سیرت رسول ﷺ  سے پاکیزگی کی تعلیم
لائیوغیر فعال

سیرت رسول ﷺ سے پاکیزگی کی تعلیم

سیرت رسول ﷺ سے پاکیزگی کی تعلیم

71

انرولمنٹس

0

مکمل

N/A

ریٹنگ

اقسام

صفائی سے متعلق اسلامی تعلیم کی بنیادی خصوصیات

صفائی کے اسلامی اصول

دین اسلام نے جہاں انسان کو کفر و شرک اور ہر طرح کی بدعقیدگی سے پاک کرکے عزت و رفعت عطا فرمائی وہیں ظاہر و باطن کی پاکیزگی کی اعلیٰ تعلیمات کے ذریعے انسانیت کا وقار بلند فرمایا ، بدن کی پاکیزگی ہو یا لباس کی صفائی ستھرائی ، ظاہری شکل و صورت کی خوبی ہو یا طور طریقے کی اچھائی، مکان و سازو سامان کی صفائی ہو یا سواری کی صفائی کا خیال رکھنا الغرض ہر چیز کو صاف ستھرا رکھنے کی دین اسلام میں تعلیم اور ترغیب موجود ہے ۔ دین اسلام میں صفائی ستھرائی کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ صفائی مسلمانوں کی بنیادی عبادات کا ایک ایسا حصہ ہے ، جس کے بغیر عبادت درست ہی نہیں ہوتی یا عبادت ناقص و ادھوری رہ جاتی ہے ۔ ہر نفیس طبیعت کا فرد بھی صفائی کو اپنی زندگی میں بڑی اہمیت دیتا ہے ، اللہ رب العزت بھی صاف ستھرا رہنے والے کو پسند فرماتا ہے ؛ ارشاد باری تعالیٰ ہے: *اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ* ترجمہ: بیشک اللہ پسند رکھتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتا ہے ستھروں کو۔ (پارہ 02، سورۃ البقرۃ ، آیت 222) دین اسلام میں صفائی کی اہمیت کا اندازہ صرف اس ایک حدیث پاک سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضور سرور کونین ﷺ نے ارشاد فرمایا : *الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ* ترجمہ :صفائی نصف ایمان ہے ۔ ( صحیح مسلم ، حدیث 223) جب صفائی اللہ کا پسندیدہ بناتی ہے، سیرت رسول ﷺ سے اس کی باقاعدہ ترغیبات موجود ہیں تو ضرورت تھی دین اسلام میں صفائی کی اہمیت کو کس کس جہت سے بیان کیا گیا ہے اس بارے میں بھی علم و شعور کی شمع روشن کی جاۓ کیونکہ شعور و آگہی سے ہی ایک انسان کی زندگی کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اس لئے ایک منفرد کورس صفائی سے متعلق ترتیب دیا گیا ہے۔

کورس کے موضوعات

ہم اس کورس میں سیرت ﷺ کی روشنی میں صفائی کی اہمیت کو سمجھیں گے تاکہ بحیثیتِ مسلم ہم بھی اپنی زندگی میں اس کو نافذ کریں اور ذاتی صفائی کے ساتھ اپنے اردگرد کی صفائی پر بھی بھرپور توجہ دیں ۔ کورس کے موضوعات: 🔵 صفائی سے متعلق اسلامی تعلیم کی بنیادی خصوصیات۔ 🔵 لباس کی صفائی ستھرائی کی ترغیب ۔ 🔵 بالوں اور ناخنوں کی صفائی ستھرائی کی ترغیب۔ 🔵 دانتوں کی صفائی ستھرائی کی ترغیب ۔ 🔵 گھر کی صفائی ستھرائی کی ترغیب۔ 🔵 مسجد کی صفائی ستھرائی کی ترغیب۔ 🔵 راستے کی صفائی ستھرائی کی ترغیب۔ 🔵 کھانے سے پہلے اور بعد صفائی کا اہتمام۔ 🔵 طبعی حاجت کے بعد صفائی کا اہتمام۔ 🔵 دنیا میں صفائی کے نام پر منائے جانے والے دن اور اسلام کی حقانیت۔

صفائی سے متعلق اسلامی تعلیم کی بنیادی خصوصیات

دنیا کا کوئی بھی قانون ہو ، کوئی بھی ضابطہ اخلاق ہو ، آسمانی مذاہب سے لئے گئے صفائی کے بارے میں نظریات ہو یا دانشوروں کے خیالات ہو کوئی بھی صفائی کی اہمیت و ضرورت کا انکار نہیں کرتے۔ صفائی ستھرائی کو دین اسلام میں کس قدر اہمیت حاصل ہے ، اس کو تو ہم نے کورس کی ابتداء میں مختصرا جان لیا کہ اسلام نے صفائی کو نصف ایمان کا درجہ دیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ صفائی کی روح کو پہچان کر صفائی اختیار کی جائے۔ صفائی کی تعلیم وتربیت کا آغاز تو ماں کی گود سے ہوجاتا ہے۔ لیکن صفائی کی ضرورت اور اسے اختیار نہ کرنے کے نقصانات کو سمجھا دیا جائے تو اس بچے کا شعور اس بات کو قبول کرلے گا اوراس کے دل ودماغ میں یہ بات پختہ ہوجائے گی کہ صفائی ستھرائی صحت مند زندگی گزارنے کا اہم ترین فارمولا ہے ، جس کے بغیر زندگی نامکمل ہے۔ اسلام نے جو ہمیں صفائی ستھرائی کا درس دیا ہے ، اس کی شان بالکل ہی مختلف ہے۔کیونکہ اسلام میں صفائی کی ترغیب عارضی نہیں ہے ، نہ صفائی کو بطور تہوار منایا جاتا ہے اور نہ ہی فیشن سمجھ کر صفائی کو اختیار کیا جاتا ہے۔ کورس کے اس مرحلے میں ہم اسلام میں دی جانے والی صفائی کی ترغیب کی خصوصیات کو ہی تفصیل کے ساتھ جانتے ہیں تاکہ آگے کے ہر مرحلے کو اسی انداز سے سمجھنا آسان ہو۔

اسلامی تعلیمات میں صفائی کی مختلف خصوصیات

صفائی سے متعلق اسلامی تعلیم کی خصوصیات کو ہم چار حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں: 1. اسلام میں صفائی کی تعلیم عارضی نہیں۔ 2. اسلام میں صفائی بطور تہوار نہیں۔ 3. اسلام میں صفائی فیشن نہیں بلکہ عبادت کا حصہ ہے۔ 4. اسلام ہمیں ظاہر کی صفائی کے ساتھ باطن کی صفائی کا درس بھی دیتا ہے۔

اسلام میں صفائی کی تعلیم عارضی نہیں

دین اسلام میں صفائی ستھرائی کی جو ترغیب ہے وہ عارضی اور بناوٹی نہیں ہے بلکہ اسلام ہمیں مستقل صفائی کا اور گندگی کو جڑ سے ختم کرنے کا درس دیتا ہے۔ مثلا : منہ میں ناپسندیدہ بو کا پیدا ہوجانا ، معدے کی خرابی کی وجہ سے ہے اور معدے کی خرابی کی بنیادی وجہ غیرمعیاری خوراک کا استعمال ہے۔ لوگوں نے منہ کی بو کو ختم کرنے کے لئے طرح طرح کے ٹوتھ پیسٹ ، بنائے ، ان کے استعمال سے اگرچے وقتی طور پر منہ کی ناپسندیدہ بو ختم ہوجائے گی اور اچھا محسوس ہوگا۔ یہ منہ کی بو کو ختم کرنے کے لئے کی جانے والی عارضی صفائی ہے پھر کچھ وقت بعد یہ بو دوبارہ پیدا ہوجائے گی پھر وہی عارضی صفائی کی جائے گی لیکن اسلام کی یہ خصوصیت ہے کہ اس نے اس بو کے پیدا ہونے کے اصل سبب یعنی معدے کی خرابی سے بچنے کے لئے تدبیر اختیار کرنے کا حکم دیا۔ جو کھانا کھائیں وہ معیاری کھانا ہو ، اس کے بعد مکمل پیٹ بھر کر نہ کھائے، کیونکہ مکمل پیٹ بھر کر کھانے سے معدہ اس کو ہضم نہیں کرسکے گا اور تیزابیت پیدا ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے منہ میں ناپسندیدہ بو پیدا ہوتی ہے ، یہ منہ کی بو سے بچنے کا مستقل علاج ہے اور نبی پاک ﷺ نے کم کھانے کی ترغیب بھی ارشاد فرمائی: حدیث پاک ہے : *عَنْ مِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مَلَأَ آدَمِيٌّ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ. بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ أُكُلَاتٌ يُقِمْنَ صُلْبَهُ، فَإِنْ كَانَ لَا مَحَالَةَ فَثُلُثٌ لِطَعَامِهِ وَثُلُثٌ لِشَرَابِهِ وَثُلُثٌ لِنَفَسِهِ»* ترجمہ : حضرت مقدا م بن معدی کرب فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کائنات ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا " آدَمی اپنے پیٹ سے زیادہ بُرا برتن نہیں بھرتا، انسان کیلئے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں اگر ایسا نہ کرسکے تو تِہائی کھانے کیلئے تہائی پانی کیلئے اور ایک تِہائی سانس کیلئے ہو۔'' (سنن الترمذی، حدیث 2380) دین اسلام نے اس کے مستقل علاج کے لئے مسواک کا نظام بھی رکھا جس سے منہ کی عارضی صفائی بھی بہترین ہوتی ہے اور ساتھ معدے اور ہاضمے کو بھی مسواک درست کرتی ہے۔ جب مسواک کی برکت سے ہاضمہ اور معدہ درست ہوجاتا ہے تو اس سے منہ کی ناپسندیدہ بو بھی ختم ہوجاتی ہے۔ یہ ہے اسلام کی پاکیزہ تعلیم کی خصوصیت جس میں عارضی نہیں بلکہ حقیقی صفائی کے اہتمام کا درس دیا گیا ہے۔

اسلام میں صفائی بطور تہوار نہیں

جس طرح دین اسلام میں صفائی کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ صفائی عارضی نہیں ؛حقیقی ہے اسی طرح اسلام میں صفائی ستھرائی کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ مسلمانوں کے یہاں صفائی کا نظام تہوار یا تقریب کے طور پر نہیں منایا جاتا کہ سالانہ یا ماہانہ صفائی کا اہتمام کیا جائے بلکہ دین اسلام مسلمانوں کو صفائی کا ایک مکمل نظام دیتا ہے۔ تہوار یا تقریب سے اگرچہ صفائی اختیار کرنے کی ترغیب مل جاتی ہے لیکن صفائی کا پوار نظام دے دینے سے انسان کی طبیعت و مزاج ہی میں ایسی تبدیلی آجاتی ہے کہ صفائی اس کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔ مثلاً: ہاتھ دھونا صفائی ستھرائی کا ایک حصہ ہے۔ عالمی سطح پر Global Handwashing Day منایا جاتا ہے۔ (دنیا بھر میں صفائی کے نام پر جو دن بطور تہوار منائے جاتے ہیں ، اس کے بارے میں اس کورس کے آخری مرحلے میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے )۔ اس دن کے منانے کا اپنی جگہ فائدہ ضرور ہے کیونکہ اس سے ہاتھ دھونے کی ترغیب ملتی ہے ، اس کے فوائد بتائے جاتے ہیں لیکن اسلام نے مسلمانوں کو ہاتھ دھونے کا پورا نظام دیا ہے۔ ہر دن مسلمانوں کو کم ازکم بارہ مرتبہ ہاتھ دھونے کا کہا گیا جیسے :پانچ نمازوں میں پانچ مرتبہ ، کھانے سے پہلے اور بعد ہاتھ دھونا ، اب اگر دن میں تین بار کھایا تو پہلے اور بعد عمل کرنے کی صورت میں چھ مرتبہ ہوگیا۔ یہ کُل گیارہ مرتبہ ہوگیا ، نیند سے بیدار ہونے کے بعد ہاتھ دھونے کا حکم حدیث پا ک میں دیا گیا یہ کل بارہ مرتبہ ہوگیا۔ اور یہ تعداد روزانہ کی کم ازکم ہے ، اس سے زیادہ مرتبہ بھی ممکن ہے مواقع ہاتھ دھونے کے آتے رہیں ، یہ ہے اسلام کا نظام ِصفائی جو بطور تہوار نہیں بلکہ روزانہ ہی ہاتھ بار بار دھونے کی ترغیب دے رہا ہے۔ اب کوئی مسلمان کو کہے کہ تم بھی یہ Global Handwashing Day مناؤ۔ تو وہ یہ کہہ سکتا ہے میں یہ دن روز ہی مناتا ہوں کیونکہ ہمارے اسلام میں اس کی باقاعدہ ترغیب ،موجود ہے۔

اسلام میں صفائی فیشن نہیں بلکہ عبادت کا حصہ ہے

دین اسلام میں صفائی ستھرائی کا نظام فیشن نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کی عبادت کا حصہ ہے۔ مسلمان نماز پڑھے تو اسے وضو کرنے کاحکم ، یہ عبادت ہے۔ غسل لازم ہو تو غسل کا حکم ، یہ بھی اچھی نیت کے ساتھ عبادت ہے۔ کپڑوں کو نجاست سے پاک رکھنے کا حکم ، یہ بھی عبادت ہے تاکہ عبادت درست ہوجائے ، اسی طرح راستے کی صفائی کہ راستے سے پتھر ہٹادینا ، اس کو حدیث پاک میں صدقہ کہا گیا ، یہ بھی عبادت و ثواب کا کام ہے ، مختصر یہ کہ دین اسلام نے مسلمانوں کو جو صفائی کا نظام دیا یہ فیشن کے طور پر نہیں ہے کہ لوگوں کو دکھانے کے لئے کیا جائے بلکہ صفائی کو عبادت کا حصہ بنایا یہاں تک کہ صفائی کو نصف ایمان کا درجہ دیا گیا تاکہ مسلمان اس سے اپنے رب کی رضا حاصل کرے۔ لہذا صفائی ستھرائی کو اختیار کرنے کی عادت ضرور بنائی جائے مگر فیشن کے لئے نہیں بلکہ اللہ پاک کی رضا اور خوشنودی کو حاصل کرنے لئے صفائی کی عادت بنائیں۔

اسلام ہمیں ظاہر کی صفائی کے ساتھ باطن کی صفائی کا درس بھی دیتا ہے

دین اسلام میں صفائی کی تعلیم کی چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ اسلام نے ہمیں صرف ظاہر کی صفائی کا حکم نہیں دیا بلکہ ظاہر کی صفائی کے ساتھ ساتھ ہمیں باطن کو بھی پاک و صاف کرنے کی ترغیب دلائی ہے۔ باطن کی صفائی سے مراد یہ ہے کہ اپنے دل کو بغض و کینہ سے ، مسلمانوں کی عداوت سے ، حسد وتکبر سے ، ریاکاری وبدگمانی سے ، خودپسندی و لمبی امیدوں سے دل کو پاک و صاف رکھا جائے ، یہ دل میں پیدا ہونے والی وہ نجاست ہے جس سے انسان کا ظاہر بھی خرا ب ہوجاتا ہے۔ اس لئے ہمیں چاہیئے کہ ہم دل کی صفائی ستھرائی پر زیادہ توجہ دیں۔ کیونکہ باطن کی صفاٸی ہونے سے ہی عبادت کی لذت و مٹھاس کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔

خلاصہ کلام

صفائی سے متعلق اسلامی تعلیم کی بنیادی چار خصوصیات بیان کی گئی ہے ، جس سے یہ واضح ہوگیا کہ ہمیں دین اسلام نے جو صفائی کا نظام دیا ہے وہ دیگر تمام مذاہب سے بالکل مختلف اور جدا ہے اور اسی سے اسلام کی حقانیت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ دین اسلام کی تعلیمات صفائی سے متعلق اتنی خوبصورت ہیں کہ دیگر مذاہب کے لوگ اس کو تہوار کے طور پر منانے پر مجبور ہیں کیونکہ ان کے یہاں وہ نظام و قانون نہیں ہے۔ اللہ کریم ہمیں دین اسلام پر ثابت قدمی عطا فرمائے۔ آمین

سیرت رسول ﷺسے لباس کی صفائی کی تربیت

صفائی کی تربیت

اللہ پاک نے مسلمانوں کو بے شمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں ۔ انہی نعمتوں میں سے ایک نعت " لباس " بھی ہے۔ قرآن پاک میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا : *یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًا* ترجمہ : اے آدم کی اولاد! بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک لباس وہ اُتارا جو تمہاری شرم کی چیزیں چھپاتا ہے اور (ایک لباس وہ جو) زیب و زینت ہے۔(پارہ 08، سورۃ الاعراف، آیت 26)۔ اس آیت مبارکہ میں لباس سے متعلق دو باتوں کا ذکر ہوا۔ (1)سترپوشی اور(2) زینت۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جہاں لباس سے سترپوشی کا مقصد پورا ہوتا ہے وہی لباس کے ذریعے زینت بھی حاصل ہوتی ہے ۔ اب کوئی شخص لباس تو پہنے لیکن وہ لباس صاف ستھرا نہ ہو، اس لباس سے ناپسندیدہ بُو آرہی ہے ، تو ایسے شخص نے لباس سے زینت کے مقصد کو حاصل نہیں کیا ۔ ہمارے پیارے آقا ﷺ بھی جب کسی شخص کو دیکھتے کہ اس نے صاف کپڑے نہیں پہنے تو اسے صاف ستھرے کپڑے پہننے کی احسن انداز سے ترغیب دیتے تھے ۔ سنن ابی داؤد کی روایت ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کہ ایک مرتبہ نبی پاک ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ ﷺ نے ایک شخص کو ملاحظہ فرمایا کہ اس نے کپڑے صاف ستھر ے نہیں پہنے ہوئے ، نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا : *أَمَا كَانَ هَذَا يَجِدُ مَاءً يَغْسِلُ بِهِ ثَوْبَهُ * ترجمہ : "کیا اسے پانی نہیں ملا کہ اس پانی سے اپنے کپڑوں کو دھو لیتا "۔ ( سنن ابی داؤد ، حدیث 4062)

کپڑے کو سنوا ر رکھو

حدیث پاک ہے : *قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَأَصْلِحُوا لِبَاسَكُمْ حَتَّى تَكُونُوا كَأَنَّكُمْ شَامَةٌ فِي النَّاسِ* ترجمہ : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اپنے لباس کو اچھا رکھو ، تاکہ تم لوگوں میں ممتاز نظر آؤ۔ (سنن ابی داود ، حدیث 4089)

سفید لباس پہننے کی ترغیب

نبی پاک ﷺ نے سفید لباس کو پسند بھی فرمایا اور اس کے پہننے کی ترغیب بھی ارشاد فرمائی ، حدیث پاک ہے : *عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدَبٍ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم : الْبَسُوْا الْبَیَاضَ فَإِنَّہَا أَطْہَرُ وَأَطْیَبُ، وَکَفِّنُوْا فِیْہَا مَوْتَاکُمْ* ترجمہ : حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سفید کپڑے پہنا کرو کیوں کہ یہ زیادہ پاکیزہ اور ستھرا لباس ہے اور ان میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو۔''(جامع ترمذی ، حدیث 2810) ذکر کی گئی دونوں احادیث میں اس بات کی ترغیب موجود ہے کہ کپڑے صاف ستھرے ہو اور ساتھ ہی کپڑوں کو سنوار کر رکھنا چاہیے تاکہ لوگوں کے درمیان اچھے انداز سے رہیں ۔

سیرت النبی ﷺ سے کپڑے دھونے کی ترغیب

تاریخ بغداد کی روایت ہے: *عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ لِي:* *يَا عَائِشَةُ اغْسِلِي هَذَيْنِ الْبُرْدَيْنِ "، قَالَتْ: فَقُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ بِالأَمْسِ غَسَلْتُهُمَا، فَقَالَ لِي: " أَمَا عَلِمْتِ أَنَّ الثَّوْبَ يُسَبِّحُ، فَإِذَا اتَّسَخَ انْقَطَعَ تَسْبِيحُهُ* ترجمہ : سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ فرماتی ہے کہ میرے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور حکم دیا : اے عائشہ! ان دو چادروں کو دَھو لو...! میں نے عرض کی : یا رسولَ اللہ ﷺ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان...! کل ہی تو میں نے یہ چادریں دھوئی تھیں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تم نہیں جانتی کہ کپڑا بھی تسبیح (یعنی اللہ پاک کی پاکی بیان) کرتا ہے اور جب یہ دھونے کے قابل ہوجاتا ہے تو اس کی تسبیح ختم ہوجاتی ہے ۔ (تاریخ بغداد ، حدیث 4772)

ہم نے کیا سیکھا

ہمیں بھی چاہیئے کہ ہم مسلمان ہونے کی حیثیت سے اپنے لباس کو صاف ستھرا رکھیں ۔ اللہ پاک نے جو نعمت دی ہے اس نعمت کا اظہار کرنا اللہ پاک کو پسند ہے ، لہذا زبان سے بھی اور لباس سے بھی اس کا اظہار ہونا چاہیے البتہ ایسا نہ ہو کہ ریاکاری یا تکبر میں مبتلا ہوجائے بلکہ اظہار نعمت کے ساتھ ساتھ شکرانِ نعمت کی بھی عادت بنائے ۔

اسلام میں بالوں اور ناخنوں کی صفائی کی اہمیت

اسلام میں بالوں اور ناخنوں کی صفائی کی اہمیت

اسلام دینِ فطرت ہے، جو انسانی زندگی کے ہر پہلو میں پاکیزگی اور صفائی کو پسند کرتا ہے۔ جسمانی صفائی، ظاہری طہارت اور نفاست نہ صرف روحانی ترقی کا ذریعہ ہیں بلکہ صحت و تندرستی کے لیے بھی ضروری ہیں۔ بالوں اور ناخنوں کی صفائی اسلامی طہارت کے اصولوں کا ایک اہم حصہ ہے، جس پر قرآن و حدیث میں خاص زور دیا گیا ہے۔ ایک صاف ستھرا شخص نہ صرف خود تروتازہ محسوس کرتا ہے بلکہ دوسروں پر بھی خوشگوار اثر ڈالتا ہے۔اللہ پاک صاف رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے ، ارشاد باری تعالیٰ ہے : *إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ* ترجمہ : بے شک، اللہ توبہ کرنے والوں اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (پارہ 02، سورۃ البقرہ، آیت 222)

بالوں اور ناخنوں کوصاف رکھنے کی ترغیب پر فرمان رسول ﷺ

*عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ، وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ، وَالسِّوَاكُ، وَاسْتِنْشَاقُ الْمَاءِ، وَقَصُّ الْأَظْفَارِ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ، وَنَتْفُ الْإِبِطِ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ، وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ * ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : دس کام فطرت کے کاموں میں شامل ہیں: مونچھوں کو تراشنا، داڑھی کو بڑھانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، ناخن کاٹنا، انگلیوں کے جوڑ دھونا، بغل کے بال اکھیڑنا، زیر ناف بال صاف کرنا، اور پانی سے استنجا کرنا۔) (صحیح مسلم، حدیث 261) یہ حدیث واضح طور پر بتاتی ہے کہ ناخن تراشنا اور غیر ضروری بالوں کو صاف کرنا فطرتی اعمال میں شامل ہیں، جو انسان کی طہارت و پاکیزگی کو برقرار رکھتے ہیں۔

سیرتِ نبوی ﷺ میں اس کی ترغیب

نبی کریم ﷺ خود بھی صفائی کا بہت زیادہ اہتمام فرماتے تھے۔ آپ ﷺ ہر جمعہ کو ناخن کاٹتے اور بالوں کی صفائی کا خاص اہتمام فرماتے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: *وُقِّتَ لَنَا فِي قَصِّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمِ الأَظْفَارِ وَنَتْفِ الإِبْطِ وَحَلْقِ الْعَانَةِ أَنْ لَا نَتْرُكَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعِينَ يَوْمًا* ترجمہ : ہمیں مونچھیں تراشنے، ناخن کاٹنے، بغل کے بال صاف کرنے اور زیر ناف بال صاف کرنے کے لیے چالیس دن سے زیادہ چھوڑنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ (صحیح مسلم، حدیث 258) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: *كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَلِّمُ أَظْفَارَهُ، وَيَحْلِقُ عَانَتَهُ، كُلَّ جُمُعَةٍ*. (سنن النسائي، حدیث نمبر: 14) ترجمہ: رسول اللہ ﷺ ہر جمعہ کے دن اپنے ناخن کاٹتے اور زیر ناف بال صاف کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی تعلیمات صفائی کو کتنا اہم سمجھتی ہیں۔ آپ ﷺ اپنے صحابہ کو بھی ہمیشہ صاف ستھرا رہنے کی تلقین فرماتے تھے اور ناخنوں کے نیچے جمع ہونے والی میل سے بچنے کا حکم دیتے۔ حکیم الامّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں :ناخن میں ایک زہریلا مادہ ہوتا ہے اگر ناخن کھانے یا پانی میں ڈبوئے جائیں تو وہ کھانا بیماری پیدا کرتا ہے اسی لئے انگریز وغیرہ چھری کانٹے سے کھانا کھاتے ہیں کیونکہ عیسائیوں کے یہاں ناخن بہت کم کٹواتے ہیں ۔(اسلامی زندگی ،ص91)

سرکار ﷺ نے بکھرے بالوں کو ناپسند فرمایا

نبی پاک ﷺ بکھرے بال والوں کو دیکھتے تو ان کی تربیت فرماتے تھے سنن ابی داؤد کی روایت ہے : *عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَرَأَى رَجُلًا شَعِثًا قَدْ تَفَرَّقَ شَعْرُهُ فَقَالَ: «أَمَا كَانَ يَجِدُ هَذَا مَا يُسَكِّنُ بِهِ شَعْرَهُ* ترجمہ : جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ایک آدمی کو دیکھا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: "کیا اسے کوئی ایسی چیز نہیں ملی جس سے وہ اپنے بال سنوار لے؟۔ (سنن ابی داؤد ، حدیث 4062)

ہم نے کیا سیکھا؟

اللہ پاک صفائی کو پسند فرماتا ہے اور صاف ستھرا رہنے والوں کو بھی پسند فرماتا ہے اور صفائی ستھرائی میں ہمیں اپنے بالوں اور ناخنوں کی صفائی کا بھی خاص اہتمام رکھنا چاہیے کہ ایسا نہ ہو بال بکھرے ہیں اور ناخن بڑھے ہوئے ہیں جسے عام طور پر اچھا نہیں سمجھا جاتا ہے، لہذا ایک مسلمان کو اپنی صفائی ستھرائی کا مکمل خیال رکھنا چاہیے۔

دانتوں کی صفائی کی ترغیب سیرت رسول کی روشنی میں

دانتوں کی صفائی کی ترغیب سیرت رسول کی روشنی میں

دانتوں کی صفائی ایک اہم اور ضروری عمل ہے جو نہ صرف جسمانی صفائی کے لیے ضروری ہے بلکہ اسلام میں اس کی خاص اہمیت بھی ہے۔ اسلام میں صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے، اور دانتوں کی صفائی بھی اس میں شامل ہے۔ پیارے آقا ﷺ نے اپنی زندگی میں صفائی کے تمام پہلوؤں پر عمل کر کے ہمیں رہنمائی فراہم کی ہے اور دانتوں کی صفائی کا عمل بھی آپ ﷺ کی تعلیمات کا حصہ ہے۔

دانتوں کی صفائی کی ترغیب اورمسواک سے محبت

دانت صاف نہ رکھنے کی وجہ سے دانتوں میں میل جمع ہوجاتا ہے ، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسند فرمایا اور دانت صاف رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی مسند بزار کی روایت میں ہے: *كانوا يدخلون على رسول اللہ ﷺ ولم يستاكوا، فقال:تدخلون علي قلحا، استاكوا، فلولا أن أشق على أمتي لفرضت السواك عند كل صلاة، كما فرضت عليهم الوضوء* ترجمہ:کچھ لوگ نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے، مگر مسواک نہیں کرتے تھے۔ایک روز نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگ میرے پاس اِس طرح آتے ہو کہ تمہارے دانتوں پر پیلاہٹ جمی ہوتی ہے۔ مسواک کیا کرو۔ اگر میں اپنی امت پر دشواری محسوس نہ کرتا تو اُنہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دے دیتا، جیسا کہ ہر نماز کے وقت اُن پر وضو فرض کیا گیا ہے۔ (مسند بزار، حدیث 1303) دانتوں اور داڑھوں کی حفاظت کے متعلق سركارِ دو عالَم ﷺ نے فرمایا: *تخللوا علی أثر الطعام وتمضمضوا، فإنه مصحة للناب والناجذ* ترجمہ: کھانے کے ذرات کو دور کرنے کے لیے خلال اور کلی کیا کرو کہ ایسا کرنادانتوں اور داڑھوں کو صحت مند رکھتا ہے۔ (کنزالعمال، حدیث 40836)

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل

ہمارا پیارا دین، نظافت اور صفائی ستھرائی کے ہر پہلو پر بھی ہماری تربیت فرماتا ہے اس طرح منہ کی صفائی کے لئے پیارے آقا ﷺ نے اپنے قول و فعل سے مسواک کرنے کا حکم دیا ۔ حدیث پاک ہے : *عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: «تَسَوَّكُوا؛ فَإِنَّ السِّوَاكَ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ*، ترجمہ : حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مسواک کو لازم پکڑ لو ، بے شک مسواک منہ کو صاف کرنے والی اور رب تعالیٰ کو راضی کرنے والی ہے ۔ (سنن ابن ماجہ ، حدیث 289)

ہم نے کیا سیکھا ؟

دانتوں کی صفائی نہ صرف جسمانی صفائی کے لیے ضروری ہے بلکہ اس میں روحانی صفائی کا بھی پہلو ہے۔ نبی ﷺ نے ہمیں مسواک کرنے کی ترغیب دی تاکہ ہم اپنی صفائی کو بہتر بنا سکیں اور اللہ کی رضا حاصل کر سکیں۔ آپ نے اپنے عمل سے ہمیں دکھایا کہ صفائی کا اہتمام کس طرح کیا جانا چاہیے، اور اس عمل کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا۔ اس لئے ہم پر لازم ہے کہ ہم نبی ﷺ کی سنت کو اپنائیں اور اپنے جسم کی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔

گھر کی صفائی اور اسلام کی رہنمائی

گھر کی صفائی اور اسلام کی رہنمائی

صفائی انسان کی فطرت میں شامل ہے، اور ایک صاف ستھرا ماحول نہ صرف جسمانی بلکہ روحانی طور پر بھی سکون فراہم کرتا ہے۔ گھروں کی صفائی محض ایک سماجی عمل نہیں، بلکہ ایک اسلامی فریضہ ہے۔ ہمارا دین صفائی کو نصف ایمان قرار دیتا ہے، اور رسول اللہ ﷺ کی سیرت میں ہمیں صفائی کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں جو ہمیں سکھاتی ہیں کہ ہمیں اپنے گھروں کو صاف ستھرا رکھنے میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔

اللہ پاک صفائی کو پسند فرماتا ہے

حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ خود فرماتے ہیں کہ *إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ يُحِبُّ الطَّيِّبَ، نَظِيفٌ يُحِبُّ النَّظَافَةَ *ترجمہ : بے شک اللہ پاک ہے اور پاکیزگی کو پسند کرتا ہے، صاف ہے اور صفائی کو پسند کرتا ہے (سنن الترمذی، حدیث 2799)

رسول اللہ ﷺ بھی گھر کی صفائی میں حصہ لیتے تھے

رسول اللہ ﷺ اپنے گھر میں صفائی ستھرائی کا بہت خیال رکھتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں:* كَانَ يَخْصِفُ نَعْلَهُ، وَيَخِيطُ ثَوْبَهُ، وَيَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ كَمَا يَعْمَلُ أَحَدُكُمْ فِي بَيْتِهِ* ترجمہ : آپ ﷺ اپنے جوتے خود گانٹھتے، اپنے کپڑے خود سی لیتے اور گھر کے کام کاج میں مصروف رہتے، جیسے تم میں سے کوئی اپنے گھر میں کام کرتا ہے۔ (مسند احمد، حدیث: 24903)

ہم نے کیا سیکھا؟

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں گھر کی صفائی نہ صرف ضروری بلکہ اجر و ثواب کا باعث بھی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے گھروں کو صاف ستھرا رکھ کر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے اور رسول اللہ ﷺ کی سنت پر عمل کرنے والے بن جائیں۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ گھر کی صفائی کرنا صرف عورت کی ذمہ داری ہے حالانکہ یہ تصور غلط ہے ، انسان جہاں رہتا ہے اس کو صاف ستھرا رکھنا ،اس کی اپنی ذمہ داری بھی ہے ۔ ہمارے دین اسلام کی یہ بڑی خوبصورت تعلیم ہے ، جس سے ہمارے اکثر لوگ نا واقف ہیں اور ناواقفیت کی وجہ بھی یہ ہے کہ ہم نے سیرت رسول ﷺ کو پڑھنا اور اس کو عملی طور پر اپنی ذات پر نافذ کرنا ، اس سے دوری اختیار کرلی ہے ، گھر کے کام کاج میں عورت کا ساتھ دینا ، یا خود سے ہی گھر کی صفائی کے طور پر کچھ کام کرلینا یہ اچھا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی سیرت پر عمل کی نیت سے ہو تو ان شاء اللہ باعث ثواب بھی ہوگا ۔

سیرت النبی ﷺ سے مسجد کی صفائی کے اہتمام کی ترغیب

سیرت النبی ﷺ سے مسجد کی صفائی کے اہتمام کی ترغیب

مسجد وہ مقدس جگہ ہے جہاں مسلمان اللہ کی عبادت کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ یہ نہ صرف نماز پڑھنے کی جگہ ہے بلکہ دینی تربیت، اسلامی بھائی چارے اور روحانی سکون کا بھی مرکز ہے۔ جس طرح مسلمان خود کو وضو اور طہارت کے ذریعے پاک کرتے ہیں، اسی طرح مسجد کی پاکیزگی بھی ضروری ہے تاکہ یہ جگہ ہمیشہ روحانی برکات کا مرکز بنی رہے۔ اسلام نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے، اور مسجد کی صفائی اس ایمان کا عملی اظہار ہے۔ مسجد کی صفائی یہ وہ عظیم الشان کام ہے جس کا حکم اللہ پاک نے اپنے دو برگزیدہ نبی حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما الصلوۃ والسلام کو دیا اور اس کو قرآن کریم میں بھی ذکر فرمایا ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : *وَطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ* ترجمہ :اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں، قیام کرنے والوں، رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو۔ (پارہ 17، سورۃ الحج، آیت 26) یہ حکم حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیا گیا تھا کہ وہ بیت اللہ کو پاک صاف رکھیں، اور یہی حکم تمام مساجد کے لیے بھی ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد کی صفائی اللہ کے حکم کی تعمیل ہے اور عبادت گزاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ پاک ماحول میں عبادت کریں، خود نبی پاک ﷺ نے بھی مسجدوں کو صاف رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی : عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها قَالَتْ : *أَمَرَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم بِبِنَاءِ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّوْرِ وَأَنْ تُنَظَّفَ وَتُطَيَّبَ* ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے محلوں میں مسجدیں بنانے اور انہیں صاف ستھرا اور خوشبودار رکھنے کا حکم دیا۔

دور رسالت اور مسجد میں صفائی

نبی رحمت ﷺ کے دور مبارک میں ایک خاتون مسجد کی صفائی کیا کرتی تھی *عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا أَسْوَدَ أَوْ امْرَأَةً سَوْدَائَ کَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ فَمَاتَ فَسَأَلَ النَّبِيُّ ﷺ عَنْهُ فَقَالُوا مَاتَ قَالَ أَفَلَا کُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي بِهِ دُلُّونِي عَلَی قَبْرِهِ أَوْ قَالَ قَبْرِهَا فَأَتَی قَبْرَهَا فَصَلَّی عَلَيْهَا* ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ فام مرد یا عورت مسجد کی صفائی کیا کرتے تھے۔ جب وہ فوت ہوگئے تو نبی کریم ﷺ نے ان کے بارے میں دریافت فرمایا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: وہ وفات پا چکے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: " تم نے کیوں مجھے اس کی اطلاع نہ دی؟" پھر فرمایا: "مجھے اس کی قبر بتاؤ۔" چنانچہ آپ ﷺ ان کی قبر پر تشریف لے گئے اور ان پر نمازِ جنازہ پڑھی۔ (صحیح مسلم ، حدیث 2215)

مسجد میں گندگی دیکھ کر سرکار ﷺ کی ناراضگی اور صفائی پر خوشی کا ظہار

*عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَحَكَّتْهَا، وَجَعَلَتْ مَكَانَهَا خَلُوقًا " فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «مَا أَحْسَنَ هَذَا* ترجمہ : حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مسجد کی قبلہ دیوار پر تھوک دیکھا تو آپ ﷺ ناراض ہوئے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے چہرہ مبارک کا رنگ سرخ ہوگیا۔ پھر ایک انصاری خاتون آئیں، انہوں نے اسے کھرچ کر صاف کر دیا اور اس کی جگہ خوشبو لگا دی۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "یہ کتنا خوبصورت ہے!"

مسجد میں گندگی لانے کی اجازت نہیں

حدیث پاک ہے : نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا *إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَنْظُرْ فِي نَعْلَيْهِ فَإِنْ كَانَ فِيهِمَا أَذًى فَلْيَمْسَحْهُمَا وَيُصَلِّ فِيهِمَا* ترجمہ : جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو، تو اپنے جوتوں کو دیکھ لے، اگر ان میں گندگی ہو تو انہیں صاف کر لے، پھر انہی میں نماز ادا کرے۔(سنن ابی داؤد، حدیث: 650)

سرکارﷺ کا مسجد کی صفائی کرنا

*عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتْبَعُ غُبَارَ الْمَسْجِدِ بِجَرِيدَةٍ* ترجمہ : یعقوب بن زید سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ مسجد کے غبار کو کھجور کی ٹہنی سے صاف کیا کرتے تھے۔(تفسیر در منثور )

ہم نے کیا سیکھا

مسجد اللہ کا گھر ہے، اور اس کی صفائی و پاکیزگی کا خاص خیال رکھنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس کا حکم دیا اور خود اس پر عمل کیا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی مساجد کو ہمیشہ صاف ستھرا رکھیں، وہاں خوشبو کا اہتمام کریں، اور ان کے تقدس کو برقرار رکھیں تاکہ ہماری عبادات میں خشوع و خضوع پیدا ہو اور اللہ کی رضا حاصل ہو۔

راستے کی صفائی: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

راستے کی صفائی: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

صفائی ستھرائی ایک مہذب معاشرے کی علامت ہے، اور اسلام نے اس پر خاص زور دیا ہے۔ جس طرح ہمارا گھر اور مسجد صاف ستھری ہونی چاہیے، اسی طرح عوامی راستے بھی صاف رکھنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ گلی، سڑک، اور راستے کو گندہ کرنا نہ صرف اخلاقی برائی ہے بلکہ معاشرتی بگاڑ کا بھی سبب بنتا ہے۔ اسلام نے راستے کی صفائی کو نیکی اور صدقہ قرار دیا ہے، کیونکہ ایک صاف ستھرا ماحول نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی اور روحانی سکون کا باعث بھی بنتا ہے۔راستوں کو گندہ کرنا ، یہ راستے سے گزرنے والے افراد کے لئے بھی تکلیف و اذیت کا سبب بنتا ہے اور مسلمان کو تکلیف دینا کھلا گناہ ہے ۔ اللہ پاک قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے : *وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا* ترجمہ : اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بلا وجہ ایذا دیتے ہیں، وہ بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھاتے ہیں (پارہ 22، سورۃ الأحزاب، آیت 58) نبی کریم ﷺ نے راستے سے تکلیف دینے والی چیز کو ہٹانا صدقہ قرار دیا، ارشاد فرمایا : "*إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ*" ترجمہ ؛ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا صدقہ ہے۔(صحیح بخاری، حدیث: 2989،) یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ راستے سے پتھر، کانٹے، کچرا یا کوئی بھی تکلیف دہ چیز ہٹانا نہ صرف ایک معاشرتی خدمت ہے بلکہ یہ عبادت کا درجہ رکھتی ہے اور صدقہ تصور کیا جاتا ہے۔

مسلمان کو ان کے راستوں میں تکلیف پہنچانے والا شخص ملعون ہے

راستوں کو صاف ستھرا رکھنا اور گندگی سے ، تکلیف دہ چیزوں سے اسے صاف رکھنا ہر شہری کا اخلاقی فریضہ ہے کہ اس راستے سے گزرنے والوں کو تکلیف و اذیت نہ ہو ، نبی کریم ﷺ نے ایسے شخص کو ملعون کہا جو مسلمانوں کو ان کے راستوں میں تکلیف پہنچائے ، حدیث پاک ہے :حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: *مَنْ أَذَى الْمُسْلِمِينَ فِي طُرُقِهِمْ وُجِبَتْ عَلَيْهِ لَعْنَتُهُمْ* ترجمہ : جس نے مسلمانوں کو ان کے راستوں میں تکلیف پہنچائی، ان پر مسلمانوں کی لعنت واجب ہو جاتی ہے۔ (المعجم الأوسط للطبرانی، حدیث: 7647) اس حدیث پاک سے پتا چلا کہ راستوں کو گندہ کرنا یا ان میں رکاوٹ پیدا کرنا ایک ایسا عمل ہے جو لوگوں کی بددعا اور اللہ کی ناراضی کا سبب بنتا ہے۔

راستے سے تکلیف دہ درخت کو ہٹانے والا جنتی

نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کا ذکر کیا جس نے ایک کانٹے دار درخت راستے سے ہٹا دیا تھا، تاکہ لوگ آرام سے گزر سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی نیکی قبول کرتے ہوئے اسے جنت میں داخل فرما دیا۔*لَقَدْ رَأَيْتُ رَجُلًا يَتَقَلَّبُ فِي الْجَنَّةِ فِي شَجَرَةٍ قَطَعَهَا مِنْ ظَهْرِ الطَّرِيقِ كَانَتْ تُؤْذِي النَّاسَ* ترجمہ : میں نے ایک شخص کو جنت میں چلتے دیکھا کیونکہ اس نے ایک درخت کاٹ دیا تھا جو راستے میں لوگوں کو تکلیف دیتا تھا۔ (صحیح مسلم، حدیث: 1914)

ہم نے کیا سیکھا؟

اسلام جوکہ ایک فطری مذہب ہے اس نے راستوں کے تعلق سے خصوصی ہدایات دی ہیں۔ نظام زندگی میں اس کی اہمیت کو تسلیم کئے جانے کے باوجود انسان کا مزاج یہ ہے کہ عام حالات اور ایام میں وہ اس کی طرف توجہ نہیں دیتے بلکہ اپنے حال پر خوش ہیں چاہیں راستے ، گزرگاہیں خراب ہو ، گندے ہو ، ٹوٹے پھوٹے ہو کسی بات کی فکر نہیں ، زندگی جیسے گزر رہی ہے ، گزرتی رہے بلکہ بحیثیت مسلمان ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیئے کہ راستوں کی صفائی صرف ایک سماجی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ ایک عبادت اور صدقہ ہے۔ جو لوگ اس کا اہتمام کرتے ہیں، وہ نہ صرف دنیا میں عزت پاتے ہیں بلکہ آخرت میں بھی اللہ کی رحمت کے مستحق بنتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے راستے کی صفائی پر بہت زور دیا اور اس عمل کو جنت میں داخلے کا سبب قرار دیا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی ان تعلیمات پر عمل کریں اور اپنے معاشرے کو صاف ستھرا بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

کھانے سے پہلے اور بعد صفائی کا اہتمام

کھانے سے پہلے اور بعد صفائی کا اہتمام

دین اسلام نے مسلمانوں کو کھانا کھانے سے پہلے اور بعد بھی صفائی کا خاص خیال رکھنے کی تاکید کی ہے اور دین اسلام میں اس بات کی ترغیب ہر ذی شعور سمجھتا ہے کہ کس قدر اہمیت رکھتی ہے کیونکہ پیارے محبوب ﷺ نے اس کی باقاعدہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کو تعلیم بھی دی اور ساتھ ہی اپنے عمل کے ذریعے صحابہ کرام کی تربیت بھی فرمائی ۔ حدیث پاک میں کھانے سے پہلے اور بعد ہاتھ دھونے کو کھانے کی برکت کہا گیا ہے روایت ہے : *عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ قَالَ: قَرَأْتُ فِي التَّوْرَاةِ أَنَّ بَرَكَةَ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ بَعْدَهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ﷺ، فَقَالَ: بَرَكَةُ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ قَبْلَهُ وَالْوُضُوءُ بَعْدَهُ* ترجمہ : حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے تورات میں پڑھا کہ کھانے کے بعد وضو (ہاتھ دھونا) برکت ہے، تو میں نے نبی کریم ﷺ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: "کھانے کی برکت یہ ہے کہ کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھویا جائے۔ (سنن ترمذی، حدیث: 1846)

لقمہ گرجائے تو اسے اٹھا کر صاف کرکے کھالے

*عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: "إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ، فَلْيَأْخُذْهَا وَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنْ أَذًى، ثُمَّ لِيَأْكُلْهَا، وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ، وَلْيَلْعَقْ أَحَدُكُمْ أَصَابِعَهُ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ الْبَرَكَةُ* ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے اٹھا کر صاف کر کے کھا لے اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے۔ اور اپنی انگلیاں چاٹ لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔ (صحیح مسلم، حدیث: 2034)

کھانے کے بعد خلال کرنے کی فضیلت

*عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: تَخَلَّلُوا فَإِنَّهُ نَظَافَةٌ، وَالنَّظَافَةُ تَدْعُو إِلَى الْإِيمَانِ، وَالْإِيمَانُ مَعَ صَاحِبِهِ فِي الْجَنَّةِ* ترجمہ ؒ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "خلال کرو، کیونکہ یہ صفائی ہے، اور صفائی ایمان کی طرف بلاتی ہے، اور ایمان اپنے حامل کو جنت میں لے جاتا ہے۔ (طبرانی، المعجم الأوسط، حدیث: 7613)

کھانے کے بعد ہاتھ نہ دھوئے تو نقصان پر اپنے آپ کو ہی ملامت کرے

* عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ نَامَ وَفِي يَدِهِ غَمَرٌ وَلَمْ يَغْسِلْهُ، فَأَصَابَهُ شَيْءٌ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ* ترجمہ : جو شخص کھانے کے بعد ہاتھ نہ دھوئے اور سوتے وقت اس کے ہاتھ پر کھانے کے اثرات باقی رہیں، اور کوئی چیز اس کو نقصان پہنچائے، تو وہ خود کو ہی ملامت کرے۔ (سنن ابی داؤد ، حدیث: 3852) اس حدیث پاک سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کھانا کھانے کے بعد ہاتھ دھونا کس قدر اہم ہے کہ کھانا کھانے کے بعد ہاتھوں کی صفائی نہ کرنے کی وجہ سے نقصان بھی ہوسکتا ہے ۔

کھانے کے بعد منہ کی صفائی کا اہتمام کرنے کی ترغیب

*عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : "إِذَا أَكَلْتُمْ شَيْئًا فَتَمَضْمَضُوا، فَإِنَّ ذَلِكَ أَنْقَى لِفِيكُمْ وَأَطْيَبُ* ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب تم کچھ کھاؤ تو کلی کرو، کیونکہ یہ منہ کی صفائی اور تازگی کے لیے بہتر ہے۔(سنن ابن ماجہ، حدیث404)

نبی پاک ﷺ کا کھانے سے پہلے اور بعد صفائی کا اہتمام فرمانا

نبی پاک ﷺ سے بھی کھانا کھانےسے قبل ہاتھ دھونا یعنی صفائی کا اہتمام کرنا ثابت ہے ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں : *وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ غَسَلَ يَدَيْهِ* ترجمہ : نبی پاکﷺ جب کھانا تناول فرمانے کا ارادہ فرماتے تو اپنے ہاتھوں کو دھو لیتے ۔ (سنن نسائی ، حدیث 256)

قضائے حاجت کے بعد صفائی کا اہتمام

قضائے حاجت کے بعد صفائی کا اہتمام

صفائی اور طہارت اسلامی زندگی کا بنیادی جز ہے، اور طبعی حاجت کے بعد صفائی کا خاص اہتمام کرنا دینِ اسلام کا لازمی تقاضا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے جسمانی پاکیزگی کو روحانی ترقی اور صحت کے لیے انتہائی ضروری قرار دیا ہے۔ بیت الخلا کے آداب، طہارت کے اصول اور صفائی کا اہتمام نہ صرف ظاہری طہارت کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ عبادات کی قبولیت کے لیے بھی ایک اہم شرط ہے۔شریعت مطہرہ میں مسلمانوں کو پاکی اور صفائی کی تاکید کرکے مسلمان کو مشقت میں نہیں ڈالا ؛ قرآن مجید میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے : *مَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّ لٰـكِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَهِّرَكُمْ* ترجمہ : اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر کچھ تنگی رکھے لیکن وہ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں خوب پاک کردے (پارہ 06، سورۃ المائدہ، آیت 06) اور صفائی کا اہتمام کرنے والوں کے بارے میں فرمایا: *إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ* ترجمہ : بے شک اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔(پارہ 02، سورۃ البقرہ، آیت 222)

پیشاب کے بعد صفائی کا اہتمام

نبی پاک ﷺ نے قضائے حاجت یعنی پیشاب کے بعد صفائی کا اہتمام کرنے کی اس قدر تاکید فرمائی کہ پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنا عذاب قبر کا سبب قرار دیا ، حدیث پا ک ہے : *عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَكْثَرُ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنَ الْبَوْلِ* ترجمہ : سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا : عذاب قبر اکثر پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے ۔(مستدرک للحاکم ، حدیث 653) ایک روایت میں آپﷺ نے پیشاب کے چھینٹوں سے بچنے کا حکم دیا : *عَامَّةُ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنَ الْبَوْلِ فَتَنَزَّهُوا مِنَ الْبَوْلِ* ترجمہ : عذاب قبر عموما پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے لہذا پیشاب کے چھینٹوں سے بچو ۔(سنن دارقطنی ، حدیث 466)

قضائے حاجت میں نبی پاک ﷺ کا صفائی کا اہتمام

*عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَدْخُلُ الخَلاَءَ، فَأَحْمِلُ أَنَا وَغُلاَمٌ إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ وَعَنَزَةً، يَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ* ترجمہ : حضرت عطاء بن ابی میمونہ سے روایت ہے ، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی پاکﷺ جب قضائے حاجت کے لئے تشریف لے جاتے تو میں اور ایک خادم پانی کا ایک برتن اور چھوٹی لاٹھی لے کر جاتے ، نبی پاک ﷺ پانی کے ذریعے استنجاء (یعنی صفائی کا اہتمام ) فرماتے تھے ۔ (صحیح بخاری، حدیث، 152)

دنیا میں صفائی کے نام پر منائے جانے والے ایام اور اسلام کی حقانیت

دنیا میں صفائی کے نام پر منائے جانے والے ایام اور اسلام کی حقانیت

اسلام کی آمد سے قبل عرب معاشرہ جہاں بے شمار سماجی و اخلاقی برائیوں میں مبتلا تھا وہیں جسمانی اور ماحولیاتی گندگی اور نجاست بھی اس سماج کا ایک جزو بن گئی تھی ۔ ان کی غیر مہذب قبائلی زندگی میں صفائی اور نفاست کے لئے کوئی جگہ نہیں تھی ان کے رہن سہن اور طور طریقے کسی اصول کے پابند نہیں تھے، غسل کرنا ان کے لئے ایک غیر ضروری عمل تھا۔ حدیث پاک سے بھی یہ مفہوم ملتا ہے کہ عرب کے یہودیوں میں گندگی عام تھی اور وہ اپنے گھر وں میں صفائی کوکوئی اہمیت نہیں دیتے تھے سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا : *أَفْنِيَتَكُمْ وَلَا تَشَبَّهُوا بِاليَهُودِ* ترجمہ : اپنے گھر وں کو صاف رکھو اور یہودیوں کے نقش قدم پر مت چلو۔ (جامع ترمذی ، حدیث 2799)۔ اس حدیث سے پتا چلتا ہے کہ یہودی گھروں کو صاف نہیں رکھتے تھے ، اسی لئے نبی پاک ﷺ نے فرمایا کہ ان کی مشابہت اختیار نہ کر۔ لہٰذا اسلام نے جہاں انسان کو روحانی پاکیزگی عطا کی، ان کے اخلاق کو سنوار ا اور تہذیب سے آشنا کیا وہیں اس نے معاشرے کو حفظان صحت کے اصول سکھائے اور انسانوں کو رہن سہن ،اٹھنے بیٹھنے اور لباس پہننے کا سلیقہ بھی سکھایا ۔لہٰذا قرآن میں متعدد آیتیں صفائی اور طہارت سے متعلق ہیں۔اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے : *وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْ* ترجمہ :‘‘اپنے لباس کو صاف رکھو’’ (پارہ 30، سورۃ المدثر ، آیت 04) ایک اور مقام پر اللہ پاک نے ارشاد فرمایا : *یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ* ترجمہ:‘‘اے اولاد آدم! ہر نماز کے وقت خود کو سنوارو’’ (پارہ 08، سورۂ الا عراف، آیت 31) ان آیات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام میں روحانی پاکیزگی کے ساتھ ساتھ جسمانی صفائی اور پاکیز گی کی بھی بڑی اہمیت ہے۔ اللہ انہیں محبوب رکھتا ہے جو لوگ اس سے توبہ کے ذریعہ رجوع کرتے ہیں اور خود کو جسمانی طور پر بھی پاک وصاف رکھتے ہیں۔ ظاہر ہےکہ قرآن نے مسلمانوں کو اپنے لباس کو صاف رکھنے ، ہر نماز کے لیے خود کو سنوارنے اور صفائی اور نفاست کی تلقین اس لیے کی کہ اسلام سے قبل عرب کا معاشرہ صفائی سےبہت دور تھا۔ عرب معاشرہ جو یہودیوں ، بت پرستوں اور عیسائیوں پر مشتمل تھا حفظان صحت اور جسمانی صفائی کو کوئی اہمیت نہیں دیتا تھا ۔ وہ اپنے گھروں ، محلّوں اور خود اپنے آپ کو گندہ رکھتے تھے ۔ انگریز ادیبہ کیتھرائن ایشن برگ اپنی کتاب دی ڈرٹ آئن کلین (The Dirt on Clean) میں لکھتی ہیں ‘‘ بہت سے قدیم پادریوں نے گندگی کو بڑے شوق سے گلے لگایا ۔ ایک عیسائی خانقاہ کے سربراہ نے راہبوں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا تھا ‘‘ پاک جسم اور پاک لباس کا مطلب ہے ناپاک روح’’ ۔ اسپین میں غسل کو بدی کی علامت کہا جاتا تھا۔ لہٰذا جب سرکاری تفتیش کارو (پولس) کو کسی ملزم کے متعلق پتہ چلتا تھا کہ وہ نہاتا بھی ہے تو اس کے مجرم ہونے میں کوئی شک نہیں رہ جاتا تھا کیو نکہ ان کے خیال میں نہانے والا شخص اچھا آدمی ہو ہی نہیں سکتا ۔ اسی طرح چرچ کے پادری اس شخص کا گناہ معاف نہیں کرتے تھے جس کے بارے میں انہیں معلوم ہوتا تھا کہ وہ نہانے کا عادی ہے۔ لیکن اسلام نے آغاز ہی سے غسل کو جسمانی طہارت کا اصل ذریعہ قرار دیا او ر چند مخصوص حالات میں غسل کو فرض قرار دیا۔ لہٰذا اسلام کی آمد کے ساتھ مسلمانوں کی زندگی میں ڈسپلن آیا اسلام نے انہیں جسم کو پاک وصاف رکھنے کے اصول سکھائے ۔حضورﷺ نے قرآن کی روشنی میں مسلمانوں کی نہ صرف مذہبی واخلاقی رہنمائی فرمائی بلکہ انہیں صاف ستھرا رہنے ، کپڑوں کو صاف رکھنے اور اپنے گھروں ،راستوں اور اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کی بھی ہدایت فرمائی۔ اسلام کے علاوہ دیگر ادیان و مذاہب میں صفائی سے متعلق اتنی خوبصورت تعلیم نہیں دی گئی لیکن غور کیا جائے تو آج دوسرے مذہب کے پیروکار اس بات پر مجبور ہوگئے ہیں کہ اپنی قوم کو صفائی کی طرف لائیں ، اور اس کے لئے انہوں نے صفائی کوفیشن اور تہوار کے طور پر منانا شروع کیا ہوا ہے ۔ یہاں ہم چند ان ایام کا ذکر کررہے ہیں جو پوری دنیا میں عالمی سطح پر صفائی کی غرض سے منائے جاتے ہیں ۔

1. عالمی یوم صفائی (World Cleanup Day)

16ستمبر 2008 کو ایسٹونیا میں 50,000 لوگ جمع ہوئے تاکہ صرف پانچ گھنٹوں میں پورے ملک کو صاف کیا جا سکے۔ اس عمل نے دنیا بھر کے لوگوں کو ایسا کرنے کی ترغیب دی۔ "ایک ملک، ایک دن" کے فارمولے کے ارد گرد دلچسپی پیدا ہوئی۔ اس کے آغاز کے بعد سے، 70 ملین سے زیادہ رضاکاروں نے 191 ممالک میں صفائی کے عالمی دن میں حصہ لیا ہے۔اور یہی 16 ستمبر عالمی یوم صفائی کے نام سے دنیا بھر میں منایا جانے لگا ۔

2. عالمی یوم ماحولیات World Environment Day) )

عالمی یوم ماحولیات ہر سال 5 جون کو منایا جاتا ہے۔ عالمی یوم ماحولیات کا مقصد آلودگی کی بڑھتی ہوئی سطح اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ماحول کو لاحق خطرے کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے۔ پہلا عالمی یوم ماحولیات 1974 میں منایا گیا ، جس نے ماحول میں مثبت تبدیلی کے لیے ایک عالمی پلیٹ فارم دیا ۔

3. عالمی یوم پانی (World Water Day )ٌ

یہ بات ایک حقیقت ہے کہ انسان کی زندگی میں ماحول کی صفائی کے بعد سب سے اہم چیز خالص اور صاف پانی ہے ۔ یوں تو پانی صحت کے لیے بے حد مفید ہے۔ لیکن جب یہی پانی آلودہ ہو جاتا ہے تو ہمارے لیے سخت مضر ہو جاتا ہے، کیونکہ آلودہ پانی پینے سے ہیضہ، اسہال، پیچش، ، یرقان کی بیماریاں ہو سکتی ہیں۔ بلاشبہ پانی ہماری زندگی کی اوّلین ضرورت ہے جس کا درست اورضروری مقدار میں استعمال ہمیں بہت سے بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ لیکن الَمیہ ہے کہ دنیا کو قلتِ پانی کا سامنا ہے۔ پانی بقائے حیات کے لیے کتنا اہم ہے اس سے تو ہم سب ہی واقف ہیں لیکن ہماری بد نصیبی ہے کہ فضائی آلودگی اور دیگر کئی اسباب کے تحت صاف پانی کی فراہمی سنگین مسئلہ بن گئی ہے۔ پانی کا ضائع کرنا بھی ایک مسئلہ ہے۔اسی لئے ہر سال 22 مارچ کو عالمی یومِ آب یا پانی کا دن منایا جاتا ہے جس کا مقصد لوگوں میں پانی کی اہمیت اور انسانی آبادی کو پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے درپیش مشکلات کو زیر بحث لانا ہے اور ساتھ ہی صاف پانی پینے کی ترغیب دلانا ہے ۔

4. عالمی یوم زمین (Earth Day )

ہر سال 22 اپریل کو عالمی یوم مدر ارتھ (International Mother Earth Day) کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن آلودگی میں بے تحاشہ اضافے اور دیگر سرگرمیوں کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے منایا جاتا ہے جس سے ماحول کو بالواسطہ یا بلاواسطہ نقصان پہنچتا ہے اور اس کے نتیجے میں کرہ ارض کی تباہی ہوتی ہے۔ اس دن کے بارے میں خیال آلودگی جیسے کئی چیلنجز کے بعد وجود میں آیا اور اسموگ (دھواں اور خاص کر سگریٹ نوشی) ماحولیاتی نقصان کی بڑی وجہ بن گئی۔

5. عالمی یوم ہاتھ دھونا (Global Handwashing Day )

ہاتھ دھونے کا عالمی دن ( Global Handwashing Day) ہر سال دنیا بھر میں 15 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ یہ ایک عالمی مہم ہے اور اس دن کو منانے کا مقصد دنیا بھر کے عوام میں ہاتھ دھونے کی اہمیت اور اس کے صحت پر ہونے والے اثرات کا شعور اُجاگر کیا جانا ہے۔ اس دن کو منانے کی ابتدا 2008ء کو ہوئی۔

6. عالمی یوم بیت الخلا World Toilet Day) )

عالمی یومِ بیت الخلا کا قیام ، اس مقصد کے لیے عمل میں آیا کہ دنیا بھر میں اربوں افراد کو ناکافی صفائی ستھرائی کی سہولیات کی وجہ سے درپیش چیلنجوں کو اجاگر کیا جا سکے۔ یہ دن عوامی اور ماحولیاتی صحت کو برقرار رکھنے میں بیت الخلاء کی سہولیات کے لازمی کردار پر زور دیتا ہے، جو مہلک بیماریوں جیسے ہیضہ کے پھیلاؤ کو روکنے میں مددگار ہیں۔ 3.5 ارب افراد ابھی بھی پائیدار صفائی ستھرائی کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں، جب کہ دنیا بھر میں 419 ملین افراد کھلے میں رفع حاجت کرنے پر مجبور ہیں، جس سے صفائی ستھرائی کی خدمات کی اشد ضرورت ظاہر ہوتی ہے۔اسی لئے ہر سال 19 نومبر کو منایا جانے والا ’عالمی یومِ بیت الخلا ‘ ، اقوامِ متحدہ کے ذریعے با ضابطہ طور پر منایا جاتا ہے ، جس کا مقصد ، صفائی ستھرائی کے سنگین بحران کے بارے میں عالمی پیمانے پر بیداری اور عمل آوری کو فروغ دینا ہے۔ 2013 ء سے منائے جانے والے اس دن کو ، محفوظ اور قابلِ رسائی بیت الخلا کی اہمیت پر زور دینے کے لیے وقف کیا گیا ہے۔ عالمی سطح پر صفائی کے نام پر منائے جانے والے یہ چند ایام یہاں ذکر کئے ہیں، اس کے علاوہ مزید ایسے دن دنیا میں منائے جاتے ہیں ۔ دیکھا جائے تو ان دنوں کو منانے کی ابتداء مسلمانوں نے نہیں کی ہے ، اس کی وجہ ہی یہ ہے کہ اسلام نے مسلمانوں کو نظام ہی صاف ستھرا دیا ہے۔ عبادات ، معاملات ، سماجی و معاشرتی زندگی میں صفائی کے نظام پر اسلام نے بہت زور دیا ہے ۔ اور یہی بات اسلام کی حقانیت کو جاننے کے لئے کافی ہے کہ آج دنیا جس طرف جارہی ہے ، اسلام نے مسلمانوں کو یہ سارانظام چودہ سو سال پہلے ہی دے دیا۔ اللہ کریم ہم سب کو سیرت رسول ﷺ پر چلنے کا حقیقی جذبہ عطا فرمائے اور ہمیں ظاہر ی ، باطنی صفائی و پاکی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین )