
پیارے آقا ﷺ کی شان و عظمت کا ایک عنوان "معجزات مصطفی ﷺ" بھی ہے ۔ اور معجزات مصطفی ﷺ میں سب سے عظیم معجزہ " معراج مصطفی ﷺ" ہے ۔ کیونکہ شب معراج حضور علیہ الصلوۃ والسلام اس مقام پر پہنچے کہ جس مقام پر مخلوقات میں سے کوئی نہیں پہنچ سکا ۔ اللہ پاک نے اس رات اپنے محبوب ﷺ کو قرب خاص میں بلا کر انوار و تجلیات اور معرفت کے خزانے بھی عطا فرمائے اور اپنے دیدار کی نعمت سے بھی مشرف فرمایا ۔
692
انرولمنٹس
68
مکمل
4.8
ریٹنگ
اللہ پاک نے انسانوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے انبیاء و رسولوں کو اس دنیا میں بھیجا ۔ ان انبیائے کرام علیہم السلام کو اللہ پاک نے معجزات عطا فرمائے تاکہ اللہ پاک کی قدرت ، اس کی وحدانیت کو تسلیم کرنا عام لوگوں کے لئے آسان ہو اور وہ انبیائے کرام علیہم السلام کی تکذیب و توہین سے باز رہیں اور ان کے پیغام حق کو دل و جان سے قبول کریں۔ اللہ پاک نے جس نبی علیہ السلام کو جو فضیلت عطا فرمائی وہ تمام فضیلتیں اللہ پاک نے محمد عربی ﷺ کی ذات میں جمع فرمادی ۔ اسی لئے فرمایا : *تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍۘ-مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍؕ* ترجمہ : یہ رسول ہیں ہم نے ان میں ایک کو دوسرے پرفضیلت عطا فرمائی ،ان میں کسی سے اللہ نے کلام فرمایا اور کوئی وہ ہے جسے سب پر درجوں بلند ی عطا فرمائی۔ (پارہ 03، سورۃ البقرۃ ، آیت 253) تفسیر صراط الجنان میں اس آیت کی تفسیر کے تحت لکھا ہے : تیسری وہ ہستی ہے جن کے بارے میں فرمایا کہ کسی کو ہم نے درجوں بلندی عطا فرمائی اور وہ ہمارے آقا و مولا، ملجاء و ماوٰی، حضور پر نور، سیدُ الانبیاء ،محمد مصطفٰی ﷺ ہیں کہ آپ کو کثیر درجات کے ساتھ تمام انبیاء کرام علیہم السلام پر فضیلت عطا فرمائی،اس عقیدے پر تمام امت کا اجماع ہے اور یہ عقیدہ بکثرت احادیث سے ثابت ہے۔ اس آیت میں حضورِ اقدس ﷺ کی اِس رفعت ِمرتبہ کا بیان فرمایا گیا اور نامِ مبارک کی تصریح نہ کی گئی اس سے بھی حضورِ اقدس ﷺ کی بلندیِ شان کا اظہار مقصود ہے کہ ذاتِ والا کی یہ شان ہے کہ جب تمام انبیاء کرام علیہم السلام پر فضیلت کا بیان کیا جائے تو سوائے ذاتِ اقدس کے یہ وصف کسی پر صادق ہی نہ آئے اور کسی اور طرف گمان ہی نہ جائے، حضور پُرنور ﷺ کے وہ خصائص وکمالات جن میں آپ تمام انبیاء کرام علیہم السلام پر فائق و افضل ہیں اور ان میں آپ کا کوئی شریک نہیں ، بے شمار ہیں کیونکہ قرآنِ کریم میں یہ ارشاد ہوا ہے کہ درجوں بلند کیا اور ان درجوں کا کوئی شمار قرآنِ کریم میں ذکر نہیں فرمایا گیا تو اب ان درجوں کی کون حد لگاسکتا ہے ؟ان بے شمار خصائص میں سے بعض کا اجمالی اور مختصر بیان یہ ہے کہ آپ کی رسالت عامہ ہے یعنی تمام کائنات آپ کی امت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :’ *وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا* ‘‘ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور اے محبوب! ہم نے آپ کو تمام لوگوں کیلئے خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے۔(پارہ 22، سورہ سبا ، آیت 28) اللہ پاک نے اس آیت میں نبی پاک ﷺ کی رسالت عامہ کا ذکر فرمایا ہے ، جب حضور ﷺ تمام ہی مخلوق کے رسول ہیں تو یہ ضروری ہوا کہ آپ کو اپنی مملکت کی سیر کروائی جائے ، اس کے لئے اللہ پاک نے نبی پاک ﷺ کو سفر معراج کا معجزہ عطا فرمایا۔
یہ ایک ایسا سفر ہے جو بیداری کی حالت میں جسم و روح دونوں کے ساتھ ہوا۔ یہ ایک ایسا سفر ہے جس میں رسولِ اکرم ﷺ کو آسمانوں کی سیر کرائی گئی۔ یہ ایک ایسا سفر ہے جس میں انبیائے کرام علیہم السلام سے ملاقات ہوئی۔ یہ ایک ایسا سفر ہے جس میں نماز جیسی عظیم عبادت فرض ہوئی۔ یہ ایک ایسا سفر ہے جس میں جنت و جہنم کے مناظر دکھائے گئے۔ یہ ایک ایسا سفر ہے جو کسی نبی کو حضور ﷺ سے پہلے عطا نہیں ہوا۔ یہ ایک ایسا سفر ہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کا روشن ثبوت ہے۔ یہ ایک ایسا سفر ہے جس میں قربِ الٰہی کی وہ منزل ملی جو کسی اور کو نصیب نہ ہوئی۔ یہ ایک ایسا سفر ہے جو حضور ﷺ کی شانِ رفعت اور محبوبیتِ الٰہی کو ظاہر کرتا ہے۔ آئیں اس سفر کو سمجھنے کے لئے سب سے پہلے ہم قرآن کریم کی آیات بینات سے اس کی وضاحت کرتے ہیں ۔۔ اللہ پاک نے سفر معراج کے ابتدائی حصے کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے : *سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَاؕ-اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ* ترجمہ : پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے خاص بندے کو رات کے کچھ حصے میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی جس کے اردگرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں، بیشک وہی سننے والا، دیکھنے والاہے۔ (پارہ 15، سورہ بنی اسرائیل ، آیت 01) حضور جان عالم ﷺ کے سفر معراج کے ایک حصے کا اس آیت مبارکہ میں اللہ پاک نے ذکر فرمایا ہے۔ اور وہ مسجد الحرام سے مسجد اقصی تک کا سفر ہے۔ ( اس سفر میں کیا ہوا تھا ، اس کا ذکر کورس کے دوسرے مرحلے میں تفصیلا بیان کی گیا ہے، یہاں فقط اس آیت کے کچھ نکات بتائے جارہے ہیں۔
اللہ پاک نے لفظ "سبحن " سے سفر معراج کو بیان فرمایا اس کی وجہ اور حکمت علمائے کرام نے یہ بیان فرمائی کہ سبحن کا مطلب ہے جو ہر عیب سے ، ہر نقص سے پاک ہو۔ اللہ پاک کہ ذات ہرعیب و نقص سے پاک و منزہ ہے۔ آیت کے اگلے حصے میں جو بات بیان کی جارہی ہے وہ بات ہی ایسی ہے کہ عام عقل اس کو تسلیم نہیں کرتی کیونکہ رات کے مختصر سے وقت میں ایک شخص کا مسجد الحرام سے مسجد اقصی تک جانا اور واپس آجانا یہ بظاہر ممکن نہیں لگتا۔ لیکن جب سفر کروانے والی ذات ہی وہ ہے جو خالق حقیقی ہے ، کن فیکون کا مالک ہے ، فعال لما یرید ہے۔ تو پھر اس کے لیے کوئی کام ناممکن نہیں رہتا، عقلِ انسانی وہاں آ کر خاموش ہو جاتی ہے اور ایمان سرِ تسلیم خم کر دیتا ہے کہ جس رب نے زمان و مکان کو پیدا کیا، اس کے لیے ایک رات میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے جانا اور پھر واپسی کروا دینا بالکل آسان ہے، بلکہ یہ اس کی قدرتِ کاملہ اور شانِ ربوبیت کا واضح اظہار ہے۔
اللہ پاک نے لفظ "اسری" فرمایا جس کا معنی ہے لے گیا۔ اور لغت عرب میں یہ لفظ "رات کے وقت جاگنے کی حالت میں لے جانا" کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ گویا کہ اللہ پاک نے لفظ اسری کا ذکر فرما کر اس بات کا بھی رد فرمادیا کہ محبوب کا یہ سفر خواب کا سفر نہیں تھا بلکہ محبوب کا یہ سفر بیداری کی حالت میں جاگتے ہوئے تھا۔ علامہ قرطبی رحمة اللہ علیہ اپنی تفسیر قرطبی میں فرماتے ہیں : *وَذَهَبَ مُعْظَمُ السَّلَفِ وَالْمُسْلِمِينَ إِلَى أَنَّهُ كَانَ إِسْرَاءً بِالْجَسَدِ وَفِي الْيَقَظَةِ، وَأَنَّهُ رَكِبَ الْبُرَاقَ بِمَكَّةَ، وَوَصَلَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَصَلَّى فِيهِ ثُمَّ أُسْرِيَ بِجَسَدِهِ. وَعَلَى هَذَا تَدُلُّ الْأَخْبَارُ الَّتِي أَشَرْنَا إِلَيْهَا وَالْآيَةُ. وَلَيْسَ فِي الْإِسْرَاءِ بِجَسَدِهِ وَحَالِ يَقَظَتِهِ اسْتِحَالَةٌ، وَلَا يُعْدَلُ عَنِ الظَّاهِرِ وَالْحَقِيقَةِ إِلَى التَّأْوِيلِ إِلَّا عِنْدَ الِاسْتِحَالَةِ، وَلَوْ كَانَ مَنَامًا لَقَالَ بِرُوحِ عَبْدِهِ وَلَمْ يَقُلْ بِعَبْدِهِ* ترجمہ : اکثر سلفِ صالحین اور مسلمانوں کا یہ موقف ہے کہ سفر معراج جسم کے ساتھ اور بیداری کی حالت میں ہوا، اور یہ کہ نبی کریم ﷺ نے مکہ مکرمہ میں بُراق پر سواری فرمائی، پھر بیت المقدس تشریف لے گئے اور وہاں نماز ادا فرمائی، اس کے بعد آپ ﷺ کو جسم کے ساتھ ہی مزید سفر کرایا گیا۔جن احادیث کی ہم نے طرف اشارہ کیا ہے اور قرآنی آیت—یہ سب اسی بات پر دلالت کرتی ہیں۔اور جسم کے ساتھ اور حالتِ بیداری میں اسراء ہونا محال (ناممکن) نہیں۔ ظاہر اور حقیقت کو چھوڑ کر تاویل کی طرف صرف اسی وقت جایا جاتا ہے جب کوئی بات ناممکن ہو۔اور اگر یہ (اسراء) خواب میں ہوتا تو (قرآن میں) یوں کہا جاتا: “اپنے بندے کی روح کے ساتھ”، جبکہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا بلکہ “اپنے بندے کے ساتھ” فرمایا۔(تفسیر قرطبی ، تحت الآیت 01، سورہ بنی اسرائیل )
عبد کا ذکر کرکے یہ بھی بتادیا کہ حضور سید عالم ﷺ کا ہونے والا سفر معراج یہ روحانی نہیں تھا۔ بلکہ جسمانی تھا۔(علامہ قرطبی علیہ الرحمہ نے بھی اس کی وضاحت کردی ، جس کا ذکر پہلے کیا گیا ) *من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی* : آیت مبارکہ کا یہ جزء سفر معراج کا ایک حصہ ہے۔ اور واضح بھی ہے۔ لیکن دلچسپی کےلئے مسجد حرام سے مسجد اقصی تک کی مسافت و فاصلے کا آج کے جدید اور ٹیکنالوجی والے دور کے حساب سے کچھ جائزہ لیتے ہیں ۔ تقریبا 910 miles بنتا ہے۔ یعنی 1465 کلو میٹر کا فاصلہ ہوا۔ اگر مکہ سے مسجد اقصی کا سفر بذریعہ اونٹ کے کیا جائے تو کم از کم 42 دن کا یہ سفر ہوگا اور پیدل جائیں تو 58 دن لگتے ہیں۔ بس میں جائیں تو کم از کم 16 گھنٹے بنتے ہیں اور جہاز میں جائیں تو تقریبا 02 گھنٹے لگتے ہیں۔ اور جان عالم ﷺ کو یہ سفر؛ رات کے انتہائی مختصر حصے میں کروایا گیا ۔ ( یقینا میرا رب ہر چاہے پر قادر ہے)
مسجد اقصی کے اردگرد اللہ پاک نے برکت رکھی ہے ۔ یہاں برکت سے کیا مراد ہے ؟ مفسرین لکھتے ہیں : برکت سے مراد پھل ہیں، نہریں ہیں ، باغات ہیں۔ اسی طرح یہ وہ سرزمین ہے جہاں انبیائے کرام علیہم السلام کی آمد کا سلسلہ رہا ، یہ سرزمین ان کی قیام گاہ بنی ، عبادت کی جگہ بیت المقدس سابقہ امتوں کا قبلہ بنا، اس لئے یہ سرزمین برکت والی ہے ۔ ابو محمد حسین بن محمد بغوی المعروف امام بغوی علیہ الرحمہ نے اپنی تفسیر مسجد اقصی کے ارد گرد کی برکتوں سے متعلق فرمایا : *بِالْأَنْهَارِ وَالْأَشْجَارِ وَالثِّمَارِ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ: سَمَّاهُ مُبَارَكًا لِأَنَّهُ مَقَرُّ الْأَنْبِيَاءِ وَمَهْبِطُ الْمَلَائِكَةِ وَالْوَحْيِ، وَمِنْهُ يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.* ترجمہ: (یعنی برکت) نہروں، درختوں اور پھلوں کی وجہ سے ہے۔اور مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اسے مبارک اس لیے کہا کہ وہ انبیائے کرام کا مرکز ہے، فرشتوں اور وحی کے نزول کی جگہ ہے، اور اسی سرزمین سے قیامت کے دن لوگوں کا حشر ہوگا۔ (تفسیر بغوی ، سورہ بنی اسرائیل ، تحت الآیت 01) ابوالحسن علی بن محمد بغدادی الماوردی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : *فِيهِ قَوْلانِ: أحَدُهُما: يَعْنِي بِالثِّمارِ ومَجارِي الأنْهارِ.الثّانِي: بِمَن جُعِلَ حَوْلَهُ مِنَ الأنْبِياءِ والصّالِحِينَ؛ ولِهَذا جَعَلَهُ مُقَدَّسًا*. ترجمہ : اس کے بارے میں دو قول ہیں:ایک یہ کہ اس سے مراد پھلوں کی کثرت اور نہروں کا جاری ہونا ہے۔دوسرا یہ کہ اس سے مراد وہ انبیائے کرام اور صالحین ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اس کے اطراف میں بسایا؛ اسی وجہ سے اسے مقدس قرار دیا گیا۔ (تفسیر الماوردی ، سورہ بنی اسرائیل ، تحت الآیت 01)
آیت کے اس حصے میں اللہ پاک نے سفر معراج کی حکمت و وجہ کو بیان کردیا کہ ہم نے اپنے محبوب کو مسجد حرام سے مسجد اقصی کی سیر اس لئےکروائی کہ ہم انہیں اپنی نشانیاں دکھائیں ۔ نشانیوں سے مراد سے کیا مراد ہے امام عبدالرحمن الثعالبی علیہ الحمہ فرماتے ہیں : *وقوله سبحانه: لِنُرِيَهُ يريد لنري محمَّداً بعينه آياتنا في السموات والملائكة والجَنَّةَ والسِّدْرةَ وغير ذلك من العجائبِ، مما رآه تلك الليلة*، یعنی ہم چاہتے ہیں کہ ہم اپنے محبوب ﷺ کو بذاتِ خود اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں، جیسے کہ آسمانوں، فرشتوں، جنت، درختِ سدرہ المنتھی اور دیگر عجائبات، جو آپ ﷺ نے اس رات دیکھے۔ (تفسیر ثعالبی ، سورہ بنی اسرائیل ، تحت لآیت 01) اس ایک آیت سے سفر معراج سے متعلقہ کئی سوالات حل ہوجاتے ہیں اور کئی وسوسوں کی کاٹ بھی ہوجاتی ہے جیسے : سفر معراج کس نے کروایا ؟ ذات باری تعالی نے ۔ سفر معراج کب ہوا ؟ رات کے وقت شروع ہوا ۔ سفر معراج کسے کروایا گیا ؟ حضور ﷺ کو معراج کا دولہا بنایا گیا۔ کیوں کروایا گیا ؟ تاکہ حضور جان عالم ﷺ کو اللہ پاک اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائے۔ کیا یہ سفر خواب میں ہو ا؟ جہ نہیں یہ حالت بیداری میں ہوا ۔ کیا یہ سفر روحانی تھا ؟ جی نہیں جمہور کے نزدیک یہ سفر جسمانی تھا اور آیت کے ظاہر سے بھی یہی پتا چلتا ہے ۔
سفر معراج سے متعلق قرآن کریم میں ایک اور مقام پر اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے اور اسے ہم سفر معراج کا آخری حصہ بھی کہہ سکتے ہیں : *وَٱلنَّجۡمِ إِذَا هَوَىٰ ١ مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمۡ وَمَا غَوَىٰ ٢ وَمَا یَنطِقُ عَنِ ٱلۡهَوَىٰۤ ٣ إِنۡ هُوَ إِلَّا وَحۡیࣱ یُوحَىٰ ٤ عَلَّمَهُۥ شَدِیدُ ٱلۡقُوَىٰ ٥ ذُو مِرَّةࣲ فَٱسۡتَوَىٰ ٦ وَهُوَ بِٱلۡأُفُقِ ٱلۡأَعۡلَىٰ ٧ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ ٨ فَكَانَ قَابَ قَوۡسَیۡنِ أَوۡ أَدۡنَىٰ ٩ فَأَوۡحَىٰۤ إِلَىٰ عَبۡدِهِۦ مَاۤ أَوۡحَىٰ ١٠ مَا كَذَبَ ٱلۡفُؤَادُ مَا رَأَىٰۤ ١١ أَفَتُمَـٰرُونَهُۥ عَلَىٰ مَا یَرَىٰ ١٢﴾﴿وَلَقَدۡ رَءَاهُ نَزۡلَةً أُخۡرَىٰ ١٣ عِندَ سِدۡرَةِ ٱلۡمُنتَهَىٰ ١٤ عِندَهَا جَنَّةُ ٱلۡمَأۡوَىٰۤ ١٥ إِذۡ یَغۡشَى ٱلسِّدۡرَةَ مَا یَغۡشَىٰ ١٦ مَا زَاغَ ٱلۡبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ ١٧* ترجمہ کنزالایمان : اس پیارے چمکتے تارے محمد کی قسم جب یہ معراج سے اُترے۔تمہارے صاحب نہ بہکے نہ بے راہ چلے۔اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے۔وہ تو نہیں مگر وحی جو اُنھیں کی جاتی ہے۔انھیں سکھایا سخت قوتوں والے طاقتور نے پھر اس جلوہ نے قصد فرمایا۔اور وہ آسمانِ بریں کے سب سے بلند کنارہ پر تھا۔پھر وہ جلوہ نزدیک ہوا پھر خوب اتر آیا۔ تو اس جلوے اور اس محبوب میں دو ہاتھ کا فاصلہ رہا بلکہ اس سے بھی کم۔اب وحی فرمائی اپنے بندے کو جو وحی فرمائی۔دل نے جھوٹ نہ کہا جو دیکھا کیا تم ان سے ان کے دیکھے ہوئے پر جھگڑ تے ہو۔اور انہوں نے تو وہ جلوہ دوبار دیکھا۔سِدْرَۃُ الْمُنْتَہٰی کے پاس۔اس کے پاس جنت الماویٰ ہے۔ جب سدرہ پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا۔ آنکھ نہ کسی طرف پھری نہ حد سے بڑھی۔
والنجم : عربی گرامر میں قسم کےلئے مخصوص حروف کا استعمال ہوتا ہے۔ سورة النجم کا آغاز لفظ "واو" سے کیا ہے۔ یہ واو قسم کے معنی میں ہے۔ اور "النجم" عربی لغت میں ستارے کو کہتے ہیں۔ مختلف تفاسیر میں النجم سے مراد ستارہ بھی لیا گیا ہے۔ بعض نے النجم سے مراد قرآن پاک لیا ہے اور تفسیر روح البیان میں النجم سے مراد امام جعفر صادق رضی اللہ کے فرمان کے مطابق حضور جان عالم ﷺ کی ذات مبارکہ ہے اور " ھوی " کا مطلب ہے جب وہ واپس آئے ۔ الشیخ اسماعیل حقی بن مصطفی الحنفی علیہ فرماتے ہیں : *وقال الامام جعفر الصادق رضى الله عنه أراد بالنجم محمدا عليه السلام إذا نزل ليلة المعراج والهوى النزول* ترجمہ : اور امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نجم سے مراد محمد ﷺ ہیں، جب وہ شبِ معراج (سفر معراج ) کے لئے گئے ، اور الهوىسے مراد نزول ہے۔ یہ آیت اسی نزول کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ (تفسیر روح البیان ، سورۃ النجم ، تحت الآیت 01) ذرا غور کریں اعلی حضرت امام اہلسنت رحمة اللہ علیہ نے اس تفسیر کے مطابق کتنا خوبصورت ترجمہ کیا " اس پیارے چمکتے تارے محمد کی قسم جب یہ معراج سے اترے" ترجمہ پڑھتے ہی دل میں عشق رسول ﷺ کی ایسی خوشبو پھیلتی کہ سانسیں بھی معطر ہوجاتی ہیں۔
ثم دنا فتدلی سے قاب قوسین تک آیت کے اس حصے میں بتایا جارہا ہے کہ حضور جان عالم ﷺ نے شب معراج کس قدر اللہ رب العزت کے قرب کو پایا۔ کہ اس جلوے اور محبوب میں دو ہاتھ سے بھی کم کا فاصلہ رہ گیا۔ کیا شان ہے میرے پیارے آقا ﷺ کی۔ امام اہلسنت رحمة اللہ علیہ کا یہ ترجمہ صحیح بخاری کی حدیث کے عین مطابق ہے۔ ( اس حدیث کو معراج سے متعلق احادیث والے حصے میں ذکر کیا ہے) *مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى* : اس آیت میں فرمایا جارہا ہے کہ حضور سید عالم ﷺ نے اپنے رب کا جلوہ دیکھا اور ایسے دیکھا کہ نظریں اسی پر رہی کسی اور طرف توجہ اور التفات نہ فرمایا۔ تفسیر صراط الجنان میں ہے : سیّد المرسَلین ﷺ کی طاقت حضرت موسیٰ علیہ الصلوة والسلام کی طاقت سے زیادہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ الصلوة والسلام تجلّی دیکھ کر بے ہوش ہو گئے اور حضور پُر نور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی ذات کو دیکھا تو نہ آنکھ جھپکی ،نہ دل گھبرایا اور نہ ہی بے ہوش ہوئے۔
اعلیٰ حضرت رحمة اللہ علیہ اسی آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سیّد المرسَلین ﷺ کی نگاہ ِنبوت کا عالَم بیان فرماتے ہیں : شش جہت سمت مقابل شب و روز ایک ہی حال دھوم والنَّجم میں ہے آپ کی بینائی کی تشریح : یعنی یارسول اللہ ﷺ !دن ہویا رات آپ کے لئے دائیں ، بائیں ، آگے ، پیچھے ، اُوپر اور نیچےکی 6 جہتیں (Directions) دیکھنے کے معاملے میں ایسی ہیں جیسے سامنے کا حصہ۔ آپ کی مبارک آنکھوں کی یہ شان کیوں نہ ہو کہ سورۂ نَجْم میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا : *مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى* یعنی (اللہ کریم کے دیدار کے وقت) محبوبِ خدا ﷺ کی آنکھ نہ کسی طرف پھر ی اور نہ حد سے بڑھی۔ ( ماہنامہ فیضان مدینہ ، مئی 2020) سفر معراج سے متعلق قرآن کریم میں ایک اور مقام پر اللہ پاک نے ارشاد فرمایا : *وَمَا جَعَلۡنَا ٱلرُّءۡیَا ٱلَّتِیۤ أَرَیۡنَـٰكَ إِلَّا فِتۡنَةًّللنَّاسِ* ترجمہ کنزالعرفان : اور ہم نے آپ کو جو مشاہدہ کرایا اسے لوگوں کیلئے آزمائش بنادیا۔ (پارہ 15، سورہ بنی اسرائیل ، آیت 60) اس آیت مبارک میں جس مشاہدے کا ذکر ہے وہ شب معراج کا مشاہدہ ہے۔ ابو المظفر منصور بن محمد السمعانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : *الْأَكْثَرُونَ أَن هَذِه الرُّؤْيَا هِيَ لَيْلَة الْمِعْرَاج* ترجمہ : اکثر مفسرین کے نزدیک یہاں مشاہدے سے شب معراج میں نبی پاک ﷺ کو جو مشاہدے کروائےگئے وہ مراد ہیں۔ (تفسیر السمعانی ، سورہ بنی اسرائیل ، تحت الآیت 60)
شب معراج کے مشاہدات کو لوگوں کے لئے آزمائش اس لئے کہا گیا کیونکہ عالم بیداری میں یعنی جاگنے کی حالت میں سرکار ﷺ کو مختصر وقت میں جتنے مشاہدات کروائےگئے عام عقلیں اس کو تسلیم کرنے سے عاجز تھیں۔ اس کو وہی قبول کرسکتا تھا جسے اللہ پاک کی قدرت پر کامل یقین و اعتقاد ہو۔ اسی لئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اسے ماننے کی وجہ سے صدیق بن گئے اور کفار مکہ نے جب سنا تو ماننے سے انکار کیا اور زندیق بن گئے ۔ تفسیر ثعالبی میں ہے : *وقوله سبحانه: وَما جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْناكَ ... الآية: الجمهورُ أنَّ هذه الرؤيا رؤيا عين ويقظة، وذلك أنّ النبيّ ﷺ لما كان صَبِيحَةَ الإِسراء، وأخبر بما رأى في تلك الليلة من العجائب، قال الكفَّار: إِن هذا لعجب، واستبعدوا ذلك فافتتن بهذا قومٌ من ضَعَفَةِ المسلمين فارتدوا وشقَّ ذلك على النبيّ ﷺ فنزلت هذه الآية* ترجمہ : اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان *وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ* کے بارے میں جمہور (اکثر) علماء کا کہنا ہے کہ یہ رؤیا آنکھوں سے دیکھنا اور بیداری کی حالت میں تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب نبی کریم ﷺ اسراء کی رات کے بعد صبح کے وقت آئے اور آپ ﷺ نے اس رات دیکھی ہوئی اللہ پاک کی نشانیوں کا ذکر لوگوں سے کیا تو کفار نے کہا: “یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے”، اور انہوں نے اسے بعید از عقل سمجھا۔ چنانچہ اس وجہ سے کمزور ایمان والے بعض مسلمان فتنے میں پڑ گئے اور مرتد ہو گئے، اور یہ بات نبی کریم ﷺ پر بہت گراں گزری، تو اسی پر یہ آیت نازل ہوئی۔(تفسیر ثعالبی، سورہ بنی اسرائیل ، تحت الآیت 60) تفسیر سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ نبی پاک ﷺ کا سفر معراج روح و جسم کے ساتھ جاگنے کی حالت میں تھا۔ اسی لئے کفار نے اس کو ماننے سے انکار کیا۔ اگر یہ خواب کی معراج ہوتی تو نہ ہی کفار اس کا انکار کرتے اور نہ ہی لوگ آزمائش میں مبتلا ہوتے۔
سورہ بنی اسرائیل کی آیت سفر معراج کا ابتدائی حصہ بیان کرتی ہے اور اور سورۃ النجم کی آیت سفر معراج کے آخری حصے کو بیان کرتیں ہیں ۔ اور سورہ بنی اسرائیل کی آیت نے یہ بھی واضح کردیا کہ سفر معراج اللہ پاک کی قدر کاملہ اور محبوب ذیشان ﷺ کی عظمت ورفعت کو بیان کرتا ہے تو اسے وہی قبول کرے گا جس کا دل اللہ پاک کی قدرت پر کامل یقین رکھتا ہوگا اور جو اس کا انکار کرے ، اور یہ کہے گا کہ عقلاً ایسا ہو نہیں سکتا وہ دراصل اللہ کی قدرت کا انکار کررہا ہے۔ اس لئے فرمایا : *فِتۡنَةًّللنَّاسِ* یعنی یہ سفر لوگوں کے لئے قبول کرنا یا نہ کرنا ایک امتحان ہے۔
سفر معراج حدیث کی روشنی میں سفر معراج کے ایک حصہ جو کہ مسجد الحرام سے مسجد اقصی تک ہے اس کا بالکل واضح ذکر قرآن پاک میں آگیا۔ اور سفر کا آخری حصہ بھی سورۃ النجم میں بعض تفاسیر کے مطابق بیان کیا گیا ہے ۔ اس پورے سفر کے دوران میں نبی پاک ﷺ کن مقامات پر ٹھہرے ، وہاں کیا ہوا ، کن سے ملاقات ہوئی ، کیا مشاہدات کروائے گئے ؛ اس کی تفصیل احادیث میں موجود ہے۔ ان احادیث میں سے چند احادیث یہاں ذکر کی جارہی ہیں جو کورس کرنے والوں کے ایمان و ایقان کو مضبوط اور پختہ کرنے کے ساتھ ساتھ، عقیدۂ معراج پر ہر طرح کے شبہات کا ازالہ بھی کردیں گی۔ امام بخاری علیہ الرحمہ اور امام مسلم علیہ الرحمہ نے سفر معراج سے متعلق تفصیلی روایت کو ذکر فرمایا. یہاں دو حدیث پاک بیان کی جارہی ہیں ۔
*وَعَنْ ثَابِتٍ البُنانيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: « أُتِيتُ بِالبُرَاقِ وَهُوَ دَابَّةٌ أَبْيَضُ طَوِيلٌ فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ يَقَعُ حَافِرُهٗ عِنْدَ مُنْتَهٰى طَرْفِهٖ فَرَكِبْتُهٗ حَتّٰى أَتَيْتُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَرَبَطْتُّهٗ بِالْحَلْقَةِ الَّتِي تَرْبِطُ بِهَا الْأَنْبِيَاءُ».قَالَ:" ثُمَّ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَصَلَّيْتُ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجْتُ فَجَاءَنِي جِبْرِيلُ بِإِنَاءٍ مِنْ خَمْرٍ وَإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ فاختَرتُ اللَّبَنَ فَقَالَ جِبْرِيلُ: اخْتَرْتَ الْفِطْرَةَ ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ ". وَسَاقَ مِثْلَ مَعْنَاهُ قَالَ: «فَإِذَا أَنَا بِآدَمَ فرحَّبَ بِي وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ» . وَقَالَ فِي السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ: «فَإِذا أَنا بِيُوسُف إِذا هُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ فَرَحَّبَ بِي وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ» . وَلَمْ يَذْكُرْ بُكَاءَ مُوسٰى وَقَالَ فِي السَّمَاءِ السَّابِعَةِ: " فَإِذَا أَنَا بِإِبْرَاهِيمَ مُسْنِدًا ظَهْرَهٗ إِلَى الْبَيْتِ الْمَعْمُورِ وَإِذَا هُوَ يَدْخُلُهٗ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ لَا يَعُودُونَ إِلَيْهِ ثمَّ ذَهَبَ بِي إِلٰى السِّدْرَةِ الْمُنْتَهٰى فَإِذَا وَرَقُهَا كآذَانِ الْفِيَلَةِ، وإذَا ثَمَرُهَا كَالْقِلَالِ فَلَمَّا غَشِيَهَا مِنْ أَمْرِ اللّٰهِ مَا غَشّٰى تَغَيَّرَتْ فَمَا أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللّٰهِ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَنْعَتَهَا مِنْ حُسْنِهَا وَأَوْحٰى اليَّ مَا أَوْحٰى، فَفَرَضَ عَلَيَّ خَمْسِينَ صَلَاةً فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَنَزَلْتُ إِلٰى مُوسٰى فَقَالَ: مَا فَرَضَ رَبُّكَ عَلٰى أُمَّتِكَ؟ قُلْتُ: خَمْسِينَ صَلَاةً فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ. قَالَ: ارْجِعْ إِلٰى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذٰلِكَ فَإِنِّي بَلَوْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَخَبَّرْتُهُمْ. قَالَ: " فَرَجَعْتُ إِلٰى رَبِّي فَقُلْتُ: يَا رَبِّ خَفِّفْ عَلٰى أُمَّتِي فَحَطَّ عَنِّي خَمْسًا فَرَجَعْتُ إِلٰى مُوسٰى فَقُلْتُ: حَطَّ عَنِّي خَمْسًا. قَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذٰلِكَ فَارْجِعْ إِلٰى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ ". قَالَ: " فَلَمْ أَزَلْ أَرْجِعُ بَيْنَ رَبِّي وَبَيْنَ مُوسٰى حَتّٰى قَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّهُنَّ خَمْسُ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ لِكُلِّ صَلَاةٍ عَشْرٌ فَذٰلِكَ خَمْسُونَ صَلَاةً مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهٗ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهٗ عَشْرًا وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ لَهٗ شَيْئًا فَإِنَّ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهٗ سَيِّئَةً وَاحِدَةً ". قَالَ: " فَنَزَلْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلٰى مُوسٰى فَأَخْبَرتُهٗ فَقَالَ: ارجعْ إِلٰى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ " فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَقُلْتُ: قَدْ رَجَعْتُ إِلٰى رَبِّي حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ*
ترجمہ : روایت ہے حضرت ثابت بنانی سے وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے راوی کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ میرے پاس براق لایا گیا وہ سفید دراز جانور ہے گدھے سے اونچا خچر سے نیچا اپنی ٹاپ اپنی نگاہ کی حد پر رکھتا ہےمیں اس پر سوار ہوگیا حتی کہ میں بیت المقدس میں آیا تو میں نے اسے اس کڑے سے باندھا جس سے حضرات انبیاء باندھا کرتے تھے فرمایاپھر میں مسجد میں داخل ہو ا تو اس میں دو رکعتیں پڑھیں پھر میں نکلا تو میرے پاس جبریل علیہ السلام ایک برتن شراب کا اور ایک برتن دودھ کا لائے تو میں نے دودھ اختیار کیا تو جبرئیل علیہ السلام بولے کہ آپ نے فطرت کو اختیار کیا پھر ہم کو آسمان کی طرف چڑھایا گیا اور پچھلی حدیث کے معنی بیان کیے فرمایا کہ ہم جناب آدم علیہ السلام کے پاس تھے انہوں نے مجھے مرحبا کہی اور مجھے دعا خیر دی فرمایا پھر تیسرے آسمان میں پہنچے تو میں حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس تھا انہیں دیا گیا ہے آدھا حسن انہوں نے مجھے مرحبا کہی اور میرے لیے دعا خیر کی اور جناب موسیٰ علیہ السلام کا رونا ذکر نہیں کیا اور فرمایا کہ ساتویں آسمان پر پہنچے تو ہم جناب ابراہیم علیہ السلام کے پاس تھے جو بیت المعمور سے اپنی پیٹھ لگائے تھے اس میں ہر دن ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جو پھر کبھی وہاں لوٹ کر نہیں آتے پھر مجھے سدرۃ المنتہیٰ کے پاس لے گئے تو اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے اور اس کے پھل مٹکوں کی طرح تو جب اسے الله کے حکم سے وہ نورانیت چھا گئی تو سدرۃ ایک دم بدل گیا الله کی مخلوق میں کوئی نہیں جو اس کی خوشنمائی بیان کرسکے رب نے میری طرف جو وحی کی وہ کی پھر مجھ پر پچاس نمازیں ہر دن و رات میں فرض فرمائیں پھر میں موسیٰ علیہ السلام تک اتر کر پہنچا تو آپ نے فرمایا کہ آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا میں نے کہا کہ ہر دن و رات میں پچاس نمازیں انہوں نے کہا اپنے رب کی طرف لوٹیےاس سے ہلکا کرنے کی درخواست کیجئے کیونکہ آپ کی امت یہ طاقت نہیں رکھتی میں تو بنی اسرائیل کو آزما چکا ہوں ان پر تجربہ کرلیا ہے،فرمایا پھر میں اپنے رب کی طرف لوٹا میں نے عرض کیا یارب میری امت پر تخفیف فرما تو اس نے پانچ نمازیں کم کردیں پھر میں جناب موسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹا میں نے کہا کہ مجھ سے پانچ کم کردیں انہوں نے کہا کہ آپ کی امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی آپ اپنے رب کی طرف واپس جائیں اس سے کمی کا سوال کریں، فرماتے ہیں کہ میں اپنے رب اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے درمیان دورہ کرتا رہا حتی کہ فرمایا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ ہر دن و رات میں پانچ نمازیں ہیں ہر نماز کا دس گناہ ثواب تو یہ پچاس نمازیں ہی ہوئیں جو کوئی کسی نیکی کا ارادہ کرے پھر وہ کرے نہیں تو اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاوے گی پھر اگر وہ یہ کر بھی لے تو اس کے لیے دس لکھوں گااور جو گناہ کا ارادہ کرے پھر کرے نہیں تو اس کے لیے کچھ نہیں لکھوں گا پھر اگر وہ کرلے تو اس کے لیے ایک ہی گناہ لکھا جاوے گا فرماتے ہیں کہ پھر میں موسیٰ علیہ السلام کی طرف اترا میں نے انہیں یہ خبر دی تو انہوں نے کہا کہ اپنے رب کی طرف واپس ہوجائیے اس سے کمی کا سوال کیجئے تب رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں نے کہا کہ میں اپنے رب کی طرف اتنا لوٹ چکا کہ اب میں اس سے شرم کرتا ہوں (مسلم)
*عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُمْ عَنْ لَيْلَةٍ أُسْرِيَ بِهٖ:«بَيْنَمَا أَنَا فِي الْحَطِيمِ وَرُبَّمَا قَالَ فِي الْحِجْرِ مُضْطَجِعًا إِذْ أَتَانِي آتٍ فَشَقَّ مَا بَيْنَ هَذِهٖ إِلٰى هَذِهٖ» يَعْنِي مِنْ ثَغَرَةِ نَحْرِهٖ إِلٰى شِعْرَتِهٖ «فَاسْتَخْرَجَ قَلْبِي ثُمَّ أُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مَمْلُوءٍ إِيمَانًا فَغُسِلَ قَلْبِي ثُمَّ حُشِيَ ثُمَّ أُعِيدَ» - وَفِي رِوَايَةٍ: " ثُمَّ غُسِلَ الْبَطْنُ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ مُلِئَ إِيمَانًا وَحِكْمَةً ثُمَّ أُتِيتُ بِدَابَّةٍ دُونَ الْبَغْلِ وَفَوْقَ الْحِمَارِ أَبْيَضَ يُقَالُ لَهٗ: الْبُرَاقُ يَضَعُ خَطْوَهٗ عِنْدَ أَقْصٰى طَرْفِهٖ فَحُمِلْتُ عَلَيْهِ فَانْطَلَقَ بِي جِبْرِيلُ حَتّٰى أَتَى السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَاسْتَفْتَحَ قِيلَ: مَنْ هٰذَا ؟ قَالَ: جِبْرِيلُ. قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ. قِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ. قَالَ: نَعَمْ. قِيلَ: مرْحَبًا بِهٖ فَنِعْمَ الْمَجِيء جَاءَ فَفُتِحَ فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا فِيهَا آدَمُ فَقَالَ: هٰذَاأَبُوكَ آدَمُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ السَّلَامَ ثُمَّ قَالَ: مرْحَبًا بِالابْنِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ، ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتّٰى أَتَى السَّماءَ الثَّانِيَةَ فَاسْتَفْتَحَ قِيلَ: مَنْ هٰذَا ؟ قَالَ: جِبْرِيلُ. قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ. قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قِيلَ: مَرْحَبًا بِهٖ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَفُتِحَ. فَلَمَّا خَلَصْتُ إِذَا يَحْيٰى وَعِيسٰى وَهُمَا ابْنَا خَالَةٍ. قَالَ: هٰذَايَحْيٰى وَهٰذَاعِيسٰى فَسَلِّمْ عَلَيْهِمَا فَسَلَّمْتُ فَرَدَّا ثُمَّ قَالَا: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ. ثُمَّ صَعِدَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ فَاسْتَفْتَحَ قِيلَ: مَنْ هٰذَا ؟ قَالَ: جِبْرِيلُ. قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ. قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قِيلَ: مَرْحَبًا بِهٖ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَفُتِحَ فَلَمَّا خَلَصْتُ إِذَا يُوسُفُ قَالَ: هٰذَايُوسُفُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ. ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتّٰى أَتَى السَّمَاءَ الرَّابِعَةَ فَاسْتَفْتَحَ قِيلَ: مَنْ هٰذَا ؟ قَالَ: جِبْرِيلُ. قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ. قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قِيلَ: مَرْحَبًا بِهٖ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَفُتِحَ فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا إِدْرِيسُ فَقَالَ: هٰذَاإِدْرِيسُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتّٰى أَتَى السَّمَاءَ الْخَامِسَةَ فَاسْتَفْتَحَ قِيلَ: مَنْ هٰذَا ؟*
* قَالَ: جِبْرِيلُ. قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ. قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قِيلَ: مَرْحَبًا بِهٖ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَفُتِحَ فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا هَارُونُ قَالَ: هٰذَاهَارُونُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ ثُمَّ صَعِدَ بِي إِلَى السَّمَاءَ السَّادِسَةَ فَاسْتَفْتَحَ قِيلَ: مَنْ هٰذَا ؟ قَالَ: جِبْرِيلُ. قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ. قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: مَرْحَبًا بِهٖ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا مُوسٰى قَالَ: هٰذَامُوسٰى فَسَلِّمْ عَلَيْهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالح فَلَمَّا جَاوَزْتُ بَكٰى قِيلَ لَهٗ: مَا يُبْكِيكَ ؟ قَالَ: أَبْكِي لِأَنَّ غُلَامًا بُعِثَ بَعْدِي يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِهٖ أَكْثَرُ مِمَّنْ يَدْخُلُهَا مِنْ أُمَّتِي ثُمَّ صَعِدَ بِي إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ قِيلَ: مَنْ هٰذَا ؟ قَالَ: جِبْرِيلُ. قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ. قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قِيلَ: مَرْحَبًا بِهٖ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ: هٰذَاأَبُوكَ إِبْرَاهِيمُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ السَّلَامَ ثُمَّ قَالَ: مرْحَبًا بِالابْنِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ ثُمَّ رُفِعْتُ إِلٰى سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى فَإِذَا نَبِقُهَا مِثْلُ قِلَالِ هَجَرَ وَإِذَا وَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيَلَةِ قَالَ: هٰذَاسِدْرَةُ الْمُنْتَهٰى فَإِذَا أَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ: نَهْرَانِ بَاطِنَانِ وَنَهْرَانِ ظَاهِرَانِ. قُلْتُ: مَاهٰذَانِ يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: أَمَّا الْبَاطِنَانِ فَنَهْرَانِ فِي الْجَنَّةِ وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ ثُمَّ رُفِعَ لِيَ الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ ثُمَّ أُتِيتُ بِإِنَاءٍ مِنْ خَمْرٍ وَإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ وَإِنَاءٍ مِنْ عَسَلٍ فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ فَقَالَ: هِيَ الْفِطْرَةُ أَنْتَ عَلَيْهَا وَأُمَّتُكَ ثُمَّ فُرِضَتْ عَلَيَّ الصَّلَاةُ خَمْسِينَ صَلَاةً كُلَّ يَوْمٍ فَرَجَعْتُ فَمَرَرْتُ عَلٰى مُوسٰى فَقَالَ: بِمَا أُمِرْتَ؟ قُلْتُ: أُمِرْتُ بِخَمْسِينَ صَلَاةً كُلَّ يَوْمٍ. قَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ لَا تَسْتَطِيعُ خَمْسِينَ صَلَاةً كُلَّ يَوْمٍ وَإِنِّي وَاللّٰهِ قَدْ جَرَّبْتُ النَّاسَ قَبْلَكَ وَعَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ فَارْجِعْ إِلٰى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ فَرَجَعْتُ فَوَضَعَ عَنِّي عَشْرًا فَرَجَعْتُ إِلٰى مُوسٰى فَقَالَ مِثْلَهٗ فَرَجَعْتُ فَوَضَعَ عَنِّي عَشْرًا فَرَجَعْتُ إِلٰى مُوسٰى فَقَالَ مِثْلَهٗ فَرَجَعْتُ فَوَضَعَ عَنِّي عَشْرًا فَرَجَعْتُ إِلٰى مُوسٰى فَقَالَ مِثْلَهٗ فَرَجَعْتُ فَوَضَعَ عَنِّي عَشْرًا فَأُمِرْتُ بِعَشْرِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ فَرَجَعْتُ إِلٰى مُوسٰى فَقَالَ مِثْلَهٗ فَرَجَعْتُ فَأُمِرْتُ بِخَمْسِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ فَرَجَعْتُ إِلٰى مُوسٰى فَقَالَ: بِمَا أُمِرْتَ؟ قُلْتُ: أُمِرْتُ بِخَمْسِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ. قَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ لَا تَسْتَطِيعُ خَمْسَ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ وَإِنِّي قَدْ جَرَّبْتُ النَّاسَ قَبْلَكَ وَعَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ فَارْجِعْ إِلٰى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ قَالَ: سَأَلْتُ رَبِّي حَتّٰى اسْتَحْيَيْتُ وَلٰكِنِّي أَرْضٰى وَأُسَلِّمُ. قَالَ: فَلَمَّا جَاوَزْتُ نَادٰى مُنَادٍ: أَمْضَيْتُ فَرِيضَتِي وَخَفَّفْتُ عَنْ عِبَادِي*
.ترجمہ : روایت ہے حضرت قتادہ سے وہ حضرت انس ابن مالک سے وہ مالک ابن صعصعہ سے راوی کہ نبی ﷺ نے انہیں اس رات کے متعلق خبر دی جس میں حضورﷺ کو معراج کرائی گئی جب کہ میں حطیم (بسا اوقات فرمایا کہ حجر) میں تھا کہ میرے پاس ایک آنے والا آیا اس نے یہاں سے یہاں تک چیرا یعنی آپ کے گلے کی گھنڈی (ہڈی)سے آپ کے بالوں تک پھر میرا دل نکالا پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا جو ایمان سے بھرا تھا پھر میرا دل دھویا گیا پھر اسے بھردیا گیا پھر لوٹا دیا گیا اور ایک روایت میں ہے پھر پیٹ دھویا گیا زمزم کے پانی سے پھر ایمان و حکمت سے بھر دیا گیا پھر میرے پاس ایک جانور لایا گیا جو خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا تھا سفید رنگ تھا جسے براق کہا جاتا ہے وہ اپنی انتہائی نظر پر اپنا ایک قدم رکھتا ہے تو میں اس پر سوار کیا گیا پھر مجھے جبرئیل علیہ السلام لے چلے حتی کہ وہ دنیا کے آسمان پر پہنچے دروازہ کھلوایا کہا گیا کون ؟ فرمایا جبریل،کہا گیا تمہارے ساتھ کون ہے ؟ فرمایا: محمد ﷺ ہیں،کہا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہےکہا ہاں ان کو خوش آمدید ہو وہ خوب آئے پھر دروازہ کھول دیا گیا،جب میں داخل ہوا تو وہاں جناب آدم علیہ السلام تھے کہا یہ آپ کے والد آدم علیہ السلام ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا،پھر فرمایا صالح فرزند صالح نبی تم خوب تشریف لائے پھر مجھے جبرئیل علیہ السلام اوپر لے گئے حتی کہ دوسرے آسمان پر پہنچے دروازہ کھلوایا،کہا گیا کون؟ بولے میں ہوں جبریل،کہا گیا تمہارے ساتھ کون ہیں؟ کہا : محمد ﷺ کہا گیا کیا انہیں بلایا گیا ؟ ہے کہا ہاں،کہا خوش آمدید تم بہت ہی اچھا آنا آئے،پھر دروازہ کھول دیا گیا تو جب میں اندر پہنچا تو ناگہاں وہاں حضرت یحیی علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام تھے وہ دونوں خالہ زاد ہیں جبریل علیہ السلام نے کہا یہ یحیی علیہ السلام ہیں یہ عیسیٰ علیہ السلام ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے سلام کیا ان دونوں نے جواب دیا پھر کہا صالح بھائی صالح نبی آپ خوب آئے،پھر جبریل علیہ السلام مجھے تیسرے آسمان کی طرف لے گئے دروازہ کھلوایا،کہا گیا کون ؟ وہ بولے جبریل علیہ السلام ہوں،کہا گیا تمہارے ساتھ کون ہے ؟ کہا : محمد ﷺ ہیں،کہا گیا انہیں بلایا گیا ہے ؟ کہا ہاں خوش آمدید تم خوب ہی آئے پھر دروازہ کھول دیا گیا جب میں داخل ہوا تو وہاں حضرت یوسف علیہ السلام تھے جبریل علیہ السلام نے کہا یہ یوسف علیہ السلام ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا پھر کہا صالح بھائی صالح نبی آپ خوب آئے پھر مجھے اوپر لے گئے حتی کہ چوتھے آسمان پر پہنچے دروازہ کھلوایا گیا، کہا گیا کون ہیں ؟ فرمایا میں جبریل ہوں،کہا گیا تمھارے ساتھ کون ہے ؟ کہا : محمد ﷺ کہا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ کہا ہاں کہا گیا خوش آمدید اچھا آنا آپ آئےدروازہ کھو لا گیا جب ہم اندر داخل ہوئے تو وہاں حضرت ادریس علیہ السلام تھے،
جبریل علیہ السلام نے کہا یہ ادریس علیہ السلام ہیں آپ انہیں اسلام کریں میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا کہا خوش آمدید اے صالح بھائی صالح نبی پھر مجھے اوپر چڑھایا گیا حتی کہ پانچویں آسمان پر پہنچے دروازہ کھلوایا،کہا گیا کون ہے؟ کہا میں جبریل علیہ السلام ہوں،کہا گیا تمہارے ساتھ کون ہے ؟ کہا: محمد ﷺ ہیں،کہا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ کہا ہاں بلایا گیا ہے،کہا گیا خوش آمدید آپ اچھا آنا آئے دروازہ کھولا گیا جب میں اندر گیا تو وہاں حضرت ہارون علیہ السلام تھے جبریل علیہ السلام نے کہا یہ ہارون علیہ السلام ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا پھر کہا خوش آمدید اے صالح بھائی صالح نبی پھر مجھے اوپر لے گئے حتی کہ چھٹے آسمان پر پہنچے دروازہ کھلوایا،کہا گیا کون ہے؟ کہا میں جبریل علیہ السلام ہوں،کہاگیا تمہارے ساتھ کون ہے؟ کہا حضور محمد ﷺ ،کہاگیا کیا انہیں بلایاگیا ہے ؟ کہا ہاں،کہاگیا خوش آمدید آپ اچھا آنا آئے دروازہ کھولا گیا میں جب اندر پہنچا تو وہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام تھے جبریل علیہ السلام نے کہا یہ موسیٰ علیہ السلام ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا پھر کہا خوش آمدید اے صالح بھائی صالح نبی جب وہاں سے آگے بڑھے تو وہ رونے لگے ان سے کہا گیا کیا چیز آپ کو رُلا رہی ہے فرمایا اس لیے کہ ایک فرزند میرے بعد نبی بنائے گئے ان کی امت میری امت سے زیادہ جنت میں جائے گی پھر مجھے ساتویں آسمان کی طرف اٹھایا گیا جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھلوایا،کہا گیا کون ہے ؟ کہا میں جبریل علیہ السلام ہوں،کہا گیا تمہارے ساتھ کون ہے ؟ کہا : محمد ﷺ ہیں،کہا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہے کہا ہاں تو کہا گیا خوش آمدید آپ بہت اچھا آنا آئے،پھر جب میں وہاں داخل ہوا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام وہاں تھے جبرئیل علیہ السلام نے کہا یہ آپ کے والد ابراہیم علیہ السلام ہیں آپ انہیں سلام کریں میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا پھر کہا خوب آئے اے صالح فرزند صالح نبی پھر میں سدرۃ المنتہیٰ تک اٹھایا گیا تو اس کے بیر ہجر کے مٹکوں کی طرح تھے اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح،جبریل علیہ السلام نے کہا یہ سدرۃ المنتہیٰ ہے وہاں چار نہریں تھیں: دو نہریں تو خفیہ تھیں اور دو نہریں ظاہر میں نے کہا اے جبریل یہ کیا ہے عرض کیا کہ خفیہ نہریں تو جنت کی دو نہریں ہیں لیکن ظاہری نہریں وہ نیل اور فرات ہیں پھر میرے سامنے بیت المعمور لایا گیا پھر میرے پاس ایک برتن شراب کا اور ایک برتن دودھ کا اور ایک برتن شہد کا لایا گیا میں نے دودھ قبول کیا تو جبریل علیہ السلام نے کہا یہ وہ فطرت ہے جس پر آپ اور آپ کی امت ہے پھر مجھ پر ہر دن میں پچاس نمازیں فرض کی گئیں پھر میں واپس ہوا تو
موسیٰ علیہ السلام پر گزرا انہوں نے کہا آپ کو کیا حکم دیا گیا میں نے کہا ہر دن پچاس نمازوں کا،انہوں نے کہا کہ آپ کی امت ہر دن پچاس نمازوں کی طاقت نہیں رکھے گی الله کی قسم میں نے آپ سے پہلے لوگوں کی آزمائش کی اور بنی اسرائیل کو تو خوب آزمایا لہذا آپ اپنے رب کی طرف لوٹیے اور اس سے اپنی امت کے لیے آسانی مانگیے چنانچہ میں واپس ہوا تو اس نے مجھ سے دس نمازیں کم کردیں پھر میں جناب موسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹا میں پھر رب کی طرف لوٹا اس نے مجھ سے دس معاف فرمادیں میں پھر جناب موسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹا انہوں نے پھر وہی کہا میں پھر لوٹا اس نے مجھ سے دس اور معاف فرمادی میں پھر جناب موسیٰ کی طر ف لوٹا انہوں نے پھر وہی کہا میں پھر لوٹا رب نے مجھ سے دس اور معاف کردیں پھر میں جناب موسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹا انہوں نے پھر وہی کہا میں پھر لوٹا تو مجھے ہر دن پانچ نمازوں کا حکم دیا گیا میں پھر جناب موسیٰ کی طرف لوٹا انہوں نے کہا کہ آپ کو کیا حکم دیا گیا ہے میں نے کہا ہر دن پانچ نمازیں،انہوں نے کہا کہ آپ کی امت ہر دن پانچ نمازوں کی طاقت نہیں رکھتی میں نے آپ سے پہلے لوگوں کی آزمائش کرلی ہے اور بنی اسرائیل کو تو میں نے اچھی طرح آزمالیا ہے آپ پھر اپنے رب کی طرف لوٹیے آپ اس سے اپنی امت کے لیے کمی کا سوال کریں حضور ﷺ نے کہا کہ میں نے اپنے رب سے اتنے سوال کرلیے کہ اب شرم کرتا ہوں لیکن میں راضی ہوں تسلیم کرتا ہوں فرمایا کہ پھر میں جب آگے بڑھا تو پکارنے والے نے پکارا کہ میں نے اپنا فریضہ جاری کردیا اور اپنے بندوں سے تخفیف کردی (مسلم،بخاری)۔ ان دونوں احادیث میں سفر معراج کے متعدد احوال بیان کئے گئے ہیں ۔جیسے : (01) شق صدر (02) براق کا لایا جانا (03)مسجد اقصی کا سفر (04) وہاں نماز کا ادا کرنا (05) آسمانوں کی سیر اور انبیاء سے ملاقات (06) سدرۃ المنتھی تک پہنچنا (07) نماز کی فرضیت اور اس میں تخفیف۔
*«رَأَيْتُ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ رَبِّ، قَالَ: فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ … فَوَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ، حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ أَنَامِلِهِ بَيْنَ ثَدْيَيَّ، فَانْجَلَى لِيَ كُلُّ شَيْءٍ وَعَرَفْتُ»* ترجمہ : فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں نے اپنے رب کو بہترین صورت میں دیکھا ، رب نے پوچھا کہ فرشتے مقرّب کس چیز میں جھگڑتے ہیں میں نے عرض کیا مولٰی تو ہی جانے تب رب نے اپنا دست قدرت میرے دو کندھوں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے میں پائی تو جوکچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب میں نے جان لیا ۔ ( جامع ترمذی ، حدیث 3233) اس حدیث پاک میں سفر معراج کا سب سے اہم مرحلہ یعنی " دیدار باری تعالیٰ" کو نبی پاک ﷺ نے خود بیان فرمایا۔ اور ساتھ ہی اللہ پاک کی طرف سے جو آپ کو علوم و معرفت کے خزانے عطا کئے گئے اس کا بیان موجود ہے ۔ چوتھی حدیث : *وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي الْحَجْرِ وَقُرَيْشٌ تَسْأَلُنِي عَنْ مَسْرَايَ فَسَأَلَتْنِي عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ لَمْ أَثْبَتُهَا فَكُرِبْتُ كَرْبًا مَا كُرِبْتُ مِثْلَهٗ فَرَفَعَهُ اللّٰهُ لِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ مَا يَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا نَبَّأْتُهُمْ* ترجمہ : روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میں نے اپنے کو حطیم میں دیکھا قریش مجھ سے میرے سفر معراج کے متعلق سوالات کر رہے تھے تو انہوں نے مجھ سے بیت المقدس کی ایسی چیزوں کے متعلق سوالات کیے جو مجھے یاد نہ رہی تھیں تو میں اتنا غمگین ہوا جتنا کبھی نہ ہوا تھا تو الله نے میرے سامنے اسے کردیا میں اسے دیکھ رہا تھا وہ کسی چیز کے متعلق مجھ سے نہ پوچھتے تھے مگر میں انہیں بتا دیتا تھا۔
مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ نے اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : کفار مکہ نے نبی پاک ﷺ سے معراج سے متعلق لایعنی سوالات شروع کردئیے ۔ مثلًا یہ کہ بیت المقدس میں ستون کتنے ہیں، سیڑھیاں کتنی ہیں، منبر کس طرف ہے اور ظاہر ہے کہ یہ چیزیں تو بار بار دیکھنے پر بھی یاد نہیں رہتیں تو ایک بار دیکھنے پر یاد کیسے رہتیں۔ کفار نے کہا کہ عرش و کرسی کی باتیں جو آپ بیان کررہے ہیں ان کی تو ہم کو خبر نہیں بیت المقدس ہم نے دیکھا ہوا ہے وہاں کی نشانیاں آپ ہم کو بتائیں اسی لیے رب نے اس معراج کے دو حصے کئے: بیت المقدس تک،پھر وہاں سے عرش کے آگے تک تاکہ لوگ اس حصہ معراج کو بہت دلائل سے معلوم کرلیں۔ نبی پاک ﷺ کا غمگین ہونا اس وجہ سے تھا کہ اگر آپ بیت المقدس کی نشانیاں نہیں بتائیں گے تو کفار معراج کا انکار کر بیٹھیں گے اور قبول حق سے محروم ہوجاٸیں گے ۔ یہ غم بھی اپنے سے متعلق نہ تھا بلکہ کفار سے متعلق تھا۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 , حدیث نمبر:5866) اس حدیث پاک میں نبی پاک ﷺ نے اس بات کو واضح فرمایا کہ جب سفر معراج سے نبی پاک ﷺ لوٹے اور جن لوگوں نے اس بات کو بعید از عقل سمجھا انہوں نے نبی پاک ﷺ سے مختلف سوالات کرنا شروع کردئیے اور سوالات بھی غیر معقول و لایعنی تھے جیسے : مسجد اقصی کے ستون کتنے ہیں ، سیڑھیاں کتنی ہیں ؟ وغیرہ وغیرہ یہ سوالات غیر معقول اس لئے ہیں کہ کوئی بھی شخص کسی جگہ جاتا ہے تو وہاں موجود سیڑھیوں اور ستونوں کی تعداد کو count نہیں کرتا ، اور بار بار جانے پر بھی ایسا نہیں ہوتا کہ ان کی تعداد یاد ہوجائے لیکن ان سوالات کے جوابات بھی نبی پاک ﷺ نے عطا فرمادیئے ۔ *ہے جدا جہاں میں سب سے تیری شان میرے آقا* *تیری عظمتوں کا مظہر ہے قرآن میرے آقا*
حضور جان عالم ﷺ کا سفر معراج جسمانی اور حالت بیداری میں تھا۔ اس پر متعدد صحابہ کرام علیہم الرضوان کے مستند و معتمد اقوال بھی موجود ہیں۔ نیز مفسرین کا طبقہ ہو یا محدثین کا طبقہ ہو ، فقہاء کا طبقہ ہو یا صوفیاء کا طبقہ سب نے ہی حضور سید عالم ﷺ کے سفر معراج کا ذکر فرمایا۔ علامہ قرطبی علیہ الرحمہ نے حضور ﷺ کی معراج جسمانی ہونے یا نہ ہونے اور حالت بیداری میں ہونے یا نہ ہونے سے متعلق مختلف اقوال کو جمع کیا اور آخر میں اسی بات کو ترجیح دی کہ حضور ﷺ کی معراج جسمانی تھی اور حالت بیداری میں تھی۔ آپ فرماتے ہیں : *وَذَهَبَ مُعْظَمُ السَّلَفِ وَالْمُسْلِمِينَ إِلَى أَنَّهُ كَانَ إِسْرَاءً بِالْجَسَدِ وَفِي الْيَقَظَةِ، وَأَنَّهُ رَكِبَ الْبُرَاقَ بِمَكَّةَ، وَوَصَلَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَصَلَّى فِيهِ ثُمَّ أُسْرِيَ بِجَسَدِهِ. وَعَلَى هَذَا تَدُلُّ الْأَخْبَارُ الَّتِي أَشَرْنَا إِلَيْهَا وَالْآيَةُ. وَلَيْسَ فِي الْإِسْرَاءِ بِجَسَدِهِ وَحَالِ يَقَظَتِهِ اسْتِحَالَةٌ، وَلَا يُعْدَلُ عَنِ الظَّاهِرِ وَالْحَقِيقَةِ إِلَى التَّأْوِيلِ إِلَّا عِنْدَ الِاسْتِحَالَةِ، وَلَوْ كَانَ مَنَامًا لَقَالَ بِرُوحِ عَبْدِهِ وَلَمْ يَقُلْ بِعَبْدِهِ. وَقَوْلُهُ" مَا زاغَ الْبَصَرُ وَما طَغى(١٣) " يَدُلُّ عَلَى ذَلِكَ. وَلَوْ كَانَ مَنَامًا لَمَا كَانَتْ فِيهِ آيَةٌ وَلَا مُعْجِزَةٌ* ترجمہ : "اکثر سلف اور مسلمان مانتے ہیں کہ یہ سفر معراج حضور ﷺ نے اپنے جسم کے ساتھ اور جاگتے ہوئے کیا۔ آپ ﷺ مکّہ سے براق پر سوار ہو کر بیت المقدس پہنچے، وہاں نماز پڑھی، اور پھر جسم کے ساتھ واپس آئے۔ یہ بات ان روایات اور قرآن کی آیت سے ثابت ہے۔ اس سفر میں کوئی ناممکن بات نہیں۔ حقیقت اور ظاہر سے صرف تب ہی ہٹ کر تشریح کی جاتی ہے جب بات بالکل ناممکن ہو۔ اگر یہ خواب ہوتا تو کہا جاتا کہ یہ روح کے ساتھ ہوا، جسم کے ساتھ نہیں۔ اور قرآن کی یہ آیت" مَا زاغَ الْبَصَرُ وَما طَغى" آنکھ نہ بھٹکی اور نہ حد سے بڑھی’، اسی بات کی تصدیق کرتی ہے۔ اگر یہ خواب ہوتا تو اس میں کوئی آیت یا معجزہ نہ ہوتا۔" اب ہم یہاں بالترتیب اکابرین کے اقوال کو ذکر کررہے ہیں تاکہ معجزہ معراج پر ہمارا ایمان و یقین مزید مضبوط ہو۔
سفر معراج کی سب سے پہلے تصدیق کرنے والے ، افضل البشر بعد الانبیاء ، خلیفة المسلمین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ سفر معراج سے لوٹ کر آنے کے بعد جب نبی پاک ﷺ نے اہل مکہ کو اس سفر کی خبردی تو بعض لوگ دوڑتے ہوئے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہنے لگے کیا آپ اس بات کی تصدیق کریں گے جو آپ کے دوست نے کہی ہے کہ وہ رات کے مختصر سے حصے میں مسجد اقصی گئے اور وہاں سے واپس بھی آگئے ۔ یہ بات سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا جواب کیا تھا ؟ خبر دینے والوں کا خیال تھا کہ اب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے دوست کو چھوڑ دینگے لیکن سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بغیر تعجب اور بغیر کسی تذبذب کے سادہ سا جواب دیا : *لَئِنْ كَانَ قَالَ ذَلِكَ لَقَدْ صَدَقَ* یعنی اگر انہوں نے ایسا کہا ہے تو یقینایہ واقعہ بالکل سچا ہے ۔ (المستدرک للحاکم ، حدیث 4407) امام علی بن ابی بکر ہیتمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : *عن ابن عباس انہ کان یقول : ان محمدا رای ربہ مرتین ۔ مرة ببصرہ و مرة بفوادہ* یعنی حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دوبار دیکھا ایک بار ظاہری آنکھوں سے اور ایک بار اپنے دل سے۔
*امام نسفی کا موقف :* امام ابوالبرکات عبداللہ بن احمد بن محمود المعروف امام نفسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : * وكانَ الإسْراءُ قَبْلَ الهِجْرَةِ بِسَنَةٍ وكانَ في اليَقَظَةِ، وعَنْ عائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْها أنَّها قالَتْ: واللهِ ما فُقِدَ جَسَدُ رَسُولِ اللهِ ﷺ ولَكِنْ عُرِجَ بِرُوحِهِ، وعَنْ مُعاوِيَةَ مِثْلُهُ، وعَلى الأوَّلِ الجُمْهُورُ إذْ لا فَضِيلَةَ لِلْحالِمِ ولا مَزِيَّةَ لِلنّائِمِ* ترجمہ : “اور واقعۂ اِسراء ہجرت سے ایک سال پہلے پیش آیا، اور یہ بیداری کی حالت میں تھا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ کا جسم مبارک غائب نہیں ہوا تھا، بلکہ آپ ﷺ کو روح کے ساتھ معراج کرائی گئی۔اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح منقول ہے۔لیکن پہلے قول پر جمہور علماء ہیں، کیونکہ خواب دیکھنے والے کے لیے کوئی خاص فضیلت نہیں ہوتی اور نہ سونے والے کو کوئی امتیاز حاصل ہوتا ہے۔ ( مدارک التنزیل وحقائق التاویل ، تحت الایة 01 , سورہ بنی اسرائیل) نوٹ : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بیان کی گئی روایت اور اس کا جواب کورس میں آگے شامل کیا گیا ہے ۔ *امام بیضاوی* کا موقف : ابو الخیر عبداللہ بن عمر بیضاوی علیہ الرحمہ اسی ایت کے تحت فرماتے ہیں : *والأكْثَرُ عَلى أنَّهُ أُسْرِيَ بِجَسَدِهِ إلى بَيْتِ المَقْدِسِ، ثُمَّ عُرِجَ بِهِ إلى السَّمَواتِ حَتّى انْتَهى إلى سِدْرَةِ المُنْتَهى، ولِذَلِكَ تَعَجَّبَ قُرَيْشٌ واسْتَحالُوهُ، والِاسْتِحالَةُ مَدْفُوعَةٌ بِما ثَبَتَ في الهَنْدَسَةِ أنَّ ما بَيْنَ طَرَفَيْ قُرْصِ الشَّمْسِ ضِعْفُ ما بَيْنَ طَرَفَيْ كُرَةِ الأرْضِ مِائَةً ونَيِّفًا وسِتِّينَ مَرَّةً* ترجمہ : اکثر علماء اس بات پر ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو اپنے جسمِ اقدس کے ساتھ بیت المقدس تک لے جایا گیا، پھر وہاں سے آپ ﷺ کو آسمانوں کی طرف معراج کرائی گئی، یہاں تک کہ آپ ﷺ سدرة المنتہیٰ تک پہنچے۔اسی وجہ سے قریش کو تعجب ہوا اور انہوں نے اسے ناممکن سمجھا، حالانکہ یہ ناممکن ہونا مردود ہے، اس بنا پر کہ علمِ ہندسہ (ریاضی) میں یہ بات ثابت ہے کہ سورج کے قرص کے دونوں کناروں کے درمیان فاصلہ، زمین کے گولے کے دونوں کناروں کے درمیان فاصلے سے 160 گنا زیاد بڑا ہے۔ ( انوار التنزیل و اسرار التاویل ، تحت الآیت 01 , سورہ بنی اسرئیل ) علامہ بیضاوی رحمة اللہ علیہ نے نبی پاک ﷺ کی معراج جسمانی کے منکرین کو logical دلیل کے ذریعے سمجھایا اور کہا کہ سورج زمین سے 160 گنا سے بھی زیادہ بڑا ہے جب اللہ پاک اتنا بڑا سورج پیدا کرنے پر قادر ہے اور تم اس کی قدرت کو مانتے ہو تو اس رب تعالی کے لئےحضور ﷺ کو رات کے مختصر سے حصے میں جاگنے کی حالت میں روح و جسم کے ساتھ معجزہ معراج کا عطا کرنا کیوں ناممکن سمجھتے ہو ۔ جو رب اتنا بڑا سورج بنانے پر قادر ہے تو وہ اس پر بھی قادر ہے ۔ آپ رحمة اللہ علیہ نے ایک اور بات بھی ذکر کی جسے ہم دوسری دلیل بھی کہہ سکتے ہیں وہ یہ کہ قریش کا تعجب کرنا اور اسے بعید سمجھنا وہ تھا ہی اس وجہ سے کہ نبی پاک ﷺ نے معراج جسمانی کا ذکر کیا تھا۔ اگر خواب ہوتا تو خواب میں معراج کا ہونا کوئی بعید نہیں سمجھتا تھا۔
امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ کا موقف : امام فخرالدین رازی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : *اخْتُلِفَ في كَيْفِيَّةِ ذَلِكَ الإسْراءِ، فالأكْثَرُونَ مِن طَوائِفِ المُسْلِمِينَ اتَّفَقُوا عَلى أنَّهُ أُسْرِيَ بِجَسَدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، والأقَلُّونَ قالُوا: إنَّهُ ما أُسْرِيَ إلّا بِرُوحِهِ.* ترجمہ : “اسراء کی کیفیت کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔چنانچہ مسلمانوں کے مختلف گروہوں میں سے اکثر اس بات پر متفق ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو جسمِ اقدس کے ساتھ اسراء (معراج ) کرائی گئی،اور بہت کم لوگوں نے یہ کہا ہے کہ اسراء صرف روح کے ساتھ ہوئی تھی۔( تفسیر کبیر ، تحت الآیت 01 ,سورہ بنی اسرائیل )۔
*شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ کا موقف:* محقق علی الاطلاق شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں : صحابہ کرام کا اس میں اختلاف تھا کہ آیا شب معراج نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اللہ عزوجل کا دیدار کیا یا نہیں ؟ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ اس کی نفی کرتی ہیں اور حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ اس کا اثبات کرتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کے ساتھ صحابہ کرام علیہم الرضوان کی جماعتیں متفق ہو گئیں ۔ اسی طرح تابعین میں سے بعض حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ کے موقف کے قائل تھے اور بعض حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے موقف کے قائل تھے ۔ اور بعض نے اس مسئلے میں خاموشی اختیار کی ۔ لیکن جمہور علماء حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے نظریے کے قائل ہیں ۔ علامہ محی الدین نووی علیہ الرحمہ نے لکھا ہے : اکثر علمائے عظام کا مختار یہ ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے رب کو سر کی انکھوں سے دیکھا ہے ۔بعض علماء نے یہ بھی کہا کہ اس مسئلے میں حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کا قول متعین ہے کیونکہ وہ نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سماع کے بغیر یہ بات نہیں کہہ سکتے اور نہ ہی یہ ان کے لیے جائز تھا اور نہ ہی یہ بات اجتہاد سے کہی جا سکتی ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ۔ حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اللہ تعالی کا دیدار کیا ہے حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے جب کہا : ہاں , تو حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسے تسلیم کیا . ( معراج النبی اور معمولات و نظریات بحوالہ اشعة اللمعات ، صفحہ 194 )۔
*ابو زکریا محی الدین یحیی بن شرف نووی علیہ الرحمہ کا موقف:* شرح صحیح مسلم للنووی میں ہے: *اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي الْإِسْرَاءِ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ إِنَّمَا كَانَ جَمِيعُ ذَلِكَ فِي الْمَنَامِ وَالْحَقُّ الَّذِي عَلَيْهِ أَكْثَرُ النَّاسِ وَمُعْظَمُ السَّلَفِ وَعَامَّةُ الْمُتَأَخِّرِينَ مِنَ الْفُقَهَاءِ وَالْمُحَدِّثِينَ وَالْمُتَكَلِّمِينَ أَنَّهُ أُسْرِيَ بِجَسَدِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْآثَارُ تَدُلُّ عَلَيْهِ لِمَنْ طَالَعَهَا* ترجمہ: لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے سفر معراج کے بارے میں اختلاف کیا۔چنانچہ بعض نے کہا کہ یہ سب کچھ خواب میں ہوا تھا۔لیکن وہ حق بات جس پر اکثر لوگ قائم ہیں، اور جس پر سلف صالحین کی بڑی جماعت، اور فقہاء، محدثین اور متکلمین میں سے عام متاخرین کا اتفاق ہے، وہ یہ ہے کہ نبی ﷺ کو جسم کے ساتھ سفر معراج کرایا گیااور جو شخص آثار (روایات) کا مطالعہ کرے، ان کے لیے وہ اس بات پر واضح طور پر دلالت کرتی ہیں۔ (شرح مسلم للنووی،ج01،ص91،مطبوعہ کراچی )۔ صوفیائے کرام اور سفر معراج النبی ﷺ : اکثر صوفیا مشائخ کا بھی یہی قول مختار ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا اور نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو وہ کمال حاصل ہوا کہ جو مخلوق کی عقلوں سے ماورا ہے ۔ اور معراج کی شب جو اپ کو کمال حاصل ہوا وہ تمام کمالات سے بڑھ کر ہے اور اس شب اللہ تبارک و تعالی کا اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو وہ قرب حاصل ہوا جو عام عقلوں میں نہیں آسکتا ۔ (معراج النبی اور معمولات و نظریات صفحہ 194 )۔
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کا موقف: امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: سبحٰن! کیسی عجیب بات ہے، جسم کے ساتھ آسمانوں پر تشریف لے جانا، کرۂ زمہر یر طے فرمانا، کُرۂ نار طے فرمانا، کروڑوں برس کی راہ کو چند ساعت میں طے فرمانا، تمام ملک و ملکوت کی سیر فرمانا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 29، صفحہ 633، رضا فاؤنڈیشن، لاھور) سید احمد سعید شاہ کاظمی علیہ الرحمہ کا موقف: غزالئ زماں علامہ سید احمد سعید شاہ کاظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: شب معراج جب اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلایا تو اس کارخانۂ عالم کو ایک دم بند کر دیا سوائے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اور ان چیزوں کے جنہیں حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے متحرک پایا۔ تمام کائنات کو اسی طرح ٹھہرا دیا جس طرح کارخانہ بند ہونے سے اس کی ہر چیز ٹھہر جاتی ہے۔ چاند اپنی جگہ ٹھہر گیا، سورج اپنی جگہ رک گیا۔ زمانے اور زمانیات کی حرکت بند ہوگئی (سوائے ان کے جن کا استثناء ہم عرض کر چکے ہیں) حرارت و برودت اسی درجہ پر ٹھہر گئی جس پر وہ بند ہوتے وقت پہنچی تھی۔حضور علیہ الصلوۃ و السلام کے بستر مبارک کی حرارت بھی ٹھہر گئی تھی، جہاں وضو فرمایا تھا وہاں وضو شریف کا پانی بہنا بند ہو گیا، حجرہ شریف کی زنجیر مبارک ہلتے ہوئے جس جگہ پہنچی تھی وہیں رک گئی، جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام واپس تشریف لائے تو کار خانۂ قدرت بحکم مالک حقیقی فوراً چالو ہو گیا اور ہر چیز از سر نو اپنے مراحل کو طے کرنے لگی۔ چاند سورج اپنے اپنے منازل پر چلنے لگے، حرارت و برودت اپنے درجات طے کرنے لگی، جو چیزیں حرکت سے سکون میں آ گئی تھیں مائل بہ حرکت ہونے لگیں، وضو شریف کا پانی بہنے لگا، بستر مبارک کی حرارت اپنے درجات طے کرنے لگی، حجرہ شریف کی زنجیر مبارک ہلنے لگی۔ کائنات میں نہ کوئی تغیر آیا اور نہ کسی کو احساس ہوا کیونکہ تغیر اور احساس دونوں حرکت کے بغیر ناممکن ہیں اور حرکت کا وجود ہی نہ تھا تو احساس و تغیر کیسے ہوتا؟۔ (مقالات کاظمی، جلد 1، صفحہ 182- 183، مکتبہ ضیائیہ، راولپنڈی)۔
علامہ فیض محمد اویسی علیہ الرحمہ کا موقف: فیض ملت علامہ فیض احمد اویسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: محققین نے سیرِ معراج کی توجیہ سرعت سیر سے کی ہے، یہاں تک کہ مکان اور زمان ہر دو اپنے استعداد پر باقی تھے۔ اور یہ بات واضح ہے کہ وہ مسافت جس کو حضور علیہ السلام نے معراج کی رات طے فرمایا، نہایت دراز تھی حتی کہ حقائق الحقائق میں ہے کہ مکہ شریف سے مقامِ (خاص) تک تین لاکھ سال کی مسافت تھی اور بعض نے پچاس ہزار وغیرہ ذالک کا قول کیا ہے۔ اور بعض نے زمان اور مکان بحالہ مان کر مسافت کی طی (سمٹ جانے) کا قول کیا ہے، جیسا کہ روح المعانی میں ہے۔... مالک الملک کے عرشی مہمان صلی اللہ علیہ و سلم جب معراج سے واپس آئے تو وہی آن باقی تھی حتی کہ بستر مبارک ہنوز گرم تھا، وضو کا پانی بہہ رہا تھا اور حجرہ کی زنجیر ہل رہی تھی۔ اس بات کا اندازہ نہیں ہو سکتا کہ فی الحقیقت آپ کو معراج میں کتنا عرصہ لگا، ہاں ایک مشہور قول ہے کہ ۱۸ ہزار سال کے عرصہ تک نظام عالم سکون میں رہ گیا۔ گو جدید اور قدیم فلسفہ میں منہمک اور نئی روشنی کے خیال کے لوگ اس کو بعید از عقل کہہ دیں، مگر معجزات کو عقل کی کسوٹی پر پر کھنا بیکار ہے؛ کیونکہ معجزہ وہ ہے جس کے مقابلہ میں انسان عاجز ہو جائے اور عقل حیران رہ جائے، خاص کر معراج کے واقعات اول سے آخر تک انوکھے اور نرالے ہیں، جو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے عجائبات حضور علیہ الصلوۃ و السلام کو دکھائے۔ (معراج مصطفی، صفحہ 27 - 28، مکتبہ اویسیہ رضویہ، بہاولپور) علمائے اہلسنت کے موقف دارلافتاء اہلسنت کے فتاوی سے شامل کئے گئے ہیں ۔
معراج النبی ﷺ کو سمجھنے اور اس پر یقین رکھنے کے لئے ہمیں اگرچہ اس کو سائنس سے ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور ایسا بھی نہیں ہے کہ سفر معراج سائنس کے اصولوں کے مطابق ہوگا تو اسے مانے گے ورنہ نہیں بلکہ سفر معراج پر یقین رکھنے کے لئے اہل ایمان کے پاس قرآن و حدیث موجود ہے ۔ اور اس کے بعد کسی چیز کی ضرورت نہیں رہتی ہے۔ اس کے باوجود اس موضوع کو شامل کیا گیا اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ جو لوگ سفر معراج کو عقل کے خلاف مانتے ہیں یا تذبذب کا شکار ہیں انہیں سائنس کی بات جلدی سمجھ آجاتی ہے ۔۔۔۔ لہذا سوچا کہ اس موضوع کو بھی کورس کا حصہ بنایاجائے تاکہ اہل ایمان کا ایمان مزید پختہ ہو۔ یہاں اس امر کی بھی وضاحت ضروری ہے سائنس، فلسفہ معجزے کی حقیقت کو فہم و شعور میں لانے کے لئے معاون تو ثابت ہوسکتے ہیں اور ایمان کی پختگی کا باعث بھی بن سکتے ہیں لیکن انہیں معجزات کو سمجھنے کے لئے بنیاد قراردینا ؛ یہ درست نہیں ہے اس لئے کہ معجزات جو اللہ پاک کی قدرت کاملہ کا مظہر ہوتے ہیں وہ کسی سائنسی توجیہات ، فلسفی قوانین کے محتاج نہیں ہیں ۔ فزکس (PHYSICS) جو کہ سائنس کی ایک شاخ ہے ۔ اس کی ایک تھیوری ہے نظریہ اضافیت (Theory of relativity) کے نام سے اس کو پیش کرنے والا ماضی قریب کا ایک سائنس دان جسے "آئن اسٹائن " کے نام سے پہچانا جاتا ہے ۔ اس نظرئیے میں کیا ہے آئیے اسے سمجھتے ہیں۔
*نظریہ اضافیت(THEORY OF RELATIVITY)* آئن اسٹائن نے اس تھیوری کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ مادہ (matter)و توانائی(energy)، کشش (gravity)، زمان (time)، مکان (space) میں ایک خاص تعلق اور ایک خاص نسبت پائی جاتی ہے ۔ مثلاً : جب ہم کسی وقت یا فاصلے کی پیمائش کرتے ہیں تو وہ اضافی (relative) کی حیثیت سے کرتے ہیں گویا کائنات کے مختلف مقامات پر وقت اور فاصلہ دونوں کی پیمائش میں کمی و بیشی ہوسکتی ہے ۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ وقت ، فاصلہ ،سب کے لئے یکساں ہے لیکن آئن اسٹائن کی اس تھیوری کے بعد سائنس کو اپنا نظریہ بدلنا پڑا۔ *طی زمانی(time delation )* اس نظریئے کی اہم بات کہ وقت مطلق (Absolute) نہیں بلکہ اضافی (Relative) ہے۔یعنی ایک جب بھی کوئی جسم تیز رفتار سے حرکت کرے گا وقت اس کے لئے آہستہ ہوجائے گا ۔ اسے اصطلاح میں طی زمانی(time delation ) کہتے ہیں ۔ مثلاً : اگر کوئی جسم روشنی کی90 فیصد رفتار سے سفر کرے تو زمین پر دس سال گزرینگے مگر اس مسافر پر صرف پانچ سال گزرے ہوں گے ۔ یعنی جتنی زیادہ رفتارہوگی وقت اتناہی کم ہوجائے گا ۔ آج کے دور کے حساب سے بھی اگر اس کی سادہ مثال سمجھیں تو ایک بائیک پر سفر کرنے والا شخص ہے اور ایک سائیکل پر سفر کرنا شخص ہے ، دونوں کو ہی کسی ایک مقام پر جانے ہے ، جب وہ دونوں سفر کریں گے تو بائیک والا تیز رفتاری کی وجہ سے جلدی پہنچ جائے گا اور اس کا وقت کم لگے گا جبکہ سائیکل والے کی رفتار بائیک والے سے کم ہونے کی وجہ سے وقت کچھ زیادہ لگ جائے اور اسی سائیکل والے کی نسبت اگر ہم پیدل چلنے والے کو دیکھیں تو سائیکل والے کی رفتار پیدل والے سے زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کے مقابلے وقت کم لگے گا ۔ اس تفصیل کو سمجھ لینے کے بعد معجزہ معراج کو سمجھنا مزید آسان ہوجات ہے کیونکہ سائنس کے مطابق روشنی کی رفتار 300000 یعنی تین لاکھ کلو میٹر فی سیکنڈ ہے ۔ اس کا مطلب روشنی زمین کے گرد ایک سیکنڈ میں سات چکر لگاسکتی ہے ۔ اور شب معراج نبی پاک ﷺ کو جس براق پر معراج کروائی گئی اس کی رفتار اس روشنی سے کئی زیادہ تھی جس کا اندازہ لگا یا ہی نہیں جاسکتا کیونکہ یہ ایک خالص معجزاتی معاملہ ہے ۔ جب رفتار اس قدر تھی تو آئن اسٹائن کے نظریئے کے مطابق رفتار جتنی زیادہ ہوگی وقت کم ہوتی جائے گی ، اس کو سمجھنا بھی آسان ہے ۔
*طی مکانی(length contraction )* اس کا مطلب یہ ہے کہ لاکھوں کروڑوں میٹرز کی وسعتوں میں بکھری مسافتوں کو ایک جنبش قدم میں سمٹ دینا ۔ یعنی رفتار جس قدر زیادہ ہوگی ، فاصلہ اسی قدر کم ہوتا چلا جائے گا ۔ اس کی متعدد مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں ۔ جیسے بائیک اور سائیکل کی مثال ہی لے لیجئے بائیک کی رفتار تیز ہے تو فاصلہ جلد سِمٹ جاتا ہے اور سائیکل کی رفتار کم ہے تو فاصلہ بمقابلہ بائیک کے جلد طے نہیں ہوپاتا ۔ اسی طرح نبی پاک ﷺ کے سفر معراج میں براق کی رفتار روشنی سے بھی تیز تھی( یہ صرف سمجھانے کے لئے ہے ورنہ روشنی کی رفتار سے اس کا موازنہ ہی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ ایک معجزاتی امر ہے )تو فاصلہ بالکل سمٹ گیا اوروقت کم سے کم ہوگیا ۔ آئن اسٹائن کی صرف ایک تھیوری سے ہی معراج کو سائنسی طرز پر سمجھا جاسکتا ہے ۔ مفتی اہلسنت حضرت علامہ مفتی محمد قاسم عطاری مدنی دامت برکاتہم العالیہ اپنے ایک آرٹیکل " معراج اور عقل " میں یہ تحریر فرماتے ہیں کہ : موجودہ سائنسی دور میں معجزہِ معراج کا سمجھنا اور ماننا مزید آسان ہوچکا ہے۔ کیونکہ پہلے لوگ کائنات میں موجود قوانینِ خداوندی سے واقف نہیں تھے تو عقل میں نہ آنے والی چیزوں کا اِنکار کردیتے تھے۔ جیسے اگر کوئی شخص آج سے ہزار سال پہلے دعویٰ کرتا کہ لاکھوں ٹن وزنی لوہے کا بنا ہوا محل ہوا میں اُڑسکتا ہے تو لوگ مذاق اڑاتے۔ لیکن آج ہوائی جہاز کو سب تسلیم کرتے ہیں۔ یونہی پانچ سو سال پہلے اگر کوئی شخص کہتا کہ ایک بٹن دبانے سے لاکھوں پنکھے، مشینیں اور چیزیں حرَکت میں آ سکتی اور کروڑوں بلب روشن ہوسکتے ہیں اور ایک بٹن دبانے سے سب کچھ بند ہوسکتا ہے، تو سننے والے اِنکار کردیتے۔ لیکن آج پاور ہاؤس کا ایک بٹن دبانے سے یہ سب حقیقی دنیا میں ہورہا ہے اور سب اِسے مانتے ہیں۔ جب انسانی علم و قدرت کا کرشمہ ایسا حیرت انگیز ہے تو قدرتِ خداوندی کا آپ خود ہی تصور کرلیں۔ صرف سمجھانے کیلئے عرض ہے کہ اگر شبِ معراج میں معنَوی بٹن آف کرکے سارا زمینی نظام روک کر معراج کرائی گئی ہو اور وہاں سے واپَسی پر دوبارہ نظام مُتحرِّک کردیا ہو تو خدا کی قدرت سے کیا بعید ہے۔ اب تو سائنسدان برملا اِعتراف کررہے ہیں کہ ہم اب تک کائنات کے رازوں کا بہت معمولی سا حصہ دریافت کرسکے ہیں۔ چنانچہ ماضی قریب کا سب سے بڑا سائنس دان ”آئن اسٹائن“ کہہ گیا ہے: ”میں نے ریڈیو دُور بِین کے ذریعے ایک ایسا کہکشاں تو دیکھ لیا ہے، جو زمین سے دو کروڑ نوری سال دور ہے، یعنی روشنی جو فی سیکنڈ ایک کروڑ چھیاسی ہزار میل طے کرتی ہے، وہاں دو کروڑ سال میں پہنچے گی، مگر جہاں تک کائنات کی سرحدیں معلوم کرنے کا تعلق ہے، اگر میری عمر ایک ملین یعنی دس لاکھ برس بھی ہوجائے تب بھی دریافت نہیں کرسکتا۔“ *یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید* *کہ آرہی ہے دمادم صدائے کُنْ فَیَکُون*
ہماری آنکھوں کے سامنے ناممکن اُمور، ممکِنات میں بدل رہے ہیں:موبائل فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے چند لمحوں میں ہماری آوازیں، پیغامات، ای میلز ہزاروں میل دور پہنچ جاتے ہیں۔ یونہی کسی جگہ ہونے والا واقعہ چند سیکنڈ میں تمام دنیا میں ٹی وی اور انٹرنیٹ کے ذریعے قابلِ مُشاہَدہ ہوجاتا ہے۔ کار سے جہاز کی رفتار تیز ہے اور خلائی شٹل کی اُس سے زیادہ تیز اور مریخ جانے والی گاڑی کی رفتار تمام سابِقہ گاڑیوں سے تیز تر ہے۔ ہوا سے تیز رفتار، آواز ہے اور آواز سے تیز تر روشنی ہے۔ یونہی کائنات میں ستاروں کی گردش ناقابلِ یقین حد تک تیز ہے۔ الغرض ابھی تو کائناتی حقائق ظاہر ہونے کی ابتدا ہے۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟ اِن سب حقائق کے ہوتے ہوئے غور کرلیں کہ اِن تمام رفتاروں کا خالق، کائنات کا مالک اگر اپنے رسول ﷺ کو چند لمحوں میں لاکھوں میل کی سیر اور کروڑوں مُشاہَدات کروادیتا ہے تو اس میں کون سی بات ناممکن و خلافِ عقل ہے؟ اس مضمون سے مزید سائنسی اعتبار سے معراج النبی ﷺ کے معجزے کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے ۔انتہائی ، سادہ اورآسان اندازمیں آئن اسٹائن کی تھیوری اور مزید آرٹیکل میں دی گئی مثالیں بھی قلب و ذہن کو روشن کرتی ہیں۔
قرآن و حدیث اور اسلاف و اکابرینِ امت کی روشنی میں سفرِ معراج النبی ﷺ کا اجمالی بیان سمجھنے اور سائنسی اعتبار سے معراج کی حقانیت کو جان لینے کے بعد، اب کورس کے اس مرحلے میں ہم واقعہ معراج کی تفصیل بیان کر رہے ہیں تاکہ اس سفر کے حقائق کو بخوبی سمجھا جا سکے، اور مطالعہ صرف معلومات تک محدود نہ رہے بلکہ علمی ادراک اور قلبی یقین بھی پیدا کرے۔ سفر معراج کی تاریخ اور مہینہ: سفر معراج کس مہینے اور کس تاریخ کو ہوا اس بارے میں مورخین کے اقوال مختلف ہیں لیکن اس معاملے میں سب کا اتفاق ہے کہ سفر معراج نزول وحی کے زمانے میں اور ہجرت سے پہلے ہوا ۔ سفر معراج کی تاریخ اور مہینے سے متعلق جس قول کو ترجیح دی جاتی ہے وہ ستائیس رجب المرجب ہے ۔ امام شرف الدین نووی علیہ الرحمہ سفر معراج سے متعلق فرماتے ہیں : *ثُمَّ نَسَخَهُ بِإِيجَابِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ لَيْلَةَ الْإِسْرَاءِ بِمَكَّةَ بَعْدَ النُّبُوَّةِ بِعَشْرِ سِنِينَ وَثَلَاثَةِ أَشْهُرٍ لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ مِنْ رَجَبٍ،* ترجمہ : اس (قیام اللیل ) کے بعد اللہ تعالیٰ نے شبِ اسراء مکہ مکرمہ میں نبوت کے دس سال اور تین ماہ بعد، ستائیسویں رجب کی رات پانچ وقت کی نمازوں کو فرض قرار دے کر اس (قیام اللیل کے) حکم کو منسوخ فرما دیا۔( الروض الطالبین ، حصہ 10، صفحہ 206)
قرآن پاک میں سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں مسجد الحرام سے معراج کا ذ کر کیا گیا اور حدیث پاک میں نبی پاک ﷺ نے ام ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر کا ذکر فرمایا ہے ۔ یہاں کوئی تضاد نہیں ہے کیونکہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر سے آپ کو مسجد الحرام لایا گیا پھر وہاں سے مسجد اقصی کے سفر کا آغاز ہو ا۔ شارح بخاری علامہ محمود عینی حنفی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ نبیِّ کریمﷺ حضرت اُمِّ ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر پر آرام فرمارہے تھے جوشعب ابی طالب کے پاس تھا، گھر کی چھت کھل گئی، فرشتہ اندر داخل ہوا اور آپﷺ کو گھر سے مسجد حرام لایا گیا (عمدۃ القاری، تحت الحدیث:3887)۔ شق صدر کا واقعہ اور براق پر سواری: شق صدر بھی نبی پاک ﷺ کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہے ۔ اور یہ نبی پاک ﷺ کی زندگی مبارک میں چار مرتبہ ہوا ۔ یعنی سیدنا جبرئیل امین علیہ الصلوۃ والسلام نے مبارک سینے کو چاک کرکے مقدس دل باہر نکالا سونے کے طشت میں آب زم زم سے غسل دیا اور نور وحکمت سے بھر کر اس کی جگہ واپس رکھ دیا ۔ شب معراج آپ ﷺ کو مسجد الحرام لا نے کے بعد آب زم زم کے کنوئیں کے پاس لایا گیا اور وہاں شق صدر کیا گیا ۔ یہ شق صدر چوتھی بار تھا ۔ امام بخاری علیہ الرحمہ نے "صحیح بخاری " میں شق صدر والی روایت کو ان الفاظ کے ساتھ ذکر فرمایا : *فَاسْتَخْرَجَ قَلْبِي، ثُمَّ أُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مَمْلُوءَةٍ إِيمَانًا، فَغُسِلَ قَلْبِي، ثُمَّ حُشِيَ ثُمَّ أُعِيدَ* ترجمہ : (شب معراج ) میرا دل نکالا گیا، پھر ممیرے پاس ایک سونے کا طشت (برتن) لایا گیا جو ایمان وحکمت سے بھرا ہوا تھا،پھر میرے دل کو (آب زم زم ) سے غسل دیا گیا ،پھر اس برتن میں موجود علم و حکمت سے مبارک دل کو بھر دیا گیا اور پھر دل مبارک کو واپس سینے مبارک میں رکھ دیا گیا ۔ (صحیح بخاری ، حدیث 3887) اس کے بعد نبی پاک ﷺ کی شان و عظمت کے اظہار کے لئے براق لایا گیا جس پر نبی پاک ﷺ کو سوار کیا گیا ۔ سوار کرنے والے دو مقرب فرشتے حضرت جبریل امین اور میکائیل علیہما السلام تھے ۔ مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :(حُضور ﷺ نے فرمایا:)میں خود سُوار نہ ہوا بلکہ سُوار کیا گیا،جبریلِ امین علیہ السلام نے حُضورﷺ کو سُوار کیا،رِکاب جنابِ جبریل علیہ السلام نے تھامی اور لگام میکائیل علیہ السلام نے پکڑی،اِس شان سے دُولہا کی سُواری چلی۔خیال رہے کہ حُضورِ انور صﷺ کا بُراق پر سُوار ہونا اِظہارِ شان کے لئے تھا جیسے دولہا گھوڑے پر ہوتے ہیں بَراتی پیدل اور گھوڑا خِراماں خِراماں(آہستہ آہستہ)چلتا ہے،بُراق کی یہ رفتار بھی خِراماں تھی۔(مرآۃ المناجیح،۸/ ۱۳۷ملخصاً)۔
براق پر سوار ہونے کے بعد بیتُ المقدس کی طرف آپ ﷺ کا سفر شروع ہوا، اس دوران آپﷺنے مختلف مقامات پر نماز ادافرمائی اور مختلف مشاہدات کئے،ان میں سے چند کا ذکر کیاجاتاہے۔ آپﷺ نے بیتُ المقدس کی طرف جاتے ہوئے دورانِ سفر تین مقامات پر نمازیں پڑھیں۔ چنانچہ آپﷺارشاد فرماتے ہیں کہ دورانِ سفر ایک مقام پر حضرت جبرائیل نے عرض کیا :اترئیے اور نماز پڑھ لیجئے! میں نے اُتر کرنماز پڑھی، پھر عرض کیا: معلوم ہے کہ آپ نےکس جگہ نماز پڑھی ہے؟ (پھر کہنے لگے)آپ نے طیبہ(یعنی مدینہ پاک) میں نماز پڑھی ہے، اسی کی طرف آپ کی ہجرت ہو گی۔ پھر ایک اور مقام پر عرض کیا کہ اتر کر نماز پڑھ لیجئے، میں نے اتر کر نماز پڑھ لی، جبریل علیہ السّلام نے عرض کیا: معلوم ہے کہ آپ نے کہاں نماز پڑھی ہے؟(پھر کہنے لگے) آپ نے طُورِ سیناپر نماز پڑھی ہے جہاں اللہ پاک نے حضرت موسیٰ علیہ السّلام کو ہَم کلامی کا شَرَف عطا فرمایا تھا۔ پھر ایک اور جگہ عرض کیاکہ اتر کر نماز پڑھ لیجئے، میں نے اتر کر نماز پڑھی، جبریل نے عرض کیا: معلوم ہے کہ آپ نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ (پھر کہنے لگے) آپ نے بیتِ لحم میں نماز پڑھی ہے جہاں حضرتِ عیسیٰ علیہ السّلام کی وِلادت ہوئی تھی۔(ماہنامہ فیضان مدینہ، فروری 2022 ، بحوالہ نسائی، ص81، حديث:448)۔ بیت المقدس (مسجد اقصی ) آمد: ایک روایت میں ہے کہ حضورِ انورﷺ بیت المقدس میں بابِ ِیمانی سے داخِل ہوئے پھر مسجد کے پاس آئے اور وہاں اپنی سواری باند ھ دی۔(سیرت حلبیہ، 1/523) آپ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: میں نے براق کو اسی حلقے میں باندھا جہاں انبیائے کرام اپنی سواریاں باندھا کرتے تھے۔ پھر مسجد میں داخل ہوا اور دو رکعتیں پڑھیں، پھر باہر نکلا تو بُخاری شریف کی رِوَایَت کے مُطَابِق یہاں آپ کے پاس دودھ اور شراب کے دو پیالے لائے گئے، آپ نے انہیں مُلاحظہ فرمایا پھر دودھ کا پیالہ قبول فرما لیا۔ اس پر حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام کہنے لگے : ”*اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ہَدَاکَ لِلْفِطْرَۃِ لَوْ اَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ اُمَّتُکَ* یعنی تمام تعریفیں اللہ پاک کے لئے جس نے آپ ﷺ کی فطرت کی جانب رہنمائی فرمائی، اگر آپﷺ شراب کا پیالہ قبول فرماتے تو آپ ﷺکی اُمَّت گمراہ ہو جاتی۔“( ماہنامہ فیضان مدینہ ، فروری 2022 بحوالہ صحيح البخارى، ص۱۱۸۱، الحديث : ۴۷۰۹) نبی پاک ﷺ نے انبیائے کرام کی امامت فرمائی اور اس کے بعد مختلف انبیائے کرام علیہم السلام نے خطبے ارشاد فرمائے اور سب سے آخر میں نبی پاک ﷺ نے خطبہ ارشادفرمایا ۔ یہاں ہم نبی پاک ﷺ کا خطبہ حصول برکت کے لئے پیش کررہے ہیں۔
*الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَرْسَلَنِي رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ، وَكَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا، وَأَنْزَلَ عَلَيَّ الْفُرْقَانَ فِيهِ تِبْيَانُ كُلِّ شَيْءٍ، وَجَعَلَ أُمَّتِي خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ، وَجَعَلَ أُمَّتِي أُمَّةً وَسَطًا، وَجَعَلَ أُمَّتِي هُمُ الْأَوَّلُونَ وَهُمُ الْآخِرُونَ، وَشَرَحَ صَدْرِي، وَوَضَعَ عَنِّي وِزْرِي، وَرَفَعَ لِي ذِكْرِي وَجَعَلَنِي فَاتِحًا وَخَاتَمًا.* ترجمہ: تمام تعریفیں اللہ پاک کی ہیں جس نے مجھے تمام جہانوں کے لئے رحمت اور تمام انسانوں کے لئے خوش خبری سنانے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ، مجھ پر حق وباطِل میں فرق کرنے والی کِتاب (قراٰنِ کریم) نازِل فرمائی جس میں ہر شے کا روشن بیان ہے ، میری اُمَّت کو بہترین اُمّت بنایا جو لوگوں (کی ہدایت) کے لئے ظاہر کی گئی۔ اللہ پاک نے میری اُمّت کو سب سے افضل اُمّت بنایا جو (جنّت میں داخلے کے اعتبار سے) اوّل اور (دنیا میں آنے کے اعتبار سے) آخری اُمّت ہے۔ اللہ کریم نے میرا سینہ کُشادہ فرمایااورمجھ سےمیرا بوجھ دُور فرما دیا ، میرےلئے میرا ذِکْر بلند فرمادیا اور مجھے فاتِح اور خاتِم بنایا۔ حضور جان عالم ﷺ کے خطباء ارشاد فرمانے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انبیائے کرام علیہم السلام سے فرمایا : فبِهَذَا فَضَلَكُمْ مُحَمَّدٌترجمہ : اسی وجہ سے محمد ﷺ کو آپ سب پر فضیلت عطا کی گئی ہے ۔ (دلائل النبوۃ ، جلد 01، صفحہ 400) اس خطبے کو ایک بار دوبارہ پڑھیں اور دیکھیں یہ خطبہ دیا مسجد اقصی میں دیا جارہا ہے ، خطبہ دینے والے پیارے آقاﷺ ہیں ، خطبہ سننے والا انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام ہیں ، موقع معراج کا ہے اور پیارے آقا ﷺ ذکر کس کا کررہے ہیں " اپنی امت" کا ذکر کررہے ہیں ۔ یہ ہے ہمارے آقا ﷺ کی اپنی امت سے محبت ! خُود معراج پر تشریف لے جا رہے ہیں اورانبیائے کرام علیہم السلام کے اجتماع میں اپنی اُمّت کاذِکْرفرماکر، اُمّت کے فضائل بیان کر کے اُمّت کی بھی معراج کروا رہے ہیں۔ *جو نہ بُھولا ہم غریبوں کو رضا* *یاد اُس کی اپنی عادت کیجئے!*
سفر معراج النبی ﷺ کا یہ دوسرا حصہ ہے جو مسجد اقصٰی میں انبیاء کی امامت کے بعد سدرۃ المنتھی تک کا سفر ہے ۔ حدیث پاک میں نبی پاک ﷺ نے آسمان کے سفر کی تفصیل خود ہی بیان فرمائی اور یہ مکمل حدیث پاک پہلے بیان کردی گئی ہے ۔ یہاں اس حدیث کا دوبارہ ذکر نہیں کیا جارہا ہے صرف آسمان کے سفر اور انبیائے کرام علیہم السلام سے ملاقات اور ہونے والی گفتگو ذکر کی جارہی ہے ۔ پہلا آسمان: بیت المقدس کے مُعَامَلات سے فارِغ ہونے کے بعد پیارے ﷺنے آسمان کی طرف سفر شروع فرمایا اور ہر بلندی کو پست فرماتے تیزی سے آسمان کی طرف بڑھتے چلے گئے، آن کی آن میں پہلا آسمان آ گیا۔ رِوَایَت میں ہے کہ آپ ﷺ اس کے ایک دروازے پر تشریف لائے جسے بَابُ الْحَفَظَہ کہا جاتا ہے، اس پر اسماعیل نامی ایک فِرِشتہ مُقَرَّر ہے۔حضرتِ جبرائیل علیہ السلام نے دروازہ کھلوانا چاہا۔ پوچھا گیا : کون ہے؟ حضرت جبریل امین علیہ السلام نے جواب دیا : جبریل ہوں۔ پوچھا گیا : آپ کے ساتھ کون ہیں؟ جواب دیا : محمد مصطفےٰ ﷺ۔ پوچھا گیا : کیا اِنہیں بُلایا گیا ہے؟ جواب دیا : ہاں۔ اس پر کہا گیا : ”*مَرْحَبًام بِہٖ فَنِعْمَ الْمَجِیْءُ جَاءَ* یعنی خوش آمدید! کیا ہی اچھا آنے والا آیا ہے۔“ پھر دروازہ کھول دیا۔ جب آپ ﷺدروازے سے گزر کر آسمان کے اُوپر تشریف لائے تو دیکھا کہ حضرتِ آدم علیہ السلام تشریف فرما ہیں۔ حضرتِ جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا : یہ آپﷺ کے والِد حضرتِ آدم ع علیہ السلام ہیں، اِنہیں سلام فرمائیے۔ آپ علیہ السلام نے سلام کہا، اُنہوں نے سلام کا جواب دیا پھر آپ ﷺ کو خُوش آمدید کرتے ہوئے کہنے لگے : ”*مَرْحَبًام بِالْاِبْنِ الصَّالِحِ وَالنَّبِیِّ الصَّالِحِ* یعنی صالح بیٹے اور صالح نبی کو خوش آمدید۔“
سیِّدِ عالَم، نورِ مجسم ﷺ نے حضرتِ آدم علیہ السلام کے دائیں بائیں کچھ لوگوں کو ملاحظہ فرمایا، جب آپ علیہ السلام اپنی دائیں جانب دیکھتے تو ہنس پڑتے ہیں اور جب بائیں جانب دیکھتے تو رو پڑتے ہیں۔ حضرتِ جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا : اِن کے دائیں اور بائیں جانِب جو یہ صورتیں ہیں یہ اِن کی اولاد ہیں، دائیں جانِب والے جنتی ہیں اور بائیں جانِب والے جہنمی ہیں۔ دوسرا آسمان: اس کے بعد پیارے آقا ﷺ نے دوسرے آسمان کی طرف سفر شروع فرمایا، آن کی آن میں دوسرا آسمان بھی آ گیا اور یہاں بھی وہی مُعَامَلہ پیش آیا کہ حضرتِ جبرائیل علیہ السلام نے دروازہ کھلوانا چاہا۔ پوچھا گیا : کون ہے؟ حضرتِ جبریل امین علیہ السلام نے جواب دیا : جبریل ہوں۔ پوچھا گیا : آپ کے ساتھ کون ہیں؟ جواب دیا : محمد مصطفےٰ ﷺ۔ پوچھا گیا : کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ جواب دیا : ہاں۔ اس پر کہا گیا : ”*مَرْحَبًام بِہٖ فَنِعْمَ الْمَجِیْءُ جَاءَ* یعنی خوش آمدید! کیا ہی اچھا آنے والا آیا ہے۔“ پھر دروازہ کھول دیا۔ جب آپ ﷺ دروازے سے گزر کر آسمان کے اُوپر تشریف لائے توحضرتِ یحییٰ اور حضرتِ عیسیٰ علیہما السلام کو مُلاحظہ فرمایا، یہ دونوں خالہ زاد بھائی ہیں۔ حضرتِ جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا : یہ حضرتِ یحییٰ اور حضرتِ عیسیٰ علیہما السلام ہیں، اِنہیں سلام فرمائیے۔ آپ ﷺنے سلام کہا۔ اُنہوں نے سلام کا جواب دیا پھر آپ ﷺ کو خُوش آمدید کرتے ہوئے کہنے لگے : ”*مَرْحَبًام بِالْاَخِ الصَّالِحِ وَ النَّبِیِّ الصَّالِحِ* یعنی صالح بھائی اور صالح نبی کو خُوش آمدید۔
پھر تیسرے آسمان کی طرف سفر شروع ہوا، جب وہاں پہنچے حضرتِ جبریل امین علیہ السلام نے دروازہ کھلوانا چاہا۔ پوچھا گیا : کون ہے؟ فرمایا : جبریل۔ پوچھا گیا : آپ کے ساتھ کون ہیں؟ فرمایا : محمد مصطفےٰ ﷺ۔ پوچھا گیا : کیا اِنہیں بُلایا گیا ہے؟ فرمایا : ہاں۔ اس پر کہا گیا : ”*مَرْحَبًام بِہٖ فَنِعْمَ الْمَجِیْءُ جَاءَ* یعنی خوش آمدید! کیا ہی اچھا آنے والا آیا ہے۔“ پھر دروازہ کھول دیا گیا۔ دروازے سے گزر کر جب آپ ﷺ آسمان کے اُوپر پہنچے تو حضرتِ یُوسُف علیہ السلام کو مُلاحظہ فرمایا۔ حضرتِ جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا : یہ حضرتِ یُوسُف علیہ السلام ہیں اِنہیں سلام فرمائیے۔ آپ ﷺ نے سلام کہا، اُنہوں نے سلام کا جواب دیا اور پھر آپ ﷺ کو خُوش آمدید کرتے ہوئے کہنے لگے : ”*مَرْحَبًام بِالْاَخِ الصَّالِحِ وَ النَّبِیِّ الصَّالِحِ* یعنی صالح بھائی اور صالح نبی کو خوش آمدید۔
پھر چوتھے آسمان کی طرف سفر شروع ہوا، وہاں پہنچ کر بھی یہی مُعَامَلہ ہوا کہ حضرتِ جبریل امین علیہ السلام نے دروازہ کھلوانا چاہا۔ پوچھا گیا : کون ہے؟ فرمایا : جبریل۔ پوچھا گیا : آپ کے ساتھ کون ہیں؟ فرمایا : محمد مصطفےٰ ﷺ پوچھا گیا : کیا اِنہیں بُلایا گیاہے؟ فرمایا : ہاں۔ اس پر کہا گیا : ”*مَرْحَبًام بِہٖ فَنِعْمَ الْمَجِیْءُ جَاءَ* یعنی خُوش آمدید! کیا ہی اچھا آنے والا آیا ہے۔“ اور پھر دروازہ کھول دیا گیا۔ اس سے گزر کر جب پیارے آقا ﷺ آسمان کے اُوپر تشریف لائے تو حضرتِ اِدْرِیس علیہ السلام کو مُلاحظہ فرمایا۔ حضرتِ جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا : یہ حضرتِ اِدْرِیس علیہ السلام ہیں، اِنہیں سلام فرمائیے۔ آپ ﷺ نے سلام کہا، اُنہوں نے سلام کا جواب دیا اور پھر آپ ﷺ کو خُوش آمدید کرتے ہوئے کہا : ”*مَرْحَبًام بِالْاَخِ الصَّالِحِ وَ النَّبِیِّ الصَّالِحِ* یعنی صالح بھائی اور صالح نبی کو خُوش آمدید۔
اس کے بعد پیارے آقا ﷺ نے پانچویں آسمان کی طرف سفر کا آغاز فرمایا، یہاں پہنچ کر بھی حضرتِ جبریل امین عَ علیہ السلام نے دروازہ کھلوانا چاہا۔ پوچھا گیا : کون ہے؟ فرمایا : جبریل۔ پوچھا گیا : آپ کے ساتھ کون ہیں؟ فرمایا : محمد مصطفےٰ ﷺ۔ پوچھا گیا : کیا اِنہیں بُلایا گیا ہے؟ فرمایا : ہاں۔ اس پر کہاگیا : ”*مَرْحَبًام بِہٖ فَنِعْمَ الْمَجِیْءُ جَاءَ* یعنی خُوش آمدید! کیا ہی اچھا آنے والا آیا ہے۔“ پھر دروازہ کھول دیا۔ سیِّدِ عالَم، نورِ مجسم ﷺ دروازے سے گزر کر آسمان کے اُوپر تشریف لائے اور حضرتِ ہارون علیہ السلام کو ملاحظہ فرمایا۔ حضرتِ جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا : یہ حضرتِ ہارون علیہ السلام ہیں، انہیں سلام فرمائیے۔ آپ ﷺنے سلام کہا، اُنہوں نے سلام کا جواب دیا اور پھر آپ ﷺکو خُوش آمدید کرتے ہوئے کہا : ”*مَرْحَبًام بِالْاَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِیِّ الصَّالِحِ* یعنی صالح بھائی اور صالح نبی کو خُوش آمدید۔
پانچویں آسمان پر حضرتِ سیِّدُنا ہارون علیہ السلام سے ملاقات فرمانے کے بعد پیارے آقا، ﷺ چھٹے آسمان پر تشریف لائے۔ حضرتِ جبریل امین علیہ السلام نے دروازہ کھلوانا چاہا۔ پوچھا گیا : کون ہے؟ فرمایا : جبریل۔ پھر پوچھا گیا : آپ کے ساتھ کون ہیں؟ فرمایا : محمد مصطفےٰ ﷺ۔ پوچھا گیا : کیا اِنہیں بلایا گیا ہے؟ فرمایا : ہاں۔ اس پر کہا گیا : ”*مَرْحَبًام بِہٖ فَنِعْمَ الْمَجِیْءُ جَاءَ* یعنی خُوش آمدید! کیا ہی اچھا آنے والا آیا ہے۔“ پھر دروازہ کھول دیا گیا۔ سرکارِ عالی وقار، ﷺ دروازے سے گزر کر آسمان کے اُوپر تشریف لائے اور یہاں حضرتِ موسیٰ کَلِیْمُ اللہ علیہ السلام کو مُلاحظہ فرمایا۔ حضرتِ جبرائیل علیہ السلام عرض گُزَار ہوئے : یہ حضرتِ موسی علیہ السلام ہیں، اِنہیں سلام فرمائیے۔آپ ﷺ نے سلام کہا، اُنہوں نے سلام کا جواب دیا پھر آپ ﷺ کو خُوش آمدید کرتے ہوئے کہا : ”*مَرْحَبًام بِالْاَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِیِّ الصَّالِحِ* یعنی صالح بھائی اور صالح نبی کو خُوش آمدید۔“ حضرتِ موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات فرمانے کے بعد جب شاہِ آدم وبنی آدمﷺ آگے بڑھے تو حضرتِ موسیٰ علیہ السلام گِرْیَہ فرمانے لگے۔ دَرْیَافت کیا گیا : آپ علیہ السلام کو کس چیز نے رُلایا؟ فرمایا : مجھے اس بات نے رُلایا ہے کہ ایک نوجوان جو میرے بعد مبعوث ہوئے ان کی اُمَّت میں سے داخِلِ جنّت ہونے والے لوگوں کی تعداد میری اُمَّت میں سے داخِلِ جنّت ہونے والوں سے زیادہ ہو گی۔
پھر آپ ﷺ ساتویں آسمان پر تشریف لائے، یہاں بھی حضرتِ جبریل امین علیہ السلام م نے دروازہ کھلوانا چاہا۔ پوچھا گیا : کون ہے؟ فرمایا : جبریل۔ پوچھا گیا : آپ کے ساتھ کون ہیں؟ فرمایا : محمد مصطفےٰ ﷺ۔ پوچھا گیا : کیا اِنہیں بُلایا گیا ہے؟ فرمایا : ہاں۔ اس پر کہا گیا : ”*مَرْحَبًام بِہٖ فَنِعْمَ الْمَجِیْءُ جَاءَ* یعنی خُوش آمدید! کیا ہی اچھا آنے والا آیا ہے۔“ پھر دروازہ کھول دیا۔ جب پیارے آقا ﷺ دروازے سے گزر کر آسمان کے اُوپر تشریف لائے تو حضرتِ ابراہیم خَلِیْلُ اللہ علیہ السلام کو مُلاحظہ فرمایا، آپ علیہ السلام بیت المعمورسے ٹیک لگائے تشریف فرما تھے۔ حضرتِ جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا : یہ آپ ﷺ کے والِد ہیں، اِنہیں سلام کہئے۔ آپ ﷺ نے سلام کہا، اُنہوں نے سلام کا جواب دیا پھر آپ ﷺ کو خُوش آمدید کرتے ہوئے کہا : ”*مَرْحَبًام بِالْاِبْنِ الصَّالِحِ وَالنَّبِیِّ الصَّالِحِ* یعنی صالح بیٹے اور صالح نبی کو خُوش آمدید۔ سدرۃ المنتھی: ساتویں آسمان پر حضرت ِ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام سے ملاقات فرمانے کے بعد نبی پاک ﷺ سِدْرَۃُ المنتہیٰ کے پاس تشریف لائے۔ یہ ایک نورانی بیری کادرخت ہے، جس کی جڑ چھٹے آسمان پر اور شاخیں ساتویں آسمان کے اُوپر ہیں، اس کے پھل مقامِ ہجر کے مٹکوں کی طرح بڑے بڑے اور پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح ہیں۔ حضرتِ جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا : یہ سِدْرَۃُ المنتہیٰ ہے۔ پیارے آقا ﷺ نے یہاں چار نہریں مُلاحظہ فرمائیں جو سِدْرَۃُ المنتہیٰ کی جڑ سے نکلتی تھیں، ان میں سے دو تو ظاہِر تھیں اور دو خفیہ۔ آپ ﷺ نے حضرتِ جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام سے دَرْیَافت فرمایا : اے جبرائیل! یہ نہریں کیسی ہیں؟ عرض کیا : خفیہ نہریں تو جنت کی ہیں اور ظاہِری نہریں نِیل اور فُرَات ہیں۔
مقامِ مستویٰ جب پیارے آقاﷺسِدْرَۃُ المنتہیٰ سے آگے بڑھے تو حضرتِ جبرائیل علیہ السلام وہیں ٹھہر گئے اور آگے جانے سےمَعْذِرَت خواہ ہوئے۔ زرقانی علی المواہب میں ہے : *اَتَانِي جِبْرِيلُ، وَكَانَ السَّفِيرَ بِي إِلَى رَبِّي، إِلَى أَنْ اِنْتَهَى إِلَى مَقَامٍ، ثُمَّ وَقَفَ عِنْدَ ذٰلِكَ، فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ، فِي مِثْلِ هٰذَا الْمَقَامِ يُتْرَكُ الْخَلِيلُ خَلِيلَهُ؟ فَقَالَ: إِنْ تَجَاوَزْتُهُ احْتَرَقْتُ بِالنُّورِ* ترجمہ:نبی پاک ﷺ نے فرمایا کہ حضرت جبریل میرے پاس آئے کہ مجھےمیرے رب کے پاس لے جائیں یہاں تک کہ وہ ایک مقام پر پہنچ کر رک گئے ،تو نبی پاک ﷺ نے فرمایا:اے جبریل! کیاایسے مقام پر دوست اپنے دوست کو چھوڑ دیتا ہے ؟ حضرت جبریل علیہ السلام نے عرض کی:اگر میں آگے بڑھا تو میں نور سے جل جاؤں گا۔ اسی روایت میں مزید آگے یہ ہے جب نبی پاک ﷺ جانے لگے تو حضرت جبریل سے پوچھا : *اجِبْرِيْلُ! هَلْ لَكَ مِنْ حَاجَةٍ؟*یعنی اے جبریل! کیا تمہاری کوئی حاجت ہے(جسے میں اللہ پاک کی بارگاہ میں پیش کروں)؟ جبريلِ امین عرض گزار ہوئے : *سَلِ اللهَ لِيْ اَنْ اَبْسُطَ جَنَاحِيْ علَى الصِّرَاطِ لِاُمَّتِكَ حَتّٰى يَجُوْزُوْا عَلَيْهِ* یعنی اللہ پاک سے میرے لئے سوال کیجئے کہ میں آپ کی اُمّت کے لئے پل صراط پر اپنا پر بچھادوں تاکہ وہ اس پر سے گزر کر پل صراط پار کرلیں۔ ( زرقانی علی المواہب ، جلد 08، صفحہ 195) پھر آپ ﷺ آگے بڑھے اور بلندی کی طرف سفر فرماتے ہوئے ایک مقام پر تشریف لائے جسے مستویٰ کہا جاتا ہے، یہاں آپ ﷺ نے قلموں کی چرچراہٹ سماعَت فرمائی۔ یہ وہ قلم تھے جن سے فِرِشتے روزانہ کے اَحْکامِ الٰہیہ لکھتے ہیں اور لوحِ محفوظ سے ایک سال کے واقعات الگ الگ صحیفوں میں نقل کرتے ہیں اور پھر یہ صحیفے شعبان کی پندرھویں شب متعلقہ حُکَّام فِرِشتوں کے حوالے کر دئیے جاتے ہیں۔ امام اہلسنت ، اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : زمین سے سِدْرَۃُ المنتہیٰ کا فاصلہ 50 ہزار سال کا رستہ ہے ، اس سے آگے مُسْتَویٰ ، اس کے بعد کو اللہ پاک جانے ، اس سے آگے عرش کے 70 حجابات ہیں ، ہر حجاب سے دوسرے حجاب تک 500 سال کا فاصلہ ہے۔ ( ملفوظات اعلی حضڑت ، صفحہ 439) تفصیل سے کی سیر مگر اِس پہ یہ طُرّہ اِک پل میں یہ طے ہو گیا رستہ شبِ مِعْرَاج زنجیر درِ پاک کی ہِلتی ہوئی پائی اور گرم تھا وہ بستر شبِ مِعْرَاج (قبالہ بخشش) معراج النبی ﷺ کا یہ دوسرا حصہ یہاں مکمل ہوتا ہے ، یہاں تک جبریل امین حضور ﷺ کے ساتھ رہے اور پھر آگے جانے سے معذرت کرلی ۔ اس کے بعد نبی پاک ﷺ کا سفر معراج کا تیسرا حصہ ہے جسے علماء "اعراج" کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
اُدن ُ مِنِّی کی صداوں میں حضور سید عالم ﷺ مقام مستوی سے آگے بڑھے تو عرش آیا ۔ آپ ﷺ کا یہ سفر آگے تک جاری رہا یہاں تک کے آپ ﷺ وہاں پہنچے جہاں خود "کہاں " اور کب سب ختم ہوگیا کیونکہ یہ الفاظ کسی مکان کے لئے بولے جاتے ہیں اور اب سفر تھا لامکاں کا ، جہاں ہمارے آقا ﷺ رونق افروز ہوئے وہاں نہ کوئی زمانہ تھا نہ ہی کوئی جگہ تھی ۔ اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : سراغِ اَین و متٰی کہاں تھا، نشانِ کیف و اِلیٰ کہاں تھا نہ کوئی راہی نہ کوئی ساتھی نہ سنگِ منزِل نہ مرحلے تھے یہاں اللہ پاک نے اپنے پیارے محبوب ﷺ کو وہ قربِ خاص عطا فرمایا کہ نہ کسی کو مِلا نہ ملے۔ حدیث پاک میں اس کے بیان کے لئے قَابَ قَـوْسَیْن کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ جنہیں اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب انتہائی قُرْب اور نزدیکی بتانا مقصود ہوتا ہے۔ دیدارِ الٰہی اور ہَم کَلامی کا شَرَف: سرکارِ عالی وقارﷺ نے بیداری کی حالت میں سر کی آنکھوں سے اپنے پیارے ربّ تعالی کا دیدار کیا۔ اور دیدار کیسا ؟ کہ پَردہ تھا نہ کوئی حجاب، زمانہ تھا نہ کوئی مکان، فِرِشتہ تھا نہ کوئی اِنسان، اور بےواسطہ کلام کا شَرَف بھی حاصِل کیا۔
وہ وحی کیا تھی جواللہ پاک نے اس قُرْبِ خاص میں بندۂ خاص کی طرف فرمائی اور کیا راز نیاز ہوئے، قرآنِ کریم کی آیت میں اسے ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : *فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ* ترجمۂ کنزالایمان : اب وحی فرمائی اپنے بندے کو جو وحی فرمائی۔ (پارہ 28، سورۃ النجم ، آیت 10) اکثر محققین فرماتے ہیں کہ اس وحی کا مضمون کسی کو معلوم نہیں کہ مُحِبّ اور محبوب کے اَسرار دوسروں پر ظاہِر نہیں کیے جاتے، اگراللہ پاک کو ان کا اِظْہَار مقصود ہوتا خُود ہی بیان فرما دیتا جب اُس نے بیان نہیں کیا کہ فرمایا : وحی کی اپنے بندے کی طرف جو وحی کی، تو کس کی مجال ہے کہ دَرْیَافت کرے۔ بہرحال مختصر طور پر اتنا کہا جا سکتا ہے کہ دین ودنیا کی جسمانی وروحانی، ظاہِری وباطِنی نعمتیں اور عُلُوْم ومَعَارِف جو کچھ بھی اللہ پاک اپنے حبیب ﷺکو اپنی حکمت کے مُطَابِق عطا فرمانا چاہتا تھا وہ سب کچھ عطا فرما دیا البتہ ہر نعمت اور ہر عِلْم وحکمت کا ظُہُور اپنے اپنے وقت پر ہوا اور ہوتا رہے گا۔ علماء کے نزدیک نبی پاک ﷺ کے تین احوال ہیں ۔ایک حال بشریت ، دوسرا حال ملکیت اور تیسرا حال حقیقت ۔ سفر معراج میں اللہ پاک نے یہ تینوں احوال ظاہر فرمائے ، مسجد حرام سے مسجد اقصی تک کی زمینی سیر حال بشریت میں تھی ۔ پھر وہاں سے سدرۃ المنتھی تک کی سیر حال ملکیت تھی جسے حال نورانیت بھی کہا جاسکتا ہے ۔ اور وہاں سے سیر لامکانی حال حقیقت میں تھی ۔ اور یہ وہ مقام تھا جہاں کوئی بشر و مَلَک نہیں جاسکتا ۔ اسی لئے جبریل امین علیہ السلام نے بھی سدرۃ المنتھی ، اور مستوی کے بعد آگے جانے سے معذرت کرلی ۔ گویا یہاں نبی پاک کے احوال میں سے حال بشریت و ملکیت دونوں ہی مغلو ب ہوئیں اور اب حضور ﷺ کے تیسرے حال یعنی حقیقت محمدیہ کا غلبہ ہو گیا ۔ (تاجدار شب اسریٰ، صفحہ 66).
شب معراج نبی پاک ﷺ نے اپنے رب تعالی کا بلاکیف دیدار کیا اور یہ دیدار کیسا تھا ۔ اللہ پاک نے قرآن کریم میں اس کو بیان فرمایا ؛ ارشاد باری تعالیٰ ہے : *مَا زَاغَ ٱلۡبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ* ترجمہ : آنکھ نہ کسی طرف پھری نہ حد سے بڑھی۔ علامہ سید ابو الحسنات محمد احمد قادری علیہ الرحمہ قصیدہ بردہ شریف کے ایک شعر کی شرح میں علامہ حقی اندلسی علیہ الرحمہ کا قول نقل فرماتے ہیں : *يَقُولُ الْفَقِيرُ:إِيرَادُ الرُّؤْيَةِ فِي مُقَابَلَةِ الْكَلَامِ يَدُلُّ عَلَى رُؤْيَةِ الْعَيْنِ،لِأَنَّ مُوسَىٰ عَلَيْهِ السَّلَامُ سَأَلَهَا فَمُنِعَ مِنْهَا،فَاقْتَضَىٰ أَنْ يُفَضَّلَ نَبِيُّنَا ﷺ بِمَا مُنِعَ مِنْهُ،وَهُوَ الرُّؤْيَةُ الْبَصَرِيَّةُ،وَلَا شَكَّ أَنَّ الرُّؤْيَةَ الْقَلْبِيَّةَ يَشْتَرِكُ فِيهَا جَمِيعُ الْأَنْبِيَاءِ حَتَّى الْأَوْلِيَاءِ* ترجمہ : یہ فقیر کہتا ہے کہ کلام موسی کے مقابلے میں رویت وارد ہے جو اس امر پر دال (دلالت کرتی ) ہے کہ یہ رؤیت بالعین (یعنی آنکھوں سے ) ہے ۔ اس لئے کہ حضرت موسی علیہ السلام نے جب اللہ پاک سے اُس کے دیدار کا سوال کیا تو منع کردیا گیا ۔ اس سے یہ بات پتا چلی ہمارے نبی پاک ﷺ کو اللہ پاک نے اپنے دیدار سے مشرف فرمایا جس سے موسی علیہ السلام کو منع کردیا گیا تھا ۔ اوروہ آنکھوں سے دیکھنا ہے ۔ کیونکہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تمام ہی انبیاء علیہم السلام نے بلکہ اولیائے عظام نے بھی رؤیت بالقلب کا شرف پایا ۔ (شرح قصیدہ بردہ ، صفحہ 303) امام عبدالرزاق علیہ الرحمہ نے حضرت معمر علیہ الرحمہ کے حوالے سے حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ سے نقل کیا : *أَنَّهُ حَلَفَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَأَىٰ رَبَّهُ* ترجمہ : وہ قسم اُٹھا کر کہا کرتے تھے کہ حضور ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ۔ (معراج حبیب خدا ، صفحہ 174).
قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب"الشفاء" میں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے:*عَنْ مُعَاذٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَبِّي.* ترجمہ : حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: میں نے اپنے رب کو دیکھا ہے۔ (الشفاء بتعریف حقوق المصطفی ، صفحہ 379) مسند احمد میں اسی طرح کی مرفوع روایت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سےنقل کی گئی ہے:عن ابن عباس، قال: *قال رسول اللّٰهﷺ: رأیت ربی تبارك وتعالىٰ.* ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺنے فرمایا: میں نے اپنے رب کو دیکھا ہے۔( مسند امام احمد، حدیث 2580) حافظ ابن حجر العسقلانی رضی اللہ عنہ نے فتح الباری میں مروزی سے امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا قول نقل کیا ہے: *عَنِ الْمَرْوَزِيِّ قُلْتُ لِأَحْمَدَ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ: إِنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَنْ زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَأَىٰ رَبَّهُ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللَّهِ الْفِرْيَةَ. فَبِأَيِّ شَيْءٍ يُدْفَعُ قَوْلُهَا؟ قَالَ: بِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَيْتُ رَبِّي. قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْبَرُ مِنْ قَوْلِهَا* ترجمہ: مروزی کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا یہ کہا کرتی تھیں کہ جس نے یہ کہا کہ حضورﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو اس نے اللہ پر بڑا بہتان باندھا۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس قول کا جواب کس چیز سے دیا جائے؟ تو آپ علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ نبی اکرمﷺکے اس ارشاد "رَأَيْتُ رَبِّي " کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول کا جواب دیاجائے، اور نبی اکرم ﷺ کا قول حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول سے بہت بڑا ہے۔ (فتح الباری ، صفحہ 608)۔
امام نووی علیہ الرحمہ نےمذکورہ مسئلہ پر تفصیلی بحث کرنے کے بعد لکھا ہے کہ رؤیت باری تعالی کے بارے میں کئی ساری روایات کی بنیاد پر اکثر علماء کے نزدیک راجح بات یہی ہے کہ حضور ﷺ نے معراج کے موقع پر اپنی مبارک آنکھوں سے اللہ تبارک وتعالیٰ کا دیدار کیا ہے۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں: *فَالْحَاصِلُ: أَنَّ الرَّاجِحَ عِنْدَ أَكْثَرِ الْعُلَمَاءِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَىٰ رَبَّهُ بِعَيْنَيْ رَأْسِهِ لَيْلَةَ الْإِسْرَاءِ، لِحَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَغَيْرِهِ مِمَّا تَقَدَّمَ. وَإِثْبَاتُ هَذَا لَا يَأْخُذُونَهُ إِلَّا بِالسَّمَاعِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.* ترجمہ : پس حاصل یہ ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث اور دوسری احادیث جو گزرگئی ہیں کی بنیاد پر اکثر علماء کے نزدیک راجح یہ ہے کہ معراج کی رات رسول اللہ ﷺنے اپنی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا ہے۔ اور اس بات کا اثبات رسول اللہ ﷺسے سنے بغیر حاصل نہیں کیاجاسکتا۔ (شرح النووی علی المسلم ، جلد 03، صفحہ 05)۔
امام احمد بن محمد بن اسماعیل الطحطاوی الحنفی علیہ الرحمہ نے حاشیہ طحطاوی میں اس بات کا ذکر فرمایا اور دیگر ائمہ نے بھی اپنی کتابوں میں اس کی صراحت کی ہے کہ نماز کے آخر میں پڑھا جانے والا تشہد وہ گفتگو ہے جو شب معراج اللہ پاک اور محبوب کائنات ﷺ کے درمیان ہوئی ۔ امام طحطاوی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : *وَهِيَ الصَّادِرَةُ مِنْهُ لَيْلَةَ الْإِسْرَاءِ، فَلَمَّا قَالَ ذٰلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِلْهَامٍ مِنَ اللَّهِ سُبْحَانَهُ، رَدَّ اللَّهُ عَلَيْهِ وَحَيَّاهُ بِقَوْلِهِ: "السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ"* ترجمہ :اور یہ کلمات وہ ہیں جو شبِ اسراء میں نبی ﷺ کی طرف سے صادر ہوئے۔ پس جب نبی کریم ﷺ نے یہ بات اللہ سبحانہٗ کے الہام سے فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو جواب دیا اور یوں آپ کو سلام فرمایا:"اے نبی! آپ پر سلام ہو، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔" جب اللہ پاک کی طرف سے حضور جان عالم ﷺ کو تحیت کا تحفہ ملا ، اس موقع امت سے محبت کرنے والے پیارے آقا ﷺ کو اپنی امت بھی یاد آئی اور اللہ کی بارگاہ میں اپنی امت کو بھی یاد فرمایا ۔ امام طحطاوی علیہ الرحمہ مزید فرماتے ہیں ؒ* فَلَمَّا أَفَاضَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالثَّلَاثَةِ مُقَابِلَ الثَّلَاثَةِ، وَالنَّبِيُّ أَكْرَمُ خَلْقِ اللَّهِ وَأَجْوَدُهُمْ، عَطَفَ بِإِحْسَانِهِ مِنْ ذٰلِكَ الْفَيْضِ لِإِخْوَانِهِ الْأَنْبِيَاءِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَصَالِحِي الْمُؤْمِنِينَ مِنَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ، فَقَالَ: "السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَىٰ عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ"* ترجمہ : پس جب اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے نبی ﷺ پر تین چیزوں کے بدلے تین انعامات نازل فرمائے، اور نبی ﷺ اللہ کی مخلوق میں سب سے زیادہ معزز اور سب سے زیادہ سخی ہیں،تو آپ ﷺ نے اپنے احسان و کرم سے اس فیض میں اپنے انبیاء بھائیوں، فرشتوں، اور جن و انس میں سے صالح مؤمنین کو بھی شامل فرمایا، اور یوں ارشاد فرمایا: *السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَىٰ عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ* یعنی : ہم پر سلام ہو اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی۔
التحیات کے اگلے کلمات سے متعلق علامہ طحطاوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :* فَلَمَّا أَنْ قَالَ ذٰلِكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْسَانًا مِنْهُ، شَهِدَ أَهْلُ الْمَلَكُوتِ الْأَعْلَىٰ، وَالسَّمَاوَاتِ، وَجِبْرِيلُ بِوَحْيٍ وَإِلْهَامٍ، بِأَنْ قَالَ كُلٌّ مِنْهُمْ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ* ترجمہ : پس جب نبی کریم ﷺ نے یہ کلمات اپنی شانِ احسان سے ادا فرمائے، تو عالمِ بالا کے فرشتوں، آسمانوں والوں، اور حضرت جبرئیل علیہ السلام نے وحی اور الہام کے ذریعے گواہی دی، اور ان میں سے ہر ایک نے یہ کہا:“میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔(حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح ، صفحہ 284) اس مقام پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے حضور سید عالم ﷺ نے صالحین کا ذکر تو فرمادیا لیکن امت کے گنہگار افراد کو کیوں یاد نہ فرمایا ۔ اس کا جواب اہل علم علم علماء نے بڑا پیارا عطا فرمایا ۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے حضور جان عالم ﷺ اپنے گنہگار امتیوں کو بھول جائیں ۔ پیارے آقا ﷺ نے وہاں بھی اپنی امت کے گنہگاروں پر اپنے دامن رحمت میں لے لیا ، وہ کیسے ؟ پیارا آقا ﷺ نے فرمایا : السلام علینا یعنی ہم پر سلام ہو ، یہاں جمع متکلم کی ضمیر کا استعمال فرمایا ۔ اور صالحین کا الگ سے ذکر کیا ۔ گویا زبان حا ل سے عرض کیا اے اللہ میرے گنہگار غلاموں پر بھی سلام ہو اور نیک بندوں پر بھی سلام ہو یعنی جو نیکوکار ہیں وہ تیرے ہیں اور جو گنہگار ہیں وہ میرے ہیں ، انہیں میرے سوا کون بچائے گا ۔ (تاجدار شب اسریٰ ﷺ، صفحہ 74) *جو نہ بھولا ہم غریبوں کو رضا* *یاد اس کی اپنی عادت کیجئے* محبوب کو اپنی بارگاہ میں بلا کر ، معرفت کے خزانے عطا فرماکر ، جب واپسی کا مژدہ ملتا ہے ، تو رب کریم نے اپنے محبوب کو امت کے لئے ایک تحفہ عطا فرمایا ۔ وہ تحفہ کیا ہے ؟ کورس کے اگلے حصے میں جانئے ۔۔
سفرِ معراج کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے جب حضورِ سیّد عالم ﷺ دیدارِ خداوندی سے مشرف ہوئے تو ربِّ کریم نے اپنے محبوب ﷺ کو خاص قرب بھی عطا فرمایا ، راز و نیاز کی باتیں بھی ہوئی اور بے مثال انعامات عطا فرمائے ۔ ان انعامات سے ایک انعام " امت کے لئے پچاس نمازوں کا تحفہ " بھی تھا۔ یہ تحفہ ایسا تحفہ ہے جس کو قبول کرکے ،مسلمان اپنے رب سے ہم کلام ہوتا ہے۔ یہ اس کی قسمت کی معراج ہے کہ اپنے خالق سے رابطہ اس کاقائم ہوجاتا ہے۔ واقعہ معراج کے ضمن میں جہاں بہت سارے مشاہدات کا ذکر کیا جاتا ہے اور سفرِ معراج کی عظمت واہمیت اور اس کی تاریخی حقیقت کو بیان کیا جاتا ہے وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ اس رات رب تعالی کی جانب سے اس سفر میں دئیے جانے والے عظیم انعام نماز پر بھی بھرپور توجہ دی جائے۔ اللہ تعالی نے نماز کی فرضیت کے لئے یہ خصوصی اہتمام فرمایا کہ محبوب ﷺکو اپنے قرب خاص میں بلا کر یہ تحفہ عطا فرمایا ، ورنہ دیگر عبادات اور احکامات وہ ہیں جو اسی زمین پر اتارے گئے، لیکن نماز کی یہ انفرادی خصوصیت ہے کہ اسے عرش پر بلاکر اور اعزاز و اکرام کے ساتھ نوازا گیا اس لئے شبِ معراج کے اس موقع پر ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم نماز کی عظمت کو اور اہمیت کو سمجھیں۔ اللہ پاک کو نماز کس قدر محبوب ہے کہ امت محمدیہ پر پچاس نمازیں فرض فرمائی حالانکہ رب تعالی غیبوں کا جاننے والا ہے ، وہ جانتا تھا کہ پچاس نمازیں نہیں پڑھی جائیں گی۔ کم بھی کروائی جائیں گی ۔ اللہ پاک ایک ہی مرتبہ میں پانچ نمازیں فرض فرمادیتا لیکن ایسا نہ ہوا بلکہ پچاس نمازیں اپنے محبوب کو عطا فرمائیں ۔
نمازوں کا تحفہ لے کر حضور ﷺ جب واپس لوٹے تو چھٹے آسمان پر حضرت موسی علیہ السلام سے دوبارہ ملاقات ہوئی ۔ حضرت موسی علیہ السلام نے پوچھا : اللہ پاک کی طرف سے آپ کو کیا حکم ملا ہے؟ نبی پاک ﷺ نے فرمایا ۔ دن اور رات میں پچاس نمازیں ادا کرنے کا حکم ملا ہے ؟ حضرت موسی علیہ السلام نےحضور ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی : *اِرْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ فَاسْأَلْہُ التَّخْفِیْفَ فَاِنَّ اُمَّتَکَ لَا یُطِیْقُوْنَ ذٰلِکَ فَاِنِّیْ قَدْ بَلَوْتُ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ وَخَبَّرْتُہُمْ* یعنی واپس اپنے ربّ کے پاس جائیے اور اُس سے کمی کا سوال کیجئے کیونکہ آپ ﷺ کی اُمَّت سے یہ نہیں ہو سکے گا، میں نے بنی اسرائیل کو آزما کر دیکھ لیا ہے اور ان کا تجربہ کر لیا ہے۔“ نبی پاک ﷺ بارگاہ الہی میں دوباہ حاضر ہوئے اور اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض کی :* یَارَبِّ خَفِّفْ عَلٰی اُمَّتِیْ *یعنی میرے رب میری امت پر تخفیف فرما ۔ اللہ پاک نے پانچ نمازیں کم کردی۔ اب 45 نمازیں فرض رہ گئیں ۔ نبی پاک ﷺ کا گزر پھر حضرت موسی علیہ السلام کے پاس سے ہوا اور وہی گفتگو ہوئی۔ نبی پاک ﷺ دوبارہ لوٹے اور مزید پانچ کردی گئیں ۔ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا حتی کہ پانچ نمازیں باقی رہی ۔ پانچ نمازیں رہ جانے کے باوجود حضرت موسی علیہ السلام نے کہا : آپ مزید تخفیف کی درخواست کیجئے ۔ نبی پاک ﷺ نے فرمایا : میں اپنے ربّ کے پاس اتنی بار گیا ہوں کہ اب مجھے (مزید کم کروانے کے لئے جانے میں ) حَیَا (شر م)آتی ہے۔
اللہ پاک نے پانچ نماز یں فرض فرمادی اور روایات میں مزید اس بات کا بھی ذکر ہے کہ اللہ پاک نے فرمایا : اے محمد ﷺ (ہمارے کلمات بدلتے نہیں ) دِن اور رات میں یہ پانچ نمازیں ہیں اور ہر نماز کا ثواب دس گُنا ہے، اِس طرح یہ 50نمازیں ہوئیں۔ یعنی جو بندہ پانچوں نمازیں ادا کرے گا اللہ پاک اسے ثواب پچاس نمازوں کا عطا فرمائے گا۔ (سفر معراج حدیث کی روشنی میں والے حصے میں یہ حدیث پاک تفصیلا مسلم شریف کے حوالے سے بیان کردی گئی تھی ، یہاں بطور واقعہ نماز کی اہمیت کے پیش نظر اسے دوبارہ ذکر کیا )۔
حضور ﷺ نے اِس رات جتنا سفر فرمایا، جتنے مشاہدات آپ ﷺ کو کروائے گئے اگر اس کا وقت نارمل حالت میں دیکھا جائے تو یہ سفر ہزاروں سالوں کا سفر ہے لیکن یہ سفر کیا نہیں گیا، کروایا گیا ہے اور کروانے والی ذات ہر عیب سے پاک و منزہ ہے۔ رب قدیر نے اپنی قدرت کاملہ سے اپنے محبوب ﷺ کو یہ سفر رات کے مختصر سے حصے میں کروادیا ۔ ہر بات ہماری عقل میں آجائے یہ ضروری نہیں ہے کیونکہ ہماری عقلیں بہت محدود ہیں اور رب تعالی کی قدرت لامحدود ہے۔ بعض نادان جو ہر بات کو عقل کے ترازو پر تولنے کے عادِی ہوتے ہیں ایسے مُعَاملات میں بھی اپنی ناقص عقل کو دخل دیتے ہیں، جب کچھ بن نہیں پڑتا تو من گھڑت اور باطِل تاویلوں اور حیلوں بہانوں سے خالِقِ کائنات کی قدرت کے ہی انکاری ہو جاتے ہیں۔ (مَعَاذَ اللہِ) یاد رکھئے! اللہ پاک قادِرِ مطلق ہے، وہ ہر شے پر قادِر ہے۔ یہ زمین وآسمان، یہ پہاڑ وسمندر، یہ چاند وسورج، یہ فاصلے اور یہ سفر کی منزلیں سب کچھ اُسی کا پیدا کیا ہوا ہے، وہ جس کے لئے چاہے فاصلے سمیٹ دے اور جس کے لئے چاہے بڑھا دے، عقلیں اس کا اِحَاطہ کرنے سے قاصِر ہیں۔
سفر معراج کو عقل سے نہیں نور ایمانی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اسی وجہ سے اللہ پاک نے قرآن کریم میں فرمایا : *وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْیَا الَّتِیْۤ اَرَیْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ* ترجمہ : اور ہم نے آپ کو جو مشاہدہ کرایا اسے لوگوں کیلئے آزمائش بنادیا۔ ( پارہ 15, سورہ بنی اسرائیل، آیت 60 ) آزمائش کیسی تھی ؟ نمازوں کا یہ تحفہ لے کر جب آپ ﷺ واپس اس جہاں میں لوٹے تو کیا ہوا ؟ رسولُ اللہ ﷺ نے لوگوں کو واقعہ معراج کی خبر دی تو کفار نے اس کو ناممکن سمجھا اور تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور بعض مسلمان بھی مُرتد ہوگئے اور کفار مذاق کے طور پر بیتُ المقدس کی عمارت کا نقشہ دریافت کرنے لگے ۔حضورِ اقدس ﷺ نے سارا نقشہ بتادیا تو اس پر کفار آپ ﷺ کو جادوگر کہنے لگے۔ جن کے دل ایمان میں پختہ تھے اور اللہ کی قدرت پر کامل یقین وا لے تھے انہوں نے اس واقعے کو تسلیم کیا ۔ یہ تھی لوگوں کے لئے آزمائش جس پر کفار کی سرکشی بڑھ گئی، کمزور ایمان والے نو رایمان سے محروم ہوگئے اور اللہ پاک کہ قدرت پر یقین کامل رکھنے والے مزید ایمان میں پختہ ہوگئے ۔ تفسیر صراط الجنان میں ہے : یہاں (آیت میں ) دکھانے سے معراج کی رات کی وہ سیر ہے جس کی خبر حضور پُرنور ﷺ نے مکہ والوں کو دی ،حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سن کر اسے ماننے کی وجہ سے صدیق بن گئے اور کفارِ مکہ سن کر اس کا انکار کرنے کی وجہ سے زندیق بن گئے ۔ غرض یہ کہ معراج کو مان کر کوئی صدیق بنا اور کوئی انکار کرکے زندیق ہوا۔ (صراط الجنان ، پارہ 15، سورہ بنی اسرائیل، تحت الآیت 60) سب سے پہلے سرکار دو عالم ﷺ کی تصدیق کرنے والے اسلام کے پہلے خلیفہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ ( اس کی تفصیل پہلے بیان کردی گئی ہے) اللہ پاک نے اپنے پیارے محبوب حُضُور احمدِ مجتبیٰ، محمدِ مصطفےٰ ﷺ کو اس قدر کثیر معجزات عطا فرمائے ہیں کہ شُمار نہیں کئے جا سکتے، جو معجزے دیگر انبیائے کِرَام علیہم السلام کو فرداً فرداً عطا ہوئے وہ سب بلکہ ان سے بھی کہیں زیادہ آپ ﷺکی ذاتِ عالی میں جمع کر دئیے گئے، آپ ﷺکی شان تو یہ ہے کہ دئیے معجزے انبیا کو خُدا نے ہمارا نبی معجزہ بن کے آیا
پیارے مصطفےٰ ﷺکے ان ہزارہا معجزات میں سے ایک مشہور ترین معجزہ اور کائنات کا سب سے منفرد واقعہ مِعْرَاج شریف کا ہے۔ یہ ایک معجزہ اپنے ضِمْن میں بہت سے معجزات لئے ہوئے ہے مثلاً آپ ﷺ کا سینہ مُبَارَک کھول کر قلبِ اطہر کو باہَر نِکال لیا جانا لیکن اس کے باوُجود آپ ﷺکو کسی قسم کا کوئی نقصان نہ پہنچنا بلکہ ہوش وحواس میں رہتے ہوئے تمام صورتِ حال بھی مُلاحظہ فرمانا، اسی طرح روشنی سے بھی زیادہ تیز رفتار بُراق کی سواری کرنا وغیرہ اِسی سفرِ مِعْرَاج میں پیش آنے والے واقعات ہیں اور بذاتِ خُود بھی معجزے کی حیثیت رکھتے ہیں، بہرحال سفرِ مِعْرَاج سرکارِ عالی وقار، محبوبِ رَبُّ العباد ﷺکا وہ عَظِیْمُ الشَّان معجزہ ہے کہ تاریخ میں اس کی مِثال نہیں ملتی اور اس سے آپ ﷺم کی شان وعَظَمَت اور بارگاہِ رَبُّ الْعِزّت میں آپ ﷺکی محبوبیت آفتاب سے بھی زیادہ روشن اور واضِح تَر ہو جاتی ہے۔ (فیضان معراج، صفحہ 49 ملخصاً، مکتبۃ المدینہ)۔
سفر معراج مسلمانوں کو صرف ایک واقعے کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ ا میں موجود اسباق اور فوائد پر بھی ہماری نظر ہونی چاہیئے کیونکہ اللہ پاک نے یہ سفر کروایا اور اللہ پاک کی ایک صفت " حکیم " ہونا بھی ہے اور حکیم کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں ہوتا ۔ حکیم کا افعال میں اسباق و فوائد پوشیدہ ہوتے ہیں جسے سمجھ کر اپنی زندگی کو بہتر اور منظم کرنا ہوتا ہے ۔ ہم یہاں معراج النبی ﷺ سے حاصل ہونے والے چند اسباق اور فوائد ذکر کر رہے ہیں ۔ پہلا سبق : سفر معراج سے نبی پاک ﷺ کی شان و عظمت کا واضح اظہار ہوتا ہے لہذا اب ایمان کا تقاضہ یہ ہے کہ اس شان والے آقا ﷺ سے ہماری محبت کا تعلق مضبوط و پختہ ہو۔ دوسرا سبق : جب اللہ پاک نے اتنی عظمتوں و شان والے نبی کا ہمیں امتی بنایا اور ان کی وجہ سے ہمیں " خیر امت " کا لقب قرآن میں دیا گیا تو یقینا ان کا امتی ہونے کی ہمیں لاج رکھنی چاہیئے اور اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہمارا کردار، ہمارا عمل ، ہمارا اخلاق دین ِنبوی کی شان کو بلند کرنے کا ذریعہ بنے ۔ ایسا نہ ہو کہ ہمارے برے اعمال کے سبب ، یا ہمارے برے اخلاق و برے کردار کے سبب غیر مسلم یا کمزور ایمان والے مسلمان دین سے دور ہوجائیں ۔ تیسرا سبق : سفر معراج سے واپسی پر جو تحفہ اللہ پاک نے اپنے محبوب کو عطا فرمایا اس تحفے کو ہم قبول کریں ۔ اور پانچوں نمازوں کا اہتمام کرکے وقت پر اس کی ادائیگی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں ۔ جیسے کھانے پینے کے معمولات ہماری زندگی کا لازمی حصہ ہیں اور اس کے بغیر ہم زندہ نہیں رہ سکتے اسی طرح نماز کا معاملہ ایسا ہوجائے کہ نماز پڑھے بغیر ہمیں سکون ہی نہ آئے ۔ یہاں ہم نے تین اسباق ذکر کئے ہیں ۔ اب سفر معراج سے حاصل ہونے والے فوائد کا ذکر کرتے ہیں ۔ "الابتھاج فی احادیث المعراج " میں ہے کہ " *وَفِی حَدِیثِ الاِسرَاءِ اِحدی وَّ سِتُونَ فَائِدَۃً*" یعنی حدیث اسراء و معراج میں تقریبا 61 فوائد موجود ہیں ۔ (الابتھاج فی احادیث المعراج ، صفحہ 93)۔
ہم یہاں چند فوائد ذکر کررہے ہیں ۔ پہلا فائدہ : نبی پاک ﷺ کے لئے "براق " لایا گیا ۔ حالانکہ اللہ پاک چاہتا تو بغیر براق کے بھی یہ سفر نبی پاک ﷺ کو کروادیتا لیکن براق پر سفر کا کروایا جانا حضور ﷺ کی تعظیم و تکریم کے اظہار کے لئے تھا ۔ الابتھاج صفحہ 103میں ہے : *عُرِجَ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ عَلَى الْبُرَاقِ إِظْهَارًا لِكَرَامَتِهِ لَهُ، فَإِنَّهُ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ بِدُونِ بُرَاقٍ، إِذْ لَا اسْتِحَالَةَ فِيهِ، فَكَانَ الْبُرَاقُ لِكَرَامَتِهِ مِنْ حَيْثُ كَرَامَةُ الرَّاكِبِ عَلَى الْمَاشِي غَيْرِهِ*. ترجمہ :نبی پاک ﷺ کو بُراق پر آسمان کی طرف لے جایا گیا، تاکہ ان کی عظمت و بزرگی ظاہر کی جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ یہ واقعہ بُراق کے بغیر بھی ہو جاتا، اس میں کوئی عقلی ناممکن بات نہیں تھی۔ پس بُراق کا لایا جا نا دراصل ان کی تکریم کے لیے تھا، اس اعتبار سے کہ سواری کرنے والے کی عزّت، پیدل چلنے والے کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔( اسی بات سے ایک ضمنی فائدہ بھی حاصل ہوا کہ جب کسی مہمان خصوصی کو مدعو کیا جائے تو اس کے آنے جانے کا اہتمام بھی کرنا چاہیے ، یہ اس مہمان کی عظمت کا اظہار بھی ہوتا ہے)۔ دوسرا فائدہ: کسی اہم سفر کا آغاز ہو تو پہلے مسجد کی حاضری دیں اس کے بعد اپنے سفر پر روانہ ہو ۔ نبی پاک ﷺ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر آرام فرما رہے تھے، جب مژدہ معراج لے کر فرشتے حاضر خدمت ہوئے تو پہلے آپ کو مسجد الحرام لے جایا گیا ۔
تیسرا فائدہ : آپ ﷺ کو پہلے بیت المقدس یعنی مسجد اقصی لایا گیا اس کی متعدد حکمتیں ذکر کی گئی ہیں اس میں سے ایک حکمت یہ بھی ذکر کی گئی کہ آسمان کا دروازہ " مصعد الملائکہ " یہ بیت المقدس کے قریب ہے ۔ الابتھاج صفحہ 107 پر ہے : *إِنَّمَا ذُهِبَ بِهِ أَوَّلًا إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ، ثُمَّ إِلَى السَّمَاءِ، لِأَنَّ بَابَ السَّمَاءِ الَّذِي يُقَالُ لَهُ: مِصْعَدُ الْمَلَائِكَةِ، بِحِذَاءِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ.* یعنی : آپ ﷺ کو پہلے بیت المقدس لایا گیا اور پھر آسمان کی طرف لے جایا گیا کیونکہ آسمان کا دروازہ "مصعد الملائکہ " وہ بیت المقدس کے بالمقابل ہے ۔ چوتھا فائدہ : مسجد الحرام سے مسجد اقصی جاتے وقت مختلف مقامات پر نبی پاک ﷺ نے نماز ادا فرمائی ،اس سے پتا چلا صالحین سے نسبت رکھنے والی جگہوں کی برکات ہوتی ہیں ۔ چنانچہ حاشیہ سندھی میں ہے کہ سرکارِ اقدس ﷺ کا یہ عمل مُبَارَک آثارِ صالحین کو تلاش کرنے، اُن سے برکت لینے اور اُن کے پاس اللہ پاک کی عِبادت کرنے کے سلسلے میں بہت بڑی دلیل ہے۔ پانچواں فائدہ : مسجدالحرام سے مسجد اقصی کے سفر میں نبی پاک ﷺ نے حضرت موسی علیہ السلام کو اپنی قبر میں نماز پڑھتے دیکھا ، پھر مسجداقصی پہنچے تو وہاں مسجد اقصی میں بھی حضرت موسی علیہ السلام موجود تھے ۔ اس کے بعد آسمانوں کا سفر شروع ہوا تو چھٹے آسمان پر سیدنا موسی علیہ السلام پہلے سے ہی موجود تھے اس سے پتا چلتا ہے کہ انبیاء کی رفتار براق کی رفتار سے کئی زیادہ تیز ہوتی ہے ۔ حضور ﷺ کا وہاں بعد میں پہنچنا اس لئے تھا کہ آپ براق پر تھے اور حضرت موسی علیہ السلام کا پہلے بیت المقدس پھر آسمانو ں پر اپنی ہونا اس کی واضح دلیل ہے ۔
چھٹا فائدہ : پچاس نمازوں کا تحفہ جب بارگاہ الہی سے ملا اور حضرت موسی علیہ السلام نے اس میں کمی کروانے کے لئے حضور سید عالم ﷺ کو واپس جا کر کم کروانے کا عرض کیا اس سے پتا چلا حضور ﷺ کو اللہ کی بارگاہ کس قدر قرب خاص حاصل ہے کہ آ پ بار بار رب تعالیٰ کی بارگاہ میں جاتے رہے ۔ یہ شان ہے میرے آقا ﷺ کی ۔ ساتواں فائدہ : نبی پاک ﷺ نے سفر معراج میں جنت کے انعامات کا مشاہدہ بھی کیا اور جہنم کے عذابات کو بھی ملاحظہ فرمایا اس سے پتا چلا جنت اور دوزخ دونوں کی تخلیق ہوچکی ہے ۔ تین اسباق اور سات فوائد ذکر کئے گئے ۔ یہ *تلک عشرۃ کاملہ* یعنی دس کی گنتی مکمل ہوئی۔ اللہ کریم ہمیں واقعہ معراج کو سے حاصل ہونے والا اسباق پر عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
کورس کے آخر میں چند ضروری باتیں جو سمجھنے سے تعلق رکھتی ہیں ؛ اس کا ذکر کردینا ضروری ہے تاکہ مختلف طرح کے شبہات جو سفر معراج سے متعلق ذہنوں میں ڈالے جاتے ہیں ان کا ازالہ بھی ہوجائے ۔ (1) شبہ : قرآن کریم سورۃ الانعام کی آیت نمبر 103 میں ہے کہ " *لَّا تُدۡرِكُهُ ٱلۡأَبۡصَـٰرُ وَهُوَ یُدۡرِكُ ٱلۡأَبۡصَـٰرَۖ وَهُوَ ٱللَّطِیفُ ٱلۡخَبِیرُ* ترجمہ :آنکھیں اس کا احاطہ نہیں کرسکتیں اور وہ تمام آنکھوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور وہی ہر باریک چیز کو جاننے والا، بڑا خبردار ہے۔ اس آیت میں بالکل واضح ہے کہ اللہ پاک کو نہیں دیکھا جساسکتا تو حضور ﷺ نے کیسے اللہ پاک کا دیدار کیا ؟ شبہ کا ازالہ : اس آیت میں دیدار الہی کی نفی نہیں ہے ادارک باری تعالی کی نفی ہے ۔ اداراک کیا ہوتا ہے ۔ تفسیر صراط الجنان میں ہے : اِدراک کے معنیٰ ہیں کہ دیکھی جانے والی چیز کی تمام طرفوں اور حدوں پر واقف ہونا کہ یہ چیز فلاں جگہ سے شروع ہو کر فلاں جگہ ختم ہوگئی جیسے انسان کو ہم کہیں کہ سر سے شروع ہوکر پاؤں پر ختم ہوگیا، اِسی کو اِحاطہ (گھیراؤ) کہتے ہیں۔ اِدراک کی یہی تفسیر حضرت سعید بن مُسیَّبْ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے اور جمہور مفسرین اِدراک کی تفسیر اِحاطہ سے فرماتے ہیں اور اِحاطہ اسی چیز کا ہوسکتا ہے جس کی حدیں اور جہتیں ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے لئے حد اور جہت محال ہے تو اس کا ادراک واحاطہ بھی ناممکن ۔یہی اہلِ سنت کامذہب ہے۔ خارجی اور معتزلہ وغیرہ گمراہ فرقے اِدراک اور رُویت میں فرق نہیں کرتے، اس لئے وہ اس گمراہی میں مبتلا ہوگئے کہ انہوں نے دیدارِ الٰہی کو محالِ عقلی قرار دے دیا۔
امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ نے اس آیت کی تفسیر میں پہلی بات ہی اللہ پاک کے دیدار کے ممکن ہو نے کی بیان فرمائی ۔ آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : *هَذِهِ الآيَةُ تَدُلُّ عَلى أنَّهُ تَعالى تَجُوزُ رُؤْيَتُهُ*.یعنی یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ پاک کو دیکھا جانا ممکن ہے ۔ اگر اس بات کو مان بھی لیا جائے کہ یہاں ادارک سے مراد دیدار ہے تو یہاں ادارک دنیوی مراد لیا جائے گا جیساکہ علامہ ابو الاسحاق الثعلبی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : قال ابن عباس ومقاتل: *معناه لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ في الدنيا وهو يرى في الآخرة* یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت مقاتل رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اس آیت کا معنی یہ ہے کہ آنکھیں دنیا میں اللہ پاک کو نہیں دیکھ سکتیں۔ آخرت میں دیکھیں گی ۔ اور ادارک اخروی سے متعلق تو قرآن کی آیت موجود ہے ، حدیث پاک میں بھی اس کی تصریح موجود ہے اور تمام صحابہ کا اس پر اجماع ہے کہ آخرت میں مسلمانوں کو اللہ پاک کا دیدار ہوگا ۔ قرآن پاک کی آیت : *وُجُوْهٌ یَّوْمَىٕذٍ نَّاضِرَةٌۙ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ* ترجمہ : کچھ چہرے اس دن تر و تازہ ہوں گے۔اپنے رب کو دیکھنے والے ہوں گے۔(پارہ 29، سورۃ القیامہ ، آیت 22،23) حدیث پاک میں ہے: *عن ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الجَنَّةِ مَنْزِلَةً لَمَنْ يَنْظُرُ إِلَى جِنَانِهِ وَأَزْوَاجِهِ وَنَعِيمِهِ وَخَدَمِهِ وَسُرُرِهِ مَسِيرَةَ أَلْفِ سَنَةٍ، وَأَكْرَمَهُمْ عَلَى اللَّهِ مَنْ يَنْظُرُ إِلَى وَجْهِهِ غَدْوَةً وَعَشِيَّةً» ، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ}* ترجمہ : حضرت عبداللّٰہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ادنیٰ درجے کا جنتی اپنے باغات،بیویوں ،خادموں اور تختوں کو ہزار برس کی مسافت تک دیکھے گا،اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک ان میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہو گا جو صبح و شام اللّٰہ تعالیٰ کے دیدار سے مُشَرَّف ہوگا۔ اس کے بعد نبی ٔکریم ﷺ نے پڑھا: *وُجُوْهٌ یَّوْمَىٕذٍ نَّاضِرَةٌۙ*اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ* (ترمذی ، حدیث 2553)۔ آخرت میں دیدار باری تعالیٰ کے ہونے پر امت کا اجماع ہے : مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری دامت برکاتہم العالیہ ، علامہ عبدالغنی نابلسی علیہ الرحمہ کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں : *أَجْمَعَ أَهْلُ الْحَقِّ وَاتَّفَقَ أَهْلُ التَّوْحِيدِ وَالصِّدْقِ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُرَى فِي الْآخِرَةِ* ترجمہ : اہل حق اور اہل توحدی و صدق اس بات پر متفق ہیں و مجتمع ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا آخرت میں دیدار ہوگا ۔ (دیدار باری تعالیٰ کا عقیدہ ، صفحہ 27، مجلس افتاء)۔
اب سوال ذہن میں یہ آتا ہے جب اس آیت میں ادارک سے مراد دنیوی دیدار ہے ۔ تب بھی یہ شبہ تو باقی رہا کہ نبی پاک ﷺ نے شب معراج اللہ پاک دیدار کیسے کرلیا ؟ اس شبہ کا جواب دیتے ہوئے علامہ بدالدین عینی علیہ الرحمہ عمدۃ القاری میں لکھتے ہیں :* رُؤْيَة النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم ربه عز وَجل لم يكن فِي دَار الدُّنْيَا بل كَانَت فِي الملكوت الْعليا وَالدُّنْيَا لَا تطلق عَلَيْهَا وَالدَّلِيل الصَّرِيح على عدم وُقُوع رُؤْيَة الله تَعَالَى بالأبصار فِي الدُّنْيَا *۔ ترجمہ: نبی کریم ﷺ کا اپنے ربِّ عزوجل کو دیکھنا دنیا کے گھر میں نہیں ہوا، بلکہ وہ عالمِ ملکوتِ اعلیٰ میں ہوا، اور اس پر “دنیا” کا اطلاق نہیں کیا جاتا۔ اور اس بات پر صریح دلیل موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ کو آنکھوں سے دیکھنا دنیا میں واقع نہیں ہوتا۔(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری ، صفحہ 291) اگر اس دیدار باری تعالی کو دنیوی دیدار بھی مانا جائے تب بھی کوئی خرابی لازم نہیں آتی کیونکہ اس پر جمہور اہلسنت کا موقف ذکر کرتے ہوئے علامہ ابن حجر ہیتمی علیہ الرحمہ کے حوالے سے مفتی ہاشم خان دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں : اہلسنت کے نزدیک رؤیت باری تعالیٰ اگر چہ عقلا ومنقولا ممکن ہے مگر اس دنیا میں ہمارے نبی ﷺ کے علاوہ کسی کے لئے واقع نہیں ہوئی ۔ (دیدار باری تعالیٰ کا عقیدہ، صفحہ 63)
(2) شبہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے اوروہ روایت بھی صحیح بخاری کی ہے جس میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : *مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ كَذَبَ* یعنی : جو تم سے یہ کہے کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا پس اس نے جھوٹ کہا ۔(صحیح بخاری ،حدیث 4855)۔ اس روایت کا کیا جواب ہوگا ۔ شبہ کا ازالہ : اس روایت کے متعدد جوابات اسلاف نے دیئے ہیں ۔ (1)پہلا جواب : معراج جسمانی سے متعلق اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ معراج جسمانی ہجرت سے پہلے ہوئی اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی پاک ﷺ کے پاس بعدِ ہجرت رخصت ہوکر آئیں تھیں ، لہذا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا قول اپنی جگہ درست ہے کیونکہ وہ جو فرماتی ہیں ان روحانی معراجوں کے بارے میں فرماتی ہیں جو ان کے زمانے میں ہوئیں ۔ معراج جسمانی ان کی حاضری سے کئی سال پہلے ہوچکی تھی ۔ (2)دوسرا جواب : حجرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول نفی والا ہے اور صحابہ کرام کے اقوال اثبات والے ہیں ۔ اور علم حدیث کا اصول ہے جب نفی و اثبات کسی مسئلے میں آجائیں تو اثبات والے موقف کو برتری وترجیح حاصل ہوتی ہے ۔ (3) تیسرا جواب : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا والی روایت میں آیت سے استدلال ہے جو بالکل واضح ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس مسئلے کو آیت سے قیاس کررہی ہیں اور صحابہ کرام کے اقوال نبی پاک ﷺ سے سماع کے ساتھ ہیں ۔ اس صورت میں صحابہ کرام کے اقوال کو ہی ترجیح ہوگی ۔ (4) چوتھا جواب : اس مسئلے میں کئی صحابہ کی روایات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول کے خلاف ہیں اور جب ایک صحابی کوئی قول کرے دیگر صحابہ اس کا خلاف کریں تو وہ قول حجت نہیں رہتا لہذا یہاں حدیث مرفوع کو ہی ترجیح دی جائے گی جس میں نبی پاک ﷺ نے خود فرمایا *رَأَيْتُ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى* ترجمہ: میں نے اپنے رب تعالیٰ کو دیکھا ہے ۔
(3)شبہ : کیا نبی پاک ﷺ کو عرش پر نعلین کے ساتھ آنے کا حکم ہوا تھا ؟ شبہ کا ازالہ : صاحب بہارے شریعت اس سے متعلق فرماتے ہیں : یہ مشہور ہے کہ شب معراج میں حضور اقدس ﷺ نعلین مبارک پہنے ہوئے عرش پر گئے اور واعظین اس کے متعلق ایک روایت بھی بیان کرتے ہیں اس کا ثبوت نہیں اور یہ بھی ثابت نہیں کہ برہنہ پا تھے، لہٰذا اس کے متعلق سکوت کرنا(یعنی خاموشی اختیار کرنا) مناسب ہے۔(بہار شریعت ،حصہ 16، صفحہ 645) واقعہ معراج سے متعلق بعض ایسی روایات ذکر کی جارہی ہوتی ہیں جس کی اصل نہیں ہوتی لہذا صرف مستند و معتمد کتب کا مطالعہ کرنا ہی مفید ہوتا ہے اور مستند علماء کے بیانات سننا ہی احتیاط ہے ۔ (سفر معراج میں نبی پاک ﷺ کو جنت و دوزخ کا مشاہدہ کروایا گیا اس سے متعلق پوسٹ کی صورت میں بیان کیاجائیگا )
سفر معراج النبی ﷺ کو ہم نے ابھی نثر کی صورت میں پڑھا اور سمجھا اب سفر معراج سے متعلق چند معروف کلام لکھے جارہے ہیں ۔ جس سے سفر معراج کو پڑھنے کا ذوق مزید بڑھ جاتا ہے ۔ امام شرف الدین بوصیری علیہ الرحمہ کا لکھا ہوا معروف قصیدہ جو مقبول بارگاہ رسالت بھی ہے ۔ اس کی ایک جس کا تعلق معراج النبی ﷺ ہے ۔ اس فصل کو یہاں مکمل ترجمے کے ساتھ ذکر کررہے ہیں ۔ *يَا خَيْرَ مَنْ يَمَّمَ الْعَافُونَ سَاحَتَهُ* *سَعْيًا وَفَوْقَ مُتُونِ الْأَيْنُقِ الرُّسُمِ* اے وہ بہترین شخص جس کے گھر پر حاجت مند لوگ دوڑتے ہوئے اور مصیبت زدہ لوگ اونٹوں پر سوار ہوکر حاضر ہونے کا عزم کرتے ہیں *وَمَنْ هُوَ الْآيَةُ الْكُبْرَى لِمُعْتَبِرٍ* *وَمَنْ هُوَ النِّعْمَةُ الْعُظْمَى لِمُغْتَنِمِ* اے وہ ذات اقدس ﷺ جس کا وجود عبرت حاصل کرنے والے کے لئے بڑا نشان ہے اور جس کا مبعوث ہونا غنیمت جاننے والے کے لئے بڑی نعمت ہے
*سَرَيْتَ مِنْ حَرَمٍ لَيْلًا إِلَى حَرَمٍ* *كَمَا سَرَى الْبَدْرُ فِي دَاجٍ مِنَ الظُّلَمِ * آپ ﷺ حرم مکہ سے مسجد اقصی تک اس طرح تشریف لائے جس طرح چاند رات کو تاریکی شب میں چلتا ہے *وَبِتَّ تَرْقَى إِلَى أَنْ نِلْتَ مَنْزِلَةً* *مِنْ قَابِ قَوْسَيْنِ لَمْ تُدْرَكْ وَلَمْ تُرَمِ * اور آپ ﷺ رات چڑھتے چڑھتے قاب قوسین کی منزل تک پہنچے ۔ یہ ایسی منزل ہے جہاں نہ آپ سے پہلے کوئی آیا اور نہ ہی کوئی اس کا طلبگار ہوا
*وَقَدَّمَتْكَ جَمِيعُ الْأَنْبِيَاءِ بِهَا* *وَالرُّسْلِ تَقْدِيمَ مَخْدُومٍ عَلَى خَدَمِ * تمام انبیاء و رسولوں نے وہاں آپ ﷺ کو اپنا پیشوا بنایا ، جس طرح آقا اپنے خادموں کا پیشوا بنایا جاتا ہے *وَأَنْتَ تَخْتَرِقُ السَّبْعَ الطِّبَاقَ بِهِمْ* *فِي مَوْكِبٍ كُنْتَ فِيهِ الصَّاحِبَ الْعَلَمِ* آپ ﷺ ہی تو تھے جس لشکر میں آپ ﷺ علمبردار تھے اس کی معیت معیت میں سات آسمانوں کو طے کیا *حَتَّى إِذَا لَمْ تَدَعْ شَأْوًا لِمُسْتَبِقٍ* *مِنَ الدُّنُوِّ وَلَا مَرْقًى لِمُسْتَنِمِ* آپ برھتے بڑھتے وہاں پہنچے کہ کسی دوسرے آگے بڑھنے والے کے لئے کوئی درجہ قرب کا نہ رہا اور نہ کسی اوپر چڑھنے والے کے لئے جگہ باقی رہی
*خَفَضْتَ كُلَّ مَقَامٍ بِالْإِضَافَةِ إِذْ* *نُودِيتَ بِالرَّفْعِ مِثْلَ الْمُفْرَدِ الْعَلَمِ* جب آپ ﷺ معراج کے لئے مفرد علم کی طرح بلائے گئے تو آپ ﷺ نے تمام انبیاء کے مقامات کو اپنی منزلت عالیہ کے مقابلے میں پست کردیا ۔ *كَيْمَا تَفُوزَ بِوَصْلٍ أَيِّ مُسْتَتِرٍ* *عَنِ الْعُيُونِ وَسِرٍّ أَيِّ مُكْتَتَمِ * یہ بلایا جانا اس لئے تھا کہ آپ ﷺ کو ایسا وصل وقرب حاصل ہو جو کسی مقرب کی آنکھ کو نصیب نہیں ہوا اور ایسے رازوں پر اطلاع دی جائے جن پر کوئی عارف آگاہ نہیں ہوا *فَحُزْتَ كُلَّ فَخَارٍ غَيْرَ مُشْتَرَكٍ* *وَجُزْتَ كُلَّ مَقَامٍ غَيْرَ مُزْدَحَمِ * پس نتیجہ اس ملاقات کا یہ ہوا کہ آپ ﷺ نے ہر قسم کی عزت حاصل کی جو کسی کو حاصل نہ ہوئی اور بغیر کسی مزاحمت ہر ایک مقام سے گزرگئے
*وَجَلَّ مِقْدَارُ مَا وُلِّيتَ مِنْ رُتَبٍ* *وَعَزَّ إِدْرَاكُ مَا أُولِيتَ مِنْ نِعَمِ * بہت بڑی عظمت والی ہے وہ شان جس کے آپ مالک بنائے گئے اور جو نعمتیں آپ کو دی گئیں اس کا ادراک و سمجھنا مشکل ہے *بُشْرَى لَنَا مَعْشَرَ الْإِسْلَامِ إِنَّ لَنَا* *مِنَ الْعِنَايَةِ رُكْنًا غَيْرَ مُنْهَدِمِ* مسلمانوں مژدہ ہے کہ ہمارے پاس خدا کی رحمت کا ایسا پختہ ستون ہے جو گر نہیں سکتا *لَمَّا دَعَا اللهُ دَاعِينَا لِطَاعَتِهِ* *بِأَكْرَمِ الرُّسْلِ كُنَّا أَكْرَمَ الْأُمَمِ * جب اللہ پاک نے حضور ﷺ کو ہماری اصلاح اور دعوت اسلام کے لئے بھیجا تو ہو تمام انبیاء میں اکرم الانبیاء ہیں تو ان کے پیروکار اکرم الامم ہوگئے ۔
اللہ پاک نےامامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے قلم کوایسی جامعیّت (comprehensiveness)اورقُوّت عطا فرمائی کہ امامِ اہلِ سنّت رحمۃ اللہ علیہ نےجس مسئلہ کی تحقیق(research)میں کوئی کتاب، رسالہ یا فتویٰ تحریر فرمایا تو اُس مسئلےکواَلَمْ نَشرَح (یعنی خُوب واضح)فرما دیا۔ یونہی جس موضوع پربھی اَشعار لکھے تو اُس کی مَنظرکَشی (visualizing) کا حق ادا فرمادیا،جسے دیکھ کرفنِّ شاعری کے ماہرین حیران ہوجاتے ہیں۔ اس کی زبردست مثال اِنتہائی مختصر سے وقت میں لکھاجانے والا ”قصیدۂ معراجیہ“ہے،جو کہ 67 اَشعار پرمشتمل ہے۔امامِ اہلِ سنّت رحمۃ اللہ علیہ نے اس قصیدے میں حَسین تخیُّلات (خوبصورت خیالات imaginations)کے ساتھ ساتھ جابجا آیاتِ قراٰنیّہ اور اَحادیثِ نَبویّہ کی زبردست ترجُمانی فرمائی ہے۔ نیزآپ رحمۃ اللہ علیہ نے اس قصیدے میں سفرِ معراج کے مختلف مرحلوں (stages) کو بڑےفصیح و بلیغ اَلفاظ میں پیش کیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نےاِس قصیدے میں اُردو کے اِستعاروں اورمُحاوروں(idioms) کا کثرت سےاستعمال کیا ہے۔اس قصیدے کی ایک خوبی یہ بھی ہےکہ مجدِّدِ اعظم، اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے واقعۂ معراج کی مناسَبت سے کعبہ و حطیم، مسجدِ اَقصیٰ و نمازِ اَقصیٰ، جِبرَئِیل و بُراق، آسمان و عرشِ اَعظم، سِدرۃُ المنتہیٰ و جنّت اور لامکان و دیدارِ رحمٰن کا تذکرہ بڑے لطیف اَنداز میں فرمایا ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اگرکسی کو سفرِمعراج کا مختصر بیان اُردو زبان میں پڑھنا ہو تو وہ امامِ اہلِ سنّت، اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے اس مبارَک اورمنفرِد(unique)”قصیدۂ معراجیہ“ کو ملاحَظہ کرلے۔ ذیل میں اِسی قصیدے کے چنداَشعار اور ان میں بیان کئے جانے والے مضامین کا مختصرجائزہ پیش کیا جاتاہے۔
(1)وہ سَروَرِ کِشْورِ رِسالت، جو عَرش پر جَلوہ گَرہوئے تھے نئے نِرالے طَرَب کے ساماں، عَرَب کے مہمان کے لئے تھے الفاظ و معانی:سَروَر:بادشاہ۔ کِشْور:مُلک/دیس۔جَلوہ گر:سج دھج کے آنا۔طَرَب کے ساماں:خوشی و مسرَّت کے اسباب مذکورہ بالا شعر” قصیدۂ معراجیہ“ کا مَطلع(پہلاشعر)ہے۔اِس کا خلاصہ یہ ہےکہ مُلکِ رسالت کےبادشاہ ﷺ معراج کی شب عرشِ اعظم پر جَلوہ فرما ہوئے تھے اور قُدرت کی جانب سے عَرَب کے مہمان،رسولِ ذیشان ﷺ کی خاطر کائنات میں خوشی و شادمانی کےاَسباب کا اہتمام(arrangement)کیا گیاتھا۔ (2)نَمازِ اَقْصیٰ، میں تھا یہی سِرّ، عیاں ہوں مَعنی اَوَّل آخِر کہ دَسْت بَستہ، ہیں پیچھے حاضِر، جو سَلطَنت آ گے کر گئے تھے الفاظ و معانی:سِرّ:راز۔عِیاں:واضح۔دست بستہ:ہاتھ باندھ کر سرکارِ مدینہ ﷺ نے معراج کی رات مسجدِ اقصیٰ میں تمام اَنبیائے کرام علیہمُ الصّلٰوۃ والسَّلام کی اِمامت فرمائی تھی، چنانچہ آپ ﷺ فرماتے ہیں:فَجُمِعَ لِیَ الْاَنْبِیَاءُ عَلَیْھِمُ السَّلَامُ فَقَدَّمَنِیْ جِبْرَ ئِیْلُ حَتّٰی اَمَمْتُھُمْ ”یعنی میری خاطر انبیائے کرام علیہم السَّلام کو (مسجدِ اَقْصیٰ) میں جمع کیاگیا تو جبرئیل علیہ السَّلام نے مجھے آگے بڑھایا یہاں تک کہ میں نے انبیائے کرام علیہم السَّلام کی امامت فرمائی۔“(نسائی، ص81، حدیث:448) مذکورہ بالا شعرمیں امامُ الانبیاء ﷺکو تمام نبیوں کی اِمامت کے لئے آگے بڑھائے جانے کی ایک حکمت کوبیان کیاگیا ہے کہ اِس(آگے بڑھائے جانے)کے ذریعے قدرت کا مقصود مخلوق کو اوّل و آخر کا معنیٰ و مفہوم بتلانا تھا، یوں کہ بظاہرسب سےآخر میں تشریف لانے والےرسولِ اکرم ﷺ مقام و مرتبے میں سب نبیوں سے اوّل(یعنی پہلے)ہیں،چنانچہ تمام انبیائے کرام علیہم السَّلام معراج کی رات مسجدِ اقصیٰ میں رسولِ اعظم ﷺ کے مقتدی بن کر ہاتھ باندھے پیچھے کھڑے تھے۔
(3)تَھکے تھے رُوحُ الاَمِیں کے بازُو چُھٹا وہ دامن کہاں وہ پہلو رِکاب چُھوٹی اُمید ٹُوٹی نِگاہِ حَسرت کے وَلْوَلے تھے الفاظ ومعانی:رُوحُ الاَمِیں: حضرت جبرائیل علیہ السَّلام۔رِکاب:گھوڑے پر چڑھنے کا لوہے کا حلقہ۔وَلولے:جوش سفرِمعراج میں سِدرۃُ المنتہیٰ پر پہنچ کر جب جبریلِ اَمین علیہ السَّلام رُک گئے تو سُلطانِ اَعظم ﷺ نے فرمایا: اے جبریل! کیا ایسے مقام پر ایک خلیل(یعنی دوست) اپنے خلیل کو چھوڑ دیتاہے؟ تو جبریل علیہ السَّلام نے عرض کی:اِنْ تَجَاوَزْتُہُ اِحْتَرَقْتُ بِالنُّوْر ”یعنی اگرمیں اِس مقام (سدرۃُ المنتھیٰ) سے آگے بڑھا تو نُور کی وجہ سے جَل جاؤں گا۔“(مواھب لدنیہ،ج 2،ص381) ذکرکردَہ شعرمیں اِسی حالت (condition)کی منظرکَشی کی گئی ہے۔ (4)جُھکا تھا مُجرے کو عرشِ اَعلیٰ گِرے تھے سجدے میں بَزمِ بالا یہ آنکھیں قدموں سے مَل رہا تھا وہ گِرد قربان ہورہے تھے الفاظ و معانی:مُجرے: آداب/سلامی۔ بزمِ بالا:آسمان کے فرشتے صُوفیا نے بیان فرمایاہے:جب نبیِّ پا ک ﷺ (سفرِ معراج میں) عرشِ اَعظم تک پہنچے توعرش نے آپ ﷺ کےدامنِ کرم کوتھام لیا۔(مواھب لدنیہ،ج 2،ص388)اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نےاس بات کو یوں بیان فرمایا ہےکہ معراج کی رات گویا عرش ِ اعظم سرکارِعالی وقار ﷺ کوسَلامی پیش کرنے کےلئے جھکا، فرشتوں نےربّ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدۂ شکرکیا،عرش تو قدَمِ مصطفےٰ ﷺَسےآنکھیں مَل رہا تھااورفرشتے آپ علیہ السَّلام کے اِردگِرد نِثارہورہےتھے۔
(5)بَڑھ اے محمد! قَریں ہو اَحمد! قریب آ سَروَرِ مُمَجَّد! نِثار جاؤں یہ کیا نِدا تھی یہ کیا سَماں تھا یہ کیا مَزے تھے الفاظ و معانی:قریں ہو: پاس آؤ۔ سرور: سردار۔ مُمجّد:بزرگی والے۔ سماں: منظر اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے اس شعر میں ایک روایت کا ترجمہ بھی شامل ہے۔ چنانچہ جب رسولِ ذیشان ﷺ معراج کی رات سفر کرتے ہوئے قُربِ الٰہی کےخاص مقام میں پہنچے تو آپ ﷺ کونِدا (یعنی آواز) دی گئی:اُدْنُ یَاخَیْرَالْبَرِ یَّۃِ،اُدْنُ یَااَحْمَد،اُدْنُ یَامُحَمَّدقریب ہو اےساری مخلوق سے بہتر محبوب! قریب آؤ اےاحمد! آگےبڑھو اے محمدﷺ (مواھب لدنیہ،ج 2،ص381) (6)وہ بُرْج بَطحا کا مَاہ پارہ بِہِشْت کی سَیر کو سِدَھارا چمک پہ تھا خُلد کا سِتارہ کہ اس قَمَر کے قَدَم گئے تھے الفاظ و معانی: برج بطحا:مکّہ کی زمین/مکّہ کا گنبد۔ ماہ پارہ: چاند/نہایت حَسین۔بِہِشت:جنّت۔ خُلد: جنّت۔ قمر: چاند اس شعر میں قلمِ رضا نے بیان فرمایا کہ مالکِ جنّت ﷺ شبِ معراج جنّت کی سیر کرنے کیلئے روانہ ہوئے، یوں جنّت کی قسمت کا ستارہ چمک اُٹھا کہ آسمانِ نبوّت کے کامل چاندﷺجنّت میں قدم رنجہ ہوئے تھے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے شبِ معراج جنّت میں تشریف لے جانے سے متعلّق ارشاد فرمایا:ثُمَّ اُدْخِلْتُ الْجَنَّۃَ، فَاِذَا فِیْھَا حَبَائِلُ اللُّؤْلُؤِ وَ اِذَا تُرَابُھَا الْمِسْکُ ”یعنی پھر مجھےجنّت میں داخل کیا گیا تو اُس میں موتی کی عمارتیں تھیں اور اُس کی مٹی مُشک تھی۔“ (مسلم، ص89، حدیث:415)
(7)خُدا کی قدرت کہ چاند حق کے کروروں منزل میں جَلوہ کرکے ابھی نہ تاروں کی چھاؤں بدلی کہ نُور کے تڑکے آ لیے تھے الفاظ و معانی: کروروں منزل: بہت زیادہ جگہوں۔ نور کےتڑکے: سویرے کی روشنی امام ِ اہلِ سنّت رحمۃ اللہ علیہ کا یہ شعر کئی روایات وتَفاسیر کا خُلاصہ ہے کہ اللہ پاک نے اپنے حبیبِ اَکبر ﷺ کو شبِ معراج صدیوں کا سفر رات کے اِنتہائی معمولی سے وقت میں طے کروا دیا، زنجیرہِل رہی تھی، پانی جاری تھا کہ معراج کے دُولہا ﷺ کون ومکاں،آسمان و جِناں(جنّت) اور دیدارِالٰہی کرکے لامکاں سے واپس مکّۂ پاک تشریف لے آئے۔ (8)نَبیِ رَحمت شفیعِ اُمّت! رضؔا پہ لِلّٰہ ہو عِنایَت اسے بھی ان خِلْعَتوں سے حِصّہ جو خاص رَحمت کے واں بَٹے تھے الفاظ و معانی: عِنایت: توجّہ/ نظر/مہربانی۔خلعتوں:تحفے/ عطِیِّات/انعامات۔واں: وہاں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ اس مَقطع(تخلُّص پر مشتمل شعر)میں عرض گُزار ہیں کہ اےرحمت والےاوراُمت کی شفاعت فرمانے والےپیارےنبی ﷺ!خدارا احمدرضا ؔپرعنایت ونوازش فرمائیےاور اِسے بھی اُن خاص رحمت والےنورانی جوڑوں میں سے اس کاحصّہ عطافرمائیے، جوبارگاہِ الہٰی سےآپ ﷺ کو عطاکئےگئےتھے۔
ہیں صَف آرا سب حُور وملک اور غِلماں خُلد سجاتے ہیں اِک دھوم ہے عرشِ اعظم پرمِہمان خُداکے آتے ہیں ہے آج فلک روشن روشن ،ہیں تارے بھی جگمگ جگمگ محبوب خُدا کے آتے ہیں محبوب خُدا کے آتے ہیں قربان میں شان و عَظمت پر سوئے ہیں چَین سے بسترپر جِبریلِ امیں حاضِر ہوکر مِعراج کا مُژدہ سناتے ہیں جِبریل امین بُراق لئے جنت سے زمیں پر آپہنچے بارات فِرِشتوں کی آئی مِعراج کو دولہا جاتے ہیں ہے خُلد کا جوڑا زیبِ بدن رَحمت کا سجا سہرا سر پر کیا خوب سُہانا ہے منظر مِعراج کو دولہا جاتے ہیں ہے خوب فَضامہکی مہکی چلتی ہے ہوا ٹھنڈی ٹھنڈی ہر سَمت سماں ہے نورانی مِعراج کو دولہا جاتے ہیں یہ عِزّوجلال اللہ! اللہ! یہ اَوج وکمال اللہ! اللہ یہ حُسن وجما ل اللہ! اللہ! مِعراج کودولہا جاتے ہیں
دیوانو! تصوُّر میں دیکھو! اَسرٰی کے دولہا کا جلوہ جُھرمٹ میں ملائک لیکرانہیں مِعراج کا دولہا بناتے ہیں اقصٰی میں سُواری جب پہنچی جِبریل نے بڑھ کے کہی تکبیر نبیوں کی امامت اب بڑھ کرسلطانِ جہاں فرماتے ہیں وہ کیسا حسیں منظر ہوگا جب دولہا بنا سروَر ہوگا عُشّاق تصوُّرکرکرکے بس روتے ہی رہ جاتے ہیں یہ شاہ نے پائی سعادت ہے خالِق نے عطاکی زیارت ہے جب ایک تجلّی پڑتی ہے موسیٰ تو غش کھاجاتے ہیں جِبریل ٹَھہَر کرسِدرہ پر بولے جو بڑھے ہم ایک قدم جل جائیں گے سارے بال وپَر اب ہم تو یہیں رہ جاتے ہیں اللہ کی رَحمت سے سرور جاپہنچے دَنَا کی منزِل پر اللہ کا جلوہ بھی دیکھا دیدارکی لذّت پاتے ہیں مِعراج کی شب تو یاد رکھا پھر حشر میں کیسے بھولیں گے عطارؔ اِسی اُمّید پہ ہم دن اپنے گزارے جاتے ہیں۔