارہے تھے کہ * مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا رَعَى الغَنَمَ *اللہ پاک نے جتنے انبیاء بھیجے سب نے ہی بکریاں چرائی ہیں ۔ صحابہ کرام نے (حیرت) سے پوچھا ، یارسول اللہ ﷺ کیا آپ نے بھی بکریاں چرائی ہیں ۔ نبی پاک ﷺ نے فرمایا *: نَعَمْ، كُنْتُ أَرْعَاهَا عَلَى قَرَارِيطَ لِأَهْلِ مَكَّةَ* ترجمہ : ہاں میں بھی مکہ والوں کی بکریاں قراریط پر چراتا تھا ۔ (صحیح بخاری ، حدیث 2262) نبی کریمﷺ تاجروں اور کاروباری لوگوں کے لئے کئی طرح سے رہنمائی فرمائی ہے ، اس کورس میں ہمارا مقصد صرف سرکارﷺ کے معاشرتی انداز کو بیان کرنا مقصد ہے ، لہذا اسی پر اکتفاء کیا، ہماری ایپ کا ایک علیحدہ کورس ہوگا جس میں حضور ﷺ کی معاشی واقتصادی پہلو پر کلام ہوگا ، وہیں اس کی تفصیل بھی بیان کی جائے گی ۔ ان شاء اللہ کریم ۔۔

رسول اللہ ﷺ کی قانون سازی

معاشرتی و سماجی قانون ساز

قانون (قواعد واصول ) کی اصل غرض و غایت معاشرے میں امن و امان کا قیام اور ہر شخص کے ہر جائز حق کی حفاظت و نگہداشت ہے، ۔ ہر وہ قانون جو اس غرض کو پورا کرے گا اور جس قدر زیادہ اچھی صورت میں پورا کرے گا اسی قدر وہ قانون قابلِ اعتماد و احترام، لائقِ تعریف و سَتائش اور زیادہ مقبول ومفید ہوگا۔ اور پھر اس قانون کو پیش کرنے والا بھی اسی قدر زیادہ محسنِ انسانیت اور زیادہ سے زیادہ داد وتحسین کا مستحق ٹھہرے گا۔ قانون بنانے والے چاہے ان کا تعلق سیاست سے ہو یا پھر ان کا تعلق کسی بھی جگہ کے انتظامی امور سے متعلق ہو ، ان کے لئے نبی مکرم ﷺ کی سیرت مبارکہ بہترین رہنمائی فراہم کرتی ہے ۔ نبیِّ کریم ﷺ نے اسلامی قانون سازی میں تمام اقوامِ عالم اور دنیا کے ہر خطے کی نفسیات اور طبعی میلانات کی رعایت رکھی اور اس کو قیامت تک آنے والے افراد اور مستقبل میں پیش آنے والے حالات و واقعات میں قابلِ عمل بنانے کے لئے مؤثر اقدامات کئے اور اسی مقصد کے پیش نظر اسلامی قانون کی تشکیل کے وقت ان بنیادی امور کا لحاظ کیا گیا جن سے اسلامی قانون کے ہمہ جہت اور عالمگیر ہونا روزِ روشن کی طرح عیاں ہوجاتا ہے۔

برابری و مساوات کا قانون

رسول اللہ ﷺ کے دیے ہوئے قوانین کی ایک اور خوبصورتی یہ بھی ہے کہ اس میں انسانی برابری کا عملی نمونہ موجود ہے اسلام نے آکر انسانوں کو حقوق میں برابر کر دیا، اور بے شک برابری انصاف کا سب سے بڑا اور بنیادی اصول ہے بلکہ سچ یہ ہے کہ انصاف کی عمارت کی بنیاد برابری ہی ہے۔ حضور انور ﷺ نے تمام مسلمانوں کو چاہے امیر ہوں یا غریب، عربی ہوں یا عجمی، کالے ہوں یا گورے اسلامی احکامات میں سب کو برابرکر دیا۔ قراٰنِ پاک نے فرمایا کہ وجہِ تکریم تقویٰ ہے۔ نسل و رنگ وغیرہ کی بنا پر کوئی فوقیت کسی کو حاصل نہیں اور یہی حضور ِاکرم ﷺ نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں فرمایا: *يَا اَيُّهَا النَّاسُ اَلَا اِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ وَاِنَّ اَبَاكُمْ وَاحِدٌ اَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلٰى عَجَمِيٍّ وَلَا لِعَجَمِيٍّ عَلٰى عَرَبِيٍّ وَلَا اَحْمَرَ عَلٰى اَسْوَدَ وَلَا اَسْوَدَ عَلٰى اَحْمَرَ اِلَّا بِالتَّقْوَى* ترجمہ : اے لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارے والد ایک ہیں، سُن لو! کسی عربی کو عجمی پر، کسی عجمی کو عربی پر، کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں البتہ جو پرہیزگار ہے وہ دوسروں سے افضل ہے۔ (مسند امام احمد ، حدیث 23489) مساوات کا یہ قانون خود رسولِ اکرم ﷺ نے اپنی عملی زندگی میں نافذ کرکے دکھایا جیسے کہ چوری کے ایک مقدمہ میں جب ایک اونچے گھرانے کی عورت نے چوری کی تو رسولُ اللہ ﷺ نے ایک تاریخی فیصلہ فرما کر رہتی دنیا تک کے لئے ایک مثال قائم فرمائی چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا سے روایت ہے کہ ایک مخزومیہ عورت نے چوری کی تھی، جس کی وجہ سے قریش کو فکر پیدا ہوگئی (کہ اس کو کس طرح سزا سے بچایا جائے۔) آپس میں لوگوں نے کہا کہ اس کے بارے میں کون شخص رسولُ اللہ ﷺ سے سفارش کرے گا؟ پھر لوگوں نے کہا: حضرت اسامہ بن زید رضی اللہُ عنہما کے سوا جو کہ رسولُ اللہ ﷺ کے محبوب ہیں، کوئی شخص سفارش کرنے کی جرأت نہیں کرسکتا، غرض حضرت اسامہ رضی اللہُ عنہ نے سفارش کی، اس پر حضورِ اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تو حد کے بارے میں سفارش کرتا ہے! پھر حضورپُر نور ﷺ خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے اور اس خطبہ میں یہ فرمایا کہ اگلے لوگوں کو اس بات نے ہلاک کیا کہ اگر اُن میں کوئی شریف چوری کرتا تو اُسے چھوڑ دیتے اور جب کمزور چوری کرتا تو اُس پر حد قائم کرتے، خدا کی قسم! اگر فاطمہ بنت ِمحمد چوری کرتی تو میں اُن کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔ (صحیح بخاری ، حدیث 6788)

دو مشکل امر میں آسانی والے پہلو کو اختیار کرنے کا قانون

رسولُ اللہ ﷺ نے احکامات کی ادائیگی میں عزیمت اور رخصت کے دو درجے بیان فرمائے تاکہ انسان اپنی استطاعت اور کیفیت کے مطابق جس کو چاہے اختیار کرے۔ آپ ﷺ کی یہ عادتِ کریمہ تھی کہ جب آپ کو دو چیزوں میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا جاتا تو آپﷺ اپنی امت پر شفقت و مہربانی کرتے ہوئے اس میں سے آسان تر کو اختیار فرماتے بشرطیکہ اس میں گناہ نہ ہوتا، جیسا کہ امّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا فرماتی ہیں: *مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ اَمْرَيْنِ اِلَّا اَخَذَ اَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ اِثْمًا فَاِنْ كَانَ اِثْمًا كَانَ اَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ* ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ حضورِ اکرم ﷺ کو جب بھی دو چیزوں میں اختیار دیا جاتا تو آپ ان میں سے آسان کو اختیار فرماتے بشرطیکہ وہ گناہ نہ ہو، اگر اس میں کوئی گناہ ہوتا تو سب لوگوں سے زیادہ آپ اس سے دور رہتے۔ (صحیح مسلم ، حدیث 2327)

میدان جنگ میں بھی اصولوں کی پابندی کا درس

عام حالات تو اپنی جگہ حالتِ جنگ کے لئے بھی رسول اللہ ﷺنے ایسی قانون سازی فرمائی کہ انسانی حقوق کے عَلَم بردار قوانین کی ایسی مثال پیش کرنے سے قاصر ہیں، سرکارِ دوعالَم ﷺ جب جنگ کے لئے لشکر روانہ فرماتے تو امیرِ لشکر کو جو وصیت فرماتے، وہ ملاحظہ ہو حدیثِ پاک میں ہے: *قَالَ اغْزُوا بِاسْمِ اللَّهِ فِى سَبِيلِ اللَّهِ قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ اغْزُوا وَلَا تَغُلُّوا وَلَا تَغْدِرُوا وَلَا تَمْثُلُوا وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا* ترجمہ : فرماتے اﷲ کے نام سے اﷲ کی راہ میں جہاد کرو، ان سے جنگ کرو جو اللہ کو نہیں مانتے، (جہاد میں) نہ خیانت کرو،نہ بد عہدی اور نہ مثلہ کرو نہ کسی بچہ کو قتل کرو۔ (صحیح مسلم ۔ حدیث 1731)

بہترین خیر خواہ

حضورﷺکا خیر خواہی کا مزاج

اللہ کریم کے آخری نبی ﷺ کی یوں تو ہر ادا ہمارے لئے خیر و بھلائی والی ہےلیکن آپ کے اندازِ خیر خواہی کی بات ہی نرالی ہے جس سے خود اللہ پاک کا سچا کلام قراٰنِ پاک ہمیں متعارف (Introduce)کرواتا ہے تاکہ ہم آپ سے دل و جان سے محبت کریں اور آپ کا اندازِ خیرخواہی اپنا کر اپنی دنیا و آخرت کو بہتر بنائیں۔سب سے پہلے تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ پاک نے کس طرح رسولِ اکرم ﷺ کے اندازِ خیر خواہی کو بیان فرمایا ہے؟ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: *حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ* ترجمہ: تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے۔ (پارہ 11، سورۃ التوبہ ، آیت 128)

ام قیس رضی اللہ عنہا کے بیمار بیٹے کے ساتھ خیر خواہی

بیماری ، یا مشکل میں کسی کو مفید مشورہ دینا، اور اس کے ساتھ ہمدردی کا مظاہرہ کرنا یہ بھی خیر خواہی ہے اور سیرت رسول ﷺ میں اس کی عملی مثال بھی موجود ہے ایک مہاجرہ صحابیہ حضرت ام قیس رضی اللہ عنہا جوکہ حضرت عکاشہ رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں آپ نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئیں ، آپ کے پاس اپ کا ایک بچہ بھی تھا جسے گلے کی تکلیف تھی، نبی کریم ﷺ نے جب یہ دیکھا تو خیر خواہی کرتے ہوئے فرمایا: *عَلَى مَا تَدْغَرْنَ أَوْلاَدَكُنَّ بِهَذَا الْعِلاَقِ، عَلَيْكُمْ بِهَذَا العُودِ الهِنْدِيِّ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ* ترجمہ : روایت ہے حضرت ام قیس سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے کہ تم اپنی اولاد کی گلے کی سوزش کا علاج ، رگوں کو دبا کر کیوں کرتی ہو ، تم اس عود ہندی (جڑی بوٹی)کو اختیارکرو کہ اس میں سات شفائیں ہیں ۔(صحیح بخاری ، حدیث 5715)

تکلیف پہنچانے والوں کے حق میں دعا کرکے ان کی خیر خواہی فرمائی

حضور اکرم ﷺ نے نبوت کا اعلان فرمایا تو جو لوگ آپ کو صادق و امین مانا کرتے تھے، آپ کی جان کے دشمن ہوگئے،بہت زیادہ تکلیفیں پہنچانے لگے، ایک موقع پر رحمتِ عالم ﷺ کی خیرخواہی کا انداز اِس طرح ہوا کہ لبِ مصطفٰی پر یہ دعا آئی: *رَبِّ ‌اغْفِرْ ‌لِقَوْمِي فَاِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ* ترجمہ : اےاللہ!میری قوم (کےاِس تکلیف دینے کےگناہ)کو معاف کردے یہ نہیں جانتی۔ (صحیح بخاری ، حدیث 3477)

امت کے ساتھ خیر خواہی

رسولِ کریم ﷺ کی اُمّت کے ساتھ اندازِ شفقت کی ایک جھلک ملاحظہ کیجئے: حضرت اُبی بن کعب رضی اللہُ عنہ سے روایت ہےحضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:اللہ پاک نے مجھے تین سوال عطا فرمائے، میں نے دو بار (تو دنیا میں) عرض کرلی:* اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِاُمَّتِیْ اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِاُمَّتِیْ وَاَخَّرْتُ الثَّالِثَۃَ لِیَوْمٍ یَرْغَبُ اِلَیَّ الْخَلْقُ کُلُّہُمْ حَتّٰی اِبْرَاھیمُ* یعنی اے اللہ! میری اُمّت کی مغفرت فرما، اے اللہ! میری اُمّت کی مغفرت فرما۔ اور تیسری عرض اس دن کے لئے اٹھا رکھی جس میں مخلوقِ الٰہی میری طرف نیاز مند ہوگی یہاں تک کہ (اللہ تعالیٰ کے خلیل) حضرت ابراہیم علیہ السّلام بھی میرے نیاز مند ہوں گے۔ (صحیح مسلم ، حدیث 820)

قیدیوں کے ساتھ خیر خواہی کا درس

جب جنگِ بد ر میں حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہُ عنہ کے بھائی بھی قیدی بنے تھے اِس کے باوجود وہ خود اپنے ساتھ کئے جانے والےحسنِ سلوک کویوں بیان کرتے ہیں:میں بدرکے دن قیدیوں میں شامل تھا،اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: *اِسْتَوْصُوا بِالْأُسَارَى خَيْرًا* یعنی قیدیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔“میں انصارکی حراست میں ایک گروہ کے ساتھ قید تھا، اللہ اُن کو عمدہ بدلہ دے وہ جب بھی صبح و شام کھانا کھاتے تو خود کھجور سے کام چلالیتے اور رسولُ اللہ ﷺ کی وصیت کی وجہ سے مجھے روٹی کھلاتے۔ جس کے ہاتھ بھی روٹی آتی وہ مجھے لا کر دے دیتا۔ مجھے اکیلے کھاتے ہوئے شرم آتی تو میں وہ روٹی اسے واپس کردیتا مگر وہ اسے ہاتھ بھی نہ لگاتا اور مجھے زبردستی دے دیتا۔ (بحوالہ سیرت ابن ہشام)

رسول اللہ ﷺ کا اعتدال

رسول اللہ ﷺ کا اعتدال

اسلام ایسا پاکیزہ مذہب ہے جو دینی،اخلاقی اور معاشرتی معاملات کے ساتھ ساتھ زندگی کے تمام گوشوں میں ہماری رہنمائی کرتا ہے۔اسلام نے میانہ روی کی تعلیم دے کر اس کے کثیر فوائد بیان فرمائے ہیں اور کسی بھی معاملے میں افراط و تفریط کا شکار ہونے کو قابل مذمت قرار دیا ہے۔میانہ روی اور اعتدال پسندی دونوں مترادف الفاظ ہیں جس کے معنی افراط و تفریط کی درمیانی حالت ہے۔اگر ہم کھانے پینے،سونے جاگنے وغیرہ معمولات زندگی میں اعتدال پسندی کے عادی ہوں گے تو یہ اچھی عادت ہمارے لئے دنیا و آخرت میں مفید ثابت ہوگی۔قرآن مجید میں کئی مقامات پر میانہ روی کا حکم دیا گیا ہے: *كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا ۚ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ* ترجمہ : کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ بڑھو بیشک وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ (پارہ 08، سورۃ الاعراف ، آیت 31) نبی کریم ﷺ کی سیرت مبارکہ سے بھی ہمیں اپنے نجی و معاشرتی معاملات میں اعتدال و میانہ روی کا درس ملتا ہے ، جسے اختیار کرکے ہم اپنی سماجی زندگی کو بھی پرسکوں بناسکتے ہیں ۔ میانہ روی اور اعتدال کا تعلق سماجی اور معاشرتی معاملات سے کیسے ہے اس کو آسان مثال سے سمجھئے اگر ہم نے عبادات میں اعتدال اختیار نہ کیا یعنی نماز و روزے میں افراط و تفریط کا شکار ہوئے مثلاً : مسلسل روزے رکھتے رہے ، جس کی وجہ سے کمزوری آئی تو اس سے ہم اپنا جسمانی نقصان کرنے کے ساتھ ساتھ گھر والوں کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کا شکار ہوجائینگے جو کہ یقینا شریعت مطہرہ کو ناپسند ہے ، اسی طرح خرچ میں اعتدال نہ کیا تو اس سے اپنے ذات کے ساتھ ساتھ گھر والوں کو بھی معاشی پریشانی میں مبتلا کردینگے یونہی کھانے پینے میں اعتدال نہ کیا تو اس سے جسمانی نقصان بھی ہے اور گھر والوں کے حقوق کی ادائیگی سے قاصر بھی ہوجاینگے اس وجہ سے اسلام نے مسلمانوں کو ہر معاملے میں میانہ روی ، اعتدال کا حکم دیا تاکہ اس سے زندگی پرپرسکون ہو اور معاشرتی حقوق کی ادائیگی بھی ہوتی رہے ۔ پیارے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا : *عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الْهَدْيَ الصَّالِحَ وَالسَّمْتَ الصَّالِحَ وَالِاقْتِصَادَ جُزْءٌ مِنْ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّة.* ترجمہ : روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا اچھا طریقہ اور اچھی عادت اور میانہ روی نبوت کا پچیسواں حصہ ہے ۔ اس حدیث پاک کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحہ فرماتے ہیں : میانہ روی ہر چیز میں اچھی ہے کمانے میں،خرچ کرنے میں،کھانے پہننے میں حتی کہ نوافل عبادات میں اور زندگی کے ہر شعبہ میں کہ نہ تو بہت کمی کرے نہ بہت زیادتی،یہ عمل بھی حضرات انبیاء کرام خصوصًا حضور ﷺ کا ہے۔اسے پچیسواں حصہ فرمانا اسرار الہیہ (اللہ کے رازوں میں سے ایک راز ہے) میں سے ہے جو مطلب ہے وہ حق ہے۔ (مراٰۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح ، جلد 06، حدیث 5060)

عبادات میں اعتدال

شریعت اسلامیہ نے انسان کو عبادات کے ساتھ ساتھ اپنے معاشرتی معاملات کی ذمہ داری کو پورا کرنے کا بھی حکم دیا ہے ،رہبانیت و تارک الدنیا اس طرح ہوجانا کہ بندہ معاشرے سے ہی کٹ جائے اس کی اسلام نے نہ ترغیب دی اور نہ ہی اس عمل کی حوصلہ افزائی کی بلکہ تعلیمات مصطفی ٰﷺ سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ جب بعض صحابہ نے اس طرح کا ارادہ کیا تو سرکار ﷺ نے ان کی احسن انداز سے اصلاح فرمائی ۔ *عَنْ أَنَسٍ قَالَ: جَاءَ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَ عَنْ عِبَادَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا أُخْبِرُوْا بِهَا كَأَنَّهُمْ تَقَالُّوْهَا، فَقَالُوا: أَيْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ غَفَرَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ؟ فقَالَ أَحَدُهُمْ أَمَّا أَنَا فَأُصَلِّي اللَّيْلَ أَبَدًا، وَقَالَ الآخَرُ: أَنَا أَصُومُ النَّهَارَ أَبَدًا وَلَا أفْطِرُ، وَقَالَ الآخَرُ: أَنَا أَعْتَزِلُ النِّسَاءَ فَلَا أَتَزَوَّجُ أَبَدًا، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ: "أَنْتُمُ الَّذِينَ قُلْتُمْ كَذٰا وَكَذٰا؟ أَمَا وَاللهِ إِنِّي لأَخْشَاكُمْ وَأَتْقَاكُمْ لَهٗ، لَكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ، وَأُصَلِّي وَأَرْقُدُ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَفَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَيْسَ مِنِّيْ*. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ ترجمہ : روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ تین شخص نبی ﷺ کی ازواج کی خدمت میں حضور ﷺ کی عبادت معلوم کرنے کے لیے حاضرہوئے جب انہیں عبادات کی خبر دی گئی تو غالبًا انہوں نے اسے کچھ کم سمجھا تو بولے کہ ہمیں نبی ﷺ سے کیانسبت رب تعالٰی نے ان کی اگلی پچھلی سب لغزشیں بخش دیں لہذا ان میں ایک بولاکہ میں ہمیشہ ساری رات نماز پڑھا کروں گا ، دوسرا بولامیں ہمیشہ دن ميں روزہ دار رہوں گا کبھی افطار نہ کروں گا ،تیسرا بولا کہ میں عورتوں سے الگ رہوں گا کبھی نکاح نہ کروں گا، پھرنبی ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا تم ہی وہ ہو جنہوں نے ایسا ایسا کہا خبردار رہو کہ خدا کی قسم میں تم سب میں اللہ سے زیادہ ڈرنے والا اور خوف کرنے والا ہوں لیکن میں روزے بھی رکھتا ہوں افطاربھی کرتا ہوں نمازبھی پڑھتا ہوں سوتابھی ہوں عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں۔ (صحیح بخاری ، حدیث 5063)

کھانے میں اعتدال

اللہ پاک نے ہمارے کھانے پینے کے لئے طرح طرح کی نعمتیں پیدا فرمائی ہیں جن میں ہمارے لئے بے شمار فوائد ہیں،کھانا پینا ہمارے جسم کی ضرورت ہے۔اگر ہم کچھ دن کے لیے کھانا پینا ہی چھوڑ دیں تو کمزوری کے سبب فرض عبادات اور دیگر معاملات انجام دینے میں مشکل پیش آسکتی ہے حتی کہ جان بھی جا سکتی ہے۔لہذا توانائی اور صحت کو برقرار رکھنے کے لیے بقدر ضرورت کھانا پینا معیوب نہیں بلکہ یہ تو جسم کا حق ہے۔ اسی وجہ سے نبی کریم ﷺ نے کثرت سے نفلی روزے رکھنے والے ایک صحابی سے ارشاد فرمایا: *فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا* ترجمہ : تم پر تمہارے جسم کا بھی حق ہے۔ (بخاری،حدیث: 1975) یعنی ہمیشہ روزہ رکھنے سے تمہارا جسم کمزور ہو جائے گا (مراۃالمناجیح،ج3،ص188) معلوم ہوا کہ جسمانی طاقت اور قوت کے لیے کھانا پینا ضروری ہے اور بالکل چھوڑ دینا برا کام ہے۔ اسی طرح بہت زیادہ کھانا بھی مذموم فعل ہے،بعض ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو اس نعرے "کھاؤ پیو! جان بناؤ"کی عملی تصویر نظر آتے ہیں اور کھاتے پیتے ذرا نہیں تھکتے۔ایسے لوگ بھی اسلامی تعلیمات اور معاشرتی آداب کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ جس طرح کچھ نہ کھانا پینا جسمانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے اسی طرح زیادہ کھانا بھی مضر صحت ہے۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پیٹ بھر کر کھانے پینے سے بچو کیوں کہ یہ جسم کو خراب کرتا،بیماریاں پیدا کرتا اور نماز میں سستی لاتا ہےاور تم پر کھانے پینے میں میانہ روی لازم ہے کیونکہ اس سے جسم کی اصلاح ہوتی ہے اور فضول خرچی سے نجات ملتی ہے۔ (کنز العمال،حدیث 4170)

خرچ میں اعتدال

نبی پاک ﷺ کی سیرت مبارکہ سے صحابہ کرام کی تربیت سے متعلق ایسے نمایاں پہلو موجود ہیں جس میں پیارے آقا ﷺ نے خرچ میں میانہ روی کا حکم دیا ۔ اخراجات میں میانہ روی کا ہونا انتہائی اہم ہے بالخصوص ہمارے اس دور میں جہاں مہنگائی عروج پر ہو اور آمدنی اس کے مقابلے میں کم ہو تو پھر ہر شخص کو ہی بالخصوص غرباء و معاشرے کے درمیانی طبقہ کو چاہیئے کہ اپنے اخراجات کو کنٹرول کرے تاکہ اسے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے ، قرض اٹھانے کی مشقت کا سامنا نہ کرنا ہو ۔ مشکوۃ المصابیح کی روایت ہے : *عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الِاقْتِصَادُ فِي النَّفَقَةِ نِصْفُ الْمَعِيشَةِ * ترجمہ حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے خرچ میں میانہ روی آدھی زندگی ہے(مشکوۃ المصابیح ، حدیث 5067) مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں : سبحان الله! عجیب فرمان عالی ہے۔خوش حالی کا دارومدار دو چیزوں پر ہے: کمانا،خرچ کرنا مگر ان دونوں میں خرچ کرنا بہت ہی کمال ہے،کمانا سب جانتے ہیں خرچ کرنا کوئی کوئی جانتا ہے،جسے خرچ کرنے کا سلیقہ آگیا وہ ان شاءالله ہمیشہ خوش رہے گا۔ امیر ہو یا غریب ہر ایک کو اپنی خواہشات اور ضروریات کو پورا کرنے کے لئے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے،جس کے پاس جتنا پیسہ ہوتا ہے وہ اپنے معاملات میں اسی اعتبار سے خرچ کرتا ہے۔اسلام نے جس طرح مال کمانے کے احکام بیان فرمائے ہیں ایسے ہی مال خرچ کرنے کے آداب بتا کر اس میں میانہ روی کا حکم دیا ہے۔مال خرچ کرنے میں میانہ روی اسلام کے نزدیک اچھا عمل ہے جب کہ فضول خرچی اور کنجوسی برے اوصاف ہیں جو ایک مسلمان کی شان کے لائق نہیں،قرآن مجید نے مومن کی یہ شان بتائی ہے: اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں،نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں۔(پارہ 19،الفرقان: 67) لہذا مال خرچ کرتے وقت ایسی فضول خرچی بھی نہ کی جائے کہ بعد میں اپنی ضروریات کے لئے بھی کچھ باقی نہ بچے اور دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑے اور نہ ہی ایسا بخیل ہوں کہ جہاں اسلامی اور معاشرتی اعتبار سے خرچ کرنا ضروری ہو وہاں بھی خرچ نہ کریں بلکہ اعتدال کے ساتھ جہاں جتنا خرچ کرنا ضروری ہو اتنا ہی خرچ کریں۔ حدیث پاک میں ہے : *من اقتصد أغناه الله، ومن بذر أفقره الله*، جو شخص اعتدال قائم رکھتا ہے،اللہ پاک اسے مالدار بنا دیتا ہے اور جو آدمی ضرورت سے زائد خرچ کرتا ہے اللہ پاک اسے فقیر کر دیتا ہے ۔ (کنز العمال، حدیث 5437)

عظیم فاتح

رسول اعظم ﷺ فاتح اعظم

عموما دنیا کا ہر فاتح (یعنی دشمن یا اپنے مدمقابل پر غالب آنے والا ) اپنے مفتوح دشمنوں کے ساتھ ذلت آمیز سلوک کرتا ہے اور اس کے خون سے اپنے انتقام کی آگ بجھاتا ہے ۔اور فتح کے جشن مسرت میں وہ تمام اخلاقی حدود کو توڑتا ہوا نظر آتا ہے جس کا عام حالات میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔ جب کہ رسول اکرم ﷺ کی سیرت کے اس پہلو میں بھی ایک ایسا بہترین نمونہ عمل موجود ہے جو رہتی دنیا تک کے لئے ایک بے مثال نمونہ ہے۔

فتح مکہ کے موقع پر عام معافی کا اعلان فرمادیا

جب مکہ فتح ہوا اور آپ ﷺ کے سامنے آپ کے دشمنوں کو حاضر کیا گیا تو سب شر مندگی سے سر جھکائے حاضر تھے اپنا ایک ایک گناہ اور ظلم یاد کرکے دل ہی دل میں بے چین اور بے قرار ہورہے تھے کہ آج ان کے ساتھ کیا ہوگا ۔اپنا بھیانک انجام سوچ کر ان کے دل و دماغ ماؤف ہو رہے تھے ،جسم پر لرزہ کی کیفیت طاری تھی اور اپنی زندگی کو الوداعی نگا ہوں سے تک رہے تھے ۔ایسے مایوس کن حالات میں وہ رحمت عالم جو رب تعالیٰ کی رحمت کے مظہر اعظم ہیں۔انہوں نے اپنی زبان اقدس کو جنبش دیا اور یوں فرمایا: آج میں تم سے وہی بات کہتا ہوں جو میرے بھائی یوسف نے اپنے بھائیوں سے کہا تھاکہ۔’’ میری طرف سے تم پر کوئی ملامت نہیں ۔۔۔۔اللہ تعالیٰ تمہارے سارے گنا ہوں کو معاف فر مائے ۔۔۔۔۔وہی سب سے زیادہ رحم فر مانے والا ہے۔۔۔۔۔جاؤ!۔۔۔۔ چلے جاؤ۔۔۔۔۔میری طرف سے تم سب آزاد ہو یہ خوشخبری حضور ﷺ نے ان کو سنائی:جنہوں نے حضور ﷺ کو شاعر اور کذاب کہا تھا ،جنہوں نے حضور کو جادوگر اور مجنوں کہا تھا۔۔۔۔جن سنگدلوں نے شعب ابی طالب میں حضور کو تین سال تک محصور رکھا تھا ۔۔۔۔جنہوں نے حضور ﷺ کو جان سے مار ڈالنے کی سازش رچی تھی۔۔۔۔ جنہوں نے حضور کے صحابہ پر بتوں کی پوجا چھوڑ کر ایک اللہ کی عبادت کرنے کے جرم میں مسلسل تیرہ سال تک ظلم و ستم کا پہاڑ توڑا تھا۔۔۔۔جنہوں نے مسلمانوں کو اپنے تمام تر گھر بار اور جائیداد کو چھوڑ کر مکہ سے نکلنے پر مجبور کیا تھا ۔۔۔۔اور جب مسلمان وہاں سے نکل گئے تو ان کے تمام مال و دولت پر قبضہ کر لیا تھا۔۔۔۔اور جب وہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر مدینہ آگئے تو دس ہزار کا لشکر لے کر ان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے ان کے سینوں پر چڑ ھ بیٹھنے کی ناپاک کوشش کی تھی۔۔۔ جن دشمنوں نے سینکڑوں صحابہ کا قتل کیا تھا۔۔۔اور نہ جانے ظلم وستم کے کیسے کیسے تیر ان کے سینوں میں پیوست کیے تھے۔ حضور ﷺ نے انہیں یہ خوش خبری اس وقت سنائی جب کہ حضور ﷺ کو مکمل فتح حاصل ہو چکی تھی اور مکہ کی فضاؤں میں اسلام کا پر چم لہرا رہا تھا۔دشمنوں کے ساتھ عفو ودر گزر ،جود وکرم اور الفت ومحبت کا ایسا نرالا سلوک دنیا کے کسی سپہ سالار،کسی فاتح بلکہ کسی نے نہیں کیا۔اور حقیقت یہ ہے کہ ایسا سلوک ایک اللہ کے سچے نبی کے علاوہ کسی اور کے بس کا روگ ہے ہی نہیں ۔ (ملخصاََ۔ضیاء النبی،جلد۴؍ص: ۴۴۶)

جنگ میں فتح ہونے پر اللہ پاک کی حمد وشکر

رسول کریم ﷺ کو کسی جب جنگ میں کامیابی اور فتح حاصل ہوتی تو بھی کسی بڑائی کے اظہار کی بجائےاللہ پاک کی حمد کرتے ۔اور اسی کی کبریائی اور عظمت کے نعرے بلند فرماتے تھے۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوجہل کو قتل کرنے اور اس پر آخری وار کرنے کے بعد میں نے نبی پاک ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر ابوجہل کے ہلاک ہونے کی خبر دی ۔ تو آپ ﷺ نے اس وقت بھی نعرہ تکبیر بلند فرمایا اور فرمایا کیا اللہ تعالیٰ وہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں؟میں نے اثبات میں جواب دیا کہ بے شک اللہ وہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔پھر جب رسول کریم ﷺ ابوجہل کی نعش کے پاس جاکر کھڑے ہوئے توفرمایا *الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَخْزَاكَ، هَذَا فِرْعَوْنُ هَذِهِ الْأُمَّةِ* اس خدا کی سب تعریف ہے جس نے اے اللہ کے دشمن! تجھے ذلیل کیا۔پھر فرمایا کہ یہ اس امت کا فرعون تھا۔ (معجم الکبیر للطبرانی جلد9صفحہ82بیروت)

بہترین مشورہ دینے والے

رسول اللہ ﷺ بہترین مشیر (مشورہ دینے والے )

اسلام کی روشن تعلیمات میں اور رسول اللہ ﷺکی مبارک سیرت میں مشورہ کرنے اور مفید مشورہ دینے کی ترغیبات موجود ہیں ۔ رسول کائنات ﷺ کو اللہ پاک نے ساری مخلوق سے زیادہ فہم و دانش مندی عطا فرمائی لیکن اس کے باوجود اللہ پاک نے قرآن کریم میں نبی پاک ﷺ کو صحابہ کرام سے مشورہ کرنے کا حکم دیا ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : *وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِ* ترجمہ : اور کاموں میں ان سے مشورہ لیتے رہو۔ (پارہ 04، سورہ آل عمران ، آیت 159) قرآن کریم میں ایک مقام پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے اس عمل کو بطور مدح کے بیان فرمایا : *وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ* ترجمہ: اور ان کا کام ان کے باہمی مشورے سے (ہوتا) ہے۔

نمازی غلام اختیار کرنے کا مشورہ

ایک موقع پر نبی پاک ﷺ نے ابو الہیثم رضی اللہ عنہ کو فرمایا : *هَلْ لَكَ خَادِمٌ؟* ترجمہ : کیا تمہارے پاس خادم ہے؟ ابو الہیثم نے عرض کی نہیں یارسول اللہ ﷺ میرے پاس خادم نہیں ہے ۔ فرمایا کہ جب ہمارے پاس قیدی آئیں تو تم ہمارے پاس آنا ۔ چنانچہ نبی ﷺ کے پاس دو شخص لائے گئے تو ان کی خدمت میں ابوالہیثم آئے نبی ﷺ نے فرمایا ان میں سے ایک چن لو۔ ابو الہیثم رضی اللہ عنہ نے عرض کی * يَا نَبِيَّ اللّٰهِ اخْتَرْ لِي یا نبی* الله آپ ہی چن دیں (یعنی آپ مشورہ دیں کون سا غلام لوں ) نبی پاک ﷺ نے فرمایا : :*إِنَّ الْمُسْتَشَارَ مُؤْتَمَنٌ.خُذْ هٰذَا فَإِنِّي رَأَيْتُهٗ يُصَلِّي وَاسْتَوْصِ بِهٖ مَعْرُوفًا* ترجمہ :جس سے مشورہ لیا جائے وہ امین ہے تم اسے لو کیونکہ میں نے اسے نماز پڑھتے دیکھا ہے اور اس کے متعلق بھلائی کی وصیت قبول کرو۔ (جامع ترمذی ، حدیث 2369)

صحابی رسول کے مشورے کو قبول فرمایا اور تعریف بھی فرمائی

مشورہ لینا آدمی کی خوبی کی علامت ہے جب کہ مشورے کے بغیر کام کو انجام دینا حماقت کی دلیل ہے۔ پیارے آقا ﷺ بلا شبہ سب سے بڑھ کر عقل و خرد کے مالک تھے اس کے باوجود آپ اہم کاموں میں صحابہ کرام سے مشورہ طلب کرتے اور اگر ان کا مشورہ مفید ہوتا تو قبول کرتے بلکہ کئی دفعہ ایسا بھی ہوا کہ آپ ﷺ نے اپنی رائے پر صحابہ کرام کے مشوروں کو ترجیح دی ہے جیسا کہ غزوہ بدر میں جب لشکر اسلام کے پڑاؤ ڈالنے کی بات آئی تو آپ نے بدر کے چشمے کے قریب ترین چشمے پر قیام کیا۔اس پر حضرت حُباب بن مُنذر رضی اللہ عنہ نے پوچھا :کیا اللہ پاک کے حکم سے اس مقام پر نزول کیا یا محض جنگی حکمتِ عملی کے پیشِ نظر کیوں کہ جنگ کے دوران آگے پیچھے ہٹنے کی گنجائش نہیں۔ آپ نے فرمایا: نہیں یہ میری رائے ہے اور اسے جنگی حکمتِ عملی کے طور پر منتخب کیا۔اس پر حضرت حُباب بن مُنذر رضی اللہ عنہ نے مشورۃً عرض کی: یا رسولَ اللہ ﷺ! یہ جگہ مناسب نہیں، آپ آگے تشریف لے چلیں اور قریش کے سب سے قریبی چشمہ پر پڑاؤ ڈالیں،اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ ہم بقیہ چشمے پر حوض بنا کر پانی بھر لیں گے ،اس طرح ہم حسب خواہش پانی پیتے رہیں گے اور انہیں پانی میسر نہ ہوگا۔اس مشورے کو سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: *لَقَدْ أَشَرْتَ بِالرّاْيِ* تم نے بہت اچھا مشورہ دیا۔ چنانچہ آپ نے اس مشورے کے مطابق آدھی رات کو دشمن کے قریب ترین چشمہ کے پاس پہنچ کر پڑاؤ ڈال دیا۔( ماہنامہ فیضان مدینہ 2023نومبر)

اذان کے بارے میں صحابہ کرام سے مشاورت

حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جب مسلمان مدینہ آئے تو جمع ہوکر اوقات نماز کا اندازہ لگالیتے تھے نمازوں کی اذان کوئی نہ دیتا تھا ایک دن اس بارے میں مشورہ کیابعض نے کہا کہ عیسائیوں کے ناقوس کی طرح بنالو اور بعض بولے کہ یہودکے بِگل (موسیقی کا آلہ )کی طرح بنالوتب حضرت عمر نے فرمایاکسی کو نماز کی منادی کرنے کیوں نہیں بھیج دیتے؟ پھر رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلال سے فرمایا :* يَا بِلاَلُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلاَةِ * ترجمہ : بلال اٹھو اور نماز کے لئے پکارو۔ (صحیح بخاری ، حدیث 604)

حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مشورہ کرتے رہنے کا مشورہ عطا فرمایا

ایک موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی پاک ﷺ سے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ! اگر ہم پر کوئی ایسا معاملہ پیش آئے جس کے بارے میں واضح حکم موجود نہ ہو، نہ امر (حکم) ہو اور نہ ہی نہی (منع) ہو، تو آپ ہمیں اس بارے میں کیا مشورہ دیتے ہیں ، ہم اس وقت کیا کریں ؟ نبی پاک ﷺ نے فرمایا * تُشَاوِرُونَ الْفُقَهَاءَ وَالْعَابِدِينَ، وَلَا تُمْضُوا فِيهِ رَأْيَ خَاصَّةٍ* ترجمہ : علی ! جب ایسی صورت ہو تو اہل علم فقہاء اور اہل فضل عبادت گزاروں سے مشورہ کرنا ، تنہاء اپنی رائے سے فیصلہ نہ کرنا ۔ (المعجم الاوسط ، حدیث 1618)

رسول اللہ ﷺ کی سخاوت

رسول اللہ ﷺ کی شان سخاوت

سخاوت آپﷺکا نمایاں ترین وصف تھا ۔یہی وجہ تھی کہ ایک ایسے معاشرے میں جہاں کے لوگ فطرتاََ سخاوت کرنا پسند کرتے تھے اور اپنے اجنبی مہمانوں کی خاطر داری کے لئے بھی اپنے قیمتی سے قیمتی اونٹ کو ذبح کرنے میں ذرہ برابر جھجھک محسوس نہیں کرتے تھے بلکہ ایسا کر کے انہیں بڑی خوشی محسوس ہوتی تھی اور اس کو اپنے لئے باعث فخر سمجھتے تھے۔ مگر اپنی تمام تر سخاوت وفیاضی کی عادت کے باوجود جب انہوں نے رسول اکرم ﷺ کی شان سخاوت و فیاضی کو دیکھا تو ان کی زبانیں گنگ اور عقلیں حیرت کے سمندرمیں ڈوب گئیں اور وہ اس سے اتنا متاثر ہوئے کہ سخت نفرت وکدورت کے باوجود آپ کے سایہ عاطفت میں آنے سے اپنے آپ کو نہ روک سکے۔ کسی شخص میں وصف سخاوت ہو اور وہ اپنی سخاوت کو درست جگہوں پر استعمال کرے تو اسے معاشرتی طور پر بڑے فوائد ہوتے ہیں کہ ہر ضرورت مند ، خوشحال ہوجاتا ، غربت کا خاتمہ ، سوال کرنے والے (بھیک مانگنے والے) معاشرے سے ختم ہوجاتے ہیں ۔ اسی لئے رسول کریمﷺ نے اپنے اس خاص وصف سے صحابہ کی بھی تربیت فرمائی اور سخاوت کے فضائل بھی بیان فرمائے۔

سرکار ﷺ کا سفر میں اپنے 130 ساتھیوں کو بکری خرید کر کھانا کھلانا

*عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثِينَ وَمِائَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ طَعَامٌ؟» فَإِذَا مَعَ رَجُلٍ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ أَوْ نَحْوُهُ، فَعُجِنَ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مُشْرِكٌ مُشْعَانٌّ طَوِيلٌ بِغَنَمٍ يَسُوقُهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبَيْعٌ أَمْ عَطِيَّةٌ؟» أَوْ قَالَ: «أَمْ هِبَةٌ؟» ، فَقَالَ: لَا بَلْ بَيْعٌ، فَاشْتَرَى مِنْهُ شَاةً، فَصُنِعَتْ وَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَوَادِ الْبَطْنِ أَنْ يُشْوَى، قَالَ: وَايْمُ اللهِ، مَا مِنَ الثَّلَاثِينَ وَمِائَةٍ إِلَّا حَزَّ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُزَّةً حُزَّةً مِنْ سَوَادِ بَطْنِهَا، إِنْ كَانَ شَاهِدًا أَعْطَاهُ، وَإِنْ كَانَ غَائِبًا خَبَأَ لَهُ، قَالَ: وَجَعَلَ قَصْعَتَيْنِ فَأَكَلْنَا مِنْهُمَا أَجْمَعُونَ وَشَبِعْنَا، وَفَضَلَ فِي الْقَصْعَتَيْنِ، فَحَمَلْتُهُ عَلَى الْبَعِيرِ أَوْ كَمَا قَالَ* ترجمہ : عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم ایک سو تیس آدمی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (ایک سفر میں) تھے۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کیا تم میں سے کسی کے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے ؟ ایک صحابی کے پاس تقریباً ایک صاع کھانا (آٹا) تھا۔ وہ آٹا گوندھا گیا۔ پھر ایک لمبا تڑنگا مشرک پریشان حال بکریاں ہانکتا ہوا آیا۔ تو نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا یہ بیچنے کے لیے ہیں یا کسی کا عطیہ ہے یا آپ نے (عطیہ کی بجائے) ہبہ فرمایا اس نے کہا کہ نہیں بیچنے کے لیے ہیں۔ آپﷺ نے اس سے ایک بکری خریدی پھر وہ ذبح کی گئی۔ پھر نبی کریم ﷺ نے اس کی کلیجی بھوننے کے لیے کہا۔ قسم اللہ کی ایک سو تیس اصحاب میں سے ہر ایک کو اس کلیجی میں سے کاٹ کے دیا۔ جو موجود تھے انہیں تو آپ ﷺ نے فوراً ہی دے دیا اور جو اس وقت موجود نہیں تھے ان کا حصہ محفوظ رکھ لیا۔ پھر بکری کے گوشت کو دو بڑے برتنوں میں رکھا گیا اور سب نے خوب سیر ہو کر کھایا۔ جو کچھ برتنوں میں بچ گیا تھا اسے اونٹ پر رکھ کر ہم واپس لائے۔ او کما قال۔ (صحیح مسلم ، حدیث 2056)

قرض لے کر بھی ضرورت مند کی ضرورت کو پورا کیا جاتا

حضرت عبداللہ ہوزَنی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ مقامِ حلب (شام)میں مُؤذن ِرسول حضرت سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے میری مُلاقات ہوئی اورمیں نے ان سے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں پُوچھا، تو اُنہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جوکچھ(مال ) ہوتا، اسے خرچ کرنے کی ذِمَّہ داری میری ہوتی تھی ،بِعْثت سے وفات شریف تک یہ کام میرے حوالے رہا ۔ *وَكَانَ إِذَا أَتَاهُ الْإِنْسَانُ مُسْلِمًا، فَرَآهُ عَارِيًا، يَأْمُرُنِي فَأَنْطَلِقُ فَأَسْتَقْرِضُ فَأَشْتَرِي لَهُ الْبُرْدَةَ فَأَكْسُوهُ، وَأُطْعِمُهُ* ترجمہ : جب کوئی بے لباس مُسلمان آپ ﷺ کے پاس آتا تو آپ مجھے حکم فرماتے اور میں کسی سے قَرض لیتا اور چادر خرید کر اسے اُڑھاتا اور کھانا بھی کھلاتا۔ (سنن ابی داؤد ، حدیث 3055)

صدقے کا کچھ سامان بچ گیا ، اسے بھی فوری صدقہ کرنے کا خود اہتمام فرمایا

ایک مرتبہ نبی پاک ﷺ نماز عصر پڑھا رہے تھے ،نماز عصر پڑھانے کے بعد اچانک ہی فورا اپنے گھر کی طرف تشریف لے گئے اور پھر واپس صحابہ کے پاس تشریف لائے ، صحابہ کرام کو بڑی حیرت ہوئی تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا : *ذَكَرْتُ وَأَنَا فِي الصَّلاَةِ تِبْرًا عِنْدَنَا، فَكَرِهْتُ أَنْ يُمْسِيَ - أَوْ يَبِيتَ عِنْدَنَا - فَأَمَرْتُ بِقِسْمَتِهِ* مجھے نماز میں خیال آ گیا کہ صدقے کاکچھ سونا گھر میں پڑا ہے، مجھے پسند نہ آیا کہ رات ہو جائے اور وہ گھر میں پڑا رہے، اس لئے جا کر اسے تقسیم کر نے کا کہہ آیاہوں (صحیح البخاری ، حدیث1221)

حضور سخاوت میں اتنا عطا فرماتے کے محتاجی کا خوف ہی نہیں رہتا

حضرت صفوان بن اُمَیّہ رضی اللہ عنہ نے(اسلام لانے سے پہلے غزوۂ حُنین کے موقع پر)نبی پاک ﷺ سے بکریوں کا سُوال کیا،جن سے دوپہاڑ وں کا درمیانی جنگل بھراہوا تھا،آپ ﷺ نے وہ سب ان کو دے دِیں۔ اُنہوں نے اپنی قوم میں جا کر کہا: *أَي قوم أَسْلمُوا فو الله إِنَّ مُحَمَّدًا لَيُعْطِي عَطَاءً مَا يَخَافُ الْفَقْرَ.* اے میری قوم ! تم اسلام لے آؤ !اللہ پاک کی قسم! محمد ﷺ ایسی سخاوت فرماتے ہیں کہ فَقْر (مُحتاجی) کاخوف نہیں رہتا۔ ( مشکوۃ المصابیح ، حدیث 5806)

رسول اللہ ﷺ بہترین مہمان نواز

رسول اللہ ﷺ بہترین مہمان نواز

مہمان نوازی حضور نبیِّ رحمت ﷺ کا ایسا وصف ہے کہ جب پہلی وحی نازل ہوئی اور حضورِ اکرم ﷺ غارِ حرا سے واپس گھر تشریف لائے تو کلامِ الٰہی کے جلال سے آپ کا جسم مبارک کانپ رہا تھا، اُمّ المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہُ عنہا نے آپ ﷺ کی ڈھارس بندھانے اور اللہ کریم کی آپ پر خاص عنایت ہونے کا بیان کرتے ہوئے چند اوصاف بیان فرمائے ان میں ایک وصف یہ بھی تھا: وَتقْرِي الضيفَ یعنی آپ تو مہمان کی مہمان نوازی کرنے والے ہیں۔ یہا ں ہم کچھ غور کریں تو پتا چلے گا کہ ابھی تو وحی الہی کا آغاز ہوا ہے ، ابھی تو اعلان نبوت بھی نہیں فرمایا ، اس کے باوجود سرکار دو عالم ﷺ کا یہ وصف معروف تھا کہ آپ کی زوجہ محترمہ ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا نے آپ کا یہ مہمان نواز ہونے کا وصف بیان فرمایا ۔ اب تو اسلام کی تعلیمات ، اور سرکار ﷺ کی ترغیبات موجود ہیں مہمان نوازی کے فضائل پر ، اس کے باجود ہمارے معاشرے میں مہمانوں کی آمد سے چہرے پر پریشانی آجاتی ، دل میں کوفت محسوس کرنے لگتے ہیں ، کیا یہ ایک مسلمان کو زیب دیتا ہے ، کہ اسلام تو اسے مہمان نوازی کا حکم دے ، نبی پاک ﷺ مہمان نوازی کے فضائل بتائیں اور محبوب ﷺ سے عشق و محبت کا دعوی کرنے والا مہمان کے آجانے پر پریشان ہوجائے،؟ہر گز نہیں ۔ سیرت طیبہ سے ہمیں اس کی بھی اہمیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے ، تاکہ حضور ﷺ کی سیرت کی روشنی میں مہمان نوازی کی جاسکے ۔ مہمان نوازی کی ترغیب دیتے ہوئے سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا : *عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الكَعْبِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، جَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، وَالضِّيَافَةُ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ، وَلاَ يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَثْوِيَ عِنْدَهُ حَتَّى يُحْرِجَهُ* ترجمہ :رسول ِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو اللہ پاک اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کا احترام کرے، مہمان پر انعام و عطیہ ایک دن رات ہے اور مہمان نوازی تین دن تک ہے، اس کے بعد مہمان کو کھلانا صدقہ ہے۔ نیز مہمان کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ میزبان کے پاس ٹھہرا رہے یہاں تک کہ میزبان کو تنگ کردے۔ (صحیح بخاری ، حدیث 6135)

مہمان کو اپنے ہاتھوں سے کھانا پیش فرمایا

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ایک رات سرکار ﷺ کے یہاں مہمان بن کر حاضر ہوئے تو حضور ﷺ نے ان کی مہمان نوازی فرمائی : سنن ابی داؤد کی روایت ہے : *ضِفْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَأَمَرَ بِجَنْبٍ فَشُوِيَ، وَأَخَذَ الشَّفْرَةَ فَجَعَلَ يَحُزُّ لِي بِهَا مِنْهُ،* ترجمہ : حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں: ایک رات میں رسولُ اللہ ﷺ کا مہمان بنا تو آپ نے میرے لئے بکری کی دستی بھنوائی اور کرم نوازی فرماتے ہوئے اُسے کاٹ کاٹ کر میرے آگے رکھنے لگے۔ (سنن ابی داؤد ، حدیث 188)

مہمان کی مہمان نوازی کا اہتمام فرمایا

نبی پاک ﷺ کے پاس ایک شخص حاضر ہوا اور اس نے اپنی بھوک کا اظہار کیا ، اس وقت نبی کریم ﷺ کے پاس کھلانے کو کچھ موجود نہ تھا ، نبی پاک ﷺ نے اس شخص کی مہمانی فرمانے کے لئے اپنی ایک ایک زوجہ محترمہ کے پاس پیغام بھجوایا ، سب کی جانب سے یہی جواب ملا کہ گھر میں صرف پانی موجود ہے ۔ کیا شان ِ بے نیازی ہے ۔ نبی پاک ﷺ سب کو نوازنے والے ہیں ، مالک جنت ہیں ، چاہتے تو جنت سے اس کی ضیافت کا اہتمام ہوجاتا مگر آج شاید صحابہ کرام میں کسی ایک غلام کی عظمت کے ظاہر ہونے کا دن تھا ، جب حضور ﷺ کی ازاواج کی طرف سے بھی کھانے کی کوئی صورت نہ بن سکی تو صحابہ کرام میں اعلان فرمایا : *مَنْ يُضِيفُ هَذَا اللَّيْلَةَ رَحِمَهُ اللهُ؟* جو اِس کی آج رات مہمان نوازی کرے گا اللہ اُس پر رحم فرمائے گا۔ ایک انصاری صحابی کھڑے ہوئے اور یہ ذمہ داری قبول فرمالی ۔ اور اسے لے کر اپنے گھر چلے گئے۔ گھر آکر زوجہ سے معلوم کیا کہ گھر میں کچھ کھانے کو موجود ہے ؟ زوجہ نےجواب دیا : ہمارے پاس تو بچوں کے کھانے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔انصاری صحابی نے یہ تجویز دی: جب عشاء کا وقت ہو جائے تو تم بچوں کو بہلا پھسلا کر سُلا دینا،پھر جب ہم کھانا کھانے بیٹھیں تو تم چراغ درست کرنے کے بہانے سے جا کر اسے بجھا دینا،اگر آج رات ہم بھوکے رہیں تو کیا ہو گا۔ چنانچہ یہی کچھ کیا گیا اور جب صبح کے وقت وہ شخص نبیِّ کریم صلی ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا *قَدْ عَجِبَ اللهُ مِنْ صَنِيعِكُمَا بِضَيْفِكُمَا اللَّيْلَةَ* اللہ نے تمہاری یہ رات کی مہمانی کو بہت پسند فرمایا ہے ۔ (صحیح مسلم حدیث 2054)

طالب علموں کی مہمان نوازی

حضرت ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ ایک مرتبہ بھوک کی حالت میں راستے میں موجود تھے کہ اللہ کے حبیب ﷺ تشریف لائے اور چہرہ دیکھ کر ان کی حالت سمجھ گئے۔ انہیں ساتھ لے کر اپنے مکانِ عالی شان پر تشریف لائے تو دودھ کا ایک پیالہ موجود تھا جو کسی نے بطورِ تحفہ بھیجا تھا۔ رسولِ خدا ﷺ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ کو حکم فرمایا کہ جاکر اَصحابِ صُفّہ (یہ دین کے طلباء تھے جو مسجد نبوی میں دین سیکھنے کے لئے موجود رہتے تھے )کو بُلا لائیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ کے دل میں خیال آیا کہ ایک پیالہ دودھ سے اہلِ صُفّہ کا کیا بنے گا، اگر یہ دودھ مجھے عطا ہوجاتا تو میرا کام بن جاتا۔ بہر حال حکمِ رسالت پر عمل کرتے ہوئے اصحاب صُفّہ کو بلا لائے۔ اب اِن ہی کو حکم ہوا کہ پیالہ لے کر سب کو دودھ پِلائیں۔ آپ پیالہ لے کر اصحابِ صُفّہ میں سے ایک صاحب کے پاس جاتے، جب وہ سَیر ہو کر پی لیتے تو ان سے پیالہ لے کر دوسرے کے پاس جاتے۔ ایک ایک کر کے جب تمام حاضرین نے سیر ہوکر دودھ پی لیا تو پیالہ لے کر رحمت ِ عالم ﷺ تک پہنچے،حضورِ اکرمﷺ نے پِیالہ لے کر اپنے مبارک ہاتھ پر رکھا،ان کی طرف دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا: اب میں اور تم باقی رہ گئے ہیں۔پھر فرمایا: بیٹھو اور پیو۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ نے بیٹھ کر دودھ پیا۔ دوبارہ حکم ہوا: پیو، انہوں نے پھر پیا۔ رسولِ کریم ﷺ بار بار فرماتے رہے: پیو، اورحضرت ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ پیتے رہے یہاں تک کہ عرض گزار ہوئے: اُس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میرے پیٹ میں اب مزید گُنجائش نہیں ہے۔ رسولِ خداﷺ نے ان سے پیالہ لے کر اللہ پاک کی حمد کی،بِسْمِ اللہ پڑھی اور باقی دودھ نوش فرما (یعنی پی) لیا۔(بخاری شریف)

بہترین مربی

بہترین مربی

لفظ مربی کا معنی ہے" تربیت کرنے والا"، رسول کائنات ﷺ کو اللہ پاک نے ساری مخلوق کے لئے نبی و رسول بنا کر مبعوث فرمایا ۔ نبی پاک ﷺ کی آمد سے قبل سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے کو پانچ سو سال گزر چکے تھے ۔ اس دوران کسی رسول یا نبی کی آمد نہیں ہوئی تھی ۔ جس زمانے میں سرکار ﷺ کی آمد ہوئی، اس زمانے میں مختلف طرح کی خرابیاں پائی جارہی تھیں ، لیکن بعثت مصطفی ﷺ کے بعد سے انقلاب آیا ، آپس کی خانہ جنگی جو نسل در نسل چل رہی تھی ان میں محبت و اخوت پیدا ہوگئیں ، عورت ذات چاہے وہ ماں کی صورت میں ہو ، بیوی صورت میں ہو ، بیٹی ہو یا بہن ہو ،ان کو معاشرے میں کوئی اہمیت نہ دی جاتی تھی ، سرکار ﷺ نے اس معاشرے کی ایسی تربیت فرمائی کہ ماں کے قدموں تلے جنت کا بیان فرما کر ماں کی عظمت کو دلوں میں بٹھایا ، بیوی کو گھر کی عزت بناکر شوہر کو بیوی کے حق میں غیرت مند بنایا ، بیٹی اور بہن کی اچھی تربیت اور ان کا خیال رکھنے پر جنت میں داخلے کی بشارت عطا فرماکر باپ اور بھائی کے ذہن و دل میں ان کی فکر کرنے کی سوچ ڈالی، غلاموں پر جو ظلم کیا جارہا تھا، ان کو سرکار ﷺ نے بھائی کہہ کر ان کے خیال رکھنے ، ان کے کھانے ، پینے اور پہننے کے معاملے میں ان کے ساتھ اچھا برتاو کرنے کی تاکید فرمائی ۔ مختصر یہ کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ایسی تربیت فرمائی کہ زمانہ بالکل بدل گیا ۔ ایک مربی کو کیسا ہونا چاہیئے ، سرکار ﷺ کا انداز تربیت کیسا تھا ، سرکار ﷺ نے کس طرح کی حکمت عملی کو اختیار فرمایا کہ معاشرے و سماج میں اس قدر جلد تبدیلی آگئی ، اس کا جاننا ہر اس شخص کے لئے ضروری ہے کہ جس کے ذمے کسی کی تربیت کی ذمہ داری ہے ۔ تربیت کرنے والے کو حسنِ اَخلاق کا پیکر،خیر خواہی کا جذبہ رکھنے والا، عفو و درگزر سے کام لینے والا،عاجزی اختیار کرنے والا، ہشّاش بَشّاش رہنے والا، حسبِ موقع مسکرانے والا، نَفاست پسند اور خوفِ خدا رکھنے والا ہونا چاہئے۔اگر ہم لوگوں کو سچّا مسلمان بنانا، دنیا و آخرت میں انہیں کامیاب و کامران دیکھنا اور خود بھی سُرخرو (کامیاب) ہونا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں ان کی اچّھے انداز سے تربیت کرنی ہوگی۔

تربیت مصطفی ﷺ سے سارے گناہوں سے بچ گئے

ایک مرتبہ ایک شخص نبیِّ پاک ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر کہنے لگا:میں آپ پر ایمان لانا چاہتا ہوں مگر مجھے شراب نوشی، بدکاری، چوری اور جُھوٹ سے مَحبَّت ہے۔ لوگوں نے مجھے بتایا ہے کہ آپ ان چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں،مجھ میں ان سب چیزوں کو چھوڑنے کی طاقت نہیں ہے۔ اگر آپ مجھے ان میں سے کسی ایک سےمنع فرمادیں تو میں اسلام قبول کرلوں گا۔نبی مکرم ﷺ نے فرمایا:تم جھوٹ بولنا چھوڑدو!اس نے یہ بات قبول کرلی اور مسلمان ہوگیا ۔ دربارِ رسالت ﷺ کے پاس سے جانے کے بعد جب اسے لوگوں نے شراب پیش کی تو اس نے کہا:میں نے شراپ پی اور رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے شراپ پینے کے بارے میں پوچھ لیا تو کیا ہوگا ؟ اگر میں نے منع کیا تو یہ میرے کیے ہوئے وعدے کے خلاف ہوجاۓ گا اور ہاں کہا، تو مجھ پر شرعی حد لگاٸی جاۓ گی، لہٰذا اس نے شراب نوشی چھوڑدی، اسی طرح بَدکاری اور چوری کا معاملہ دَر پیش ہوتے وقت بھی اسے یہی خیال آیا، چنانچہ وہ ان بُرائیوں سے باز رہا۔ جب بارگاہِ رسالت ﷺ میں اس کی دوبارہ حاضری ہوئی تو کہنے لگا:آپ نے بہت اچّھا کام کیا،آپ نے مجھے جُھوٹ بولنے سے روکا تو مجھ پر دیگر گناہوں کے دروازے بھی بند ہوگئے اور یوں اس شخص نے اپنے تمام گناہوں سے توبہ کرلی۔ (تفسیرِ کبیر،پ11،التوبۃ،تحت الآیۃ:119،ج 6،ص167)

خود داری اختیار کرنے اور محنت کرنے کی تربیت

رسولِ کریم ﷺ کا اپنے صحابہ کی تعلیم و تربیت کرنے کا ایسا دل موہ لینے والا انداز رہا کہ بندہ اس پر قربان ہو جائے، آپ صرف زبانی کلامی تربیت نہیں کرتے تھے بلکہ عملی تربیت بھی فرماتے تھے جیسا کہ ایک ضرورت مند صحابی نے آپ سے کچھ مانگا جس پر آپ نے ان کی تربیت کرتے ہوئے ان کا گھریلو سامان دو درہم میں بیچ کر فرمایا:ایک درہم سے غلہ خرید کر اپنے گھر والوں کو دو اور ایک درہم کی کلہاڑی خرید کر میرے پاس لاؤ۔جب وہ کلہاڑی لےکر آئے تو آپ نے اپنے ہاتھوں سے اس میں لکڑی کا دستہ لگایا اور فرمایا: جاؤ اور لکڑیاں کاٹ کر بیچو، پندرہ دن تک مجھے نظر نہ آنا ۔وہ صحابی چلے گئے ، پندرہ دن میں انہوں نے پندرہ درہم کما لئے ۔انہوں نےاس سے غلہ اور کپڑا خریدا ۔پیارے آقا ﷺ نے انہیں دیکھ کر فرمایا: *هَذَا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَجِيءَ الْمَسْأَلَةُ نُكْتَةً فِي وَجْهِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ* ترجمہ : یہ کام تمہارے حق میں اس سے بہتر ہے کہ قیامت کے دن اس حال میں آؤ کہ تمہارے چہرے پر دھبّا ہو۔ (یعنی کسی سے مانگنے ، خود کو گویا کہ رسوا کرنا ، دنیا و آخرت میں اس دھبے کے لگنے سے دور رکھو ) (ابو داؤد ، حدیث 1641)

غلطی پر اصلاح کا مؤثر انداز

سرکارِ دو عالَم ﷺ کبھی اس بات کی ضرورت محسوس فرماتے کہ غلطی پر براہِ راست تنبیہ کی جائے تو انتہائی نرمی اور محبت بھرے انداز میں سمجھاتے تاکہ سامنے والا حق بات قبول کرنے کے لئے آمادہ ہوجائےجیسا کہ حضرت معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بار میں رسولُ اللہ ﷺ کےپیچھے نماز پڑھ رہا تھا۔ دورانِ نماز کسی کو چھینک آئی تو میں نے يَرْحَمُكَ اللهُ کہا۔اس پر صحابہ مجھے آنکھوں سے اشارہ کرنے لگے۔ میں نے کہا: تمہیں کیا ہوگیا ہے ،تم لوگ مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟ (مجھےبولتا دیکھ کر)لوگ اپنے ہاتھوں کو رانوں پر مارنے لگے ۔ میں یہ دیکھ رہا تھا کہ لوگ مجھے خاموش کروا رہے ہیں حالانکہ میں تو (اپنے خیال میں)خاموش ہوں۔ جب رسولُ اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے مجھے سمجھایا اور کیسے سمجھایا وہ خود فرماتے ہیں: *فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي، مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ، فَوَاللهِ، مَا كَهَرَنِي وَلَا ضَرَبَنِي وَلَا شَتَمَنِي، قَالَ: «إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ، إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ* ترجمہ :میرے ماں باپ ان پر قربان ہوں، میں نے اتنا اچھا سمجھانے والا نہ پہلے کبھی دیکھا اور نہ بعدمیں ، خدا کی قسم ! انہوں نے نہ مجھے ڈانٹا ،نہ مارا اور نہ ہی برا بھلا کہا بلکہ فرمایا : نمازمیں کلام مناسب نہیں ،یہ تو صرف تسبیح ، تکبیر ، اور تلاوتِ قراٰن (کا نام ) ہے۔

کھانے کے موقع پر تربیت کا مثبت انداز

حضورِ اکرم ﷺ کی تربیت کا ایک اور واقعہ ملاحظہ کیجئے کہ آپ نے کس حکمتِ عملی اور کتنے پیارے انداز میں غلطی کی اِصلاح فرمائی، چنانچہ اُمُّ المؤمنین حضرت سیّدتنا ام سلمہ رضی اللہ عنھا کے بیٹے حضرت عمر بن ابو سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبیِّ کریم ﷺ کی پرورش میں تھا،میرا ہاتھ (کھانا کھاتے ہوئے) پیالے میں اِدھر اُدھر گھومتا تھا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: * يَا غُلامُ سَمِّ اللہَ وَكُلْ بيَمِينكَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ* ترجمہ : بیٹا!اللہ کا نام لو (بسم اللہ پڑھو)، سیدھے ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے قریب سے کھاؤ۔(حضرت عمر بن ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:) اس کے بعد میں ہمیشہ اسی طریقے سے کھانا کھاتا رہا۔ (بخاری، ، حدیث: 5376) قربان جائیے!رسولِ اکرم ﷺ کے اندازِ تربیت پر! کس پیار بھرے اور مثبت (Positive) انداز میں اپنی گفتگو شُروع فرمائی، آپ نے پہلے پہل کھانے کے آداب بیان فرمائے تاکہ انہیں یہ محسوس نہ ہو کہ مجھے ٹوکا جارہا ہے اور آخر میں یہ ادب بھی بتادیا کہ برتن میں اپنے قریب سے کھانا چاہئے اور غلطی کی اِصلاح اس انداز سے فرمادی کہ گویا آخری بات بھی دوسری ہدایتوں کی طرح ایک ہدایت ہے۔

صحابہ کرام کو نرمی اختیار کرنے کی تربیت

ایک دیہاتی (اعرابی) شخص مسجد نبوی میں آیا اور مسجد کے ایک کونے میں پیشاب کرنا شروع کر دیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس پر سختی کرنے اور اسے روکنے کے لئے آگے بڑھے ، لیکن نبی کریم ﷺ نے انہیں روک دیا اور فرمایا *دَعُوهُ وَهَرِيقُوا عَلَى بَوْلِهِ سَجْلًا مِنْ مَاءٍ، فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ، وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ* ترجمہ : "اسے چھوڑ دو اور اس کے پیشاب پر ایک بالٹی پانی یا بڑا ڈول پانی بہا دو، کیونکہ تمہیں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے، سختیاں کرنے کے لیے نہیں۔ (صحیح بخاری ، حدیث 220)

رسول اللہ ﷺ، کا خادموں کے ساتھ انداز

رسول اللہ ﷺ کا خادموں کے ساتھ انداز

اللہ کے آخری نبی ﷺ کی شان ہی نرالی ہے، آپ کی زیارت اہلِ ایمان کے دلوں کی راحت، آپ سے محبت کامل ایمان کی علامت اور آپ ﷺ کی سیرت کے مطابق زندگی گزارنا کامیابی و کامرانی کی ضمانت ہے۔ رسولِ کریم ﷺ کا اپنے غلاموں کو نوازنے کی منظر کشی اِس شعر میں کتنے خوبصورت انداز میں کی گئی ہے: "آتا ہے فقیروں پہ انہیں پیار کچھ ایسا" "خود بھیک دیں اور خود کہیں منگتا کابھلا ہو" ہمارے پیارے نبی ﷺ کا خدمت گاروں کو نوازنے کا انداز بھی کیا خوب تھا۔ ویسے تو سارے صحابہ کرام ہی بلکہ پوری امت ہی سرکار ﷺ کی خادم ہے ، سرکار ﷺ ہمیں قبول فرمالیں تو یہ ہمارے لئے باعث اعزاز ہے ۔ البتہ کچھ ایسے صحابہ کرام تھے جن کی سرکار ﷺ کی بارگاہ میں خدمت کی مخصوص ذمہ داریاں تھیں ، ان کے ساتھ نبی پاک ﷺ کا انداز کیسا تھا ، یہ بھی ہمارے لئے ایک نمونہ ہے۔ حضور ﷺ کی سوشل لائف کے بارے میں ہم یہ کورس کررہے ہیں اور اس کا ہر پہلو ہی بڑا خوبصورت ہے ۔خادمین کے سرکار ﷺ کا انداز کیسا تھا ؟ اسے جاننے کے بعد ہم میں سے ہر ایک نے اس بات پر غور کرنا ہے کہ ہمارا اپنے خادموں کےساتھ ، چاہے وہ ہمارے گھر میں کام کے لئے آنے والی کو ئی خاتون ہو ، یا ہمارا ڈرائیور ہو ، یا باورچی یا سیکورٹی گارڈ ہو ، یا ہمارے تحت کام کرنے والے افراد ہو ان کے ساتھ ہمارا انداز کیسا ہے ؟ اگر سیرت رسول ﷺ کے موافق نہیں تو پھر اس انداز کو ہمیں تبدیل کرنا ہوگا۔ یہاں ہر گز ا س سے یہ مراد نہیں کہ کوئی کسی کے یہاں کام کرنے والا اپنے کام میں ہی سستی کررہا ہے تو اسے کچھ نہ کہا جائے ، ضرورۃ معمولی سختی جس سے مقصد حاصل ہوجائے اس کی گنجائش ہے لیکن عام طور پر جو انداز نظر آتا ہے ، وہ مارپیٹ یا تذلیل ، عزت نفس کو مجروح کرنا وغیرہ ہوتا ہے اس عمل سے اپنے آپ کو بچا کر حکمت و دانائی سے ان کی تربیت کرنی ہے ۔

خادم کے ساتھ نرمی کا انداز

مشہور صحابی حضرت انس رضی اللہُ عنہ کو بارگاہِ رسالت میں چھوٹی عمر سےخدمت کرنے کا موقع ملا، دورانِ خدمت آپ نے جو اندازِ مصطفےٰ دیکھے اُسے آپ کچھ یوں بیان فرماتے ہیں: میں حضورِ اکرم ﷺ کے ساتھ سفر و حضر میں خدمت کے لئے رہا ، *مَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا هَكَذَا؟ وَلاَ لِشَيْءٍ لَمْ أَصْنَعْهُ لِمَ لَمْ تَصْنَعْ هَذَا هَكَذَا؟* ترجمہ :میرے کئے گئے کام کے بارے میں آپ نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ تم نے اِس طرح کیوں کیا؟ اور نہ میرے کسی کام کے نہ کرنے پریہ فرمایا: یہ کام اِس طرح کیوں نہیں کیا؟ (صحیح بخاری ، حدیث 2768)

خادم کے بیمار ہونے پر اس کی عیاد ت کے لئے گھر جانا

رسول اللہ ﷺکی حیات طیبہ کو ہمارے لئے ایسے ہی کامل نمونہ نہیں بنایا گیا ، حضورﷺ کی سیرت کا ہر انداز ہی ایسا شاندار ہے کہ خود دل ان کی پیروی کرنے کی طرف مائل ہوجائے ، ہمیں عام طور پر خادموں کی فکر نہیں ہوتی ، جس دن خادم نے چھٹی کرلی ، اگلے دن اس کی طبیعت معلوم کرنے کے بجائے چھٹی کرلینے پر اسے سناتے ہیں ، کام سے نکال دینے کی دھمکی بھی دے دیتے ہیں ، اور نہ جانے کیا کیا کرتے ہونگے لیکن حضورﷺ کا انداز دیکھیں، خادم کے بیمار ہونے پر خود ان کے گھر پر عیادت کے لئے تشریف لے گئے ، یہ جان کر بھی حیرانی ہوگی کہ وہ خادم اس وقت تک ایمان بھی نہیں لائے تھے، اس کے باوجود سرکار ﷺ تشریف لے گئے ، اس کا اثر کیا ہوا، بخاری شریف کی روایت کی روشنی میں دیکھیں ۔ *عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ غُلاَمٌ يَهُودِيٌّ يَخْدُمُ النَّبِيَّ ﷺ، فَمَرِضَ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ، فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَقَالَ لَهُ: «أَسْلِمْ» ، فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ وَهُوَ عِنْدَهُ فَقَالَ لَهُ: أَطِعْ أَبَا القَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْلَمَ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: «الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ مِنَ النَّارِ* ترجمہ:ا یک یہودی لڑکا خدمتِ مصطفٰی کیا کرتا تھا، ایک دن وہ بیمار ہو گیا۔ آپ ﷺ اُس کی طبیعت پوچھنے تشریف لائے، اُس کےسرہانے بیٹھ گئے اور فرمایا: مسلمان ہوجا۔ اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا، باپ وہیں موجود تھا۔ اس نے کہا : ابوالقاسم ﷺ جو کچھ کہتے ہیں مان لے۔ چنانچہ وہ بچہ اسلام لے آیا۔ جب نبیِّ کریم ﷺ باہر نکلے تو آپ نے فرمایا: شکر ہے اللہ پاک کا جس نے اس بچے کو جہنم سے بچا لیا ۔ ( صحیح بخاری ، حدیث 1356)

خادم کی ضرورت کو معلوم کرنا

خادم کی ضروریات کی فکر کرنا بھی سیرت طیبہ کا حصہ ہے ، عام طور پر خادم اپنی ضروریات ، اپنے مالک کےسامنے بیان نہیں کرتے یا بیان کرنے میں ہچکچاتے ہیں کہ کہی کام سے ہی نہ نکال دیا جاوں ، یا ذلیل نہ کردیا جاوں ۔ اس لئے اپنے خادمین کی ضروریات کے بارے میں خود پوچھ لینا چاہیے یا ایسا انداز ہو ان کے ساتھ کہ آپ کے سامنے ان کی ضروریات آجائیں پھر اس ضرورت کو جان لینے کے بعد حتی المقدور اسے پورا کرنے کی بھی کوشش کی جائے ۔ نبی پاک ﷺاپنے خادمین سے ان کی ضروریات کے بارے میں پوچھتے تھے۔ اب یہ دروازہ تو مالک جنت کا ہے ، جب یہاں سے ضروریات کا پوچھا جائے تو پھر ضرورت کے مکمل ہونے کا یقین بھی ہوجاتا ہے، لہذا خادمین مصطفی ﷺ بھی اپنی دنیوی ضروریات کے طالب نہیں ہوتے تھے ۔حدیث پاک ہے *عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، مَوْلَى بَنِي مَخْزُومٍ، عَنْ خَادِمٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَجُلٍ أَوْ امْرَأَةٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يَقُولُ لِلْخَادِمِ: «أَلَكَ حَاجَةٌ؟» قَالَ: حَتَّى كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَاجَتِي قَالَ: «وَمَا حَاجَتُكَ؟» قَالَ: حَاجَتِي أَنْ تَشْفَعَ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالَ: «وَمَنْ دَلَّكَ عَلَى هَذَا؟» قَالَ: رَبِّي قَالَ: «إِمَّا لَا، فَأَعِنِّي بِكَثْرَةِ السُّجُودِ* ترجمہ: زیاد بن ابو زیاد، جو بنو مخزوم کے آزاد کردہ غلام ہیں، انہوں نے نبی کریم ﷺ کے ایک خادم سے روایت نقل کی، کہ نبی پاک ﷺ اپنے خادم سے جو کچھ کہا کرتے تھے ان میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ اپنے خادم سے پوچھا کرتے "تمہیں کوئی حاجت ہے ؟ ایک دفعہ خادم نے عرض کی: یارسولَ اللہ ﷺ !میری ایک حاجت ہے۔فرمایا: ‏‏‏‏تمہاری کیا حاجت ہے؟عرض کی: میری حاجت یہ ہے کہ آپ روزِ قیامت میری شفاعت فرمائیں۔ آپ نے فرمایا: ‏‏‏‏اس بارے میں تیری رہنمائی کس نے کی؟ اس نے کہا: میرے ربّ نے۔فرمایا: کیوں نہیں! تو پھرتو سجدوں کی کثرت سے میری مدد کر۔ (مسند احمد ، حدیث 16076)


پیارے آقا ﷺ کی معاشرتی زندگی | Islamic Courses - Seerat Ki Dunya