پیارے مصطفی ﷺ کی پسندیدہ غذاٸیں
لائیوغیر فعال

پیارے مصطفی ﷺ کی پسندیدہ غذاٸیں

پیارے مصطفی ﷺ کی پسندیدہ غذاٸیں

199

انرولمنٹس

0

مکمل

N/A

ریٹنگ

اقسام

رسول اللہ ﷺ کی غذاوں سے متعلق مفید معلوماتی کورس

رسول اللہ ﷺ کی غذائیں

حضور سرور کونین ﷺ نے اپنی مبارک زندگی میں جن پاکیزہ غذاوں کو کھانے اور پینے کا شرف عطا فرمایا ، ان کی فضیلت ، برکت ، افادیت سے کسی مسلمان کو انکار نہیں ہوسکتا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کی غذائیں لذت سے بھرپور بھی ہیں اور ساتھ ہی ان کے طبی ، جسمانی فوائد بھی کثیر ہیں۔ البتہ یہاں یہ بات یاد رہے حضور سرور و کونین ﷺ نے کسی بھی شے کو لذت کے لئے تناول نہیں فرمایا بلکہ ان اشیاء کے فوائد اور صحت بخش ہونے کی وجہ سے انہیں استعمال فرمایا ۔ اس کورس میں ہم نبی مکرم ﷺ کی چند مرغوب غذاوں کے بارے میں جانے گے تاکہ صحت بخش ، اور اچھی زندگی گزارنے کے ساتھ ساتھ سنت رسولﷺ پر عمل کرنے کا ثواب بھی حاصل کرسکیں ۔ رسول کائنات ﷺ کی جن غذاوں کے بارے میں ہم اس کورس میں جانے گے ان کی تفصیل درج ذیل ہے : 1۔ دودھ 2۔ گوشت 3۔ مچھلی 4۔ شہد 5۔ زیتون 6۔ سبزی 7۔ پھل 8۔ ستو 9۔ سرکہ 10۔ ثرید

دودھ ؛ رسول اللہ ﷺ کی پسندیدہ غذا

دودھ انسان کی ایک بہترین خوراک ہے۔ اللہ پاک نے اسے غذائیت سے بھرپور رکھا ہے. اس کی اہمیت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب انسان پیدا ہوتا ہے، ابھی کمزور ہے، اس کے اعضاء میں قوت و مضبوطی نہیں ہے۔ اس کی جسمانی نشونما اور توانائی کے لئے اللہ پاک نے اس کی پہلی غذا ہی دودھ رکھی ہے اور پیدا ہونے والے بچے کو دو سال تک دودھ پلانے کا حکم قرآن کریم میں عطا فرمایا ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : *وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَیْنِ كَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَة* ترجمہ : اور مائیں دودھ پلائیں اپنے بچوں کو پورے دو برس اس کے لئے جو دودھ کی مدت پوری کرنی چاہے۔ (پارہ02، سورۃ البقرۃ ، آیت233) دو سال تک دودھ پلانا واجب نہیں ہے ، اگر بچے کے لئے نقصان دہ نہ ہو تو اس سے قبل بھی دودھ چھڑوایا جاسکتا ہے ۔ یہاں بتانا صرف یہی مقصد ہے کہ اللہ پاک نے انسان کی پہلی غذا دود ھ مقرر فرمائی ۔ دودھ اللہ پاک کی طرف سے ایک نعمت ہے۔ اللہ پاک نے قرآن کریم میں جنت کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے دودھ کا ذکر بھی فرمایا : ٭وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُه٭ ترجمہ : ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہ بدلا۔ (پارہ 26، سورہ محمد، آیت 15) ۔ اس سے پتا چلا اللہ پاک نے جنت میں دودھ کی نہربھی پیدا فرمائی ہے۔ اور جنت کی ہر شے ہی ایک نعمت ہے ۔ سرکار ﷺ کی بارگاہ میں معراج کی رات دودھ اور شراب سے بھرے برتن لائے گئے ، ان برتنوں میں سے نبی پاک ﷺ نے دودھ کو اختیار فرمایا ۔ اس بات کو خود نبی مکرم ﷺ نے بیان کیا ۔ *فَأُتِيتُ بِإِنَاءَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا لَبَنٌ، وَفِي الْآخَرِ خَمْرٌ، فَقِيلَ لِي: خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ، فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ، فَشَرِبْتُهُ، فَقَالَ: هُدِيتَ الْفِطْرَةَ - - أَمَّا إِنَّكَ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ* ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: معراج کی رات میرے پاس دو برتن لائے گئے، ایک میں دودھ تھا دوسرے میں شراب تھی۔ مجھ سے کہا گیا: ان میں سے جس برتن سے آپ چاہیں پی لیں! تو میں نے دودھ اختیار کیا، اسے پی لیا۔ مجھ سے کہا گیا کہ آپ نے فطرت کو پالیا ہے، اگر آپ شراب اختیار کرتے تو آپ کی اُمّت گمراہ ہو جاتی۔ (صحیح مسلم ، حدیث 168)

بارگاہ رسالت میں دودھ پیش کیا جاتا تو آپ اسے نوش فرماتے

نبی رحمت ﷺ کی بارگاہ میں جب دودھ پیش کیا جاتا تو آپ اسے قبول بھی کرتے اور دودھ نوش بھی فرماتے ۔ بخاری و مسلم کی روایت میں ہے : *عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ: أَنَّ نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صِيَامِ رَسُولِ اللّٰهِ -ﷺ-، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُوَ صَائِمٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بِصَائِمٍ،فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيْرِهِ بِعَرَفَةَ فَشَرِبَهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ*. ترجمہ : روایت ہے حضرت ام الفضل بنت حارث سے کہ کچھ لوگوں نے ان کے پاس عرفہ کے دن حضور ﷺ کے روزے کے متعلق گفتگو کی بعض نے کہا کہ حضور روزہ دار ہیں اور بعض نے کہا کہ حضور ﷺ روزہ دار نہیں تو ام الفضل نے ایک پیالہ دودھ حضور انور ﷺ کی خدمت میں بھیجا جب کہ آپ عرفات میں اپنے اونٹ پر قیام فرما تھے تو آپﷺ نے پی لیا ۔ مفتی احمدیار خان نعیمی علیہ الرحمہ نے اس حدیث کے تحت یہ فرمایا کہ : ام الفضل رضی اللہ عنہا نے سرکار ﷺ کی بارگاہ میں دودھ بھیجا کیونکہ وہ حضور ﷺ کو زیادہ مرغوب (پسند) تھا ۔ (مراٰ ۃ المناجیح ، جلد 03، حدیث 2042)

دودھ کا تحفہ دیا جائے تو منع نہیں کرنا چاہیے

جب دودھ تحفے میں دیا جائے تو اسے قبول کرلینا چاہیے۔ حدیث پاک ہے : *عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ: :ثَلَاثٌ لَا تُرَدُّ الْوَسَائِدُ وَالدُّهْنُ وَاللَّبَنُ* ترجمہ : روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : تین چیزیں یعنی تکیہ، تیل اور دودھ دیا جائے تو اسے واپس نہ لوٹایا جائے ۔ (مشکوۃ المصابیح ، حدیث 3029)

دودھ کا تحفہ دینے کا ثواب ایک غلام آزاد کرنے کے برابر

حدیث پاک میں ہے کہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ؛ *سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: مَنْ مَنَحَ مَنِیْحَةَ لَبَنٍ أَوْوَرِقٍ أَوْهَدَی زُقَاقًا کَانَ لَهُ مِثْلَ عِتْقِ رَقَبَةٍ* ترجمہ :" میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا جس شخص نے دودھ کا عطیہ دیا ، یا چاندی بطور قرض کے دی، یا کسی کو راستہ بتایا ، اسے غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا۔" ( جامع ترمذی:1957)

دودھ بہترین غذا ہے

دودھ کھانے اور پانی دونوں کی ضرورت کو پورا کرنے والی غذا ہے ۔ حدیث پاک میں ہے : *وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ: وَإِذَا سَقٰی لَبَنًا فَلْيَقُلْ: اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ فَإِنَّهٗ لَيْسَ شَيْءٌ يُجْزِئُ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ إِلَّا اللَّبَنُ *. ترجمہ : روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی دودھ پئے تو کہے الٰہی ہمیں اس میں برکت دے اور اس سےبھی زیادہ دے کہ دودھ کے سوا ایسی کوئی چیز نہیں جو کھانے اور پانی سے کفایت کرے۔ مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں : صرف دودھ ہی میں وہ نعمت ہے جو بھوک و پیاس دونوں کو دفع کرتا ہے لہذا یہ غذا بھی ہے اور پانی بھی ہے ۔ (مراٰۃ المناجیح ، حدیث 4283)

دودھ سب سے بہترین تحفہ ہے

*عَنْ اَبِی مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَال: قَالَ رَسُوۡلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَرْبَعُوۡنَ خَصْلَةً اَعْلَاهَا مَنِيۡحَةُ الْعَنْزِ، مَامِنْ عَامِلٍ يَعْمَلُ بِخَصْلَةٍ مِنْهَارَجَاءَ ثَوَابِهَا وَتَصْدِيۡقَ مَوْعُوۡدِهَا اِلَّا اَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهَا الْجَنَّةَ * ترجمہ : حضرت سیدنا ابو محمدعبد اللہ بن عَمرو بن عاص سے مروی ہےکہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا: ’’40 خصلتیں ہیں اور ان میں سے سب سے اعلیٰ یہ ہے کہ کسی کو عاریۃً دودھ والی بکری دینا، جو کوئی ان خصلتوں میں سے کسی خصلت پرثواب کی امید کرتے ہوئے اور جو اس پر وعدہ ہے اس کی تصدیق کرتے ہوئے عمل کرے گا اللہ پاک اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ ‘‘

دودھ کے سائنسی و طبی فوائد

وہ جانور جو حلال ہیں ان کا دودھ پینا جائز ہےجیسے : گائے ، بکری ، اونٹ ،بھینس وغیرہ دودھ بہت سے فوائد کا خزانہ ہے ، ان میں سے چند یہاں ذکر کئے جارہے ہیں ۔ اچھی نیند : اس کو نوش فرمانے سے اچھی نیند آتی ہے ۔ رات کو دودھ پینے سے انسان کی نیند خوشگوار ہوتی ہے اگر سردیاں ہو تو اسے پینے سے تھکاوٹ دور ہوتی ہے۔پہلے وقتوں میں لوگ چائے کا استعمال کرتے تھے جیسے جیسے ترقی ہوتی گئی لوگ کیفین کا استعمال کرنے لگے۔ اگر ہم چائے کے برعکس دودھ کا استعمال کرتے ہیں تو اس سے ہماری نیند بہتر ہوتی ہے۔اس کے استعمال کی وجہ سے صحت بھی اچھی رہتی ہے اور ذہنی سکون بھی حاصل ہوتا ہے۔ اس لئے رات کو سکون کی نیند حاصل کرنے کے لئے رات کو دودھ کا استعمال لازمی کرنا چاہیے۔ وزن میں کمی :وزن میں کمی ہوتی ہے۔ بہت سے افراد وزن میں کمی لانے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ وہ افراد جو اضافی وزن رکھتے ہیں ان کے لئے دودھ ایک اچھا انتخاب ہو سکتا ہے اس لئے آپ بھی رات کو سونے سے قبل اس کا استعمال لازمی کریں۔یہ پروٹین اور فائبر سے لبزیر ہوتا ہے۔جو ہمارے جسم کی غذائی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔وزن کم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ شوگر لیول کو مناسب رکھا جائے اس لئے دودھ میں موجود پروٹین شوگر لیول کو کنٹرول کرتی ہے۔اور وزن میں کمی لاتی ہے۔ ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں: اس میں اچھی مقدار میں وٹامن ڈی موجود ہوتا ہے جو جسم میں کیلشیم کو جذب کرنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ ہڈیوں کی مضبوطی کے لئے بہت ضروری ہے۔ مزید یہ کہ یہ آسٹیو پروسس کی بیماری میں بھی مددگار ہوتا ہے۔ ہم اس کے استعمال کی وجہ سے کئی بیماریوں کے نقصان سے بچ سکتے ہیں۔ اگر آپ کسی بھی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں تو جلد از جلد آپ کو ڈاکٹر سے ملنا چاہیے۔ دودھ میں پروٹین و وٹامین دودھ پروٹین و وٹامن کا بہترین خزانہ ہے جو وٹامن B12 ،وٹامنA ، وٹامنD ،کیلشیم ، میگنیشیم ، زنگ، جیسے بے شمار فوائد کا مرکب ہے ۔ماں کے دودھ کے بعدانسان کے لئے سب سے زیادہ نفع بخش دودھ بکری کا ہے اس کے بعد گائے اور اونٹ کا دودھ ہے۔ مزید : اس کے علاوہ دودھ کے مزید یہ فوائد بھی ہیں کہ جلد خوبصورت ہوتی ہے ، ذہن کا تناؤکم ہوتا ہے، جسم کو مستحکم توانائی حاصل ہوتی ہے،کولیسٹرول کی سطح میں کمی آتی ہے، رگوں اور پٹھوں کو مضبوطی حاصل ہوتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ کا گوشت استعمال فرمانا

رسول اللہ ﷺ کا گوشت استعمال فرمانا

اللہ کریم کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک نعمت " گوشت " بھی ہے ۔ اللہ پاک نے جن جانوروں کا گوشت حلال فرمایا اسے بھی بیان فرمادیا اور جن کا گوشت کھانے کی اجازت نہیں دی ، ان کا بھی تفصیلا بیان فرمادیا ۔ اللہ کریم نے چوپایوں کی تخلیق کا مقصد بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : *اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْكَبُوْا مِنْهَا وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْن* ترجمہ : اللہ ہے جس نے تمہارے لیے چوپائے بنائے کہ کسی پر سوار ہو اور کسی کا گوشت کھاؤ۔ (پارہ 24، سورہ مومن ، آیت 79) جنت میں بھی اللہ پاک جنتیوں کو ان کے پسند کا گوشت عطا فرمائے گا ، ارشاد فرمایا : *وَ اَمْدَدْنٰهُمْ بِفَاكِهَةٍ وَّ لَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَ* ترجمہ : اور ہم نے ان کی مدد فرمائی میوے اور گوشت سے جو چاہیں ۔ ( پارہ 27، سورۃ الطور ، آیت 22) جنت میں اہل جنت کو پرندوں کا گوشت بھی ان کی خواہش کے مطابق ملے گا ۔ ارشاد فرمایا : *وَ لَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَ* ترجمہ : اور پرندوں کا گوشت جو چاہیں ۔ ( پارہ 27، سورۃ الواقعہ ، آیت 21) مچھلی کے گوشت کا ذکر بھی قرآن کریم میں اللہ پاک نے فرمایا : ارشاد ہو ا: *وَ هُوَ الَّذِیْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِیًّا* ترجمہ : اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے دریا مسخر کیا کہ اس میں سے تازہ گوشت کھاتے ہو۔ ( پارہ 14، سورہ النحل ، آیت 14) نبی پاک ﷺ نے گوشت کو تمام کھانوں کا سردار کہا ہے ، حدیث پاک ہے : *عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَيِّدُ طَعَامِ أَهْلِ الدُّنْيَا، وَأَهْلِ الْجَنَّةِ اللَّحْمُ* ترجمہ : گوشت دنیا و آخرت والوں کے کھانوں کا سردار ہے۔ ( ابن ماجہ ، حدیث 3305) ہمارے معاشرے میں مختلف گوشت جو عام طور پر کھائے جاتے ہیں جیسے اونٹ کا گوشت ، گائے کا گوشت ، مرغی کا گوشت ، مچھلی کا گوشت وغیرہ ۔، نبی پاکﷺ سے جن جن کے گوشت کھانے کا ثبوت موجود ہے یہاں ہم ان روایت کا ذکر کررہے ہیں تاکہ انہیں ادائے رسول ﷺ کی نیت سے کھا نے کا ثواب بھی ہمیں حاصل ہو ۔

سرکار دو عالم ﷺ کا گوشت تناول فرمانا

نبی اکرم ﷺ سے اونٹ، بکری، مرغ ، بٹیر ، مچھلی ، خرگوش، اور گائے کا گوشت تناول فرمانا ثابت ہے لیکن آپ کو سب سے زیادہ بکری کی دستی کا گوشت پسند تھا۔ (ترمذی شمائل محمدیہ ، ص102 تا 112)

حضور ﷺ نے گائے کا گوشت تناول فرمایا :

سرکار اقدس ﷺ کی خدمت میں گائے کا گوشت پیش کیا گیا جیسا کہ مسلم شریف کی روایت ہے :*عَنْ عَائِشَةَ، وَأُتِيَ النَّبِيُّ ﷺ بِلَحْمِ بَقَرٍ فَقِيلَ: هَذَا مَا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ: «هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ»* ترجمہ : نبی اکرم ﷺ کو گائے کا گوشت پیش کیا گیا اور بتایا گیا کہ یہ بریرہ رضی اللہُ عنہا کو بطور صدقہ دیا گیا تھا تو آپ نے فرمایا:وہ اس کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔ ( صحیح مسلم ، حدیث 1075)

حضور ﷺ نے بکری کا گوشت تناول فرمایا

*عن أبي عبيد قال:طبخت للنبي ﷺ قدرا، وقد كان يعجبه الذراع فناولته الذراع ثم قال:ناولني الذراع فناولته ثم قال: ناولني الذراع فقلت: يا رسول الله وكم للشاة من ذراع؟ فقال: والذي نفسي بيده لو سكتّ لناولتني الذراع ما دعوت* ترجمہ :حضرت ابو عبیدہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی ِکریم ﷺ کے لیے ہنڈیا پکائی. آپ کو ران کا گوشت پسند تھا میں نے ران کا گوشت آپ کے آگے کیا. آپ نے فرمایا کہ ایک اور ران آگے کرو میں نے آپ کے آگے کر دی. آپ نے فرمایا :ایک اور ران آگے کرو! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ! بکری میں کتنی رانیں ہو تی ہے؟ آپ نے فرمایا : اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے! اگر تم خاموش رہتے تو میری طرف ایک کے بعد ایک ران بڑھاتے رہتے جب تک میں کہتا رہتا۔ (الشمائل الترمذی ، باب ماجاء فی ادام رسول اللہ ﷺ،حدیث 160)

حضور ﷺ نے مرغی کا گوشت تناول فرمایا

*عن زهدم الجرمي قال:كنا عند أبي موسى الأشعري فأتى بلحم دجاج فتنحى رجل من القوم، فقال: ما لك؟ فقال: إني رأيتها تأكل شيئا نتنا ، فحلفت أن لا آكلها، قال:ادن فإني رأيت رسول الله ﷺ يأكل لحم الدجاج*. ترجمہ:حضرت زہدم الجرمی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ہم حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے ، آپ کے پاس مرغی کا گوشت لایا گیا ، ہمارے ساتھ بیٹھا ایک شخص پیچھے ہٹ گیا (یعنی اس نے مرغی کے گوشت کو ناپسند کیا ) حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے کہا : تمہیں کیا ہوا ؟ اس شخص نے جوابا ً یہ کہا کہ میں نے مرغی کو دیکھا ہے کہ وہ گندگی کھاتی ہے ، بس میں نے قسم کھائی ہے کہ مرغی نہیں کھاوں گا ۔ حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا : کہ میرے پاس آؤ ؛ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مرغی کا گوشت تناول فرماتے ہوئے دیکھا ہے ۔ (الشمائل الترمذی ، باب ماجاء فی ادام رسول اللہ ﷺ،حدیث 146)

حضور ﷺ نے مچھلی کا گوشت تناول فرمایا :

* أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: غَزَوْنَا جَيْشَ الخَبَطِ، وَأُمِّرَ أَبُو عُبَيْدَةَ فَجُعْنَا جُوعًا شَدِيدًا، فَأَلْقَى البَحْرُ حُوتًا مَيِّتًا لَمْ نَرَ مِثْلَهُ، يُقَالُ لَهُ العَنْبَرُ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ،فَلَمَّا قَدِمْنَا المَدِينَةَ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: «كُلُوا، رِزْقًا أَخْرَجَهُ اللَّهُ، أَطْعِمُونَا إِنْ كَانَ مَعَكُمْ» فَأَتَاهُ بَعْضُهُمْ فَأَكَلَهُ* ترجمہ : حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی کہتے ہیں کہ میں جیش الخبط میں گیا تھا اور امیر لشکر ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ تھے ہمیں بہت سخت بھوک لگی تھی دریا نے مری ہوئی ایک مچھلی پھینکی کہ ویسی مچھلی ہم نے نہیں دیکھی اس کا نام عنبر ہے ہم نے آدھے مہینے تک اسے کھایا پھر جب ہم واپس آئے تو حضور ﷺ سے ذکر کیافرمایا :''کھاؤ اللہ نے تمہارے لیے رزق بھیجا ہے اور تمہارے پاس ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ'' ہم نے اس میں سے حضور ﷺ کے پاس بھیجا حضور ﷺ نے تناول فرمایا۔ ( صحیح بخاری ، حدیث 4360)

سرکار ﷺ کے لئے اونٹ کی کوہان اور کلیجی پکائی گئی

آپ ﷺ کا اونٹ کی کلیجی تناول فرمانا ثابت ہے۔ چنانچہ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: *وَإِذَا بِلَالٌ نَحَرَ نَاقَةً مِنَ الْإِبِلِ الَّذِي اسْتَنْقَذْتُ مِنَ الْقَوْمِ، وَإِذَا هُوَ يَشْوِي لِرَسُولِ اللهِ ﷺ مِنْ كَبِدِهَا وَسَنَامِهَا * حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اُن اونٹوں میں سے جو میں نے لٹیروں سے واپس لے لئے تھے ایک اونٹ کو ذبح کیا اور اس کی کلیجی اور کوہان کو رسول اللہ ﷺ کے لیے بھونا۔ (صحیح المسلم، کتاب الجھاد والسیر ، حدیث 1807)

حضور ﷺ نے اونٹ کا گوشت تناول فرمایا

نبی کریم ﷺ نے اونٹ اپنے ہاتھوں سے ذبح بھی فرمائے اور ان کا گوشت بھی تناول فرمایا ۔ حدیث پاک ہے : عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: * نَحَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ مِائَةَ بَدَنَةٍ، نَحَرَ بِيَدِهِ مِنْهَا سِتِّينَ، وَأَمَرَ بِبَقِيَّتِهَا، فَنُحِرَتْ، وَأَخَذَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بَضْعَةً فَجُمِعَتْ فِي قِدْرٍ، فَأَكَلَ مِنْهَا، وَحَسَا مِنْ مَرَقِهَا* ترجمہ :حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، آپ فرماتے ہیں کہ : رسول اللہ ﷺ نے حج کے موقع پر سو قربانی کے اونٹ ذبح کیے۔ ان میں سے ساٹھ اونٹ اپنے دست مبارک سے ذبح کیے، اور باقی کے لیے حکم دیا تو وہ ذبح کیے گئے۔ پھر آپ ﷺ نے ہر اونٹ سے ایک ٹکڑا لیا اور انہیں ایک دیگ میں جمع کیا، اس کے بعد آپ ﷺ نے اس گوشت میں سے کھایا اور اس کا شوربہ پیا۔ ( مسند امام احمد ، حدیث 2880)

حضور ﷺ نے خرگوش کا گوشت تناول فرمایا

*أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ، فَسَعَى القَوْمُ، فَلَغَبُوا، فَأَدْرَكْتُهَا، فَأَخَذْتُهَا، فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ، فَذَبَحَهَا وَبَعَثَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بِوَرِكِهَا أَوْ فَخِذَيْهَا - فَقَبِلَهُ قُلْتُ: وَأَكَلَ مِنْهُ؟ قَالَ: وَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ بَعْدُ: قَبِلَهُ* ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ہم مر ظہران (نامی جگہ ) سے گزرے وہاں ایک خرگوش دیکھا ۔لوگ ا سکے پیچھے بھاگ رہے تھے لیکن وہ خرگوش ان کے ہاتھ نہ آیا ۔میں نے اس کو پکڑ لیا اور اسکو لے کر ابو طلحہ رضی اللہُ عنہ کی خدمت میں گیا ۔ بس انہوں نے خرگوش کو ذبح کیا اور رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں خرگوش کی ایک ران یا دونوں رانیں بھجوائیں رسول اللہ ﷺ نے اسے قبول فرمایا ۔ میں نے ان سے پوچھا : کیا رسول اللہ ﷺ نے اسے تناول فرمایا ۔ انہوں نے جواب دیا : نبی پاک ﷺ نے اسے قبول فرمایا اور اس میں سے تناول بھی فرمایا۔ ( صحیح بخاری ، حدیث2572)

حضور ﷺ نے بٹیر (پرندہ) کا گوشت تناول فرمایا

*وَعَنْ سَفِينَةَ قَالَ: أَكَلْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ ﷺ لَحْمَ حُبَارَى*. ترجمہ : روایت ہے حضرت سفینہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بٹیر کا گوشت کھایا ۔ (سنن ابی داؤد ، حدیث 3797)

گوشت کے طبی و سائنسی فوائد

مرغی اور مچھلی کے گوشت کو (white meat) اور چار پاوں والے جانوروں کے گوشت کو (red meat) کہتے ہیں ۔ گوشت میں آئرن، پروٹین اور وٹامن بی کمپلیکس(Vitamin B Complex)وغیرہ مختلف اجزا شامل ہوتے ہیں جوجسمِ انسانی کے لئے مفید ہیں۔ جسمِ انسانی کے لئے گوشت ایک مکمل قوّت بخش غِذا کی حیثیت رکھتا ہے۔اس میں موجود پروٹین اور دوسرے اجزا سےہمارے جسم کو پروٹین، لحمیات، آئرن، وٹامنB وغیرہ حاصل ہوتے ہیں نیز وٹامن AاورB ہڈّیوں، دانتوں، آنکھوں، دماغ اور جِلد کے لئے بھی مفید ہیں۔ بکری کے گوشت کے فوائد : اس کا گوشت غذائیت سے بھرپور اور عمدہ خون پیدا کرنے والا ہے۔ گرم مزاج والے افراد کے لئے نیز بخار اور سِل(پھپڑوں کی بیماری ) کے ساتھ ساتھ مختلف امراض کے لئے مفید ہے۔ ہڈّی کے قریب والے گوشت میں رطوبت اور غذائیت زیادہ ہوتی ہے۔ گرمیوں میں اس کا استعمال بہتر ہے۔ اونٹ کے گوشت کے فوائد : اس کا گوشت ذائقے میں نمکین اور زیادہ ثقیل (یعنی دیر سے ہضم ہونے والا) ہوتا ہے۔ یہ بینائی، عِرْق النّساء، کولہے کے درد، کالا یرقان، پیشاب کی جلن، بواسیر وغیرہ کے لئے نفع بخش ہے۔ اونٹ کا گوشت کھانے سے پیٹ کے کیڑے مرجاتے ہیں۔ دنبے کے گوشت کے فوائد : اس کا گوشت نہایت قوّت دینے والا اور لذیذ ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا گوشت دیگر جانوروں کے گوشت کی نسبت دیر سے ہضم ہوتاہے۔ گائے کے گوشت کے فوائد : اس کا گوشت ہمارے ہاں کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ بعض لوگ اسے بکرے سے کم غذائیت کا حامل خیال کرتے ہیں، مگر طبّی لحاظ سے گائے کا گوشت بکرے کے گوشت کی نسبت جسم کو زیادہ حرارت اور طاقت بخشتا ہے، البتہ جو لوگ زیادہ محنت و مشقّت کے عادی نہ ہوں وہ گائے کا گوشت کم سے کم استعمال کریں۔ مچھلی کے گوشت کے فوائد: مچھلی بطور ِغذا استعمال کرنے والوں کی عمریں لمبی ہوتی ہیں۔ایک طِبّی تحقیق کے مطابق سردی سے ہونے والی کھانسی کا مچھلی سے بہتر کوئی علاج نہیں۔ مچھلی کے سَر کی یخنی جسے شوربا یا سُوپ (Soup)بھی کہتے ہیں،بینائی کی کمزوری اور دیگر کئی امراض کے لئے فائدہ مند ہے۔ باقاعِدگی سے یہ یخنی پینے سے آنکھوں کے چشمے اُتر سکتے ہیں۔ شوگر اور دل کے مریض کو کلیجی، گُردے اور مغز کا استعمال ہرگز نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ان میں کولیسٹرول کی مقدار عام گوشت کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ گوشت کے استعمال میں بہت سے فوائد ہیں مگر ضرورت سے زیادہ استعمال کی صورت میں فائدے کے بجائے نقصان بھی ہوسکتا ہے۔ گوشت استعمال کرنے کے بارے میں ماہرین کہتے ہیں کہ بالغ افراد کو یومیہ70 گرام جبکہ ہفتے میں500 گرام یعنی آدھا کلو گوشت کھانا چاہئے۔ ہفتے میں تین یا اس سے زائد بار گوشت کھانے والے افراد میں مختلف بیماریوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ نوٹ : طبی اور سائنسی فوائد مختلف ہیلتھ کی ویب سائٹس سے لئے گئے ہیں ۔ طبعیتیں اور مزاج انسانوں کے مختلف ہوتے ہیں ۔ اس لئے جب بھی کسی ایسی چیز کے استعمال کی طرف جائیں تو ابتداء اپنے ڈاکٹر یا طبیب سے رہنمائی ضرور لے لی جائے ۔

شہد سرکار ﷺ کی پسندیدہ غذا

شہد سرکار ﷺ کی پسندیدہ غذا

شہد ایک قدرتی غذا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی پسندیدہ غذاوں میں بھی شامل ہے ۔ شہد ، انسان کے لئے قدرت کا ایک خاص تحفہ ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس طرح بھی لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم میں شہد کا ذکر بھی کیا گیا اور اس سے حاصل ہونے والے فائدے کو بھی بیان کیا گیا ۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے : * یَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِیْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِؕ* ترجمہ : اس کے پیٹ سے ایک پینے کی رنگ برنگی چیز نکلتی ہے اس میں لوگوں کیلئے شفا ہے۔ نبی کریم ﷺ شہد کو پسند فرماتے تھے ، حدیث پاک میں ہے : * عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُعْجِبُهُ الحَلْوَاءُ وَالعَسَلُ* ترجمہ : عائشہ صدِّیقہ رضی اللہُ عنہا فرماتی ہیں:نبیِّ کریم ﷺ میٹھی چیز اور شہد پسند فرماتے تھے۔ (صحیح بخاری ، حدیث 5614)

رسول اللہ ﷺ کا شہد استعمال فرمانا

نبی مکرم ﷺ ام المومنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر شہد نوش فرمایا کرتے تھے ۔ حدیث پاک میں ہے : *عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَشْرَبُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَيَمْكُثُ عِنْدَهَا* ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہُ عنہا فرماتی ہیں:حضورِ اکرم ﷺ اُمُّ المؤمنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہُ عنہا کے یہاں شہد نوش فرماتے اور اُن کے یہاں کچھ دیر تشریف فرما رہتے تھے۔ (صحیح بخاری، حدیث 4912)

سرکار ﷺ شہد کھاتے بھی تھے اور کھلاتے بھی تھے

سرکار ﷺ شہد تقسیم بھی فرماتے تھے۔ سنن ابن ماجہ کی روایت ہے : *عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ ﷺ، عَسَلٌ، فَقَسَمَ بَيْنَنَا لُعْقَةً، لُعْقَةً، فَأَخَذْتُ لُعْقَتِي، ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَزْدَادُ أُخْرَى؟ قَالَ: «نَعَمْ* ترجمہ :حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہُ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبیِّ کریم ﷺ کی بارگاہ میں بطورِ ہدیہ شہد پیش کیا گیا تو آپ نے ہم میں ایک ایک لقمہ کے برابرشہد تقسیم فرمایا،تو میں نے اپنا حصہ لے لیا، پھر میں نے عرض کی:یارسول اللہﷺ! میں مزید لے لوں ؟آپ نے فرمایا : ہاں لے لو۔ (سنن ابن ماجہ ، حدیث 3451)

سرکار ﷺ نے پیٹ کی بیماری میں شہد کا مشورہ عطا فرمایا

رسول اللہ ﷺ نے بیمار کے لئے شہد کو بطورِ دوا بھی پینے کا حکم دیا ۔ بخاری شریف کی روایت ہے : *عَنْ أَبِي سَعِيدٍ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ: أَخِي يَشْتَكِي بَطْنَهُ، فَقَالَ: «اسْقِهِ عَسَلًا» ثُمَّ أَتَى الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: «اسْقِهِ عَسَلًا» ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ: «اسْقِهِ عَسَلًا» ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ: قَدْ فَعَلْتُ؟ فَقَالَ: «صَدَقَ اللَّهُ، وَكَذَبَ بَطْنُ أَخِيكَ، اسْقِهِ عَسَلًا» فَسَقَاهُ فَبَرَأَ * ترجمہ : حضرت ابو سعید خُدری رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبیِّ کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میرے بھائی کو پیٹ کی بیماری ہے، آپ نے فرمایا: اس کو شہد پلاؤ، پھر دوسری بار آیا تو آپ نے فرمایا: اس کو شہد پلاؤ، پھر (تیسری بار) آیا اور عرض کیا کہ میں نے پلایا (لیکن فائدہ نہیں ہوا) آپ نے فرمایا: اللہ سچا ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، اس کو شہد پلاؤ، چنانچہ اس نے پھر شہد پلایا تو وہ تندرست ہوگیا۔ (صحیح بخاری ، حدیث 5684)

شہد کے طبی وسائنسی فوائد

شہد کے فوائد کو ذکر کرتے ہوئے نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا : * عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: مَنْ لَعِقَ الْعَسَلَ ثَلَاثَ غَدَوَاتٍ، كُلَّ شَهْرٍ، لَمْ يُصِبْهُ عَظِيمٌ مِنَ الْبَلَاءِ* ترجمہ :حضرت ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ آقا کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ہر مہینے تین دن صبح کے وقت شہد چاٹ لیا کرے اس کو کوئی بڑی بلا نہ پہنچے گی۔ (سنن ابن ماجہ ، حدیث 3450)

جدید سائنسی تحقیق نے شہد کے مختلف طبی فوائد پر روشنی ڈالی ہے

شہد آواز کو صاف کرتا، بینائی کو تیز کرتا ہے اور بھوک کو بڑھاتا ہے *زخم کا مواد صاف کرکے تازہ گوشت پیدا کرتا ہے *جسم کا رنگ نکھارتا ہے۔ عقل زیادہ کرتا ہے۔* کھانسی اور جریان(مادہ منویہ کا غیر ارادی طور پر نکلتے رہنا ) کو ختم کرتا ہے ۔ چربی کو کم کرتا ہے۔ شہد کے استعمال سے کولیسٹرول لیول میں بہتری آتی ہے *ہائی بلڈ پریشر میں بہتری آتی ہے۔ شہد کے استعمال سے مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے ۔ اینٹی بیکٹیریل خصوصیات: شہد میں قدرتی طور پر اینٹی بیکٹیریل خصوصیات پائی جاتی ہیں، جو زخموں کے بھرنے اور بیکٹیریا سے لڑنے میں مدد دیتی ہیں۔ یہ خصوصیت اسلام کے تعلیمی پہلوؤں سے بھی ہم آہنگ ہے، جہاں شہد کو شفاء کا ذریعہ سمجھا گیا ہے۔ اینٹی آکسیڈنٹس: شہد میں اینٹی آکسیڈنٹس موجود ہیں جو جسم کے اندر موجود فری ریڈیکلز کو ختم کرنے میں مدد کرتے ہیں اور اس طرح جسم کو مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔

زیتون

قرآن میں زیتون کا ذکر

زیتون کا ذکر قرآن کریم میں بھی ہوا ہے اور رسول کریم ﷺ کی مبارک زبان سے بھی اس کا ذکر ہوا ہے ۔ زیتون کے ذکر کی خاصیت بھی یہ ہے کہ قرآن کریم میں بھی اس کو مبارک کہا گیا اور نبی پاک ﷺ نے بھی اسے مبارک فرمایا ۔ زیتون کا درخت انتہائی برکت والاہے کیونکہ اس میں بہت سارے فوائد ہیں ، جیسے اس کا روغن جس کو زَیت کہتے ہیں انتہائی صاف اور پاکیزہ روشنی دیتا ہے۔سر میں بھی لگایا جاتا ہے اور سالن کی جگہ روٹی سے بھی کھایا جاتا ہے۔ دنیا کے اور کسی تیل میں یہ وصف نہیں ۔ زیتون کے درخت کےپتے نہیں گرتے۔ یہ درخت نہ سرد ملک میں واقع ہے نہ گرم ملک میں بلکہ ان کے درمیان ملک شام ہے کہ نہ اُسے گرمی سے نقصان پہنچے نہ سردی سے اور وہ نہایت عمدہ و اعلیٰ ہے اور اس کے پھل انتہائی مُعْتَدِل ہیں ۔ (تفسیر صراط الجنان ، پارہ 18، سورہ نور زیرآیت 35) قرآن کریم میں زیتون کا ذکر کرتے ہوئے اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے :ٰ * یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍ* ترجمہ : جو زیتون کے برکت والے درخت سے روشن ہوتا ہے جو نہ مشرق والا ہے اور نہ مغرب والاہے۔ (پارہ18، سورہ نور، آیت 35) ایک اور مقام پر اللہ پاک نے زیتون کا ذکر بڑے پیارے انداز میں فرمایا : *وَ شَجَرَةً تَخْرُ جُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِیْنَ* ترجمہ : اور (ہم نے) درخت (پیدا کیا) جو طور سینا پہاڑ سے نکلتا ہے، تیل اور کھانے والوں کے لیے سالن لے کر اگتا ہے۔ (پارہ 18، سورہ مومنون ، آیت 20) اس آیت کے تحت تفسیر میں لکھا ہے : اللہ تعالیٰ نے زیتون کادرخت پیدا کیا جو طورِ سَینا نامی پہاڑسے نکلتا ہے، تیل اور کھانے والوں کے لیے سالن لے کر اگتا ہے۔ یہ اس میں عجیب صفت ہے کہ وہ تیل بھی ہے کہ تیل کے مَنافع اور فوائد اس سے حاصل کئے جاتے ہیں ، جلایا بھی جاتا ہے، دوا کے طریقے پر بھی کام میں لایا جاتا ہے اور سالن کا بھی کام دیتا ہے کہ تنہا اس سے روٹی کھائی جاسکتی ہے۔ (تفسیر صراط الجنان ) نبی مکرم ﷺ نے زیتون کے بارے میں ارشاد فرمایا :* كُلُوا الزَّيْتَ وَادَّهِنُوا بِهِ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ* ترجمہ :زیتون کھاؤ اور اس کا تیل استعمال کرو یہ مبارک درخت ہے" (جامع ترمذی ، حدیث 1851) زیتون میں بیماریوں سے شفاء بھی ہے ۔ حدیث پاک ہے : *وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَدَاوٰى مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ بِالْقُسْطِ الْبَحْرِيِّ وَالزَّيْتِ*. ترجمہ : روایت ہے حضرت زید ابن ارقم سے فرماتے ہیں ہم کو رسول الله ﷺ نے حکم دیا کہ ذات الجنب کا قسط بحری اور زیتون کے تیل سے علاج کریں۔ اس حدیث کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : اس طرح کہ زیتون کے تیل میں قسط بحری ملا کر درد کی جگہ لیپ کریں اور بیمار کو زیتون کا تیل کھلائیں اسی تیل کی مالش بھی کریں۔ حدیث شریف میں ہے کہ زیتون کا تیل کھاؤ اسے لگاؤ کہ یہ مبارک درخت سے ہے اور اس میں ستر بیماریوں کی شفاء ہے جن میں جذام بھی ہے،اس میں بواسیر کو بھی شفا ہے۔ (مراٰٰ ۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح ، حدیث 4535)

نبی پاک ﷺ کا زیتون استعمال فرمانا

زیتون کو روٹی کے ساتھ سرکار ﷺ نے کھایا اور کھلانے والے صحابی کو دعا بھی عطا فرمائی ، حدیث پاک میں ہے : *عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اَنَّ النَّبِيَّ ﷺ جَاءَ اِلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَجَاءَ بِخُبْزٍ وَزَيْتٍ فَاَكَلَ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: اَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ وَاَكَلَ طَعَامَكُمُ الْاَبرَارُ وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلاَئِكَةُ.* ترجمہ : حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہُ سے روایت ہے کہ حضورنبی کریم ﷺ حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے روٹی اور زیتون پیش کیا۔آپ ﷺ نے تناول کیا پھر ارشاد فرمایا:’’تمہارے پاس روزہ داروں نے افطار کیا ،تمہارا کھانا نیکوں نے کھایااور فرشتوں نے تمہارے لیے رحمت کی دعا کی۔ (فیضان ریاض الصالحین ، حدیث 1267)

زیتون کے طبی و سائنسی فوائد

سرکار دو عالم ﷺ نےزیتون کے بارے میں فرمایا کہ اس میں ستر بیماریوں سے شفاء ہے اور طب کے ماہرین ، زیتون کے ان فوائد کو بیان کررہے ہیں ۔ ان میں سے چند یہاں ذکر کئے جارہے ہیں ۔ 1۔ زیتون کا تیل بِغیر پکائے کھانازیادہ فائدہ مند ہوتا ہے اور یہ کولیسٹرول کو بھی کم کرتا ہے۔لہٰذا زیتون کا تیل کچّا استِعمال کیا جائے۔ کچّا کھانے میں کسی قسم کی بد مزگی نہیں ہوتی،کھانا کھاتے وقت اپنی رکابی میں چاول،سالن وغیرہ نکال کر چمچ سے زیتون کا تیل ڈال کر شوق سے تناوُل فرمایئے ۔ 2۔ روزانہ زَیت(یعنی زیتون کاتیل)سر میں ڈال کر گنج کی خوب مالش کرنے سےبند شُدہ مَسام کُھل جائیں گے اور بال اُگنے لگیں گے ۔ 3۔ زیتون کے تیل میں فیٹی ایسڈز، وٹامنز اور دیگر اجزاءشامل ہونے کی وجہ سے یہ صحت کے لیے بہت مفید ہے * 4۔ زیتون کا تیل موٹآپے کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے ۔ 5۔ خالی پیٹ زیتون کے تیل کا ایک چمچ پینا ان خلیات کو نقصان سے بچاتا ہے جو کینسر کا باعث بن سکتے ہیں ۔ 6۔ زیتون کا تیل آنتوں کے نظام کو ٹھیک کرکے قبض سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے ۔ 7۔ اس میں موجود فیٹی ایسڈز جسمانی دفاعی نظام کے افعال کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں مختلف موسمی امراض سے بچنا آسان ہوجاتا ہے ۔ 8۔ کولیسٹرول کی دو اقسام ہوتی ہیں، ایک ایل ڈی ایل (نقصان دہ) اور دوسری ایچ ڈی ایل (فائدہ مند)، امراض قلب سے بچنے کے لئے ایل ڈی ایل کی سطح کو کم رکھنا ضروری ہوتا ہے جبکہ دوسری کی سطح بڑھانا ہوتی ہے، اس کا ایک ذریعہ زیتون کے تیل کا استعمال ہے۔

سرکہ

"سرکہ " رسول اللہ ﷺ کی پسندیدہ غذا

سرکہ کو عربی زبان میں" الخَلُّ" کہتے ہیں ۔ اور انگلش میں اسے "vinegar" کہتے ہیں ۔ سرکے کو بھی نبی مکرم ﷺ کی پسندیدہ غذا ہونے کا شرف حاصل ہے ۔ سرکہ مشروب بھی ہے اور غذائیت سے بھی بھرپور ہے ۔ سرکہ بہت پرانی غذا ہے ۔ یہ انگور، گنے ، جامن ، سیب وغیرہ سے بنایا جاتا ہے ۔ اس کا استعمال بھی فوائد سے خالی نہیں ہے ۔ سرکے کو سرکار ﷺ نے بہترین سالن فرمایا ،حدیث پاک ہے : *عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «نِعْمَ الْأُدُمُ الْخَلُّ* ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا : سرکہ بہترین سالن ہے ۔ (صحیح مسلم ، حدیث 2051) جس گھر میں سرکہ ہو وہ گھر کبھی محتاج نہیں ہوگا ۔ *حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَعْدٍ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَلَى عَائِشَةَ، وَأَنَا عِنْدَهَا، فَقَالَ: «هَلْ مِنْ غَدَاءٍ؟» قَالَتْ: عِنْدَنَا خُبْزٌ، وَتَمْرٌ، وَخَلٌّ، فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ، اللَّهُمَّ بَارِكْ فِي الْخَلِّ، فَإِنَّهُ كَانَ إِدَامَ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي، وَلَمْ يَفْتَقِرْ بَيْتٌ فِيهِ خَلٌّ* ترجمہ :حضرت ام سعد رضی اللہُ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسولُ اللہ ﷺ اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہُ عنہا سے ملنے کے لئے تشریف لائے، میں وہیں تھی، آپ نے دوپہر کے کھانے کے بارے میں پوچھا۔ حضرت عائشہ نے عرض کی: ہمارے پاس روٹی، کھجور اور سرکہ ہے، آپ نے فرمایا: سرکہ کتنا اچھا ہے۔ اے اللہ! سرکے میں برکت عطا فرما! یہ مجھ سے پہلے نبیوں کا سالن ہے۔ پھر فرمایا: جس گھر میں سرکہ ہو وہ گھر کبھی محتاج نہیں ہوگا۔ (سنن ابن ماجہ ، حدیث 3318)

نبی پاک ﷺ کا سرکہ استعمال فرمانا

نبی مکرم ﷺ سرکے کو شوق کے ساتھ تناول فرماتے اور سرکار ﷺ کا یہ انداز آپ کی سادگی کو بھی ظاہر کرتا ہے ۔ حدیث پاک ہے : *عن جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: أَخَذَ رَسُولُ اللهِ ﷺ بِيَدِي ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى مَنْزِلِهِ، فَأَخْرَجَ إِلَيْهِ فِلَقًا مِنْ خُبْزٍ، فَقَالَ: «مَا مِنْ أُدُمٍ؟» فَقَالُوا: لَا إِلَّا شَيْءٌ مِنْ خَلٍّ، قَالَ: «فَإِنَّ الْخَلَّ نِعْمَ الْأُدُمُ» ، قَالَ جَابِرٌ: «فَمَا زِلْتُ أُحِبُّ الْخَلَّ مُنْذُ سَمِعْتُهَا مِنْ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ، وقَالَ طَلْحَةُ: مَا زِلْتُ أُحِبُّ الْخَلَّ مُنْذُ سَمِعْتُهَا مِنْ جَابِرٍ* ترجمہ :حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسولُ اللہ ﷺ میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے۔آپ کی بارگاہ میں روٹی پیش کی گئی۔ آپ نے سالن سے متعلق پوچھا تو عرض کی گئی کہ سرکے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ ارشاد فرمایا:سرکہ بہترین سالن ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سے میں نے حضورِ اکرم ﷺ کا سرکے سے متعلق یہ فرمان سنا اسی دن سے سرکہ مجھے بہت اچھا لگنے لگا۔ حدیث کے راوی حضرت طلحہ بن نافع رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں جب سے میں نے حضرت جابر کی یہ روایت سنی تب سے مجھے بھی سرکہ بہت پسند ہے۔ (صحیح مسلم ، حدیث 2052)

سرکہ کتنا ہی اچھا سالن ہے

مسلم شریف میں حدیث جابر ہی ہے جس میں یہ الفاظ بھی ہیں *فَدَعَا بِهِ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ بِهِ * ترجمہ: نبی پاک ﷺ نے سرکہ منگوایا اور اس میں سے کھانا شروع کیا (اور ساتھ یہ فرماتے رہے کہ سرکہ کتنا ہی اچھا سالن ہے ۔ (صحیح مسلم ، حدیث 2052) سیدتنا ام اہانی رضی اللہ عنہا کے گھر بھی سرکار ﷺ نے سرکہ تناول فرمایا : حدیث پاک ہے : *عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: «هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟» فَقُلْتُ: لَا، إِلَّا كِسَرٌ يَابِسَةٌ وَخَلٌّ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: «قَرِّبِيهِ، فَمَا أَقْفَرَ بَيْتٌ مِنْ أُدْمٍ فِيهِ خَلٌّ* ترجمہ : حضرت اُمِّ ہانی رضی اللہُ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے یہاں نبیِّ کریم ﷺ تشریف لائے تو کھانے کے متعلق پوچھا۔ میں نے عرض کی: سوکھی روٹی اور سرکے کے سوا کچھ نہیں۔ فرمایا: لے آؤ، وہ گھر سالن کا محتاج نہیں ہوتا جس میں سرکہ ہو۔ (صحیح مسلم ، حدیث 1841)

سرکے کے سائنسی و طبی فوائد

سرکہ کے کئی طبّی فوائد ہیں انہی فوائد کی وجہ سے ہزاروں سال سے اسے بطورِ دوا استعمال کیا جارہا ہے۔ سرکہ کے چند فوائد یہ ہیں: سرکہ معدے کی سوزش کو دور کرتا ہے۔ سرکہ پیاس بجھاتا ہے۔ جسم میں ورم کی پیدائش کو روکتا ہے۔ غذا کے ہضم کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔ خون کو صاف کرتا ہے اور پھوڑے پھنسیوں کو دور کرتا ہے۔ سرکہ کو گرم کرکے اس میں نمک ڈال کر پیا جائے تو یہ منہ کی گندگی کو دور کرتا ہے۔ گرم سرکہ کے غرارے دانت کے درد کو ٹھیک کرتے ہیں اور مسوڑھوں کو مضبوط کرتے ہیں۔ گرم سرکہ پینا معدہ کو تقویت دیتا ہے، جسمانی قوت میں اضافہ کرتا اور چہرہ کو جاذب بناتا ہے۔

ثرید

"ثرید" رسول اللہ ﷺ کا پسندیدہ کھانا

ثرید عربی زبان میں ایک مشہور اور روایتی کھانے کا نام ہے جو گوشت، شوربے، اور روٹی پر مشتمل ہوتا ہے۔ آسان الفاظ میں اس کھانے کو شوربے میں بھگوئی ہوئی روٹی (Meat Stew with Bread ) بھی کہہ سکتے ہیں ۔ اسے اسلامی تاریخ میں ایک خاص اہمیت حاصل ہے، اور یہ نبی کریم ﷺ کے پسندیدہ کھانوں میں بھی شامل ہے ۔ لذت اور فائدے سے لبریز ثرید ہزاروں سال سے لوگوں کی غذاؤں میں شامل ہے۔ مرقاۃ المفاتیح میں ہے : *وَأَوَّلُ مَنْ ثَرَدَ الثَّرِيدَ* ترجمہ : سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے ثرید تیار کیا تھا۔ (مرقاۃ المفایح ، باب الترجل، تحت الحدیث 4488) نبیِّ کریمﷺ کے پردادا ہاشم نام سے مشہور ہیں حالانکہ ان کا اصلی نام ”عمرو“ تھا، چونکہ ایک بار آپ نے روٹیوں کا چورا کرکے اونٹ کے گوشت کے شوربے میں ثرید بنا کر لوگوں کو خوب پیٹ بھر کر کھلایا تھا چنانچہ اس دن سے لوگ آپ کو”ہاشم“(روٹیوں کاچورا کرنے والا)کہنے لگے۔ سیرت النبویہ میں اس بات کو ذکر کیا گیا : *وأول من أطعم الثريد بمكة، وكان اسمه عمرا، وإنما سمي هاشم لذلك*،ترجمہ : مکہ میں حاجیوں کے لئے سب سے پہلےروٹیوں کے ٹکرے کرکے ثرید تیار کرنے والے کانام عمرو تھا اور انہیں اسی وجہ سے ہاشم کہا جانے لگا ۔ (السیرۃ النبویہ ، جلد01، صفحہ151) ثرید برکت والا کھانا ہے ۔ حدیث پاک میں ہے : *عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْبَرَكَةُ فِي ثَلَاثَةٍ: فِي الْجَمَاعَةِ، وَالثَّرِيدِ، وَالسُّحُورِ* ترجمہ :حضرت سلمان رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ نبیِّ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تین چیزوں میں برکت ہے، جماعت، ثرید اور سحری میں۔ (معجم کبیر للطبرانی ، حدیث 6127) سرکارﷺ ثرید کو بہت پسند فرماتے تھے ۔*عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ أَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّرِيدُ مِنَ الْخُبْزِ، وَالثَّرِيدُ مِنَ الحَيْسِ* ترجمہ :حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے ؛ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کا محبوب ترین کھانا روٹی کا ثرید تھا اور کھجور و مکھن کا ثرید تھا۔ ( سنن ابی داؤد ، حدیث 3783)

نبی پاک ﷺ کا ثرید استعمال فرمان

سرکار ﷺ کی بارگاہ میں ثرید بنا کر پیش کی گئی ۔ مواہب اللدنیہ میں ہے : *أن جابرًا ذبح شاة وطبخها، وثرد في جفنة، وأتى به رسول الله صلى الله عليه وسلم فأكل القوم، وكان صلى الله عليه وسلم يقول لهم: کلوا ولا تكسروا عظمًا"، ثم إنه عليه الصلاة والسلام جمع العظام ووضع يده عليها ثم تكلم بكلام فإذا بالشاة قد قامت تنفض أذنيها* ترجمہ :حضرت جابر رضی اللہُ عنہ نے ایک بکری ذبح کرکے اس کا گوشت پکایا اور روٹیوں کا چورہ کرکے ثرید بنایا اور اس کو بارگاہِ نبوت میں لے کر حاضر ہوئے۔ حضور ﷺ اور صحابَۂ کرام رضی اللہُ عنہم نے اس کو تناول فرمایا، حضور ﷺ فرمانے لگے کہ کھاؤ مگر ہڈی مت توڑنا، جب سب لوگ کھانے سے فارغ ہوگئے تو حضور رحمتِ عالم ﷺ نے تمام ہڈیوں کو ایک برتن میں جمع فرمایا اور ان ہڈیوں پر اپنا دستِ مبارک رکھ کر کچھ کلمات پڑھے تو یہ معجزہ ظاہر ہوا کہ وہ بکری (زندہ ہو کر) کان جھاڑتی ہوئی کھڑی ہو گئی۔( مواہب اللدنیہ ، جلد 07، صفحہ 66) ایک اور موقع پر سرکار ﷺ کی بارگاہ میں ثرید پیش کیا گیا ، اس موقع پر آپ ﷺ نے ثرید تناول فرمائی اور ساتھ ہی تربیت کا سلسلہ بھی فرمایا ، حدیث پاک ہے :*أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَفْنَةٍ كَثِيرَةِ الثَّرِيدِ وَالْوَدَكِ، فَأَقْبَلْنَا نَأْكُلُ مِنْهَا، فَخَبَطْتُ يَدِي فِي نَوَاحِيهَا، فَقَالَ: «يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ مَوْضِعٍ وَاحِدٍ، فَإِنَّهُ طَعَامٌ وَاحِدٌ» ثُمَّ أُتِينَا بِطَبَقٍ فِيهِ أَلْوَانٌ مِنَ الرُّطَبِ، فَجَالَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّبَقِ، وَقَالَ: «يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ حَيْثُ شِئْتَ، فَإِنَّهُ غَيْرُ لَوْنٍ وَاحِدٍ* ترجمہ :حضرت عکراش رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں: حضور اکرم ﷺکی بارگاہ میں ثرید اور چربی کا پیالہ لایا گیا تو ہم کھانے کے لئے آگے بڑھے، میں اس کے کناروں سے کھانے لگا تو نبیِّ کریم ﷺ نے فرمایا :اے عکراش ایک جگہ سے کھاؤ کیونکہ یہ ایک ہی کھانا ہے۔پھر ہمارے پاس ایک تھال لایا گیا جس میں مختلف قسم کے چھوہارے تھے تو میں اپنے سامنے سے کھانے لگا اور رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ تھال میں گھومنے لگا پھر آپ نے فرمایا: اے عکراش جہاں سے چاہو کھاؤ کیونکہ یہ ایک طرح کا نہیں ہے۔ (سنن ابن ماجہ ، حدیث 3274)

نبی پاکﷺ نے اصحاب صفہ کی دعوت فرمائی

حضرت واثِلہ بن اسقع رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ اَصحابِ صفہ نے ایک دفعہ بھوک کی شکایت کی اور مجھ سے کہنے لگے کہ آپ رسولُ اللہ ﷺ کی بارگاہ میں جائیے! اور ہمارے لئے کھانا طلب کیجئے، میں نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر عرض کی تو آپﷺ نے اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا سے کھانے کا پوچھا تو انہوں نے روٹی کے چند خشک ٹکرے پیش کئے۔ *فَأَفْرَغَ الْخُبْزَ فِي الصَّحْفَةِ ثُمَّ جَعَلَ يُصْلِحُ الثَّرِيدَ بِيَدَيْهِ، وَهُوَ يَرْبُو حَتَّى امْتَلَأَتِ الصَّحْفَةُ* ترجمہ : پھر آپ ﷺ نے ایک بڑا پیالہ منگوایا اور روٹی کے ٹکڑے اس میں ڈال کر دستِ مبارک سے ثرید بنانے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے پیالہ ثرید سے بھر گیا۔ پھر ارشاد فرمایا: اے واثِلہ! جاؤ اور 10اَصحاب کو لے آؤ چنانچہ، میں گیا اور دس لوگوں کو بلا لایا پھر اسی طرح مزید تین بار دس دس افراد آئے اور سب نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔جبکہ پیالہ جوں کا توں بھرا ہوا تھا۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: اے واثِلہ! اسے عائشہ کے پاس لے جاؤ۔ (معجم کبیر للطبرانی ، باب الواو ، حدیث 208)

ثرید کے طبی و سائنسی فوائد

جس طرح نبی پاکﷺ کی ہر مرغوب غذا کے کثیر طبی فوائد ہیں ، اسی طرح ثرید کے طبی فوائد بھی کئی زیادہ ہیں ۔ چند یہاں ذکر کئے جارہے ہیں ۔ یاد رہے ان فوائد کا ذکر کرنا محض اس لئے ہے کہ ان کھانوں کے فوائد پر بھی ہماری نظر ہوجائے ورنہ اصل مقصود تو ادائے مصطفی ہے کہ جس طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نبی رحمتﷺ کی اتباع کرتے ، سرکار ﷺ کے انداز اپناتے تھے ، اسی طرح ہم بھی اپنی عملی زندگی میں سرکار ﷺکے ان انداز کو اختیار کریں ۔اور یہ مطلوب شریعت بھی ہے ۔ آسانی سے ہضم ہو جاتا ہے۔ ثرید کے ٹکڑے پیٹ اور معدے کے لئے بہت مفید ہیں۔ جسم اور اعصاب کو قوت بخشتا ہے۔ کیونکہ ثرید میں روٹی اور گوشت جیسے اجزاء شامل ہوتے ہیں۔لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ثرید کھائیں اور اپنے معزز مہمانوں کا بھی ثرید سے اکرام کریں۔ سنت پر بھی عمل ہو جائے گا اور مذکورہ بالا فوائد بھی حاصل ہوں گے۔

ستو

"ستو" رسول اللہﷺ کی پسندیدہ غذا

"ستو" کو بھی سرکارﷺ کی پسندیدہ غذاوں میں شمار کیا گیا ہے ۔ستو بطور ِ غذا بھی استعمال ہوتا ہے اور بطور مشروب بھی اس کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس کا زیادہ استعمال ایشیائی ممالک میں ہوتا ہے اس کا ذائقہ مزید اچھا بنانے کے لئے اس میں چینی اور گڑ کا استعمال بھی کیا جاتاہے ۔ سَتّو میں وٹامن اے، سی، کیلشیم اور فولاد پایا جاتاہے، یوں یہ غذائیت سے بھرپور غذا ہے۔ میسر ہو تو گرمیوں میں اس کا ضرور استعمال کرنا چاہئے۔ ستو کے فائدے مند ہونے کا ذکر سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا ، ایک موقع پر آپ رضی اللہ عنہ نے ایک ایسی خاتون جس کے یہاں بچے کی ولادت ہوئی تھی اس کے لئے ستو منگوایا ، اور پینے کے لئے پیش کیا ساتھ ہی یہ بھی فرمایا : *اشربي هذا فإن هذا يقطع الوجع ويقبض الحشي ويعصم الأمعاء ويدر العروق - وفي لفظ: فإن هذا يشد أحشاءك ويسهل عليك الدم وينزل لك اللبن* ترجمہ : یہ پی لو، کیونکہ یہ درد کو ختم کرتا ہے، معدے کو قابو میں رکھتا ہے، آنتوں کو مضبوط کرتا ہے اور رگوں میں خون کے بہاؤ کو بہتر بناتا ہے۔" اور ایک روایت میں فرمایا: "یہ تمہارے پیٹ کو مضبوط کرے گا، تمہارے لیے خون کا بہاؤ آسان کرے گا اور تمہارے لیے دودھ اتارے گا۔ (کنزالعمال ، حدیث 35975)

ستو کے ذریعے مہمانی فرمائی

سرکار دو عالم ﷺ نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے ولیمے میں ستو کے ذریعے ضیافت (مہمانی ) فرمائی، حدیث پاک ہے : *عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَمَ عَلَى صَفِيَّةَ بِسَوِيقٍ وَتَمْرٍ.* ترجمہ : حضرت انس رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ نبیِّ کریم ﷺ نے اُمُّ المؤمنین حضرت صفیہ رضی اللہُ عنہا کا سَتّو اور چھواروں سے ولیمہ فرمایا۔ (مشکوۃ المصابیح ، حدیث 3220)

سرکار ﷺ نے ستو سے افطار فرمایا

نبی پاک ﷺ نے ایک موقع پر ستو سے افطار فرمایا : حدیث پاک میں ہے : *عَنْ اَبِیْ اِبْرَاھِیْم عَبْدِ اللَّهِ بْنِ اَبِي اَوْفٰى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ، فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ قَالَ لِبَعْضِ القَوْمِ: يَا فُلاَنُ! اِنْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَوْ اَمْسَيْتَ؟ قَالَ:اِنْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا، قَالَ: اِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا، قَالَ:اَنْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُمْ، فَشَرِبَ رَسُوْلُ اﷲ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: اِذَا رَاَيْتُمُ اللَّيْلَ قَدْ اَقْبَلَ مِنْ هٰهُنَا فَقَدْ اَفْطَرَ الصَّائِمُ.وَاَشَارَ بِيَدِهِ قِبَلَ المَشْرِقِ.* ترجمہ : حضرت عبد الله بن ابو اوفیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللهﷺ کے ساتھ تھے اور آپ علیہ السلام روزے سے تھے ، جب سورج غروب ہو گیا تو آپ علیہ السلام نے ایک شخص سے فرمایا: ”اے فلاں! اُٹھو اور ہمارے لئے ستّو گھولو۔“اُس نے عرض کی: يارسولَ الله ﷺ! شام ہونے دیجئے۔ آپ نے فرمایا: ” اتر کر ہمارے لئے ستّو گھولو۔“ اُس نے عرض کی: یارسول الله ﷺ! ابھی تو دن باقی ہے۔ آپ نے پھر فرمایا: ” اتر کر ہمارے لئے ستّو گھولو۔ “ پھر وہ اُترا اور ستّو گھولا۔ رسولِ اکرم ﷺ نے ستّو نوش فرمانے کے بعد فرمایا: ” جب دیکھو کہ رات اِدھر سے آگئی ہے تو روزہ افطار کر لو (یہ کہتے ہوئے) آپ نےمشرق کی جانب اشارہ فرمایا۔

سرکار ﷺ نے ستو کھایا

اس سے قبل سرکار ﷺ کے ستو پینے کا ذکر کیا گیا، روایت سے یہ بھی ثابت ہے کہ سرکارﷺنے ستو کو تناول فرمایا ، حدیث پاک ہے :*عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ النُّعْمَانِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالصَّهْبَاءِ، وَهِيَ أَدْنَى خَيْبَرَ، «فَصَلَّى العَصْرَ، ثُمَّ دَعَا بِالأَزْوَادِ، فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِالسَّوِيقِ، فَأَمَرَ بِهِ فَثُرِّيَ، فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلْنَا،* ترجمہ : حضرت سوید بن نعمان رضی اللہُ عنہ روایت کرتے ہیں کہ وہ خیبر کے سال نبیِّ کریم ﷺکے ساتھ تھے، جب خیبر سے قریب مقام صہباءمیں پہنچے تو نبیِّ کریم ﷺ نے نمازِعصر پڑھی اور کھانے کی چیزیں منگوائیں، تو صرف سَتّو لائے گئے۔ آپ نے سَتّو بھگو نے کا حکم دیا، پھر وہ سَتّو آپ نے بھی کھائے اور ہم نے بھی کھائے۔

ستو کے طبی اور سائنسی فوائد

ستو درد کو ختم کرتا ہے ، معدے کو قابو کرتا ، آنتوں کو مضبوط کرتا ہے جیسا کہ سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا ۔ سَتّو ذہن اور دماغ کو تر و تازگی بخشتا ہے*سَتّو گرمی کا اثر ختم کرنے کیلئے اکسیر ہے یہ تیزی سے جسم میں گوشت کی مقدار کو بڑھاتاہے اور جسمانی قوت میں اضافہ کرتا ہے۔ سَتّو میں پروٹین کافی مقدار میں پایا جاتا ہے جو جسمانی وزن کو کنٹرول کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے نہار منہ سَتّو کا شربت استعمال کرنے سے معدے کے مختلف مسائل سے نجات حاصل ہوتی ہے سَتّو میں فائبر بھی کافی مقدار میں پایا جاتا ہے جو قبض کو ختم کرنے میں مدد دیتا ہے، اس لیے سَتّو کو قبض کا بہترین علاج بھی سمجھا جاتا ہے۔ بلڈ پریشر کنٹرول: ستّو میں موجود پوٹاشیم بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتا ہے گرمی سے نجات: ستو میں موجود فائبر جسم کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ پسینہ بڑھاتا ہے، جس سے جسم کا درجہ حرارت کم ہوجاتا ہے۔

رسول کائنات ﷺ کا سبزیوں کا استعمال

رسول کائنات ﷺ کا سبزیوں کا استعمال ٍٍ

سبزی کا استعمال بھی نبی پاک ﷺ نے فرمایا بلکہ ایک خاص سبزی جس " کدو" کے نام سے ہم جانتے ہیں سرکار ﷺ اہتمام کے ساتھ اور بڑے شوق سے اس سبزی کو نوازا ہے ، یہ وہ سبزی ہے جسے نبی پاک ﷺ سے سالن سے تلاش کرکے تناول فرماتے تھے ۔ سیرت رسولﷺ نے سبزیوں کا ذکر ہمیں زیادہ ملا نہیں ہے البتہ کدو کا ذکر اور ککڑی کا ذکر ہوا ہے یہاں ہم انہی دو سبزیوں سے متعلق جانیں گے ۔

کدو (لوکی) سرکار کائنات ﷺ کی پسندیدہ غذا

اس مبارک سبزی کا ذکر اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں بھی فرمایا ، ارشاد باری تعالیٰ ہے :* اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍ* ترجمہ: اور ہم نے اس پر کدو کا پیڑ اگایا۔(پارہ 23، سورہ الصفت، آیت 146) اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں لکھا ہے کہ جس جگہ حضرت یونس علیہ الصّلوۃوالسّلام مچھلی کے پیٹ سے باہرتشریف لائے وہاں کوئی سایہ نہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر سایہ کرنے اور انہیں مکھیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے کدو کا پیڑ اگا دیا اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے روزانہ ایک بکری آتی اور اپنا تھن حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دہنِ مبارک میں دے کر آپ علیہ الصّلٰوۃ والسّلام کو صبح و شام دودھ پلا جاتی یہاں تک کہ جسم مبارک کی جلد شریف یعنی کھال مضبوط ہوئی اور اپنے مقام سے بال اگ آئے اور جسم میں توانائی آئی۔(صراط الجنان ) یاد رہے کہ کدو کی بیل ہوتی ہے جو زمین پر پھیلتی ہے مگر یہ آپ علیہ الصّلٰوۃوالسّلام کا معجزہ تھا کہ یہ کدو کا درخت قد والے درختوں کی طرح شاخ رکھتا تھا اور اس کے بڑے بڑے پتوں کے سائے میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آرام کرتے تھے۔

نبی پاﷺنے کدو (لوکی) تناول فرمایا

نبی پاک ﷺ کو کدّوشریف پسندتھا اور سالن میں سے کدّو کے قَتلے (Pieces) چُن چُن کر تناول فرماتے۔حدیث پاک ہے :* عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى مَوْلًى لَهُ خَيَّاطًا: «فَأُتِيَ بِدُبَّاءٍ، فَجَعَلَ يَأْكُلُهُ» ، فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّهُ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُهُ * ترجمہ :حضرتِ سیّدنا انس رضی اللہ تعالٰی عنہ کا بیان ہے کہ میں پیارے آقا ﷺ کے ہمراہ ایک دعوت میں گیا تو صاحبِ خانہ نے جَو کی روٹی اور کدّو گوشت کا سالن پیش کیا۔میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ چُن چُن کر کدّو تناول فرما رہے تھے لہٰذا اس دن سے میں بھی کدّوشوق سے کھانے لگا۔ (بخاری، حدیث 5433)

کدو کے طبی و سائنسی فوائد

طب کے ماہرین نے اس کے بہت سے طبی فوائد بھی بیان کئے ہیں ،یہاں ان میں سے 7طبی فوائد ملاحظہ ہوں ۔ (1)… لوکی میں موجود قدرتی وٹامن سی ، سوڈیم ، پوٹاشیم اور فولاد نہ صرف طاقت بخش ثابت ہوتا ہے بلکہ اس کا روزانہ استعمال پیٹ کے مختلف اَمراض کے خلاف مُؤثّر حفاظت بھی فراہم کرتا ہے۔ (2)… لوکی میں پائے جانے والے اَجزا کی تاثیر قدرتی طور پر ٹھنڈی ہوتی ہے جو گرمی کا اثر کم کرنے کے ساتھ ساتھ تھکن کا احساس بھی گھٹا دیتا ہے۔ (3)…لوکی کھانے سے خوب بھوک لگتی ہے اور کمزوری دور ہوتی ہے۔ (4)… قبض کے مریضوں کے لئے لوکی بہت فائدہ مند ہے ۔ (5)… کدو جگر کے درد کو دور کرنے میں مفید ہے۔ (6)… پیشاب کے امراض، معدے کے امراض اور یرقان کے مرض میں بہت فائدہ دیتا ہے۔ (7)… اس کے بیجوں کا تیل دردِ سر اور سر کے بالوں کیلئے بہت مفید ہے اور نیند لاتا ہے۔

سرکارﷺ کا ککڑی تناول فرمانا

نبی مکرم ﷺ نے کھجور اور ککڑی کوبھی ایک ساتھ کھایاہے : *عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالْقِثَّاءِ* ترجمہ : روایت ہے حضرت عبدالله ابن جعفر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله ﷺ کو ککڑی کے ساتھ کھجور کھاتے دیکھا۔ (مراٰ ۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح ، حدث4815)

ککڑی کے طبی فوائد

* ککڑی میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا: ککڑی میں پانی، کاربوہائیریٹ ، کیلشیم، پوٹاشیم، میگینیز، فاسفورس، آئرن، وٹامن اے، وٹامن بی وٹامن سی، وٹامن کے، سلیکون، گندھک، فائبر، کاربس، پروٹین، زنک رائبوفلوین اور دیگر مرکبات ہوتے ہیں جو انسانی صحت اور تندرستی کےلئے نہایت مفید ہیں * ککڑی میں پانی، پروٹین،معمولی مقدار میں چکنائی ،کیلشیم، فاسفورس، لوہا، آیوڈین، وٹامن سی اور اے پائے جاتے ہیں۔ ککڑی پیاس کو بجھاتی ہے۔ *صفرا کی حرارت اور سوزش کو دور کرتی ہے۔ *خون کی حدّت اور سوزش،جگر اور معدے کو تسکین دیتی ہے۔ *مثانے اور گردے کی پتھری کو توڑتی اور ریگ کو دور کرتی ہے۔تلخ ککڑی اس امر میں زیادہ نافع ہے۔ *بدن کو فربہ کرتی ہے۔دل و دماغ کو فرحت پہنچاتی ہے۔ یہاں کدو (لوکی) اور ککڑی کو سیرت النبیﷺ کی روشنی میں بیان کیا گیا ، ان سبزیوں کا استعمال ہمیں سنت کی نیت سے کرتے رہنا چاہیئے ، فوائد اپنی جگہ لیکن سنت رسولﷺ پر عمل کی نیت ہو عشق رسول ﷺ میں بھی اضافہ ہوگا اور ضمنا اس کے فوائد بھی حاصل ہوجائینگے ۔ اگلے مرحلے میں ہم نبی پاکﷺ کے پسندیدہ پھلوں (fruits) کے بارے میں جانیں گے ۔

رسول اللہ ﷺ کی غذاوں میں پھلوں کا استعمال

رسول اللہ ﷺ کی غذاوں میں پھلوں کا استعمال

حضور سرور کونین ﷺ نے مختلف پھلوں کو اپنی غذا کا حصہ بنایا ، نبی رحمت ﷺ نے جن پھلوں کو شرف طعام عطا فرمایا ، ہم یہاں ان پھلوں کا ذکر کر رہے ہیں ۔ تاکہ جب ہم یہ پھل کھائیں تو یاد مصطفی ﷺ کے ساتھ کھائیں اور یوں ہمارے پھلوں کی مٹھاس و ذائقے میں مزید اضافہ بھی ہوگا اور ساتھ ہی ادائے رسول ﷺ کی نیت سے اس پھل کا کھانا ہمارے لئے باعث ثواب بھی بن جائے گا ۔

انار(pomegranate)

انار(pomegranate) یہ وہ پھل ہے ، جسے نبی رحمت ﷺ نے تناول فرمایا ۔ اللہ پاک نے اس کا ذکر قرآن کریم میں بھی فرمایا اور یہ وہ پھل ہے جو جنت میں بھی اہل جنت کو عطا کیا جائے گا ،ہاں جنت کے پھلوں کا ذائقہ ، وہ دنیوی پھلوں کے مقابلے کئی گنا زیادہ ہی ہوگا ۔ اللہ کریم قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے : *فِیْهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخْلٌ وَّ رُمَّان* ترجمہ : ان میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں۔ (پارہ 27، سورہ رحمن، آیت 68) دنیوی انار میں جنتی انار کا دانہ ہے ، نبی پاکﷺ نے ارشاد فرمایا : *ما من رمانة من رمانكم إلا وهو يلقح بحبة من رمان الجنة*. ترجمہ : ایسا کوئی انار نہیں جس میں جنتی اناروں کا دانہ شامل نہ ہو ۔ (کنزالعمال ، حدیث 35324)

رسول ﷺ نے انارتناول فرمایا

نبی پاک ﷺ کے پاس حضرت جبرئیل انار اور انگور لے کر حاضر ہوئے، حدیث پاک میں ہے : عن جعفر بن محمد عن أبيه قال: مرض النبي -ﷺ, فأتاه جبريل بطبق فيه رمان وعنب فأكل منه النبي ﷺ* ترجمہ :حضرت جعفر بن محمد اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ نبیِّ کریم ﷺ بیمار ہوئے تو حضرت جبریل علیہ السّلام آپ ﷺ کی بارگاہ میں ایک پلیٹ لے کر حاضر ہوئے جس میں انار اور انگور رکھے ہوئے تھے، تو رسولِ کریم ﷺ نے اس میں سے تناول فرمایا۔ (شرح الزرقانی ، جلد 06، صفحہ 500)

انار کے فوائد

1۔ مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ، حضرت علیُّ المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:انار کے دانے اس کی جھلّی (جو دانوں پر لپٹی ہوتی ہے) کے ساتھ کھاؤ کیونکہ اس سے مِعدے کی صفائی ہوتی ہے۔ 2۔ انار بلڈ پریشر کنڑول کرتا ہے 3۔ یاد داشت کو اچھا کرتا ہے *ہڈیوں کو مضبوط کرتا ہے *پانی کی کمی کو دور کرتا ہے 4۔ ہاضمے کے نظام کو بہتر بناتا ہے *قوتِ مدافعت کو بڑھاتا ہے 5۔ بالوں کو گرنے سے روکتا ہےاور بالوں کی نشو نما میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ چمک اور خوبصورتی میں بھی اضافہ کرتا ہے 6۔ قوتِ بصارت کو تیز کرتا ہے *اس کا رس پیاس بجھاتا ہے اور حرارت کم کرتا ہے 7۔ خون کی کمی کو دور کرتا ہے *اکیس روز تک مسلسل استعمال کرنے سے چہرے کی زردی زائل ہوجاتی ہے *انار کے 8۔ اجزا جسم میں بہت جلدی مل جاتے ہیں اور جسم کے تمام اعضاء کو طاقت دیتے ہیں۔(ماہنامہ فیضان مدینہ ، نومبر 2023)

تربوز

تربوزموسمِ گرما کا نہایت مُفید پھل ہے، سرکار ﷺ تربوز اور کھجور کو ملا کر کھاتےتھے ۔ حدیث پاک میں ہے : *عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " يَأْكُلُ الْبِطِّيخَ بِالرُّطَبِ فَيَقُولُ: نَكْسِرُ حَرَّ هَذَا بِبَرْدِ هَذَا، وَبَرْدَ هَذَا بِحَرِّ هَذَا:* ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ تربوز کو کھجور کے ساتھ تناول فرماتے تھے اور یہ فرماتے تھے کہ ہم اس(کھجور)کی گرمی کو اس(تربوز)کی ٹھنڈک کے ساتھ اور اس (تربوز)کی ٹھنڈک کواس(کھجور)کی گرمی کے ساتھ توڑتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد، حدیث: 3836)

تربوز کے سائنسی اور طبی فوائد

1۔ اسکے اَجزا صحت کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ امراضِ قلب، آرتھرائیٹس، دَمے اور کئی اقسام کے کینسر کی روک تھام میں بڑے ہی مددگار ہوتے ہیں 2۔ مختلف تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ تربوز میں ”لائکو پین“ نامی جزئیات بھی پائی جاتی ہیں جو جسمِ انسانی میں کینسر کی چند اقسام کو پیدا ہونے سے روکنے میں مدد فراہم کرتی ہیں 3۔ یہ پھل اینٹی آکسیڈنٹ (Antioxidant) کے طور پر بھی کام آتا اور قوّتِ مُدافعَت بھی بڑھاتا ہے نیز اینٹی آکسیڈنٹ جُز جِلد کو سورج کی شعاعوں سے ہونے والے نقصان سے بھی بچاتا ہے ۔ 4۔ ڈی ہائیڈریشن (Dehydration) کے لئے مددگار ثابت ہوتا ہے۔ 5۔ اس میں شامل خصوصی اَجزا تیزابیت اور اسٹریس کو بھی ختم کرنے میں مدد دیتے ہیں 6۔ یہ پھل جِلد کی نَمِی اور تروتازگی کو برقرار رکھنے میں بھی مُعاوِن ہوتا ہے۔ 7۔ اس میں92فیصد پانی ہوتا ہے جوکہ انسانی جسم کو پانی کی کمی کا شِکار نہیں ہونے دیتا۔

کھجور

کھجور(Date)ایک طاقت بخش اور خوش ذائقہ غذا ہے جس کا استعمال دنیا بھر میں کیا جاتا ہے بالخُصوص رَمَضانُ المبارک میں اس کا استعمال مسلم مَمالک میں نمایاں طور پر سامنے آتاہے۔ افطار کے وقت شاید ہی کوئی ایسا دسترخوان ہو جہاں کھجور موجود نہ ہوتی ہو۔کھجور ہمارے پیارے آقا ﷺ کو بھی نہایت مَرغُوب اور پسند تھی۔ زمین پر سب سے پہلے حضرتِ آدم علیہ السَّلام کی بچی ہوئی مٹی سے کھجور کا درخت پیدا کیا گیا (تفسیر روح البیان،ج7ص393ملخصاً ) کھجور اپنی جسامت کے اعتبار سے ایک چھوٹا پھل ہے مگر اس کی تقریبا چار ہزار سے زائد اقسام بتائی جاتی ہیں۔ مسلمان جب عمرے کے لئے جاتے ہیں تو مدینہ منورہ کی یہ خاص سوغات کھجور ضرور خریدتے ہیں اوربالخصوص عجوہ کھجور کے نبی پاک ﷺ نے جو فضائل بیان فرمائے ، اس کی وجہ سے عجوہ کی طرف زیادہ رغبت بھی ہوتی ہے ۔ (رسائلِ طب، ص 322، 328 ملخصاً)

نبی پاک ﷺ کا کھجور تناول فرمانا

سرکار ﷺ نے کھجور کا حلوہ تناول فرمایا : *عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ: نَزَلَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ عَلٰى أَبِي فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ طَعَامًا وَوَطْبَةً فَأَكَلَ مِنْهَا ثُمَّ أُتِيَ بِتَمْرٍ فَكَانَ يَأْكُلُهٗ * ترجمہ : روایت ہے حضرت عبداللہ ابن بسر رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے والد کے پاس تشریف لائے تو ہم نے آپ کی خدمت میں کھانا اور کھجور کا حلوہ پیش کیا اس سے حضور ﷺ نے کچھ کھایا پھر چھوارے حاضر کیے گئے تو انہیں کھانے لگے ۔ (مراٰ ۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح ، حدیث 2427) نبی رحمت ﷺ نے کھجور و مکھن کا ثرید بھی کھایا ہے ، حدیث پاک میں ہے : *عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ أَحَبَّ الطَّعَامَ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ ﷺ الثَّرِيْدُ مِنَ الْخُبْزِ و الثَّرِيْدُ مِنَ الحَيْسِ.* ترجمہ : روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول الله ﷺ کو محبوب ترین کھانا روٹی کا ثرید تھا اور کھجور و مکھن کا ثرید تھا۔ (مراٰ ۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح ، حدیث4220) نبی مکرم ﷺ نے کھجور اور ککڑی کوبھی ایک ساتھ کھایاہے : *عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالْقِثَّاءِ* ترجمہ : روایت ہے حضرت عبدالله ابن جعفر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله ﷺ کو ککڑی کے ساتھ کھجور کھاتے دیکھا۔ (مراٰ ۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح ، حدث4815)

کھجور کے طبی و سائنسی فوائد

روایات و طبی ماہرین کے بیان کئے طبی فوائد یہاں ذکر کئے جارہے ہیں ۔ کھجور کا نہار منہ استعمال جادو اور زہر سے شفاء کے لئے مفید ہے ، جامع صغیر کی روایت ہے : *في عجوة العالية أول البكرة على ريق النفس شفاء من كل سحر أو سم* ترجمہ : عالیہ کی عجوہ کھجوروں میں صبح کے وقت نہار منہ کھانے سے ہر جادو اور زہر کے لیے شفا ہے ۔ (جامع صغیر ،حدیث 4262) * عجوہ کھجور میں ہر زہر سے شفاء ہے ۔ پیارے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا : *عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «العَجْوَةُ مِنَ الجَنَّةِ وَفِيهَا شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ*، ترجمہ : حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : عجوہ کھجور جنّت سے ہے،اس میں زہر سے شِفا ہے۔ (جامع ترمذی ، حدیث 2066) امام ذَہبی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے ہیں: حاملہ کو کھجوریں کھلانے سے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ لڑکا پیدا ہوگا جو کہ خوبصورت، بُردبار اور نرم مِزاج ہوگا۔(مدنی پنج سورہ، ص356) کھجور کے ساتھ کھیرا یا ککڑی ملا کر کھانے سے جسمانی کمزوری اور دُبلاپَن دور ہوتا ہے ۔ کھجور کو دودھ میں اُبال کر کھانا بہترین مُقَوِّی (یعنی طاقت دینے والی) غذا ہے۔ پیلا یرقان (یعنی پیلیا) کیلئے بہترین دَوا ہے ۔ رات کو کھجور بھگو کر صبح اس کے پانی کا استعمال دل کے دورے (Heart attack) و دیگر امراضِ قلب کا انتہائی کامیاب اور سَستا علاج ہے ۔ پرانی کھجوریں کھاتے وقت کھول کر اندر سے دیکھ لیجئے کیونکہ اس میں بعض اوقات سُرسُریاں(چھوٹے چھوٹے لال کیڑے)ہوتی ہیں۔

انگور

ثابت ہے چنانچِہ حضرتِ ابنِ عبّاس رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں: میں حضورِ اکرمﷺ کی زیارت کے لئے گیا تو دیکھا کہ آپ انگور تناول فرمارہے تھے۔ (معجم کبیر،ج12،ص115،حدیث:12727) ابتداء میں نبی کریم ﷺ کے انار کا ذکر کیا گیا تھا ، وہی امام زرقانی کی بیان کی گئی روایت میں بھی نبی کریم ﷺ کے انگور تناول فرمانے ذکر ہوا کہ بیماری کی حالت میں حضرت جبرئیل سرکار ﷺ کے پاس انگور اور انار ایک پلیٹ میں لے کر حاضر ہوئے اور اس میں سے نبی پاک ﷺ نے کھجور اور انار کو تناول فرمایا ۔ (شرح الزرقانی ، جلد 06، صفحہ 500)

انگور کے طبی فوائد

نظام ہاضمہ : انگور میں فائبر ہوتا ہے جو نظام ہاضمہ میں مدد کرتا ہے۔ انگور میں پایا جانے والا فائبر زیادہ تر ناقابل تحلیل ہوتا ہے کیونکہ یہ پیٹ کو صحت مند رکھنے کے لیے آپ کی آنتوں میں منتقل ہوجاتا ہے۔ انگور کا رس ایک اہم جزو ہے، جو صحت مند ہاضمے میں مدد کرتا ہے۔ پٹھوں مین مضبوطی : انگور آپ کے پٹھوں کی طاقت اور صلاحیت کو بہتر بناسکتے ہیں۔ جارجیا یونیورسٹی میں چوہوں پر کئے گئے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ انگورکے چھلکوں میں پائے جانے والے مرکبات (کیٹیچنز، کوئیرسیٹن اور ریسوریٹرول) نے چوہوں میں تھکن، فٹنس اورپٹھوں کے افعال کو بہتر کرنے میں مدد کی۔ اگرچہ انسانوں پر اس قسم کی تحقیق نہیں کی گئی، تاہم انگوروں سے جو توانائی ملتی ہے، اس سے آپ خود کو بہتر محسوس کرتے ہیں۔ سانس لینے میں آسانی: مطالعوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ آپ پھل اور سبزیاں جتنی کم کھائیں گے، اتناہی آپ کو استھما یا سانس کی بیماریوں کا مسئلہ درپیش آسکتا ہے۔ انگور کھانے سے دمہ کی تکلیف کم ہوسکتی ہے۔ جریدے، نیوٹرینٹ میں شائع ہونے والے نتائج سے پتہ چلا ہے کہ پھل اور سبزیاں دمہ کی روک تھام اور علاج دونوں میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

خربوزہ

خربوزہ مَوسِمِ گرما کا ایک لذیذ اور مُفید پھل ہے۔ کدّو شریف کی طرح اس کی اَفزائش بھی زمین پر بَیل کی صورت میں ہوتی ہے۔ سرکار ﷺ کو تازہ پھلوں میں خربوزہ اور انگور زیادہ پسند تھے۔ آپ ﷺ خربوزہ روٹی،شَکر اور بسا اوقات کھجورکے ساتھ تناوُل فرماتے تھے۔ (فیضانِ سنت،ص305،ملخصاً) ۔

خربوزے کے طبی فوائد

1۔ خربوزہ پیاس کی شدّت کوکم کرتا 2۔ قبض اور معدہ کی خشکی کو دُور کرتا 3۔ اور دِل ودماغ کوتَقْوِیَت دیتا ہے 4۔ خربوزہ سر کی خُشکی (Dandruff)اور خارش کو بھی دُور بھگاتا 5۔ مثانے کی پتھری سے نجات دِلاتا ہے۔ (گھریلو علاج،ص96) 6۔حامِلہ عورت اگر بکثرت خربوزہ کھائے تو اولادحسین اور صحّت مند پیدا ہو گی۔

ذکر کئے گئے چند پھلوں کا ذکر احادیث طیبہ صراحت کے ساتھ موجود ہے ، اس کا بیان مکمل ہوا ۔ اور حضور ﷺ کی غذا سے متعلق ہمارے اس کورس کی تکمیل بھی ہوئی ۔ اللہ کریم ہمیں پیارے مصطفٰیﷺ کی ان غذاوں سےاستفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ساتھ ہی صحت کو نقصان پہنچانے والی اشیاء سے ہمیں بچنے کی توفیق بھی نصیب ہوجائے ، (آمین )