رحمت عالم ﷺ  کے مبارک سفر
لائیوغیر فعال

رحمت عالم ﷺ کے مبارک سفر

نبی کریم ﷺ کی سیرت مبارکہ کا ہر پہلو ہی انتہائی حسین اور دلکش ہے ۔ اب ہم اپنے کورس کے اس مرحلے میں سرکار ﷺ کی حیات مبارکہ کے بڑے ہی اہم موضوع پر کلام کرنے جارہے ہیں ۔ ہمیں گھومنے کا ، سیر و تفریح کا بڑا شوق ہوتا ہے ، ایک جگہ دیکھ لی اب دوسری جگہ جانے کی خواہش لیکن مقصد ہمارا عمومی طور پر نظارے کرنا، آب وہوا کی تبدیلی ، ذہنی تھکاوٹ کی دوری ہوا کرتی ہے ۔ آئیں جس ذات کے لئے کائنات کی تخلیق ہوئی ، جو مقصود کائنات ہیں ان کے سفر کیسے ہوا کرتے تھے اس بارے میں جانتے ہیں ۔

159

انرولمنٹس

33

مکمل

4.3

ریٹنگ

اقسام

کورس کا تعارف

کورس کا تعارف

نبی کریم ﷺ کی سیرت مبارکہ کا ہر پہلو ہی انتہائی حسین اور دلکش ہے ۔ اب ہم اپنے کورس کے اس مرحلے میں سرکار ﷺ کی حیات مبارکہ کے بڑے ہی اہم موضوع پر کلام کرنے جارہے ہیں ۔ ہمیں گھومنے کا ، سیر و تفریح کا بڑا شوق ہوتا ہے ، ایک جگہ دیکھ لی اب دوسری جگہ جانے کی خواہش لیکن مقصد ہمارا عمومی طور پر نظارے کرنا، آب وہوا کی تبدیلی ، ذہنی تھکاوٹ کی دوری ہوا کرتا ہے ۔ آئیں جس ذات کے لئے کائنات کی تخلیق ہوئی ، جو مقصود کائنات ہیں ان کے سفر کیسے ہوا کرتے تھے اس بارے میں جانتے ہیں ۔

نبی پاک ﷺ کے سفر کں تقسیم

نبی پاک ﷺ کے سفر کو ہم ابتدائی طور پر دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں : (1)اعلان نبوت سے پہلے کے سفر (2)اعلان نبوت کے بعد کے سفر اس کے بعد اعلان نبوت کے سفر کو بھی ہم دوحصوں میں بیان کرینگے: (1)اعلان نبوت کے بعد مکی زندگی کے سفر (2) اعلان نبوت کےبعد مدنی زندگی کے سفر اعلان نبوت کے بعد مدنی زندگی کے سفر بھی دو حصوں میں تقسیم ہیں: (1)غزوات کے سفر (2)سفر حج و عمرہ

کورس کا مقصد

اس ترتیب کے ساتھ ہم نبی پاک ﷺ کے اسفار سے متعلق جانیں گے ۔ اس موضوع کو پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت اس لئے بھی ہے کہ آج کے دور میں ہمارے سفر غیرضروری ، سیروتفریح، اور لغویات پر مشتمل ہوتے ہیں اور اگر کوئی سفر بامقصد بھی ہو تو اس سفر میں بھی ہماری توجہ مقصد سے زیادہ بے مقصد کاموں کی طرف ہوجاتی ہے ۔ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ حج و عمرہ کا سفر ہے لیکن اس سفر میں نہ جانے کیا کیا غیر ضروری کام شامل کرلئے گئے ہیں کہ ان مبارک جگہوں پر جانے اور وہاں ہونے کے باوجود ہم مقصد کو ایک رسم کی حیثیت دیتے ہیں اور باقی کاموں کو لاشعوری میں ترجیح و فوقیت دے دیتے ہیں ۔ سیرت رسولﷺ کے سفر مبارک کو جاننے کا لطف اپنی جگہ ہے ، اس سے جو ہمیں حاصل کرنا ہے وہ یہ ہے کہ اپنے کاموں کو بامقصد بنانے کے ساتھ ساتھ اُس مقصد کو پورا کرنے کی طرف ہماری توجہ ہوجائے۔

پہلا سفر : ولادت گاہ سے کعبہ مشرفہ کی جانب

سفر سے عموما مراد اپنی قیام گاہ سے کسی دوسرے مقام جو دوری پر ہو، مراد لی جاتی ہے ۔ حضور ﷺ کے اس پہلے سفر سے ہماری مراد یہ نہیں ہے۔ جب پیارے آقا ﷺ کی ولادت ہوئی تو آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب رضی اللہ تعالٰی عنہ کعبے کے طواف میں مصروف تھے ، آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اطلاع دی گئی تو آپ خوش خوش حرم کعبہ سے اپنے گھر آئے اپنے پوتے کو کلیجے سے لگا لیا۔ پھر کعبہ میں لے جا کر خیروبرکت کی دعا مانگی اور *محمد* نام رکھا۔ (ملخص سیرت رسول از علامہ عبدالمصطفی اعظمی ) یہ پیارے آقا ﷺ کا ولادت کے بعد اپنی جائے ولادت سے اپنے دادا جان کے ساتھ کعبہ مشرفہ کی جانب پہلا سفر ہے ۔ اس سے ہمیں یہ بھی پتا چلا کہ عرب کا انداز تھا جب ان کے یہاں ولادت ہوتی تو اپنے بچوں کو مبارک جگہوں پر لایا کرتے تھے۔ (فی مانہ بھی شرعی حدود و قیود کا خیال کرتے ہوئے مبارک مقام پر بچوں کو لے کر جانا چاہیئے ، تاکہ بچوں کو مبارک مقامات کی برکتیں حاصل ہو۔

دوسرا سفر: حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے ساتھ

عرب کے رہنے والوں کی یہ عادت تھی کہ وہ اپنے بچوں کو دودھ پلانے کے لئے قریب کے دیہاتوں میں بھیج دیتے تھے دیہات کی صاف ستھری آب وہوامیں بچوں کی تندرستی اور جسمانی صحت بھی اچھی ہو جاتی تھی اور وہ خالص اور فصیح عربی زبان بھی سیکھ جاتے تھے کیونکہ شہر کی زبان باہر کے آدمیوں کے میل جول سے خالص اور فصیح و بلیغ زبان نہیں رہا کرتی۔ جب دیہات کی کچھ خواتین شہر میں بچوں کو لے جانے کے لئے آئی ، انہی میں حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا بھی تھی، نبی پاک ﷺ کے والد محترم کا وصال ہوچکا تھا (ایسے بچے کو یتیم کہا جاتا ہے ) جو دودھ پلانے والی دائیاں تھیں وہ یہ سوچ کر کے آپ ﷺ یتیم ہیں ، تو انہیں اپنے ساتھ نہ لے جاتیں (سچ تو یہ ہے کہ ان کا مقدر نہیں تھا ، یہ سعادت تو کسی اور کا مقدر تھی )۔ جب حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سرکار دو عالمﷺ کے مکان عالیشان پر حاضر ہوئی ، تو بغیر کسی انعام و اکرام کی خواہش کے سرکار ﷺ کو لے جانے کے لئے راضی ہوگئیں ۔ (انہیں کیا پتا تھا ، دونوں جہاں کے انعامات اس دریتیم کو گود میں لینے سے انکے ہوجائینگے ). اب نبی پاک ﷺ کا یہ دوسرا سفر شروع ہوا اور دو سال تک حضرت حلیمہ سعدیہ ، اور ان کے گھر والے سرکار ﷺ کی برکتیں حاصل کرتے رہے ۔ پھر دو سال کے بعد واپسی کا جب وقت آیا ، حضرت حلیمہ سعدیہ کی خواہش تھی کہ سرکار ﷺان کے پاس ہی رہیں ، لیکن وعدے کے مطابق واپس لوٹانا تھا ۔ خیر آپ لے کر چلی اورجب مکہ آئیں تو پتا چلا مکہ میں وبائی بیماری پھیلی ہوئی ہے ، لہذا حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے حضرت آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو راضی کرلیا کہ یہ مزید میرے پاس رہیں ، بی بی آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا راضی ہوگئیں اور اس طرح نبی پاک ﷺ نے حضرت حلیمہ سعدیہ کے پاس اپنی عمر مبارک کے چار سال گزارے۔

تیسرا سفر : حضرت آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے ساتھ اپنے ننھیال کی جانب

حضوراقدس ﷺ کی عمر شریف جب چھ سال کی ہو گئی تو آپ کی والدہ ماجدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ ﷺ کو ساتھ لے کر مدینہ منورہ میں آئیں تاکہ حضور ﷺ کو اپنے ننھیال کے رشتے داروں سے ملاقات کروائیں اور ایک مقصد اس سفر کا مؤرخین نے یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا یہ بھی ارادہ تھا کہ آپ ﷺ کو ان کے والد کی قبر کی زیارت بھی کروائیں ۔ اس سفر میں آپ کے ساتھ حضرت ام ایمن رضی اللہ تعالٰی عنہا بھی تھیں ۔ نبی پاک ﷺ؛ مدینہ منورہ (جسے یثرب کہا جاتا تھا ) میں کچھ عرصہ رہے اور آپ کی والدہ پھر آپ کو واپس مکہ کی جانب لارہی تھیں کہ مقام ابواء پر آپ ﷺ کی والدہ کا انتقال ہوگیا ۔

چوتھا سفر : دس سال کی عمر میں چچا زبیر کے ساتھ یمن کی جانب

جب آپ ﷺ کی عمرمبارک دس (10)سال کی تھی تو آپ اپنے چچا زُبیر کے ساتھ یمن کی طرف سفر فرمایا ، یہاں راستے میں ایک عجیب واقعہ ہوا کہ کسی وادی میں ایک اُونٹ لوگوں کو گزرنے سے روک رہا تھا ، جب اس اُونٹ نے آپ ﷺ کو دیکھا تو بیٹھ گیا اور اپنا سِینہ زمِین پر رَگڑنے لگا تو آپ ﷺ اپنے اُونٹ سے اُتر کر اس پر سوار ہوئے اور جب وادی کے دوسری طرف پہنچ گئے تو اس اونٹ کو چھوڑ دیا۔ جب سفر سے لوٹے تو دیکھا کہ وادی پانی سے بھری ہوئی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : تم میرے پیچھے آجاؤ ، آپ ﷺ اس وادی میں تشریف لے گئے اور سب قُرَیْش آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے چلنے لگے ، اللہ پاک نے پانی خشک فرمادیا۔ جب لوگ مکہ واپس آئے تو سب کو یہ واقعہ سُنایا ، جسے سُن کر انہوں نےکہا اس بچہ کی شان نرالی ہے۔ (آخری نبی کی پیاری سیرت )

پانچواں سفر : بارہ سال کی عمر میں چچا ابوطالب کے ساتھ شام کی جانب پہلا سفر

جب حضور ﷺ کی عمر شریف بارہ برس کی ہوئی تو اس وقت ابوطالب نے تجارت کی غرض سے ملک شام کا سفر کیا۔ ابوطالب کو چونکہ حضور ﷺ سے بہت ہی والہانہ محبت تھی اس ليے وہ آپ کو بھی اس سفر میں اپنے ہمراہ لے گئے۔ حضور اقدس ﷺ نے اعلان نبوت سے قبل تین بار تجارتی سفر فرمایا۔ دو مرتبہ ملک شام گئے اور ایک بار یمن تشریف لے گئے،یہ ملک شام کا پہلا سفر ہے اس سفر کے دوران '' بُصریٰ '' میں '' بُحیریٰ ''راہب (عیسائی سادھو) کے پاس آپ کا قیام ہوا۔اس نے توراۃ وانجیل میں بیان کی ہوئی نبی آخر الزماں کی نشانیوں سے آپ ﷺ کو دیکھتے ہی پہچان لیااور بہت عقیدت اور احترام کے ساتھ اس نے آپ کے قافلہ والوں کی دعوت کی اور ابو طالب سے کہا کہ یہ سارے جہان کے سردار اور رب العالمین کے رسول ہیں، جن کو خدا عزوجل نے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ شجر و حجر(درخت و پتھر )ان کو سجدہ کرتے ہیں اور ابر(بادل )ان پر سایہ کرتا ہے اور ان کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت ہے۔ اس لئے تمہارے اور ان کے حق میں یہی بہتر ہوگا کہ اب تم ان کو لے کر آگے نہ جاؤاور اپنا مال تجارت یہیں فروخت کرکے بہت جلد مکہ چلے جاؤ ۔کیونکہ ملک شام میں یہودی لوگ ان کے بہت بڑے دشمن ہیں۔ وہاں پہنچتے ہی وہ لوگ ان کو شہید کر ڈالیں گے۔بحیرٰی راہب کے کہنے پر ابو طالب کو خطرہ محسوس ہونے لگا۔ چنانچہ انہوں نے وہیں اپنی تجارت کا مال فروخت کر دیا اور بہت جلد حضور ﷺ کو اپنے ساتھ لے کر مکہ مکرمہ واپس آ گئے۔ بُحیریٰ راہب نے چلتے وقت انتہائی عقیدت کے ساتھ آپ کو سفر کا کچھ توشہ بھی دیا۔

چھٹا سفر : حرب الفجار میں اپنے چچا وں کے ساتھ شرکت

ایک قول کے مطابق نبی پاک ﷺ کی عمر جب 15 سال اور ایک قول کے مطابق جب آپ ﷺ کی عمر مبارک 20 سال ہوئی تو آپ ﷺ نے اپنے چچاوں کے ساتھ حرب الفجار نامی جنگ میں شرکت کی ۔ یہ جنگ کا آپ کا پہلا سفر تھا ۔ اس جنگ کو حرب الفجار اس لئے کہتے ہیں کہ عربوں نے یہ جنگ محترم مہینوں میں کی تھی ، اور ماہ محترم میں جنگ کرنا فاجروں کا انداز ہے، اس پر قریش نے خود ہی کہا کہ " قد فجرنا " ہم نے یہ فاجروں والا کام کیا " اس وجہ سے اس جنگ کا نام ہی حرب الفجار ہوگیا ۔ حضورﷺ اس جنگ سے متعلق خود بیان کرتے ہیں طبقات ابن سعد میں ہے : *قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ الْفِجَارَ فَقَالَ: قَدْ حَضَرْتُهُ مَعَ عُمُومَتِی وَرَمَیْتُ فِیهِ بَأْسَهُمٍ وَمَا أُحِبُّ أَنِّی لَمْ أَكُنْ فَعَلْتُ* ترجمہ : رسول اللہﷺ نے فرمایا میں اپنے چچاؤں کے ہمراہ اس جنگ میں شریک تھا اورکچھ تیربھی پھینکے تھے مگرمیری خواہش یہی تھی میں ایسا نہ کروں ۔

ساتواں سفر : ملک شام کی جانب دوسرا تجارتی سفر

سرکار دو عالم ﷺ ابتدا سے ہی بہترین کردار کے مالک تھے۔ جب آپ کی عمر مبارک 25سال ہوئی تو آپ کی صداقت اور دیانت کے ہر طرف چرچے ہونے لگے۔ مکہ کی فضاؤں میں آپ کے لقب “ صادق وامین “ ہر طرف گونجنے لگے۔ شہرِ مکہ کی ایک معزز اور مالدار خاتون تھیں جن کا نام تھا “ خدیجہ “ انہیں ایسے امانت دار شخص کی ضرورت تھی جو ان کا مال ملکِ شام لے کر جائے اور وہاں فروخت کر کے نفع کما کر لائے۔ آپ کی امانت و صداقت کی شہرت جب حضرت خدیجہ تک پہنچی تو انہوں نے آپ کو پیغام بھیجا کہ آپ میرا مالِ تجارت ملکِ شام لے کر جائیں! جومعاوضہ میں دوسروں کو دیتی ہوں آپ کو اس کا دوگنا(Double) دوں گی۔ آپ نے ان کی یہ درخواست قبول فرما لی اور تجارت کا سامان اور مال لے کر ملکِ شام روانہ ہو گئے۔ اس سفر میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا غلام “ مَیْسَرہ “ بھی آپ کے ساتھ تھا جو آپ کی خدمت اور دیگر ضروریات پوری کرتا تھا۔ ایک بار پھر جب آپ ملکِ شام کے مشہور شہر “ بُصریٰ “ پہنچے تو وہاں “ نسطورا “ راہب کی عبادت گاہ کے قریب قیام فرمایا۔ وہ راہب میسرہ کو پہلے سے جانتا تھا ، اسی بنیاد پر وہ اس کے پاس آیا اور آپ کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگا : یہ کون ہیں جواس درخت کے نیچے اترے ہیں؟ میسرہ نے جواب دیا : یہ شہرِ مکہ کے رہنے والے ہیں ، بنوہاشم سے تعلق ہے ، ان کا نام “ محمد “ ہے اور لقب “ امین “ ہے۔ راہب کہنے لگا : سوائے نبی کے آج تک اس درخت کے نیچے کوئی نہیں اترا۔ پھر اس نے پوچھا : کیا ان کی آنکھوں میں سرخی رہتی ہے؟ میسرہ نے جواب دیا : ہاں ہے اور وہ ہر وقت رہتی ہے۔ یہ سن کر نسطورا کہنے لگا : یہی اللہ کے آخری نبی ہیں ، مجھے ان میں وہ تمام نشانیاں نظر آ رہی ہیں جو توریت و زبور میں پڑھی ہیں۔ کاش! میں اس وقت زندہ ہوں جب یہ اپنی نبوت کا اعلان فرمائیں گے ، اگر میں زندہ رہا تو ان کی بھرپور مدد کروں گا اور ان کی خدمت میں پوری زندگی گزار دیتا۔ اے میسرہ! میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ کبھی ان سے جدا مت ہونا ، ان کی خدمت کرتے رہنا ، کیونکہ اللہ پاک نے انہیں نبوت کا شرف عطا فرمایا ہے۔ آپ سامانِ تجارت بیچ کر جلد واپس تشریف لے آئے۔

آٹھواں اور نواں سفر : ملک یمن کی جانب دوسرا تجارتی سفر

امام حاکم نے اس بات کو بھی ذکر کیا ہےکہ نبی پاک ﷺ نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے مال تجارت کے لئے یمن کی جانب دو بار سفر کیا فرمایا ہے ۔

دسواں سفر : بحرین کی جانب

امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں نبی پاک ﷺ کے ایک سفر جو کہ بحرین کی جانب تھا اس کا بھی ذکر کیا ہے ۔

اعلان نبوت کے بعد مکی زندگی کے سفر

اعلان نبوت کے بعد مکی زندگی کے سفر

اعلان نبوت کے بعد نبی پاک ﷺ کے تجارتی مقاصد کے لئے سفر کا ثبوت تاریخ میں نہیں ملتا کیونکہ اظہار نبوت کے بعد کی آپ ﷺ کی مکمل توجہ اپنی ذمہ داریوں کی جان رہی جن میں بنیادی طور پر آپ کا اللہ پاک کی وحدانیت پر ایمان لانے کی دعوت دینا ہے ، اسی غرض سے آپ کے سفر ہوتے رہے ۔ اعلان نبوت کے بعد حضور ﷺ کی مکہ مکرمہ کی زندگی مبارک دس سال ہے ۔ اس باب میں ہم نبی پاکﷺ کے ان دس سال کے سفر کے متعلق جانیں گے ۔ نبی پاک ﷺ نے تبلیغ دین کے لئے مختلف لوگوں کے پاس جا جا کر دین کی دعوت دی ہے ، اس مقصد کے لئے آپﷺ نے طائف کا سفربھی فرمایا ۔

پہلا سفر : دعوت اسلام کے لئے طائف کا سفر

مکّہ والوں کی نافرمانیوں کو دیکھتے ہوئے آپ ﷺ نے اسلام کی دعوت پھیلانے کے لئے مکّہ کے قریبی قبیلوں کا سفر فرمایا جن میں سے ایک سفرِ طائف بھی ہے۔ طائف میں بڑے بڑے مالدار لوگ رہتے تھے۔ ان میں عَمْرو نامی شخص کا خاندان تمام قبیلوں کا سردار سمجھا جاتا تھا۔ یہ لوگ تین بھائی تھے، عَبْد یَالِیْل ، مسعود اور حبیب۔ نبیِّ کریم ﷺ اسلام کی دینے کیلیئے طائف تشریف لے گئے اور اسلام کی دعوت دی لیکن ان تینوں بھائیوں نے اسلام قبول کرنے کے بجائے آپ ﷺ کو بُرا بھلا کہنا شُروع کر دیا اور صرف اسی پر بس نہیں کیا بلکہ شرارتی لڑکوں کو حضور رحمتِ عالم ﷺ کے پیچھے لگا دیا جو آپ ﷺ پر پتّھر پھینکتے، جب آپ ﷺ زخموں سے چُور ہوکر بیٹھ جاتے تو یہ ظالم بے دردی کے ساتھ بازو پکڑ کر اُٹھا دیتے اور جب چلنے لگتے تو پھر پتّھر مارنے لگتے۔ انہوں نے اس قَدْر ظْلم کیا کہ رحیم و کریم آقا ﷺ کے مبارَک جوتے خون سے بھر گئے۔ حضورِ اکرمﷺ اسی تکلیف کے ساتھ چلتے رہے یہاں تک کہ ایک مقام پر پہنچ کر دیکھاکہ جبریل علیہ السلام ہیں اور ان کے ساتھ ایک اور فرشتہ بھی ہے۔ حضرتِ جبریل علیہ السلام نے عرض کی: آپ کےسامنے پہاڑوں کا فرشتہ موجود ہے جو آپ حکم دیں گے یہ فرشتہ وہی کرے گا۔ پہاڑوں کے فرشتہ نے عرض کی:اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں ان دونوں پہاڑوں (ابو قبیس اورقعیقعان) کو ان کافروں پر گِرادوں تو میں گِرادوں گا۔ یہ سُن کر حضور رحمتِ عالَم ﷺ نے جواب دیا کہ ایسا نہ کرو بلکہ میں اُمّید کرتا ہوں کہ اللہ پاک ان کی نسلوں سے اپنے ایسے بندوں کو پیدا فرمائے گا جو اللہ پاک کی عبادت کریں گے ۔ (بخاری،ج،ص2 386،حديث:3231،زرقانی علی المواہب،ج،ص2 49تا 54)

دوسرا سفر: سفر معراج

سفر معراج بعثت کے گيارہويں سال اور ہجرت سے دو سال پہلے، 27 رجب المرجب، پير شريف کی رات شروع ہوا ۔ یہ سفر تھا تو کئی برسوں پر مشتمل مگر سرکار ﷺ نے یہ سفر کچھ لمحوں میں فرمایا کیونکہ یہ صرف ایک سفر نہیں بلکہ سرکار ﷺ کا معجزہ بھی ہے ۔ جو اللہ کی خاص رحمت سے آپ کو عطا ہوا ۔ اس کا تفصیلی واقعہ ان شاء اللہ سرکار دوعالم ﷺ کے معجزات کے باب میں کیا جائیگا ۔ یہاں مختصر اس سفر کا کچھ خلاصہ پیش کیا جارہا ہے ۔ اس سفر کا آغاز حضور ﷺ کی چچا زاد بہن حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر سے ہوا ۔ پہلے آپ کو کعبہ شریف لایا گیا، یہاں شق صدر ہوا ، پھر آپ کی بارگاہ میں براق لایا گیا اور بیت المقدس کی جانب سفر شروع ہوا ، وہاں پہنچ کر سرکار ﷺنے انبیاء کی امامت فرمائی پھر آسمانوں کا سفر شروع ہوا اور ساتوں آسمانوں کی آ پ ﷺ کو سیر کروائی گئی ، جنت کی سیر بھی ہوئی وہاں کے انعامات بھی دیکھے اور دوزخ کا معائنہ بھی کیا اور وہاں کے عذابات بھی دیکھے ۔ پھر لامکان کی سیر ہوئی اور اللہ پاک نے آپ کو اپنے دیدار سے مشرف فرمایا ، یہ وہ عظیم اعزا ز ہے جو آپ ﷺ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہ ہوا اورکسی کو یہ شرف وفضل اب حاصل بھی نہ ہوگا، اس کے بعد واپسی کا سفر شروع ہوا۔ آپ ﷺ اسی سفرِ طائف سے واپسی پر مقامِ “ نخلہ “ میں تشریف فرما ہوئے۔ رات میں جب آپ نمازِ تہجد میں قرآن پڑھ رہے تھے تو “ نصیبین “ کے جنوں کی ایک جماعت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور قرآن سن کر یہ سب جن مسلمان ہوگئے۔ پھر ان جِنّات نے واپس جا کر اپنی قوم کو تبلیغ کی تو مکہ شریف میں جِنّات کے بڑے بڑے گروہوں نے اسلام قبول کیا۔ قرآنِ پاک میں سورۂ جن کی ابتدائی آیات میں اﷲ پاک نے اس واقعہ کا ذکر فرمایا ہے۔

تیسرا سفر: سفر ہجرت

جب کفار کا مسلمانوں پر ظلم وستم بڑھا تو نبی پاک ﷺ نے صحابہ کرام کو ہجرت کا حکم دے دیا لیکن ابھی آپ ﷺ کو ہجرت کا حکم نہیں ہوا تھا آپ مکہ مکرمہ میں ہی تھے اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بھی ہجرت نہ کی ۔ اس موقع کا کفار قریش نے فائدہ اٹھایا اور رات کے وقت اپنے طے شدہ منصوبے کے مطابق آپ کے مکانِ عالیشان کو گھیر لیا اور انتظار کرنے لگے کہ آپ سو جائیں تو وہ حملہ آور ہوں۔ اس وقت صرف حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ وہاں موجود تھے۔ کافر اگرچہ آپ کے دشمن تھے مگر انہیں آپ کی امانت و دیانت پر پورا بھروسہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اپنی امانتیں آپ کے پاس رکھواتے تھے۔ اس وقت بھی کئی امانتیں آپ کے مکانِ عالیشان میں موجود تھیں۔ اللہ کے آخری نبی ﷺ نے حضرت علی سے فرمایا : تم میری چادر اوڑھ کر میرے بستر پر سوجاؤ! میرے چلے جانے کے بعد یہ تمام امانتیں ان کے مالکوں کو سونپ کر تم بھی مدینہ چلے آنا۔ آپ نے خاک کی ایک مٹھی لی اور اس پر سورۂ یس شریف کی ابتدائی کچھ آیات تلاوت فرما کر وہ خاک کفار کی طرف پھینک دی اور اس مجمع میں سے صاف نکل گئے ، کسی نے بھی آپ کو نہ پہچانا۔ پھر آپ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ساتھ غارِ ثور پہنچے اور تین دن اور تین راتیں وہاں قیام فرمایا۔ اس کے بعد آپ مدینہ شریف تشریف لے گئے۔ نبی پاک ﷺ کی آمد کی خبر اہلِ مدینہ کو مل چکی تھی اور وہ نبی پاکﷺ کے دیدار سے مشرف ہونے کے انتظار میں تھے ، مدینہ کی خواتین اور بچوں تک کی زبانوں پر آپ کی آمد کا ذکر ہوتا۔ مکہ شریف سے مدینہ کی مسافت عموماً 12 دن میں طے ہوتی تھی ، یہ دن تو انہوں نے انتظار کرتے ہوئے گزار دیئے۔ اس کے بعد ان سے رہا نہ گیا اور وہ اپنے شوق کی تکمیل کیلئے بےقرار ہو کر اجتماعی شکل میں اپنے آقا ﷺ کے استقبال کیلئے مدینہ سے باہر ایک میدان میں جمع ہوجاتے اورجب دھوپ تیز ہو جاتی تو حسرت کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس لوٹ جاتے۔ ہر نئے دن ان کا یہی معمول تھا کہ نئے عزم و یقین کے ساتھ آتے اور راستے میں سراپا شوق بن کر استقبال کیلئے کھڑے ہو جاتے۔ ایک دن اپنے معمول کے مطابق اہلِ مدینہ آپ کی راہ دیکھ کر واپس جا چکے تھے۔ اچانک ایک یہودی نے اپنے قلعہ سے دیکھا کہ کچھ افراد کا قافلہ آرہا ہے تو وہ سمجھ گیا اور اس نے زور سے پکار کر کہا : اے مدینہ والو! تم جس کا روزانہ انتظار کرتے تھے وہ کاروانِ رحمت آگیا۔ یہ سن کر تمام انصار بدن پر ہتھیار سجا کر خوشی کے عالم میں اللہ کے آخری نبی ﷺ کا استقبال کرنے کے لئے اپنے گھروں سے نکل پڑے اور سرکار ﷺ کا استقبال کیا ۔

مدنی زندگی کے سفر

حضورﷺ کے مختلف غزوات کے سفر

نبی پاک ﷺ کی اب مدینہ منورہ آمد ہوچکی تھی ۔حضور ﷺ کے مدنی زندگی کے اسفار میں اکثر آپ کے اسفار اعلائے کلمۃ الحق کے لئے ہونے والے جہاد کے سلسلے میں ہیں۔ جنہیں ہم غزوات رسول ﷺ کے نام سے جانتے ہیں ۔ جن جنگوں میں حضور ﷺ نے خود شرکت فرمائی اسے غزوہ کہتے ہیں اور جن جنگوں کے لئے نبی پاک ﷺ نے کسی صحابی کو قائد و رہنما بنایا اسے سرایہ کہا جاتا ہے ۔ حضور ﷺ کی سیرت کا یہ پہلو نہ صرف میدانِ جنگ بلکہ حیاتِ انسانی کے دیگر کثیرسیاسی، سماجی و نظریاتی پہلوؤں میں بھی راہنمائی فراہم کرتا ہے۔ نبی پاک ﷺ نے تقریبا 27جنگوں میں شرکت فرمائی ۔ بعض مؤرخین نے اس کی تعداد 28 بتائی ہے ۔ غزوات سے متعلق ہمارا مکمل ایک الگ سے کورس ہماری اسی ایپ میں شامل ہے۔ اس لئے یہاں اس کی تفصیل ذکر کرنے کے بجائے صرف ان غزوات کے نام لکھے جارہے ہیں ۔

نبی پاکﷺ کے عمرے کے سفر

نبی کریم ﷺ کے حج و عمرے کے بارے میں اما م مسلم نے صحیح مسلم میں ایک روایت بیان فرمائی جس میں آپ کے تمام عمرے اور حج کا بیان موجود ہے ۔ حضرت قتادہ سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے انہیں خبر دی : *أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ كُلُّهُنَّ فِي ذِي الْقَعْدَةِ إِلَّا الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ: عُمْرَةً مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ، أَوْ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةً مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةً مِنْ جِعْرَانَةَ حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةً مَعَ حَجَّتِهِ* ترجمہ : نبی پاک ﷺ نے(اپنی حیات میں ) چار عمرے ادا فرمائے اور یہ سارے عمرے ذی القعدہ میں ادا کئے تھے سوائے اس عمرے کے جو آپ تعالٰی نے حج کے ساتھ ادا کیا تھا ۔ (یعنی تین عمرے ذی القعدہ میں اور ایک عمرہ حج کے ساتھ ) ایک عمرہ حدیبیہ کا تھا جو آپ نے حدیبیہ کے زمانے میں ذی القعدہ میں ادا کیا ۔ دوسرا عمرہ اس کے بعد والے سال ذی القعدہ میں کیا۔ اور تیسرا عمرہ جعرانہ سے ادا کیا جس میں آپ نے غزوہ حنین سے حاصل ہونے والے مال غنیمت کی تقسیم فرمائی ، یہ عمرہ بھی ذی القعدہ میں ہی ادا فرمایا ۔ اور چوتھا عمرہ آپ ﷺ نے حج کے ساتھ ادا کیا ۔ اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد متصلاً نبی پاک ﷺ کی حج کے بارے میں امام مسلم روایت لائے، جس میں یہ بیان کیا گیا کہ حضرت قتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہسے پوچھا کہ حضور ﷺ نے کتنے حج ادا فرمائے ۔ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جواب دیا : *حَجَّةً وَاحِدَةً وَاعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ* ترجمہ :ایک حج اور چار عمرے نبی پاکﷺ نے ادا کئے ۔

نبی پاک ﷺکے حج کا سفر

حضور اقدس ﷺ نے آخر ذوقعدہ میں جمعرات کے دن مدینہ میں غسل فرما کر تہبند اور چادر زیب تن فرمایا اور نماز ظہر مسجد نبوی میں ادا فرما کر مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے اور اپنی تمام ازواج مطہرات رضی اللہ تعالٰی عنہن کو بھی ساتھ چلنے کا حکم دیا۔ مدینہ منورہ سے چھ میل دور اہل مدینہ کی میقات ” ذوالحلیفہ ” پر پہنچ کر رات بھر قیام فرمایا پھر احرام کے لئے غسل فرمایا اور حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا نے اپنے ہاتھ سے جسم اطہر پر خوشبو لگائی پھر آپ ﷺ نے دو رکعت نماز ادا فرمائی اور اپنی اونٹنی “قصواء” پر سوار ہو کر احرام باندھا اور بلند آواز سے ” لبیک ” پڑھا اور روانہ ہوگئے۔ حضرت جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا بیان ہے کہ میں نے نظر اُٹھا کر دیکھا تو آگے پیچھے دائیں بائیں حدِ نگاہ تک آدمیوں کا جنگل نظر آتا تھا۔ بیہقی کی روایت ہے کہ ایک لاکھ چودہ ہزار اور دوسری روایتوں میں ہے ایک لاکھ چوبیس ہزار مسلمان حجۃ الوداع میں آپ کے ساتھ تھے۔ چوتھی ذوالحجہ کو آپ ﷺ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ آپ کے خاندان بنی ہاشم کے لڑکوں نے تشریف آوری کی خبر سنی تو خوشی سے دوڑ پڑے اور آپ نے نہایت ہی محبت و پیار کے ساتھ کسی کو آگے کسی کو پیچھے اپنی اونٹنی پر بٹھا لیا۔ فجر کی نماز آپ ﷺ نے مقام ” ذی طویٰ ”میں ادا فرمائی اور غسل فرمایا پھر آپ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور چاشت کے وقت یعنی جب آفتاب بلند ہو چکا تھا تو آپ مسجد حرام میں داخل ہوئے۔ جب کعبہ معظمہ پر نگاہ مہر نبوت پڑی تو آپ نے یہ دعا پڑھی کہ *اللّٰهُمَّ اَنْتَ السَّلاَمُ وَ مِنْكَ السَّلَامُ حَيِّنَا رَبَّنَا بِالسَّلَامِ اَللّٰهُمَّ زِدْ هٰذَا الْبَيْتَ تَشْرِيْفًا وَّ تَعْظِيْمًا وَّ تَکْرِيْمًا وَّ مَهَابَةً وَّ زِدْ مَنْ حَجَّهٗ وَ اعْتَمَرَهٗ تَکْرِيْمًا وَّ تَشْرِيْفًا وَّ تَعْظِيْمًا* ترجمہ : اے اﷲ ! عزوجل تو سلامتی دینے والا ہے اور تیری طرف سے سلامتی ہے۔ اے رب ! عزوجل ہمیں سلامتی کے سا تھ زندہ رکھ۔ اے اﷲ ! عزوجل اس گھر کی عظمت و شرف اور عزت و ہیبت کو زیادہ کر اور جو اس گھر کا حج اور عمرہ کرے تو اس کی بزرگی اور شرف و عظمت کو زیادہ کر۔ جب حجر اسود کے سامنے آپ ﷺ تشریف لے گئے تو حجر اسود پر ہاتھ رکھ کر اس کو بوسہ دیا پھر خانہ کعبہ کا طواف فرمایا۔ شروع کے تین پھیروں میں آپ ﷺ نے ” رمل ” کیا اور باقی چار چکروں میں معمولی چال سے چلے ہر چکر میں جب حجر اسود کے سامنے پہنچتے تو اپنی چھڑی سے حجر اسود کی طرف اشارہ کرکے چھڑی کو چوم لیتے تھے۔ حجر اسود کا استلام کبھی آپ ﷺ نے چھڑی کے ذریعہ سے کیا کبھی ہاتھ سے چھو کر ہاتھ کو چوم لیا کبھی لب مبارک کو حجر اسود پر رکھ کر بوسہ دیا اور یہ بھی ثابت ہے کہ کبھی رُکن یمانی کا بھی آپ نے استلام کیا۔جب طواف سے فارغ ہوئے تو مقام ابراہیم کے پاس تشریف لائے اور وہاں دو رکعت نماز ادا کی نماز سے فارغ ہو کر پھر حجر اسود کا استلام فرمایا اور سامنے کے دروازہ سے صفا کی جانب روانہ ہوئے قریب پہنچے تو اس آیت کی تلاوت فرمائی کہ *اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ* ترجمہ : بے شک صفا اور مروہ ﷲ کے دین کے نشانیوں میں سے ہیں۔ پھر صفا اور مروہ کی سعی فرمائی اور چونکہ آپ ﷺ کے ساتھ قربانی کے جانور تھے اس لئے عمرہ ادا کرنے کے بعد آپ نے احرام نہیں اتارا۔ آٹھویں ذوالحجہ جمعرات کے دن آپ ﷺ منیٰ تشریف لے گئے اور پانچ نمازیں ظہر، عصر، مغرب، عشاء، فجر، منیٰ میں ادا فرما کر نویں ذوالحجہ جمعہ کے دن آپ عرفات میں تشریف لے گئے۔ زمانہ جاہلیت میں چونکہ قریش اپنے کو سارے عرب میں افضل و اعلیٰ شمار کرتے تھے اس لئے وہ عرفات کی بجائے ” مزدلفہ ” میں قیام کرتے تھے اور دوسرے تمام عرب ” عرفات ” میں ٹھہرتے تھے لیکن اسلامی مساوات نے قریش کے لئے اس تخصیص کو گوارا نہیں کیا اور اﷲ عزوجل نے یہ حکم دیا کہ * ثُمَّ اَفِيْضُوْا مِنْ حَيْثُ اَفَاضَ النَّاسُ* ترجمہ :(اے قریش) تم بھی وہیں (عرفات) سے پلٹ کر آؤ جہاں سے سب لوگ پلٹ کر آتے ہیں۔ حضور ﷺ نے عرفات پہنچ کر ایک کمبل کے خیمہ میں قیام فرمایا۔ جب سورج ڈھل گیا تو آپ ﷺ نے اپنی اونٹنی ” قصواء ” پر سوار ہو کر خطبہ پڑھا۔ اس خطبہ میں آپ نے بہت سے ضروری احکامِ اسلام کا اعلان فرمایا اور زمانہ جاہلیت کی تمام برائیوں اور بیہودہ رسموں کو آپ نے مٹاتے ہوئے اعلان فرمایا کہ *اَلَا کُلُّ شَيْئٍ مِّنْ اَمْرِالْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمَیَّ مَوْضُوْعٌ* سن لو ! جاہلیت کے تمام دستور میرے دونوں قدموں کے نیچے پامال ہیں۔(ابو داؤد) اسی طرح زمانہ جاہلیت کے خاندانی تفاخر اور رنگ و نسل کی برتری وغیرہ تصورات جاہلیت کے بتوں کو پاش پاش کرتے ہوئے اور مساوات اسلام کا عَلَم بلند فرماتے ہوئے تاجدار دو عالم ﷺ نے اپنے اس تاریخی خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ *یَااَيُّهَا النَّاسُ اَلَا اِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ وَاِنَّ اَبَاكُمْ وَاحِدٌ اَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِىٍّ عَلٰ أَعْجَمِىٍّ وَلَا لِعَجَمِىٍّ عَلٰی عَرَبِىٍّ وَلَا لِاَحْمَرَ عَلٰی اَسْوَدَ وَلَا لِاَسْوَدَ عَلٰی اَحْمَرَ اِلاَّ بِالتَّقْوٰی* ترجمہ:اے لوگو ! بے شک تمہارا رب ایک ہے اور بے شک تمہارا باپ (آدم علیہ السلام) ایک ہے۔ سن لو ! کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی سرخ کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی سرخ پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کے سبب سے۔ اسی طرح تمام دنیا میں امن و امان قائم فرمانے کے لئے امن و سلامتی کے شہنشاہ تاجدار دو عالم ﷺ نے یہ خدائی فرمان جاری فرمایا کہ *فَاِنَّ دِمَائَكُمْ وَ اَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هٰذَا فِىْ شَهْرِكُمْ هٰذَا فِىْ بَلَدِكُمْ هٰذَا اِلٰی يَوْمٍ تَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ* ترجمہ : تمہارا خون اور تمہارا مال تم پر تاقیامت اسی طرح حرام ہے جس طرح تمہارا یہ دن، تمہارا یہ مہینہ، تمہارا یہ شہر محترم ہے۔(بخاری و مسلم و ابو داؤد) اپنا خطبہ ختم فرماتے ہوئے آپ ﷺ نے سامعین سے فرمایا کہ *وَ اَنْتُمْ مَسْئُوْلُوْنَ عَنِّىْ فَمَا اَنْتُمْ قَائِلُوْنَ* تم سے خدا عزوجل کے یہاں میری نسبت پوچھا جائے گا تو تم لوگ کیا جواب دو گے ؟ تمام سامعین نے کہا کہ ہم لوگ خدا سے کہہ دیں گے کہ آپ نے خدا کا پیغام پہنچا دیا اور رسالت کا حق ادا کر دیا۔ یہ سن کر آپ ﷺ نے آسمان کی طرف انگلی اٹھائی اور تین بار فرمایا کہ *اَللّٰهُمَّ اشْهَدْ* اے اﷲ ! تو گواہ رہنا۔ ( ابو داؤد ج۱ ص۲۶۳ باب صفة حج النبی) عین اسی حالت میں جب کہ خطبہ میں آپ ﷺ اپنا فرض رسالت ادا فرما رہے تھے یہ آیت نازل ہوئی کہ *اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا * ترجمہ :آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تمام کر دی اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسند کر لیا۔ (پ۶،المائدۃ:۳ )