گھرانہ میرے حضور ﷺ کا
لائیوغیر فعال

گھرانہ میرے حضور ﷺ کا

خاندان رسول ﷺ

4755

انرولمنٹس

84

مکمل

3.9

ریٹنگ

اقسام

اجداد رسول ﷺ

نسب رسول ﷺ میں سے ہر ایک کا مختصر تعارف:

نبی پاک ﷺ نے خود ہی اپنا نسب مبارک سیدنا عدنان رضی اللہ تعالٰی عنہ تک بیان فرمایا ، ہم کورس کے اس مرحلے میں سیدنا عدنان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے لے کر سیدنا عبدالمطلب رضی اللہ تعالٰی عنہ تک کی زندگی کے سے متعلق جانیں گے ۔ یہاں ایک بات یاد رہے کہ نبی پاک ﷺ کے والد محترم حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے لے کر سیدنا آدم علیہ الصلوۃ والسلام تک جتنے بھی آپ کے نسب مبارک کے اجداد (دادا) ہیں ، وہ سب کے سب موحدین (یعنی : خدا کو ایک ماننے والے ) تھے ۔ ان میں سے کسی سے بھی بت پرستی یا متعدد خدا تصور ماننا ثابت نہیں ہے ۔

سیدنا عدنان رضی اللہ تعالٰی عنہ:

بخت نصر ایک بادشاہ گزرا ہے جس کی پوری دنیا میں سلطنت قائم ہوئی ،اس نے جب عرب پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا تو اس وقت کے نبی علیہ السلام " حضرت ارمیاء علیہ السلام " نے بخت نصر کو یہ پیغام دیا ، عرب کے جس قبیلے پر چاہو حملہ کردو لیکن اس میں ایک "عدنان " نام کے شخص کو کچھ نہ کرنا کہ تمہیں اس کی اجازت نہیں ہے ۔ جب بخت نصر نے عرب پر حملہ کیا تو حضور ﷺ کے اکیسوی پشت کے دادا " عدنان " کو کچھ نہ کیا اور ان کو قید کرکے اپنے ساتھ لے آیا ، یوں اللہ پاک نے حضرت عدنان رضی اللہ عنہ کی حفاظت فرمائی ۔ (سیرت ابن ہشام)

سیدنا مُعِد رضی اللہ تعالٰی عنہ:

عدنان کے دو بیٹے تھے ۔ ایک کانام "مُعِد" اور دوسرے کا نام "عکّ" تھا ۔ عک نے یمن کی طرف ہجرت کی اور صاحب سلطنت ہوا ۔ اور معد جو کہ عرب میں ہی رہائش اختیار کئے ہوئے تھے، ایک مرتبہ پھر بخت نصر نے عرب پر حملہ کیا تو قبیلہ بنی عدنان نے ان کا بڑی بہادری سے مقابلہ کیا ، اس وقت کے نبی حضرت یوحنا علیہ السلام کی طرف وحی ہوئی کہ "معد بن عدنان" کو ان کے قبیلے سے لے آو، ایسا ہی ہوا ، حضرت یوحنا علیہ السلام انہیں وہاں سے اپنے ساتھ حران لے آئے اس وقت حضرت مُعِد کی عمر 12 سال تھی ، حضرت یوحنا علیہ السلام نے ان کی بڑی محبت و شفقت سے پرورش فرمائی ۔ جب بخت نصر مرگیا تو حضرت معد بن عدنا ن ، بنی اسرائیل کے ساتھ مکہ آئے اور اپنے آباو اجداد کے ساتھ رہنے لگے ، یہاں ان کی شادی ہوئی ، جس سے " نزار " کی ولادت ہوئی ۔ (سیرت ابن ہشام)

سیدنا نزَّار رضی اللہ تعالٰی عنہ:

نزار کے معنی "قلیل " ہیں۔ ان کے والد حضرت مُعِد رضی اللہ عنہ نے ان کی ولادت کے وقت دیکھا کہ ان کی پیشانی میں نور محمدی چمک رہا ہے تو آپ بےحد خوش ہوئے اور اس خوشی میں آپ نے مساکین کو کھانا کھلایا اور کھانے کھلانے کے بعد کہا یہ سب کچھ اس بچے کی خوشی کے مقابلے میں قلیل ہے ، اس لئے آپ کا نام نزار رکھا گیا ۔ (سیرت ابن ہشام)

نبی پاک ﷺ کا نسب مبارک:

مُحَمَّد بن عبد الله بن عبد المطلب بن هاشم بن عبد مناف بن قُصي بن كلاب بن مرة بن كعب بن لؤي بن غالب بن فهر ابن مالك بن النضر بن كنانة بن خزيمة بن مدركة بن إلياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان۔ (صحیح بخاری، کتاب المناقب ، باب مبعث النبی ﷺ )

سیدنا مُضَر رضی اللہ تعالٰی عنہ:

مضر کا اصل نام عمرو تھا ۔ابوالیاس ان کی کنیت تھی اور مضر ان کا لقب تھا ۔ مضر کے معنی ترش کے ہیں اور آپ کو ترش اشیاء پسند تھی اس لئے آپ کو مضر کہا جانے لگا ۔ آپ بڑے حکیم و دانا تھے اور انتہائی خوش آواز تھے۔ (سیرت ابن ہشام)

سیدنا الیاس رضی اللہ تعالٰی عنہ:

الیاس یہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے بیت اللہ کی طرف اونٹوں کی ہدی بھیجی اور یہ بھی منقول ہے کہ حج کے موقع پر آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنی پشت سے محمد عربی ﷺ کی تلبیہ کی آواز سنتے تھے ۔ (سیرت ابن ہشام)

سیدنا مدرکۃرضی اللہ تعالٰی عنہ:

الیاس رضی اللہ عنہ کے بیٹے مدرکہ ہیں ،ان کا اصل نام عامر بھی کہا گیا اور عمرو بھی بتایا جاتا ہے اور آپ کو مدرکہ کہنے کی ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ آپ نے اہل عرب میں بہت عزت و شرف اور رفعت وبلندی کو پایا اور مدرکہ کا مطلب بھی پانے والے ہیں کے ہیں اسی مناسبت سے آپ کو مدرکہ کہا جاتا ہے یعنی عزت و شرف پانے والے ۔ (سیرت ابن ہشام)

سیدنا خزیمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ:

جناب خزیمہ رضی اللہ عنہ نبی پاک ﷺ کی پندرھویں پشت کے جد امجد ہیں ۔ ان کی کنیت ابوالاسد تھی اور روایات کے مطابق ان کے چار بیٹے تھے ۔ ان کے نام (1)کنانہ(2)اسد(3)امد(4)ہون تھے ۔ (سیرت ابن ہشام)

سیدناکنانہ رضی اللہ تعالٰی عنہ:

ان کی کنیت ابوالنضر تھی ۔ ان کی فضیلت تو سرکار دو عالمﷺ کے اس فرمان سے ہی ہوجاتی ہے کہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا : بے شک اللہ پاک نے اولاد ابراہیم سے حضرت اسماعیل کو منتخب فرمایا اور اولاد اسماعیل سے بنوکنانہ کو منتخب فرمایا اور بنو کنانہ سے قریش کو ۔ (صحیح مسلم ، حدیث 5938) اس حدیث میں بنو کنانہ کا نبی پاکﷺ نے ذکر فرمایا ۔ ایک قو ل کے مطابق جناب کنانہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بھی چار شہزادے تھے ۔ ان کے نام (1)نضر(2)مالک(3)عبدمناة(4) ملکان تھے۔ (سیرت ابن ہشام) نضر ان کا اصلی نام قیس تھا۔ مگر انتہاٸی خوبصورت ہونے کی وجہ سے ان کو نضر کہا جاتا ہے کیونکہ نضر کا معنی تروتازہ خوش چہرے والا۔ آپ کی والدہ برّہ بنتِ مُر بن اُد بن طابخہ ہیں۔آپ لوگوں کی مدد و خیر خواہی کے جذبے سے مالا مال تھے۔ کہا جاتا ہے کہ قریش آپ کا نام یا لقب ہے کیونکہ قریش قرش سے بنا ہے جس کا معنیٰ تفتیش کرنا ہے کیونکہ حضرت نضر لوگوں سے ان کی حاجات پوچھا کرتے تھے، حاجیوں کی ضروریات سے آگاہی حاصل کرتے، انہیں پورا کرنے کی جستجو اور ان کی خدمت میں کمر بستہ رہتے تھے۔ اسی مسافر نوازی اور غریب پروری کی وجہ سے قریش مشہور ہوئے۔ البتہ علّامہ احمد بن محمد قسطلانی تحریرفرماتے ہیں: (حضرت نضر کے پوتے) فِہر کا نام قریش تھا اور قریش قبیلہ انہیں کی طرف منسوب ہے ان سے اوپر والے (حضرت مالک اور حضرت نضر) کنانی کہلاتے تھے قریشی نہیں اور یہی قول صحیح ہے۔ ان کے تین مشہور بیٹے مالک، یخْلُد اور صلت تھے۔ (سیرت ابن ہشام)

سیدنا مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ:

حضرت مالک کا شمار اہلِ عرب کے بڑے سرداروں میں ہوتا تھا۔ آپ کی کنیت ابوالحارث تھی، آپ کی والدہ عاتکہ بنتِ عدوان حارث بن عَمرو ہیں۔ آپ کے ایک ہی بیٹے فِہر تھے۔ (سیرت ابن ہشام)

سیدنا فہر رضی اللہ تعالٰی عنہ:

حضرتِ فِہر کی والدہ جندلہ بنتِ عامر بن حارث جُرْہُمِی ہیں۔ آپ اہلِ مکہ اور اِردگرد کے قبائل کے سردار و رئیس اور بڑے جاہ و جلال کے مالک تھے۔ ان کے زمانے میں یمن کے ایک شخص حسان بن عبد کُلال حِمْیَرِی نے اپنے لشکر کے ساتھ مکہ شریف پر حملہ کیا اور نَخْلَہ کے مقام پر ٹھہر گیا تاکہ وہ پتھر جن سے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السّلام نے کعبہ شریف تعمیر کیا تھا اسے اکھاڑ کر یمن لے جائے اور وہاں کعبہ بنائے تاکہ لوگ وہاں حج کرنے آئیں۔ حضرت فِہر کی قیادت میں اہلِ قریش اور دیگر قبائل نے حسان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اسے شکست فاش دی۔ حسان قید ہوگیا، تین سال قید رہا پھر فدیہ دے کر آزاد ہوا مگر یمن جاتے ہوئے دنیا سے چل بسا۔ایک قول کے مطابق حضرت فِہر کا نام قریش تھا جس کی وجہ سے آپ کی اولاد قریش کہلائی۔ ایک وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے قریش تَقَرُّش سے ہے جس کے معنیٰ کسب کرنے، کمانے کے ہیں، چونکہ یہ لوگ تجارت میں بہت مہارت رکھتے تھے اور ان کا یہ پیشہ عالمی شہرت کا حامل تھا اس لئے یہ خاندان اس لقب سے مشہور ہوا۔قریش ایک سمندری جانور کا نام ہے جو بڑا زبردست ہے اور ہر چھوٹے بڑے جانور کو کھا لیتا ہے مگر اسے کوئی نہیں کھا سکتا، چونکہ قریش اپنی بہادری و شجاعت کی وجہ سے سب پر غالب رہتے تھے اور کسی سے مغلوب نہیں ہوتے تھے اس لئے اس سمندری جانور کی مناسبت سے قبیلہ قریش کہلائے۔ ان کے چار بیٹے تھے: غالب، مُحارب، حارث اور اسد۔ (سیرت ابن ہشام، طبقات ابن سعد)

سیدنا غالب رضی اللہ تعا لٰی عنہ:

حضرت غالب کی والدہ لیلیٰ بنتِ حارث بن تمیم ہیں۔ آپ کی کنیت ابوتیم تھی،ان کے دوبیٹے تھے لُؤَیّ اورتیم۔ (سیرت ابن ہشام)

سیدنا لُؤَیّ رضی اللہ تعالٰی عنہ:

ان کی کنیت ابوکعب تھی ۔ لوی بن غالب انتہائی بردبار اور دانا آدمی تھے۔ آپ کو اللہ تعالی نے حلم اور حکمت کی صفات سے نوازا تھا۔ بچپن میں آپ کی زبان سے ایسے جملے نکلتے تھے جو ضرب المثل بن جایا کرتے تھے۔ اپنے والد کی وفات کے بعد لوی عرب کے سردار منتخب ہوئے۔ آپ نے کعبہ کے نزدیک ایک کنواں کھودا جس کا نام عسرا تھا جس سے حاجی سیراب ہوتے تھے۔اور جناب لوئ کے چار بیٹے تھے۔ کعب، عوف ، عامر اور حرث۔ (سیرت ابن ہشام)

سیدنا کعب رضی اللہ تعالٰی عنہ:

جناب کعب اپنی قوم کے بہت رحم دل آدمی تھے ۔ اور آپ فصیح اللسان خطیب بھی تھے۔ اور آپ نے اپنے خطبے میں نبی آخرالزمان ﷺ کی آمد کی خبر بھی عطا فرمائ تھی۔ جناب کعب کے سات بیٹے تھے۔ مرہ، ہصیص ، سہم، جمح ، عدی ،جراح، رزاح۔ (سیرت ابن ہشام) مرہ : مرہ کامعنی ہے کڑواپن ۔۔۔ جناب مرہ کے تین بیٹے تھے۔ کلاب، تیم، مخزوم۔ (سیرت ابن ہشام)

سیدنا کلاب رضی اللہ تعالٰی عنہ:

ان کا اصل نا عبدالحلیم تھا۔ ان کو شکار کا بڑا شوق تھا اور اکثر اپنا شکارکتے کے ذریعے کرتے پھر اس کا کھانا بنواتے اور کھاتے۔ بکثرت کتے کے ذریعے شکار کرنے کااہتمام کرنے کی وجہ سے ان کو کلاب کہا جانے لگا۔ (سیرت ابن ہشام)

سیدنا قصی رضی اللہ تعالی عنہ:

ان کا اصل نام زید تھا۔ جناب قصی بن کلاب حضور اکرم ﷺ کے جد امجد ہیں۔ ان کا تعلق قبیلہ قریش سے تھا اور وہ مکہ مکرمہ کے بڑے معزز اور صاحبِ اثر شخصیات میں سے تھے۔ انہوں نے کعبہ کی خدمت اور اس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھالی، اور قریش کو ایک منظم قبائلی نظام میں جوڑ دیا۔ ان کے دور میں کعبہ کے امور اور حاجیوں کی خدمت کو بہتر بنانے کے لیے اہم اقدامات کیے گئے، جیسے کہ حاجیوں کے لیے پانی اور کھانے کا انتظام کرنا۔ جناب قصی نے قریش میں اتحاد پیدا کیا اور انہیں ایک مضبوط قبیلہ بنایا، جس کی بدولت ان کا شمار عرب کے عظیم رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ جناب قصی کے تین بیٹے تھے۔ عبدمناف، عبدالدار، اور عبدالعزی (سیرت ابن ہشام)

سیدنا عبدمناف رضی اللہ تعالٰی عنہ:

جناب عبد مناف بن قصی حضور اکرم ﷺ کے جدامجد میں سے تھے۔ ان کا اصل نام "مغیرہ" تھا، لیکن اپنی عظمت اور مرتبے کی بنا پر انہیں "عبد مناف" کہا گیا۔ عبد مناف اپنے وقت کے باعزت اور معزز شخصیت تھے اور قبیلہ قریش میں بلند مقام رکھتے تھے۔ ان کی وجہ سے قریش کی عزت اور مرتبہ مزید بڑھا۔ ان کے دور میں تجارت کو بہت فروغ ملا اور انہوں نے قریش کے لیے شام اور یمن کے تجارتی معاہدے کیے، جس سے مکہ مکرمہ کے لوگوں کو معاشی استحکام حاصل ہوا۔ ان کی اولاد سے قریش کے کئی معروف خاندان نکلے، جن میں بنو ہاشم، بنو امیہ وغیرہ شامل ہیں۔ (سیرت ابن ہشام)

جناب سیدنا ہاشم رضی اللہ تعالٰی عنہ:

حضرت ہاشم کا نام عَمْرو یا عُمَر تھا مگر بلند مرتبے کی وجہ سے انہیں عَمْرُو العُلا کہا جاتا تھا۔ آپ کی والدہ عاتکہ بنتِ مُرہ بن ہلال ہیں۔ حضرت ہاشم کی کنیت ابو البطحاء ، لقب سیّدُالبطحاء اور ہاشم تھا۔ ہاشم کے معنیٰ ہیں روٹیاں توڑ کر شوربے میں ملانے والا۔ آپ کو ہاشم کہنے کی وجہ یہ تھی کہ ایک مرتبہ مکہ شریف میں قَحْط سالی ہوگئی جس کی وجہ سے نوبت فاقوں تک پہنچ گئی۔ حج کے ایام تھے ، آپ شام گئے اور وہاں سے آٹا خرید کر اونٹوں پر لادکر مکہ شریف لے آئے۔ کثیر اونٹ ذبح کئے گئے ، روٹیاں پکائی گئیں ، شوربے والا سالن تیار کرکے اس میں روٹیوں کو توڑ کر ڈال دیا گیا۔ جب کھانا تیار ہوگیا تو دسترخوان بچھا کر خاص و عام سب کو کھانے کی دعوت دی گئی۔ سب نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا ، آپ نے کھانے کی اس دعوتِ عام کا سلسلہ جاری رکھا یہاں تک کہ لوگ خود کفیل ہوگئے۔ اسی لئے آپ ہاشم کے لقب سے مشہور ہوگئے۔ ۔ یہ اپنی خصوصیات اور اوصاف کی وجہ سے قبیلہ قریش کے سردار قرار پائے۔ آپ کثیرُالمال اور رئیس و سخی تھے ، مسافروں کو سواری دیتے ، لوگوں کے مالی حقوق اپنی جیب سے ادا کرتے ، انہیں پناہ دیتے ، بھوکوں کو کھانا کھلایا کرتے۔ حَسین و جمیل اور ذہین و فطین بھی تھے۔ آپ کی سخاوت ضرب المثل تھی۔ آپ کے چہرے پر نبیِّ کریم ﷺ کا نورتھا ، جو آپ کو دیکھتا ، اسے آپ سے محبت ہوجاتی۔ قیصر نے ان کے اوصاف انجیل میں پڑھے تھے اس لئے اپنی شہزادی کے ساتھ نکاح کاپیغام بھجوایا مگر آپ نے انکار کردیا۔ (سیرت ابن ہشام، طبقات ابن سعد)

سیدنا عبد المطلب رضی اللہ تعالٰی عنہ

سیدنا عبدالمطلب رضی اللہ تعالی عنہ کی پیدائش 480 ء مدینہ منورہ میں ہوئی اور وصال 578ء مکہ مکرمہ میں ہوا ۔ آپ نبی پاک ﷺ کے دادا تھے ان کا اصل نام شیبہ تھا (شیبہ بن ھاشم عربی میں شيبة ابن هاشم یا شیبۃ الحمد)۔ آپ کو عبدالمطلب اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپ کے والد سیدنا ہاشم رضی اللہ تعالی عنہ کے انتقال کے بعد آپ کے چچا " مطلب " نے پالا تھا ۔ انہی کی طرف نسبت کرتے ہوئے آپ کو " مطلب " کہا جانے لگا ۔ حضرت عبد المطلب دینِ ابراہیمی (اسلام) پر قائم تھے اور ایسی کوئی ایک بھی روایت نہیں ملتی کہ انھوں نے کبھی بت پرستی کی ہو۔ (سیرت ابن ہشام)

والدین مصطفی ﷺ

والد مصطفٰیﷺ

مصطفی کریم ﷺ کے والد ماجد کا نام "عبداللہ " ہے ۔ اور آپ کی کنیت ابو احمد ہے ۔ آپ کے القابات میں سے ایک لقب "ذبیح اللہ " بھی ہے ۔ آپ کو یہ لقب اس لئے دیا گیا کہ حضرت عبد المطلب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے یہ منّت مانی تھی کہ اگر ان کے دس بیٹے ہوں اور وہ بڑے ہو کر قریش کی حفاظت کریں تو ان میں سے ایک کو رضائے الٰہی کے لئے بیتُ اللہ کے پاس ذَبْحْ کریں گے۔ جب ان کی منت پوری ہوگئی تو انہوں نے اپنے بیٹوں کو جمع کیا اور اپنی منّت کی خبر دے کر یہ منت پوری کرنے کوکہا، سب نے والد کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کیا ان دس بیٹوں کے نام کا قرعہ ڈالا گیا تو حضرت سیدنا عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا نام قرعہ میں نکلا۔ حضرت عبدالمطلب رضی اللہ تعالٰی عنہ انہیں ذَبح کرنے کلئے حرمِ محترم لے آئے اس موقع پر قریش نے ان سے درخواست کی کہ ان کو ذَبح نہ کیجئے جب تک آپ مجبور نہ ہو جائیں۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو ہر شخص اپنے بچّے کو لایا کرے گا کہ اس کو ذبح کرے۔ پھرقریش نے ایک تجویز پیش کی کہ ان کو ذبح نہ کیجئے بلکہ انہین حجاز لے چلئے وہاں ایک کاہنہ عورت ہے آپ اس سے مسئلہ بیان کریں، اگر اس نے بھی ان کو ذبح کرنے کا حکم دیا تو پھر آپ کو اپنے صاحبزادے کے ذبح کرنےکا مکمل اختیار ہوگا اور اگر اس نے کوئی ایسا حل پیش کیا جس سے آپ کی منت بھی پوری ہو جائے اور عبداللہ ذَبح ہونے سے بھی بچ جائیں تو آپ اس تجویز کو قبول فرما لجئے۔ پھر سب اس عورت کے پاس پہنچ گئے اور سارا ماجرا سنایا۔اس عورت نے کہا کہ تمہارے ہاں جو دِیت کی مقدار مقرّر ہےیعنی دس اونٹ تم اونٹوں اور ان کے درمیان قُرعہ اندازی کرو اور اگر لڑکے کے نام کا قرعہ نکلے تو اونٹوں کی مقدار بڑھا دو اور اس طرح کرتے رہو یہاں تک کہ تمہارا پروردگار راضی ہو جائے اور اونٹوں پر قُرعہ نکل آئے۔ پھر اس لڑکے کی بجائے وہ اونٹ ذبح کر دینا اس طرح تمہارا رب بھی تم سے راضی ہوجائے گا اور تمہارا لڑکا بھی بچ جائے گا۔ یہ سُن کر سب مکہ مکرّمہ پہنچے اور حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اور دس اونٹوں کے درمیان قرعہ اندازی ہوئی تو حضرت عبداللہ کا نام آیا۔ دس اونٹ زیادہ کئے اور جب بڑھاتے بڑھاتے اونٹوں کی تعداد سو ہو گئی تو تب اونٹوں کےنام قُرعہ نکلا۔ وہاں موجود قریش اور دوسرے لوگوں نے حضرت عبدالمطلب رضی اللہ تعالٰی عنہ کو مبارک دی۔ حضرت عبدالمطّلب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! جب تک تین بار اونٹوں کا نام نہیں نکلے گا تب تک میں اس قرعہ کو تسلیم نہیں کروں گا چنانچِہ یہ عمل تین بار دہرایا گیا اور ہر بار اونٹوں پر ہی قرعہ نکلا۔ تب حضرت عبدالمطّلب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے تکبیر کہی اور صفا و مروہ کے درمیان اونٹوں کو لے جا کر قربان کر دیا۔ اسی وجہ سے حضرت عبداللہ کو ذبیح اللہ کا لقب دیا گیا کہ آپ کے بدلے اللہ پاک کی راہ میں سو اونٹ ذبح کئے گئے ۔ (سیرت ابن ہشام )

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی ولادت

جب حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی ولادت ہوئی تو پچھلی آسمانی کتابوں کے علماء نے ایک علامت سے اس بات کا اندازہ لگالیا کہ اللہ کے آخری نبیﷺ کے والد کی ولادت ہوچکی ہے ۔ وہ علامت یہ تھی کہ حضرت یحیی علیہ الصلوۃ والسلام جس جبہ میں شہید ہوئے تھے وہ جبہ ان کے پاس تھا اور اس جبے پر لگے خون سے متعلق ان کی کتاب میں لکھا تھا کہ ا س پر لگا خون تازہ ہوجائے گا تو یہ اس بات کی علامت ہوگی کہ آخری نبی کے والد کی ولادت ہوچکی ہے ۔ اہل کتاب نے جب جان لیا کہ آخری نبی ﷺ کے والد کی ولادت ہوچکی ہے تو مختلف مواقع پر انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو شہید کرنے کی کوشش کی لیکن ہر بار ناکام رہے اور اللہ پاک نے حضرت عبداللہ کی حفاظت فرمائی ۔ ایک بار حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ تنہاء یعنی اکیلے ہی شکار کے لئے چلے گئے تقریبا 70 یہودی آپ کے انتظار میں تھے کہ موقع ملتے ہی آپ کو شہید کردیں ۔ اتفاق سے حضرت آمنہ کے والد "وہب بن عبدمناف زہری " وہیں موجود تھے ، وہ مدد کے لئے آگے بڑھے لیکن انہوں نے دیکھا کہ آسمان سے کچھ لوگ اترے جو انسانوں جیسے نہ تھے (یقینا اللہ پاک کے فرشتے ہی ہونگے ) اور انہوں نے آتے ہی سب کو قتل کردیا ، اس طرح حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ بحفاظت گھر لوٹ گئے ۔

حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شادی

حضرت وہب بن مناف نے اپنی اہلیہ کو یہ ساری بات بتائی اور اپنی بیٹی حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عبداللہ سے کرنے کے لئے حضرت عبدالمطلب سے بات کی ، اتفاق یہ ہوا کہ حضرت عبدالمطلب رضی اللہ تعالٰی عنہ، جیسی دلہن حضرت عبداللہ کے لئے چاہ رہے تھے وہ تمام خوبیاں حضرت آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا میں موجود تھیں ، آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ فورا راضی ہوگئے اور یوں حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اور حضرت آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا نکاح ہوگیا ۔ امام زرقانی لکھتے ہیں کہ جب حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شادی ہوئی تو بنی مخزوم اور بنی مناف کی تقریبا 200 عورتیں جو حضرت عبداللہ سے نکاح کی خواہشمند تھی انہوں نے زندگی بھر اس غم میں نکاح ہی نہیں کیا اور جس رات شادی ہوئی وہ رات قریشی عورتوں پر اس قدر بھاری تھی کہ سب اس سعادت سے محرومی کے باعث بیمار ہوگئیں ۔ یہ سب یقینا اس نور کی طلب گار تھی جو حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی پیشانی میں چمکتا تھا یعنی نور محمدی ﷺ لیکن اس کے لئے اللہ پاک نے حضرت آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا انتخاب فرمایا ۔اس نور محمدی کے باعث آپ قریش میں سب سے زیادہ حسین وجمیل تھے ۔ آپ اتنے حسین تھے کہ آپ کو وادی بطحہ کا یوسف کہا جاتا تھا ۔

حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی وفات

جب نور محمدی سیدنا عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے سیدنا آمنہ رضی اللہ تعالیی عنہا میں منتقل ہوا اور سیدہ آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا حاملہ ہوگئی تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ 25 سال کی عمر میں مدینہ منورہ میں بیمار ہونے کے بعد دار فناء سے دار آخرت کے مسافر بن گئے آپ کی تدفین بھی وہیں ہوئی ۔

والد ہ مصطفی ﷺ:

جس طرح نسب کے اعتبار سے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ قریش کے معزز قبیلے بنی ہاشم سے تعلق رکھتے تھے اسی طرح سیدتنا آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا بھی قریش کےعظیم قبیلے بنی زہرہ سے تعلق رکھتی تھیں ۔ خود سرکار دو عالم ﷺ نے بھی ارشاد فرمایا " میں عرب کے دو سب سے افضل قبیلوں بنی ہاشم اور بنی زہرہ سے پیدا ہوا " جب اللہ پاک نے حضور ﷺ کے لئے قریش کے عظیم قبیلوں کا انتخاب فرمایا تو ذرا غور کریں جن ہستیوں کا سرکار دو عالم ﷺ کی ولادت کے لئے انتخاب فرمایا وہ کتنی عظیم ہستیاں ہوں گی ۔ امام بیہقی لکھتے ہیں : " بی بی آمنہ نہایت پارسا ، پرہیزگار، طہارت نفس ، شرافت نسب ، اور عزت و وجاہت والی صاحب ایمان خاتون تھیں ۔

سیدہ آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا ایک باوفا بیوی

سیدہ آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا ایک وفا شعار بیوی تھیں اور آپ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بڑی محبت کرتی تھیں ۔ آپ کی محبت کا اندازہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے وصال پر آپ کے کہے گئے اشعار سے بھی کیا جاسکتا ہے ۔ یہاں صرف ایک شعر دیکھئے جس سے آپ کی حضرت عبداللہ سے محبت کا ثبوت ملتا ہے : آپ نے اپنے شوہر کے وصال پر یہ شعر پڑھا : ترجمہ : یعنی موت نے انہیں پکارا تو انہوں نے فورا آگے بڑھ کر ، اسے گلے لگالیا (ہائے افسوس ) اب ان کی مثل اعلیٰ پائے کا انسان بنی ہاشم میں کوئی باقی نہیں رہا

سیدتنا آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا آخری سفر مدینہ:

جب سرکار دو عالم ﷺ حضرت حلیمہ سعدیہ کے یہاں سے اپنی والدہ کے پاس واپس آئے اس وقت آپ ﷺ کی عمر مبارک چار یا پانچ سال تھی مگر آپ دس سال کی عمر کے دکھائی دیتے تھے ۔ جب نبی پاک ﷺ کچھ عرصہ اپنی والدہ کے پاس رہے تو آپ کی والدہ نے اس بات کو جان لیا کہ ان کا لخت جگر مدینے کے دشوار گزار راستوں کی مشکلات برداشت کرنے کے قابل ہے، تو سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عبدالمطلب کی اجازت سے مدینہ منورہ جانے کا ارادہ کیا ۔ آپ کے جانے کا ایک مقصد تو یہ تھا کہ حضور ﷺ کو ان کے ننھیال سے ملایا جائے اور دوسرا مقصد حضورﷺ کو ان کے والد کی قبر مبارک کی زیارت بھی کروائی جائے ۔

سیدتنا آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی وفات:

ام ایمن رضی اللہ تعالٰی عنہا آپ کے ساتھ اس سفر میں تھیں ۔ سیدتنا آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے جب وہاں کچھ عرصہ قیام فرمایا تو کسی طرح یہودیوں کو یہ بات پتا چل گئی اور انہوں نے حضورﷺ میں آخری نبی ہونے کی علامت کو دیکھنا شروع کردیا ، جب سیدتنا آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو اس بات کی خبر پہنچی تو آپ نے واپسی کا ارادہ کرلیا اور بحفاظت ایک قافلے کے ساتھ روانہ ہوگئیں لیکن راستے میں ہی مقام ابواء پر پہنچ کر آپ اپنے خالق حقیقی سے جاملیں اور اسی جگہ ایک پہاڑی پر ہی آپ کی آرام گاہ ہے ۔ جو سیدتنا آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے وصال کے وقت خواتین موجود تھیں انہی میں سے ایک خاتون یہ کہتی ہیں کہ حضور ﷺ کو وصال کے وقت سیدتنا آمنہ رضی اللہ عنہا نے یہ نصیحت فرمائی : یعنی : اے میرے نور نظر اللہ پاک تم کو بابرکت کرے اے عظیم باپ کے لخت جگر جس نے موت کے گھیرے سے نجات پائی بڑے انعام والے بادشاہ اللہ پاک کی طرف سے جس صبح کو قرعہ ڈالا گیا 100 بلند اونٹ ان کے فدئیے میں قربان کئے گئے، میرے لخت جگر میں نے جو خواب میں دیکھا ہے اگر وہ سچ ہے تو عزت والا رب حرم و غیر حرم میں ہی نہیں بلکہ تمہیں ہر علاقے اور مخلوق کی طرف پیغمبر بنائے گا ، تم یقینا حق و اسلام یعنی اپنے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے دین پر مبعوث کئے گئے ہو ، میں اللہ پاک کی قسم دے کر تم سے کہتی ہو کہ لوگوں کے ساتھ مل کر بتوں کی دوستی نہ کر بیٹھنا ۔ مواہب لدنیہ میں سیدتنا آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی ان نصیحتوں کو ذکر کیا گیا ہے ، اس سے پتا چلتا ہے کہ سیدتنا آ منہ رضی اللہ تعالٰی عنہا ایک خدائے وحدہ لاشریک کی ماننے والی اور دین ابراہیمی پر تھیں ۔ مذکور نصیحت کے بعد سیدتنا آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے مزید ارشاد فرمایا : "ہر زندہ موت کا مزہ چکھے گا ، ہر نئی چیز پرانی ہوجائے گی، اور ہر بری چیز فنا ہوجائے گی میں تو مررہی ہوں لیکن میرا ذکر ہمیشہ باقی رہے گا ۔ میں نے ایک پاکباز بچے کو جنم دیا ہے یہی وہ آخری کلمات تھے جو سیدتنا آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی زبان مبارک سے ادا ہوئے اور اس کے بعد آپ اس جہاں فانی سے کوچ کرگئیں۔

حضور ﷺکے نسبی رشتے دار

والد کی جانب سے حضور ﷺ کے رشتے دار

حضور کے چچا : حضور ﷺ کے چچاؤں کی تعداد مؤرخین نے بالاتفاق 09 ذکر کی ہیں اور اس کے علاوہ مزید تین نام بھی ملتے ہیں یوں تقریباً سرکار دو عالم ﷺ کے چچاوں کی تعداد 12 بنتی ہے ۔

حضور ﷺ کے دو چچاوں نے اسلام کو قبول کیا

حضرت عباس بن عبدالمطلب اور حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالٰی عنھما نے ہی اسلام کی دعوت کو قبول کیا ۔

حضرت عباس رضی اللہ تعالٰ عنہ کا مختصر تعارف

حضرت عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ : کے فضائل میں متعدد احادیث آئی ہیں ۔ حضورﷺ نے ان کے اور ان کی اولاد کے بارے میں بہت سی بشارتیں عطا فرمائی ہیں. حضرت عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ کی پیدائش واقعہ فیل (ابرہہ کا ہاتھیوں کو لے کر آنا اور عمارت کعبہ کو گرانے کے لئے ، یہ واقعہ جس سال پیش آیا اسے واقعہ فیل کہتے ہیں ۔ ) سے پہلے ہوئی ۔ آپ غزوہ بدر سے پہلے ہی ایمان لاچکے تھے لیکن اپنا ایمان لانا پوشیدہ رکھا تھا ، کفار آپ کو زبردستی اپنے ساتھ غزوہ بدر میں لائے تھے، اسی لئے نبی پاکﷺ نے پہلے ہی اطلاع دے دی تھی کہ حضرت عباس کو کوئی قتل نہ کرے وہ اس جنگ میں زبردستی لائے گئے ہیں ۔ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ بڑے سخی تھے اور آپ کی سخاوت کو خود حضور ﷺ نے بیان فرمایا ایک موقع پر نبی پاک ﷺ لشکر کی تیاری میں مصروف تھے، اتنے میں حضرت عباس آگئے ۔ آپﷺ نے حضرت عباس کو دیکھ کر ارشاد فرمایا: یہ تمہارے نبی کے چچا ہیں جو کہ عرب میں سب سے بڑھ کر سخی اور صلہ رحمی (یعنی غریبوں اور رشے داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والے ہیں ۔ آپ کی وفات 88 سال کی عمر میں ہوئی ۔ آپ کی نماز جنازہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے پڑھائی اور جنت البقیع میں آپ کی تدفین ہوئی ۔

حضرت حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا مختصر تعارف

امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کا اہل عرب کے انتہائی بہادر افراد میں شمار ہوتا ہے ۔ آپ کا پسندیدہ مشغلہ سیر و سیاحت اور شکار کرنا ہے ۔ آپ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے تین دن پہلے ایمان لائے اور آپ کے ایمان لانے کا سبب آپ کی اپنے بھتیجے (یعنی حضور ﷺ )سے محبت و عقیدت تھی ۔ آپ کی ولادت نبی پاک ﷺ کی ولادت مبارک سے دو سال پہلے ہوئی ۔ آپ خاندان بنو ہاشم اور اولاد عبدالمطلب میں سب سے زیادہ بہادر اور ظاہری شکل و صورت میں انتہائی خوبصورت تھے ۔ حضور ﷺ کا اپنے چچا جان سے محبت کا اتنا گہرا تعلق تھا کہ آپ کے پاس ایک صحابی رضی اللہ تعالٰی عنہ حاضر ہوئے اور عرض کی کہ میرے گھر بیٹے کی ولادت ہوئی ہے یارسول اللہ ﷺ میں اس کا کیا نام رکھوں ؟ نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے لوگوں میں اپنے چچا حمزہ سے بڑی محبت ہے تم انہی کے نام پر اپنے بچے کا نام رکھو ۔ غزوہ احد میں آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو شہید کیا گیا، اس وقت جبکہ آپ کفار کو واصل جہنم کررہے تھے اور دو تلواروں سے ان کی گردنیں اتارتے جارہے تھے۔ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی تدفین میدان احد میں ہوئی ۔ نبی پاک ﷺ شہدائے احد کی قبروں پر تشریف لے جایا کرتے تھے ، آپ کے بعد صدیق اکبر اور عمر فاروق کا بھی یہی معمول رہا ۔ ایک مرتبہ جب نبی پاک ﷺ شہدائے احد کی قبر پر تشریف لائے تو آپ نے فرمایا : "اﷲ ! تیرا رسول گواہ ہے کہ اس جماعت نے تیری رضا کی طلب میں جان دی ہے، پھر یہ بھی ارشاد فرمایا کہ قیامت تک جو مسلمان بھی ان شہیدوں کی قبروں پر زیارت کے لئے آئے گا اور ان کو سلام کریگا تو یہ شہداۓ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اس کے سلام کا جواب دیں گے"۔ چھیالیس برس کے بعد شہداۓ اُحد کی بعض قبریں کھل گئیں تو ان کے کفن سلامت اور بدن تروتازہ تھے اور تمام اہل مدینہ اور دوسرے لوگوں نے دیکھا کہ شہداۓ کرام اپنے زخموں پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں اور جب زخم سے ہاتھ اٹھایا تو تازہ خون نکل کر بہنے لگا۔

حضور ﷺ کی پھوپھیاں

سیرت کی کتابوں میں نبی ﷺ کی پھوپھیوں کی تعداد چھ بیان کی گئی ہے جن کے نام یہ ہیں : ان میں سے صرف دو ہی پھو پھیوں کو قبول اسلام کی سعادت نصیب ہوئی۔ ایک حضرت اروی بنت عبدالمطلب اور دوسری حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ تعالٰی عنھما ہیں ۔

حضرت اروی رضی اللہ تعالٰی عنھا کا مختصر تعارف

حضور اکرم ﷺ کے دادا حضرت عبدالمطلب رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہزادی اور والد مصطفیﷺکی ہمشیرہ رضی اللہ تعالٰی عنھا حضرت اروی بنت عبدالمطلب رضی اللہ تعالٰی عنھا انہیں صحابیہ ہونے کا شرف بھی حاصل ہےاور حضور ﷺ کی قرابتداری کا شرف بھی انہیں عطا ہوا ۔ انہیں زمانہ جاہلیت میں بھی اور زمانہ اسلام میں بھی معاشرے کی ایک عظیم خاتون ہونے کا شرف حاصل ہے ، آپ رضی اللہ تعالٰی عنھا کوبہترین رائے رکھنے والی اور بہترین شاعرہ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔ آپ کی ازدواجی زندگی کے بارے میں مؤرخین لکھتے ہیں کہ آپ کا پہلا نکاح عمیر بن وہب سے ہوا ؛ جس سے آپ کے یہاں قدیم الاسلام ، مہاجر و بدری صحابی حضرت طلیب رضی اللہ تعالٰی عنہ کی ولادت ہوئی ۔ اس کے بعد آپ کا دوسرا نکاح ارطاۃ بن شرحبیل سے ہوا ، جس سے فاطمہ نامی لڑکی پیدا ہوئی ۔ آپ اپنے بھتیجے یعنی پیارے آقا ﷺ سے بہت محبت فرماتی تھیں ۔ ایک مرتبہ آپ کے بیٹے حضرت طلیب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے آپ کو اپنے اسلام لانے کی خوشخبری سنائی تو آپ رضی اللہ تعالٰی عنھا نے اپنے محبت کے جذبات کا یوں اظہار فرمایا : بے شک تمہارے ماموں کے بیٹے مدد کے سب سے زیادہ مستحق ہیں ۔ اللہ پاک کی قسم اگر ہم بھی اس چیز پر قادر ہوتیں جس پر مردوں کو قدرت حاصل ہے تو ضرور ہم بھی آپﷺکا دفاع کرتیں اور دشمنوں سے مقابلہ کرتیں ۔

حضرت صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنھا کا مختصر تعارف :

حضرت صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سید الشہداء امیر حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی سگی بہن اور حضرت سیدنا زبیربن عوام رضی اللہ تعالٰی عنہ جو کہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں ان کی والدہ ماجدہ ہیں ۔ اور ان کی والدہ کا نام ہالہ بنت وہب ہیں اور ہالہ بی بی آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی بہن تھیں ۔ اس اعتبار سے حضرت صفیہ حضور ﷺ کی پھوپھی ہونے کے ساتھ ساتھ نبی پاکﷺ کی خالہ زاد بہن بھی ہوئیں۔ ہجرت نبوی سے پہلے ہی آپ رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کرلیا تھا اور اپنے بیٹے حضرت سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہا کے ساتھ اوّلین ہجرت کرنے والوں میں شامل ہوکر *والسبقون الاولون من المھاجرین والانصار * ترجمہ : اور سب میں اگلے پہلے مہاجرین و انصار (سورۃ التوبہ، آیت 100) میں داخل ہوئی اور رضائے الہی کا مژدہ نص قرآنی سے حاصل کرلیا ۔ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہا 73 سال کی عمر پا کر 20 سن ہجری میں سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دور خلافت میں اپنے خالق حقیقی سے جاملی اور جنت البقیع میں ہی آپ کی تدفین ہوئی ۔

والدہ کی جانب سے حضورﷺ کے رشتے دار

نبی کریم ﷺ کی والدہ کی طرف سے رشتے دار مثلاً : ماموں اور خالائیں ان کا کوئی ذکر کتب سیرت میں نہیں ملتا بعض مؤرخین نے یہ بھی کہا کہ سیدتنا آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنھا اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی تھیں ؛ اس قول کے مطابق نبی پاک ﷺ نہ ہی ماموں تھے اور نہ ہی کوئی خالائیں تھیں ۔البتہ نبی پاکﷺ کی والدہ ماجدہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے والد جناب وہب رضی اللہ تعالٰی عنہ کی ایک اور زوجہ تھیں ، جن کا نام ضعیفہ بنت ہاشم تھا ،ا ن کے دو بیٹے تھے ایک کانام (1) عبد یغوث (2) عبید یغوث ۔ یہ سیدتنا آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے والد کی جانب سے بھائی ہوئے ، اس مناسبت سے حضور ﷺ کے ماموں بھی ہوئے ۔ سیدتنا آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا بنو زہرہ قبیلے سے تعلق رکھتی تھیں ، اسی مناسبت سے بنو زہرہ کے لوگ خود کو حضور ﷺ کے ننھیال کے طور پر شمار کرکے اعزاز حاصل کرتے تھے اور نبی پاک ﷺ بھی بنو زہرہ کا تعارف اپنے ننھیال کے طور پر کرواتے تھے۔ اس کی مثال سنن ترمذی کی روایت میں بھی موجود ہے جس میں نبی پاک ﷺ نے حضرت سعد کا بنو زہرہ سے تعلق ہونے کی وجہ سے اپنا "ماموں " کہا ۔ چنانچہ ترمذی کی روایت میں ہے : *وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَقْبَلَ سَعْدٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:هٰذَا خَالِي فَلْيُرِنِي امْرُؤٌ خَالَه* روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ جناب سعد حاضر ہوئے تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ میرے ماموں ہے کوئی شخص مجھے اپنا ایسا ماموں دکھائے ۔ (ترمذی) یونہی کچھ خواتین کو بھی بنو زہرہ سے تعلق ہونے کی بناء پر حضور ﷺ کی خالہ کہا گیا ان میں (1)فاختہ بنت عمرو (2) فریعہ بنت وہب (3)ہالہ بنت وہب شامل ہیں ۔ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ مراٰۃ المناجیح میں لکھتے ہیں : ماں کا سارا خاندان خواہ دادا کی طرف سے ہو یا نانا کی طرف سے اپنے نانا ماموں ہوتے ہیں۔خیال رہے کہ حضرت آمنہ رضی الله تعالٰی عنہا کا دَدھیال مکہ معظمہ میں ہے اور ننہیال مدینہ طیبہ میں اس نسبت سے انصار مدینہ بھی حضور ﷺ کے نانا ماموں ہیں۔

حضور اکرم ﷺ کے رضاعی رشتے دار

رضاعی رشتے دار سے مراد؟

مختلف بچے جب کسی ایک ہی عورت کا دودھ پیتے ہیں تو وہ آپس میں رضاعی بہن اور بھائی کہلاتے ہیں اور دودھ پلانے والی ان کی رضاعی ماں کہلاتی ہیں اور ان کے شوہر رضاعی والد کہلاتے ہیں۔ اسی طرح ان سے متعلق جتنے رشتے ہوتے ہیں وہ ان بچوں کے رضاعی رشتے دار بنتے ہیں ۔

حضور اکرم ﷺ کی رضاعی مائیں

حضور اکرم ﷺ نے اپنی والدہ ماجدہ طیبہ طاہرہ بی بی آمنہ رضی اللہ عنہا کا سات دن دودھ نوش فرمایا ۔ سیدتنا آمنہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ جن خواتین کو حضور اکرم ﷺکی رضاعی مائیں بننے کا شرف حاصل ہوا مؤرخین نے ان کی مختلف تعداد لکھی ہیں ۔ مجموعی اعتبار سے ان سعادت مند خواتین کی تعداد تقریبا 09 بنتی ہیں ۔

، حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا

حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا وہ عظیم خاتون ہیں جنہوں نے آقا کریم ﷺ کو سب سے زیادہ دودھ پلانے کی سعادت پائی ہے ، آپ رضی اللہ تعالٰی عنہا شرف اسلام سے بھی مشرف ہوئی اور شرف صحابیت بھی آپ کو حاصل ہے ۔ آپ کے شوہر اور حضور ﷺ کے رضاعی والد حضرت حارث رضی اللہ تعالٰی عنہ بھی شرف اسلام سے مشرف ہوئے نیز حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا اور تینوں نے ہی اسلام قبول کرنے کی سعادت پائی ۔ جب سے رسولِ کریمﷺ حضرت سیّدتنا حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے پاس آئے، حضرت حلیمہ کے مویشی کثرت سے بڑھنے لگے، آپ کا مقام و مرتبہ بلند ہوگیا، خیر و برکت اور کامیابیاں ملتی رہیں۔ ایک مرتبہ غزوۂ حُنین کے موقع پر جب حضرت سیّدتنا حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا محبوبِِ خدا ﷺ سے ملنے آئیں تو آپ ﷺ نے ان کے لئے اپنی چادر بچھائی۔نبی پاک ﷺ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا رضاعی والدہ ہونے کی وجہ سے بہت احترام فرماتے اور محبت سے پیش آتے ۔ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی قبر مبارک جنت البقیع میں ہے ۔

حضرت ثُوَیْبَہ رضی اللہ تعالٰی عنہا

حضرت ثویبہ رضی اللہ تعالٰی عنہا مکہ مکرمہ کی رہنے والی خاتون تھیں اور آپ صحرائی قبیلے سے تعلق رکھتی تھیں ۔ حضرت ثویبہ رضی اللہ تعالٰی عنہا ابولہب کی لونڈی تھیں ۔ جب نبی پاک ﷺ کی ولادت ہوئی تو آپ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے یہ خوشی کی خبر ابولہب کو دی ، ابو لہب نے اپنے بھتیجے کی پیدائش کی خوشی میں حضرت ثویبہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو غلامی سے آزاد کردیا ۔ حضرت ثویبہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو حضور ﷺ کی سب سے پہلی رضاعی ماں بننے کا شرف حاصل ہے ۔ حضرت ثویبہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے نبی پاک ﷺ کے علاوہ حضرت سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اور حضرت سیدنا عبداللہ بن عبدالاسد المخزومی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو بھی دوھ پلایا ہے ۔ حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے جب حضورِ انور ﷺ نے نکاح کرلیا تو حضرت ثُوَیبہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نبی کریم ﷺ کے پاس آیا کرتی تھیں، آپ ﷺ ان کا بہت احترام فرماتے تھے اور مدینۂ منورہ سے حضرت ثویبہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے لئے تحائف وغیرہ بھیجا کرتے تھے۔ حضرت ثویبہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا وصال خیبر فتح ہونے کے بعد ہوا۔

حضرت ام ایمن رضی اللہ تعالٰی عنہا

حضرت سیدتنا ام ایمن رضی اللہ تعالٰی عنہا کا اصل نام "برکت " ہے آپ حبشہ کی تھیں ۔ نبی پاک ﷺ کے والد محترم حضرت سیدنا عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی باندی تھیں ۔ ام ایمن رضی اللہ تعالٰی عنہا بہت ہی بلند مقام و مرتبے والی خاتون تھیں انہیں آپ ﷺ کی رضاعی والدہ ہونے کا بھی شرف حاصل ہے۔ پیارے آقا ﷺ خود فرماتے : *اُمُّ اَیمَنِ اُمِّی بَعدَ اُمِّی* یعنی : ام ایمن میری ماں کے بعد میری ماں ہے ۔ (المواہب اللدنیہ) نبی پاک ﷺ کثرت سے ام ایمن رضی اللہ تعالٰی عنہا کے پاس جایا کرتے اور فرماتے یہ میری والدہ ہیں ۔آپ ان کے یہاں بیٹوں کی طرح تھے اور ام ایمن رضی اللہ تعالٰی عنہا بھی آپ سے بیٹوں جیسا برتاؤ کرتی تھیں ۔ حضور ﷺ کے وصال فرمانے کے بعد جب شیخین (سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہما) ان سے ملاقات کے لئے گئے تو آپ انہیں دیکھ کر رونے لگی اور رونے کی وجہ یہ بیان کی کہ حضور ﷺ کے جانے کے بعد وحی کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ام ایمن رضی اللہ تعالٰی عنہا کہ یہ کہنے کا مقصد یہ تھا کہ حضور ﷺ کے وصال کے بعد ہم اللہ عزوجل کی بہت سی نعمتوں سے محروم ہوگئے ہیں آیات قرآنیہ کا آنا بند ہوگیا ، احادیث کا سلسلہ ختم ہوگیا ، مسلمانوں کو صحابی بنانا ختم ہوگیا ، حضور اکرم ﷺ یہ سب ہم کو دے گئے اور یہ عطائیں۔ اپنے ساتھ لے گئے۔ یہ سن کر سیدنا صدیق اکبر اور سیدنا فاروق ا عظم رضی اللہ تعالٰی عنھما بھی رونے لگے ۔

قبیلہ بنو سعد کی ایک خاتون

قبیلہ بنو سعد کی ایک خاتون بھی ہیں جنہوں نے ایک آدھ بار نبی پاک ﷺ کو دودھ پلایا ، ان کا نام معلوم نہ ہوسکا البتہ انہی خاتون نے حضرت سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کو بھی دودھ پلایا ہے ۔ اس طرف سے بھی سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ ، نبی پاک ﷺ کے رضاعی بھائی ہیں۔ اور حضرت ثویبہ رضی اللہ عنہا کی جانب سے بھی امیر حمزہ اور سرکار دو عالم ﷺ رضاعی بھائی ہیں ۔

بنو سلیم کی تین خواتین

بنو سلیم کی کی ان تین کنواری خواتین کے بارے میں زیادہ کچھ تو نہ مل سکا البتہ امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے ان کا ذکر فرمایا ہے کہ جب حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا حضورﷺ کو گود میں لئے راستے سے جارہی تھیں تین نوجوان لڑکیوں نے حضور ﷺ کے حسین و جمیل چہرے کو دیکھا اور جوش محبت میں انہوں نے حضور ﷺ کو دودھ پلانا شروع کردیا (اللہ کی قدرت ) کنواری ہونے کے باوجود تینوں کے دودھ آگیا ۔ ان تینوں پاکیزہ خواتین کا نام *عاتکہ* تھا۔ امام سُہیلی اور بعض علماء نے یہ حدیث نقل کی ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا : *انا ابن العواتک من سلیم * ترجمہ : میں بنی سلیم کی عاتکہ عورتوں کا بیٹا ہوں ۔ (فتاوی رضویہ جلد 30) عاتکہ کے معنی شریف عورت ، رئیسہ ، کریمہ ، سراپا عطر آلود ۔

حضرت خولہ بنت المنذر رضی اللہ تعالٰی عنہا اور حضرت فروہ رضی اللہ تعالٰی عنہا

بعض کتب سیر میں ان کا نام ملتا ہے ، تاریخی اعتبار سے ان خواتین کا تعلق کس قبیلے سے تھا ، اس کے بارے میں کتب سیر خاموش ہیں ۔

رضاعی والد حضرت حارث ، رضاعی بھائی ، حضرت عبداللہ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ

حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے شوہر اور حضور ﷺ کے رضاعی والد حضرت حارث رضی اللہ تعالٰی عنہ بھی شرف اسلام سے مشرف ہوئے ۔

رضاعی بہنیں

حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی دو بیٹیاں تھیں۔ ایک کا نام شیماء بنت حارث اور دوسری کا انیسہ بنت حارث رضی اللہ تعالٰی عنھما ۔ ان دونوں کو نبی پاک ﷺ کی رضاعی بہن ہونے کا شرف حاصل ہے ۔

حضور اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات( رضی اللہ تعالٰی عنہنّ)

نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات

خاندان نبوت میں ازواج مطہرات بھی شامل ہیں ۔ اور ان کا مقام و مرتبہ بھی نسبت رسول کی وجہ سے ارفع و اعلیٰ ہے ۔ ان عظمت و شان کے لئے یہی بات کافی ہے کہ اللہ رب العزت نے ان کی شان کو قرآن پاک میں بیان فرمایا اور ازواج رسول ﷺ کو پوری امت کی ماں قرار دیا گیا ۔ اللہ پاک فرماتا ہے : *وَ اَزْوَاجُہٗۤ اُمَّہٰتُہُمْ ؕ * ترجمہ : اور اس(نبی)کی بیویاں ان (مومنین) کی مائیں ہیں۔ مزید اللہ رب العلمین نے ان کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ *یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیۡتُنَّ* ترجمہ : اے نبی کی بیویو! تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر اﷲ سے ڈرو۔ اس آیت میں اللہ رب العلمین نے ازواج رسول کی امتیازی شان بیان فرمائی کہ ازواج رسول عام عورتوں کی طرح نہیں ہیں بلکہ نسبت رسول کی وجہ سے یہ سب سے جدا ہیں ۔ نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات کی تعداد گیارہ تھی جن کے نام یہ ہیں ۔

ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المؤمنین حضرت سیدتنا خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی کنیت "ام ہند" ہے ۔ آپ کی والدہ کا نام فاطمہ تھا۔ نبی پاک ﷺ کی سب سے پہلی زوجہ بننے کا شرف آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ہی حاصل ہوا ۔ نبی پاک ﷺ کی زوجیت میں آنے سے قبل آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تجارت بھی کیا کرتی تھیں ۔ سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا مالدار ہونے کے علاوہ فراخ دل اور قریش کی عورتوں میں اشرف وانسب تھیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے کاروبار کے لئے سب سے ممتاز شخصیت کو منتخب فرمایا یعنی نبی پاک ﷺ کا انتخاب کیا ، ابھی تک پیارے آقا ﷺ نے اعلان نبوت نہیں فرمایا تھا اس وقت آپ کی عمر مبارک صرف پچیس سال تھی حضرت سیدتنا خدیجۃ اکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضور ﷺ کی بارگاہ میں پیغام پہنچایا کہ آپ ﷺ ان کا مال ِ تجارت لے کر شام جائیں اور منافع میں جو مناسب خیال فرمائیں لے لیں۔ حضور اقدس ﷺ نے اس پیشکش کو اپنے چچا سے مشورہ کرنے کے بعد قبول فرمالیا۔ سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے غلام میسرہ کو بغرض خدمت حضور اقدس ﷺ کے ساتھ کردیا۔ حضور ﷺ نے اپنا مال بصرہ میں فروخت کرکےدگنا نفع حاصل کیا نیز قافلے والوں کو آپ ﷺ کی صحبت بابرکت سے بہت نفع ہوا جب قافلہ واپس ہوا تو سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے دیکھا کہ دو فرشتے رحمت عالمیان ﷺ پر سایہ کئے ہوئے ہیں اور دوران سفر جو جو خوارق عادت (یعنی عقل کو حیران کرنے والے )معاملات پیش آئے ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے غلام میسرہ نے سب آپ کو بتادئے ، یہ سن کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، نبی پاک ﷺ کی گرویدہ ہوگئیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خود نبی پاک ﷺ کی جانب پیغام نکاح بھیجا۔ اس وقت نبی پاک ﷺ کی عمر مبارک پچیس سال تھی جبکہ سیدتنا خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر چالیس سال تھی اور اس وقت کے بڑوں سے مشاروت کے بعد حضرت سیدتنا خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور نبی پاک ﷺ کا نکاح ہوگیا۔ اآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مہر " ساڑھے بارہ اوقیہ سونا " تھا (آج کے حساب سے دیکھا جائے تو یہ تقریبا نوے لاکھ سے کچھ زیادہ رقم بنے گی )۔ نوٹ : اس سے پتا چلا اس وقت بھی نکاح بڑوں کی مشاورت سے ہوتے تھے اور مہر کی تعیین بھی کی جاتی تھی ۔ نیز عمر کا تفاوت اس کو معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا۔ جب تک سیدتنا خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا حیات رہی اس وقت تک نبی پاک ﷺ نے دوسرا نکا ح نہ فرمایا ۔ اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی نبی پاک ﷺ کی خدمت میں شب و روز گزارتیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنی ساری دولت حضور کے قدموں پر قربان کردی ۔ آپ ﷺ کے تمام شہزادے شہزادیاں سوائے حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حضرت سیدتنا خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہی سے ہوئے ۔ اولاد رسول ﷺ کی تفصیل اسی کورس کے اگلے مرحلے میں دی گئی ہے۔ اللہ پاک نے آپ کو سخاوت کی صفت عطا فرمائی تھی ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی سخاوت کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ قحط سالی کے زمانے میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تشریف لائیں تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انہیں 40 بکریاں اور 01 اونٹ تحفۃ پیش کیا ۔ جب نبی پاک ﷺ پر پہلی وحی نازل ہوئی ، اس وقت نبی پاک ﷺ غارحرا میں تھے ، وہاں سے آپ ﷺ گھر لوٹے تو آ پ ﷺ نے سیدتنا خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کمبل اوڑھانے کا کہا کیونکہ وحی الہی کا یہ معاملہ پہلی بار ہوا تھا جس سے آپ ﷺ کے جسم مبارک پر ایک کیفیت طاری تھی۔ مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ نے پہلی وحی کے نازل ہونے سے متعلق جو روایت ہے اس کو ذکر کرنے کے بعد اس کی شرح میں لکھا کہ حضور ﷺ نبوت کی ذمہ داری اٹھانے سے متعلق فکر مند تھے ،اس پر حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی پاک ﷺ کو تسلی دی اور جو جملے ارشاد فرمائے وہ یقینا آج ہماری مسلمان بہنوں کے لئے بڑی نصیحت والے ہیں کہ جب شوہر کسی معاملے سے متعلق فکر مند ہو تو ایک اچھی اور نیک بیوی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے سیدتنا خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے اس انداز کو اختیار کرنا چاہیئے ؛ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضور اکرم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے کہا : اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کے ساتھ اچھا ہی فرمائے گاکیونکہ آپ ﷺ صلۂ رحمی فرماتے، عیال کا بوجھ اٹھاتے، ریاضت و مجاہدہ کرتے، مہمان نوازی فرماتے، بیکسوں اور مجبوروں کی دستگیری کرتے، محتاجوں اور غریبوں کے ساتھ بھلائی کرتے لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آتے، لوگوں کی سچائی میں انکی مدد اور ان کی برائی سے درگزر فرماتے ہیں، یتیموں کو پناہ دیتے ہیں سچ بولتے ہیں اور امانتیں ادا فرماتے ہیں۔ سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان باتوں سے حضور ﷺ کو تسلی و اطمینان دلایا کفار قریش کی تکذیب سے رحمت عالمیان ﷺ جو غم اٹھاتے تھے وہ سب سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دیکھتے ہی جاتا رہتا تھا اور آپﷺ خوش ہوجاتے تھے اور جب سرکار ﷺ تشریف لاتے تو وہ آپ ﷺ کی خاطر مدارات فرماتیں جس سے ہر مشکل آسان ہوجاتی۔ مذہب جمہور پر سب سے پہلے علی الاعلان ایمان لانے والی حضرت سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہیں۔ کیونکہ جب سرور دو جہاں ﷺ غارحرا سے تشریف لائے اور ان کو نزول وحی کی خبر دی تو وہ ایمان لائیں۔ حضور ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے فرمایا: اللہ کی قسم! خدیجہ سے بہتر مجھے کوئی بیوی نہیں ملی جب سب لوگوں نے میرے ساتھ کفر کیا اس وقت وہ مجھ پر ایمان لائیں اور جب سب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے اس وقت انہوں نے میری تصدیق کی اور جس وقت کوئی شخص مجھے کوئی چیز دینے کے لئے تیار نہ تھا اس وقت خدیجہ نے مجھے اپنا سارا سامان دے دیا اور انہیں کے شکم سے اﷲ تعالیٰ نے مجھے اولاد عطا فرمائی۔ سیدتنا خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نبی پاک ﷺ کے دو شہزادے حضرت قاسم اور حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی ولادت ہوئی اور بیٹیوں میں حضرت سیدتنا زینب ، حضرت سیدتنا رقیہ ، حضرت سیدتنا ام کلثوم ، حضرت سیدتنا فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنھنّ کی ولادت ہوئی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی پاک ﷺ کی پچیس سال تک شریک حیات رہیں اور آپ کا وصال اعلان نبوت کے دسویں سال (یعنی جب سرکار دوعالم ﷺ کی عمر پچاس سال تھی ) ہوئی ۔ سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتیں ہیں کہ نبی پاک ﷺ اکثر حضرت سیدتنا خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ذکر خیر کیا کرتے تھے ۔

ام المؤمنین حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ایک روایت کے مطابق حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے وصال فرمانے کے بعد حضرت سیدتنا سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی پاک ﷺ کی زوجیت سے مشرف ہوئیں ۔ آپ کا پہلا نکاح سکران بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوا تھا ۔ آپ اور آپ کے شوہر ابتداء ہی میں مکہ مکرمہ میں اسلام لے آئے تھے ۔ایمان لانے کے بعد جب مسلمانوں کو ہجرت کا حکم ہوا تھا تو آپ اور آپ کے شوہر حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے شوہر کے انتقال سے پہلے ایک خواب دیکھا کہ خواب میں سرکار دو عالم ﷺ تشریف لائے اور ان کی گردن پر اپنا پاؤں رکھا ۔ یہ خواب آپ نے اپنے شوہر حضرت سکران رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سنا یا تو حضرت سکران رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اگر خواب میں تم نے یہی دیکھا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے میرا اس دنیا سے جانے کا وقت قریب آگیا ہے اور میرے اس دنیا سے جانے کے بعد تمہیں نبی پاک ﷺ کی زوجیت کا شرف ملے گا ۔چند ہی دن بعد حضرت سکران رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال ہوگیا ۔ حضرت سیدتنا خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے وصال کے بعد نبی پاکﷺ بھی فکر مند تھے کیونکہ بچوں اور گھر کی دیکھ بھال کا سارا نظام حضرت خدیجۃ الکبری ہی سنبھالتی تھیں ۔ یہ دیکھ کر حضرت خولہ بنت حکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی پاک ﷺ سے نکاح کرنے کا کہا ؛ نکاح کے لئے حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا دونوں کا ذکر کیا تو حضور ﷺ نے فرمایا دونوں سے معلوم کرلیا جائے ، حضرت خولہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پہلے حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے معلوم کیا تو انہوں نے اس کو قبول فرمالیا لیکن یہ کہا کہ انکے والد زمعہ سے اجازت لے لی جائے جب حضرت خولہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ان کے والد کے پاس گئیں اور حضور ﷺ سے نکاح کا پیغام دیا تو حضرت سودہ کے والد نے یہ جواب دیا محمدﷺ اچھے کفو ہیں ، البتہ پہلے سودہ سے معلوم کرلیا جائے حضرت خولہ نے بتایا وہ راضی ہیں ۔ اس پر حـضرت سودہ کے والد نے پیغام دیا کہ نکاح کے لئے آجائیں۔ اور یوں حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح حضور ﷺ سے ہوگیا ۔ حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پانچ احادیث مروی ہیں ۔ ایک روایت بخاری شریف میں ہے اور باقی چار سنن اربعہ میں ہیں ۔ حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال ماہ شوال المکرم میں حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ یا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورخلافت میں ہوا ۔

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اسلام کے پہلے خلیفہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی الل تعالیٰ عنہ کی شہزادی ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی کنیت ام عبداللہ تھی۔ آپ نے خود نبی پاک ﷺ سے کنیت سے متعلق معلوم کیا تو سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنے بھانجے ( یعنی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ)سے اپنی کنیت رکھ لو۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:تم تین راتیں مجھے خواب میں دکھائی گئیں ایک فرشتہ تمہیں ریشم کے ایک ٹکڑے میں لے کر آیا اوراس نے کہا:یہ آپ کی زوجہ ہیں ان کاچہرہ کھولئے۔ پس میں نے دیکھا تو وہ تم تھیں میں نے کہا:اگر یہ خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تووہ اسے پوراکریگا۔ (صحیح مسلم) * آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح مدینہ طیبہ میں چھ سال کی عمر میں ماہ شوال میں ہوا،اور ماہِ شوال ہی میں نو سال کی عمر میں حضور سید عالم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں، پھر حضور ﷺ کی خدمت میں نو سال تک رہیں۔ جب سید عالمﷺ نے وصال فرمایا تو اس وقت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر اٹھارہ سال تھی۔ * حضور اکرم ﷺ نے سيدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا:اے فاطمہ!رضی اللہ تعالیٰ عنہا جس سے میں محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو گی؟ سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا: ضرور یارسول اللہ !ﷺ میں محبت رکھوں گی۔ اس پر حضور اکرم ﷺ نے فرمایا :تو عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے محبت رکھو۔ * مروی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے سرکار دو عالم ﷺ سے عرض کیا: یارسول اللہﷺ! میرے لئے دعا فرمائیں کہ حق تعالیٰ مجھے جنت میں آپ ﷺ کی ازواج مطہرات میں رکھے۔ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا :اگر تم اس رتبہ کی تمنا کرتی ہو تو کل کے لئے کھانا بچاکر نہ رکھو۔ اور کسی کپڑے کو جب تک اس میں پیوند لگ سکتا ہے بے کار نہ سمجھو، سیدہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضور اکرم ﷺ کی اس وصیت ونصیحت پر اس قدر کاربند رہیں کہ کبھی آج کا کھانا کل کے لئے بچا کر نہ رکھا۔ * عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے کسی کو معانی قرآن احکام حلال و حرام، اشعار عرب اور علم انساب میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے زیادہ عالم نہیں دیکھا۔ * سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ حکومت میں 57 ھ میں ۶۶ سال کی عمر میں ہوا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔

ام المؤمنین حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اللہ پاک نے سخی قلب عطا فرمایا تھا ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا غرباء و مساکین پر بڑی مہربان تھیں ۔ آپ کی اسی سخاوت و مہربانی کی وجہ سے آپ کو زمانہ جاہلیت میں ہی " ام المساکین " کا لقب دے دیا گیا تھا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا پہلا نکاح حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوا تھا۔ حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہ غزوہ احد میں انتہائی بہادری کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ حضرت عبداللہ بن جحش کے شہید ہونے کے بعد آپ رضی تعالیٰ اللہ عنہا کا نکاح سرکار دو عالم ﷺ سے ہوا لیکن آپ نے بہت ہی کم عرصہ نبی پاک ﷺ کے ساتھ گزارا، اور حضورﷺ کی زوجیت میں رہتے ہوئے ہی 4ھ میں اس دار فانی سے کوچ کیا اور جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔

ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

سیدتنا حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اسلام کے دوسرے خلیفہ حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہزادی ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی والدہ کا نام زینب بنت مظعون ہے ۔ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا پہلا نکاح خنیس بن حذافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوا تھا ، یہ صحاب بدر میں سے تھے ، اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان کے ساتھ ہجرت بھی فرمائی تھی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شوہر کے وصال کرنے کے بعد حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت حفصہ کے رشتے کی بات حضرت عثمان سے کی ، ان کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کی اور ان احباب کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا تو چند دن گزرنے کے بعد نبی پاک ﷺ کی جانب سے پیغام نکاح موصول ہوا تو اسے سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قبول کرلیا اور یوں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی پاک ﷺ کی زوجیت میں شامل ہوگئیں ۔ (مؤرخین نے یہاں لکھا ہے کہ حضرت ابو بکر اور حضرت عثمان کی طرف سے جواب نہ ملنا اسی وجہ سے تھا کہ یہ جانتے تھے حضور ﷺ کی جانب سے پیغام نکاح جائے گا، اسی لئے کوئی جواب نہ دیا)۔ سیدتنا حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ساٹھ احادیث مروی ہیں جن میں چار متفق علیہ (یعنی بخاری و مسلم دونوں میں ) ہیں اور مزید چھ صرف مسلم شریف میں ہیں اس کے علاوہ پچاس احادیث مختلف کتابوں میں موجود ہیں ۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ حکومت میں ہوا ۔ سال کے اعتبار سے مؤرخین کا اختلاف ہے بعض نے کہا 41ھ بعض نے کہا 45ھ اور بعض نے کہا 47 ہجری میں وصال ہوا ۔

ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

حضرت سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا اصل نام ہند بنت امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھا اور آپ کی والدہ کا نام عاتکہ بنت عامر بن ربیعہ تھا ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا پہلا نکاح ابوسلمہ بن عبدالاسد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوا ، جن سے آپ کے چار بچے تھے ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے شوہر کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت فرمائی پھر دوبارہ مدینہ منورہ تشریف لے آئیں۔ سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ غزوہ احد میں شریک ہوئے ۔ لڑائی کے دوران جو زخم آئے وہ ٹھیک ہوگئے تھے لیکن کچھ عرصے بعد دوبارہ تازہ ہوگئے اور انہی زخموں کی وجہ سے آپ اس دارفانی سے کوچ کرگئے ۔ حضرت سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتیں ہیں کہ اپنے شوہر کے انتقال کرنے کے بعد میں نے اس دعا کو پڑھنا شروع کردیا جس دعا کے بارے میں سرکار دو عالم ﷺ نے مسلمانوں کو ترغیب دی تھی کہ مصیبت و پریشانی کے وقت وہ دعا پڑھیں؛ دعا یہ ہے : *اَللّٰھُمَّ أجِرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاخْلُفْ لِیْ خَيرًا مِّنْھَا* ترجمہ : اے اللہ !عزوجل مجھے اجر دے میری مصیبت میں اور میرے لئے اس سے بہتر قائم مقام بنا ''آپ خود کہتی ہیں کہ میں یہ دعا پڑھتی اور میرے دل میں یہ خیال آتا کہ ابو سلمہ سے بہتر مسلمانوں میں کون ہوگا ۔ لیکن فرمان رسول اللہﷺ پر عمل کے ارادے سے پڑھتی رہی؛ یہاں تک کہ اللہ پاک نے مجھے سب سے بہتر شوہر یعنی نبی پاک ﷺ عطا فرمادئیے ۔ ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے تین سو اٹھترحدیثیں مروی ہیں ان میں تیرہ حدیثیں بخاری و مسلم میں صرف بخاری میں تین حدیثیں اور تنہا مسلم میں تیرہ اور باقی دیگر کتابوں میں مروی ہیں۔ ام المؤمنین حضرتِ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال امہات المؤمنین میں سے سب سے آخر میں ہوا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال 59 ھ میں ہوا جو صحیح تر ہے اور بعض 62 ھ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد بتاتے ہیں۔ اور اس قول کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جسے ترمذی نے ایک انصار کی بیوی سلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کیا۔ وہ کہتی ہیں میں ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گئی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو روتے ہوئے دیکھ کر عرض کیا اے ام سلمہ! رضی اللہ تعالیٰ عنہا کس چیز نے رلایا ہے؟ فرمایا کہ میں نے ابھی ابھی خواب میں تاجدار مدینہ ﷺ کو دیکھا ہے۔ آپ ﷺ کا سر انور اور آپﷺ کا چہرہ مبارک گرد آلود ہیں اور آپ رو رہے ہیں، میں نے عرض کیا :یارسول اللہ ﷺ! آپ کو کس بات نے رولایا ہے؟ فرمایا: جہاں حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کیا گیا وہاں موجود تھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے وقت حیات تھیں۔ ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال چوراسی سال کی عمر میں مدینہ طیبہ میں ہوا۔ ان کی نماز جنازہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بقول دیگر سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پڑھائی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔

ام المؤمنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المؤمنین سیدتنا زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا اصل نام"برہ" تھا ۔ نبی پاک ﷺ نے اس نام کو تبدیل کرکے زینب رکھا ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی کنیت " ام الحکم " تھی ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی والدہ کا نام امیمہ بنت عبدالمطلب تھا جوکہ حضور ﷺ کی پھوپھی تھیں ۔ حضرت زینب بنت جحش کا پہلا نکاح حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوا تھا جو حضور ﷺ کے لے پالک یعنی منہ بولے بیٹے تھے ۔ حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب حضرت زینب کو طلاق دی تو حضور ﷺ نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح فرمایا ۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:میں نے کوئی عورت حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے زیادہ نیک اعمال کرنے والی،صدقہ و خیرات کرنے والی، صلہ رحمی کرنے والی،اور اپنے نفس کوہرعبادت وتقرب کے کام میں مشغول رکھنے والی نہیں دیکھی۔ ام المؤمنین سیدہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے گیارہ حدیثیں مروی ہیں دو متفق علیہ یعنی بخاری ومسلم میں ہیں اور باقی نو دیگر کتابوں میں ہیں۔ ان کے وصال کی خبر جب سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو پہنچی توفرمایا: ''پسندیدہ خصلت والی،فائدہ پہنچانے والی،یتیموں اور بیواؤں کی خبر گیری کرنے والی دنیا سے چلی گئی۔'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نمازجنازہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پڑھائی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال 53 سال کی عمر میں 20ھ یا 21 ھ مدینہ شریف میں ہوا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔

ام المؤمنین حضرت جویریہ بنت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المؤمنین سیدہ جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کانام بھی برہ تھا، حضور اکرم ﷺ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نام تبدیل کرکے جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا رکھ دیا تھا۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے منقول ہے کہ سیدہ جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بڑی شیریں ، ملیح اورصاحبِ حسن و جمال عورت تھیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا مسلمان ہو کر نبی پاک ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہنے لگی کہ ، میں مسلمان ہوچکی ہوں ۔اور حارث بن ضرار کی بیٹی ہوں جو کہ ہمارے قبیلے کے سردار ہیں ۔ میں مسلمانوں کے یہاں قید میں ہوں اور ثابت بن قیس کے حصے میں آئی ہوں ، انہوں نے میری آزادی کی قیمت مقرر کی ہے وہ ادا کرکے آزاد ہونا چاہتی ہوں ۔ حضور ﷺ نے ان کی آزادی کی قیمت ادا کرکے نہ صرف حضرت جویریہ کو آزاد کیا بلکہ آزادی کے بعد انہیں اپنی شرف زوجیت سے بھی نوازا۔ جب نبی پاک ﷺ سے آپ کا نکاح ہوگیا تو اس بارے میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا خود کہتی ہیں کہ میں نے یہاں آنے سے پہلے ایک خواب دیکھا تھا کہ مدینہ منورہ سے چاند چلتا ہوا میری گود میں آگیا ہے ، اس خواب کا میں نے کسی سے ذکر نہیں کیا تھا اور خود ہی اس کی تعبیر کرلی تھی اور یہ تعبیر پوری ہوگئی۔ کتب معتبرہ میں سیدہ جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سات حدیثیں مروی ہیں، بخاری میں دو مسلم میں دو اور باقی دیگر کتابوں میں مروی ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال 65 سال کی عمر میں 50ھ یا 56ھ میں مدینہ طیبہ میں ہوا۔ ان کی نماز جنازہ مروان نے پڑھائی جوکہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جانب سے مدینہ میں حاکم تھا ۔

ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

حضرت سیدتنا ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا اصل نام " رملہ " یا ایک قول کے مطابق " ہند " تھا ۔ والد کا نام ابوسفیان اور والدہ کا نام صفیہ بنت ابی العاص تھا ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ابتدائے اسلام میں ہی ایمان لے آئیں تھیں ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا پہلا نکاح عبیداللہ بن جحش سے ہوا تھا جس سے آپ کی ایک بیٹی حبیبہ تھی ، اسی کی مناسبت سے آپ کی کنیت ام حبیبہ تھی۔ عبید اللہ بن جحش اسلام لانے کے بعد مرتد ہوچکا تھا ، اور حالت ارتداد میں ہی مرگیا ۔ ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں :میں نے خواب میں دیکھاکہ ایک شخص مجھے ''یاام المؤمنین'' کہہ کر مخاطب کررہا ہے، میں نے خواب کی تعبیر یہ لی کہ رسول اللہ ﷺ مجھے نکاح میں لائیں گے۔ حضور تاجدار مدینہ ﷺ نے حضرت عمروبن امیہ ضمری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نجاشی کے پاس بھیجا کہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکو حضور اکرم ﷺ کی طرف سے نکاح کا پیغام دیں اور نکاح منعقد کردیں، پھر سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت خالد بن سعید بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا وکیل بنایا، نجاشی نے خطبہ پڑھا، حضرت جعفربن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور وہ تمام مسلمان جو حبشہ میں موجود تھے شریک محفل ہوئے، پھر نجاشی نے حضرت خالد بن سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دینار سپرد کئے لوگ جب روانہ ہونے کے لئے تیار ہوئے تونجاشی نے کہا: بیٹھ جاؤ کہ مجلس نکاح میں کھانا کھلانا انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت ہے، نجاشی نے کھانے کاانتظام کیا،سب نے کھانا کھایا پھر رخصت ہوگئے۔ صلح حدیبیہ کے دوران ابو سفیان مدینہ منورہ آئے (ابھی ایمان نہیں لائے تھے)سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر پہنچ کر چاہا کہ سرکار دو عالم ﷺ کے بستر پربیٹھے سیدہ نے اپنے باپ کو بستر پر بیٹھنے سے منع کردیا اور فرمایا: یہ بستر طاہر و مطہر ہے اور تم نجاست شرک سے آلودہ ہو۔ سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کتب معتبرہ میں پینسٹھ احادیث مروی ہیں ان میں سے دو متفق علیہ ہیں ایک تنہا مسلم میں ہے باقی دیگر کتابوں میں مروی ہیں۔ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پاکیزہ ذات ، حمیدہ صفات، جواد اور عالی ہمت تھیں، ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ کا وصال کا وقت قریب تھا اس وقت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہا کہ مجھے ان امور میں معاف کردو جو ایک شوہر کی بیویوں کے درمیان ہوجاتے ہیں اور اس بارے میں جو کچھ میری جانب سے تمہارے متعلق واقع ہوا ہو اسے معاف کردو۔ انہوں نے کہا حق تعالیٰ آپ کو بخشے اور معاف کرے ہم بھی معاف کرتے ہیں۔ ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا اللہ تعالیٰ تمہیں خوش رکھے تم نے مجھے خوش کردیا۔ ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال مدینہ طیبہ میں 40ھ یا 44ھ میں ہوا۔ ایک قول کے مطابق آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال شام میں ہوا۔

ام المؤمنین حضرت صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ تعالیٰ عنہا

حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں ۔ غزوہ خیبر میں مسلمانوں کے پاس قید ہونے والوں میں آپ بھی شامل تھیں ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا قبیلے کے سردار کی بیٹی تھیں ۔آپ حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حصے میں آئی تھیں ۔صحابہ کرام نے مل کر فیصلہ کیا کہ آپ رضی تعالیٰ اللہ عنہا سردار کی بیٹی ہیں ، لہذا انہیں حضور ﷺ کے لئے ہی خاص کرلیں ۔نبی پاک ﷺ نے حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی قیمت ادا فرمائی، انہیں آزاد کیا اور پھر ان کو اپنے عقد زوجیت سے مشرف فرمایا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بھی پہلے ہی خواب دیکھ لیا تھا حضور اکرم ﷺ کی زوجیت سے مشرف ہونے کا لیکن اس وقت آپ کنانہ کے عقد نکاح میں تھیں۔ آپ نے یہ خواب اپنے شوہر سے بیان کیا ؛ اس نے کہا کہ تو اس بات کی خواہش رکھتی ہے کہ اس بادشاہ کی بیوی بنے جو مدینہ میں ہے اور ایک طمانچہ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو مارا جس سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی آنکھ نیلی پڑ گئی،اس طمانچہ کا اثر ظاہر تھا، سرور دوعالم ﷺ کے استفسار پر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ساری حقیقت حال بیان کردی۔ غزوہ خیبرسے واپسی پر حضور اکرم ﷺ نے اپنے پائے مبارک سواری پر رکھے تاکہ سیدہ صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے قدموں کو حضور اکرم ﷺ کی ران پر رکھ کر سوار ہوجائیں۔ سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے قدم کے بجائے اپنے زانو کو حضور اکرم ﷺ کی ران پر رکھ کر سوار ہوگئیں۔ حضور اکرم ﷺ نے ان کو اپنا ردیف بنایا اور پردہ باندھا۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کتب معتبرہ میں دس حدیثیں مروی ہیں۔ ایک متفق علیہ اور باقی نو دیگر کتابوں میں ہیں۔ ام المؤمنین حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال مختلف اقوال کے مطابق36ھ یا 52ھ میں ہوا،یہ قول بھی ہے کہ خلافت فاروقی میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال ہوا، اور سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نماز جنازہ پڑھائی۔

ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

حضرت سیدتنا میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا اصل نام "برہ " تھا ۔ نبی پاک ﷺ نے آپ کا نام میمونہ رکھا ۔ آپ کی والدہ کا نام ہند بنت عوف تھا ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی والدہ وہ ہیں جن کو ایسے داماد نصیب ہوئے جیسے کسی اور کو نصیب نہ ہوئے ۔ ایک داماد حضور اکرم ﷺ تھے اور دوسرے داماد حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے کیونکہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بہن ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت عباس کے عقد زوجیت میں تھیں ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی والدہ کے پہلے شوہر عمیس خشعمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ، جن سے آپ کی والدہ کی مزید دو بیٹیاں تھیں ایک کا نام اسماء بنت عمیس تھا جو پہلے حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نکاح میں تھیں ، حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت ابوبکر صدیق کے نکاح میں آئیں پھر حضرت ابوبکر صدیق کے وصال فرمانے کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نکاح میں آئیں ۔ حضرت اسماء کی دوسری بہن حضرت زینب بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی زوجیت میں تھیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح حضور ﷺ سےماہِ ذی قعدہ 7ھ میں عمرۃ القضاء میں ہوا۔جب نبی کریم ﷺ کی طرف سے انہیں نکاح کا پیام ملا وہ اونٹ پر سوار تھیں، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: اونٹ اور جو اس پرہے اللہ اوراس کے رسول ﷺ کے لئے ہے۔ یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح، زفاف اور وصال ایک ہی مقام پر واقع ہوا جسے سرف کہتے ہیں اور یہ مکہ مکرمہ سے دس میل کے فاصلہ پر ہے۔ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے چھہتر حدیثیں مروی ہیں۔ سات متفق علیہ باقی دیگر کتابوں میں ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کاو صال حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں ہوا ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نما ز جنازہ آپ کے بھانجے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پڑھائی اور دیگر بھانجوں نے آپ کو قبر میں اتارا۔

آقا کریم ﷺکے شہزادے اور شہزادیاں

آقا کریم ﷺ کے شہزادے اور شہزادیاں

آقا ﷺ کی اولاد پاک کا کیا کہنا، ان نفوس قدسیہ کی عظمت کیسی ارفع و اعلی ہے کہ حضور ﷺ کے جگر پارے ، بدن کے ٹکڑے ہیں ۔ ان کی پیدائش حضور ﷺ کے خون سے ہوئی ۔ اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : تیری نسل پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا تو ہے عین نور تیرا سب گھرانہ نور کا ان کی پاکی و عظمت کو اللہ پاک نے قرآن میں بیان کیا ؛ ارشاد ہوا : *اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ* ترجمہ : اے نبی کے گھر والو! اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے۔ (پارہ 22، سورۃالاحزاب ، آیت نمبر 33)

نبی پاک ﷺ کی اولاد پاک میں تین شہزادے اور چار شہزادیاں تھیں۔

بیٹوں کے نام 1.حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ 2.حضرت قاسم رضی اللہ تعالیٰ عنہ 3.حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیٹیوں کے نام 1.حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا 2.حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا 3.حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا 4.حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا

حضرت زینب بنت محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہا

رسول اکرم ﷺ کی سب سے بڑی شہزادی حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہیں، اعلان نبوت سے دس سال قبل(جب حضور ﷺ کی عمر مبارک 30 سال تھی ) آپ کی ولادت ہوئی۔ آپ اپنے والد محترم کی بہت باادب ، خدمت گزار، پاک طبیعت اور صابرہ تھیں ۔ صحابی رسول حضرت منیب آزدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں اسلام قبول کرنے سے پہلے میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ، آپ فرمارہے تھے اے لوگوں "لاالہ الا اللہ " کہو اور فلاح پاجاو " لیکن لوگوں کا انداز مختلف تھا وہ اس دعوت کو قبول کرنے کے بجائے حضور ﷺ پر مٹی پھینکنا ، آوازے کسنا ، شروع ہوگئے ، دوپہر تک یہی معاملہ رہا؛ پھر ایک خاتو ن آئیں اور آپ ﷺ کا چہرہ مبارک دھلایا ، میں نے لوگوں سے پوچھا یہ کون ہیں ؟ تو لوگوں نے بتایا یہ حضور ﷺ کی بیٹی "زینب " ہیں ۔ اعلان نبوت فرمانے سے پہلے حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضور ﷺ کی بارگاہ میں حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح حضرت ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کرنے کی درخواست پیش کی تو حضور ﷺ نے اسے قبول فرمایا اور حضرت ابوالعاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ اپنی شہزادی حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح کردیا ۔ حضرت ابوالعاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بہن کے بیٹے اور آپ کے بھانجے تھے ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا انہیں اپنے بیٹوں کی طرح رکھتی تھیں ۔ ابتدائے اسلام میں جب حالات بڑے سنگین تھے اسلام کی دعوت دینے کی وجہ سے کفار مکہ حضور ﷺکو طرح طرح سے تکالیف پہنچا رہے تھے انہوں نے ایک بڑی گھٹیا حرکت یہ کی کہ ابو العاص کے پاس گئے اور کہا کہ ان (محمد) کی بیٹی کو طلاق دے دو اور قریش کی جس عورت سے چاہو تم نکاح کرلو ، ان کٹھن حالات میں حضرت ابوالعاص جنہوں نے ابھی تک اسلام قبول نہیں کیا تھا یہ جاننے کے باوجود کہ انکار پر یہ لوگ کتنا نقصان پہنچا سکتے ہیں ، آپ نے انہیں جواب دیا فرمایا : "خدا کی قسم میں اپنی زوجہ کو طلاق نہ دوں گا مجھے یہ بات بالکل پسند نہیں کہ میری زوجیت میں زینب کے علاوہ کوئی اور خاتون ہو خواہ وہ قریش میں کتنا ہی بلند مقام رکھتی ہو" آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اتنے مشکل حالات میں نبی پاک ﷺ کے ساتھ رشتہ دامادی کا لحاظ کیا اور اس کی اہمیت کو سمجھا۔ نبی پاک ﷺ نے آپ کا شکریہ بھی ادا کیا اور اس عمل پر آپ کی تعریف بھی فرمائی ۔ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے غزوہ بدر کے بعد ہجرت کی تھی معاملہ کچھ یوں ہوا کہ ابھی ابوالعاص ، آپ کے شوہر نے اسلام قبول نہیں کیا تھا اور غزوہ بدر میں مسلمانوں کے مقابلے میں مشرکین کے ساتھ تھے ، غزوہ بدر میں مسلمانوں کو فتح اور کفار کے جو لوگ قیدی بنے تھے ان میں ابوالعاص بھی تھے، نبی پاک ﷺ نے انہیں بغیر فدیہ بطور احسان چھوڑ دیا اور ان سے یہ وعدہ لیا کہ مکہ معظمہ جا کر حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو مدینہ منورہ آنے کی اجازت دے دیں ، ابوالعاص نے اس کا وعدہ کرلیا اور اپنے وعدے کو پورا بھی کیا پھر کچھ عرصے بعد خود بھی ایمان لے آئے ۔ ابن ماجہ کی روایت ہے کہ ان کے ایمان لانے کے بعد نبی پاک ﷺ نے حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ان کا نیا نکاح پڑھایا ۔ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف جب ہجرت کررہی تھیں اس وقت آپ حمل سے تھیں کافروں نے آپ کا راستہ روک لیا اور انہی میں سے ایک شخص نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو نیزہ مار کر سواری سے گرادیا جس سے آپ کا حمل ضائع ہوگیا یعنی بچہ آپ کے بطن میں ہی فوت ہوگیا ۔ نبی پاک ﷺ کو اس بات کی خبر پہنچی تو حضور ﷺ کو اس بات کا بڑا صدمہ پہنچا اور آپ نے فرمایا : *"ھِیَ اَفضَلُ بَنَاتِی اُصِیبَت فِیَّ"* ترجمہ : زینب میری بیٹیوں میں اس اعتبار سے افضل ہیں کہ انہوں نے ہجرت کے معاملے میں اتنی بڑی مصیبت کا سامنا کیا ۔ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے دو ہی بچے تھے ؛ ایک بیٹی جس کا نام حضرت امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھا اور ایک بیٹے تھے جن کا نام حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھا ۔ ( ان کاذکر حضور ﷺ کے نواسے اور نواسیوں والے حصے میں کیا جائیگا ) سیدتنا زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ہجرت کے وقت جو تکلیف پہنچی تھی اس کا اثر بہت دیر تک باقی رہا حتی کہ اسی تکلیف کی وجہ سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال ہوا ، صحابہ کرام اسی وجہ سے انہیں شہیدہ کہتے تھے ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال 8ھ میں 31 سال کی عمر میں ہوا ۔ مسلم شریف کی روایت ہے کہ حضرت ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو میت کو غسل دینے والی خاتون تھیں انہوں نے حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو غسل دیا ۔ آپ خود بیان کرتی ہیں کہ نبی پاک ﷺ نے حضرت زینب کے بارے میں ہمیں ہدایت کی کہ انہیں تین یا پانچ مرتبہ غسل دینا اور پانچویں مرتبہ جب غسل دو تو پانی میں کافور ملادینا اور غسل کے بعد مجھے اطلاع کرنا ؛ ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتیں ہیں ہم نے ایسا ہی کیا اور پانچویں مرتبہ غسل سے جب فارغ ہوئے تو حضور اقدسﷺ کو ہم نے اطلاع دی ۔ حضور ﷺ نے ہمیں اپنا تہبند دیا اور فرمایا کہ اسے زینب کے بدن سے متصل (یعنی کفن کے نیچے ) رکھ دو ۔ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نماز جنازہ خود نبی پاک ﷺ نے پڑھایا اور اپنے ہاتھوں سے سیدہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو قبر میں اتارا۔ آپ کا مزار مبارک جنت البقیع میں ہے

حضرت رقیہ بنت محمد رضی اللہ عنہا

حضرت سیدتنا رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی پاک ﷺ کی دوسری شہزادی ہیں ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اعلان نبوت سے سات سال پہلے پیدا ہوئیں ۔ اس وقت نبی پاک ﷺ کی عمر مبارک 33سال تھی۔ رقیہ کے معنی ہیں ترقی کرنے والی ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا صاحبۃ الہجرتین ہیں دین کی خاطر پہلے حبشہ اور پھر مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کرنے والی ہیں ۔ نبی پاک ﷺ نے ابھی اعلان نبوت نہیں فرمایا تھا جب حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا پہلا نکاح عتبہ بن ابولہب سے ہوا ، رخصتی اس وقت نہیں ہوئی تھی ۔جب نبی پاک ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا تو ابولہب نے حضور ﷺکی سخت بے ادبی کی ، اس بدبخت کی بے ادبی کا جواب اللہ پاک نے قرآن کریم میں اس کی مذمت پر مشتمل آیات اتار کر کیا یعنی سورۃ اللہب نازل فرمائی۔ جس کی وجہ سے ابولہب کا غصہ مزید بڑھا ۔ اس نے اور اس کی بیوی ام جمیل وہ بھی سخت گستاخ تھی ان دونوں نے ملکر اپنے بیٹے عتبہ کو یہ کہا کہ اگر رقیہ کو طلاق نہ دی تو ہم سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ۔ عتبہ نے رخصتی سے پہلے ہی حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو طلاق دے دی ۔ ابولہب کی اس گھٹیا حرکت پر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بہت غصہ آیا ، ابولہب تو یہ چاہتا تھا کہ اس طرح نبی پاک ﷺ کو اذیت پہنچے گی لیکن حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے لئے پیغام نکاح بھیجا ، جسے رسول اللہ ﷺ نے قبول فرمایا اور حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا حضرت عثمان غنی رضی تعالیٰ اللہ عنہ سے نکاح ہوگیا ۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس عمل سے کفار قریش کو پھر بڑی تکلیف پہنچی۔ نبی پاک ﷺ اپنی تمام ہی شہزادیوں سے بڑی محبت کا اظہار فرماتے ۔ حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف بھی خاص توجہ رکھتے ، ان کے حال احوال معلوم کرتے ، ان کے یہاں تحائف بھی بھجوایا کرتے ۔ اعلان نبوت کے پانچویں سال ماہِ رجب میں 11 مردوں اور 4 عورتوں نے حبشہ کی جانب ہجرت کی ؛ ان احباب میں سب سے پہلے ہجرت کرنے والے حضرت عثمان غنی اور حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما تھے ۔ حضرت رقیہ اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہما دونوں نے مل کر تین مرتبہ ہجر ت کی ہے دو مرتبہ حبشہ کی طرف اور ایک مرتبہ مدینہ منورہ کی طرف ۔ جب پہلی مرتبہ حبشہ کی طرف ہجرت کی تو کچھ عرصے بعد دوبارہ مکہ کی طرف لوٹ آئے اور پھر نبی پاک ﷺ نے مسلمانوں کو حبشہ کی جانب ہجرت کا حکم دیا تو آپ دونوں نے پھر اس حکم پر لبیک کہتے ہوئے دوبارہ حبشہ کی طرف ہجرت کرگئے ، جانے سے قبل حضرت عثمان نے بارگاہ مصطفی ﷺ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ پہلی مرتبہ ہجرت کرنے میں بھی آپ ﷺ کا ساتھ نہ مل سکا اور اب دوسری مرتبہ میں بھی آپ ﷺ کا ساتھ نصیب نہیں ہورہا ہے۔ نبی پاک ﷺ نے بڑا پیارا جملہ ارشاد فرمایا کہا : اے عثمان تم اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہی ہجرت کررہے ہو ۔ جب دوسری مرتبہ حبشہ ہجرت کرگئے تو کچھ عرصے بعد پتا چلا حضورﷺمدینہ منورہ کی جانب ہجرت کر رہے ہیں ، لہذا حضرت رقیہ اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہما حبشہ سے مدینہ کی جانب ہجرت کر گئے ۔ 12 رمضان المبار ک 2 ہجری میں جب رسول کائنات ﷺ حق و باطل کے عظیم معرکے کے لئے تشریف لے جارہے تھے اس وقت نبی پاک ﷺ کی شہزادی رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بہت بیمار تھیں ۔ آپ ﷺ نے ان کے پاس حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ٹھہرنے کو کہا ۔ 17 رمضان المبارک کو غزوہ بدر کا معرکہ پیش آیا اور ابھی غزوہ بدر سے واپسی نہ ہوئی تھی کہ 19 رمضان المبارک کو سرکار ﷺ کو خبر پہنچی کہ رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال ہوچکا ہے ۔ وصال کے وقت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر صرف 20 سال تھی ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بقیع پاک میں دفن کیا گیا ۔

حضرت ام کلثوم بنت محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہا

حضرت سیدتنا ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی پاک ﷺ کی تیسری شہزادی ہیں ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی اعلان نبوت سے پہلے پیدا ہوئیں ۔ حضور ﷺ نے ہی آپ کا نام ام کلثوم رکھا ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بھی پہلا نکاح ابولہب کے چھوٹے بیٹے عتیبہ سے ہوا تھا ،ا بھی رخصتی نہ ہوئی تو بدنصیب عتیبہ نے اپنے والدین کی باتوں میں آکر ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو طلاق دے دی ۔ عتیبہ نے نہ صرف طلاق دی بلکہ نبی پاک ﷺ کی بارگاہ میں آکر سخت گستاخی کی ، اس پر حضورﷺ نے اس کے لئے دعائے ضرر فرمادی ۔ جس سے خود عتیبہ بھی واقف تھا کہ محمد ﷺ نے جو کہہ دیا ہے وہ ہو کرہے گا ، حضورﷺ کی دعائے ضرر کے مطابق عتیبہ پر ایک درندہ حملہ آور ہوا اور اس نے لمحے بھر میں عتیبہ کو چیرپھاڑ ڈالا ۔ اللہ پاک کی شان دیکھیں ابولہب کے ایک بیٹے عتبہ نے بھی اپنے والدین کی باتوں میں آکر حضور ﷺ کی بیٹی کو طلاق دی تھی اور عتیبہ نے بھی ایسا ہی کیا تھا لیکن عتبہ نے کسی قسم کی گستاخی نہیں کی ، اللہ پاک نے انہیں فتح مکہ کے دن اسلام کی دولت عطا فرمادی اور وہ اسلام قبول کرکے شرف صحابیت کو پاگئے جبکہ عتیبہ نے سخت بے ادبی کی تھی تو یہ کفر کی حالت میں ہی درندے کی چیڑ پھاڑ کرنے سے انتقال کرگیا ۔ نبی پاک ﷺ کے مدینہ منورہ ہجرت کرجانے کے سات سال بعد حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ہجرت ہوئی۔ نبی پاک ﷺ نے حضرت زید بن حارثہ اور ابورافع رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو پانچ سو درہم اور دو اونٹ دے کر مکہ بھیجا اور فرمایا کہ یہ وہاں جاکر حضور اکرم ﷺ کے اہل و عیال کو مدینہ لے آئیں ۔ یہ دونوں حضرات گئے اور ان کے ساتھ حضرت ام کلثوم ، حضرت فاطمہ ، ام المؤمنین حضرت سودہ ، حضرت ام ایمن اور حضرت اسامہ بن زید رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین نے ہجرت کی ۔ حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے وصال کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ غمگین رہنے لگے تھے کیونکہ نبی پاک ﷺ کے ساتھ جو رشتہ دامادی ملا ہوا تھا وہ ختم ہوگیا تو حضور ﷺ نے اس بات کو جان لیا اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے آپ رضی اللہ عنہ کا نکاح کردیا۔ 9ہجری شعبان المعظم کے مہینے میں حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال ہوا ۔ نبی پاک ﷺ نے نماز جنازہ پڑھایا ۔ اپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی تدفین جنت البقیع میں ہوئی۔ صحابہ کرام فرماتے ہیں کہ ہم نے دیکھا حضورﷺ تدفین کے وقت قبر کے قریب تشریف فرماتھے اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ۔

حضرت فاطمہ بنت محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہا

حضرت سیدتنا فاطمۃُ الزّہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا شہنشاہ کونین ﷺ کی سب سے چھوٹی مگر سب سے زِیادہ پیاری اور لاڈلی شہزادی ہیں ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نام ’’فاطِمہ‘‘ اور لقَب ’’زَہراء‘‘ اور ’’بَتُول‘‘ ہے۔ اِعلانِ نُبوّت سے 5 سال قبْل حضرتِ سیدتنافاطمۃ الزّہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی پیدائش ہوئی خاتونِ جنّت کے بابا جان،رحمتِ عالَمِیّان، محبوبِ رحمٰن ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: *اِنَّمَا سُمِّیَتْ فَاطِمَۃُ لِاَنَّ اللہَ فَطَمَھَا وَمُحِبِّیْھَا عَنِ النَّارِ* ترجمہ: اس (یعنی میری بیٹی) کا نام فاطمہ اس لئے رکھا گیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اِس کو اور اس کے مُحِبِّیْن کو دوزخ سے آزاد کیا ہے۔ اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیدتنا عائشہ، صِدِّیقہ،طیِّبہ، طاہِرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے چال ڈھال، شکل و شباہَت(رنگ رُوپ) اور بات چیت میں فاطِمہ عفیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بڑھ کر کسی کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مُشابِہ نہیں دیکھا اور جب حضرتِ فاطِمہ رضی اللہ عنہا آپ صَلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضِرہوتیں تو حُضور ﷺ آپ رضی اللہ عنہا کے اِستِقْبال کے لئے کھڑے ہو جاتے، آپ رضی اللہ عنہا کے ہاتھ تھام کر اُن کو بوسہ دیتے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے۔ سیِّدِ کونین ﷺ کی پیاری لاڈلی صاحبزادی، خاتونِ جنّت، بی بی فاطِمہ رضی اللہ عنہا خود تَنُدور میں روٹیاں لگایا کرتیں ، گھر میں جھاڑو دیتیں اور چکی پیستی تھیں جس سے آپ رضی اللہ عنہا کے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے تھے، رنگ مُبارَک مُتَغَیَّر اور کپڑے گَرْد آلود ہو گئے تھے۔ ایک دفعہ خادِم کی طلب میں بارگاہِ مصطفٰے میں حاضر ہوئیں تو تسبیحِ فاطمہ کا تحفہ ملا، چُنانچِہ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ ْ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدتنا فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا آقائے نامدار، دوعالَم کے مالِک ومُختار ﷺ کی بارگاہ میں حاضِر ہوئیں اور آپ ﷺ سے خادم کا سوال کیا: حُضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’تمہیں ہمارے پاس خادم تو نہیں ملے گا، کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو خادِم سے بہتر ہے؟تم جب بستر پر جاؤ تو 33بار سُبحٰانَ اللہ، 33بار اَلْحَمْدُ لِلّہ اور 34بار اللہُ اَکْبَر پڑھ لیا کرو۔‘‘ امیرُ المؤمنین حضرت سیدناعلیّ المرتضی ٰ فرماتے ہیں کہ سیِّدَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کھانا پکانے کی حالت میں بھی قراٰنِ پاک کی تلاوت جاری رکھتیں ، نبیِّ کریم ﷺ جب نماز کے لئے تشریف لاتے اور راستے میں سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مکان پر سے گزرتے اور گھر سے چکی کے چلنے کی آواز سنتے تو نہایت دردومحبّت کے ساتھ بارگاہِ رب العزّت میں دُعا کرتے: *یَا اَرْحَمَ الرّٰحِمِیْن*! فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ریاضت وقناعت کی جزائے خیر عطا فرما اور اسے حالت ِ فقر میں ثابت قدَم رہنے کی توفیق عطا فرما۔ سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود ایک مرتبہ نبی پاک ﷺ کے پاس حاضر ہوکر سیدتنا فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے رشتے کی بات کی جسے سن کر نبی پاک ﷺ بڑے خوش ہوئے اور سیدہ کائنات رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح ہوگیا۔ حضرتِ سیدناعلی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : ’’ ایک انتہائی ٹھنڈی اورشدید سرد صبح رسولِ خدا، محمدِ مصطفٰی ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے آپ ﷺ نے ہمیں دعائے خیر سے نوازا اور پھر حضرتِ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے تنہائی میں پوچھا : ’’اے میری بیٹی! تو نے اپنے شوہر کو کیسا پایا؟‘‘ جواب دیا: ’’وہ بہترین شوہر ہیں ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے حضر تِ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بلا کر اِرشاد فرمایا: ’’اپنی زوجہ سے نرمی سے پیش آنا، بے شک فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا میرے جسم کا ٹکڑا ہے، جو چیز اسے دُکھ دے گی مجھے بھی دُکھ دے گی اور جو اسے خوش کرے گی مجھے بھی خوش کرے گی، میں تم دونوں کو اللہ عزوجلّ کے سپرد کرتا ہوں ،اور تم دونوں کو اس کی حفاظت میں دیتا ہوں ۔ اس نے تم سے ناپاکی دور کردی اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھر ا کر دیا۔‘‘ حضرتِ سیِدناعلیّ المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : ’’اللہ عزوجلّ کی قسم! اس حکمِ مصطفٰی کے بعد میں نے نہ تو کبھی حضرتِ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر غصّہ کیا اور نہ ہی کسی بات پرانہیں ناپسند کیا یہاں تک کہ اللہ عزوجلّ نے ان کو اپنے پاس بلا لیا،بلکہ وہ بھی کبھی مجھ سے ناراض نہ ہوئیں اور نہ ہی کسی بات میں میری نافرمانی کی اور جب بھی میں ان کو دیکھتا تووہ میرے دکھ درد دُور کرتی دکھائی دیتیں ۔‘‘ اَمیرُ الْمُؤمنین مولیٰ مشکل کُشاحضرتِ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ’’حضرتِ فاطِمۃالزّہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے موت کے وقْت وصِیّت فرمائی تھی کہ جب میں دنیا سے رخصت ہو جاؤں تو رات میں دفن کرنا تاکہ کسی غیر مرد کی نظر میرے جنازے پر نہ پڑے۔‘‘ وِصالِ نَبَوِی کے 6ماہ بعد 3 رمَضانُ المبارَک سِنّ 11 ہِجری منگل کی رات سیدہ، طیِّبہ ، طاہِرہ حضرتِ سیِدتنا فاطمۃُالزّہراء رضی اللہ عنہا نے داعیٔ اَجَل کو لَبَّیْک کہا۔ حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ یا حضرتِ سیِدنا عبّاس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جنتُ الْبقیع میں مدفون ہوئیں ۔ *حافِظ ُ الحدیث حضرتِ سیدنا امام عبدُ الرَّحمن جلالُ الدِّین سُیُوطی شافِعی رحمۃ اللہ علیہ نے امیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ مولائے کائنات، علی الْمرتَضٰی، شیرِ خدا رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رِوایت کی ہے کہ سرکارِ دوعالَم، نُورِ مُجَسَّم ، شاہِ بنی آدم ، رسولِ مُحتَشَم ﷺ کاارشادِ معظّم ہے: ’’جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک مُنادِی نِدا کرے گا، اے اَہلِ مَجمع! اپنی نگاہیں جھکالو تاکہ حضرت ِفاطِمہ بنت ِمحمّدِ مصطَفٰے رضی اللہ تعالیٰ عنہا پُل صِراط سے گزریں سیدتنا فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے فضائل و برکات کثیر ہیں ۔ اللہ کریم ہمیں تمام بنات رسول کا ادب و احترام نصیب فرمائے ۔ اٰمین

حضرت قاسم رضی اللہ تعالیٰ عنہ

نبی پاک ﷺ کے شہزادے حضرت قاسم رضی اللہ تعالیٰ عنہ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے ۔ نبی پاک ﷺ کی کنیت "ابوالقاسم " انہی کی نسبت سے ہے اور صحیح قول کے مطابق آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں ۔ نبی پاکﷺکی اولاد اطہار میں آپ ہی سب سے پہلے اس دنیا سے رخصت ہوئے ، جمہور کے مطابق آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اعلان نبوت سے پہلے ہی انتقال فرماگئے تھے ۔ روایت میں ہے کہ حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا نے حضور ﷺ سے عرض کی کہ کاش ان کی دودھ کی عمر پوری ہوجاتی اس پر نبی پاک ﷺ نے فرمایا : قاسم کی رضاعت جنت میں پوری ہوگی ۔

حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی اولاد پاک میں سے چھوٹے ہیں اور "طیب " و "طاہر " آپ کے ہی القاب ہیں ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی بچپن میں ہی انتقال فرماگئے تھے ۔

حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضور اقدسﷺ کی اولاد پاک میں سب سے چھوٹے حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ۔ آپ ذی الحجۃ الحرام 08 ھ کو مدینہ منورہ کے قریب مقام عالیہ میں پیدا ہوئے ۔ آپ کی والدہ کا نام حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہے جوکہ نبی پاک ﷺ کی کنیز تھیں ۔ حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبیﷺ کو مصر و اسکندریہ کے بادشاہ مقوقس نے تحفۃ پیش کیں تھیں ۔ نبی پاکﷺ کی کنیز تھی اس کے باوجود پیارے آقاﷺ انہیں پردہ کرواتے تھے ۔ اور آپﷺ نے انہیں مقام عالیہ میں ایک گھر بنا کر دیا ہوا تھا ۔ 15 یا 16 ہجری میں آپ کا وصال ہوا ۔ سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کی تدفین جنت البقیع میں ہوئی۔ ایک حدیث پاک میں نبی پاک ﷺ نے فرمایا کہ : مجھے جبرئیل نے یہ خوشخبری دی کہ ماریہ سے میرا بیٹا پیدا ہوگا جو مخلوق میں سب سے زیادہ میرے مشابہ ہوگا اور میں اس کا نام " ابراہیم " رکھوں۔ جبرئیل نے مجھے "ابوابراہیم " یعنی ابراہیم کے والد کہہ کر مخاطب کیا ۔ حضرت ابراہیم کی ولادت کی خوشی سب سے پہلے مقام عالیہ سے آکر حضرت حضرت ابو رافع نے عطا فرمائی ۔ نبی پاک ﷺ نے انہیں ایک غلام تحفۃ عطا فرمایا ۔ نبی پاکﷺ نے حضرت ابراہیم کے عقیقے میں ساتویں دن دو مینڈھے ذبح فرمائے ، اسی روز حلق کروایا اور اسی روز بالوں کے وزن کے مطابق چاندی بھی مسکینوں میں خیرات فرمائی ۔حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی پاک ﷺ چوما بھی کرتے تھے اور بخاری شریف کی روایت کے مطابق حضرت ابراہیم کو سونگھا بھی کرتے تھے ۔ حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ 17 یا 18 ماہ دنیا میں تشریف فرمارہے اور 10 سن ہجری 11 ربیع الاول بروز پیر کو آپ نے وصال فرمایا ۔ چھوٹی سی چار پائی پر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جنازہ اٹھایا گیا اور حضور اکرم ﷺ نے ان کا نماز جنازہ پڑھایا ۔ حضرت فضل اور حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے انہیں قبر میں اتارا اور آپ ﷺ قبر کے کنارے کھڑے تھے ۔ ایک انصاری صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سرکار ﷺ کے حکم سے پانی کا چھڑکاؤ کیا اور شناخت کے لئے قبر مبارک کے پاس ایک نشان لگایا ۔ حضرت ابراہیم کے وصال فرمانے کے بعد سرکار ﷺ نے فرمایا کہ " ابراہیم وفات پاتے ہی جنت میں پہنچا دئے گئے ہیں اور دو حوریں وہاں انہیں دودھ پلانے کے لئے مقرر کردی گئیں ہیں ۔

آقا کریم ﷺ کے نواسے اور نواسیاں

حضرت اُمامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا:

رسول کائنات ﷺ کی نواسیوں میں ایک سعادت مند نواسی حضرت سیدتنا امامہ بنت ابی العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہیں جو کہ حضور ﷺ کی سب سے بڑی شہزادی حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شہزادی ہیں ۔ حضرت امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی پاک ﷺ کی سب سے لاڈلی اور بڑی نواسی ہیں ۔ آپ کی فضیلت کتنی پیاری ہے کہ آپ کے والد حضرت ابوالعاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی رسول ، آپ کی والدہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا ، آپ کے نانا سیدالکونین ﷺ اور آپ کی نانی بی بی خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہیں۔ نبی پاک ﷺ بی بی امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بہت پیار فرماتے تھے۔ بخاری شریف کی روایت ہے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی پاک ﷺ تشریف لائے تو بی بی امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضور ﷺ کے کندھے پر سوار تھیں ۔ پھر نبی پاکﷺ نماز پڑھانے لگے تو رکوع میں جاتے ہوئے انہیں نیچے اتاردیتے اور جب دوبارہ قیام کی طرف آتے تو انہیں اٹھالیتے ۔ (بخاری شریف ، حدیث 5996)۔ ایک دفعہ نبیِّ کریم ﷺ کی خدمت میں ایک بہت ہی خوبصورت ہار پیش کیا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اِس ہار کو اپنے خاندان میں جس سے سب سے زیادہ پیار کرتا ہوں اس کی گردن میں پہناؤں گا، خواتین نے کہا کہ سرکارِ دوعالم ﷺ یہ ہار حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو عنایت فرمایئں گے لیکن آپ ﷺ نے سیدتنا اُمامہ بنت ابو العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو بُلوایا اور وہ ہار اپنے ہاتھ سے ان کو پہنادیا۔ (مسند ابی یعلی،ج4،ص86، حدیث:4454)

حضرت علی بن ابی العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما

حضرت علی بن ابی العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی پاک ﷺ کے نواسے ہیں اور نبی پاک ﷺ کی سب سے بڑی شہزادی حضرت زینب ﷺ کے شہزادے ہیں ۔ فتح مکہ کے دن جب نبی پاک ﷺ فاتح مکہ ہو کرمکہ میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ نے انہیں اپنے ساتھ سواری پر سوار کیا ہوا تھا ۔ آپ بلوغت کی عمر کے قریبی عمر میں ہی تھے کہ بیمار ہوگئے ، جب آپ کی آخری سانسیں چل رہی تھی ، حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی پاک ﷺ کو پیغام بھجوایا کہ " میرا بیٹا آخری سانسیں لے رہا ہے ، آپ جلد تشریف لے آئیں" ۔ نبی پاک ﷺ تشریف لائے اس وقت حضرت علی بن ابی العاص دم توڑ رہے تھے حضور ﷺ نے انہیں اپنے ہاتھوں میں لیا ، اس وقت آپ ﷺ کی آنکھیں آبدیدہ تھیں ۔

حضرت عبداللہ بن عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہما

حضرت عبداللہ نبی پاک ﷺ کے دوسرے نواسے ہیں ۔ حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شہزادے ہیں ۔ اسی مناسبت سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کنیت ابو عبداللہ ہے ۔ 4ھ میں جب سیدنا عبداللہ بن عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر مبارک 06 سال تھی ایک مرغ نے ان کی آنکھ میں ٹھونک ماردی جس کی وجہ سے کچھ عرصہ بیمار رہ کر حضرت عبداللہ انتقال کرگئے ۔ ان کے انتقال کے وقت نبی پاک ﷺ نے انہیں اپنی گود میں لیا اور فرمایا : بے شک اللہ اپنے رحم کرنے والے بندوں پر ہی رحم فرماتا ہے "۔

حضر ت اما م حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت امام حسن مجتبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سیدہ کائنات فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شہزادے ہیں ، ان کی ولادت 15 رمضان المبارک 03 ہجری کو مدینہ طیبہ میں ہوئی ۔ آپ کا نام حسن اور کنیت ابومحمد اور لقب سبط رسول اللہ اور ریحانۃ رسول ہیں نبی پاک ﷺ نے آپ کے کان میں اذان کہی اور اپنے لعاب دہن سے تحنیک (گھٹی) دی ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عقیقے میں نبی پاکﷺ نے دو دنبے ذبح فرمائے۔ حضورِ اکرم ﷺ کو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بے پناہ محبت تھی۔ پیارے آقا ﷺ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کبھی اپنی آغوشِ شفقت میں لیتے تو کبھی مبارک کندھے پر سوار کئے ہوئے گھر سے باہر تشریف لاتے،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی معمولی سی تکلیف پر بےقرار ہوجاتے، آپ کو دیکھنےاور پیار کرنے کے لئے سیّدتنا فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اپنے پیارے نانا جان ﷺ سے بے حد مانوس تھے، نماز کی حالت میں پشت مبارک پر سوار ہو جاتے تو کبھی داڑھی مبارک سے کھیلتے لیکن سرکارِ دو عالم ﷺ نے انہیں کبھی نہیں جھڑکا۔ ایک مرتبہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضور پرنور ﷺ کےشانۂ مبارک پرسوار دیکھ کر کسی نے کہا: صاحبزادے! آپ کی سواری کیسی اچھی ہےتو نبیِّ کریم ﷺ نے فرمایا: سواربھی تو کیسا اچھا ہے۔ کسی کے زہر کھلا دینے کی وجہ سےآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے 5ربیع الاول 49 ہجری کو مدینۂ منورہ میں شہادت کا جام نوش فرمایا۔ایک قول50 ہجری کا بھی ہے۔

حضر ت اما م حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سیدہ کائنات فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دوسرے شہزادے ہیں ، ان کی ولادت 05 شعبان المعظم 04 ہجری کو مدینہ طیبہ میں ہوئی ۔ حضرت سیِّدی عارف باللہ نورالدّین عبد الرّحمٰن جامی علیہ الرحمہ اپنی کتاب شواہد النبوۃ میں فرماتے ہیں :منقول ہے کہ امامِ پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مدّتِ حَمْل چھ ماہ ہے۔ حضرتِ سیدنا یحییٰ علیہ السلام اور امامِ عالی مقام امامِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علاوہ کوئی ایسا بچّہ زندہ نہ رہا جس کی مدّتِ حَمْل چھ ماہ ہوئی ہو۔ آپ کا نام حسنے اور کنیت ابوق عبداللہ اور لقب سبط رسول اللہ اور ریحانۃ رسول ہیں ۔ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک خاص فضیلت یہ بھی ہے کہ رسولِ کریم ﷺ نے اپنے لختِ جگر حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان پر قربان فرمایا چنانچہ مروی ہے کہ ایک روز حضور پرنُور ﷺ کے دائیں زانو مبارک پر امام حسین اور بائیں پر حضورِ اکرم ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیٹھے تھے ، حضرت جبریل علیہ السلام نے حاضر ہوکر عرض کی : ان دونوں کو اللہ پاک حضور کے پاس (اکٹھا) نہ رکھے گا ایک کو اختیار فرمالیجئے۔ حضورِ اکرم ﷺ نے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جدائی گوارا نہ فرمائی ، تین دن کے بعد حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال ہو گیا ۔ اس واقعہ کے بعد حضور نبیِّ رحمت ﷺ جب آپ كو آتا دیکھتے تو بوسہ دیتے ، سینے سے لگالیتے اور فرماتے : *“ فَدَيْتُ مَنْ فَدَيْتُهُ بِابْنِي اِبْرَاهِيمَ “* یعنی میں اس پر قربان کہ جس پر میں نے اپنا بیٹا ابراہیم قربان کیا ۔ حضرت سیّدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بچپن ہی میں آپ کی شہادت کی خبر پھیل گئی تھی ، چنانچہ ایک مرتبہ حضرت سیّدنا جبریل امین علیہ السلام رسولِ کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر تھے کہ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی حاضر بارگاہ ہوگئے اور آپ ﷺ کی مبارک گود میں بیٹھ گئے۔ جبریل امین علیہ السلام نے عرض کی : “ آپ کی اُمّت آپ کے اس بیٹے کو شہید کردے گی ۔ “ جبریل امین علیہ السلام نے بارگاہ رسالت میں مقامِ شہادت کا نام بتا کر مٹی بھی پیش کی ۔ (معجم کبیر ، 3 / 108 ، حدیث : 2817 ماخوذاً) آقا دوجہاں ﷺ حضرت علی شیر خدا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لخت جگر امام حسن اور امام حسین سے بے پناہ محبت اور پیار کیا کرتے تھےاور ایک مقام پر ﷺ نے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کیا اور ان کی محبت کو اپنی محبت کا معیار قرار دیااوران سے عداوت یعنی دشمنی کو اپنی دشمنی قرار دی چنانچہ ارشاد نبی کریم ﷺ ہے:*" مَنْ اَحَبَّھُمَا فَقَدْ اَحَبَّنِیْ وَمَنْ اَبْغَضَھُمَا فَقَدْ اَبْغَضَنِیْ "*یعنی جس نے ان دونوں سےمَحَّبت کی اس نے مجھ سے مَحَّبت کی اور جس نے ان سے عَداوت کی اس نے مجھ سے عَداوت کی۔ (ابن ماجہ،کتاب السنۃ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہﷺہ،۱/۹۶، حدیث:۱۴۳) شہادت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے دین اسلام کو سر بلندی اورحیات جادوانی عطا کی۔ شہادت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حق و باطل کے درمیان فرق کو ساری دنیا کے سامنے واضح کردیا۔ شہادت امام حسین مثال بن گئی ہے رہتی دنیا تک کے ان فرزندان توحید کے لیے جو دشت و صحراؤں میں آج بھی کلمتہ الحق کی سربلندی کے لیے باطل سے برسرپیکار ہیں آج باطل کے ایواں بھی لرز جاتے ہیں جب کہیں سے صدائے حسینی سنائی دے شہادت حسین کا پیغام یہی ہے کہ اگر امن چاہتے ہو تو باطل کو کچل دو۔ اسکے سامنے جھکنے کے بجائے اس سے لڑو۔ اورا پنا تن من دھن قربان کردو۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کا واقعہ اہل اسلام کے درمیان بڑا مشہور و معروف ہے ۔ واقعہ کربلا پڑھ اور سن کر جب سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صبر و استقامت کود یکھتے ہیں تو اہل ایمان کو دین پرقائم رہنے کا مزید جذبہ اور حوصلہ ملتا ہے ۔

حضر ت اما م محسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ

امام محسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال بچپن میں ہی ہوگیا تھا اس لئے کتب سیرت میں ان کاتذکرہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔

حضر ت سیدتنا رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

حضرت سیدتنا رقیہ بنت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا انتقال بھی بچپن میں ہی ہوگیا تھا ، اس لئے کتب سیرت میں ان کا زیادہ ذکر نہیں ملتا۔

حضرت سیدتنا زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا

حضرت سیدتنا زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بڑی شہزادی ہیں ۔ ان کی کنیت ام الحسن تھی اور واقعہ کربلا کے بعد ان کی کنیت " ام المصائب " مشہور ہوگئی تھیں۔ حضرتِ سیدنا علیُّ المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی لختِ جگر حضرتِ سیدتنا زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح حضرتِ سیدنا جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحبزادے حضرتِ سیدنا عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا۔ حضرت سیدتنا زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے چار صاحبزادے اور ایک صاحبزادی تھی ۔ صاحبزادوں کے نام یہ ہیں ۔ (1)سیدنا علی (2)سیدنا عون اکبر (3)سیدنا عباس (4)سیدنا محمد رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اور صاحبزادی کا نام "ام کلثوم " تھا ۔

حضر ت سیدتنا ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا

خاتونِ جنّت کی سب سے چھوٹی صاحبزادی حضرتِ سیدتنا اُمِّ کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنی بڑی ہمشیرہ حضرتِ سیدتنا زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مشابہ تھیںِ ۔ آپ کا نکاح سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوا اور آپ نے مہر میں 40،000 درہم عطا فرمائے ۔ حضرتِ سیدُنا عمَر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے انتقال کے بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاحِ ثانی حضرتِ سیدنا عون بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوا اور حضرتِ سیدنا عون بن جعفر کے انتقال کے بعد ان کے بھائی حضرتِ سیدُنا محمد بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوا اور حضرتِ سیدُنا محمد بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے انتقال کے بعد ان کے بھائی حضرتِ سیدُنا عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوا۔ حضرتِ سیدتنا اُم کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا انتقال حضرتِ سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نکاح میں ہوا۔ حضرتِ سیِدتنا اُم کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ان کے بیٹے حضرتِ سیدنا زید بن عمَر رضی اللہ تعالیٰ عنہماکا انتقال ایک ہی ساعت میں ہوا۔

حضور اکرم ﷺ کے سسرالی رشتے دار

نبی پاکﷺ کے سسر

نبی کریم ﷺ کے سسرالی رشتے داروں میں بالخصوص آپ ﷺ کے سسر اور آپ ﷺ کے دامادوں کا ذکر شامل ہے ۔ آپ ﷺ کے سسر کا تذکرہ درج ذیل ہے۔

داماد مصطفی ﷺ

آپ ﷺ کے دامادوں کا تذکرہ درج ذیل ہے۔