

عنْ قَتَادَةَ قَالَ مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلا حَسَنَ الْوَجْهِ حَسَنَ الصَّوْتِ وَکَانَ نَبِيُّکُمْ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیہ وَ آلہِ وَسَلَّم حَسَنَ الْوَجْهِ حَسَنَ الصَّوْتِ وَکَانَ لا يُرَجِّع۔
شمائل ترمذی (حدیث 298)حضرت قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے ہر نبی کو خوبصورت اور خوش آواز بنا کر بھیجا اور تمہارے نبی ﷺ (بھی) خوبرو اور خوش آواز تھے اور آپ ﷺ قراءت میں (ہمیشہ) خوش الحانی نہیں فرماتے تھے۔
حضرت یعلی فرماتے ہیں کہ میں نے م المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے حضور اکرم ﷺ کی قرأت کے بارے میں پوچھا تو آپ رضی اللہ تعالی عنہا صاف صاف اور جدا جدا حروف (کی) قراءت بیان فرمانے لگیں ( یعنی نبی کریم ﷺ حروف کو جداجدا کر کے پڑھتے تھے۔ یعنی حضرت ام سلمہ نے خود قراءت کر کے سنائی تو اس قراءت شریف میں دوخوبیاں تھیں ایک تو نہایت ترتیل کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر تھی ، دوسرے ہر حرف اپنے مخرج سے صحیح ادا ہوتا تھا۔ (شمائل ترمذی حدیث 292) حضرت قتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس سے حضور اکرم ﷺ کی قراءت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ حضور اقدسﷺ (حسب ضرورت حروف کو) کھینچ کر پڑھتے تھے۔ (شمائل ترمذی حدیث293) حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ قرآن پاک( کی آیت) جدا جدا کر کے پڑھتے فرماتے *"الحمد الله رب العالمین"*، پھر وقفہ فرماتے اور پڑھتے *"الرحمن الرحیم"* پھر وقف فرماتے اور پڑھتے *"مالک یوم الدین"* (شمائل ترمذی حدیث294) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ بعض اوقات نبی اکرمﷺ کی قراءت (اتنی بلند ہوتی کہ صحن میں بیٹھا ہوا آدمی سن لیتا حالانکہ آپ گھر کے اندر نماز پڑھ رہے ہوتے تھے۔ (شمائل ترمذی حدیث 299) حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس ﷺ کو فتح مکہ کے دن اونٹنی پر دیکھا آپﷺ پڑرہے تھے *"انا فتحنا لک فتحا مبینا لیغفر لک اللّٰہ ماتقدم من ذنبک وما تاخر" * (بے شک ہم نے آپ کو واضح فتح دی تا کہ اللہ تعالی آپ کے سبب آپ کے پہلوں اور پچھلوں کے گناہ بخش دیے) آپ خوش آوازی سے قراءت فرماتے ۔ عبداللہ بن مغفل کہتے ہیں (میرے استاد ) معاویہ بن قمرہ نے فرمایا اگر مجھے لوگوں سے جمع ہونے کا ڈر نہ ہوتا تو تمہیں اسی آواز میں (یا کہا اس لہجے میں) سنانا شروع کرتا۔ (شمائل ترمذی حدیث 297) حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس ﷺ مسجد حرام میں قرآن شریف پڑھتے تھے اور میں حضور اکرم ﷺ کے پڑھنے کی آواز رات کو اپنے گھر کی چھت پر سے سنا کرتی تھی۔ (شمائل ترمذی حدیث 296)