نبی پاک ﷺ  کا گھر میں نفل پڑھنا

نبی پاک ﷺ کا گھر میں نفل پڑھنا

نبی پاک ﷺ کی عبادات

حدیث

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیہ وَ آلہِ وَسَلَّم عَنِ الصَّلاةِ فِي بَيْتِي وَالصَّلاةِ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ قَدْ تَرَی مَا أَقْرَبَ بَيْتِي مِنَ الْمَسْجِدِ فَلأَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُصَلِّيَ فِي الْمَسْجِدِ إِلا أَنْ تَکُونَ صَلاةً مَکْتُوبَةً۔

شمائل ترمذی (حدیث 276)

ترجمہ

حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اكرم ﷺ سے (اپنے بارے میں ) گھر میں اور مسجد میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا ( یعنی گھر میں پڑھنا بہتر ہے یا مسجد میں) آپﷺ نے فرمایا تم دیکھتے ہو میرا گھر مسجد سے کتنا قریب ہے پھر بھی میں مسجد کی بجائے گھر میں نماز پڑھنا زیادہ پسند کرتا ہوں البتہ اگر فرض نماز ہو۔

حکایت

حضرت سیدنا زید بن ثابت رضیﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہےکہ حضورنبی کریم رءوف رحیم ﷺ نے ارشادفرمایا:”اے لوگو! (نفل )نماز اپنے گھروں میں پڑھو کیونکہ مردکے لئےگھر میں (نفل)نماز پڑھنا افضل ہے سوائے فرائض کے۔ عبدالعزیز بن رواد رحمۃ اللہ علیہ رات کو سونے کے لئے اپنے بستر پر آتے اور اس پہ ہاتھ پھیر کر کہتے:تو نرم ہے،لیکن اللہ پاک کی قسم!جنت میں تجھ سے زیادہ نرم بستر ملے گا، پھر ساری رات نماز پڑھتے رہتے۔ (احیاء العلوم 467) علامہ غلام رسول رضوی علیہ رحمۃ اﷲ القَوی فرماتے ہیں:”معلوم ہوا کہ نفلی نماز مسجد کی نسبت گھر میں افضل ہے حتّٰی کہ تینوں مساجد(مسجد حرام،مسجد نبوی اور مسجد اقصٰی)بھی اس عموم میں داخل ہیں۔ابو داؤد نے صحیح اسناد کے ساتھ زید بن ثابت سے روایت کی کہ فرض نماز کے سوا آدمی کی نماز میری مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے لہٰذا مسجدِ نبوی میں اگر نفلی نماز پڑھیں تو ہزار نماز کا ثواب ہوتا ہے تو عموم حدیث کے اعتبار سے جب اسے گھر میں پڑھے تو ایک ہزار نماز سے افضل ہوگی۔ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنان فرماتے ہیں: ”یہاں عام نوافل کا ذکر ہے ورنہ نمازِ اِشراق، نمازِسفر، نمازِ کسوف،نمازِاستسقاء وغیرہ نوافل مسجد میں افضل ہیں۔ علامہ بدر الدِین عینِی علیہ رحمۃ اللہ الغنی گھرمیں نوافل پڑھنے کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:گھر میں نماز پڑھنے سے ریا کاری کا گمان نہیں ہوتا ، گھر میں برکت ہوتی ہے،اللہ عزوجل کی رحمت نازل ہوتی ہے اور شیطان دور ہوتا ہے۔ (فیضان ریاض الصالحین 1128) حضرت سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے محبوب، ﷺ نے ارشاد فرمایا "جب تم میں سے کوئی شخص اپنی مسجد میں نماز ادا کر لے تو اسے چاہیے کہ اپنے گھر کیلئے نماز میں سے کچھ حصہ بچا رکھے کیونکہ اللہ عزوجل اس نماز کے سبب اس کے گھر میں خیر و برکت عطا فرمائے گا۔ (صحیح مسلم حدیث 778) حضرت سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرورﷺ نے ارشاد فرمایا ، جس گھر میں اللہ عزوجل کا ذکر کیا جاتا ہے اور جس گھر میں اللہ عزوجل کا ذکر نہیں کیا جاتا ، ان کی مثال زندہ اور مردہ کی ہے“۔ ( صحیح بخاری حدیث 1407)