شب برات اور میرے آقاﷺ کا انداز
لائیوغیر فعال

شب برات اور میرے آقاﷺ کا انداز

شب برات اور میرے آقاﷺ کا انداز

506

انرولمنٹس

101

مکمل

4.9

ریٹنگ

اقسام

برکت والی رات

ارشاد باری تعالی ہے : *"اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِیْنَ"* ترجمہ : بیشک ہم نے اُسے برکت والی رات میں اُتارا بیشک ہم ڈر سنانے والے ہیں۔) پارہ 25 سورة الدخان، ایت 03) اس آیت کریمہ میں ایک قول کے مطابق برکت والی رات سے مراد شب براءت ہے۔ تفسیر طبری ، تفسیر ابن کثیر، تفسیر قرطبی، تفسیر بغوی اور دیگر تفاسیر میں برکت والی رات سے مراد شعبان المعظم کی پندرہویں رات یعنی شب براءت بھی لی گئی ہے ہے۔ ( اگرچہ مضبوط قول شب قدر کا ہے۔ یہاں بتانا، اتنا مقصود ہے کہ شب براءت کا بھی قول کیا گیا ہے ). ہم یہاں تفسیر بغوی کی عبارت کو ذکر کر رہے ہیں۔ امام بغوی علیہ الرحمہ تفسیر بغوی میں "لیلة مبارکة" کی تفسیر کرتے ہوئے شب قدر کا بھی ذکر کیا اور شب براءت کا بھی ذکر کیا۔ یعنی شعبان کی پندرہویں رات۔ آپ فرماتے ہیں : *"وَقَالَ عِكْرِمَةُ: هِيَ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ يُبْرَمُ فِيهَا أَمْرُ السَّنَةِ وَتُنْسَخُ الْأَحْيَاءُ مِنَ الْأَمْوَاتِ فَلَا يُزَادُ فِيهِمْ أَحَدٌ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَحَدٌ "*. ترجمہ : عکرمہ رحمہ اللہ نے فرمایا:یہ (مبارک رات) شعبان کی پندرہویں رات ہے، اسی رات پورے سال کے تمام امور طے کیے جاتے ہیں، اور زندوں کو مردوں سے الگ کر دیا جاتا ہے، پھر نہ ان میں کسی کا اضافہ کیا جاتا ہے اور نہ کسی کی کمی۔ اسی کے اگے آپ رحمة اللہ علیہ نے ایک طویل سند حدیث ذکر کرنے کے بعد لکھا کہ : *"أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "تُقْطَعُ الْآجَالُ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى شَعْبَانَ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَنْكِحُ وَيُولَدُ لَهُ وَلَقَدْ أُخْرِجَ اسْمُهُ فِي الْمَوْتَى .وَرَوَى أَبُو الضُّحَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما: أَنَّ اللَّهَ يَقْضِي الْأَقْضِيَةَ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، وَيُسَلِّمُهَا إِلَى أَرْبَابِهَا فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ"* ترجمہ : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"شعبان سے شعبان تک (لوگوں) کی عمریں کاٹ دی جاتی ہیں (یعنی مقرر کر دی جاتی ہیں)، یہاں تک کہ ایک آدمی نکاح کرتا ہے، اس کے ہاں اولاد پیدا ہوتی ہے، حالانکہ اس کا نام مرنے والوں میں لکھا جا چکا ہوتا ہے۔" اور ابو الضحیٰ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ:اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں رات تمام فیصلے فرماتا ہے، اور پھر ان فیصلوں کو شبِ قدر میں ان کے ذمہ دار فرشتوں کے سپرد کر دیتا ہے۔ (تفسیر بغوی، سورة الدخان ، تحت الایت 03)

مشکوة المصابیح میں ہے : *"عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَل تَدْرِيْنَ مَا فِيْ هٰذِهِ اللَّيْلَةِ؟» يَعْنِي لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ قَالَتْ: مَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: «فِيهَا أَنْ يُكْتَبَ كلُّ مَوْلُودٍ مِنْ بَنِي آدَمَ فِي هٰذِهِ السَّنَةِ وَفِيهَا أَنْ يُكْتَبَ كُلُّ هَالِكٍ مِنْ بَنِي آدَمَ فِي هٰذِهِ السَّنَةِ وَفِيهَا تُرْفَعُ أَعْمَالُهُمْ وَفِيهَا تَنْزِلُ أَرْزَاقُهُمْ». فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا بِرَحْمَةِ اللهِ تَعَالٰى؟ فَقَالَ: «مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا بِرَحْمَةِ اللهِ تَعَالٰى» . ثَلَاثًا. قُلْتُ: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ فَوَضَعَ يَدَهٗ عَلیٰ هَامَتِهٖ فَقَالَ: «وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللهُ بِرَحْمَتِهٖ» . يَقُولُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعْوَاتِ الْكَبِيْرِ"* ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان سے نبی پاک ﷺ نے فرمایا : کیا تم جانتی ہو کہ اس رات یعنی پندھوریں شعبان میں کیا ہے ؟ عرض کیا یارسول الله ﷺ اس میں کیا ہے؟ تو فرمایا اس رات میں اس سال اولاد آدم میں پیدا ہونے والے بچے لکھ دیئے جاتے ہیں اور اس سال مرنے والے سارے انسان لکھ دیئے جاتے ہیں اور اس رات میں ان کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں اور ان کے رزق اتارے جاتے ہیں انہوں نے عرض کیا یارسول الله ﷺ کیا کوئی الله کی رحمت کے بغیر جنت میں نہیں جائے گا تو آپ ﷺنے تین بار فرمایا کہ کوئی الله تعالٰی کی رحمت کے بغیر جنت میں نہیں جاسکتا میں نے عرض کیا یارسول الله ﷺ آپ بھی نہیں؟ تو آپ نے اپنا ہاتھ شریف اپنے سر پر رکھا اور فرمایا میں بھی نہیں مگر یہ کہ الله مجھے اپنی رحمت میں چھپالے تین بار فرمایا ۔ )مشکوة المصابیح، حدیث 1305) جلیل القدر تابعی بزرگ حضرت عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : *"مَا مِنْ لَيْلَةٍ بَعْدَ لَيْلَةِ الْقَدْرِ أَفْضَلُ مِنْ لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ "* ترجمہ : لیلة القدر کے بعد شعبان کی پندرہویں شب سے افضل کوئی رات نہیں ۔( لطائف المعارف، صفحہ 145) یہ رات بڑی برکت والی رات ہے ، سب قدر کے بعد اس رات کا افضل ہونا ، اس کیاہمیت کو مزید واضح کردیتا ہے ، اللہ پاک ہمیں اس رات کی برکتوں سے مالا مال فرمائے ۔ (آمین)

مغفرت والی رات

شب براءت کی ایک بڑی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس شب میں اللہ پاک اپنے فضل و کرم سے بےشمار لوگوں کی بخشش و مغفرت فرمادیتا ہے۔ مشکوة المصابیح کی روایت ہے : *"عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : فَقَدْتُ رَسُولُ اللهِ ﷺ لَيْلَةً فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيعِ فَقَالَ " أَكُنْتِ تَخَافِينَ أَنْ يَحِيفَ اللهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ؟ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَتَيْتَ بَعْضَ نِسَائِكَ فَقَالَ: إِنَّ اللهَ تَعَالٰى يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَغْفِرُ لِأَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ كَلْبٍ "* ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ میں نے ایک رات رسول الله ﷺ کو گم پایا دیکھا کہ آپ ﷺ جنت البقیع میں تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم اس سے خوف کرتی تھیں کہ تم پر الله و رسول ظلم کریں گے؟ میں نے عرض کیا یا رسول الله ﷺ مجھے خیال ہوا کہ آپ اپنی کسی اور زوجہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں ؟ تو فرمایا کہ الله تعالٰی پندرھویں شعبان کی رات آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے تو قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ کی مغفرت کردیتا ہے۔ ( مشکوة المصابیح، بحوالہ جامع ترمذی، حدیث 1299)۔

محمد بن ابراہیم الیمنی علیہ الرحمہ اپنی کتاب "ایثار الحق علی الخلق " میں خلیفة المسلمین افضل البشر بعد الانبیاء حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ایک روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا : *" إِذا كَانَ لَيْلَة النّصْف من شعْبَان غفر الله تَعَالَى لِعِبَادِهِ إِلَّا مَا كَانَ من مُشْرك أَو مُشَاحِن لِأَخِيهِ رَوَاهُ الْبَزَّار والهيثمي وَعَن أبي هُرَيْرَة مثله وَعَن عَوْف بن مَالك مثله وَعَن معَاذ مثله وَرِجَاله ثِقَات وَعَن أبي ثَعْلَبه الْخُشَنِي نَحوه وَعَن عبد الله بن عمر نَحوه فَهَذِهِ بضعَة عشر حَدِيثا فِي ذَلِك "* ترجمہ : حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جب شعبان کی پندرھویں رات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بخش دیتا ہے، سوائے مشرک کے اور اس شخص کے جو اپنے بھائی سے کینہ رکھنے والا ہو۔ اس روایت کو امام بزّار اور ہیثمی نے روایت کیا ہے۔ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی روایت ہے، اور حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی، اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی مفہوم کی روایت ہے، اور ان سب کے راوی ثقہ (قابلِ اعتماد) ہیں۔ اور حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے بھی اس کے قریب مفہوم کی روایت ہے، اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی روایت منقول ہے۔پس اس موضوع میں دس سے زائد احادیث وارد ہوئی ہیں۔(ایثار الحق علی الخلق ، جلد 01، صفحہ 384)۔

سنن ابن ماجہ کہ روایت ہے اور اس روایت کے راوی مولی المسلمین ، خلیفہ رابع حضرت سیدنا مولا علی مشکل کشاء رضی اللہ عنہ ہیں۔ روایت ہے : *"وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَقُومُوا لَيْلَهَا وَصُوْمُوْا يَوْمَهَافَإِنَّ اللهَ تَعَالٰى يَنْزِلُ فِيهَا لِغُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ: أَلَا مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهٗ؟ أَلَا مُسْتَرْزِقٌ فَأَرْزُقَهُ؟ أَلَا مُبْتَلًى فَأُعَافِيَهُ؟ أَلَا كَذَا أَلَا كَذَا حَتّٰى يَطْلَعَ الْفَجْرَ" * ترجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا " جب پندھوریں شعبان کی رات ہو تو رات میں قیام کرو،دن میں روزہ رکھو کیونکہ اس رات میں الله تعالٰی سورج ڈوبتے ہی آسمان دنیا کی طرف نزول رحمت فرماتا ہے کہتا ہے کہ کوئی معافی مانگنے والا ہے کہ میں اسے بخش دوں. کیا کوئی روزی مانگنے والا ہے کہ میں اسے روزی دوں ؟ کیا کوئی بیمار ہے کہ میں اسے آرام دوں ؟ کیا کوئی ایسا ہے کیا کوئی ایسا ہے ۔ (سنن ابن ماجہ ، حدیث 1388) ان احادیث سے بالکل واضح ہے کہ شب براءت کس قدر اللہ پاک کی رحمت کو حاصل کرنے والی مبارک رات ہے۔ بڑا ہی محروم ہے وہ شخص جو اس رات کو غفلت کی نظر کردے۔ *گناہ گار طلبگارِ عَفو و رحمت ہے* *عذاب سَہنے کا کس میں ہے حوصَلہ یارب* (وسائل بخشش)

عبادت کی رات

شب براءت یعنی پندرہ شعبان المعظم اللہ رب العزت کی طرف سے ہمیں ایک تحفہ ہے۔ اس رات کو خصوصیت کے ساتھ عبادت میں گزارنے سے متعلق ہم نے سنن ابن ماجہ کی روایت پڑھی۔ اب آئیں ہم دیکھتے ہیں کہ اس رات نبی پاک ﷺ کی عبادت کا انداز کیسا ہوتا تھا۔ امام بیہقی نے اپنی کتاب " فضائل الاوقات " میں ایک طویل حدیث پاک نقل فرمائی۔ جس کا مضمون یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ : شعبان کی درمیانی شب رسول اللہ ﷺ بستر مبارک سے اُٹھ کر تشریف لےگئے، میں نے یہ خیال کیا کہ آپ ﷺ اپنی کسی زوجہ محترمہ کے پاس گئے ہوں گے۔ میں نے آپ کو تلاش کیا تو میرا پاؤں آپ ﷺ کے قدم مبارک پر لگا، میں نے جب دیکھا تو آپ ﷺ سجدے کی حالت میں تھے۔ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ آپ سجدے میں یہ فرمارہے تھے۔ (نبی پاک ﷺ اللہ پاک کی بارگاہ میں یہ مناجات کررہے تھے ) *"سَجَدَ لَكَ سَوَادِي وَخَيَالِي، وَآمَنَ لَكَ فُؤَادِي، وَأَبُوءُ لَكَ بِالنِّعَمِ، وَأَعْتَرِفُ بِالذُّنُوبِ الْعَظِيمَةِ، ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِعَفْوِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِرَحْمَتِكَ مِنْ نِقْمَتِكَ، وَأَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ "* ترجمہ : اے اللہ میرے جسم وجاں تیری بارگاہ میں سجدہ ریز ہیں، میرا دل تجھ پر ایمان لایا، میں تیری تمام نعمتوں کا اعتراف کرتا ہوں۔ اور اپنے عظیم گناہوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں۔ میں نے اپنے آپ پر زیادتی کی، پس مولا تو مجھ بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی بخشنے والا نہیں ہے ۔ میں تیری سزا سے بچ کر تیرے عفو و کرم کی پناہ میں آتا ہوں ۔ میں تیرے غضب سے بچ کر تیری رحمت کی پناہ میں آتا ہوں ۔ میں تیری ناراضی سے بچ کر تیری رضا کی پناہ میں آتا ہوں ۔ میں تیری گرفت سے بچنے کے لئے تیری ہی پناہ میں آتا ہوں ۔ اے اللہ ۔۔ میں تیری حمد و ثناء کا حق ادا نہیں کرسکا ، تیری کامل ثناء وہی ہے جو تو نے خود اپنی ذات کی فرمائی ۔

اس رات سے متعلق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مزید اسی حدیث کے آگے فرماتیں ہیں : *"فَمَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَائِمًا وَقَاعِدًا حَتَّى أَصْبَحَ، فَأَصْبَحَ وَقَدِ اضْمَعَدَتْ قَدَمَاهُ، فَإِنِّي لَأَغْمِزُهَا، وَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أَتْعَبْتَ نَفْسَكَ، أَلَيْسَ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ أَلَيْسَ قَدْ فَعَلَ اللَّهُ بِكَ؟ أَلَيْسَ أَلَيْسَ؟ فَقَالَ: «بَلَى يَا عَائِشَةُ، أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا؟ هَلْ تَدْرِينَ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؟» قَالَتْ: مَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: " فِيهَا أَنْ يُكْتَبَ كُلُّ مَوْلُودٍ مِنْ بَنِي آدَمَ فِي هَذِهِ السَّنَةِ، وَفِيهَا أَنْ يُكْتَبَ كُلُّ هَالِكٍ مِنْ بَنِي آدَمَ فِي هَذِهِ السَّنَةِ، وَفِيهَا تُرْفَعُ أَعْمَالُهُمْ، وَفِيهَا تَنْزِلُ أَرْزَاقُهُمْ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: مَا أَحَدٌ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا بِرَحْمَةِ اللَّهِ؟ فَقَالَ: «مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا بِرَحْمَةِ اللَّهِ» قُلْتُ: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى هَامَتِهِ فَقَالَ: «وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ» يَقُولُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ "* ترجمہ : نبی پاک ﷺ مسلسل عبادت میں مشغول رہے یہاں تک کے صبح ہوگئی ، اور کثرت عبادت کی وجہ سے آپ کے پاؤں مبارک پر ورم آگیا تھا ۔ میں آپ کے پاؤں مَل رہی تھی ۔ میں نے عرض کیا، یارسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ نے تو اپنے آپ کو تھکا دیا ہے اللہ پاک نے تو آپ کو پہلے ہی مغفرت کلی کی نوید سنا رکھی ہے ، آپ پر تو اللہ پاک کی بےشمار رحمتیں ہیں ۔آپ ﷺ نے فرمایا : اس رات کو آنے والے سال کے دوران بنی آدم کے ہر پیدا ہونے والے بچے اور ہر وفات پانے والے شخص کا نام لکھ دیا جاتا ہے ، اس رات کو بندوں کو کے اعمال اُٹھائے جاتے ہیں اور اسی میں ان کا رزق نازل ہوتا ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ! کیا اللہ کی رحمت کے بغیر کوئی جنت میں داخل نہیں ہو گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :اللہ کی رحمت کے بغیر کوئی جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ اور آپ بھی نہیں ؟ تو نبی پاکﷺ نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھا اور تین مرتبہ فرمایا : میں بھی نہیں سوا اس کے کہ اللہ مجھے اپنی آغوشِ رحمت میں ڈھانپ لے ۔ (فضائل الاوقات ، حدیث 35، صفحہ 31)

مفتی اعظم پاکستان ، مفتی منیب الرحمن صاحب دامت برکاتہم العالیہ اپنے ایک آرٹیکل میں اس حدیث پاک کو نقل کرنے کے بعد فرماتےہیں کہ : اس طویل حدیث سے آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ سید المرسلین ، رحمۃ للعالمین سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے حضور کس قدر عجزونیاز فرماتے تھے ، آپ کے دل پر اللہ تعالی کی جلالت کا کتنا غلبہ تھا ، آپ کس قدر انہماک سے عبادت کرتے تھے اور اتنی کثرت عبادت کے باوجود آپ اللہ تعالیٰ کے رحمت کے طلبگار رہتے تھے ، آپ ﷺ امت کو تعلیم دینا چاہتے تھے کہ اللہ کا بندہ کثرت عبادت سے چاہے انتہائی بلندی پر پہنچ جائے ، لیکن اسے اپنی عبادت و تقوی پر ناز نہیں کرنا چاہیئے ، بندہ عبادت کرکے اللہ پر کوئی احسان نہیں کرتا ، یہ تو بندگی کا فریضہ ہے۔ جو لوگ فرط عقیدت میں شان الوہیت اور مقام نبوت کا تقابل کرتے ہیں انہیں صرف ایک بار نہیں بلکہ بار بار نبی کریم ﷺ کے تواضع اور عجزو انکسار سے لبریز ان مبارک کلمات کو پڑھتے رہنا چاہیئے ، یہ سب کچھ تعلیم امت کے لئے ہے ۔ (شعبان المعظم اورشب براءت ، صفحہ 06) ایک اور حدیث پاک میں ہے : حضرت اُبَى بن کَعْب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسولُ الله ﷺ نے ارشاد فرماىا : میرے پاس حضرت جبرىل علیہ السلام شبِ براءت مىں حاضر ہوئے اور مجھ سے کہا کہ اُٹھ کر نماز اَدا فرمائىے اور اپنا سر اور ہاتھ مبارک آسمان کی طرف اٹھائیے۔ مىں نے پُوچھا : اےجبریل! یہ کیسى رات ہے؟ عرض کى : یَامُحَمَّد ﷺ !یہ وہ رات ہے کہ جس میں آسمان اور رحمت کے 300 دروازے کھول دىئے جاتے ہىں ، اللہ پاک کے ساتھ شریک ٹھہرانے والوں ، آپس میں بُغض و کینہ رکھنے والوں ، شرابیوں اور بدکاروں کے علاوہ سب کى مغفرت کردى جاتى ہے ، اِن لوگوں کی اُس وقت تک مغفرت نہىں ہوگى جب تک کہ سچى تَوبہ نہ کرلىں۔ اَلبتّہ شراب کے عادی کے لیے رحمت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کُھلا چھوڑدِیا جاتا ہے یہاں تک کہ تَوبہ کرلے ، جب وہ تَوبہ کرلیتا ہے تو اُس کى مغفرت کردى جاتی ہے ، اسی طرح کینہ رکھنے والے کے لئے بھى رحمت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کُھلا چھوڑ دِیا جاتا ہے ىہاں تک کہ وہ اپنے ساتھى ( یعنی جس سے کینہ رکھتا ہے) سے بات چیت کرلے ، جب وہ اُس سے بات چیت کرلیتا ہے تو اُس کى بھى مغفرت کردى جاتى ہے ، حُضورِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے جبرىل!اگر وہ اپنے ساتھى سے کلام نہ کرے یہاں تک کہ شبِ براءت گُزر جائے تو۔ ۔ ۔ ؟حضرت سیِّدُنا جبریل علیہ السلام نے عرض کى : اگر وہ اسی حالت پر برقرار رہا یہاں تک کہ(نزع کا عالم طاری ہونےکے سبب) اُس کے سینے میں سانس اٹکنے لگ جائے تب بھی اُس کے لىے دروازۂ رحمت کُھلا رہتا ہے ، اگر وہ (مَوت سے پہلے کینۂ مسلم سے ) تَوبہ کرلے تو اُس کی توبہ مقبول ہے پھر حضورِ اَنور ﷺ جَنّتُ البقىع کى طرف تشرىف لے گئے اور سجدے میں جا کر اِن اَلفاظ میں دُعا مانگی : *" اَعُوْذُ بِعَفْوِكَ مِنْ عِقَابِكَ وَاَعُوْذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَ اَعُوْذُبِكَ مِنْكَ جَلَّ ثَنَاءُكَ لَا اَبْلُغُ الثَّنَاءَ عَلَيْكَ اَنْتَ كَمَا اَثْنَيْتَ عَلٰى نَفْسِكَ."* (یعنی اے اللہ پاک!) میں تیرے عذاب سے تیری مُعافی ، تیری ناراضی سےتیری رضا اورتجھ سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں ، تیری تعریف بلند ہے ، میں تیری تعریف کا حق اَدا نہیں کرسکتا ، تیری حقیقی شان وہی ہے جو تُو نے خُود بیان فرمائی۔

رات کے چوتھے پہر حضرت سیِّدُنا جبرىل علیہ السلام نازل ہوئے اور عرض کى ، یامُحَمَّد ﷺ !اپنا سر آسمان کى طرف اُٹھائیے ، آپ نے اپنا سر آسمان کى طرف اُٹھایا تو دیکھا کہ رحمت کے دروازے کھلے ہوئے ہیں اور ہر دروازے پر ایک فرشتہ آواز دے رہا ہے ، (پہلےدروازے پر ایک فرشتہ یُوں پُکار رہا ہے کہ) مبارک ہو اُسے جو اِس رات عبادت کرے ، دوسرے دروازے پر بھی ایک فرشتہ یُوں پُکاررہا ہے کہ مُبارَک ہو اُسے جو اِس رات مىں سجدہ کرے ، تیسرے دروازے پر بھی ایک فرشتہ پکاررہا ہے کہ مُبارَک ہو اُسے جو اِس رات مىں رُکوع کرے ، چوتھے دروازے پر بھی ایک فرشتہ صدا لگا رہا ہے کہ مُبارَک ہو اُسے جو اِس رات میں اپنے رَبّ کریم سے دُعا مانگے ، پانچوىں دروازے پر بھی ایک فرشتہ یُوں آواز لگا رہا ہے کہ مُبارَک ہو اُسے جو اِس رات اپنے رَبّ کریم سے دُعاکرنے میں مشغول ہو ، چھٹے دروازے پر بھی ایک فرشتہ پُکار رہا ہے کہ اِس رات میں مسلمانوں کو مُبارَک ہو ، ساتوىں دروازے پر بھی ایک فرشتہ پُکار رہاہے کہ اللہ پاک کو ایک ماننے والوں کو مُبارَک ہو ، آٹھویں دروازے پر بھی ایک فرشتہ پُکار رہا ہے کہ ہے کوئى تَوبہ کرنے والا کہ اُس کى تَوبہ قبول کى جائے؟ نویں دروازے پر بھی ایک فرشتہ صَدا لگا رہا ہے کہ ہے کوئى مغفرت طلب کرنے والا کہ اُس کى مغفرت کردى جائے؟ اور دسویں دروازے پر بھی ایک فرشتہ نِدا دے رہاہے کہ ہے کوئى دُعا کرنے والا کہ اُس کى دُعا قبول کرلى جائے؟ پھر رحمتِ عالَم ﷺ نے فرمایا : اے جبریل! رحمت کے یہ دروازے کب تک کُھلے رہتے ہىں؟عرض کى : رات کى ابتداء سے طُلُوعِ فجر تک۔ پیارے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا : اِس رات بکریوں کےبالوں سےبھى زیادہ لوگوں کى مغفرت کى جاتى ہے ، اسی رات لوگوں کے سال بھر کے اعمال (آسمانوں کی جانب) بلند کئے جاتے ہىں اور اسی رات رِزق تقسىم کئےجاتے ہىں۔ (فیضان شعبان ،صفحہ 09, بحوالہ تاريخ ابن عساکر ، 51 / 72- 73) *رَحمت کا ہے دروازہ کُھلا مانگ اَرے مانگ* *دیتاہے کرم اُن کا صدا مانگ اَرے مانگ* *بھر جائے گا کشکول مرادوں سے ترا بھی* *بن کر میرے آقا کا گدا مانگ ارے مانگ* *سرکار سے سرکار کو مانگوں گا نیازی* *سرکار نے جس وقت کہا مانگ ارے مانگ. . . *

توبہ والی رات

شعبان المعظم کی پندرہویں رات یعنی شب براءت اللہ پاک بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر لوگوں کی بخشش فرمائے گا لیکن اس رات بھی کچھ ایسے لوگ ہیں جو مغفرت سے محروم رہیں گے ۔ نبی پاک ﷺ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا ۔ مختصر انداز میں پہلے کچھ کا ذکر گزرچکا ہے۔ یہاں کچھ تفصیل کے ساتھ ایک ایک کا ذکر کیا جارہا ہے تاکہ ہم غور کرلیں کہ اس مبارک رات جو مغفرت سے محروم ہیں کہی ان میں ہمارا نام تو نہیں ہے ۔ اگر ہمارا نام اس فہرست میں شامل ہے تو توبہ کرلی جائے تاکہ مغفرت سے محرومی نہ ہو ۔ ایک طویل حدیث میں نبی پاک ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے چند لوگوں کا ذ کر کیا ۔ حضور سید عالم ﷺ نے فرمایا : *"لَا يَنْظُرُ اللهُ فِيهَا إِلَى مُشْرِكٍ، وَلَا إِلَى مُشَاحِنٍ، وَلَا إِلَى قَاطِعِ رَحِمٍ، وَلَا إِلَى مُسْبِلٍ، وَلَا إِلَى عَاقٍّ لِوَالِدَيْهِ، وَلَا إِلَى مُدْمِنِ خَمْرٍ "* ترجمہ : اللہ تعالیٰ اس رات میں نہ کسی مشرک کی طرف نظرِ رحمت فرماتا ہے، نہ دل میں کینہ رکھنے والے کی، نہ رشتہ توڑنے والے کی، نہ ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانے والے کی، نہ والدین کی نافرمانی کرنے والے کی، اور نہ شراب کے عادی شخص کی طرف نظر رحمت فرماتا ہے ۔ (یہ تمام افراد اس رات اللہ کی رحمت سے ، مغفرت سے محروم رہتے ہیں )۔ (شعب الایمان ، 3556)

مشرک : وہ شخص جو اللہ پاک کے علاوہ کسی اور کوبھی معبود سمجھتا ہے ، اس کی عبادت کرتا ہے ، ہر قسم کا کافر جو اسلام کے دامن سے محروم ہے ، وہ مغفرت سے بھی محروم ہے جب تک توبہ نہ کرلے ۔ مشاحن : اپنے بھائی کے لئے دل میں بغض و کینہ رکھنے والا۔ کینہ کیا ہوتا ہے اسے ایک مثال سے سمجھیں ۔ مثلا ً : کوئی شخص ایسا ہے جس کا خیال آتے ہی آپ کو اپنے دل میں بوجھ سا محسوس ہوتا ہے ، نفرت کی ایک لہر دل و دماغ میں دوڑ جاتی ہے وہ نظر آجائے تو ملنے سے کتراتے ہیں ، اور زبان ، ہاتھ ، یا کسی بھی طرح سے اسے نقصان پہنچانے کا ملے گا تو پیچھے نہیں رہتے تو سمجھ لیجئے آپ اس شخص سے کینہ رکھتے ہیں اور اگر ان میں سے کوئی بات نہیں بلکہ ویسے ہی کسی سے ملنے کا کو دل نہیں کررہا تو یہ کینہ نہیں ہے ۔ اور یاد رہے کسی مسلمان سے بلاوجہ شرعی کینہ و بغض رکھنا حرام ہے ۔ سرکار عالی وقار ﷺ نے فرمایا : *"إِنَّ النَّمِيمَةَ وَالْحِقْدَ فِي النَّارِ، لَا يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ مُسْلِمٍ"* ترجمہ : بے شک چغل خوری اور کینہ پروری جہنم میں ہیں ، یہ دونوں کسی مسلمان کے دل میں جمع نہیں ہوسکتے ۔ (المعجم الاوسط، حدیث 4653)۔ قاطع رحم : یعنی رشتہ توڑنے والا ۔ ہمارے معاشرے میں یہ بُری عادت بھی پائی جاتی ہے، ہمارے رشتہ دار ہمارے ساتھ حسن سلوک کریں یا نہ کریں شریعت مطہرہ ہمیں انکے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا درس دیتی ہے۔

احادیث مبارکہ کی روشنی میں قطع تعلقی کی مذمت: 1۔ رحمت نہ اترنے کا سبب: جس قوم میں رشتہ داری توڑنے والاہوتا ہے اس پر رحمت نہیں اترتی۔ (شعب الایمان، 6/223، حدیث:7962) 2۔ جنت میں داخلہ ممنوع: رشتہ داروں سے تعلق توڑنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔ (مسلم، ص 1338، حدیث:2556) 3۔ دنیا میں بھی سزا: جس گناہ کی سزا دنیا میں بھی جلد ہی دیدی جائے اور اس کے لئے آخرت میں بھی عذاب رہے وہ بغاوت اور قَطع رَحمی سے بڑھ کر نہیں۔ (ترمذی، 4/229، حدیث: 2519) 4۔ رشتہ داری کاٹنا: حدیث قدسی ہے الله پاک نے رحم (رشتہ داری) سے فرمایا: جو تجھے ملائے گا میں اسے ملاؤں گااور جو تجھے کاٹے گا میں اُسے کاٹوں گا۔ (بخاری، 4/98، حدیث: 5988) (یہ احادیث ماہنامہ فیضان مدینہ، ویب سائٹ سے لی ہیں ) ٹخنوں سے نیچے کپڑا رکھنا ، اس کی اصل وجہ تکبر ہے یعنی جو شخص تکبر کی وجہ سے ایسا کرے گا،وہ اس رات مغفرت سے محروم رہے گا ۔ قرآن پاک میں ہے : *"اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ "* ترجمۂ کنزالایمان: بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا۔(پارہ 14، سورۃ النحل، آیت 23) ایک حدیث پاک میں ہے : حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کے دن متکبرین کو انسانی شکلوں میں چیونٹیوں کی مانند اٹھایا جائے گا، ہر جانب سے ان پر ذلت طاری ہوگی، انہیں جہنم کے بُوْلَس نامی قید خانے کی طرف ہانکا جائے گا اور بہت بڑی آگ انہیں اپنی لپیٹ میں لے کر ان پر غالب آجائے گی، انہیں طِیْنَۃُ الْخَبَّال یعنی جہنمیوں کی پیپ پلائی جائے گی۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات ،صفحہ 267،مکتبۃ المدینہ)

والدین کا نافرمان : یعنی وہ شخص جو اپنے والدین کی بات نہیں مانتا ۔ نبی پاک ﷺ نے فرمایا : تمام گناہوں میں سے جس گناہ کی سزا اللہ پاک چاہتا ہے قیامت تک مؤخر فرمادیتا ہےسوائے والدین کی نافرمانی کے کہ اس کی سزا وہ جلد دیتا ہے۔(شعب الایمان ، حدیث 7889) ایک اور حدیث پاک میں ہے : ایک شخص نےبارگاہِ رسالت میں عرض کی: یارسولَ اللہ ﷺ!آپ کیا فرماتےہیں کہ اگر میں پانچوں نمازیں پڑھوں، رمضان کے روزے رکھوں، زکوٰۃ اداکروں نیزبیتُ اللہ کاحج کروں تومیرےلئےکیاجزاہوگی؟ ارشاد فرمایا: جو یہ کام انجام دے گا وہ انبیاء ، صِدِّیْقیْن، شُہَدا اور صالحِین کےساتھ ہوگا مگریہ کہ وہ والدین کانافرمان ہو( تو وہ اس سعادت سے محروم رہے گا) ۔ (غایۃ المقاصد فی زوائد السنن ،حدیث 2822) شراب کا عادی : یعنی وہ شخص جو شراب پیتا ہے وہ بھی اللہ پاک کی رحمت سے شب براءت محروم رہے گا۔شرا ب اللہ پاک اور رسول کائنات ﷺ کو کس قدر ناپسند ہے اس کا اندازہ اس ایک حدیث پاک سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ کے حبیب ﷺ نے فرمایا : اللہ پاک نے شراب ،اس کے نِچوڑنے والے اور جس کیلئے نِچوڑی جائے اس پر، پینے والے اور پلانے والے پر، لانے والے اور جس کیلئے لائی جائے اس پر، بیچنے و خریدنے والے پر اور اس کی قیمت یعنی کمائی کھانے والے تمام اَفراد پر لعنت فرمائی ہے۔ (المستدرك، حدیث: 7310) اللہ پاک ہمیں ان تمام گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور سچی توبہ ہمیں نصیب ہو (آمین)۔

شب براءت کیسے گزاریں

اگر ہماری خواہش ہے کہ ہماری آنے والی ہر شب براءت اچھی گزرے تو اس کا سب سے روشن اور مستند معیار سیرت مصطفی ﷺ ہے ۔ رسول اکرم ﷺ کی زندگی کا ہر پہلو امت کے لئے رہنمائی کا چراغ ہے اور شب براءت میں نبی پاک ﷺ کا جو انداز تھا اسے ہم نے حدیثوں کی روشنی میں پڑھ اور سمجھ لیا اور یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ رات غفلت میں گزارنے والی نہیں ہے بلکہ قرب الہی کو حاصل کرنے کی رات ہے ، اپنے رب کی بارگاہ میں اپنے گناہوں سے توبہ کرنے کی رات ہے ۔ تیسری صدی ہجری کے بزرگ حضرت ابو عبدالله محمد بن اسحاق فاکہی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جب شبِ براءت آتی تو اہلِ مکّہ کا آج تک یہ طریقۂ کار چلا آرہا ہےکہ مسجد ِحرام شریف میں آجاتےاور نَماز ادا کرتے ہیں، طواف کرتے اور ساری رات عبادت اور تلاوتِ قراٰن میں مشغول رہتےہیں، ان میں بعض لوگ 100 رکعت (نفل نماز) اس طرح ادا کرتے کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد دس مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھتے۔ زم زم شریف پیتے، اس سے غسل کرتے اور اسے اپنے مریضوں کے لئے محفوظ کر لیتے اور اس رات میں ان اعمال کے ذریعے خوب برکتیں سمیٹتے ہیں۔(اخبار مکہ،3/84) معلوم ہوا کہ شب براءت میں اہتمام کے ساتھ مساجد میں جمع ہونا،عبادات کرنا،تلاوت کرنا اور نوافل پڑھنا وغیرہ یہ صدیوں سے بزرگوں کا طریقہ چلا آرہا ہے۔ شب براءت کے چند ضروری اعمال: ان اعمال کو اپنے معمولات میں پورا سال ہی رکھنا چاہیے لیکن اس رات خصوصیت کے ساتھ اس کو اختیار کیا جائے ۔ (1) اللہ پاک کی بارگاہ میں سچے دل سے توبہ کرنا ۔ (2) اگر کسی کے مالی ، یا جانی حق تلفی کی ہو تو اس کی تلافی کرنا بالخصوص اپنے ماں ، باپ ، بہن ، بھائیوں ، اور بچوں سے معافی مانگے ۔ (3) اس رات نوافل ادا کریں۔ (4) اللہ پاک کی بارگاہ میں خوب دعائیں کریں۔ (5) قرآن کریم کی تلاوت اور درود پاک کی کثرت کریں۔ (6) قبرستان حاضری دیں کہ نبی پاک ﷺ خاص اس رات بھی قبرستان جانا ثابت ہے ۔ (7) پوری رات یا جتنا ہوسکے وقت عبادت میں گزاریں۔ (8) پندرہ شعبان کے دن روزہ رکھے ۔ (9) اپنا زیادہ سے زیادہ وقت مسجد میں گزاریں۔ (10) اپنے مرحومین اور بزرگان دین کے نام کی فاتحہ دین اور انہیں ایصال ثواب کریں۔


شب برات اور میرے آقاﷺ کا انداز | Islamic Courses - Seerat Ki Dunya