
پیارے آقا ﷺ کی خوش مزاجی
137
انرولمنٹس
37
مکمل
4.4
ریٹنگ
سرکار دوعالم ﷺ اپنے اصحاب کے ساتھ ، بچوں کے ساتھ ، اہل خانہ کے ساتھ خوش طبعی فرمایا کرتے تھے اور ان کے دلوں کو خوش کیا کرتے تھے کیونکہ سرکار ﷺ کا مزاح (خوش طبعی) فرمانا ، احسن انداز سے ہوتا تھا جس سے کسی کو تکلیف نہ ہوتی تھی ۔ کورس کے اس مرحلے میں ہم سرکار ﷺ کے مزاح کی بعض خصوصیات کا ذکر کررہے ہیں تاکہ سیرت النبی ﷺ پر عمل کرتے ہوئے جب مزاح کیا جائے تو ان باتوں کو لازمی پیش نظر رکھا جائے ۔
نبی پاک ﷺ نے اپنی زندگی مبارک میں ہمیشہ سچ ہی بولا ہے ، حتی کہ مزاح فرماتے ہوئے بھی کبھی خلاف واقع بات زبان مبارک سے ادا نہ ہوئی ۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ جب ہم کسی سے مذاق کرتے ہیں تو یہ جملہ " میں تو مذاق کررہا تھا " بول دیتے ہیں ۔ دیکھا جائے تو یہ جملہ مذاق کے معاملے میں اس قدر عام ہوگیا کہ اب اسے برا ہی نہیں سمجھا جاتا ہے حالانکہ مذاق میں جھوٹ بولنے کی بھی شریعت میں اجازت نہیں ، اس لئے جب خوش طبعی کی جائے تو اس میں جھوٹ کا سہار ا لینا یہ سیرت رسولﷺ کے خلاف ہے ، لہذا جب مزاح (خوش طبعی) کریں تو اس میں سچ بات ہی کہی جائے ۔ قرآن کریم میں بھی اللہ پاک نے سچ کی تعریف اس انداز سے فرمائی کہ ایمان والوں کو خطاب کرکے سچے لوگوں کے ساتھ ہوجانے کا حکم دیا ، ارشاد باری تعالیٰ ہے : *یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ* ترجمہ : اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ۔(پارہ 11، سورۃ التوبہ ، 119)۔ سچ بولنا جنت میں جانے کا ذریعہ ہے ، اور جھوٹ جہنم کی طرف لے جاتا ہے حدیث پاک ہے : *عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى البِرِّ، وَإِنَّ البِرَّ يَهْدِي إِلَى الجَنَّةِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حَتَّى يَكُونَ صِدِّيقًا.وَإِنَّ الكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الفُجُورِ، وَإِنَّ الفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا»* ترجمہ : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا بے شک سچائی بھلائی کی طرف ہدایت دیتی ہے اور بھلائی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور آدمی برابر سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ صدیق ہوجاتا ہے اور جھوٹ بدکاریوں کی طرف لے کر جاتا ہے اور بدکاریاں جہنم میں پہنچاتی ہیں اور آدمی برابر جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کذّاب لکھ دیا جاتا ہے۔ (صحیح بخاری ، حدیث 6094)
پیارے آقاﷺ کا ہر ہر عمل ہی شریعت کے مطابق ہوتا اور مزاح(خوش طبعی )کرنے میں بھی سرکار ﷺ نے ہمیشہ اس کا خیال فرمایا ۔ جبکہ ہم اپنی بات کریں تو ہم مذاق کرتے ہوئے کبھی کسی کی دل آزاری کردیتے ہیں ، کبھی معاذاللہ اللہ پاک کی پیدا کی ہوئی چیز کا مذاق اڑاتے ہیں ، کبھی جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں اور کبھی کسی کو خوش طبعی کرتے ہوئے خوفزدہ کردیتے ہیں اور یہ سارے انداز حدود شرع کو پار کرنے والے ہیں جبکہ سیرت النبیﷺ سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ مومن کا جو بھی عمل ہو ، وہ شریعت کی بیان کی گئی حدود میں ہو کیونکہ جو اللہ پاک کی حدوں کو پار کرتا ہے ، وہ گنہگار ہوکر خود اپنے جان پر ہی ظلم کرتا ہے ۔ اللہ پاک قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے : *وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ* ترجمہ : اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھاتو بیشک اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ (پارہ 28، سورۃ الطلاق، آیت 01) نبی کریمﷺ نے بھی حدود شرع سے تجاوز کرنے کی ممانعت فرمائی حدیث پاک ہے : وَحدَّ لَكُمْ حُدُودًا فَلَا تَعْتَدُوهَا ترجمہ:اللہ پاک نے (شریعت) کی کچھ حددد مقرر فرمائی ہیں ،پس تم ان سے آگے نہ بڑھو ۔ (سنن دار قطنی ، حدیث 4396)
اسلامی تعلیمات کے مطابق کی جانے والی "نرمی " ایسی خوبی ہے جس کی بدولت انسانی روئیے میں رحمت ، شفقت ، مہربانی ، عفوودرگزر جیسی صفات بھی آجاتی ہیں اور لوگ بھی اس کے قریب ہوتے ہیں ۔ سرکار اقدس ﷺ کو اللہ پاک نے نرم مزاج بنایا ۔ نبی پاک ﷺ جب خوش طبعی فرماتے اس میں بھی نرمی ، محبت اور شفقت ہی ظاہر ہوتی تھی ۔ سرکار ﷺکی اس خوبی کا ذکر اللہ پاک نے قرآن کریم میں بھی کیا ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : * فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْۚ-وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِك* ترجمہ : تو اے حبیب! اللہ کی کتنی بڑی مہربانی ہے کہ آپ ان کے لئے نرم دل ہیں اور اگر آپ تُرش مزاج ، سخت دل ہوتے تو یہ لوگ ضرورآپ کے پاس سے بھاگ جاتے۔ (پارہ 04، سورہ اٰل عمران ، آیت 159) نرمی کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے پیارے آقاﷺ نے ارشاد فرمایا : *عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا عَائِشَةُ» إِنَّ اللهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ، وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ، وَمَا لَا يُعْطِي عَلَى مَا سِوَاهُ* ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے عائشہ ! بیشک اللہ پاک نرمی فرمانےوالاہے اور نرمی کو پسند فرماتا ہے اور نرمی پر وہ کچھ عطا فرماتا ہے جوسختی پر عطانہیں فرماتا بلکہ نرمی کے سوا کسی بھی شے پر عطا نہیں فرماتا۔ ( صحیح مسلم ، حدیث 2593) ہمارے معاشرے میں نرمی کی جگہ بے جا سختی نے لے لی ہے، یہی وجہ ہے کہ لوگوں کی ایک تعداد سے خیر خواہی، خدا ترسی(رحم دلی )اور حسنِ سلوک کا جذبہ بھی دم توڑ رہا ہے۔ ہمارے مزاج اس بجھتی ہوئی چنگاری کی مانند ہوچکے ہیں جسے ہوا کاہلکا سا جھونکا دوبارہ آگ میں تبدیل کردیتا ہے۔بات بات پر جھگڑنا،چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر آگ بگولہ ہوجانا اور لڑنے مرنے پر تیار ہوجانا،یہ سب ہمارے معاشرے میں عام ہوتا جا رہاہے جس کا بنیادی سبب نرمی کا ختم ہو جانا ہے۔لہذا ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیئے کہ اپنے مزاج میں نرمی لائیں اور بلاوجہ سختی ، بے رخی سے اپنے آپ کو بچائیں ۔
حکمت و ذہانت اللہ پاک کا فضل ہے اور اللہ پاک اپنا فضل جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے ۔اللہ پاک نےقرآن کریم میں ارشاد فرمایا : *یُّؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُۚ-وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًا* ترجمہ : اللہ جسے چاہتا ہے حکمت دیتا ہے اور جسے حکمت دی جائے تو بیشک اسے بہت زیادہ بھلائی مل گئی۔ (پارہ 03، سورۃ البقرۃ ، آیت 269) اللہ پاک نے سرکار دو عالم ﷺکو ہر اعتبار سے کامل اور اکمل بنایا اور نبی پاک ﷺ کو اعلیٰ قسم کی ذہانت اور حکمت عطا فرمائی ۔ جب نبی پاک ﷺ کسی سے خوش طبعی فرماتے تو اس میں بھی آپ ﷺ اپنی کمال دانائی اور ذہانت کا استعمال فرماتے تھے ۔ سماجی اعتبار سے بھی دیکھا جائے تو اس طرح کی خوش طبعی سے دل سکون محسوس کرتا ہے اور ایسے شخص کی صحبت میں بیٹھنے سے دل اکتاتے نہیں ہیں ۔
مسلمان کے دل میں خوشی داخل کرنا اللہ پاک کے پسندیدہ کاموں میں سے ہے ۔ ہمارے پیارے آقاﷺ نے ارشا د فرمایا : *أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ سُرُورٌ تُدْخِلُهُ عَلَى مُسْلِمٍ* ترجمہ : کسی مسلمان کے دل میں خوشی داخل کرنا اللہ پاک کے نزدیک پسندیدہ اعمال میں سے ہے ۔ ( المعجم الاوسط للطبرانی ، حدیث 6026) پیارے آقا ﷺ جب مزاح اور خوش طبعی فرماتے تو آپ ﷺکی خوش طبعی سے غمزدہ دل ، خوش ہوجاتے تھے ۔لہذا ہمیں بھی مزاح اور خوش طبعی اس طرح کرنی چاہیے جس سے دلوں میں خوشی داخل ہو اور کسی کو تکلیف نہ پہنچے ۔ اللہ پاک ہمیں نبی پاکﷺ کی خوش طبعی کی ان خصوصیات کو اپنانے کی توفیق نصیب فرمائے اور ہماری خوش طبعی کے انداز سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے ۔ آمین
مِزاح کا لغوی معنی ہے " خوش طبعی کرنا ، دل لگی کرنا، مذاق کرنا لیکن مِزاح اس مذاق کو کہتے ہیں جس میں جھوٹ نہ ہو ، اور کسی کی دل شکنی نہ ہو ، کسی کو تکلیف نہ پہنچے ، ایسی خوش طبعی کرنے کی شریعت مطہرہ میں بھی ممانعت نہیں ہے البتہ موقع کا لحاظ کرنا ضروری ہے اور ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اس کی عادت نہ بنائی جائےکیونکہ جو شخص اس کی عادت بنالیتا ہے ، اس کی شخصیت بری طرح متاثر ہوتی ہے ، اس کا وقار باقی نہیں رہتا ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے مختلف مواقع پر مزاح فرمایا اور نبی پاک ﷺ کا مزاح حق اور سچ پر مبنی ہوتا تھا ۔ حدیث پاک ہے : *عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّكَ تُدَاعِبُنَا. قَالَ: إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًا*. ترجمہ : روایت ہے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا یارسول الله ﷺ آپ ہم سے خوش طبعی فرماتےہیں فرمایا ہم نہیں کہتے مگر سچی بات۔ (مشکوۃ المصابیح ، حدیث 4885) سرکار دوعالم ﷺ کے اس فرمان سے پتا چلا خوش طبعی ایک اچھی صفت ہے کیونکہ سرکار ﷺ سے خوش طبعی کرنا ثابت ہے۔ جس کی مثالیں ہم اسی کورس میں آگے ذکر کرینگے ۔ جس عمل کو سرکار ﷺ نے اختیار کیا وہ عبث یا برا عمل نہیں ہوسکتا ہے لہذا خوش طبعی ، اور دل لگی کرنا شرعی حدود میں رہتے ہوئے بالکل جائز ہے ۔
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ تحریر فرماتے ہیں :کسی شخص سے ایسا مذاق کرنا حرام ہے جس سے اسے اَذِیَّت پہنچے البتہ ایسا مذاق جو اسے خوش کر دے ، جسے خوش طبعی اور خوش مزاجی کہتے ہیں ، جائز ہے ، بلکہ کبھی کبھی خوش طبعی کرنا سنت بھی ہے جیسا کہ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں : ’’حضور پُرنور ﷺ سے کبھی کبھی خوش طبعی کرنا ثابت ہے ، اسی لیے علماءِ کرام فرماتے ہیں کہ کبھی کبھی خوش طبعی کرنا سنتِ مُسْتحبہ ہے ۔ ( مراٰۃ المناجیح، جلد 06، صفحہ 493) امام محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اگر تم اس بات پر قادر ہو کہ جس پر نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم قادر تھے کہ مزاح (یعنی خوش طبعی) کرتے وقت صرف حق بات کہو، کسی کے دل کو اَذِیَّت نہ پہنچاؤ، حد سے نہ بڑھو اور کبھی کبھی مزاح کرو تو تمہارے لئے بھی کوئی حرج نہیں لیکن مزاح کو پیشہ بنا لینا بہت بڑی غلطی ہے ۔ ( احیاء علوم الدین، کتاب اٰفات اللّسان، الافة العاشرۃ المزاح، جلد03، صفحہ 159) امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ مزید فرماتے ہیں : وہ مزاح ممنوع ہے جو حد سے زیادہ کیا جائے اور ہمیشہ اسی میں مصروف رہا جائے اور جہاں تک ہمیشہ مزاح کرنے کا تعلق ہے تو اس میں خرابی یہ ہے کہ یہ کھیل کود اور غیر سنجیدگی ہے ، کھیل اگرچہ (بعض صورتوں میں ) جائز ہے لیکن ہمیشہ اسی کام میں لگ جانا مذموم ہے اور حد سے زیادہ مزاح کرنے میں خرابی یہ ہے کہ اس کی وجہ سے زیادہ ہنسی پیدا ہوتی ہے اور زیادہ ہنسنے سے دل مر دہ ہوجاتا ہے ، بعض اوقات دل میں بغض پیدا ہو جاتا ہے اور ہیبت و وقار ختم ہو جاتا ہے ، لہٰذا جو مزاح ان اُمور سے خالی ہو وہ قابلِ مذمت نہیں ، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’بے شک میں بھی مزاح کرتا ہوں اور میں (خوش طبعی میں ) سچی بات ہی کہتا ہوں ۔ ( معجم الاوسط،،حدیث 995) لیکن یہ بات تو آپ ﷺ کے ساتھ خاص تھی کہ مزاح بھی فرماتے اور جھوٹ بھی نہ ہوتا اور جہاں تک دوسرے لوگوں کا تعلق ہے تو وہ مزاح اسی لئے کرتے ہیں کہ لوگوں کو ہنسائیں خواہ جس طرح بھی ہو، اور (اس کی وعید بیان کرتے ہوئے ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ایک شخص کوئی بات کہتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے ہم مجلس لوگوں کوہنساتا ہے ، اس کی وجہ سے ثُرَیّا ستارے سے بھی زیادہ دور تک جہنم میں گرتا ہے ۔ ( مسند امام احمد ، حدیث 9231) اللہ تعالیٰ ہمیں جائز خوش طبعی کرنے اور ناجائز خوش طبعی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ، اٰمین ۔
خوش طبعی سے متعلق ہم کورس کے اس تیسرے مرحلے میں سرکار ﷺ کے خوش طبعی فرمانے کے واقعات کو ذکر کررہے ہیں تاکہ گزشتہ مرحلے میں جو خصوصیات ذکر کی گئیں اس کے مطابق کچھ عملی مثالیں ہمیں معلوم ہوں گی تو اس سے خوش طبعی کا انداز اور طریقہ ہمیں مزید اچھے انداز سے سمجھ بھی آجائے گا اور سیرت رسول ﷺ کی ان خصوصیات کو دیکھتے ہوئے ہم بھی ا یسی خوش طبعی و مزاح کرسکے گے جو حدود شرع کے مطابق ہوگا اور اس سے مسلمان کے دل خوش ہونگے ۔
*عَنْ أَنَسٍ رضی اللہ عنہ أَنَّ رَجُلًا اسْتَحْمَلَ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ فَقَالَ: إِنِّي حَامِلُكَ عَلٰى وَلَدِ نَاقَةٍ؟ فَقَالَ: مَا أَصْنَعُ بِوَلَدِ النَّاقَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَهَلْ تَلِدُ الْإِبِلُ إِلَّا النُّوقُ* ترجمہ : حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللهﷺ سے سواری مانگی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہم تم کو اونٹنی کے بچہ پر سوار کریں گے، اس شخص نے سرکار ﷺ سے عرض کی : یارسول اللہ ﷺمیں اونٹنی کے بچہ کا کیا کروں گا۔ تو رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ اونٹ کو اونٹنی ہی جنتی ہے(یعنی : ہر اونٹ ؛ اونٹنی کا بچہ ہی ہوتا ہے) (جامع ترمذی ، حدیث 1991)
ایک بوڑھی عورت سرکار ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کرنے لگی *يا رسول الله أدع الله أن يدخلني الجنة. فقال يا أم فلان! انّ الجنة لا تدخلها عجوز* یعنی: یارسول اللہ ﷺ میرے لئے اللہ پاک سے دعا کریں کہ اللہ پاک مجھے جنت میں داخل کرے ۔ نبی پاک ﷺ نے اس عورت سے فرمایا : جنت میں بوڑھی عورت نہیں جائے گی۔ وہ عورت وہاں سے روتے ہوئے جانے لگی تو سرکار ﷺ نے فرمایا اس عورت کو یہ خبر دو *أنها لا تدخلها وهي عجوز* وہ جنت میں بڑھاپے کی حالت میں نہیں جائے گی کیونکہ اللہ پاک نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے : *إِنَّا أَنْشَأْناهُنَّ إِنْشاءً فَجَعَلْناهُنَّ أَبْكاراً* ترجمہ : بے شک ہم نے ان جنتی عورتوں کو ایک خاص انداز سے پیدا کیا ، تو ہم نے انہیں کنواریاں بنایا ۔ (الشمائل المحمدیہ، باب ماجاء فی صفۃ مزاح رسول اللہ ﷺ ، صفحہ143)
*عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ لَهُ: يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ* ترجمہ : حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : اے دو کانوں والے ۔ (شرح السنہ للبغوی ، حدیث 3606) مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد مرقاۃ المفاتیح کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دونوں کان کسی قدر بڑے تھے اس لیے انہیں دو کان والے فرمایا جیسے خرباق ابن ساریہ کو ذوالیدین فرمایا کرتے تھے یا حضرت انس کی قوت سماعت بہت قوی تھی یا آپ بہت ذکی و ذہین تھے۔بہرحال اس فرمان عالی میں حضرت انس کی تعریف بھی ہے اور خوش طبعی بھی،یہ ہے اس سید الصادقین ﷺ کی خوش طبعی۔ ( مراٰ ۃ المناجیح ، جلد 06، حدیث 4887)
*عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: يَدْخُلُ عَلَيْنَا وَلِي أَخٌ صَغِيرٌ يُكْنَى أَبَا عُمَيْرٍ وَكَانَ لَهُ نُغَرٌ يَلْعَبُ بِهِ، فَمَاتَ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ ﷺ ذَاتَ يَوْمٍ فَرَآهُ حَزِينًا، فَقَالَ: «مَا شَأْنُهُ؟» قَالُوا: مَاتَ نُغَرُهُ، فَقَالَ: «يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟»* ? ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے گھر تشریف لایا کرتے تھے۔ میرے ایک چھوٹے بھائی تھے، جنہیں ابو عمیر کہا جاتا تھا، اور ان کا ایک نغیر (چھوٹا پرندہ) تھا جس سے وہ کھیلتے تھے۔ ایک دن وہ پرندہ مر گیا، تو نبی کریم ﷺ ہمارے گھر آئے اور انہیں غمگین دیکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "اسے کیا ہوا ہے؟"گھر والوں نے عرض کیا:"اس کا نغیر (پرندہ) مرگیا ہے۔"تو نبی کریم ﷺ نے محبت بھرے انداز میں فرمایا: "اے ابو عمیر! تمہارے نغیر کا کیا ہوا؟" (سنن ابی داؤد ، حدیث 4969)
*عن انسٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ كَانَ اسْمُهُ زَاهِرَ بْنَ حَرَامٍ وَكَانَ يُهْدِيْ لِلنَّبِيِ ﷺ مِنَ الْبَادِيَةِ فَيُجَهِّزُهٗ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: إِنَّ زَاهِرًا بَادِيَتُنَا وَنَحْنُ حَاضِرُوهُ . وَكَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُحِبُّهٗ وَكَانَ دَمِيمًا فَأَتَى النَّبِيُّ ﷺ يَوْمًا وَهُوَ يَبِيعُ مَتَاعَهٗ فَاحْتَضَنَهٗ مِنْ خلفِه وَهُوَ لَا يُبْصِرْهٗ. فَقَالَ: أَرْسِلْنِيْ مَنْ هٰذَا؟ فَالْتَفَتَ فَعَرَفَ النَّبِيَّ ﷺ فَجَعَلَ لَا يَألُوْا مَا أَلْزَقَ ظَهْرَهٗ بِصَدْرِ النَّبِيِّ ﷺ حِينَ عَرَفَهٗ وَجَعَلَ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: مَنْ يَشْتَرِي الْعَبْدَ؟ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِذًا وَاللّٰهِ تَجِدُنِي كَاسِدًا فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: لٰكِنْ عِنْدَ اللّٰهِ لَسْتَ بِكَاسِدٍ* ترجمہ:حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص دیہاتیوں میں سے جن کا نام زاہر ابن حرام تھا وہ گاؤں سے حضور ﷺ کے لیے ہدیہ لاتے تھے جب وہ واپس جانے کا ارادہ کرتے تو نبی پاک ﷺ بھی انہیں کچھ سامان عطا کرتے تھے ان کے بارے میں نبی پاک ﷺ نے فرمایا کہ زاہر ہمارے دیہاتی بھائی ہیں اور ہم زاہر کے شہری بھائی ہیں ۔ نبی پاک ﷺ ان سے محبت کرتے تھے وہ ظاہری اعتبار سے خوبصورت نہ تھے ایک دن نبی ﷺ تشریف لائے زاہر اپنا سامان بیچ رہے تھے حضورﷺ نے ان کو پیچھے سے پکڑ لیا وہ حضور ﷺ کو دیکھ نہیں پارہے تھے ۔ کہنے لگے : یہ کون ہیں ؟ مجھے چھوڑ دو انہوں نے کچھ جنبش کی تو نبی پاک ﷺکو پہچان لیا پھر انہوں نے کمی نہیں کی اپنی پیٹھ خوشی سے نبی ﷺ کے سینہ سے رگڑنا شروع کردی وہ حضور ﷺکو پہچان چکے تھے ۔ نبی پاک ﷺ فرمانے لگے اس غلام کو کون خریدتا ہے وہ بولے تب تو رب کی قسم آپ مجھے بے قیمت پائیں گے رسول الله ﷺ نے فرمایا لیکن تم الله کے نزدیک بے قیمت نہیں ہو ۔ (شرح السنہ للبغوی ، حدیث 3604)
* عن زيد بن أسلم أن امرأة يقال لها أم أيمن جاءت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: إن زوجي يدعوك، قال: «من هو؟ أهو الذي بعينيه بياض؟» فقالت: أيّ يا رسول الله؟ والله ما بعينيه بياض، فقال رسول الله ﷺ: «بل إن بعينيه بياضا» ، فقالت: لا ولله، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «وهل من أحد وإلا وبعينيه بياض؟» * ترجمہ : حضرت زید بن اسلم رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں :حضرت اُمِّ ایمن رضی اللہ تعالٰی عنہا نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا:میرے شوہر آپ کو بلا رہے ہیں ۔ارشاد فرمایا ’’کون،وہی جس کی آنکھ میں سفیدی ہے؟ عرض کی:اللہ تعالیٰ کی قسم !ان کی آنکھ میں سفیدی نہیں ہے ۔ ارشاد فرمایا’’کیوں نہیں ، بے شک اس کی آنکھ میں سفیدی ہے ۔عرض کی : اللہ تعالیٰ کی قسم!ایسا نہیں ہے۔نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا’’ کیاکوئی ایسا ہے جس کی آنکھ میں سفیدی نہ ہو(آپ نے اس سے وہ سفیدی مراد لی تھی جو آنکھ کے سیاہ حلقے کے ارد گرد ہوتی ہے) (سبل الہدی والرشاد، جماع ابواب صفاتہ المعنویۃ، الباب الثانی والعشرون فی مزاحہ... جلد 07، صفحہ 114)
*عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: زَارَتْنَا سَوْدَةُ يَوْمًا فَجَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنِي وَبَيْنَهَا إِحْدَى رِجْلَيْهِ فِي حِجْرِي، وَالْأُخْرَى فِي حِجْرِهَا، فَعَمِلْتُ لَهَا حَرِيرَةً، فَقُلْتُ: كُلِي، فَأَبَتْ فَقُلْتُ: " لَتَأْكُلِي، أَوْ لَأُلَطِّخَنَّ وَجْهَكِ، فَأَبَتْ، فَأَخَذْتُ مِنَ الْقَصْعَةِ شَيْئًا فَلَطَّخْتُ بِهِ وَجْهَهَا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ ﷺ رِجْلَهُ مِنْ حِجْرِهَا تَسْتَقِيدُ مِنِّي، فَأَخَذَتْ مِنَ الْقَصْعَةِ شَيْئًا فَلَطَّخَتْ بِهِ وَجْهِي، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ*، ترجمہ :ابو سلمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: سودہ رضی اللہ عنہا ایک دن ہمارے ہاں آئیں، رسول اللہ ﷺ میرے اور ان کے درمیان بیٹھ گئے، آپ کی ایک ٹانگ میری گود میں تھی اور دوسری ان کی گود میں۔ میں نے ان کے لیے حریرہ بنایا، پھر میں نے کہا: "کھاؤ۔" انہوں نے انکار کیا، تو میں نے کہا: "یا تو کھاؤ، یا میں تمہارے چہرے پر لگا دوں گی۔" انہوں نے پھر بھی انکار کیا، تو میں نے برتن سے کچھ لیا اور ان کے چہرے پر لگا دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ٹانگ ان کی گود سے اٹھا لی تاکہ وہ مجھ سے بدلہ لے سکیں، تو انہوں نے بھی برتن سے کچھ لیا اور میرے چہرے پر لگا دیا، اور رسول اللہ ﷺ (یہ دیکھ کر ) مسکرا رہے تھے۔ (السنن الکبری للنسائی ، حدیث 8868)
حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے ان کا نام پوچھا ۔ حضرت سفینہ نے نام بتانے سے انکار کردیا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا نام سفینہ رکھا ہے ۔ انہوں نے پوچھا ۔ آپ کا نام سرکارﷺ نے سفینہ کیوں رکھا ، اس کی وجہ ہی بتادیں ۔ تب حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ نے سفینہ نام کی وجہ ذکر کرتے ہوئے کہا کہ *خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ، فَثَقُلَ عَلَيْهِمْ مَتَاعُهُمْ، فَقَالَ لِي: «ابْسُطْ كِسَاءَكَ» فَبَسَطْتُهُ، فَجَعَلُوا فِيهِ مَتَاعَهُمْ، ثُمَّ حَمَلُوهُ عَلَيَّ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «احْمِلْ، فَإِنَّمَا أَنْتَ سَفِينَةُ»* ترجمہ :رسول اللہ ﷺ ایک سفر پر نکلے اور ان کے ساتھ ان کے صحابہ بھی تھے۔ ان کا سامان زیادہ ہو گیا اور ان پر بھاری پڑنے لگا، تو نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: 'اپنی چادر بچھاؤ۔ میں نے اپنی چادر بچھا دی، صحابہ نے اپنا سامان اس میں رکھ دیا، پھر انہوں نے وہ سارا سامان مجھ پر لاد دیا۔ تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'اٹھا لو، تم تو کشتی ہو!' (یعنی تمہاری طاقت کشتی کی طرح ہے)۔
ہم نے نبی پاک ﷺ کے مزاح اور خوش طبعی کے چند واقعات کو بغور پڑھا ، یقینا ان واقعات کو پڑھنے اور سمجھنے کے بعد ہمیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہوگیا ہوگا کہ مزاح و خوش طبعی سے کسی کا دل خوش کیا جاسکتا ہے ، ماحول کو خوشگوار بنایا جاسکتا ہے، محبت و مودت کو فروغ دیا جاسکتا ہے ۔یہ بات اپنی جگہ درست ہے لیکن ہر اچھے عمل کو کرنے کے کچھ آداب اور عملی تقاضے ہوتے ہیں جن کا خیال رکھنا بھی ہمارے لئے ضروری ہے ۔ اب ہم اس کورس کے اس مرحلے میں خوش طبعی کے کچھ آداب اور خوش طبعی کے فوائد کا ذکر کررہے ہیں تاکہ ان آداب کا خیال کرتے ہوئے اس عمل کو موثر و مفید بنایا جاسکے ۔
مزاح و خوش طبعی میں اس بات کا خیال کرنا بے حد ضروری ہے کہ مزاح و خوش طبعی کرنی کس سے چاہیئے ۔ بعض لوگ ہوتے ہی ایسے ہیں کہ جن کا مزاج اس کو قبول نہیں کرتا وہ یا تو جلد غصے میں آجاتے ہیں یا ان کی طبعیت میں اکتاہٹ پیدا ہوجاتی ہے ، ایسے افراد سے مزاح و خوش طبعی نہ کی جائے تو بہتر ہے ۔
مزاح و خوش طبعی میں حد سے آگے نہ بڑھا جائے یعنی کوئی فحش کلامی ، بہیودہ گفتگو ہی شروع کردی جائے ، یا جس کے ساتھ خوش طبعی کی جارہی ہے تو اس کو بھی ایک مناسب وقت تک ہی ہونا چاہیے مسلسل مزاح کرتے رہنے سے بعض اوقات ماحول ناخوشگوار ہوجاتا ہے ، لہذا اس کا خاص خیال رکھا جانا چاہیئے۔
مزاح و خوش طبعی میں اتنا ہنسنا کہ خود کو آواز آئے یا اتنی زو ر سے ہنسنا جس سے دوسروں تک بھی آواز پہنچے یہ دونوں انداز معیوب و ناپسندیدہ ہیں ۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ خوش طبعی میں اتنی زور دار ہنسی مذاق شروع ہوجاتی ہے کہ خوش طبعی کی مجلس کم اور فساق و فجار اور غافلین و لاپرواہ لوگوں کی مجلس کا منظر زیادہ معلوم ہوتا ہے ۔ لہذا خوش طبعی میں صرف مسکرانے کے انداز کو ہی اپنایا جائے۔
مزاح و خوش طبعی میں موقع کا بھی خیال کیا جائے جیسے : کسی جگہ بالکل سنجیدہ ماحول ہے جہاں علماء یا بڑے بیٹھ کر کسی اہم موضوع پر گفتگو یا غور و فکر کررہے ہیں یا کسی کے یہاں غمی یا انتقال کا موقع ہے ، اس موقع پر خوش طبعی کے بجائے خود بھی سنجیدگی کو اختیار کیا جائے ورنہ ہوسکتا ہے اسے اس جگہ سے اٹھادیاجائے ، جس کا ذمہ دار وہ خود ہی ہوگا ۔
مزاح میں اس بات کا بھی خیال رکھاجائے کہ وہ مزاح غلط فہمی پیدا نہ کردے ، یا خوش طبعی میں اتنا سخت معاملہ ہوگیا کہ سامنے والے سے بالکل برداشت نہ ہوسکا اور جھگڑا ہوگیا ، جو کہ یقینا قابل مذمت ہی ہے کہ شریعت نے ایسا مزاح کرنے کی سختی سے ممانعت کی ہے ۔ لہذ ا اس طرح کی خوش طبعی سے اپنے آپ کو بچائے رکھے ۔
مزاح میں کسی کا مذاق نہ اڑایا جائے ، نہ اس کے کسی اندازکی تحقیر کی جائے ، ہمارے دین نے جو مزاح کی اجازت دی ہے اس کی بنیادی شرط ہی یہ ہے کہ وہ کسی شخص کے لئے تکلیف کا باعث نہ ہو ، لہذا مزاح میں مسلمان کا مذاق ہرگز ہرگز نہ بنایا جائے۔
ہم نے نبی پاک ﷺ کے مزاح کا انداز ، اس کی خصوصیات کے بارے میں جان لیا ہے ، اس طرح کا مزاح محبت کو پروان چڑھاتا ہے ، آپس کے تعلق کو مضبوط کرتا ہے ، اسی طرح کا مزاح اختیار کیا جانا چاہیئے ۔
ذہنی سکون اور دباؤ میں کمی مزاح اور ہنسی ذہنی دباؤ کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جب ہم ہنستے ہیں تو ہمارے دماغ میں ایسے ہارمونس خارج ہوتے ہیں جو ذہنی تناؤ اور پریشانی کو کم کرتے ہیں۔ ہنسی انسان کو وقتی طور پر مسائل سے دور لے جاتی ہے اور دماغ کو سکون فراہم کرتی ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق جو لوگ مزاح کو اپنی زندگی کا حصہ بناتے ہیں، وہ کم ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں اور ان کی دماغی صحت بہتر رہتی ہے۔
مزاح اور خوش طبعی سے لوگوں کے درمیان مثبت روابط قائم ہوتے ہیں ۔ ہنس مکھ اور خوش مزاج افراد زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور لوگ ان کے ساتھ وقت گزارنا پسند کرتے ہیں۔ مزاح سخت سے سخت ماحول کو بھی خوشگوار بنا سکتا ہے اور غلط فہمیاں دور کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ایک ہنس مکھ انسان کے ساتھ دوستی اور تعلقات قائم کرنا آسان ہوتا ہے، کیونکہ وہ دوسروں کو خوش رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
مزاح ذہنی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے اور سوچنے کی صلاحیت کو بہتر بناتا ہے۔ جو لوگ زیادہ ہنستے ہیں، وہ مسائل کے حل کے لیے منفرد اور نئے طریقے تلاش کرنے میں ماہر ہوتے ہیں۔ مزاح سے دماغ کی استعداد بڑھتی ہے اور نئے خیالات پیدا کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ تخلیقی شعبوں میں کام کرنے والے افراد، جیسے کہ مصور، مصنف، مزاح کو اپنی صلاحیتوں میں نکھار لانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
ہنسی اور خوشگوار ماحول دفتر اور کام کی جگہ پر بھی مثبت اثر ڈالتی ہے۔ ایک ایسا شخص جو مزاح پسند کرتا ہے اور دوسروں کو خوش رکھتا ہے، وہ بہتر کارکردگی دکھاتا ہے۔ دباؤ میں کام کرنے کی بجائے، اگر خوش دلی اور مثبت رویے کے ساتھ کام کیا جائے تو کارکردگی مزید بہتر ہو جاتی ہے۔ کامیاب کمپنیاں اپنے ملازمین کے لیے ایسا ماحول پیدا کرتی ہیں جہاں مزاح اور خوشگوار گفتگو کو فروغ دیا جاتا ہے، تاکہ ان کی کارکردگی بہتر ہو سکے۔
ہنسی عمر کے بڑھنے کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ جو لوگ زیادہ ہنستے ہیں، ان کی جلد تروتازہ رہتی ہے اور چہرے پر جھریاں دیر سے آتی ہیں۔ اس کے علاوہ، خوش مزاج لوگ زیادہ صحت مند اور چاک و چوبند رہتے ہیں۔ مزاح مثبت توانائی فراہم کرتا ہے اور جسمانی و ذہنی صحت کو بہتر بناتا ہے، جس سے انسان دیر تک جوان محسوس کرتا ہے۔
ہنسی کو قدرتی دوا کہا جاتا ہے جو کئی بیماریوں کے علاج میں مدد دیتی ہے۔ ہنسنے سے جسم میں مثبت تبدیلیاں آتی ہیں، جو مدافعتی نظام کو مضبوط بناتی ہیں۔ ڈاکٹرز بھی مریضوں کو خوش رہنے کا مشورہ دیتے ہیں، کیونکہ مثبت سوچ اور مزاح بیماریوں سے جلد صحت یابی میں مدد دیتے ہیں۔ کچھ تحقیقی مطالعات کے مطابق، جن مریضوں کو زیادہ خوشگوار ماحول فراہم کیا جاتا ہے، وہ دوسروں کی نسبت جلد صحت یاب ہو جاتے ہیں۔
کورس کے اس آخری مرحلے میں ہم اپنا جائزہ لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیا ہمارا مذاق اور خوش طبعی کرنا سیرت رسول ﷺ کے موافق ہے یا اس کے خلاف ہے ۔ ہم نے ایک جملہ متعدد بار سنا ہوگا " یار میں تو مذاق کررہا تھا ، یہ تو سریس ہوگیا "یا ہوسکتا ہے یہ جملہ ہم نے خود کہا بھی ہو ، ایسی کیا وجہ ہے کہ میرا مذاق ، میرے دوست کو خوش کرنے کے بجائے تکلیف کا سبب بن جاتا ہے ؛ اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں ۔ ان میں سے چند وجوہات یہاں ذکر کی جارہی ہیں اور یہ وجوہات ہمارے معاشرے میں عام ہیں ، جس میں خوش طبعی کے مثبت اثرات کے برعکس معاملہ ہوجاتا ہے، اور ان وجوہات سے ہمیں دور رہنے کی ضرورت ہے ۔
ہم خوش طبعی یا مزاح کرتے ہوئے اپنے عزیز کی ذاتیات پر حملہ کرتے ہیں جس سے اس کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے، اسے قلبی تکلیف پہنچتی ہے جیسے کسی کے قد کا مذاق اڑانا ، کسی کی رنگت کا مذاق اڑانا ، کسی کی پرسنل لائف سے متعلق کلام کرنا وغیرہ ؛ اگر غور کیا جائے تو ہر عقلمند آدمی اس کو ناپسند ہی کرتا ہے اور وہی انداز ہمارے ساتھ اختیار کیا جائے تو ہمارے لئے بھی وہ ناقابل براداشت ہو ، پھر کسی دوسرے عزیز کے ساتھ ، دوست کے ساتھ اس طرح کا معاملہ کرنا ، کیسے درست ہوسکتا ہے ۔ خوش طبعی کریں ، کسی کی ذات کامذاق نہ بنائیں ۔ اللہ کریم قرآن پاک میں ارشا د فرماتا ہے : * یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّۚ* ترجمہ : اے ایمان والو کوئی مرد کسی مرد کا مذاق نہ اڑائے ہوسکتا ہے جس کا مذاق اڑایا گیا وہ اللہ کے نزدیک بہتر ہو اس سے جس نے مذاق اڑایا ہے اور نہ ہی کوئی عورت کسی عورت کا مذاق اڑائے ہوسکتا ہے جس کا مذاق اڑایا گیا وہ اس عورت سے بہتر ہو جس نے مذاق اڑایاہے ۔(پارہ 26، سورۃ الحجرات ، آیت 11)
ہماری خوش طبعی اور مذاق جھوٹ پر بھی مبنی ہوتے ہیں بلکہ اب اس طرح کا مزاح کرنے کے لئے تو سال کا ایک دن مخصوص کرلیا گیا ہے ، جسے ہمارے یہاں اپریل کی پہلی تاریخ کو عالمی سطح پر منایا جاتا ہے اور اسے "April fool" کا نام دیا جاتا ہے ۔ جس کا آسان مفہوم یہ ہے کہ "عالمی سطح پر جھوٹ بول کر لوگوں کو تکلیف پہنچاو، تنگ کرو "۔ ہم بحیثیت مسلمان غور کریں کہ کیا یہ انداز ہمارے اسلام کا ہے ، ہمارے آقا ﷺ کی سیرت سے کیا ہمیں یہ سیکھنے کو ملتا ہے ؟ تو یقینا ہمارا جواب نفی میں ہوگا ۔ لہذا مزاح و خوش طبعی میں ہمیں اس انداز سے اپنے آپ کو دور رکھنا ہوگا۔ حدیث پاک ہے :نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : *أَنَا زَعِيمٌ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ مُحِقًّا، وَبِبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ وَإِنْ كَانَ مَازِحًا وَبِبَيْتٍ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ لِمَنْ حَسَّنَ خُلُقَهُ* ترجمہ : "میں جنت کے سب سے بلند درجے میں گھر کی ضمانت دیتا ہوں اس کے لیے جو اچھے اخلاق والا ہو، جنت کے درمیان میں گھر کی ضمانت دیتا ہوں اس کے لیے جو جھگڑا چھوڑ دے اگرچہ وہ حق پر ہو، اور جنت کے نچلے درجے میں گھر کی ضمانت دیتا ہوں اس کے لیے جو جھوٹ کو چھوڑ دے اگرچہ وہ مذاق میں ہو۔" (سنن ابی داود ، حدیث 4800)
مزاح و خوش طبعی کرنے میں بسا اوقات اس بات کا خیال ہی نہیں کیا جاتا کہ کب کسی دینی و مذہبی معاملے سے متعلق بات شروع کردی جاتی اور پھر اس کا بھی مذاق بنادیا جاتا ہے اور یہ معاملہ انتہائی خطرنا ک ہے کیونکہ اس سے ایمان بھی ضائع ہوسکتا ہے۔ مذاق ہی مذاق میں کسی قرآنی آیت کا مذاق، کسی قرآنی حکم کا انکار ، کسی حدیث کا مذاق، کسی فرشتے کا مذاق، جنت و دوزخ کا مذاق ، اللہ پاک کے کسی ولی یا نیک بندے کامذاق وغیرہ ، لہذا اپنے آپ کو اس بارے میں پختہ کرلیں کہ میری خوش طبعی کسی بھی دینی و مذہبی معاملے میں نہیں ہوگی ، قرآن پاک میں تو اللہ پاک نے ایسے لوگوں کے پاس بیٹھنے کا بھی منع کردیا ؛ ارشا د باری تعالیٰ ہے : "*وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ*" ترجمہ : "اور جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری آیات کا مذاق اڑا رہے ہیں تو ان سے دور ہو جاؤ۔" (پارہ 07، سورۃ الانعام ، آیت 68)
ہمارے معاشرے میں کسی کمزور کو دیکھا جاتا ہے ، یا کسی ایسے شخص کو جس کا ذہنی توازن درست نہیں ، یا کسی غریب کو تو اس کا بھی مذاق بنایا جاتا ہے بلکہ دیکھا جاتا ہے کہ ایسے لوگوں کو مختلف آوازیں نکال کر تنگ کرتے ہیں ، پریشان کرتے ہیں ، یہ ایک مسلمان کو زیب نہیں دیتا ہے ۔ حدیث پاک میں ہے : نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا : *مَنْ ضَارَّ مُسْلِمًا ضَارَّ اللَّهُ بِهِ* ترجمہ :"جو کسی مسلمان کوتکلیف پہنچائے گا، اللہ اسے تکلیف میں ڈالے گا۔ ( جامع ترمذی ، حدیث 1940)
اس طرح کا مذاق عام طور پر students کے درمیان دیکھا جاسکتا ہے کہ کلاس میں کسی طالب علم کو بات سمجھنے میں مشکل ہے ، یا اسے دیر سے سمجھ آتی ہے یا وہ کوئی ایسا سوال کرلیتا ہے جو عام فہم ہو تو ذہین یا ہوشیار طلباء یا جن کو بات سمجھ میں آچکی ہوتی ہے وہ اس طالب علم کی کم فہمی یا کم علمی کا مذاق بناتے ہیں ، ہماری شریعت میں اس کی قطعا اجازت نہیں ہے ، ابتداء میں ہم نے قرآن کی آیت بیان کی ہے جس میں مسلمانوں مردو عورتوں کو کسی دوسرے مسلمان مرد وعورت کا مذاق اڑانے کا منع کیا گیا ہے ، ہمارے پیش نظر یہ اللہ پاک کا حکم ہر وقت رہنا چاہیئے ۔
یہ جدید دور کی جدید ایجاد اور خوش طبعی کے جدید انداز ہیں ، پہلے کسی کا مذاق اڑایا جاتا تو چند لوگوں تک یہ معاملہ رہتا تھا اور اب اس کا مذاق سوشل میڈیا پر بنایا جاتا ہے ، اس جدید انداز میں ہر طبقے کا کوئی نہ کوئی کردار سوشل میڈیا پر موجود ہے کبھی کسی کے میمز بنتے ہیں ، کبھی کسی کے انداز کا مذاق ، کبھی کسی کی آواز کا مذاق ، کبھی کسی کی کردار کُشی کی جاتی ہے ۔ سوشل میڈیا کہ یہ پلیٹ فارم بالکل آزاد پلیٹ فارم ہیں ، ہمارے معاشرے مذاق اڑانے میں اس قدر گرچکا ہے کہ کسی کے گھر کی خاتون ہو ،اس کا بھی لحاظ نہیں کیا جاتا ، تعجب کی بات یہ ہے کہ جو کسی کو ذلیل کرنے کے زیادہ طریقے جانتا ہے اسے معاشرے کا کلاکار سمجھا جاتا ہے ، کہا جاتا ہے : اس کے پاس کیسی صلاحیت ہے ؟ حالانکہ یہ صلاحیت نہیں بلکہ ہمارے معاشرے اور ہماری نئی نسل کے لئے یہ بہت نقصاندہ چیز ہے جس کے منفی اثرات معاشرے پر ایسے ہونگے کہ ہمارے درمیان سے باصلاحیت افراد ختم ہوتے جائینگے اور ایسے کلاکار معاشرے کو ملتے جائینگے ۔بات بڑی غور کرنے کی ہے ۔
شہرت حاصل کرنے کے بے ڈھنگے طریقوں میں سے ایک طریقہ پرینک ویڈیوز کا بھی ہے. جس کے نقصانات کی جانب لوگوں کی توجہ نہیں ہے . آج کل آپ سوشل میڈیا پر بکثرت یہ دیکھیں گے کہ کوئی یوٹیوبر، کوئی ولاگر یا کوئی بھی کانٹینٹ کری ایٹر اپنی ویڈیوز پر زیادہ ویوز حاصل کرنے کے لیے کوئی ایسا کام کرتا ہے جس کی وجہ سے لوگ اس سے محظوظ ہو کر اس کی ویڈیو دیکھیں. پھر چاہے جس کے ساتھ یہ مذاق کیا جا رہا ہو، اس پر کتنا ہی گراں کیوں نہ گزرے. آپ مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ جہاں کسی شخص نے تعمیراتی کام کیا. دس دس گھنٹے محنت کرکے ریسرچ کرکے ایک 5 منٹ کی ویڈیو اپلوڈ کی اسے بمشکل چند ہزار لوگ دیکھ پاتے ہیں مگر جونہی کوئی فن کار راہ چلتے راہ گیروں کے ساتھ مذاق کرکے انہیں ڈرا دھمکا کر، کبھی تھپڑ لگا کر، کبھی شاپر چڑھا کر، کبھی کچھ گرا کر، کبھی باجا بجا کر دس پندرہ منٹ کی ویڈیو چڑھا دے تو لاکھوں لوگ اسے دیکھنے کے لیے امڈ آتے ہیں.شہرت کے لالچی لوگ اوچھے ترچھے کسی بھی قسم کے ہتھکنڈے آزمانے سے باز نہیں آتے جس کے ذریعے وہ مشہور ہو سکیں. اب مثبت اور تعمیراتی کام کرنا چونکہ ذرا مشکل کام ہے اس لیے دیکھنے میں یہ آ رہا ہے کہ ہماری نئی جنریشن بہت تیزی کے ساتھ تخریب کاری کی جانب مائل ہوتی چلی جا رہی ہے. صرف اپنی مشہوری کی خاطر وہ کسی کو نقصان پہنچانے سے بھی دریغ نہیں کرتے. پرینک ویڈیوز کے ذریعے جو نقصان ہماری نوجوان نسل کے ذہنوں پر ہورہا ہے ، اس سے بچانے کا صرف ایک واحد ذریعہ یہی ہے کہ ہماری نوجوان نسل اپنا رول ماڈل پیارے آقا ﷺ کی ذات کو بنائے اور یہ صرف زبانی نہ ہو بلکہ عملی طور پر اس پر توجہ دی جانی چاہیئے ۔ اللہ پاک ہمیں پیارے محبوب ﷺ کی سیرت کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین )