

عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ صَلَّی رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم حَتَّی انْتَفَخَتْ قَدَمَاهُ فَقِيلَ لَهُ أَتَتَکَلَّفُ هَذَا وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ أَفَلا أَکُونُ عَبْدًا شَکُورًا۔
شمائل ترمذی (حدیث 244)حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نماز (تجد ) پرھتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے مبارک قدموں میں ورم آگئے ، عرض کیا گیا کہ آپ اتنی تکلیف کیوں اٹھاتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے سبب آپ سے پہلوں اور پچھلوں کے گناہ بخش دیے ہیں، فرمایا کیا (پھر) میں اللہ کا شکر ادا نہ کروں؟
حضرت زید بن خالد رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک دن یہ ارادہ کیا کہ حضور اقدس ﷺ کی نماز کو آج غور سے دیکھوں گا۔ میں آپ ﷺ کے مکان یا خیمہ کی چوکھٹ پر سر رکھ کر لیٹ گیا (تاکہ غور سے دیکھتا رہوں) حضور اقدس ﷺ نے اول دو مختصر رکعتیں پڑھیں۔ اس کے بعد طویل طویل دو دو رکعتیں پڑھیں پھر ان سے مختصر دو رکعتیں پڑھیں پھر ان سے بھی مختصر دو رکعتیں پڑھیں پھر وتر پڑھے یہ سب تیرہ رکعتیں ہوئی۔ (شمائل ترمذی حدیث 252) حضرت اسودبن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اُمُّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبیِّ پاک ﷺ کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا کہ رات کو آقا کریم ﷺ کا کیا معمول تھا ؟ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : آپ ﷺ رات کے پہلے حصہ میں سو جاتے ، پھر اُٹھ کرقیام فرماتے تھے ، اس کے بعد جب سحری کا وقت قریب ہوتا تو آپﷺ وتر ادا فرماتے ، پھر آپ ﷺ اپنے بستر پر تشریف لے آتے ، پھر اگر آپﷺ کو رغبت ہوتی تو اپنی اہلیہ کے پاس جاتے ، پھر جب اذان سنتے توآپﷺ تیزی سے اٹھتے ، اگر غسل کی حاجت ہوتی تو غسل فرماتے ورنہ صرف وضو فرما لیتے اور نماز کے لئے تشریف لے جاتے۔ (شمائل ترمذی حدیث 247) اللہ کے پیارے نبی ﷺ تمام عمر نمازِ تہجد کے پابند رہے ، راتوں کے نوافل کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔ بعض روایتوں میں یہ آیا ہے کہ آپﷺ نمازِ عشاء کے بعد کچھ دیر سوتے پھر کچھ دیر تک اٹھ کر نماز پڑھتے پھر سو جاتے پھر اٹھ کر نماز پڑھتے۔ صبح تک یہی حالت قائم رہتی۔ کبھی دو تہائی رات گزر جانے کے بعد بیدار ہوتے اور صبح صادق تک نمازوں میں مشغول رہتے ۔کبھی آدھی رات گزر جانے کے بعد بسترسے اٹھ جاتے اور پھر ساری رات بستر سے پیٹھ نہیں لگاتے تھے اور لمبی لمبی سورتیں نمازوں میں پڑھا کرتے،کبھی رکوع و سجود طویل ہوتا توکبھی قیام طویل ہوتا۔ کبھی چھ رکعت ، کبھی آٹھ رکعت ، کبھی اس سے کم کبھی اس سے زیادہ پڑھا کرتے۔ عمر شریف کے آخری حصے میں کچھ رکعتیں کھڑے ہو کر کچھ بیٹھ کر ادا فرماتے ، نمازِ وتر نمازِ تہجد کے ساتھ ادا فرماتے تھے چنانچہ آقاکریم ﷺ کی نمازِ تہجد کی کیفیت بیان کرتے ہوئے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ایک رات میں نے نبیِّ پاک ﷺ کے ساتھ نماز ( تہجد )پڑھی۔ آپ نے سورۂ بقرہ پڑھنی شروع کی۔ میں نے دل میں کہا کہ آپﷺ سو آیات پڑھ کر رکوع میں چلے جائیں گے ، لیکن آپ پڑھتے رہے۔ پھر میں نے دل میں کہا کہ آپﷺ اسے ایک رکعت میں ختم کریں گے۔ مگر آپ ﷺ پڑھتے رہے۔ میں نے سوچا کہ آپ اسے پڑھ کر رکوع کریں گے۔ لیکن آپﷺ نے سورۃ النسآء شروع کردی اور اسے پورا پڑھ ڈالا۔ پھر آپ ﷺ نے اٰلِ عمراٰن شروع کی اور اسے بھی پورا پڑھ ڈالا۔ آپ ﷺ ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کررہے تھے۔ جب آپﷺ کا گزر کسی ایسی آیت پر ہوتا جس میں تسبیح ( اللہ کی پاکی ) کا بیان ہوتا ، تو آپ ﷺ تسبیح کرتے اور جب کسی ایسی آیت سے گزرتے ، جس میں ( اللہ سے ) مانگنے کا ذکر ہوتا ، تو مانگتے اور اگر کسی ایسی آیت سے گزرتے ، جس میں پناہ مانگنے کا ذکر ہوتا ، تو پناہ مانگتے۔ پھر آپ ﷺ نے رکوع کیا اور* ”سُبْحَانَ رَبِّي الْعَظِيم“* پڑھنے لگے۔ آپ ﷺ کا رکوع آپ ﷺ کے قیام کے بقدر تھا۔ پھر آپ نے*”سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَه رَبَّنَا لَكَ الْحَمْد“ *کہا اور طویل وقت تک کھڑے رہے ، جو رکوع کے لگ بھگ تھا۔ پھر آپ ﷺ نے سجدہ کیا اور* ”سُبْحٰن رَبِّيَ الْاَعْلٰى“* پڑھنے لگے۔ آپ کا سجدہ آپ کے قیام کے بقدر تھا۔ (مسلم ، حدیث 1814) *نبی پاک ﷺ کے نفلی روزوں کا انداز:* نبی رحمت ﷺ کارمضان المبارک کے فرض روزوں کے علاوہ نفلی روزے رکھنے کا بھی معمول تھا چنانچہ اُمُّ المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبیِّ پاک ﷺ کبھی اتنے روزے رکھتے تھے کہ ہمارا خیال ہوتا کہ اب کبھی روزے نہ چھوڑیں گےاور پھر آپ کبھی اتنے روزے چھوڑ دیتے کہ ہمارا خیال ہوتاکہ آپ روزے کبھی بھی نہ رکھیں گے۔ مدینۂ طیبہ تشریف لانے کے بعدآپ ﷺ نے سوائے رمضان کے کبھی بھی مکمل اور مسلسل ایک مہینے کے روزے نہیں رکھے۔ اور نہ کسی ماہ میں آپﷺ کو شعبان سے زیادہ روزے رکھتے ہوئے دیکھا۔ (صحیح بخاری ، حدیث 1969) *حضور ﷺ کا ذکر الہی کرنے کا انداز:* اللہ پاک کے آخری نبی محمدِعربی ﷺ گناہوں سے معصوم اور رب تعالیٰ کے محبوب ہونے کے باوجود ہمہ وقت اللہ کی یاد میں مشغول رہتے تھے ، سفر و حضر ، خلوت وجلوت ، صحت وبیماری الغرض کیسے ہی حالات ہوتے آپ ﷺ اللہ پاک کے ذکر میں مشغول رہتے ، چنانچہ بخاری شریف کی ایک طویل حدیثِ پاک میں یہ بھی ہے *”كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى كُلِّ اَحْيَانِهٖ“* نبی کریم ﷺ ہر وقت اللہ پاک کا ذکر کرتے رہتے تھے۔ ( صحیح بخاری ، حدیث 130) *حضور ﷺ کا راہ خدا میں خرچ کرنا :* آپ ﷺ کے صدقات و خیرات کا یہ عالم تھا کہ آپﷺ اپنے پاس سونا چاندی یا تجارت کا کوئی سامان یا مویشیوں کا کوئی ریوڑ رکھتے ہی نہیں تھے بلکہ جو کچھ بھی آپ کے پاس آتا سب اللہ پاک کی راہ میں مستحقین پر تقسیم فرما دیا کرتے تھے۔ پیارے آقا ﷺ اللہ کو یہ گوارا ہی نہیں تھا کہ رات بھر کوئی مال و دولت کا شانۂ نبوت میں رہ جائے۔ ایک مرتبہ ایسا اتفاق پڑا کہ خراج کی رقم اس قدر زیادہ آگئی کہ وہ شام تک تقسیم کرنے کے باوجود ختم نہ ہو سکی تو آپﷺ رات بھر مسجد ہی میں رہے جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے آکر یہ خبر دی کہ یا رسول اللہ ﷺ! ساری رقم تقسیم ہو چکی تو آپ ﷺ نے اپنے مکان میں قدم رکھا۔ اسی طرح رمضان شریف خصوصاً آخری عشرہ میں آپﷺ کی عبادت بہت زیادہ بڑھ جاتی تھی۔ آپﷺ ساری رات بیدار رہتے اور اپنی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہنَّ سے بے تعلق ہو جاتے تھے اور گھر والوں کو نمازوں کے لئے جگایا کرتے تھے اور عموماً اعتکاف فرماتے تھے۔ نمازوں کے ساتھ ساتھ کبھی کھڑے ہو کر،کبھی بیٹھ کر،کبھی سربسجود ہو کر نہایت آہ و زاری اور گریہ وبکا کے ساتھ گڑگڑا کر راتوں میں دعائیں بھی مانگا کرتے ،رمضان شریف میں حضرت جبریل علیہ السّلام کے ساتھ قراٰنِ عظیم کا دور بھی فرماتے اور تلاوت ِقراٰن مجید کے ساتھ ساتھ مختلف دعاؤں کا وِرد بھی فرماتے تھے۔