
نبی اکرم ﷺ نے مختلف بادشاہوں، حکمرانوں، اور قبائل کے سربراہوں کو خطوط لکھے تاکہ انہیں اسلام کی دعوت دی جائے۔ یہ خطوط نرمی، حکمت، اور محبت پر مبنی تھے اور اسلام کا پیغام واضح طور پر پہنچاتے تھے۔
296
انرولمنٹس
45
مکمل
4.2
ریٹنگ
سیرت رسول ﷺ کے ابواب میں سے ایک اہم ترین باب " نبی پاکﷺ کے خطوط" بھی ہیں۔ جو کہ تبلیغ دین کا جذبہ رکھنے والوں کے لئے بالخصوص اور بالعموم ہر اس فرد کے لئے بہترین رہنمائی کرنے والے ہیں جو اپنی، اپنی اولاد کی، اپنے گھر والوں کی اور اپنے ماتحت افراد کی اصلاح چاہتا ہے۔ کیونکہ ان خطوط کو پڑھنے ، سمجھنے اور غور وفکر کرنے والوں کے لئے ایسے طریقے اور انداز موجود ہیں جن کو اختیار کرکے وہ اپنی گفتگو کو موثر بناسکتے ہیں ۔
رسول کائنات ﷺ نے جو خطوط لکھوائے ہیں یہ حدیث و سیر کی کتابوں میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ ان کو ایک جگہ جمع کرنے کے حوالے سے کام نہ ہونے کے برابر ہے ۔ ان خطوط کی تعداد تاریخ لکھنے والوں نے 60 بھی لکھی ہے ، 70 بھی لکھی ہے یہاں تک کہ بعض نے 300 تک کی تعداد بھی لکھی ہے ، اس تعداد میں انہوں نے ان تمام خطوط کو شامل کیا ہے جو بادشاہوں کو اسلام کی دعوت دینے کے لئے لکھے گئے ، اور ان کو بھی شامل کیا ہے جو مختلف قبائل کے ساتھ صلح کے معاہدات ہوئے ۔ ہم اپنے اس کورس میں طوالت کی وجہ سے تمام خطوط کی اصل عبارات ، اس کا ترجمہ لکھنے کی طرف نہیں جائینگے ۔ بعض دعوت اسلام کے وہ خطوط جو بادشاہوں کو لکھے گئے ان کو شامل کرکے ، اختصارا خطوط سے حاصل ہونے والے تفہیم نبوی کے انداز پر روشنی ڈالینگے تاکہ اس کو اختیار کرنا ہمارے لئے مفید و معاون ہو۔ اسی طرح بعض معاہدات کے خطوط شامل کرکے ان سے حاصل ہونے والے ایسے فوائد جو ہماری عملی زندگی میں بہتری لائیں اس کو ذکر کرینگے۔ اللہ کریم اس کورس کی برکت سے ہمارے لئے سیرت رسول ﷺ پر چلنا ہمارے لئے آسان بنادے ۔ (آمین ) رسول اللہ ﷺ نے 07سن ہجری میں اپنے زمانے کے مختلف بادشاہوں کو خط لکھے جس میں آپ ﷺ نے انہیں اسلام کی دعوت پیش فرمائی اور ان خطوط کو لے جانے والے مختلف صحابہ کرام علیہم الرضوان ہی تھے ، جو نبی پاک ﷺ کے قاصد بن کر ان بادشاہوں کی طرف گئے ۔ صحابہ کرام میں سے کسی نے نبی پاک ﷺ سے عرض کی یارسول اللہ ﷺ بادشاہ صرف اسی پیغام کو قبول کرتے ہیں جس میں پیغام دینے والے کی کوئی مہر لگی ہو، پھر نبی پاک ﷺ نے مہر تیار فرمائی جس میں *محمد رسول اللہ* کے الفاظ موجود تھے ۔
نبی پاک ﷺ نے جو سب سے پہلا خط لکھا وہ حبشہ کے بادشاہ " نجاشی " کی طرف لکھا جن کا اصل نام " اصمحہ " تھا ۔ اس خط کو لے کر جانے والے حضرت عمرو بن امیہ الضمری رضی اللہ تعالٰی عنہ تھے ۔ نجاشی بادشاہ تک جب وہ خط پہنچا تو نجاشی بادشاہ اپنے تخت سے اتر آئے اور اد سے اس خط کو لے کر آنکھوں سے لگایا پھر زمین پر بیٹھ کر اس خط کو پڑھنے لگا۔ اس خط کی اصل عبارت ترجمے کے ساتھ پیش کی جارہی ہے ۔
نجاشی بادشاہ نے خط پڑھنے کے بعد اسلام قبول کرلیا اور حضور سرور کونین ﷺ کو جوابی خط لکھ کر اپنے بیٹے کے ہاتھوں روانہ فرمایا ۔
*بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مِنْ مُّحَمَّدٍ رَّسُولِ اللهِ إِلَى النَّجَاشِيِّ مَلِكِ الْحَبَشَةِ، أَسْلِمْ أَنْتَ، فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكَ اللهَ الَّذِي لَا إِلٰهَ إِلَّا هُو، الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ، السَّلَامُ،الْمُؤْمِنُ، الْمُهَيْمِنُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ رُوحُ اللهِ وَكَلِمَتُهٗ، أَلْقَاهَا إِلٰى مَرْيَمَ الْبُتُولِ الطَّيِّبَةِ الْحَصِينَةِ، فَحَمِلَتْ بِهٖ، فَخَلَقَهٗ مِنْ رُّوحِهٖ، وَنَفَخَهٗ كَمَا خَلَقَ آدَمَ بِيَدِهٖ، وَإِنِّي أَدْعُوكَ إِلٰى اللهِ وَحْدَهٗ لَا شَرِيْكَ لَهٗ وَالْمَوَالَاةُ عَلٰى طَاعَتِهٖ، وَأَنْ تَتَّبِعَنِي وَتُؤمِنَ بِالَّذِي جَاءَ نِي فَإِنِّي رَسُولُ اللهِ، وَإِنِّي أَدْعُوكَ وَجُنُودَكَ إِلَى اللهِ عَزَّوَجَلَّ، وَقَدْ بَلَّغْتُ وَنَصَحْتُ، فَاقْبَلُوا نَصِيحَتِي، وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى*
"بسم اللہ الر حمن الرحیم" یہ خط ہے محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے نام۔ اما بعد ۔میں تیرے سامنے اللہ کی حمد کرتا ہوں جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے۔وہ بادشاہ حقیقی ہے ۔ ہر عیب سے پاک ہے ،سلامت رکھنے والا ہے،امان دینے والا ہے ،نگہبان ہے ۔میں گواہی دیتا ہوں کہ عیسیٰ روح اللہ ہیں اور اس کے کلمہ ہیں جو اس نے مریم کو القاء کیا۔وہ مریم جو اللہ تعالیٰ سے لو لگائے ہے۔پاک ہے۔،مطہر ہے۔خوشبودار ہے،پاک دامن ہے ۔جو عیسیٰ کی حاملہ ہوئیں اللہ نے پیدا کیا اسے اپنی روح سے اور پھونکا اس روح کو مریم میں جس طر ح آدم کو اپنے دست قدرت سے تخلیق فر مایا۔ [اے نجاشی!]میں تمہیں دعوت دیتا ہوں کہ ایمان لاؤاس اللہ پر جو وحدہ لا شریک ہے۔ اور ہمیشہ اس کی اطاعت کرو ۔پس اگر تو میری پیروی کرے گا اور ایمان لائے گا اس پر جو میں لے کر آیا ہوں تو بے شک میں اللہ کا رسول ہوں ۔میں تمہیں اور تمہارے سارے لشکر کو اللہ پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہوں۔میں نے پیغام حق تمہیں پہونچا دیا اور نصیحت کا فر ض ادا کر دیا ۔پس میری نصیحت قبول کر لو ۔میں نے تمہاری طرف اپنے چچا زاد بھائی جعفر کو اور اس کے ساتھ چند مسلمانوں کو بھیجا ہے۔ پس اس شخص پر سلامتی ہو جو ہدایت کی اتباع کرے۔
اس کے علاوہ نبی پاکﷺ نے روم کے بادشاہ"ہرقل" کی طرف خط لکھا ۔ اس خط کو لے کر جانے والے حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ تعالٰی عنہ تھے۔ اس خط کو پڑھنے سے قبل ہرقل نے اپنی تشفی کے لئے صحابہ کرام سے چند سوالات کیے ، جس کے درست جوابات مل جانے کے بعد ہرقل نے وہ خط پڑھا ، اس کی مکمل تفصیل صحیح مسلم ، کتاب الجہاد میں موجود ہے۔ اسی حدیث میں ہرقل کی طرف جو خط نبی پاکﷺ کی جانب سےآیا تھا اسے بھی نقل کیا گیا ہے۔ مسلم شریف میں اس خط کے الفاظ یہ ہیں :
*بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ، سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى، أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ أَسْلِمْ تَسْلَمْ، وَأَسْلِمْ يُؤْتِكَ اللهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ، وَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الْأَرِيسِيِّينَ، وَ {يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَنْ لَا نَعْبُدَ إِلَّا اللهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابا مِنْ دُونِ اللهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسلِمُونَ* ( مسلم ، کتاب الجہاد والسیر، حدیث 1773)
"بسم اللہ الر حمن الرحیم" یہ خط محمد کی طرف سے ہے جو اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ہرقل کی طرف جو روم کا بڑا ہے۔ سلامتی ہو ہر اس شخص پر جو ہدایت کا پیروکار رہے۔ اما بعد۔۔۔۔۔میں تمہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔تو اسلام لے آ۔سلامت رہے گا۔ تو اسلام لے آ۔ اللہ تعالی تمہیں دو چند اجر عطا فر مائے گا۔ اور اگر تونے اس دعوت کو قبول کرنے سے رو گردانی کی تو تمہارے کسانوں کے انکار کرنے کا گناہ بھی تیری گردن پر ہوگا۔اے اہل کتاب! آجاؤاس بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے وہ یہ کہ ہم اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت نہیں کریں گے اور کسی چیز کو اس کا شریک نہیں بنائیں گے اور ہم اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے کو اپنا رب نہیں بنائیں گے ۔اگر اس دعوت کے باوجود وہ رو گردانی کرے تو تم کہو اے رو گردانی کرنے والو! گواہ رہنا ہم مسلمان ہیں ۔
یہاں تک تو ہرقل بادشاہ کی طرف جو خط لکھا گیا اسے بخاری ومسلم میں بھی ذکر کیا گیا ۔مسلم شریف میں اس کی مزید تفصیل یہ بھی ہے کہ ہرقل نے خط پڑھنے سے قبل حضور ﷺ کے جو اوصاف و کمالات ابوسفیان سے معلوم کئے تھے ، اسی وقت وہ جان چکا تھا کہ یہ نبی برحق ہیں اور یہ بھی کہا کہ مجھے موقع ملا تو ان کی قدم بوسی کے لئے آوں گا۔ ہاں ا سکے ایمان لانے اور نہ لانے کے حوالے سے روایات مختلف ہیں ۔ یہ اپنی قوم کے خوف کی وجہ سے ایمان نہیں لایا۔ ایک روایت جس کی تفصیل عمدۃ القاری، فتح الباری ، البدایۃ والنہایہ ان کتا بوں میں کی گئی ہے کہ ہرقل نے نبی پاک ﷺ کی طرف خط لکھا اور اس میں یہ بات بھی لکھی کہ میں ایمان لے آیا ہوں ؛ اس پر نبی پاک ﷺ نے فرمایا کہ یہ جھوٹ کہہ رہا ہے ،یہ ا بھی تک نصرانیت پر ہی قائم ہے ۔ بہرحال ہرقل کا ایمان لانا یا نہ لانا یہ ہمارا نہ موضوع ہے اور نہ ہی اس بات کو جاننے کے ہم مکلف ہیں ۔ یہاں ہمارا مقصد حضور اکرم ﷺ کے دعوت اسلام کے خطوط کو جاننا ہے ۔
نبی پاک ﷺ کے دعوتی خطوط میں خسروپرویز جو کہ ایران کا بادشاہ تھا اس کو بھی خط لکھنا شامل ہے ۔ اس خط کو لے کر جانے والے عبداللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ تعالٰی عنہ تھے ۔ اس خط کا جو متن بتایا جاتا ہے وہ یہ ہے :
*بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔ مِنْ مُّحَمَّدٍ رَّسُولِ اللهِ إِلٰى كِسْرٰى عَظِيْمِ فَارِسَ، سَلَامٌ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى، وَآمَنَ بِاللهِ وَرَسُولِهٖ وَشَهِدَ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيْكَ لَهٗ ، وَأَنَّ مُحَمَّدا عَبْدُهٗ وَرَسُولُهٗ، وَأَدْعُوكَ بِدُعَاءِ اللهِ، فَإِنِّي أَنَا رَسُولُ اللهِ إِلٰى النَّاسِ كَافَّةً لِّأُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَيًّا وَّيَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكَافِرِينَ، فَأَسْلِمْ تَسْلَمْ فَإِنْ أَبَيْتَ، فَإِنَّ إِثْمَ الْمَجُوسِ عَلَيْك*
" بسم الله الرحمٰن الرحيم" ۔ الله تعالیٰ کے رسول محمد ﷺ کی طرف سے فارس کے بادشاہ کسریٰ کی طرف۔ سلام ہو اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے، اللہ پاک اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لائے اور یہ گواہی دے کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدﷺ اللہ کے بندے اور ا سکے رسول ہیں۔ میں تمھیں اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف بلاتا ہوں کیونکہ میں تمام لوگوں کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں تاکہ میں ہر اس شخص کو (اللہ کے عذاب سے) ڈراؤں جو زندہ ہے اور کافروں پر اللہ تعالیٰ کی حجت پوری ہوجائے، اس لیے اسلام لے آؤ، محفوظ رہو گے۔ اگر انکارکرو گے تو تمام مجوسیوں (کے ایمان نہ لانے) کا گناہ بھی تمھاری گردن پر ہوگا۔"
ایران کا یہ بادشاہ بہت متکبر تھا، اس نے یہ خط پھاڑ دیا ، اور قاصد رسول کو قتل کرنے کے لئے آگے بڑھا پھر یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ اگر تم سفیر نہ ہوتے تو تمہیں قتل کردیا جاتا ۔ اس سنگدل کے عمل بد کی خبر جب رسول اللہ ﷺ تک پہنچی ؛ حضرت مسیب رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں ، میرا خیال ہے حضور ﷺ نے اس کے لئے دعائے ضرر کی ۔ اس روایت کو بخاری شریف میں بھی ذکر کیا گیا : *أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَعَثَ بِكِتَابِهِ إِلَى كِسْرَى، مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ " فَأَمَرَهُ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ البَحْرَيْنِ، فَدَفَعَهُ عَظِيمُ البَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى، فَلَمَّا قَرَأَهُ مَزَّقَهُ، فَحَسِبْتُ أَنَّ ابْنَ المُسَيِّبِ، قَالَ: «فَدَعَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُمَزَّقُوا كُلَّ مُمَزَّقٍ* ترجمہ : بے شک رسول اللہ ﷺ نے اپنا خط کسریٰ کے پاس بھیجا، اور یہ خط عبداللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ذریعے بھیجا۔ آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ یہ خط بحرین کے حاکم کو پہنچائیں۔ پھر بحرین کے حاکم نے وہ خط کسریٰ کے پاس بھیج دیا۔ جب کسریٰ نے اس خط کو پڑھا تو اسے پھاڑ دیا۔ حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ میرا گمان ہے رسول اللہ ﷺ نے ان (کسریٰ اور اس کی قوم) کے لیے بددعا فرمائی کہ وہ ہر طرح سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں۔ (صحیح بخاری ، کتاب المغازی ، حدیث 4424) کہا جاتا ہے کہ حضور ﷺ کی اس دعائے ضرر کا اثر یوں ظاہر ہوا کہ کہ اس کہ سلطنت میں بھی اس کے خلاف بغاوت شروع ہوگئی، حتی کہ اس کے خلاف اس کےگھر میں بھی بغاوت شروع ہوگئی اور اس کے بیٹے شیروَیہ نے ہی اس کو قتل کردیا ۔
1. مقوقس (اسکندریہ) خط لے کر جانے والے صحابی : حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نتیجہ : ایمان نہ لایا لیکن سرکار ﷺ کی بارگاہ میں مختلف تحائف بھجوائے ۔ نبی پاک ﷺ نے فرمایا: *ضنّ الخبيث بملكه، ولا بقاء لملكه* ترجمہ : یہ بدبخت شخص اپنی بادشاہت پر قائم رہا، حالانکہ اسی کی بادشاہت ختم ہونے والی ہے ۔ 2. ھوذہ بن علی خط لے کر جانے والے صحابی : سلیط بن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہ نتیجہ : ایمان نہ لایا مگر خط کا اور قاصد کا احترام کیا اور جوابی خط بھی لکھا ۔ جس میں اس نے لکھا کہ کچھ معاملات میں آپ کی پیروی کروں گا۔ نبی پاکﷺ نے فرمایا: *لو سألني سيابة من الأرض ما فعلت. باد وباد ما في * ترجمہ : "اگر وہ مجھ سے زمین کا ایک معمولی حصہ بھی مانگتا تو میں اسے نہ دیتا۔ یہ خود بھی ہلاک ہوا اور جو کچھ اس کے قبضے میں تھا وہ بھی تباہ ہو گیا۔" فتح مکہ والے سال حضرت جبرئیل نے خبردی کہ یہ فوت ہوچکا ہے۔ 3. مسیلمہ کذاب خط لے کر جانے والے صحابی : سائب بن عوام اور عمرو بن امیہ رضی اللہ تعالٰی عنہما نتیجہ : ایمان تو نہ لایا۔ بدبخت نے جوابی خط لکھا اور نبوت کا دعوی کیا۔ پھر سرکار ﷺ نے اس پر لعنت کرنے کا حکم فرمایا اور جوابی خط بھی لکھا۔ نبی پاک ﷺ نے فرمایا: *العنوه لعنہ اللہ * ترجمہ : تم اس پر لعنت کرو اللہ نے بھی اس پر لعنت کی پھر نبی پاک ﷺ نے جوابی خط لکھا *بلغني كتابك الكذب والإفك والافتراء على الله ، وإنّ الأرض لله يورثها من يشاء من عباده والعافية للمتّقين والسّلام على من اتّبع الهدى* ترجمہ : "مجھے تمہارا جھوٹا، بہتان بھرا اور اللہ پر افتراء کرنے والا خط موصول ہوا ہے۔ یاد رکھو کہ زمین اللہ کی ہے، وہ اسے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے، عطا کرتا ہے۔ اور کامیابی صرف متقیوں کے لیے ہے۔ سلامتی ہو اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے 4. حارث بن ابی شمر (بلقاء کا گورنر) خط لے کر جانے والے صحابی : شجاع بن وہب رضی اللہ تعالٰی عنہ نتیجہ : اسلام نہ لایا، اور ابتداء ہی جنگ کرنا چاہی، اس کے بادشاہ نے جس سے یہ ڈرتا تھا، ان کو خط لکھا ، بادشاہ نے سختی سے جنگ کرنے سے منع کیا ، تب اس کو سمجھ آئی، پھر شجاع رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ساتھ اچھے سے پیش آیا ، اور تحائف دے کر روانہ کیا ۔
نبی پاک ﷺ کی شخصیت زندگی کہ کسی بھی شعبے کے لئے ہمیں رہنمائی سے محروم نہیں کرتی بلکہ رہنمائی کے ساتھ ساتھ حکمت و دانائی بھی سکھاتی ہے ۔ اسلام کی دعوت کے یہ خط یقینا ہمیں بہت ساری ایسی باتیں سکھاتے ہیں جو ہم اختیار کریں تو دین مصطفی ﷺ کا پیغامِ حق گھر گھر تک پہنچایا جاسکتا ہے ۔
اس کورس میں رسول اللہ ﷺ کے ان خطوط (letters) کے ذریعے ہمیں سیرت مصطفی ﷺ کیا کیا رہنمائی ملتی ہے اسے سمجھنا بڑا اہم ہے ؛ چند بنیادی باتیں یہاں ذکر کرتے ہیں : 1. ذمہ داری کا احساس۔ 2. تبلیغ دین کی اہمیت۔ 3. مختصر بامقصد پیغام۔ 4. حکمت ِ عملی ۔ 5. حسن خطابت ۔ 6. سفارتی تعلقات۔ 7. دینی غیرت ۔ 8. صحابہ کرام کا جذبہ اطاعت۔ 9. صحابہ کرام کا۔ 10. احسن انداز سے باطل کا رد۔ 11. خوف آخرت ۔ 12. دوسروں کے لئے ذریعہ ہدایت بننے کا پیغام۔
نبی کریم ﷺ نے اسلام کی دعوت دینے کے علاوہ اور بھی خطوط لکھے؛ جسے ہم حضور ﷺ کے ہدایتی خطوط کہہ سکتے ہیں ۔ ان خطوط میں بالخصوص جن قبائل یا جن افراد نے اسلام قبول کیا نبی کریم ﷺ نے انہیں اسلامی تعلیمات پر گامزن رہنے کی نصیحت فرمائی ۔ یہ خطوط بھی تایخ کی کتابوں کی زینت بنے ، ان میں سے چند خطوط کو یہاں نقل کیا جارہا ہے تاکہ سیرت رسول ﷺ کا یہ حصہ بھی ہماری پیش نظر رہے اور ان نصیحتوں سے ہم بھی فائدہ اٹھاسکیں ۔
خالد بن ضماد الازدی رضی اللہ تعالٰی عنہ ایک بار مکہ آئے اور نبی کریم ﷺ اور ان کے درمیان گفتگو ہوئی حضور ﷺ کی گفتگو کی مٹھاس اس کے دل میں اتر گئی اور وہ ایمان لے آئے ، اور ساتھ ہی حضور ﷺ سے اپنی قوم کے ایمان لانے کی ذمہ داری لے لی ، ان کے ایمان لانے کا واقعہ امام بخاری نے بخاری شریف میں نقل کیا ہے ۔ جب یہ واپس لوٹ گئے تھے تو نبی پاک ﷺ نے ان کی جانب ایک خط لکھا ، اور وہ خط نصیحت پر مشتمل تھا۔
*خَالِدِ بْنِ ضِمَادٍ الأَزْدِيِّ أَنَّ لَهُ مَا أَسْلَمَ عَلَيْهِ مِنْ أَرْضِهِ عَلَى أَنْ يُؤْمِنَ بِاللَّهِ لا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا. وَيَشْهَدَ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ. وَعَلَى أَنْ يُقِيمَ الصَّلاةَ. وَيُؤْتِيَ الزَّكَاةَ. وَيَصُومَ شَهْرَ رَمَضَانَ. وَيَحُجَّ الْبَيْتَ. وَلا يَأْوِيَ مُحْدِثًا.وَلا يَرْتَابَ. وَعَلَى أَنْ يَنْصَحَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ. وَعَلَى أَنْ يُحِبَّ أَحِبَّاءَ اللَّهِ. وَيُبْغِضَ أَعْدَاءَ اللَّهِ. وَعَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ أَنْ يَمْنَعَهُ مِمَّا يَمْنَعُ مِنْهُ نَفْسَهُ وَمَالَهُ وَأَهْلَهُ. وَأَنَّ لِخَالِدٍ الأَزْدِيِّ ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ النَّبِيِّ إِنْ وَفَّى بِهَذَا*
حضرت خالد بن ضماد الأزدی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنی زمین کے بدلے میں اسلام قبول کیا، اس شرط پر کہ وہ اللہ پر ایمان لائیں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے، اور گواہی دیں گے کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ نیز، وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ ادا کریں گے، رمضان کے روزے رکھیں گے، بیت اللہ کا حج کریں گے، کسی بدعتی کو پناہ نہیں دیں گے، شک نہیں کریں گے، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے خیر خواہی کریں گے، اللہ کے دوستوں سے محبت کریں گے اور اللہ کے دشمنوں سے بغض رکھیں گے۔رسول اللہ ﷺ کی ذمہ داری ہے کہ ان کی جان، مال اور اہل خانہ کی حفاظت اسی طرح کریں جیسے اپنی حفاظت کرتے ہیں۔ اور اگر خالد الأزدی ان شرائط کو پورا کریں تو ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ضمانت ہوگی۔
*كَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ كِتَابًا يُخْبِرُهُمْ فِيهِ بِشَرَائِعِ الإِسْلامِ وَفَرَائِضِ الصَّدَقَةِ فِي الْمَوَاشِي وَالأَمْوَالِ وَيُوصِيهِمْ بِأَصْحَابِهِ وَرُسُلِهِ خَيْرًا. وَكَانَ رَسُولُهُ إِلَيْهِمْ معاذ بن جبل ومالك بن مرارة *
رسول اللہ ﷺ نے اہل یمن کی طرف ایک خط لکھا جس میں انہیں اسلام کے شرائع (احکام) اور مویشیوں اور اموال میں زکوٰۃ کی فرضیت سے آگاہ کیا، اور اپنے صحابہ اور رسولوں کے ساتھ اچھے برتاؤ کی تاکید فرمائی۔ آپ ﷺ کے قاصد جو ان کے پاس بھیجے گئے، وہ معاذ بن جبل اور مالک بن مرارہ تھے۔
*كَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ - ﷺ - لِبَنِي زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الْحَارِثِيِّينَ أَنَّ لَهُمْ جَمَّاءَ وَأَذْنِبَةَ. وَأَنَّهُمْ آمِنُونَ مَا أَقَامُوا الصَّلاةَ. وَآتَوُا الزَّكَاةَ. وَحَارَبُوا الْمُشْرِكِينَ*
رسول اللہ ﷺ نے بنی زیاد بن الحارث الحارثیین کو لکھا کہ ان کے لیے جَمَّاء اور اذنبہ (یہ زمینوں کے نام ہیں ) ہیں۔ اور یہ کہ وہ امن میں رہیں گے جب تک کہ وہ نماز قائم کریں، زکوۃ دیں، اور مشرکوں سے لڑیں۔
*كَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ - ﷺ - كِتَابًا لِجُنَادَةَ الأَزْدِيِّ وَقَوْمِهِ وَمَنْ تَبِعَهُ. مَا أَقَامُوا الصَّلاةَ. وَآتَوُا الزَّكَاةَ. وَأَطَاعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ. وَأَعْطَوْا مِنَ الْمَغَانِمِ خُمُسَ اللَّهِ وَسَهْمَ النَّبِيِّ - ﷺ - وَفَارَقُوا الْمُشْرِكِينَ. فَإِنَّ لهم ذمة الله وذمة محمد بن عبد اللَّهِ *
"رسول اللہ ﷺ نے جنادہ ازدی اور اس کی قوم اور جو ان کی پیروی کریں ان کے لیے ایک تحریر لکھی کہ جب تک وہ نماز قائم کریں، زکوۃ دیں، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں، اور غنیمت میں سے پانچواں حصہ اور نبی ﷺ کا حصہ دیں، اور مشرکوں سے علیحدگی اختیار کریں، تب وہ اللہ اور محمد بن عبداللہ ﷺ کی پناہ میں ہوں گے"۔
نبی پاک ﷺ نے کس بات کی تعلیم دی؟ نبی پاک ﷺ کے یہ خطوط جس میں نبی پاک ﷺ نے مختلف قبائل کے لوگوں کو خط لکھے اور ان خطوط میں نبی پاک ﷺ نےانہیں اسلام کی تعلیمات بالخصوص اسلام پر استقامت اختیار کرنے ، نماز ادا کرنے ، اور زکوۃ ادا کرنے کا حکم دیا ، ساتھ ہی اس بات کی بھی تلقین فرمائی کہ مسلمانوں کے مقابلے میں مشرکین و کفار کی مدد نہ کریں ۔ اس دور میں اکثر یت زمیندار ہوتی تھی ۔ اور زمین کی پیداوار میں شریعت کے اصولوں کے مطابق جو حصہ نکالا جاتا ہے ،اس کی بھی ترغیب ان خطوط میں موجود ہے۔ ان ہدایات سے اعراض کرنے پر نبی پاکﷺ نے اللہ کے عذاب سے بھی ڈرایا اور عمل کرنے کی صورت میں اللہ پاک کی مدد و نصرت کی نوید بھی سنائی ۔
نبی پاک ﷺ کےا ن خطوط سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے ۔ جن میں سے چند نمایاں تعلیمات یہ ہیں ۔ پیغام سادہ اور آسان۔ مختصر اور بامقصد۔ فرائض اسلام کی تعلیم۔ حقوْ ق کی پاسداری۔ بدعتی و گمراہ سے دوری۔ اللہ والوں کے ساتھ رہنا۔ دشمنان اسلام سے دور رہنا۔ نیومسلم کی خیر خواہی۔ فکر امت۔ ماتحت کی ذمہ داری کے احساس کی ترغیب۔