
ہم نے اپنے اس کورس میں ان موضوعات کو شامل کررہے ہیں ۔ 1.سیرت رسول ﷺ سے دعا کی ترغیب 2.حضورﷺ کا صحابہ کے لئے دعا کرنا 3.حضور ﷺ کا صحابہ سے دعا کروانا 4.حضور ﷺکی دعائیں 5.حضورﷺ نے کن کن چیزوں سے پناہ مانگی
257
انرولمنٹس
27
مکمل
4.6
ریٹنگ
اللہ رب العزت سے مناجات ودعا کرنا اس کا مقرب بندہ بننے اور اس کے فضل و انعام کو حاصل کرنے کا انتہائی آسان اور بہترین ذریعہ ہے ۔ دعا کرنے کی ترغیب خود اللہ پاک نے قرآن کریم میں بھی اپنے بندوں کو دی ۔ اللہ پاک خود ارشاد فرماتا ہے : *"ادْعُوۡنِیۡۤ اَسْتَجِبْ لَکُمْ"* ترجمہ : 'مجھ سے دعا مانگو میں قبول فرماؤں گا۔ اور مزید ایک مقام پر فرمایا : *"اُجِیۡبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙ فَلْیَسْتَجِیۡبُوۡا لِیۡ"* ترجمہ : میں دعا مانگنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارے۔
اسی طرح نبی پاک ﷺ نے بھی اپنی امت کو نہ صرف دعا کی ترغیب ارشاد فرمائی بلکہ خود مختلف مواقع پر آپ ﷺ دعا فرمایا کرتے اور آپ کی سیرت میں دعا کا یہ انداز بھی ملتا ہے کہ کبھی آپ ﷺ اپنے صحابہ کو دعا دے رہے ہیں ، کبھی آپ ﷺ اپنے کسی صحابی سے دعا کا کہہ رہے ہیں بلکہ کچھ مواقع تو سیرت رسول ﷺ سے ہمیں یوں بھی سیکھنے کو ملتے ہیں کہ آپ ﷺ اپنے صحابہ سے اپنے لئے دعا کرنے کا فرمارہے ہیں ۔ اسی طرح دعا کرتے وقت انداز کیسا ہو ، دعا کیسے کی جائے اسکا انداز وطریقہ بھی ہمیں سیرت رسول ﷺ سے سیکھنے کو ملتا ہے؛ مختصر یہ کہ سیرت رسول ﷺ کا یہ پہلو بھی ہماری زندگی کو پرسکون بنانے کے لئے انتہائی اہمیت رکھتا ہے ۔
سیرت رسول ﷺ سے دعا کی ترغیب۔ حضور ﷺ کا صحابہ کے لئے دعا کرنا۔ حضور ﷺ کا صحابہ سے دعا کروانا۔ حضور ﷺ کی دعائیں۔ حضور ﷺ نے کن کن چیزوں سے پناہ مانگی۔
اس کورس کو مکمل کرنے کےبعد ہم دعا کی اہمیت کو بھی سمجھ جائینگے اور سیرت رسولﷺ کی روشنی میں دعا کس طرح کرنی ہے ، انداز کیا ہونا چاہیئے اس کو بھی سیکھیں گے۔ اللہ کریم اس کورس کو مکمل کرکے اس پر ہمیں عمل کی سعادت بھی عطا فرمائے۔ کورس کرنے والوں کی دلچسپی کے لئے ہم نے اس کورس میں حضورﷺ کی مختلف مواقع پر کی جانے والی دعاوں کو بھی شامل کیا ہے اور احادیث میں ذکر کی گئی عربی دعائیں اور ساتھ ہی ان کا ترجمہ بھی شامل کردیا گیا ہے تاکہ الفاظ مصطفی ﷺ کی برکات بھی نصیب ہو اور اس دعا کے ترجمے کو پڑھ کر دعا کا سمجھنا بھی ہمارے لئے آسان ہو ۔
نبی پاکﷺ نے مختلف مواقع پر دعا کی اہمیت اور فضیلت کو بیان کیا اور دعا کرنے کی ترغیب دی ، یہاں ہم حضور ﷺ کی چند احادیث مبارکہ ذکر کررہے ہیں ، جس میں دعا کرنے کی ترغیب موجود ہے ۔
*عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -ﷺ-: "الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ" ثُمَّ قَرَأَ: وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْ أَسْتَجِبْ لَكُمْ* ترجمہ: روایت ہے حضرت نعمان بن بشیر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ دعا ہی عبادت ہے پھر یہ آیت تلاوت کی کہ تمہارا رب فرماتا ہے مجھ سے دعا مانگو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ (مشکوۃ المصابیح ، حدیث 2230)
*وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "الدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَةِ".*. ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : دعا عبادت کا مغز ہے۔ (مشکوۃ المصابیح ، حدیث2231) مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں : یعنی دعا عبادت کا رکن اعلیٰ ہے جیسے مغز کے بغیر ہڈی کی،گودے کے بغیر چھلکے کی کوئی قدر نہیں ایسے ہی دعا سے خالی عبادت کی کوئی قدر نہیں،رب تعالٰی مانگنے کو پسند فرماتاہے جیسے حضور انور ﷺ فرماتے ہیں"الحج عرفۃ" حج عرفہ کا نام ہے یعنی عرفات کا قیام حج کا رکن اعلیٰ ہے عبادت نام ہے اپنی انتہائی عاجزی رب تعالٰی کی انتہائی عظمت کے اظہار کا دعا میں یہ دونوں چیزیں اعلیٰ طریقہ سے موجود ہیں کہ اس میں بندہ اقرار کرتا ہے کہ میں کچھ نہیں،تو کریم ہے غنی ہے اس لیے میں تیرے دروازہ پر ہاتھ پھیلائے آیا ہوں۔
*وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: لَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَمَ عَلَى اللّٰهِ مِنَ الدُّعَاءِ*. ترجمہ: روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲﷺ نےاﷲکے ہاں دعا سے بڑھ کر کوئی چیزگرامی(قیمتی ) نہیں ۔ (مشکوۃ المصابیح ، حدیث2232) مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں: رب خود فرماتاہے:"قُلْ مَا یَعْبَؤُابِکُمْ رَبِّیۡ لَوْلَا دُعَآؤُکُمْ" اگر تمہاری دعائیں نہ ہوں تو رب تعالٰی تمہاری پرواہ بھی نہ کرے، معلوم ہوا کہ اگر ہماری بارگاہ الٰہی میں کچھ قدر و منزلت ہے تو دعاؤں کی برکت سے ہے،دعا میں ساری عبادات بھی شامل ہیں کہ وہ بھی بالواسطہ دعائیں ہیں۔
*عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: لَا يَرُدُّ الْقَضَاءَ إِلَّا الدُّعَاءُ،وَلَا يَزِيْدُ فِي الْعُمْرِ إِلَّا الْبِرُّ* .ترجمہ : روایت ہے حضرت سلمان فارسی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے قضاء (تقدیر ) کو دعا کے سواء کوئی چیز نہیں لوٹاتی اور نیک سلوک کے سواء کوئی چیز عمر نہیں بڑھاتی۔ دعا ، تقدیر کو ٹالتی ہے اس کا مطلب : یعنی دعا کی برکت سے آتی بلا ٹل جاتی ہے ،قضاء سے مراد تقدیر معلق ہے یا معلق مشابہ با لمبرم (یہ دونوں تقدیر کی ایک قسم ہیں ) کہ ان دونوں میں تبدیلی ترمیمی ہوتی رہتی ہے تقدیر مبرم (یہ بھی تقدیر کی ایک قسم ہے )کسی طرح نہیں ٹلتی،لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"اِذَا جَآءَ اَجَلُہُمْ فَلَا یَسْتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَۃً وَّلَا یَسْتَقْدِمُوۡنَ"۔کہا جاتا ہے کہ بخار آگیا تھا دوا سے اتر گیا دوا نے تقدیر مبرم کو نہیں بدل دیا بلکہ اس کے اثر سے چڑھا ہوا بخار اتر گیا تقدیر میں یہ لکھا تھا کہ اسے بخار آئے گا اگر فلاں دوا کرے تو اتر جائے گا اس کے اور بھی معنے کیے گئے ہیں مگر یہ توجیہ بہتر ہے۔
*وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: إِنَّ الدُّعَاءَ يَنْفَعُ مِمَّا نَزَلَ وَمِمَّا لَمْ يَنْزِلْ، فَعَلَيْكُمْ عِبَادَ اللّٰهِ بِالدُّعَاءِ* ترجمہ: روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲ ﷺ نے کہ دعا نازل شدہ آفت میں بھی نافع ہے اور اس بلا میں بھی جو نہ اتری ہو تو اے اللہ کے بندو دعا کو مضبوط پکڑو۔ یعنی دعا کے دو فائدے ہیں: ایک یہ کہ اس کی برکت سے آئی بلا ٹل جاتی ہے۔دوسرے یہ کہ آنے والی بلا رک جاتی ہے،لہذا فقط بلا آنے پر ہی دعا نہ کرو بلکہ ہر وقت دعا مانگو شائد کوئی بلا آنے والی ہو کہ اس دعا سے رک جائے۔ اس طرح کہ حال میں دعائیں مانگو، دعا کیلیے بلاء آنے کا انتطار نہ کرو کہ جب آفت آئے گی تو دعا مانگ لیں گے ۔امام غزالی فرماتے ہیں کہ جیسے ڈھال سلاح یعنی ہتھیارکا وار روک لیتی ہے اور جیسے پانی لگی پیاس بجھادیتا ہے یعنی ڈھال اور پانی ان کے اسباب ہیں ایسے ہی دعا آئی ہوئی بلا کا وار روک لیتی ہے اور لگی آگ بجھادیتی ہے،اسباب بھی رب تعالٰی کی طرف سے ہیں اور مسببات بھی، رب تعالٰی فرماتا ہے:*وَلْیَاۡخُذُوۡا حِذْرَهُمْ وَاَسْلِحَتَہُمْ* جنگ میں اپنا بچاؤ اور ہتھیار لے کر جاؤ لہذا دنیا میں بھی انسان دعاؤں کا بچاؤ اور نیک اعمال کے ہتھیار لے کر رہے،ورنہ آفات کچل دیں گیں۔
*وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: مَنْ لَمْ يَسْأَلِ اللّٰهَ يَغْضَبْ عَلَيْهِ* روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جوﷲتعالٰی سے نہ مانگے تو اللہ اس پر ناراض ہوتا ہے ۔ یعنی جو شخص غرور و تکبر اور اپنے کو رب تعالٰی سے بے نیاز سمجھ کر دعا نہ مانگے وہ غضب و لعنت کا مستحق ہے
*عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ فُتِحَ لَهٗ مِنْكُمْ بَابُ الدُّعَاءِ فُتِحَتْ لَهٗ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ* ترجمہ : روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ تم میں سے جس کے لیے دعا کا دروازہ کھولا جائے تو اس کے لیے رحمت کے دروازے کھول دیئے جائیں گے ۔ یعنی جسے ہر وقت ہر حال میں دعائیں مانگنے کی توفیق ملے تو یہ اس کی علامت ہے کہ اس کے لیے رب تعالٰی نے رحمت کے دروازے کھول دیئے ہیں،اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ دعا کی طرف دل کا راغب ہونا پھر دعا کے لیے اچھے الفاظ مل جانا رب تعالٰی ہی کے کرم سے ہے جب وہ کچھ دینا چاہتا ہے تو ہمیں مانگنے کی توفیق بخشتا ہے۔ "میری طلب بھی تمہارےکرم کاصدقہ ہے" "قدم یہ اٹھتےنہیں ہیں اٹھائےجاتےہیں"
*عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ سَرَّهٗ أَنْ يَسْتَجِيْبَ اللّٰهُ لَهٗ عِنْدَ الشَّدَائِدِ فَلْيُكْثِرِ الدُّعَاءَ فِي الرَّخَاءِ* ترجمہ : روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲ ﷺ نےجوچاہےکہ مصیبتوں کے وقتﷲاس کی دعا قبول کرے تو وہ آرام کے زمانہ میں دعائیں زیادہ مانگا کرے۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ صرف مصیبت میں دعا مانگنا اور راحت میں رب سے غافل ہوجانا خود غرضی ہے اور ہر وقت دعا مانگنا عبدیت ہے رب کو خود غرضی ناپسند ہے عبدیت پسند خود فرماتاہے:*"وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَی الْاِنۡسَانِ اَعْرَضَ وَنَاٰ بِجَانِبِہٖ وَ اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ فَذُوۡ دُعَآءٍ عَرِیۡضٍ"* ۔ایسے خود غرض کا حشر یہ ہوتا ہے کہ رب تعالٰی فرماتاہے اس پر مصیبت رہنے دو تاکہ اسی بہانے میرے دروازے پر حاضر رہے۔
*قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "اُدْعُوا اللّٰهَ وَأَنْتُمْ مُوْقِنُوْنَ بِالإِجَابَةِ، وَاعْلَمُوْا أَنَّ اللّٰهَ لَا يَسْتجِيْبُ دُعَاءً مِنْ قَلْبٍ غَافِلٍ لَاهٍ* ترجمہ : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ سے دعا کرو قبولیت کا یقین رکھتے ہوئے اور جان رکھو کہ اللہ غافل و لاپرواہ کی دعا قبول نہیں فرماتا۔ یعنی دعا کرتے وقت یہ یقین کرلو کہ رب تعالٰی اپنے کرم سے میر ی یہ دعا ضرور قبول کرے گا اس میں لطیف اشارہ اس جانب بھی ہے کہ دعا کے وقت تمام شرائط قبول اور آداب دعا پورے کرو جس سے تمہارے دل کو قبولیت کا یقین خود بخود ہو جائے پھر ساتھ ہی اس کے کرم سے امید رکھو اللہ تعالٰی آس والوں کو نا امید نہیں فرماتا اس کا نام ہے رجاء السائلین ۔(ازمرقات و لمعات) قبولیت دعا کی بہت سی شرطیں ہیں،جن میں سے بڑی اہم شرط دل لگنا ہے اسی لیے خصوصیت سے اس کا ذکر فرمایا گیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر دعا مانگنے کے وقت دل اور طرف ہو منہ اور طرف ہاتھ رب تعالٰی کی بارگاہ میں پھیلے ہوں،خیال بازار وغیرہ میں ہو تو دعا قبول نہیں ہوتی۔قبولیت دعا اس شرط سے ہے کہ ہاتھ،زبان،دل دھیان سب کا مرکز ایک ہی یعنی بارگاہ الہٰی۔
*عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: إِنَّ أَسْرَعَ الدُّعَاءِ إِجَابَةً دَعْوَةُ غَائِبٍ لِغَائِبٍ* روایت ہے حضرت عبدﷲابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲ ﷺ نے بہت جلد قبول ہونے والی دعا غائب کی غائب کے لیے ہے۔ یعنی جب کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے اس کی غیر موجودگی میں دعائے خیر کرے تو بہت جلد قبول ہوتی ہے اس کی وجہ ظاہر ہے کہ یہ شخص مسلمان بھائی کا خیر خواہ بھی ہے اور مخلص بھی،سامنے دعا کرنے میں ریاء دکھلاوے و خوشامد کا احتمال ہوسکتا ہے۔ ہم نے یہاں سرکار ﷺ کی صرف چند احادیث ہی ذکر کی ہیں جن میں سرکار ﷺ نے دعا کی ترغیب دی ہے اور مختلف انداز سے دعا کرنے پر اپنے امتیوں کو ابھارا ہے۔ جس سے ہمیں دعا کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ ہم اتنی اہم عبادت ، سے کس قدر غافل ہیں ۔ ہمارے مختلف لوگوں کے پاس جاکر ، عاملین کے پاس جا کر ، ائمہ کے پاس جاکر ، پیران عظام کے پاس جاکر ، ان سے دعاوں کا کہتے ہیں، یہ عمل اگرچہ برا نہیں ہے اور نہ ہی اس میں کوئی شرعی قباحت بلکہ اللہ کے نیک بندوں کے پاس جا کر ان سے دعا کا کہنا احادیث سے ثابت ہے ، اس کا بالکل منع نہیں کیا جارہا ، یہ عمل بھی کریں لیکن خود رب کی بارگاہ میں بیٹھ کر ، دلی توجہ کے ساتھ ، گڑگڑاتے ہوئے ، عاجزی کے ساتھ خود دعا کرنے کا بھی معمول بنانا چاہیئے ۔ اب ہم ا پنے اس کورس کے اگلے مرحلے میں یہ جانیں گے کہ نبی کریم ﷺ صحابہ کرام کے لئے خود بھی دعائیں فرماتے تھے۔
رسول کریم ﷺ کو اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں بھی حکم فرمایا کہ آپ اپنے اصحاب کے لئے دعا کریں کہ آپ کا دعا کرنا ان کے لئے سکون کا سبب ہوتا ہے، اس لئے بھی نبی کریم ﷺ کی عادت مبارکہ تھی بالخصوص جو راہ خدا میں مال خرچ کرتے آپ ﷺ انہیں دعاوں سے نوازتے تھے اور بالعموم آپ ﷺ اصحاب کے لئے دعا کرتے تھے ۔ اللہ پاک نے قرآن کریم سورۃ التوبہ کی آیت نمبر 103 میں ارشاد فرمایا : *وَصَلِّ عَلَیۡہِمْ ؕ اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّہُمْ* ترجمہ:اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو بیشک تمہاری دعا ان کے دلوں کا چین ہے۔ اب ہم یہاں احادیث و سیرت کے حوالے سے چند واقعات ذکر کر رہے ہیں جس میں نبی کریم ﷺ نے مختلف افراد کے لئے دعا ئیں فرمائی اور اس سے ہمیں بھی ترغیب ملتی ہے کہ ہم بھی اپنے بھائیوں کے لئے ، عزیزوں ، دوستوں کے لئے دعائیں کیا کریں جیسا کہ ہم اسی کورس کے پچھلے مرحلے میں آخری حدیث پاک پڑھی کہ کسی غائب کے لئے کی جانے والی دعا جلد قبول ہوتی ہے ۔
ایک ایسی پیاری حدیث پاک جس میں نبی پاک ﷺ نے چاروں خلفائے راشدین کا ذکر کرکے ان کو دعاوں سے نواز۔ اس حدیث کو امام ترمذی نے بھی ذکر کیا اور صاحب مشکوٰۃ نے بھی اس حدیث کو نقل فرمایا۔ *قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ: رَحِمَ اللّٰهُ أَبَا بَكْرٍ زَوَّجَنِي ابْنَتَهٗ وَحَمَلَنِي إِلٰى دَارِ الْهِجْرَةِ وَصَحِبَنِي فِي الْغَارِ وَأَعْتَقَ بِلَالًا مِنْ مَالِهِ. رَحِمَ اللّٰهُ عُمَرَ يَقُولُ الْحَقَّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا تَرَكَهُ الحَقُّ وَمَا لَهٗ مِنْ صَدِيقٍ. رَحِمَ اللّٰهُ عُثْمَانَ تَسْتَحْيِيهِ الْمَلَائِكَةُ رَحِمَ اللّٰهُ عَلِيًّا اللّٰهُمَّ أَدِرِ الْحَقَّ مَعَهٗ حَيْثُ دَارَ* ترجمہ : روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے الله ابوبکر پر رحمت کرے انہوں نے اپنی بیٹی کا مجھ سے نکاح کردیا اور مجھے ہجرت گاہ تک پہنچایا اور غار میں میرے ساتھ رہےاور بلال کو اپنے مال سے آزاد کیا الله عمر پر رحمت کرے کہ وہ حق بات کہتے ہیں اگرچہ کڑوی ہو انہیں حق نے ایسا کردیا کہ ان کا کوئی دوست نہیں الله عثمان پر رحمت کرے کہ ان سے فرشتے غیرت کرتے ہیں، الله علی پر رحمت کرے،اے اللہ ! علی جہاں بھی جائیں حق ان کے ساتھ ہی رہے۔ ان دعاوں کی تفصیل اور احادیث کی شرح کی طرف نہیں جائیں گے کیونکہ یہاں ہمارا مقصد صرف سرکارﷺ کی دعاوں کو جمع کرنا ہے۔
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لئے سرکار ﷺ نے مال میں برکت کی دعا فرمائی اور حساب میں آسانی کی بھی دعا فرمائی۔ اس دعا کو صاحب "الریاض النضرہ" نے ذکر کیا ۔ *عن أنس رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول لعبد الرحمن بن عوف:بارك الله في مالك, وخفف عليك حسابك يوم القيامة* ترجمہ : حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضورﷺ کو حضرت سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ کو یہ دعا دیتے ہوئے سنا : اللہ تمہارے مال میں برکت دے اور قیامت کے دن تمہارے حساب میں نرمی فرمائے۔
ایک رات اچانک حضرت سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ نبی کریم ﷺ کی حفاظت کے لئے آگئے جس وقت سرکار ﷺ آرام فرمارہے تھے۔ نبی کریم ﷺ کی ہتھیار کی آواز سے آنکھ کھل گئی ، حضرت سعد حفاظت کے لئے موجود تھے ، حضور ﷺ نے دعا فرمائی پھر آرام فرمانے لگے ، اس روایت کو امام بخاری و امام مسلم دونوں نے ذکر کیا ہے ۔ *عَن عَائِشَة قَالَتْ: سَهِرَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ مَقْدِمَهُ المَدِينَةَ لَيْلَةً فَقَالَ: لَيْتَ رَجُلًا صَالِحًا يَحْرُسُنِي إِذْ سَمِعْنَا صَوْتَ سِلَاحٍ فَقَالَ: مَنْ هٰذَا ؟ قَالَ: أَنَا سَعْدٌ قَالَ: مَا جَآءَ بِكَ؟ قَالَ: وَقَعَ فِي نَفْسِي خَوْفٌ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجِئْتُ أَحْرُسُهٗ فَدَعَا لَهٗ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَامَ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)* ترجمہ : روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ آتے وقت ایک رات جاگتے رہے پھر فرمایا کاش کوئی نیک شخص ہماری حفاظت کرتا اچانک ہم نے ہتھیاروں کی آواز سنی تو فرمایا یہ کون ہے عرض کیا میں سعد ہوں فرمایا کیا چیز تم کو یہاں لائی عرض کیا میرے دل میں رسول اللہﷺ پر خطرہ گزرا تو میں ان کی حفاظت کرنے آیا ان کے لیے رسول اللہ ﷺ نے دعا کی پھر آرام فرمانے لگے۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہ جن کا تیر کبھی خطا نہ کرتا، نبی کریم ﷺ نے ان کے لئے بھی تیراندازی میں مضبوطی کی دعا فرمائی اور ساتھ ہی رب کی بارگاہ میں ان کے مستجاب الدعوات بننے کی بھی دعا کی *عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺقَالَ يَوْمَئِذٍ يَعْنِي يَوْمَ أُحُدٍ: «اللّٰهُمَّ اشْدُدْ رَمْيَتَهٗ وَأَجِبْ دَعْوَتَهٗ* روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہ سے کہ رسول الله ﷺ نے اس دن یعنی احد کے دن فرمایا کہ الٰہی اس کی تیر اندازی کو مضبوط کر اور اس کی دعا قبول فرما۔
سرکار ﷺ نے حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ کے شیر خوار بچے کے انتقال پر اولاد کی برکت کی دعا فرمائی۔ اس روایت کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اور امام مسلم نے تفصیلا ذکر کیا ۔ *عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ يَشْتَكِي، فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ، فَقُبِضَ الصَّبِيُّ، فَلَمَّا رَجَعَ أَبُو طَلْحَةَ، قَالَ: مَا فَعَلَ ابْنِي، قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: هُوَ أَسْكَنُ مَا كَانَ، فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ العَشَاءَ فَتَعَشَّى، ثُمَّ أَصَابَ مِنْهَا، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَتْ: وَارُوا الصَّبِيَّ، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَبُو طَلْحَةَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: «أَعْرَسْتُمُ اللَّيْلَةَ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمَا» فَوَلَدَتْ غُلاَمًا، قَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ: احْفَظْهُ حَتَّى تَأْتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَرْسَلَتْ مَعَهُ بِتَمَرَاتٍ، فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ ﷺ فَقَالَ: «أَمَعَهُ شَيْءٌ؟» قَالُوا: نَعَمْ، تَمَرَاتٌ، فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ ﷺ فَمَضَغَهَا، ثُمَّ أَخَذَ مِنْ فِيهِ، فَجَعَلَهَا فِي فِي الصَّبِيِّ وَحَنَّكَهُ بِهِ، وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ* ترجمہ: حضرتِ سیدنا انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ حضرتِ ابو طلحہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ایک صاحبزادہ بیمار تھا۔ آپ گھر سے باہر تشریف لے گئے توبچے کا انتقال ہوگیا، واپس آکر بچے کا حال پوچھا تو بچے کی ماں حضرتِ سیدتنا ام سلیم رضی اللہ تعالٰی عنہا نے کہا کہ پہلے سے زیادہ پُرسکون ہے، پھران کے سامنے کھانا رکھا، انہوں نے کھایا اور پھر بیوی سے ہم بستر ہوئے اس کے بعد اُمِّ سُلَیْم نے کہا: بچے کو دفن کرو۔پھر صبح کے وقت حضرتِ ابوطلحہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نبیِّ اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور واقعہ سنایا ۔آپ ﷺ نے پوچھا: کیا تم نے رات کو ہم بستری کی ؟عرض کی: جی ہاں! آپ نے دعا مانگی: اے اللہ! ان دونوں کو برکت دے۔ چنانچہ، ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا۔ حضرتِ سیدنا انس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں حضرتِ ابو طلحہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مجھ سے فرمایا: اسے اٹھا کر رسولِ اکرم ﷺ کی خدمت میں لے جاؤ ساتھ ہی کچھ کھجوریں بھی دِیں۔نبیِّ اکرم ﷺ نے پوچھا: اس کے ساتھ کچھ ہے ؟ عرض کی: جی ہاں ! چند کھجوریں ہیں۔ آپﷺ نے انہیں چبایا اور پھر بچے کے منہ میں رکھ دیں اور یوں اس کی تَحْنِیْک فرمائی اور اس کا نام عَبْدُاللہ رکھا۔
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لئے نبی کریم ﷺ نے علم و حکمت کی، فہم معانی قرآن کی دعائیں فرمائی۔ روایات میں اس کے مختلف الفاظ ذکر کئے گئے ۔ ایک موقع پر نبی کریم ﷺ نے آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اپنے سینے سے لگایا اور یہ دعا دی : *اَللّٰهُمَّ عَلِّمْهُ الحِكْمَةَ* یعنی اے اللہ ! اسے حکمت کا علم عطا فرما۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ دعا دی : *اَللّٰهُمَّ عَلِّمْهُ الكِتَابَ* یعنی اے اللہ ! اسے کتاب کا علم عطا فرما۔ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں کہ ایک بار رسولِ کریم ﷺ بیتُ الخلا میں گئے تو میں نے نبیِّ کریم ﷺ کے لئے وُضو کا پانی رکھا ، حُضورِ اکرم ﷺ نے ( بیتُ الخلا سے نکل کر پانی رکھا دیکھا تو ) معلوم کیا کہ یہ کس نے رکھا ؟ آپ ﷺ کو میرا بتایا گیا تو آپ نے یوں دعا دی : *اَللّٰهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ* یعنی اے اللہ ! اسے دین کا فقیہ بنا دے۔ ایک مرتبہ حُضور ﷺ نے اپنا دستِ اقدس آپ کے سر پر رکھا اور یہ دعا فرمائی : *اَللّٰهُمَّ اَعْطِهِ الْحِكْمَةَ وَعَلِّمْهُ التَّاْوِيلَ* یعنی اے اللہ ! اسے حکمت اور تفسیر کا علم عطا فرما۔ پھر اپنا مبارک ہاتھ آپ کے سینے پر رکھا تو آپ نے اس کی ٹھنڈک اپنی پیٹھ میں محسوس کی ، پھر دُعا کی : *اَللّٰهُمَّ احْشُ جَوْفَه حُكْمًا وَعِلْمًا* یعنی اے اللہ ! اس کا سینہ علم و حکمت سے بھر دے۔ اس کی برکت ایسی ظاہر ہوئی کہ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کبھی لوگوں کے کسی سوال کا جواب دینے میں نہ گھبرائے اور تاحیات حِبْرُ هَذِهِ الْاُمَّة یعنی اس اُمت کے بہت بڑے عالم کے لقب سے نوازے گئے۔
صحیح مسلم میں مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنھما نے فرمایا *حدثني عمر بن الخطاب، قال: لما كان يوم بدر نظر رسول الله ﷺ إلى المشركين وهم ألف، وأصحابه ثلاث مائة وتسعة عشر رجلا، فاستقبل نبي الله صلى الله عليه وسلم القبلة، ثم مد يديه، فجعل يهتف بربه: «اللهم أنجز لي ما وعدتني، اللهم آت ما وعدتني، اللهم إن تهلك هذه العصابة من أهل الإسلام لا تعبد في الأرض* ترجمہ:مجھے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے بیان فرمایا کہ بدر کے دن رسول اللہ ﷺ نے مشرکین کی طرف نظر فرمائی وہ ایک ہزار تھے اور آپ علیہ الصلاۃ والسلام کے صحابہ 319 کی تعداد میں تھے،تو اللہ تعالی کے نبی ﷺ نے قبلہ کی طرف چہرہ کرکے اپنے ہاتھوں کو پھیلایا اورگڑ گڑاکراپنے رب تعالی سے یوں دعاکرنے لگے:" اے اللہ تونے مجھ سے جو وعدہ کیا اسے پورا فرما،اے اللہ تونے جس چیز کا مجھ سے وعدہ کیا وہ مجھے عطا فرما،اے اللہ اہل اسلام کا یہ گروہ اگر ہلاک ہوگیا تو زمین میں تیری عبادت نہ ہوگی۔
حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالٰی عنہا ، حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ کو لے کر حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی یارسول اللہ ﷺ یہ انس ہیں، آپ کے خادم ہیں، ان کے لئے آپ دعا فرماد یں، نبی کریم ﷺ نے ان کے لئے دعا فرمائی : *اللهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ* ترجمہ : اے اللہ ان کی مال اور ان کی اولا د میں کثرت دے ، اے اللہ ان کو جو بھی تو عطا کرے اس میں برکت عطا فرما ۔
حضرت جریر رضی اللہ تعالٰی عنہ گھوڑے پر جم کر بیٹھ نہ سکتے تھے ، حضرت جریر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس کے بارے میں سرکار ﷺ سے عرض کی ؛ تو نبی پاک ﷺ نے حضرت جریر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لئے دعا فرمائی ، حضرت جریر رضی اللہ عنہ خود فرماتے ہیں ، حضور ﷺ کی دعا کے بعد میں کبھی بھی گھوڑے سے نہیں گرا۔ امام بخاری علیہ الرحمہ نے اس دعا کو بخاری شریف ، کتاب المغازی میں ذکر کیاہے۔ نبی پاک ﷺ نے یوں دعا فرمائی : فَضَرَبَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِي حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ يَدِهِ فِي صَدْرِي، وَقَالَ: *اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ، وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا» قَالَ: فَمَا وَقَعْتُ عَنْ فَرَسٍ بَعْدُ* ترجمہ : آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا اور دعا کی کہ اے اللہ ! انہیں مضبوطی فرمایا اسے ہدایت کرنے والا اور خود ہدایت پایا ہوا بنا۔ پھر اس کے بعد میں کبھی کسی گھوڑے سے نہیں گرا۔
حضرت عروہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک موقع پر نبی پاک ﷺ نے انہیں ایک دینار دیا کہ اس ایک دینار سے میں ایک بکری خرید کر لاؤں ۔ حضرت عروہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس ایک دینار سے دو بکریاں خریدیں اور ایک بکری کو ایک دینا کے بدلے فروخت کرکے حضور اکرم ﷺ کے پاس آئے اور بکری کے ساتھ ایک دینار بھی واپس کردیا ، اس وقت نبی کریم ﷺ نے حضرت عروہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لئے دعا فرمائی ۔ امام بخاری نے اسے کتاب المناقب میں ذکر کیا کہ *فَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ فِي بَيْعِهِ* یعنی نبی کریم ﷺ نے حضرت عروہ کے لئے خریدو فروخت میں برکت کی دعا فرمائی۔ اس دعا کے بعد حضرت عروہ مٹی بھی خریدتے تو اس میں بھی نفع حاصل ہوتا تھا ۔
حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی والدہ ابھی ایمان نہیں لائی تھی ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ان کے بارے سرکار ﷺ سے عرض کی کہ یارسول اللہ ﷺمیری والدہ کے ایمان لانے کی دعا فرمادیجے ،نبی کریم ﷺ نے اسی وقت دعا فرمادی۔ آپ ﷺ نے فرمایا : *اللهُمَّ اهْدِ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ* ترجمہ : اے اللہ ابوہریرہ کی والدہ کو ہدایت عطا فرما۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اسی وقت کھڑے ہوئے اور خوشی خوشی گھر لوٹے ، گھر پہنچے تو والدہ غسل فرمارہی تھی ، دروازہ کھولا اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے سامنے کلمہ پڑھا ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ بڑے خوش ہوئے کہ سرکار ﷺ کی دعا ان کی والدہ کے حق میں قبول ہوگئی پھر آپ حضور ﷺ کے پاس لوٹے اور یہ خوشخبری سنائی ۔ روایت میں یہ بھی آٰیا کہ آ پ رضی اللہ تعالٰی عنہ اس وقت خوشی سے رو رہے تھے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سرکارﷺ کے پاس پہنچے ساری خبر دی اور ایک دعا کی عرض کی کہ یارسول اللہﷺ میرے لئے اور میری والدہ کے لئے دعا فرمادیں کہ وہ مجھے اور میری والدہ کو مومنوں کے درمیان محبوب بنادے ۔ آپ ﷺ نے دعا فرمائی : *اللهُمَّ حَبِّبْ عُبَيْدَكَ هَذَا - يَعْنِي أَبَا هُرَيْرَةَ - وَأُمَّهُ إِلَى عِبَادِكَ الْمُؤْمِنِينَ، وَحَبِّبْ إِلَيْهِمِ الْمُؤْمِنِينَ* ترجمہ : اے اللہ! اپنے اس بندے (یعنی ابو ہریرہ) اور اس کی ماں کو اپنے مؤمن بندوں کے دلوں میں محبوب کر دے اور مؤمنوں کو ان کے دلوں میں محبوب کر دے۔ حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں کہ اس دعا کے بعد سے کوئی بھی مومن جو مجھے دیکھتا یا میرے بارے میں سنتا تو مجھ سے محبت ہی کرتا ۔ (صحیح مسلم حدیث 2491)
تعلیم امت کے لئے نبی رحمت ﷺ نے اپنے اصحاب اپنے لئے بھی دعا کا فرمایا اور اپنے اصحاب سے بھی دعا کروانے کا حکم ارشاد فرمایا ، اس سے پتا چلتا ہے کہ دعا کرنی بھی ہے اور اللہ کے مقبولین سے دعا کروانی بھی ہے ۔ یہاں ہم دو حدیثیں مختصر شرح کے ساتھ ذکر کررہے ہیں ایک حدیث میں خود نبی کریم ﷺ نے اپنے لئے دعا کرنے کا کہا اور دوسری حدیث میں اپنے اصحاب کو فرمایا کے فلاں سے دعا کروانا ۔
*عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : اِسْتَاْذَنْتُ النَّبِيَّ ﷺ فِي الْعُمْرَةِ فَاَذِنَ لِيْ وَقَالَ : لَا تَنْسَنَا يَا اُخَيَّ مِنْ دُعَائِكَ فَقَالَ : كَلِمَةً مَا يَسُرُّنِيْ اَنَّ لِيْ بِهَا الدُّنْيَا.وَفِیْ رِوَایَۃٍ قَالَ : اَشْرِكْنَا يَا اُخَيَّ فِي دُعَائِكَ.* ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں : میں نے حضورنبی کریم رؤف رحیم ﷺ سے عمرہ کرنے کی اجازت مانگی تو آپﷺ نے مجھے اجازت عطا فرمائی اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا : ” اے بھائی ! مجھے اپنی دعا میں نہ بھولنا ۔ “سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں : ’’حضور ﷺ کے اس مبارک فرمان سے مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ اگر اس کے بدلے مجھے ساری دنیا بھی مل جائے تو اتنی خوشی نہ ہوتی"ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے یوں ارشادفرمایا : ’’اے بھائی ! ہمیں بھی اپنی دعا میں شریک کرنا ۔ علامہ ملا علی قاری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :"حضور ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے جو دعا کا فرمایا اس سے مقام عبودیت میں خضوع اور عاجزی کا اظہار کرنا مقصود ہے اور آپ نے اپنے اس عمل سے امت کو خدا کے نیک بندوں اور صالحین سے دعا کروانے کی ترغیب دلائی ہے اور اس بات پر تنبیہ فرمائی ہے کہ دعا کرنے والا صرف اپنے لیے دعانہ کرے بلکہ اپنی دعا میں اپنے اقرباء اور چاہنے والوں کو بھی شامل کرلے خاص طور پر ان دعاؤں میں کہ جو مقام قبولیت میں مانگی جائیں ، اور اس سے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شان و عظمت کا پتا چلتا ہے۔
*عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ قَالَ: " إِنَّ رَجُلًا يَأْتِيكُمْ مِنَ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهٗ: أُوَيْسٌ لَا يَدَعُ بِالْيَمَنِ غَيْرَ أُمٍّ لَهٗ قَدْ كَانَ بِهٖ بَيَاضٌ فَدَعَا اللّٰهَ فَأَذْهَبَهٗ إِلَّا مَوْضِعَ الدِّينَارِ أَوِ الدِّرْهَمِ فَمَنْ لَقِيَهٗ مِنْكُمْ فَلْيَسْتَغْفِرْ لَكُمْ * *وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ يَقُولُ: " إِنَّ خَيْرَ التَّابِعِينَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهٗ: أُوَيْسٌ، وَلَهٗ والدةٌ وَكَانَ بِهٖ بَيَاضٌ فَمُرُوهُ فَلْيَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ* ترجمہ : روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے پاس یمن سے ایک صاحب آئیں گے جنہیں اویس کہا جاتا ہے انہیں یمن میں صرف ان کی ماں ہی روکے ہوئے ہے ان کو برص کی سفیدی تھی تو انہوں نے اللہ سے دعا کی اللہ نے وہ دور کردی ایک دینا یا درہم کی مقدار برص کا نشان باقی ہے تو تم میں سے جو ان سے ملے تو وہ ان سے اپنے لئے مغفرت کی دعا کروائے اور ایک روایت میں ہے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ تابعین میں بہترین وہ صاحب ہیں جنہیں اویس کہا جاتا ہےان کی ایک ماں ہیں انہیں برص کی سفیدی تھی ان سے عرض کرنا کہ وہ تمہارے لیے دعاء مغفرت کریں۔ (مسلم) حضرت اویس قرنی حضرت عمر کے زمانہ ہی میں حج کو آنے والے تھے اس لیے اس علیم و خبیر ﷺ نے حضرت عمر ہی سے یہ فرمایا مگر فرمایا یہ کہ تم صحابہ میں سے جو بھی اویس کو پائے وہ اپنے لیے ان سے دعا کرائے۔اس سے معلوم ہوا کہ افضل بھی مفضول صالح سے دعا کرائے۔حضرات صحابہ جناب اویس سے کہیں افضل ہیں مگر ان حضرات کو جناب اویس سے دعا کرانے کا حکم دیا گیا۔ ان دونوں روایات سے پتا چلا کہ کسی اور سے اپنے لئے دعا کا کہنا یا کسی نیک و صالح سے اپنے لئے دعا کروانے کے لئے جانا یہ حدیث پر عمل کی ہی ایک صورت ہے ۔ اس سے بھی دعا کی اہمیت پتا چلتی ہے ۔ مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ نے لکھا ہے کہ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اپنے دور خلافت میں حاجیوں کے جو قافلے آتے ان سے اویس قرنی کے بارے میں پوچھتے ایک مرتبہ جب پتا چلا تو آپ اور حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ دونوں خود ان کی تلاش میں گئے اور نبی کریمﷺ کے حکم کے مطابق ان سے دعائے مغفرت بھی کروائی، یہ تھا صحابہ کرام کا اطاعت رسول کا انداز اور جذبہ ، خلیفہ وقت ہیں لیکن عاجزی کیسی ، حضرت علی داماد رسول ہیں ، شیرخدا ہیں لیکن یہ نہ خیال گزرا کہ ہم ان سے افضل ہیں ، زبان رسول سے جنت کی بشارت پانے والے ہیں ۔ بس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ، اس پر عمل کرنا ہے ۔ اللہ کریم ان کا صدقہ ہمیں بھی نصیب کرے ۔
ایک تحقیق کے مطابق نبی کریم ﷺ کی وہ دعائیں جن میں آپ ﷺ نے مختلف چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگی ان کی تعداد 34 اور ایک تحقیق کے مطابق 53ہے ، اور کچھ کی تحقیق اس سے مختلف ہے ۔ اس تعداد میں فرق کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ روای کے الفاظ مختلف ہیں۔ مثلاً : کسی روایت میں قھر رجال کے الفاظ ہیں اور کسی روایت میں غلبۃ رجال کےالفاظ ہیں ۔ دونوں کے معنی ایک ہیں ، بعض نے اسے ایک ہی شمار کیا اور بعض نے الگ الگ شمار کیا ۔ اسی طرح ایک روایت میں غلبۃ الدین کے الفاظ ہیں اور کسی روایت میں مغرم کے الفاظ ہیں ، دونوں کا معنی قرض ہیں ، یہاں ہم ان چیزوں کا ذکر کرتے ہیں اور ان سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کہ اللہ پاک ان ساری چیزوں سے ہمیں اپنی پناہ عطا فرمائے۔ ( پناہ کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان چیزوں سے بچنا چاہتے ہیں اور اللہ پاک سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ پاک ہماری ان سے حفاظت فرمائے )۔
*العَجْزِ (کمزوری سے) والكَسَلِ (کاہلی سے) والجُبْنِ (بزدلی سے) والهَرَمِ (بڑھاپے سے) والقَسْوَةِ (سخت دلی سے) والغَفْلَةِ (غفلت سے) والعَيْلَةِ (تنگدستی سے) والذِّلَّةِ (ذلت سے) والمَسْكَنَةِ (محتاجی سے) والفقر (فقر سے) والكُفْرِ (کفر سے) والفُسُوق (گناہوں سے) والشِّقاقِ (اختلاف سے) والنِّفاقِ (نفاق سے) والسُّمْعَة (شہرت کے لیے عمل کرنے سے) والرِّياءِ (ریاکاری سے) الصمم (بہرے پن سے) والبُكَم (گونگے پن سے) والجُنُون (دیوانگی سے) والجُذامِ (جذام/کوڑھ سے) والبَرَص (برص/سفید داغ سے) وَسَيِّىءِ الأَسْقام (ہر قسم کی بری بیماریوں سے) وَالْحُزْنِ (غم سے) والبُخْلِ (بخل سے) غلبة الدَين (قرض کے بوجھ سے) غلبة الرجال (لوگوں کے دباؤ سے) وَالمَأْثَمِ (گناہ سے) وَالمَغْرَمِ (قرض سے) وَمِنْ فِتْنَةِ القَبْر (قبر کی آزمائش سے) وَعَذَابِ القَبْرِ (قبر کے عذاب سے) وَمِنْ فِتْنَةِ النَّارِ (آگ کی آزمائش سے) وَعَذَابِ النَّارِ (آگ کے عذاب سے) فِتْنَةِ الغِنَى (مالداری کی آزمائش سے) فِتْنَةِ المَسِيحِ الدَّجَّالِ (مسیح دجال کے فتنے سے) الهَمِّ (غم سے) مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ (نفع نہ دینے والے علم سے) وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ (بے خوف دل سے) وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ (سیر نہ ہونے والے نفس سے) وَمِنْ دَعْوَةٍ لَا يُسْتَجَابُ لَهَا (قبول نہ ہونے والی دعا سے) مِنْ فِتْنَةِ المَحْيَا وَالمَمَاتِ (زندگی اور موت کی آزمائش سے) زوال نعمتك (تیری نعمت کے ختم ہونے سے) وتحول عافيتك (تیری عطا کردہ عافیت کے زائل ہونے سے) وفجاءة نقمتك (اچانک تیرے غضب سے) وجميع سخطك (تیرے ہر قسم کے غضب سے) مُنْكَرَاتِ الأَخْلَاقِ (برے اخلاق سے) مُنْكَرَاتِ الأَعْمَالِ (برے اعمال سے) مُنْكَرَاتِ الأَهْوَاءِ (بری خواہشات سے) جهد البلاء (سخت آزمائشوں سے) ودرك الشقاء (بدبختی کے پہنچنے سے) وسوء القضاء (برے فیصلے سے) وشماتة الأعداء (دشمنوں کے طعنے دینے سے) شَرِّ سَمْعِي (سماعت کے شر سے) شَرِّ بَصَرِي (بصارت کے شر سے) شَرِّ لِسَانِي (زبان کے شر سے) شَرِّ قَلْبِي (دل کے شر سے) شَرِّ مَنِيِّي (منی کے شر سے) الْهَدْمِ (اونچی جگہ سے گرنے سے) مِنَ التَّرَدِّي (ملبے تلے آنے سے) مِنَ الْغَرَقِ (ڈوبنے سے) وَالْحَرِيقِ (جلنے سے) أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ (موت کے وقت شیطان کے بدحواس کرنے سے) اَنْ أَمُوتَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا (تیری راہ میں پیٹھ پھیرنے سے) أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا (موذی جانور کے ڈسنے والی موت سے) وَغَلَبَةِ الْعَدُوِّ (دشمن کے غالب آنے سے)*
*عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ وَالْهَرَمِ، وَالْقَسْوَةِ وَالْغَفْلَةِ، وَالْعَيْلَةِ وَالذِّلَّةِ وَالْمَسْكَنَةِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ، وَالْكُفْرِ، وَالْفُسُوقِ، وَالشِّقَاقِ، وَالنِّفَاقِ، وَالسُّمْعَةِ، وَالرِّيَاءِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الصَّمَمِ، وَالْبَكَمِ، وَالْجُنُونِ، وَالْجُذَامِ، وَالْبَرَصِ، وَسَيِّئِ الْأَسْقَامِ* ترجمہ :حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی دعا میں فرمایا کرتے تھےاے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں کمزوری اور سستی سے، بزدلی اور بڑھاپے سے، سخت دلی اور غفلت سے، محتاجی، ذلت اور مسکینی سے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں غربت، کفر، نافرمانی، اختلاف، نفاق، دکھاوے اور ریاکاری سے۔ اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں بہرا پن، گونگا پن، دیوانگی، جذام، برص اور تمام بری بیماریوں سے۔" (بیہقی ، الدعوات الکبیر ، حدیث نمبر 348)
*حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو , أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لِأَبِي طَلْحَةَ:" الْتَمِسْ لِي غُلَامًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدُمُنِي"، فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ يَرْدُفُنِي وَرَاءَهُ , فَكُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا نَزَلَ فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَرَمِ وَالْحُزْنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ*. ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: "مجھے تمہارے بچوں میں سے کوئی لڑکا تلاش کر کے دو جو میری خدمت کرے۔"چنانچہ ابو طلحہ رضی اللہ تعالٰی عنہ مجھے اپنے ساتھ لے گئے اور اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیا۔ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت کرتا جب بھی آپ کہیں قیام فرماتے۔ میں آپ ﷺ کو یہ دعا بکثرت کرتے ہوئے سنتا:اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بڑھاپے سے، غم سے، کمزوری اور سستی سے، بخل اور بزدلی سے، قرض کے بوجھ سے، اور لوگوں کے غلبے سے۔"
*عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الكَسَلِ وَالهَرَمِ، وَالمَأْثَمِ وَالمَغْرَمِ، وَمِنْ فِتْنَةِ القَبْرِ، وَعَذَابِ القَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ النَّارِ وَعَذَابِ النَّارِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الغِنَى، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الفَقْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ المَسِيحِ الدَّجَّالِ* ترجمہ :حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے:اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سستی اور بڑھاپے سے، گناہ اور قرض سے، قبر کے فتنہ اور قبر کے عذاب سے، آگ کے فتنہ اور آگ کے عذاب سے، اور مالداری کے شر کے فتنہ سے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں فقیری کے فتنہ سے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کے فتنہ سے۔"
* حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: سَمِعَنِي أَبِي، وَأَنَا أَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الهَمِّ وَالكَسَلِ وَعَذَابِ القَبْرِ» . قَالَ: يَا بُنَيَّ مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا؟ قُلْتُ: سَمِعْتُكَ تَقُولُهُنَّ، قَالَ: الزَمْهُنَّ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُهُنَّ.* ترجمہ : حضرت مسلم بن ابی بکرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے یہ کہتے ہوئے سنا:اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم، سستی اور قبر کے عذاب سے۔"میرے والد نے کہا: "بیٹے! تم نے یہ کس سے سنا؟"میں نے کہا: "میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے۔"انہوں نے فرمایا: "ان کو لازم پکڑ لو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کلمات کہتے ہوئے سنا ہے۔"
*عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: لَا أَقُولُ لَكُمْ إِلَّا كَمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يَقُولُ: كَانَ يَقُولُ: «اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ، وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ، وَالْبُخْلِ، وَالْهَرَمِ، وَعَذَابِ، الْقَبْرِ اللهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا، وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا، أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا، اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ دَعْوَةٍ لَا يُسْتَجَابُ لَهَا* ترجمہ : حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: "میں تم سے وہی کہوں گا جو رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے۔" آپ ﷺ یہ دعا کرتے تھے:اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں کمزوری، سستی، بزدلی، بخل، بڑھاپے اور قبر کے عذاب سے۔ اے اللہ! میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور اسے پاکیزہ بنا، تو ہی اسے بہتر طریقے سے پاک کرنے والا ہے، تو ہی اس کا ولی اور مولا ہے۔ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسے علم سے جو نفع نہ دے، ایسے دل سے جو خشوع نہ کرے، ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو، اور ایسی دعا سے جو قبول نہ کی جائے۔"
*حَدَّثَنَا المُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ العَجْزِ وَالكَسَلِ، وَالجُبْنِ وَالبُخْلِ وَالهَرَمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ المَحْيَا وَالمَمَاتِ* ترجمہ : حضرت معتمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا، اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے: اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں کمزوری اور سستی سے، بزدلی اور بخل سے، اور بڑھاپے سے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے، اور زندگی اور موت کے فتنے سے۔"
*عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ مِنْ دُعَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ، وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ، وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ، وَجَمِيعِ سَخَطِكَ* ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعاوں میں سے یہ دعا تھی: اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں تیری نعمت کے زوال سے، تیری عطا کردہ عافیت کے بدل جانے سے، اچانک تیرے غضب کے آجانے سے، اور تیری ہر قسم کی ناراضگی سے۔"
*عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ جَهْدِ البَلاَءِ، وَدَرَكِ الشَّقَاءِ، وَسُوءِ القَضَاءِ، وَشَمَاتَةِ الأَعْدَاءِ* ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ سے پناہ مانگو سخت آزمائش، بدبختی کے پہنچنے، برے فیصلے، اور دشمنوں کی خوشی سے۔"
*عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ، عَنْ أَبِيهِ - فِي حَدِيثِ أَبِي أَحْمَدَ شَكَلِ بْنِ حُمَيْدٍ -، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ، عَلِّمْنِي دُعَاءً، قَالَ: " قُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي، وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي، وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي، وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي* ترجمہ : شتیر بن شکل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں (ابو احمد شکل بن حُمید کی حدیث میں) کہ انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! مجھے کوئی دعا سکھائیے۔"آپ ﷺ نے فرمایا: یہ کہو: اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنی سماعت کے شر سے، اپنی بصارت کے شر سے، اپنی زبان کے شر سے، اپنے دل کے شر سے، اور اپنی خواہشات کے شر سے۔
*عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ السُّلَمِيِّ، هَكَذَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَدْمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ التَّرَدِّي، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْغَرَقِ، وَالْحَرِيقِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا* ترجمہ :حضرت ابو الاسود سلمی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے:اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں تباہی سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں پھسلنے سے، اور غرق ہونے سے، اور آگ میں جلنے سے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں کہ شیطان میری حالت کو بگاڑ نہ دے جب موت آئے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تیرے راستے میں پیٹھ پھیر کر نہ مر جاؤں، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں سانپ کے کاٹنے سے نہ مر جاؤں۔"
*عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الْعَدُوِّ، وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ* ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے:"اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں قرض کے بوجھ سے، دشمن کے غلبے سے، اور دشمنوں کی خوشی سے۔"نسائی 5475
اللہ پاک نے نبی کریم ﷺ کو نرم دل بنایا ، ایمان والوں کی بھلائی چاہنے والا بنایا بلکہ حضور ﷺ کو سارے جہاں والوں کے لئے شفیق و مہربان بنایا ۔ نبی پاک ﷺ کی نرم دلی کا ذکر کرتے ہوئے اللہ پاک فرماتا ہے : *فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْۚ-وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ۪- فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ* ترجمہ: تو اے حبیب! اللہ کی کتنی بڑی مہربانی ہے کہ آپ ان کے لئے نرم دل ہیں اور اگر آپ تُرش مزاج ، سخت دل ہوتے تو یہ لوگ ضرورآپ کے پاس سے بھاگ جاتے توآپ ان کو معاف فرماتے رہو اوران کی مغفرت کی دعا کرتے رہو۔(پارہ04، سورۃ آل عمران ، آیت 159) اس آیت کا ترجمہ دوبارہ پڑھیں اللہ پاک نے حضور ﷺ کو نرم دل بھی بنا یا اور ساتھ ہی معاف کرتے رہنے اور دعا کرتے رہنے کا حکم بھی دیا ۔ایک مقام پر حضور ﷺ کو امت کے لئے دعا کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ محبوب آپ کی دعا ان کے دلوں کو سکون دیتی ہے۔ جس کا ذکر ہم نے اسی کورس کے گزشتہ مرحلے میں سنا۔ اسی طرح قرآن کریم میں اللہ پاک نے حضور ﷺکا یہ وصف بھی بیان کیا کہ آپ ایمان والوں کی بھلائی کو چاہنے والے ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس وصف کا ذکر کرتے ہوئے اللہ پاک فرماتا ہے : *حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ* ترجمہ : وہ تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے۔ (پارہ 11، سورۃ التوبۃ ، آیت نمبر 128) حضور نبی کریم ﷺ کے قلب اطہر میں پیدا کردہ اسی شفقت و رحمت کا اثر تھا کہ صرف نیک اور پرہیزگار لوگ ہی آپ کے پیش نظر نہ تھے، بلکہ گناہ گاروں پر بھی نظر کرم تھی تاکہ وہ رحمت و مغفرت سے محروم نہ رہیں اور فرمانبرداروں کے ساتھ وہ بھی رحمت میں سے حصہ حاصل کر لیں۔ چنانچہ ایک دفعہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:ترجمہ:"مجھے شفاعت اور نصف امت جنت میں داخل کرنے کے درمیان اختیار دیا گیا، (کہ چاہے تو آدھی امت بخشوا لیں، چاہے شفاعت کا اختیار لے لیں) میں نے شفاعت کو اختیار کرلیا ہے۔ (اے میرے غلامو!) کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ صرف متقی لوگوں کے لئے ہے؟ نہیں، یہ گناہوں اور خطاؤں کی گندگی میں لتھڑے ہوئے لوگوں کے لئے ہے"۔(ابن ماجہ) حضورنبی اکرم ﷺ کو ساری امت پیاری ہے، خواہ وہ گناہ گار ہی ہو، اسی لئے شفاعت کو اختیار فرمایا تاکہ انہیں بھی بخشوایا جا سکے۔ اگر آدھی امت کو بخشوا لیتے تو باقی آدھی امت کدھر جاتی، اس لئے آپ ﷺ نے اسے بے یار و مددگار چھوڑنا پسند نہیں فرمایا۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ترجمہ:"میری اور میری امت کی مثال ایسی ہے، جیسے کسی شخص نے آگ جلائی، تو پروانے اور پتنگے آ کر اس میں گرنے لگے۔ میں تمہیں کمر سے پکڑ پکڑ کر کھینچتا ہوں اور تم اس میں چھوٹ چھوٹ کر گرتے ہو"۔(مسلم شریف) آپ ﷺ اپنی امت سے اتنی محبت فرماتے کہ روایات کے مطابق جب آپ ﷺ کی ولادت ہوئی تب ہی آپ ﷺ نے سجدہ کیا اور اس سجدے میں امت کے لئے دعائیں کی ۔ اپنی مبارک زندگی میں غاروں میں عبادت کرتے ،اس وقت بھی اللہ پاک کی بارگاہ میں امت کے لئے دعائیں کرتے ، جب پیارے آقا ﷺکا وصال ظاہری ہوا تو کسی صحابی نے دیکھا آپ کے لب مبارک حرکت کررہے ہیں ، سنا گیا تو اس وقت بھی امت کے لئے لبوں پر دعائیں تھیں ۔ یہاں ابھی دعاوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا میدان محشر سجے گا ، ہر ایک کو اپنی ذات کی فکر ہوگی ، نفسا نفسی کا عالم ہوگا ، اس وقت بھی ہمارے پیارے نبی ﷺ اللہ کی بارگاہ میں امت کے لئے دعائیں کررہے ہونگے ۔ ہم یہاں چند روایات کی روشنی میں حضورﷺ کی امت کے لئے کی جانے والی دعاوں کو ذکر کررہے ہیں تاکہ ہمیں اندازہ ہو کہ ہمارے پیارے نبی ﷺ ہم (یعنی امت ) سے کس قدر محبت فرماتے تھے تاکہ ہم بھی حضور ﷺ سے سچی محبت کرتے ہوئے حضور ﷺ کی سنتوں پر عمل کرنے والے بن جائیں ، حضور ﷺ کے اطاعت گزار بن جائیں ۔ اللہ ہمیں ایسی اطاعت و اتباع سنت نصیب کرے۔ (آمین)
جب وہ جان رحمت وکان رأفت پیداہوا بارگاہ الٰہی میں سجدہ کیا اور رب ھب لی امتی ۔(یا الله !میری امت کو بخش دے) (فتاوی رضویہ جلد 30)
صحیح مسلم میں ہی حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا’’اللہ تعالیٰ نے مجھے تین سوال عطا فرمائے، میں نے دو بار ( تو دنیامیں ) عرض کرلی *اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِاُمَّتِیْ اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِاُمَّتِیْ* اے اللہ !میری اُمت کی مغفرت فرما، اے اللہ ! میری اُمت کی مغفرت فرما۔ *وَاَخَّرْتُ الثَّالِثَۃَ لِیَوْمٍ یَرْغَبُ اِلَیَّ الْخَلْقُ کُلُّہُمْ حَتّٰی اِبْرَاہِیمُ* اور تیسری عرض اس دن کے لیے اٹھا رکھی جس میں مخلوقِ الہٰی میری طرف نیاز مند ہوگی یہاں تک کہ (اللہ تعالیٰ کے خلیل) حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی میرے نیاز مند ہوں گے۔ (مسلم،حدیث 273) اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ’’اے گنہگار انِ امت! کیا تم نے اپنے مالک و مولیٰ ﷺ کی یہ کمال رأفت و رحمت اپنے حال پر نہ دیکھی کہ بارگاہِ الہٰی عزجلالہ سے تین سوال حضور ﷺ کو ملے کہ جو چاہو مانگ لو عطا ہوگا۔ حضور ﷺ نے ان میں کوئی سوال اپنی ذات پاک کے لیے نہ رکھا، سب تمہارے ہی کام میں صَرف فرما دیئے ،دو سوال دنیا میں کیے وہ بھی تمہارے ہی واسطے، تیسرا آخرت کو اٹھا رکھا، وہ تمہاری اس عظیم حاجت کے واسطے جب اس مہربان مولیٰ رؤف و رحیم آقا ﷺ کے سوا کوئی کام آنے والا، بگڑی بنانے والا نہ ہوگا۔وَاﷲِ الْعَظِیمْ ! قسم اس کی جس نے انہیں آپ پر مہربان کیا !ہر گز ہر گز کوئی ماں اپنے عزیز پیارے اکلوتے بیٹے پر زنہار( یعنی کبھی بھی) اتنی مہربان نہیں جس قدر وہ اپنے ایک امتی پر مہربان ہیں۔ (فتاوی رضویہ،جلد 29)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ رسولِ کریم ﷺ نے قرآنِ پاک میں سے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے اس قول کی تلاوت فرمائی: *رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِۚ-فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۚ-وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ"(ابراہیم:۳۶)* ترجمہ: اے میرے رب! بیشک بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا تو جو میرے پیچھے چلے تو بیشک وہ مجھ سے (تعلق رکھنے والا) ہے اور جو میری نافرمانی کرے تو بیشک تو بخشنے والا مہربان ہے، اور وہ آیت تلاوت فرمائی جس میں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ قول ہے *اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَۚ-وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ"(المائدہ:۱۱۸)* ترجمہ:اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بیشک تو ہی غلبے والا، حکمت والا ہے۔ تو حضور پُرنور ﷺ پر گریہ طاری ہو گیا اور اپنے دست ِاقدس اٹھا کر دعا کی ’’اے اللہ! ، میری امت ،میری امت۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے فرمایا ’’ اے جبریل ! علیہ السلام ، میرے حبیب ﷺ کی بارگاہ میں جاؤ اور ان سے پوچھو حالانکہ تمہارا رب خوب جانتا ہے مگر ان سے پوچھو کہ انہیں کیا چیز رُلا رہی ہے ۔ حضرت جبریل علیہ السلام حضورِ اکرم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور پوچھا تو انہیں رسولُ اللہ ﷺ نے اپنی عرض معروض کی خبر دی ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل سے فرمایا :تم میرے حبیب ﷺ کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ *اِنَّا سَنُرْضِیْکَ فِیْ اُمَّتِکَ وَلَا نَسُوْ ئُکَ* آپ کی امت کی بخشش کے معاملے میں ہم آپ کو راضی کر دیں گے اور آپ کو غمگین نہ کریں گے ۔ (مسلم، کتاب الایمان)
حضرت سیدنا قثم رضی اللہ تعالٰی عنہ ہ وہ شخص تھے جو پیار ےآقا ، مدینے والے مصطفی ﷺ کو قبرِانور میں اُتارنے کے بعد سب سے آخر میں قبرِ انور سے باہر آئے تھے ، ان کا بیان ہے کہ میں ہی آخری شخص ہوں جس نے دوجہاں کے سردار ﷺ کا رُوئے منور قبر اطہر میں دیکھا تھا۔ میں نے دیکھا سلطانِ مدینہ ﷺ کے مبارک ہونٹ قبر انور میں ہِل رہے تھے ، میں نے اپنے کانوں کو اللہ کے پیارے حبیب ﷺ کے منہ مبارک کے قریب کیا تومیں نے سُنا حضورﷺ فرما رہے؟تھے "رَبِّ اُمّتیْ رَبِّ اُمّتیْ " یا ربّ میری اُمّت ، میری اُمّت۔ (مدارج النبوۃ )
فرمانِ مصطفی ﷺ ہے : اللہ پاک کے آخری نبی ،ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب میری وفات ہوجائے گی تو میں اپنی قبر میں ہمیشہ پکارتا رہوں گا : *یَا رَبِّ اُمّتیْ اُمّتیْ* یعنی اے میرے ربّ میری اُمّت ، میری اُمّت۔ یہاں تک کہ دوسرا صُور پُھونکا جائے گا۔ (کنزالعمال )
*وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ -ﷺ- قَالَ: "يُحْبَسُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُهَمُّوا بِذَلِكَ فَيَقُولُونَ: لَوِ اسْتَشْفَعْنَا إِلَى رَبِّنَا فَيُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا، فَيَأْتُونَ آدَمَ، فَيَقُولُونَ: أَنْتَ آدَمُ أَبُو النَّاسِ، خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ، وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ، وَعَلَّمَكَ أَسْمَاءَ كُلِّ شَيْءٍ، اشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ،وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ؛ أَكْلَهُ مِنَ الشَّجَرَةِ وَقَدْ نُهِيَ عَنْهَا، وَلَكِنِ ائْتُوا نُوحًا أَوَّلَ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللَّهُ إِلَى أَهْلِ الأَرْضِ، فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ؛سُؤَالَهُ رَبَّهُ بِغَيْرِ عِلْمِ، وَلَكِنِ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ الرَّحْمَنِ". قَالَ: "فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ، وَيَذْكُرُ ثَلَاثَ كَذِبَاتٍ كَذَبَهُنَّ، وَلَكِنِ ائْتُوا مُوسَى عَبْدًا آتَاهُ اللَّهُ التَّوْرَاةَ وَكَلَّمَهُ وَقَرَّبَهُ نَجِيًّا". قَالَ: "فَيَأْتُونَ مُوسَى فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ، وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ؛ قَتْلَهُ النَّفْسَ، وَلَكِنِ ائْتُوا عِيسَى عَبْدَ اللَّهِ وَرَسُولَهُ وَرُوحَ اللَّهِ وَكَلِمَتَهُ"، قَالَ: "فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، وَلَكِنِ ائْتُوا مُحَمَّدًاعَبْدًا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ" قَالَ: "فَيَأْتُونِّي،فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فِي دَارِهِ، فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ، فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي فَيَقُولُ: ارْفَعْ مُحَمَّدُ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ". قَالَ: "فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأُثنِي عَلَى رَبِّي بِثَنَاءٍ وَتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ، ثُمَّ أَشْفَعُ، فَيَحُدُّ لِي حَدًّا،فَأَخْرُجُ فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ أَعُودُ الثَّانِيَةَ فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فِي دَارِهِ، فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ثُمَّ يَقُولُ: ارْفَعْ مُحَمَّدُ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ". قَالَ: "فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأُثْنِي عَلَى رَبِّي بِثَنَاءٍ وَتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ، ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَأَخْرُجُ فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ،ثُمَّ أَعُودُ الثَّالِثَةَ فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فِي دَارِهِ، فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ، فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ثُمَّ يَقُولُ: ارْفَعْ مُحَمَّدُ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ". قَالَ: "فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأُثْنِي عَلَى رَبِّي بِثَنَاءٍ وَتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ، ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَأَخْرُجُ فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، حَتَّى مَا يَبْقَى فِي النَّارِ إِلَّا مَنْ قَدْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ" أَيْ: وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ، ثُمَّ تَلَا هَذِه الآيَةَ: {عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا}قَالَ: "وَهَذَا الْمقَامُ الْمَحْمُودُ الَّذِي وَعَدَهَ نبَيَّكُمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ* ترجمہ: روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مؤمنین قیامت کے دن روکے جائیں گے حتی کہ اس کی وجہ سے سخت غمگین ہوں گے تو کہیں گے کہ ہم اپنے رب کی بارگاہ کو شفیع لاتے کہ وہ کہیں اس جگہ سے راحت دے چنانچہ وہ حضرت آدم کے پاس حاضر ہوجائیں گے عرض کریں گے آپ انسانوں کےباپ ہیں الله نے آپ کو اپنے دستِ قدرت سے بنایا آپ کو اپنی جنت میں رکھا آپ کو اپنے فرشتوں سے سجدہ کرایا آپ کو ہر چیز کے نام بتائے اپنے رب کے پاس ہماری شفاعت کریں کہ وہ ہم کو اس جگہ سے نجات دے،وہ فرمائیں گے کہ میں تمہارے اس مقام میں نہیں ہوںاور اپنی وہ خطا یاد کریں گے جوا نہوں نے کی تھی یعنی درخت سے کھانا حالانکہ اس سے منع کیا گیا تھا لیکن تم حضرت نوح کے پاس جاؤ کہ وہ پہلے نبی ہیں جنہیں الله نے زمین والے کفار کی طرف بھیجا تو وہ حضرت نوح کے پاس آئیں گے وہ فرمائیں گے کہ میں تمہارے اس مقام میں نہیں ہوں اور اپنی وہ خطا یادکریں گے جو کی تھی یعنی اپنے رب سے بغیر جانے سوال کرنالیکن تم الله کے خلیل حضرت ابراہیم کے پاس جاؤ فرمایا تو لوگ جناب ابراہیم کے پاس آئیں گے وہ کہیں گے کہ میں تمہارے اس مقام کا نہیں اور اپنی تین خلاف واقعہ باتیں یادکریں گے لیکن تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ بندے جنہیں الله نے توریت بخشی اور ان سے کلام کیا اور انہیں مشورہ کے لیے قرب بخشا فرمایا تو لوگ جناب موسیٰ کے پاس جائیں گے وہ فرمائیں گے میں تمہارے اس مقام کا نہیں اور اپنی وہ خطا یاد کریں گے جو انہوں نے کی یعنی ایک کاقتل لیکن تم حضرت عیسیٰ کے پاس جاؤ الله کے بندے اس کے رسول ہیں الله نے اپنی روح اور کلمہ فرمایا پھر لوگ جناب عیسیٰ کے پاس جائیں گے وہ فرمائیں گے میں تمہارے اس مقام کا نہیں۔ لیکن تم حضور محمد مصطفی ﷺ کے پاس جاؤ وہ بندے جن کی طفیل الله نے ان کے گنہگاروں کے سارے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے ۱۱؎ فرمایا تو سب میرے پاس آئیں گے تو میں اپنے رب کے پاس اس کے مقرر گھر میں حاضری کی اجازت مانگوں گا مجھے اجازت دی جاوے گی میں جب رب کو دیکھو ں گا تو سجدہ میں گرجاؤں گا پھر جتنا الله چاہے گا مجھے چھوڑے رکھے گاپھر فرمائے گا اے محمد ﷺ سر اٹھاؤ کہو تمہاری سنی جائے گی،شفاعت کرو قبول کی جاؤے گی،مانگو تم کو دیا جاوے گافرمایا تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا تو الله کی وہ حمدوثنا کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا پھر شفاعت کروں گا تومیرے لیے ایک حد مقرر کی جاوے گی میں وہاں سے چلوں گا انہیں آگ سے نکالوں گا اورجنت میں داخل کروں گا پھر دوسری بار لوٹوں گا اپنے رب سے اس کے گھر میں اجازت مانگوں گامجھے وہاں کی اجازت دی جاوے گی جب میں رب کو دیکھوں گا تو سجدہ میں گر جاؤں گا جتنا سجدے میں رہنا رب چاہے گا اتنا مجھے سجدے میں چھوڑے گا پھر فرمائے گا محمد سر اٹھاؤ اور کہو تمہاری سنی جائے گی شفاعت کرو قبول کی جاوے گی مانگو دیئے جاؤ گے فرمایا تب میں سر اٹھاؤں گا اپنے رب کی ایسی حمدوثنا کروں گا جو مجھے سکھائے گا پھر شفاعت کروں گا تو میرے لیے ایک حد مقرر کی جاوے گی میں روانہ ہوں گا انہیں آگ سے نکالوں گا اور جنت میں داخل کروں گا پھر میں تیسری بار لوٹوں گا اپنے رب سے اس کی جگہ میں اجازت مانگوں گا مجھے اس پر اجازت دی جاوے گی تو جب میں رب کو دیکھوں گا تو سجدہ میں گرجاؤں گا جب تک الله مجھے چھوڑے رکھنا چاہیے گا چھوڑے رکھے گا پھر فرمائے گا محمد سر اٹھاؤ کہو تمہاری سنی جاوے گی شفاعت کرو قبول کی جاوے گی مانگو تمہیں دیا جاوے گا فرمایا تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا تو اپنے رب کی وہ حمدوثنا کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا پھر شفاعت کروں گاتو میرے لیے ایک حد مقرر کی جاوے گی پھر میں وہاں سے روانہ ہوں گا انہیں آگ سے نکالوں گا اور جنت میں داخل کروں گا حتی کہ آگ میں صرف وہ ہی رہ جائیں گے جنہیں قرآن نے روکا یعنی جن پر ہمیشگی ضروری ہوگئی پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی قریب ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر اٹھائے فرمایا یہ مقام محمود وہ ہے جس کا تمہارے نبی سے وعدہ فرمایا ہے۔( مسلم،بخاری) پیارے آقا ﷺ امت سے اتنی محبت فرمائیں کے دنیا میں آنے سے ظاہری پردہ فرمانے تک امت کو یاد رکھا ، اور میدان محشر میں بھی امت کی فکر ، گنہگاروں کی شفاعت فرمانا ، پل صراط پار کروانا ، آب کوثر کے جام پلانا ، ہر وقت اس بات کی فکر ، ایک امتی یقینا اگر ساری زندگی حضور کو یاد کرتا رہے ، یارسول اللہ کہتے رہا تو سرکار ﷺ کے ایک بار امتی کہنے کا بھی حق ادا نہیں ہوگا ۔ اللہ پاک ہمیں حضور ﷺ کی حقیقی محبت نصیب فرمائے ۔