حضورﷺ کی عبادت و خوف خدا

حضورﷺ کی عبادت و خوف خدا

نبی پاک ﷺ کی عبادات

حدیث

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَکَيْتُمْ کَثِيرًا وَلَضَحِکْتُمْ قَلِيلًا،

(صحیح بخاری،حدیث6637)

ترجمہ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ ابو القاسم ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے اگر تم لوگ ان حقیقتوں کو جان لیتے جنہیں میں جانتا ہوں تو تم بہت زیادہ روتے اور کم ہنستے۔

حکایت

آپ ﷺ کی عبادت کا یہ عالم تھا کہ کثرت قیام شب کے سبب سے آپ ﷺ کے پاؤں مبارک پر ورم آگیا تھا۔ صحابہ کرام رضوان الله تعالى عليهم اجمعین نے عرض کیا کہ آپ ﷺ یہ تکلیف و محنت کیوں اٹھاتے ہیں حالانکہ خدا تعالیٰ نے آپ ﷺ کے سبب آپ کے اگلوں پچھلوں کے گناہ بخش دیئے ہیں آپﷺ نے جواب میں فرمایا: کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں یعنی کیا میں اس بات کا شکر نہ کروں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ رسول الله ﷺ تمام رات نماز میں کھڑے رہے اور قرآن کی ایک ہی آیت بار بار پڑھتے رہے۔ اللہ کریم کے آخری نبی ﷺ کو نماز سے بہت محبت تھی، آپﷺ نے نماز کو اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک فرمایا۔ جب نماز کا وقت ہوتا تو آقا کریم ﷺ حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرماتے : *"قُم یا بِلَالُ فَاَرِحْنَا بِالصَّلَاۃِ" *اے بلال ! اٹھو اور ہمیں نماز سے راحت پہنچاؤ۔ (سیرت رسول عربیﷺ ص 363) *حضورﷺ کا انداز نماز:* حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول الله ﷺ کو رات کے ایک حصے میں نماز پڑھتے دیکھا آپ ﷺ یوں پڑھتے تھے: *"الله اکبر"* ( تین بار ) *"والْمُلْكِ وَالْجَبَرُوتِ وَ الْكِبْرِيَاءِ وَ الْعَظَمَةِ "*. پھر دُعائے استفتاح پڑھتے تھے، بعد ازاں آپ ﷺ نے (سورہ فاتحہ کے بعد ) سورۂ بقرہ پڑھ کر رکوع کیا۔ آپ ﷺ کا رکوع (طوالت میں ) مانند قیام کے تھا اور اس میں *"سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ"* پڑھتے تھے۔ پھر آپ ﷺ نے رکوع سے سر اٹھایا۔ آپﷺ کا قومہ مانند رکوع کے تھا۔ پھر آپ نے سجدہ کیا۔ آپﷺ کا سجدہ مانند قومہ کے تھا۔ آپﷺ سجدہ میں *"سُبْحَانَ رَبِّی الاعلی"* پڑھتے تھے۔ پھر آپ ﷺ نے سجدہ سے سر اٹھایا ، آپ ﷺ دو سجدوں کے درمیان مانند سجدہ کے بیٹھتے تھے اور *"ربِّ اغْفِرْ لِی، رَبِّ اغْفِرْ لِی"* پڑھتے تھے۔ اس طرح آپ ﷺ نے چار رکعتیں پڑھیں اور ان میں سُورَة بَقَرَة و آلِ عِمْرَان و نِسَاء اور مَائِدَة يَا أَنْعَام ختم کیں ۔ آپ ﷺکو خوف الہی کمال درجہ کا تھا۔ حضرت عبداللہ بن الشخیر روایت کرتے ہیں کہ ایک روز میں رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا کیا دیکھتا ہوں کہ آپ ﷺ نماز پڑھ رہے ہیں اور رونے کے سبب سے آپ ﷺ کے شکم مبارک سے تابنے کی دیگ ( کے جوش ) کی مانند آواز آرہی ہے۔ (سیرت رسول عربیﷺ ص364)

اہم نکات

  • پوری کائنات کے سردار ہونے کے باوجودحضور ﷺ کی عبادت اور خوف خدا کا یہ عالم تھا ، پوری رات رب کی عبادت کرتے اور رب کی بارگاہ میں روتے۔
  • رب کا خوف دل میں ہونا ضروری ہے ، یہ رب کی رضا کا ذریعہ ہے۔ الله پاک کی عبادت کو خود پر لازم کر لینا ہی کامل مومن کی پہچان ہے ۔
  • اس سے ہمیں ایک چیز یہ بھی سیکھنے کو ملی کہ ہمیں اپنے رب کی نعمتوں کا ہر حال میں شکر ادا کرتے رہنا چاہئے ۔