حضور  ﷺ کا روزے رکھنا

حضور ﷺ کا روزے رکھنا

نبی پاک ﷺ کی عبادات

حدیث

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیہ وَ آلہِ وَسَلَّم فَقَالَ کَانَ يَصُومُ مِنَ الشَّهْرِ حَتَّی نَرَی أَنْ لا يُرِيدَ أَنْ يُفْطِرَ مِنْهُ وَيُفْطِرُ مِنْهُ حَتَّی نَرَی أَنْ لا يُرِيدَ أَنْ يَصُومَ مِنْهُ شَيْئًا وَکُنْتَ لا تَشَائُ أَنْ تَرَاهُ مِنَ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلا رَأَيْتَهُ مُصَلِّيًا وَلا نَائِمًا إِلا رَأَيْتَهُ نَائِمًا۔

(شمائل ترمذی حدیث 278)

ترجمہ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے نبی کریم ﷺ کے روزہ مبارک کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ حضور اکرمﷺ کسی مہینے میں اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے کہ ہمیں گمان ہوتا کہ شاید اب ( آپ کا) افطار کا ارادہ نہیں اور کبھی مسلسل روزے چھوڑ دیتے ۔ یہاں تک کہ ہمیں خیال ہوتا کہ اب آپ روزہ رکھنے کا قصد نہیں فرمائیں گے اور اگر (اے مخاطب) تو نبی کریم ﷺ کو رات کے وقت نماز کا حالت میں دیکھنا چاہے تو آرام فرما ہی دیکھے گا (یعنی نبی کریم ﷺ رات کو عبادت فرماتے تھے اور آرام بھی۔)

حکایت

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حضور اقدس ﷺ کو (رمضان کے علاوہ) شعبان سے زیادہ کسی ماہ میں روزے رکھتے نہیں دیکھا۔ شعبان کے اکثر حصہ میں آپ ﷺ روزے رکھتے تھے، بلکہ (قریب قریب) تمام مہینہ کے روزے رکھتے تھے۔ (فیضان ریاض الصالحیں حدیث 1247) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدسﷺ ہر مہینہ کے شروع میں تین دن روزہ رکھا کرتے تھے اور جمعہ کے دن بہت کم افطار فرماتے تھے۔ (شمائل ترمذی حدیث 282) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس ﷺ (کبھی) ہر مہینہ کے تین روزے اس طرح بھی رکھتے تھے کہ ایک مہینہ میں ہفتہ، اتوار، پیر کو روزہ رکھ لیتے اور دوسرے ماہ میں منگل، بدھ، جمعرات کو، ایامِ بیض یعنی چاند کی تیرہ ، چودہ اور پندرہ تاریخوں کے روزے نہ سفر کی حالت میں چھوڑتے اور نہ ہی حضر کی حالت میں چھوڑتے۔ حضورﷺ نے دس محرم شریف کاروزہ خود بھی رکھا اور اس کے رکھنے کاحکم بھی ارشاد فرمایا۔ پیر اور جمعرات کے دن کے روزے کا خاص خیال فرماتے ۔اور ان دونوں دنوں کے متعلق ارشاد فرمایا کہ ”پیر اور جمعرات کو اعمال ( بارگاهِ الٰہی میں ) پیش کئے جاتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرا عمل روزے کی حالت میں پیش ہو۔ نیز ایک مرتبہ آپ ﷺ سے جب پیرشریف کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا گیا توارشاد فرمایا :*"ذَاکَ یَوْمٌ وُلِدْتُ فِیْهِ ، وَیَوْمٌ بُعِثْتُ ، اَوْ اُنْزِلَ عَلَيَّ فِیْهِ "*یعنی یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی اور اسی دن میں مبعوث ہوا یا مجھ پر قراٰن نازل فرمایا گیا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:جس نے رمضان کے مہینے کا ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے روزہ رکھا تو اس کے گذشتہ سارے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے رمضان کے روزے کی بے شمار فضیلتیں بیان فرمائی۔ اور خود بھی ہمیشہ اس مہینے کا روزہ رکھا اور اپنی امت کو بھی اس کی تاکید فرمائی۔ ہاں البتہ ،سفر ،مرض وغیرہ کی صورت میں نہ رکھنے کی رخصت بیان فرمائی اور آپ ﷺ نے بھی دونوں صورتوں پر عمل کیا کبھی آپﷺ نے رکھا اور کبھی نہیں ۔ چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :رسول اللہ ﷺنے رمضان المبارک میں سفر کیا اور روزہ رکھا ۔جب مقام عسفان پہنچے تو آپﷺ نے ایک برتن منگایا جس میں پینے کی کوئی چیز تھی ،آپ ﷺ نے اس کو دن میں نوش فرمایا تاکہ سب لوگ دیکھ لیں۔ پھر آپ ﷺ نے روزے نہیں رکھے یہاں تک کہ مکہ پہنچ گئے ۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سفر میں روزے رکھے بھی ہیں اور چھوڑے بھی ہیں ۔ (فیضان ریاض الصالحین)