اسلامک ڈیسک کی جانب سے

ختمِ نبوت کورس
12
انرولمنٹس
0
مکمل
5.0
ریٹنگ
عقیدۂ ختمِ نبوت اسلام کے بنیادی اور قطعی عقائد میں سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں، آپ ﷺ کے بعد کسی شخص کو نبوت عطا نہیں کی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے سلسلۂ نبوت کو محمدِ عربی ﷺ پر مکمل فرمایا اور آپ ﷺ کو قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے نبی بنا کر مبعوث فرمایا۔ آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہے۔ یہ عقیدہ محض ایک تاریخی حقیقت نہیں بلکہ ایمان کا بنیادی حصہ ہے۔ اسی لیے ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ عقیدۂ ختمِ نبوت کو صحیح طور پر سمجھے، اس کے دلائل سے واقف ہو اور اس عقیدے کے خلاف اٹھنے والے فتنوں اور شبہات سے اپنے ایمان کی حفاظت کرے۔ سیرت کی دنیا ایپلیکیشن کی جانب سے اس عقیدے کی اہمیت کے پیشِ نظر ایک علمی، فکری اور آسان انداز میں "عقیدۂ ختمِ نبوت کورس" تیار کیا گیا ہے، جس میں قرآن و سنت، فہمِ صحابہ، اجماعِ امت اور تاریخ کی روشنی میں اس عقیدے کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس عقیدے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ زمانۂ رسالت ﷺ سے لے کر آج تک اہلِ ایمان نے عقیدۂ ختمِ نبوت کی حفاظت اور اس کے دفاع کو ہمیشہ اہمیت دی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس عظیم عقیدے کو صحیح طور پر سمجھنے، اس پر مضبوطی سے قائم رہنے اور اس کورس کو مکمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
پہلی آیت: پارہ 22 — سورۃ الاحزاب — آیت 40 مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَؕ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا ترجمۂ کنزالایمان: محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں، ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔ لفظ "خاتم النبیین" کے واضح معنی ہیں کہ "تمام انبیاء میں سب سے آخر میں تشریف لانے والے"۔ یہ آیت مبارکہ نبی کریم ﷺ کے آخری نبی ہونے پر بڑی واضح دلیل ہے۔ اس میں کسی تاویل کی، یا تخصیص کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ علامہ محمود بن عبد اللہ آلوسی بغدادی (متوفی 1270ھ) اپنی تفسیر رُوحُ المَعَانِي فِي تَفْسِيرِ القُرْآنِ العَظِيمِ وَالسَّبْعِ المَثَانِي میں لکھتے ہیں: فَمَعْنى خاتَمُ النَّبِيِّينَ الَّذِي خَتَمَ النَّبِيُّونَ بِهِ ومَآلُهُ آخِرُ النَّبِيِّينَ ترجمہ: پس "خاتم النبیین" کا معنی یہ ہے کہ وہ نبی جن پر نبوت کا سلسلہ ختم ہوا، اور اس کا حاصل و نتیجہ یہ ہے کہ وہ تمام انبیاء میں آخری نبی ہیں۔ (روح المعانی، سورہ احزاب، آیت 40)
دوسری آیت: پارہ 6 — سورۃ المائدہ — آیت 3 اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا ترجمۂ کنزالایمان: آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا۔ مفتی اہلسنت مفتی محمد قاسم عطاری مدنی دامت برکاتہم العالیہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں: سیدُالمرسلین ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں بن سکتا کیونکہ دین کامل ہو چکا، سورج نکل آنے پر چراغ کی ضرورت نہیں۔ (تفسیر صراط الجنان، سورۃ المائدہ، آیت 3)
تیسری آیت: پارہ 28 — سورۃ الصف — آیت 9 هُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَه بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَه عَلَى الدِّیْنِ كُلِّه وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ ترجمہ کنزالایمان: وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کرے پڑے برا مانیں مشرک۔ تفسیر روح البیان میں ہے: امام مجاہد علیہ الرحمہ سے منقول ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے تو روئے زمین پر اسلام کے سوا اور کوئی دین نہ ہوگا۔ (روح البیان، سورۃ الصف، آیت 9)
چوتھی آیت: پارہ 22 — سورہ سبا — آیت 28 وَ مَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ترجمہ کنزالایمان: اور اے محبوب ہم نے تم کو نہ بھیجا مگر ایسی رسالت سے جو تمام آدمیوں کو گھیرنے والی ہے خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا لیکن بہت لوگ نہیں جانتے۔ امام ابو زید عبدالرحمن بن محمد الثعالبی علیہ الرحمہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں: وَقَوْلُه تَعَالَى: وَما أَرْسَلْناكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ ... الآية: إعْلاَمٌ من الله تعالى بأنّه بعث محمّدا ﷺ إلَى جَمِيعِ العَالَمِ وَهِي إحْدَى خَصَائِصِهِ الَّتِي خُصَّ بِهَا مِنْ بَيْنِ سَائِرِ الأَنْبِياءِ یعنی: اور اللہ تعالیٰ کا فرمان وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِّلنَّاسِ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کا اعلان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو تمام جہان والوں کی طرف مبعوث فرمایا ہے۔ اور یہ آپ ﷺ کی ان خصوصیات میں سے ایک خصوصیت ہے، جن کے ساتھ آپ ﷺ کو تمام دوسرے انبیائے کرام علیہم السلام کے مقابلے میں خاص فرمایا گیا ہے۔ (الجواہر الحسان فی تفسیر القرآن، المعروف تفسیر الثعالبی، سورہ سبا، آیت 28)
پانچویں آیت: پارہ 3 — سورہ آل عمران — آیت 81 وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَ لَتَنْصُرُنَّهٗؕ ترجمہ کنزالایمان: اور یاد کرو جب اللہ نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا جو میں تم کو کتاب اور حکمت دوں پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے تو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا۔ اس آیت مبارکہ میں اللہ پاک نے اپنے اس عہد کا ذکر کیا جو عالم ارواح میں انبیائے کرام علیہم السلام سے لیا گیا کہ ان انبیاء کے ہوتے ہوئے اگر ان کی تصدیق کرنے والے رسول تشریف لے آئیں تو اب ان پر ایمان بھی لانا ہے اور ان کی مدد بھی کرنی ہے۔ اس "رسول" سے کون سے رسول مراد ہیں؟ تفسیر مقاتل، تفسیر قتادہ، تفسیر بیضاوی، تفسیر جلالین، تفسیر السمعانی، تفسیر الثعالبی، تفسیر الآلوسی، تفسیر الرازی، تفسیر القرطبی اور دیگر تفاسیر میں رسول سے مراد "محمد رسول اللہ ﷺ" ہیں۔ یہ آیت بھی حضور ﷺ کے آخری نبی ہونے پر دلالت کرتی ہے کہ عالم ارواح میں تمام انبیاء سے جو عہد لیا جا رہا ہے وہ رسول اللہ ﷺ سے متعلق لیا جا رہا ہے اور عہد بھی کیسا ہے؟ کہ ان کی موجودگی میں اگر "محمد رسول اللہ ﷺ" تشریف لے آئیں تو اب ان پر ایمان بھی لانا ہے اور ان کی مدد بھی کرنی ہے۔
یہ پانچ آیات نبی کریم ﷺ کے آخری نبی ہونے سے متعلق ذکر کی گئیں، اس کے علاوہ بھی متعدد آیات ہیں جو نبی کریم ﷺ کے آخری نبی ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ اللہ پاک ہمیں بھی عقیدہ ختم نبوت پر کامل ایمان نصیب فرمائے۔ آمین۔ اگلے سبق میں احادیث کی روشنی میں حضور ﷺ کا آخری نبی ہونا بیان کیا گیا ہے۔
پہلی حدیث: وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ كَمَثَلِ قَصْرٍ أُحْسِنَ بُنْيَانُهٗ تُرِكَ مِنْهُ مَوْضِعُ لَبِنَةٍ، فَطَافَ بِهِ النُّظَّارُ، يَتَعَجَّبُوْنَ مِنْ حُسْنِ بُنْيَانِهٖ إِلَّا مَوْضِعَ تِلْكَ اللَّبِنَةِ فَكُنْتُ أَنَا سَدَدْتُ مَوْضِعَ اللَّبِنَةِ خُتِمَ بِيَ الْبُنْيَانُ وَخُتِمَ بِي الرُّسُلُ».وَفِي رِوَايَةٍ: «فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ».(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) ترجمہ: روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میری اور دوسرے نبیوں کی مثال اس محل کی سی ہے جس کی تعمیر بہت اچھی کی گئی اور اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی گئی دیکھنے والے اس کے گرد چکر لگاتے تھے اور اچھی تعمیر سے تعجب کرتے تھے سواء اس اینٹ کے، تو میں نے ہی اس اینٹ کی جگہ پُر کر دی، مجھ پر انبیاء ختم کر دیے گئے اور مجھ پر رسول ختم کر دیے گئے۔ ایک روایت میں ہے کہ وہ آخری اینٹ میں ہی ہوں اور نبیوں میں آخری نبی ہوں۔ (مسلم و بخاری) مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں: سبحان اللہ! کیسی پیاری مثال ہے، نبوت گویا نورانی محل ہے، حضرات انبیاء کرام گویا اس کی نورانی اینٹیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم گویا اس محل کی آخری اینٹ ہیں جس پر اس عمارت کی تکمیل ہوئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضور آخری نبی ہیں، آپ کے زمانے میں یا آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اعلیٰ حضرت قدس سرہ فرماتے ہیں: کوئی اور پھول کہاں کھلے نہ جگہ ہے جوشِ حسن سے نہ بہار آور پہ رخ کرے کہ جھپک پلک کی تو خار ہے
دوسری حدیث: حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: فُضِّلْتُ عَلَى الْاَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ اُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَاُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَجُعِلَتْ لِيَ الْاَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا وَاُرْسِلْتُ اِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّون یعنی مجھے انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام پر چھ چیزوں سے فضیلت دی گئی: (1) مجھے جامع کلمات دیے گئے (2) کفار پر رُعب طاری کر کے میری مدد کی گئی (3) میرے لیے مالِ غنیمت کو حلال کر دیا گیا (4) میرے لیے ساری زمین پاک اور نماز کی جگہ بنا دی گئی (5) مجھے تمام مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا (6) مجھ پر نبوت ختم کر دی گئی۔ (مسلم، ص 210، حدیث: 1167)
تیسری حدیث: نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: كُنْتُ اَوَّلَ النَّبِيِّينَ فِي الْخَلْقِ وَآخِرَهُمْ فِي الْبَعْثِ یعنی میں تخلیق میں سب نبیوں سے پہلا ہوں اور بعثت میں سب سے آخر ہوں۔ (کنزالعمال، جز 11، 6/205، حدیث: 32123)
چوتھی حدیث: حضرت اسماعیل بن ابی خالد رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ نے حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کو دیکھا تھا؟ حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ان کا بچپن میں انتقال ہو گیا تھا۔ اگر رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بعد کسی نبی کا ہونا مقدر ہوتا تو حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صاحبزادے زندہ رہتے، مگر حضور کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ (بخاری، 4/153، حدیث: 6194 — فتاویٰ رضویہ، 15/671)
پانچویں حدیث: رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے تین بار ارشاد فرمایا: اَنَا مُحَمَّدٌ النَّبِيُّ الْاُمِّيُّ اَنَا مُحَمَّدٌ النَّبِيُّ الْاُمِّيُّ اَنَا مُحَمَّدٌ النَّبِيُّ الْاُمِّيُّ ثَلَاثًا وَلَا نَبِيَّ بَعْدِي یعنی میں محمد ہوں، اُمّی نبی ہوں، میں محمد ہوں، اُمّی نبی ہوں، میں محمد ہوں، اُمّی نبی ہوں، اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (مسند احمد، 11/563، حدیث: 6981)
نبی پاک ﷺ نے یہ نہیں فرمایا لا رسول بعدی، سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا لا نبی بعدی۔ اس فرمانِ رسول ﷺ میں غور کریں تو ایک اشارہ ملتا ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے پہلے اس تمہید کو سمجھیں کہ ہر رسول، نبی ضرور ہے لیکن ہر نبی رسول نہیں ہے۔ وہ نبی جو رسول نہ ہو ان کا دنیا میں تشریف لانے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ان سے پہلے جو رسول گزرے ہیں، انہی کی تعلیمات کو وہ آگے تک پہنچائیں گے۔ اور جب ان کے بعد کسی رسول کی آمد ہوئی تو اب گزشتہ رسول کی شریعت کے احکام پر عمل نہیں کیا جائے گا، بلکہ اللہ پاک کی طرف سے تشریف لانے والے نئے رسول پر نازل ہونے والے احکامات پر چلنا ضروری ہوگا۔ اس بات کو سمجھنے کے بعد دیکھیں حضور ﷺ نے اپنے بعد "نبی" کے آنے کی نفی فرمائی۔ یہ عام کی نفی ہے۔ اور عام کی نفی خاص کو شامل ہوتی ہے، جبکہ خاص کی نفی سے عام کی نفی نہیں ہوتی۔ نبی عام ہے، رسول خاص ہیں۔ اگر یہ فرمان یوں ہوتا لا رسول بعدی تو کوئی کہہ سکتا تھا کہ رسول کی نفی کی ہے نبی کی نہیں کی ہے، لہٰذا نبی آ سکتا ہے۔ لیکن حضور جانِ عالم ﷺ نے فرمایا لا نبی بعدی، جس کا مضمون یہ ہے کہ میرے بعد اب نہ کوئی رسول ہے اور نہ کوئی نبی ہے۔ (یہ مضمون اس حدیث کے اعتبار سے ہے، کیونکہ ایسی روایت بھی موجود ہے جس میں نبی پاک ﷺ نے اپنے بعد رسول کے ہونے کی نفی بھی فرمائی، البتہ اتنا ضرور ہے کہ ان روایات میں نبی اور رسول دونوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔) از قلم: ابو معاویہ عبدالقدوس عطاری مدنی
احادیث، روایات و سیرت کی روشنی میں اکابرینِ امت کے عقیدہ ختمِ نبوت سے متعلق بالکل واضح، شفاف عقیدہ یہی ہے کہ حضور جانِ عالم ﷺ کے بعد اب قیامت تک کسی کو نبی نہیں بنایا جائے گا۔ اب کسی رسول یا کسی نبی کی ضرورت باقی نہیں رہی ہے۔ نبی کریم ﷺ پر دین کامل اور نعمتِ الٰہی کا اتمام ہو گیا ہے۔ قرآن و سنت سے اس نظریے کی اساس (بنیاد) جان لینے کے بعد اب اکابرینِ امت کے اقوال کی روشنی میں اس کو سمجھتے ہیں۔ کیونکہ البرکة مع اکابرکم یعنی برکت اکابرین کے ساتھ رہنے میں ہے۔
نبی کریم ﷺ کے وصالِ ظاہری فرمانے کے بعد سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں جہاں مختلف منکرینِ زکوٰۃ کا فتنہ کھڑا ہوا وہیں ایک اور چیلنج بھی سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سامنے تھا، اور وہ مسیلمہ کذاب جس نے زمانۂ رسالت ﷺ میں ہی دعویٰ نبوت کیا تھا۔ اس فتنے کو مٹانے اور عقیدہ ختمِ نبوت کی حفاظت کے لیے 1200 صحابہ کرام علیہم الرضوان نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے، اللہ پاک نے مسلمانوں کو عظیم فتح عطا فرمائی، اور مسیلمہ کذاب واصلِ جہنم ہوا۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان کا نظریہ تو اس ایک جنگ سے واضح ہو گیا جو رسول کائنات ﷺ کے اس دنیا سے جانے کے بعد لڑی گئی، جس کی بنیاد ہی عقیدہ ختمِ نبوت کی حفاظت تھی۔
امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک تو مدعیِ نبوت سے دلیل طلب کرنا بھی کفر ہے۔ اس حوالے سے آپ کا موقف یہ ہے: وتنبأ رجل فی زمن أبي حنیفة رحمه الله وقال أمهلوني حتي أجیي بالعلامات۔ وقال أبوحنیفة رحمه الله: من طلب منه علامة فقد كفر لقول النبی ﷺ : لا نبي بعدي یعنی: امام ابو حنیفہؒ کے زمانے میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اس نے کہا کہ مجھے مہلت دو تاکہ اپنی نبوت پر دلائل پیش کروں، حضرت امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا (جو شخص حضور ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرے وہ بھی کافر ہے اور) جو اس سے دلیل طلب کرے وہ بھی کافر ہے کیونکہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔
امام ابو جعفر الطحاوی اپنی کتاب العقیدۃ الطحاویۃ میں امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف اور امام محمد علیہم الرحمۃ کے عقائد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: وكل دعوي النبوة بعدہ علیه السلام فغي وھوي یعنی: حضور ﷺ کے بعد ہر قسم کا دعویٰ نبوت گمراہی اور خواہشِ نفس کی پیروی ہے۔
علامہ سعد الدین تفتازانی العقائد النسفیۃ کی عبارت کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: وقد دلّ كلامه وكلام الله المنزل علیه أنه خاتم النّبیّین وأنّه مبعوث إلی كافة الناس بل إلی الجن والإنس ثبت أنه آخر الأنبیاء یعنی: حضور نبی اکرم ﷺ کا کلام (حدیث مبارکہ) اور کلامِ الٰہی جو آپ ﷺ پر نازل ہوا (یعنی قرآن مجید) اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے سلسلہ نبوت کو ختم کر دیا ہے اور آپ ﷺ تمام کائنات انسانی بلکہ تمام جن و انس کی طرف (رسول بن کر) مبعوث ہوئے ہیں۔ (قرآن و حدیث) سے ثابت ہوا کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں۔ علامہ تفتازانی اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ "احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہو گا پھر آپ ﷺ آخری نبی کیسے ہوئے؟" فرماتے ہیں: لکنه یتابع محمّداً علیه السلام لأن شریعته قد نسخت فلا یكون إلیه وحي ونصب الأحکام بل یكون خلیفة رسول الله علیه السّلام یعنی: لیکن وہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی متابعت اور پیروی کریں گے کیونکہ ان کی شریعت منسوخ ہو چکی ہے، ان کی طرف نہ تو وحی ہوگی اور نہ ان کے ذمے نئے احکامِ شریعت کو قائم کرنا ہوگا، بلکہ آپ حضور ﷺ کے خلیفہ کی حیثیت سے آئیں گے۔
ابو الفضل قاضی عیاض شافعی نے ہر قسم کی نبوت اور القاءِ وحی کے دعویٰ کو کفر قرار دیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں: أو من ادّعی النبوة لنفسه او جوّز اكتسابها والبلوغ بصفاء القلب إلی مرتبتها … وكذلک من ادّعي منهم أنه یوحي إلیه و إن لم یدّع النبوة … فھؤلاء كلّهم كفّار و مکذِّبون للنبي ﷺ لأنّه أخبر - علیه السلام - أنه خاتم النبیین لا نبی بعده، وأخبر أیضاً عن الله -تعالٰی- أنه خاتم النبیین وأنه أرسل إلی کافَّة للناس وأجمعت الأمة علی حمل هذا الکلام علی ظاھرهوأن مفھومه المراد منه دون تأویل ولا تخصیص فلا شك فی كفر ھؤلاء الطوائف كلھا قطعاً إجماعاً و سمعاً یعنی: جو شخص (حضور ﷺ کے بعد) نبوت کا دعویٰ کرے یا سمجھے کہ (ریاضت و مجاہدے کے ذریعے) کوئی اسے حاصل کر سکتا ہے اور صفائے قلبی سے منصبِ نبوت پا سکتا ہے۔ اسی طرح جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ اس پر وحی نازل ہوتی ہے اگرچہ وہ نبوت کا دعویٰ نہ کرے، پس ایسے سب مدعیان کافر ہیں اور تاجدارِ کائنات ﷺ کی تکذیب کرنے والے ہیں کیونکہ آپ ﷺ نے باخبر کر دیا کہ آپ آخری نبی ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں اور آپ ﷺ نے من جانب اللہ (ہمیں) آگاہ فرما دیا ہے کہ آپ سلسلہ نبوت کو ختم کرنے والے ہیں۔ بیشک اللہ نے آپ کو تمام کائنات انسانی کی طرف مبعوث کیا ہے۔ (قرآن و سنت کے علاوہ) تمام امت کا اس پر اجماع ہے کہ اس کلام کو اپنے ظاہر پر محمول کیا جائے گا اور ان الفاظ کا جو ظاہری مفہوم ہے بالکل وہی بغیر کسی تاویل و تخصیص کے مراد ہوگا۔ (جو لوگ اس کے خلاف کریں) قرآن و حدیث اور اجماعِ امت کی رو سے ان (سب) کے کفر میں کوئی شک نہیں۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اپنی رائے کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں: أو قال: إن النبي ﷺ خاتم النبوة ولکن معنی ھذا الکلام أنه لا یجوز أن یسمی بعدہ أحد بالنبی وأما معنی النبوة وھو كون الإنسان مبعوثا من اللہ تعالٰی إلی الخلق مفترض الطاعة معصوماً من الذنوب ومن البقاء علی الخطأ فیما یري فھو موجود فی الائمةبعد فذلك الزندیق وقد اتفق جماھیر المتأخرین من الحنفیة والشافعیةعلی قتل من یجري ھذا المجري یعنی: یا وہ شخص یہ کہے: "بے شک حضور نبی اکرم ﷺ خاتم النبیین ہیں، اور اس سے مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبی کہنا جائز نہیں، مگر نبوت کی حقیقت یہ ہے کہ کوئی انسان اللہ تعالیٰ کی طرف سے مخلوق کی طرف اس حال میں مبعوث ہو کہ وہ واجب الطاعت ہو اور گناہوں سے اور غلطی کو ظاہراً دیکھ کر اس پر قائم رہنے سے معصوم ہو، سو ایسا انسان آپ ﷺ کے بعد آئمہ میں بھی موجود ہے۔" ایسا کہنے والا شخص زندیق ہے۔ ایسی چال چلنے والے شخص کے قتل پر احناف اور شوافع کا اتفاق ہے۔ (یعنی جو شخص حضور نبی اکرم ﷺ کی ختمِ نبوت کا اقرار تو کرے مگر نبوت کی حقیقت آپ ﷺ کے بعد اَئمہ میں بھی ثابت کرے۔)
محی السنہ امام بغوی شافعی خاتم النبیین کی شرح بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: {وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ الله وَخَاتَمَ النَّبِيِّيْن} ختم اللہ به النبوة وقرأ ابن عامر وابن عاصم (خَاتَم) بفتح التاء علی الاسم أي آخرھم، وقرأ الآخرون بکسر التاء علی الفاعل لأنه ختم به النبیین فھو خاتمھم یعنی: {لیکن آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں} آپ ﷺ کی بعثت مبارکہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے نبوت ختم فرما دی ہے۔ ابن عامر اور ابن عاصم نے (لفظ خاتم) بر بنائے اسم زبر کے ساتھ پڑھا ہے یعنی آخرِ انبیاء، اور دیگر (اہلِ فن) نے بر بنائے فاعل تاء کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ آپ ﷺ نے اپنی بعثت کے ساتھ سلسلۂ انبیاء ختم فرما دیا۔ سو آپ ﷺ ان کے خاتم ہیں۔
امام فخر الدین رازی اس حوالے سے رقم طراز ہیں: {وخاتم النبیین} وذالك لأن النبي الذّي یكون بعده نبی إن ترك شیئًا من النصیحةوالبیان یستدرکه من یأتی بعده، وأما من لا نبی بعده یکون أشفق علی أمته وأھدي لھم وأجدي، إذ ھو كوالد لولده الذي لیس له غیره من أحدٍ یعنی: اور آپ ﷺ آخری نبی ہیں (آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں)۔ اگر ایک نبی کے بعد دوسرا نبی آنا ہوتا تو وہ تبلیغ اور احکام کی توضیح کا مشن کسی حد تک نامکمل چھوڑ جاتا جسے بعد میں آنے والا مکمل کرتا، لیکن جس نبی کے بعد اور کوئی نبی آنے والا نہ ہو تو وہ اپنی امت پر بہت زیادہ شفیق ہوتا ہے اور ان کے لیے واضح، قطعی اور کامل ہدایت فراہم کرتا ہے کیونکہ اس کی مثال ایسے باپ کی طرح ہوتی ہے جو جانتا ہو کہ اس کے بعد اس کے بیٹے کی نگہداشت کرنے والا کوئی سرپرست اور کفیل نہ ہوگا۔
امام بیضاوی شافعی خاتم النبیین کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: وآخرھم الذي ختمھم أو ختموابه علی قراء ۃ عاصم بالفتح ولا یقدح فیه نزول عیسی بعده لأنه إذا نزل كان علی دینه یعنی: آپ ﷺ (بعثت کے اعتبار سے) انبیاء میں سب سے آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ نے (تشریف لا کر) ان کے سلسلہ کو ختم کر دیا اور سلسلہ نبوت پر مہر لگا دی ہے اور … حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حضور ﷺ کے بعد (دوبارہ قربِ قیامت میں) نازل ہونا آپ ﷺ کی ختمِ نبوت میں حارج نہیں ہے (کیونکہ انہیں آپ ﷺ کی بعثت سے قبل منصبِ نبوت پر فائز کیا گیا تھا) چنانچہ اب وہ حضور ﷺ کے دین اور شریعت کے متبع اور پیروکار کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔
رئیس المفسرین امام ابن کثیر مذکورہ آیہ مبارکہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں: فھذه الآیة نصّ فی أنه لا نبی بعده وإذا کان لا نبي بعده فلا رسول بالطریق الأولی والأخری لأن مقام الرّسالة أخصّ من مقام النبوّۃ فإنّ کلّ رسول نبي ولا ینعکس یعنی: پس یہ آیت کریمہ {ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین} اس بارے میں نص ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور جب نبی کا آنا محال ہے تو رسول کا آنا بدرجہ اولیٰ محال ہے کیونکہ منصبِ رسالت خاص ہے منصبِ نبوت سے، ہر رسول نبی ہوتا ہے جبکہ ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔ امام ابن کثیر اس کے بعد حضور ﷺ کی ختمِ نبوت پر متعدد احادیث پیش کرنے کے بعد فرماتے ہیں: وقد أخبر الله تبارک وتعالی في کتابه ورسوله ﷺ فی السنّة المتواترة عنه أنّه لا نبي بعده لیعلموا أن كلّ من ادّعي ھذا المقام بعده فھو كذّاب أفّاك دجّال ضالّ مضلّ ولو تحرق و شعبذ وأتی بأنواع السحر والطلاسم النیرنجیات یعنی: اور تحقیق آگاہ فرما دیا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب قرآن مجید میں اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی سنتِ متواترہ میں کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ (آگاہ اس لیے فرمایا) تاکہ امتِ محمدیہ ﷺ جان لے کہ آپ ﷺ کے بعد جو شخص بھی اس منصب (یعنی نبوت) کا دعویٰ کرے وہ کذاب، جھوٹا، بہتان طراز، مکار و دجال، گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہے۔ خواہ وہ خرقِ عادت، واقعات، شعبدہ بازیاں اور کسی قسم کے غیر معمولی کرشمے اور سحر و طلسم دکھاتا پھرے۔
امام جلال الدین سیوطی اس موضوع کے حوالے سے لکھتے ہیں: {وخاتم النبیین} فلا یکون له ابن رجل بعده یکون نبیًّا وفي قراء ة بفتح التاء كآلة الختم أي به ختموا {وكان الله بكل شیء علیما} منه بأن لا نبي بعده وإذا نزل السیّد عیسٰی یحكم بشریعته یعنی: اور آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں، پس آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کا کوئی مرد بیٹا نہیں جو منصبِ نبوت پر فائز ہو (اور اللہ تعالیٰ ہر چیز سے آگاہ ہے)، وہ جانتا ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام (دوبارہ) نازل ہوں گے تو وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شریعت کے متبع اور پیروکار ہوں گے۔
امام غزالی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: إن الأمة فهمت بالإجماع من هذا اللفظ ومن قرائن أحواله أنه أفهم عدم نبي بعدہ أبداً وعدم رسول اللّه أبداً وأنه لیس فیه تأویل ولا تخصیص فمنکر هذا لا یکون وإلا منکر الإجماع یعنی: بیشک تمام امتِ محمدیہ ﷺ نے اس لفظ (یعنی خاتم النبیین اور لا نبی بعدی) سے اور قرائنِ احوال سے یہی سمجھا ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کبھی بھی نہ کوئی نبی ہوگا اور نہ رسول، نیز یہ کہ اس میں کسی قسم کی نہ کوئی تاویل ہو سکتی ہے نہ تخصیص، پس اس کا منکر اجماعِ امت کا منکر ہے۔
یہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا رسالہ جزاء اللہ عدوہ بابائہ ختم النبوۃ (1317ھ / 1899ء) ہے، جو رد قادیانیت پر ایک زبردست رسالہ ہے۔ اس تصنیفِ لطیف کا تعارف خود حضرت مصنف قدس سرہ کی زبانی سنیے، فرماتے ہیں: اللہ و رسول ﷺ نے مطلقاً نفیِ نبوتِ تازہ فرمائی۔ شریعتِ جدیدہ وغیرہا کی کوئی قید کہیں نہ لگائی۔ اور صراحتاً خاتم بمعنی آخر بتایا۔ متواتر حدیثوں میں اس کا بیان آیا ہے اور صحابہ کرام سے اب تک تمام امتِ مرحومہ نے اس معنی ظاہر و متبادر و عموم و استغراقِ حقیقی تام پر اجماع کیا کہ حضور ﷺ تمام انبیاء کے خاتم ہیں اور اس بنا پر سلفاً و خلفاً ائمہ مذاہب نے نبی ﷺ کے بعد ہر مدعیِ نبوت کو کافر کہا، کتبِ احادیث و تفسیر و عقائد و فقہ ان کے بیانوں سے گونج رہی ہیں۔ "فقیر غفرلہ المولی القدیر نے اپنی کتاب جزاء اللہ عدوہ بابائہ ختم النبوۃ 1317ھ (دشمنِ خدا کے ختمِ نبوت کا انکار کرنے پر خدائی جزاء) میں اس کا مطلب ایمانی پر صحاح و سنن و مسانید و معاجیم و جوامع سے 120 حدیثیں اور تکفیرِ منکر پر ارشاداتِ ائمہ و علمائے قدیم و حدیث و کتبِ عقائد و اصولِ فقہ و حدیث سے تیس نصوص ذکر کیے۔ وللہ الحمد" (فتاویٰ رضویہ، ج 14، ص 337، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
قرآن کی آیاتِ بیّنات، نبی پاک ﷺ کے روشن فرامین، اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کی قربانیاں، اکابرینِ امت کی تاکیدات جہاں اس عقیدے کی اہمیت کو واضح کرتی ہیں، وہیں ہمیں اٹھنے والے فتنوں کی سرکوبی کرنے اور اپنے ایمان کی حفاظت کی فکر کرنے کی طرف بھی دعوتِ فکر دے رہی ہیں۔ مدعیانِ نبوت کا سلسلہ تو نبی پاک ﷺ کے زمانے سے ہی شروع ہو گیا تھا۔ کورس کے اگلے لیول میں زمانۂ رسالت ﷺ میں اٹھنے والے انہی فتنوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ آئیں کورس کے اگلے لیول کی طرف چلتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے بھی اپنی ختمِ نبوت کو واضح الفاظ میں بیان فرمایا۔ جیسا کہ ہم نے دوسرے سبق میں متعدد احادیث مبارکہ کا مطالعہ کیا۔ مزید ایک حدیث پاک کا مطالعہ کریں اور غور کریں کہ حضور ﷺ نے ہمیں دعویٰ نبوت کرنے والے فتنے سے بہت پہلے ہی خبردار کر دیا تھا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُبْعَثَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ، قَرِيبًا مِنْ ثَلَاثِينَ، كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ ترجمہ: قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ قریب تیس جھوٹے دجال اٹھیں گے، ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔ (صحیح البخاری، حدیث 3609؛ صحیح مسلم، حدیث 157) اس حدیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹے مدعیانِ نبوت کا ظہور امت کے لیے ایک بڑا فتنہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسلمان اپنے عقیدے میں پختہ ہوں، اس کے دلائل سے واقف ہوں اور باطل دعووں و شبہات کا علمی جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
آج کے دور میں، بالخصوص قادیانیت کے حوالے سے، عقیدۂ ختمِ نبوت پر گفتگو کرتے ہوئے یہ سوال بھی نہایت اہم ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانۂ مبارک میں جھوٹے دعوائے نبوت کرنے والے کون تھے؟ رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ کیا طرزِ عمل اختیار فرمایا؟ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے ان فتنوں کا مقابلہ کیسے کیا؟ ہمارے لیے رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیبہ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا طرزِ عمل بہترین رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ ان واقعات کا مطالعہ محض تاریخی معلومات حاصل کرنے کے لیے نہیں، بلکہ عقیدے کی حفاظت، حق و باطل میں امتیاز، علمی استقامت اور دینی ذمہ داریوں کو سمجھنے کے لیے ہونا چاہیے۔ آئیں کورس کے اس لیول میں ہم ان مدعیانِ نبوت کے بارے میں جانتے ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے زمانے میں نبوت کا دعویٰ کیا، اور ان کے ساتھ نبی کریم ﷺ نے اور صحابہ کرام علیہم الرضوان نے کیا انداز اختیار کیا۔
رسول اللہ ﷺ کے زمانۂ مبارک میں جھوٹا دعوائے نبوت کرنے والوں میں مسیلمہ بن حبیب کا نام نمایاں ہے۔ اس کا تعلق یمامہ کے قبیلے بنو حنیفہ سے تھا۔ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے بھی اپنا موقف پیش کیا۔ تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیلمہ اپنے دعوے کو پھیلانے کے لیے مختلف طریقے اختیار کرتا رہا۔ اس کی ایک کوشش یہ بھی تھی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا اقرار کرتے ہوئے خود کو بھی نبوت میں شریک قرار دے۔ اس طرح وہ اپنے باطل دعوے کو رسول اللہ ﷺ کی نبوت کے ساتھ جوڑ کر لوگوں کو گمراہ کرنا چاہتا تھا۔
صحیح بخاری میں مسیلمہ کی طرف سے بھیجے گئے خط کا ذکر موجود ہے۔ اس نے رسول اللہ ﷺ کو اپنا پیغام بھیجا، جس میں اپنے لیے رسالت کا دعویٰ کیا اور نبوت میں شرکت کی بات کی۔ (خطوطِ مصطفیٰ کورس میں اس کی مکمل تفصیل ذکر کی گئی ہے۔) اس خط کے الفاظ میں یہ عبارت نقل ہوئی ہے: مِنْ مُسَيْلِمَةَ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ، سَلَامٌ عَلَيْكَ، أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي قَدْ أُشْرِكْتُ فِي الْأَمْرِ مَعَكَ، وَإِنَّ لَنَا نِصْفَ الْأَرْضِ وَلِقُرَيْشٍ نِصْفَ الْأَرْضِ، وَلَكِنَّ قُرَيْشًا قَوْمٌ يَعْتَدُونَ ترجمہ: مسیلمہ، اللہ کے رسول کی طرف سے محمد، اللہ کے رسول کے نام۔ آپ پر سلام ہو۔ اما بعد! مجھے اس معاملے میں آپ کے ساتھ شریک کیا گیا ہے۔ زمین کا آدھا حصہ ہمارے لیے اور آدھا قریش کے لیے ہے، لیکن قریش زیادتی کرنے والی قوم ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب وفد بنی حنیفہ وحدیث مسیلمہ الکذاب) اس خط میں مسیلمہ نے رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا ذکر کرنے کے ساتھ اپنے لیے بھی رسالت کا دعویٰ کیا۔ یہی اس کے باطل عقیدے کی بنیاد تھی کہ نبوت میں کسی دوسرے شخص کو شریک کیا جا سکتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اس دعوے کو قطعاً قبول نہیں فرمایا۔ خط لانے والے دونوں قاصدوں سے آپ ﷺ نے پوچھا: أَتَشْهَدَانِ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ ترجمہ: کیا تم دونوں گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ پھر آپ ﷺ نے پوچھا: أَتَشْهَدَانِ أَنَّ مُسَيْلِمَةَ رَسُولُ اللَّهِ؟ ترجمہ: کیا تم دونوں گواہی دیتے ہو کہ مسیلمہ بھی اللہ کا رسول ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: لوْلَا أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَكُمَا ترجمہ: اگر یہ بات نہ ہوتی کہ قاصدوں کو قتل نہیں کیا جاتا تو میں تم دونوں کی گردنیں اڑا دیتا۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الجہاد، حدیث 2761) اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسیلمہ کے باطل دعوے کو قبول نہیں فرمایا۔ ساتھ ہی آپ ﷺ نے قاصدوں کے ساتھ اس وقت کے معروف سفارتی اصول کا لحاظ فرمایا۔ آپ ﷺ نے مسیلمہ کی اس بات کا رد کر کے یہ واضح کر دیا کہ نبوت کوئی ایسا منصب نہیں جسے کسی کے ساتھ تقسیم کیا جا سکے، اور نہ ہی حق کو سیاسی سودے بازی کے ذریعے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ مسیلمہ نے رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد اپنی سرگرمیوں کو مزید وسعت دی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں اس کے خلاف جنگِ یمامہ پیش آئی، جس میں وہ مارا گیا۔ (جنگِ یمامہ کی تفصیل اگلے لیول میں ذکر کی گئی ہے۔) مختصر یہ کہ مسیلمہ کا فتنہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں شروع ہوا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں اپنے انجام کو پہنچا۔
اس کا پورا نام عَبْھَلَہ بن کعب عنسی اور لقب "ذُوالْخِمَار" تھا۔ بعض نے "ذُوالْحِمَار" بھی ذکر کیا ہے۔ خِمَار عربی میں چادر کو کہتے ہیں، چونکہ یہ اپنے چہرے پر سیاہ اوڑھنی ڈال کر چھپائے رکھتا تھا اس لیے "ذُوالْخِمَار" کے لقب سے مشہور ہوا، اور "ذُوالْحِمَار" کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ اس کا ایک سیاہ گدھا تھا جسے اس نے سدھایا ہوا تھا کہ وہ گدھا اس کے سامنے سجدہ کیا کرتا تھا۔ بہرحال اس کی چادر بھی سیاہ تھی اور گدھا بھی سیاہ تھا اس لیے اسے اَسْوَد یعنی "کالا سیاہ" کہا جاتا تھا۔ ابتداء میں یہ کاہن تھا اور عجیب و غریب باتیں اس سے ظاہر ہوتی تھیں۔ چرب زبانی سے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتا تھا۔ اس کے ساتھ دو ہمزاد شیطان تھے، جو اس کو زمانے کی خبریں لے کر بتاتے تھے۔ 10 سن ہجری میں یمن میں اس کذاب کا ظہور ہوا، نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم کے زمانہ میں ہی اس نے نبوت کا دعویٰ کر دیا تھا۔ اس کا خروج حجۃ الوداع کے بعد ہوا۔ البتہ اللہ عزوجل کے محبوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم نے پہلے ہی اس کے ظہور کی پیشین گوئی فرما دی تھی۔ (سیرت سید الانبیاء، ص 575)
یمن کے گورنر سیدنا بازان رضی اللہ عنہ کا جب وصال ہوا، اسود عنسی کا عروج اسی دور میں شروع ہوا۔ اس نے اپنے لشکر سے صنعاء پر قبضہ کر لیا۔ حضرت شہر بن باذان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کر دیا اور ان کی زوجہ کی طرف نکاح کا پیغام بھیجا۔ دو عالم کے مالک و مختار، مکی مدنی سرکار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم تک اس کی اطلاعات پہنچیں تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس طرح ہو سکے اس کے شر کو ختم کر دو۔ (مدارج النبوت، ج 2، ص 407)
ماہ صفر المظفر 11 سن ہجری میں ہی کذاب اسود عنسی کو صحابیِ رسول حضرت سیدنا فیروز دیلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے واصلِ جہنم فرمایا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی اکرم ﷺ نے اسود کو قتل کرنے کے لیے بھیجا، حضرت فیروز دیلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسود کے شہر صنعاء (یمن) میں پہنچ کر چھپ گئے اور ایک رات اسود کی رہائش گاہ کی دیوار میں نقب لگائی اور اسے قتل کر دیا، حالانکہ اس وقت ایک ہزار آدمی اس کے دروازے پر پہرہ دے رہے تھے۔ موت کے وقت اس کے منہ سے گائے کے ڈکرانے کی طرح اونچی آواز نکلی، اس کے پہرے دار اس کی طرف دوڑے لیکن حضرت سیدنا باذان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجہ مرزبانہ نے کہا: رک جاؤ! اس کے پاس کوئی نہیں جائے گا کیونکہ تمہارے نبی پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ اس طرح وہ واصلِ جہنم ہو گیا۔
یہ شخص بنو اسد کی طرف منسوب ہے جو خیبر کے آس پاس آباد تھا۔ یہ بھی نبی کریم ﷺ کے ظاہری زمانۂ مبارکہ میں مرتد ہوا اور نبوت کا دعویٰ کر کے خلق کو گمراہ کرنے میں مشغول ہوا۔ اس نے ہادیِ اعظم سرورِ دو عالم ﷺ کو بھی اپنی خود ساختہ نبوت پر ایمان لانے کی دعوت اپنے بھائی خیال کے ہاتھ بھیجی۔ اور حضور ﷺ نے حضرت ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ کو ان سردارانِ قبائل کی طرف تحریکِ جہاد کے لیے روانہ فرمایا، جو طلیحہ کے آس پاس رہتے تھے۔ ان سب نے آپ کے ارشاد پر لبیک کہا اور حضرت ضرار کی سربراہی میں ایک بڑی جماعت کو جہاد کے لیے روانہ کر دیا اور اس لشکر نے طلیحہ کی فوج کے ساتھ جنگ کی اور بڑی بے جگری سے لڑے، اس طرح طلیحہ کی فوج فرار ہوئی۔ اور پھر حضور ﷺ کے وصالِ باکمال کے بعد مانعینِ زکوٰۃ بھی اس سے مل گئے، تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان پر دوسری بار فاتحانہ لشکر کشی فرمائی اور طلیحہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں آیا اور شکست کو یقینی دیکھ کر شام کی طرف فرار ہوا۔ پھر کچھ عرصہ بعد اللہ تعالیٰ نے اسے توبہ کی توفیق بخشی اور وہ مشرف بہ اسلام ہو گیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں شام سے حج کے لیے آیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی اور اسلام کے لیے بڑے کارہائے نمایاں انجام دیے، خصوصاً جنگِ قادسیہ میں طلیحہ نے بڑی بہادری اور جوانمردی کے ساتھ لشکرِ اسلام کا دفاع کیا۔
مسیلمہ کذاب کے دور میں ہی سجاح نامی خاتون نے نبوت کا دعویٰ کیا، اس کے دعوے سے مسیلمہ کی شہرت ماند پڑی۔ ادھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں لشکرِ اسلام سجاح کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا۔ لشکر آگے بڑھا تو معلوم ہوا کہ اسلام کے دو مشترکہ دشمنوں سے تصادم ہونے والا ہے، تو حضرت خالد رضی اللہ عنہ وہیں رک گئے۔ مسیلمہ بڑا عیار شخص تھا، وہ سجاح اور اس کی طاقت سے باخبر تھا، اس نے سجاح کو زیر کرنے کے لیے دوسرا طریقہ اختیار کیا، بالآخر دونوں نے آپس میں نکاح کر لیا۔ اس واقعے سے اس کے لشکر کے کافی لوگ بددل ہو گئے اور اس کا ساتھ چھوڑنے لگے۔ سجاح بھی سمجھ گئی کہ اس کا جھوٹ زیادہ دن چلنے والا نہیں ہے، تو اس نے خاموشی کی زندگی بسر کرنے میں ہی اپنی عافیت جانی، لہٰذا وہ قبیلہ بنو تغلب میں آ گئی اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں قحط سالی کے سبب اپنے قبیلے کے ساتھ بصرہ آ گئی اور سب کے ساتھ اس نے بھی اسلام قبول کیا اور پرہیزگاری والی زندگی گزارنے لگی۔ بصرہ میں ہی ان کا انتقال ہوا اور صحابیِ رسول حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔
یہ ان چند افراد کا ذکر تھا جنہوں نے دعویٰ نبوت نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ہی کیا۔ اللہ پاک نے دو کو توبہ کی توفیق عطا فرمائی، ایک نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ہی واصلِ جہنم ہوا اور ایک کو خلافتِ صدیق میں کیفرِ کردار تک پہنچایا گیا۔ اس کے علاوہ بھی مرزا غلام احمد قادیانی تک متعدد ایسے لوگ اٹھے جنہوں نے دعویٰ نبوت کیا لیکن ہر دور میں اہلِ حق ایسے افراد کا مقابلہ کرتے رہے اور عقیدہ ختمِ نبوت پر قربانیاں دیتے رہے۔ اب اگلے لیول میں ہم خاص جنگِ یمامہ کا ذکر کریں گے کیونکہ جنگِ یمامہ ایک ایسی پہلی جنگ ہے جو عقیدہ ختمِ نبوت کی حفاظت کے لیے لڑی گئی اور اس جنگ میں جید صحابہ، بالخصوص سات سو حفاظ صحابہ کرام کی شہادتیں یہ اعلان کرتی ہیں کہ عقیدہ ختمِ نبوت کا تحفظ کس قدر اہم اور ضروری ہے۔
امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سیدنا عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس مسیلمہ کی سرکوبی کے لیے روانہ فرمایا تھا اور پھر حضرت سیدنا شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کی مدد کے لیے بھیجا، لیکن ان دونوں کے آگے اس نے ہتھیار نہ ڈالے۔ کیونکہ حضور اکرم، نورِ مجسم، شاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد مسیلمہ کذاب کا کاروبار چمک اٹھا تھا اور تقریباً ایک لاکھ سے زائد افراد اس کے گرد جمع ہو گئے تھے۔ حضرت سیدنا عکرمہ بن ابی جہل اور حضرت سیدنا شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بھی اس کی خوب جنگ ہوئی جس کے مقابلے میں اس کے کئی لوگ مارے گئے، اتنے میں ان دونوں صحابہ کی مدد کے لیے حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آ پہنچے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لشکر کی تعداد چوبیس ہزار تھی اور مسیلمہ کذاب کے پاس اس وقت چالیس ہزار فوج تھی، فریقین بے جگری سے لڑے اور جنگ کا نقشہ کئی بار تبدیل ہوا، کبھی حالات مسلمانوں کے حق میں ہو جاتے اور کبھی کفار کے۔
ثُمَّ بَرَزَ خَالِدٌ وَدَعَا اِلَی الۡبَرَّاز وَنَادَی بِشِعَارِھِمۡ وَکَانَ شِعَارُھُم یَا مُحَمَّدَاہ، فَلَم یَبْرُزْ اِلَیْہِ اَحَدٌ اِلَّا قَتَلَہُ یعنی جب حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یقین ہو گیا کہ بنو حنیفہ قبیلے والے اس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک مسیلمہ کو قتل نہ کیا جائے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بذاتِ خود میدان میں تشریف لائے اور مقابلے کے لیے کفار کے شہسواروں کو طلب کیا اور مسلمانوں کے شعار یعنی عادت کے مطابق یَامُحَمَّدَاہ کا نعرہ لگایا۔ اس وقت جنگ میں مسلمانوں کا شعار یہ تھا کہ وہ مشکل وقت میں بآوازِ بلند یہ نعرہ لگایا کرتے تھے یَامُحَمَّدَاہ، یعنی یا رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم! ہماری مدد فرمائیے۔ اسی طرح حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی نعرہ لگایا اور پھر دشمنوں کی طرف سے جو بھی مقابلے پر آیا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی گردن اڑا دی۔ بالآخر مشرکین کو شکست ہوئی اور وہ سارے بھاگ کھڑے ہوئے۔ مسلمانوں کی ایک جماعت نے ان کا تعاقب کیا اور بہت سوں کو واصلِ جہنم کیا اور بہت سوں کو گرفتار کر کے قیدی بنا لیا نیز کثیر مالِ غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔ یہ جنگِ یمامہ 11 سن ہجری میں لڑی گئی۔ (سیرت سید الانبیاء، ص 575، الکامل فی التاریخ، ج 2، ص 221)
اس جنگ میں حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سمیت تمام صحابۂ کرام علیہم الرضوان مشکل گھڑی میں حسنِ اخلاق کے پیکر، محبوبِ ربِّ اکبر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم کے وصالِ ظاہری کے بعد مدینہ منورہ سے بہت دور یَا مُحَمَّدَاہ کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ یعنی حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور صحابۂ کرام علیہم الرضوان کا یہ عقیدہ تھا کہ حضور نبیِّ کریم، رؤف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد دنیا کے کسی بھی کونے میں تم پر مصیبت آ پڑے تو رسولِ کائنات، فخرِ موجودات صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم کو پکارو۔ اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، مجددِ دین و ملت حضرت علامہ مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن صحابۂ کرام علیہم الرضوان کے اسی عقیدہ کی ترجمانی کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: فریاد امتی جو کرے حالِ زار میں ممکن نہیں کہ خیرِ بشر کو خبر نہ ہو نہ کیوں کر کہوں یَا حَبِیْبِی اَغِثْنِی اسی نام سے ہر مصیبت ٹلی ہے
مسیلمہ کے لشکری جب بھاگے تو خود مسیلمہ کذاب بھی بھاگ کھڑا ہوا اور ایک دیوار کے پیچھے جا کر چھپ گیا، لیکن ایک جید صحابی حضرت سیدنا وحشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے دیکھ لیا اور اس زور کا نیزہ مارا کہ اس کے سینے کے آر پار ہو گیا اور وہ اپنے بھیانک انجام کو پہنچ گیا۔ (سیرت سید الانبیاء، ص 609، الکامل فی التاریخ، ج 2، ص 222، تاریخ الخلفاء، ص 58) (یہ مکمل مضمون فیضانِ صدیقِ اکبر، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ سے لیا گیا ہے۔)
مفکرِ اسلام حضرت علامہ شاہ ترابُ الحق قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ رحمتِ عالم ﷺ کے دس سالہ مدنی دور میں غزوات اور سرایا ملا کر کل 74 جنگیں ہوئیں جن میں کل 259 صحابہ شہید ہوئے، جبکہ مسیلمہ کذاب کے خلاف جو جنگِ یمامہ لڑی گئی وہ اس قدر خونریز تھی کہ صرف اس ایک جنگ میں 1200 صحابہ شہید ہوئے جن میں سات سو حفاظ صحابہ بھی شامل ہیں۔ ختمِ نبوت کے معاملے میں جنگِ یمامہ میں 24 ہزار صحابۂ کرام نے شریک ہو کر اور 1200 صحابۂ کرام نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے اپنا عقیدہ واضح کر دیا کہ حضور نبیِّ کریم ﷺ اللہ پاک کے آخری نبی و رسول ہیں، حضورِ اکرم ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں ہو سکتا اور اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے تو اس سے اعلانِ جنگ کیا جائے گا۔
مرزا غلام احمد قادیانی 1839 یا 1840ء میں قادیان (ضلع گورداسپور، پنجاب) میں پیدا ہوا۔ اس کے والد کا نام غلام مرتضیٰ تھا اور آبائی پیشہ زمینداری تھا۔ اس کے آباؤ اجداد سکھوں اور انگریزوں کے وفادار ملازم رہے۔ اس نے ابتدائی تعلیم مولوی گل علی شاہ سے حاصل کی، مگر عربی اور انگریزی میں صرف ابجد خواں (یعنی پڑھنے لکھنے کی معمولی صلاحیت رکھنے والا) تھا۔ 1868ء میں متاری (ضلع سیالکوٹ) میں کلرک کی نوکری کی، پھر وہاں سے چلے گئے اور مختلف مذاہب کا مطالعہ شروع کیا۔ اس کے بعد اس نے عیسائیوں اور آریوں سے مباحثے شروع کیے اور مختلف مذاہب کے پیروکاروں کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی۔ قانون کا امتحان دیا مگر فیل ہو گیا، جس کے بعد تعلیم سے اس کا دل اچاٹ ہو گیا۔ وہ کمزوریِ دل و دماغ کے مرض میں مبتلا رہا؛ تشنجِ قلب، اسہال، دردِ سر، مالیخولیا اور شوگر جیسے امراض اس کی پوری زندگی کے ساتھی رہے۔ 26 مئی 1908ء کو لاہور میں شدتِ اسہال یا ہیضہ کے باعث مرا۔
مرزا غلام احمد نے 1885ء میں اعلان کیا کہ اسے الہام ہوا ہے اور وہ مسیحِ موعود اور مہدی ہونے کا دعویٰ کرنے لگا۔ 1890ء میں اس نے "مسیح ہندوستان" کے نام سے ایک کتاب لکھی اور اس میں یہ دعویٰ کیا کہ وہی مسیحِ موعود اور ابنِ مریم ہے۔ 1891ء میں اس نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور اپنے آپ کو "ظلی و بروزی نبی" کہا، یعنی یہ دعویٰ کیا کہ وہ حقیقی نبی نہیں بلکہ حضرت محمد ﷺ کا عکس اور سایہ ہے۔ اس نے اپنی کتاب "کشتی نوح" میں لکھا: "مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں پھونکی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابنِ مریم ٹھہرا۔" (کشتی نوح، ص 47) پھر 1901ء میں اس نے حقیقی نبوت کا دعویٰ کر دیا اور کہا: "میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں اور اس کے نوروں میں سے آخری نور ہوں۔ بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے، کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔" (کشتی نوح، ص 56)
یہ شخص انبیاء کرام کا نہایت گستاخ (یعنی بے ادب اور توہین کرنے والا) تھا۔ اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں لکھا کہ "عیسائیوں نے آپ کے بہت سے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ ظاہر نہ ہوا اور اس دن سے کہ آپ نے معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیں اور ان کو حرام کار اور حرام کی اولاد ٹھہرایا، اسی روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کیا۔" (ازالہ اوہام، ص 303) اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کو گالیاں بھی دیں اور 400 انبیاء کرام کو صاف جھوٹا لکھا۔ (ملفوظات، ص 208) نبوت کے دعوے کے بعد اس نے خدائی کا دعویٰ بھی کر ڈالا اور لکھا: "میں نے نیند میں اپنے آپ کو ہو بہو اللہ دیکھا اور میں نے یقین کر لیا کہ میں وہ (اللہ) ہوں، پھر میں نے آسمان و زمین بنائے اور کہا ہم نے آسمان کو ستاروں کے ساتھ سجایا ہے۔" (کمالاتِ اسلام، ص 564-565)
دوسرے جھوٹے نبوت کے دعویداروں کی طرح مرزا غلام احمد نے بھی کچھ پیشین گوئیاں کیں، مگر ان کا انجام مسیلمہ کذاب (یعنی جھوٹا نبی) کی طرح ہوا۔ 1۔ بیٹے کی پیشین گوئی: اس نے اپنے لیے ایک لڑکے کی پیشین گوئی کی تھی اور کہا تھا کہ وہ "انبیاء کا چاند" ہوگا اور بادشاہ اس کے کپڑوں سے برکت لیں گے۔ مگر نشانِ الٰہی یہ نکلا کہ اس کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی۔ جب یہ پیشین گوئی غلط ثابت ہوئی تو اس نے کہا کہ "وحی سمجھنے میں غلطی ہوئی، اب کی جو ہوگا وہ لڑکا انبیاء کا چاند ہوگا۔" پھر اس کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا، مگر وہ چند روز جی کر مر گیا۔ نہ وہ انبیاء کا چاند ثابت ہوا، نہ کوئی بادشاہ اس کے کپڑوں سے برکت لینے آیا۔ اس طرح یہ پیشین گوئی بالکل غلط ثابت ہوئی۔ 2۔ محمدی بیگم سے نکاح کی پیشین گوئی: اس نے اپنی چچا زاد بہن احمدی کو لکھ بھیجا کہ اپنی بیٹی محمدی بیگم اس کے نکاح میں دے دے۔ اس نے صاف انکار کر دیا۔ اس پر مرزا نے طمع دلائی، پھر دھمکیاں دیں اور پھر کہا کہ "وحی آ گئی ہے کہ ہم نے تیرا نکاح اس سے کر دیا۔" اس نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ اس کا نکاح کسی دوسری جگہ کرے گی تو ڈھائی یا تین برس کے اندر اس کا شوہر مر جائے گا۔ مگر اس خدا کی بندی نے ایک نہ سنی اور سلطان محمد خان سے نکاح کر لیا۔ نہ وہ آسمانی نکاح ہوا، نہ وہ شوہر مرا، بلکہ اس سے کتنے بچے پیدا ہوئے اور وہ خوش رہی۔ اس طرح یہ پیشین گوئی بھی غلط ثابت ہوئی۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 6، ص 31) 3۔ عمر کی پیشین گوئی: اسی طرح اس نے اپنی موت کے بارے میں کہا تھا کہ وہ 80 سال کی عمر پائے گا، مگر وہ 1908ء میں تقریباً 68 سال کی عمر میں مر گیا۔ اس طرح یہ پیشین گوئی بھی غلط ثابت ہوئی۔
اس نے اپنی کتابوں میں کئی اور بھی دعوے کیے، مگر وہ سب غلط ثابت ہوئے۔ اس نے کہا کہ "میں وہ مسیحِ موعود ہوں جس کے بارے میں تمام پاک کتابوں میں پیشین گوئیاں ہیں" (تحفہ گولڑویہ، ص 195)، مگر یہ دعویٰ بھی بے بنیاد تھا۔ 26 مئی 1908ء کو لاہور میں شدتِ اسہال یا ہیضہ کے باعث مرزا غلام احمد قادیانی مرا۔ اس کی موت کے بعد اس کے منہ سے پاخانہ نکلتے دیکھا گیا، جو حاضرین کے لیے عبرت کا باعث ہوا۔ اس کے خلفاء اس صورت حال کی تردید کرتے رہے، مگر یہ امر عبرت کا نشان ہے کہ جس شخص نے نبوت اور خدائی کے جھوٹے دعوے کیے، اس کا انجام ایسا عبرت ناک ہوا۔ (والعلم عند اللہ عزوجل)
جھوٹے مدعیِ نبوت مرزا غلام احمد قادیانی نے صرف نبوت اور رسالت کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ اس کے علاوہ اور بھی بہت سے دعوے کیے، جن میں اکثر کفریہ دعوے ہیں۔ اسی طرح مرزا قادیانی کے پیچھے چلنے والے بھی اس کی روش پر چلے اور کھلے کفر کو زندگی بھر اپنی کتابوں میں لکھتے رہے اور سرِ عام کہتے رہے۔ ملتِ قادیانیت کے چند باطل اور کفریہ عقائد ملاحظہ فرمائیں:
1۔ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ کلمہ طیبہ "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" میں "محمد رسول اللہ" سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ مرزا بشیر احمد لکھتا ہے: "مسیحِ موعود مرزا غلام احمد قادیانی، خود محمد رسول اللہ ہیں جو اشاعتِ اسلام کے لیے دوبارہ تشریف لائے، اس لیے ہم مرزائیوں کو کسی نئے کلمے کی ضرورت نہیں۔" (کلمۃ الفصل، ص 58) 2۔ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد کی ٹھیک وہی شان، وہی نام، وہی مرتبہ ہے جو آنحضرت ﷺ کا تھا۔ (اخبار الفضل، 16 ستمبر 1965ء) 3۔ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ چودہویں صدی سے تمام انسانوں کے لیے نبی اور رسول مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ (تذکرہ، ص 360) 4۔ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ رحمۃ للعالمین مرزا غلام احمد ہے۔ (تذکرہ، ص 83) 5۔ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ خاتم الانبیاء مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ مرزائی اخبار الفضل (26 ستمبر 1915ء) لکھتا ہے: "وہ مرزا، وہی ختم المرسلین تھا، وہی فخرِ اولین اور آخرین ہے جو آج سے تیرہ سو برس پہلے رحمۃ للعالمین بن کر آیا تھا۔" (قادیانی مذہب، ص 264)
6۔ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ آسمان و زمین اور تمام کائنات کو صرف مرزا غلام احمد کی خاطر پیدا کیا گیا۔ (حقیقۃ الوحی، ص 99) 7۔ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد کا آسمانی تخت تمام آسمانی تختوں میں سب سے اونچا ہے۔ (حقیقۃ الوحی، ص 89) 15۔ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تک ہر ایک نبی سے مرزا غلام احمد قادیانی پر ایمان لانے اور اس کی بیعت و نصرت کرنے کا عہد لیا تھا۔ (اخبار بدر قادیاں، 25 اکتوبر 1906ء)
8۔ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کا زمانہ روحانی ترقیات کی طرف پہلا قدم تھا اور مرزا غلام احمد کے زمانے میں روحانیت کی پوری تجلی ہوئی۔ (خطبہ الہامیہ، ص 177) 9۔ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو چھوٹی فتحِ مبین نصیب ہوئی تھی اور بڑی فتح مرزا غلام احمد کو ہوئی۔ (خطبہ الہامیہ، ص 193) 10۔ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ کا اسلام پہلی رات کے چاند کی طرح (یعنی بے نور) تھا اور مرزا غلام احمد کے زمانے کا اسلام چودہویں رات کے چاند کی طرح تاباں و درخشاں ہے۔ (خطبہ الہامیہ، ص 193) 11۔ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے معجزات تین ہزار تھے اور مرزا غلام احمد کے معجزے تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔ (تحفہ گولڑویہ، ص 63) 12۔ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد کا مذہبی ارتقاء آنحضرت ﷺ سے زیادہ تھا۔ (حقیقۃ الوحی، ص 67) 13۔ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد کی روحانیت آنحضرت ﷺ سے اقویٰ، اکمل اور ارشد ہے۔ (ریویو، مئی 1929ء) 14۔ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ: محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں! (خطبہ الہامیہ، ص 181)
16۔ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد خدا کا بروز (یعنی ظہور) ہے۔ (اخبار الفضل، 19-21 ستمبر 1915ء) 17۔ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد خدا کا روح ہے۔ (تذکرہ، ص 596) 18۔ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد خدا کی توحید و تفرید ہے۔ (تذکرہ، ص 741) 19۔ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ: غلام احمد ہے عرشِ ربِّ اکبر مکاں اس کا ہے گویا لا مکاں میں (تذکرہ، ص 381) 20۔ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد "کن فیکون" (یعنی "ہو جا" اور ہو جاتا ہے) کے رائی اختیارات کا مالک ہے۔ (اخبار بدر، 25 اکتوبر 1906ء) 21۔ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد خدا کا اعلیٰ نام ہے۔ (تذکرہ، ص 525) 22۔ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا خدا سے اور خدا مرزا سے۔ "خدا سے تو، خدا تجھ سے ہے واللہ تیرا رتبہ نہیں آتا بیاں میں" (تذکرہ، ص 436)
23۔ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ اس زمانے میں آنحضرت ﷺ کی پیروی مدارِ نجات نہیں بلکہ صرف مرزا غلام احمد کی پیروی سے نجات ہوگی۔ (اخبار بدر، 15 اکتوبر 1906ء) 24۔ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ جو لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کو مندرجہ بالا صفات کے ساتھ نہیں مانتے وہ شقیِ ازلی ہیں جو دوزخ کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ (اربعین، ص 7) 25۔ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ جو شخص مرزا کی پیروی نہ کرے وہ خدا رسول کا نافرمان ہے اور جہنمی ہے۔ (براہین احمدیہ، حصہ پنجم، ص 82-83) 26۔ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ جو شخص محمد کو مانتا ہے پر مسیحِ موعود (غلام احمد قادیانی) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ (اشتہار معیار الاخیار، 25 مئی 1900ء) 27۔ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کے جو معجزات قرآن کریم میں بیان فرمائے ہیں وہ سب مسمریزم (یعنی سحر و جادو) کا کرشمہ تھے۔ (ازالہ اوہام، حاشیہ ص 305) معاذ اللہ! اس قدر گھٹیا اور برے خیالات و عقیدے کا آدمی ہے، ربِّ قدیر اس شریر و بدبخت کے فتنے سے ہر مسلمان کو بچائے۔ آمین
ذکری فرقے کو ذگری اور بعض دیگر ناموں سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ ابتدا میں یہ فرقہ زیادہ تر بلوچستان کے بلوچوں میں پایا جاتا تھا، تاہم اب دیگر اقوام کے لوگ بھی اس میں شامل ہو رہے ہیں۔ ذکری تحریرات کے مطابق اس فرقے کا بانی "ملا محمد اٹکی" تھا، جس کا ظہور 977 ہجری، بمطابق 1569ء، بتایا جاتا ہے۔ ان کے مہدویت، نبوت اور رسالت کے دعووں کے بعد ذکری مذہب وجود میں آیا۔ ان کے روپوش ہونے کا سال 1029 ہجری بیان کیا جاتا ہے۔
ذکریہ فرقے کے عقائد: 1۔ کلمہ: ذکریوں کا کلمہ مسلمانوں کے معروف کلمے سے مختلف ہے۔ ان کے بعض کلمات میں یہ الفاظ شامل ہیں: لا إله إلا الله نورِ پاک نورِ محمد مہدی رسول الله 2۔ ملا محمد اٹکی کے بارے میں عقیدہ: ذکری ملا محمد اٹکی کو مہدی، نبی، رسول، خاتم النبیین اور خاتم الرسل مانتے ہیں۔ ان کے عقائد کے مطابق ملا محمد اٹکی کو آخری زمانے کا مہدی بھی سمجھا جاتا ہے۔ 3۔ ختمِ نبوت کا عقیدہ: ذکری ملا محمد اٹکی کو خاتم النبیین اور خاتم الرسل مانتے ہیں، جو عقیدۂ ختمِ نبوت کے اسلامی عقیدے کے خلاف ہے۔ 4۔ قرآن مجید اور احادیث کی تاویل: ذکری قرآن مجید کی آیات اور احادیث کی ایسی تاویلات کرتے ہیں جو اجماعِ امت کے خلاف ہوتی ہیں۔ 5۔ انبیائے کرام علیہم السلام کا مقام: ذکری ملا محمد اٹکی کو دیگر انبیائے کرام علیہم السلام سے برتر قرار دیتے ہیں۔
6۔ کوہِ مراد کو مقامِ محمود ماننا: ذکری بلوچستان کے علاقے تربت کے قریب واقع کوہِ مراد کو مقامِ محمود مانتے ہیں اور اسے خصوصی مذہبی تقدس دیتے ہیں۔ 7۔ کوہِ مراد کی زیارت: ذکری ہر سال کوہِ مراد کی زیارت کے لیے جاتے ہیں اور اسے اپنے مذہبی اعمال میں خاص اہمیت دیتے ہیں۔
8۔ نماز کا انکار: ذکری نماز کے بجائے ذکر کو اختیار کرتے ہیں اور نماز کی ادائیگی کے قائل نہیں ہیں۔ ان کے ہاں ذکر کو بنیادی مذہبی عمل کی حیثیت حاصل ہے، نماز کے منکر ہیں۔ 9۔ ذکر سے پہلے مخصوص عمل: ذکری اپنے ذکر سے پہلے مخصوص نیت کرتے ہیں جس کو نماز کا نعم البدل قرار دیتے ہیں۔ 10۔ رمضان کے روزوں کا انکار: ذکری رمضان المبارک کے فرض روزوں کے بجائے دوسرے مخصوص ایام میں روزے رکھنے کے قائل ہیں۔ وہ پیر کے دن اور دیگر مخصوص ایام کے روزے رکھتے ہیں جیسے ذی الحجہ وغیرہ میں۔ 11۔ نومولود کے کان میں اذان: ذکری نومولود بچے کے کان میں اذان نہیں دیتے۔ اس کے بجائے ان کے ہاں بچے کی پیدائش کے موقع پر "السلام علیکم / انسان اشرف المخلوقات" الفاظ کہتے ہیں۔
ان تمام عقائد و نظریات کے پیشِ نظر ملکِ پاکستان اور بیرونِ ممالک کے سینکڑوں علمائے امت نے ان پر کفر کا حکم لگایا ہے۔ دینِ اسلام سے ان لوگوں کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اللہ پاک ان کے شر کو سمجھنا اور ان کے فتنے سے بچنا ہمارے لیے آسان فرمائے، سیرتِ رسول ﷺ پر چلنا ہمیں نصیب فرمائے۔ آمین۔
انسان کی دنیا و آخرت کی بھلائی اور کامیابی اسلام پر ثابت قدم رہنے اور اس کے احکام پر عمل کرنے میں ہے۔ دینِ اسلام کا مسلّمہ نظریہ اور عقیدہ ہے کہ ہمارے پیارے نبی محمدِ عربی ﷺ اللہ پاک کے سب سے آخری نبی ہیں، آپ ﷺ کے تشریف لانے کے بعد آپ کے زمانے میں بھی کوئی نیا نبی نہیں آ سکتا اور نہ ہی آپ کی وفاتِ ظاہری کے بعد قیامت تک کوئی نیا نبی آئے گا۔ دشمنانِ اسلام شروع ہی سے اسلام، پیغمبرِ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کرتے اور اسلام کو کمزور بلکہ معاذ اللہ اسے جڑ سے ختم کرنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتے چلے آ رہے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے سے ان کے ہتھکنڈوں میں سے ایک ہتھکنڈہ "قادیانیت" کو فروغ دینا بھی ہے، بلکہ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو Lobby سب سے زیادہ متحرک ہے وہ قادیانیوں ہی کی لابی ہے۔ یہ لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی کہتے ہیں اور جو لوگ اس کے ماننے والوں میں سے اس کے ساتھ ہوتے تھے انہیں صحابہ اور اس کی بیویوں کو ازواجِ مطہرات اور امہات المؤمنین کہتے ہیں۔ (استغفر اللہ العظیم، الامان والحفیظ) خوب یاد رکھیے کہ قادیانیت اسلام کا کوئی فرقہ، جماعت یا گروہ نہیں بلکہ سراسر فتنہ ہی فتنہ اور شر ہی شر ہے۔
یہ لوگ مسلمانوں کو جن طریقوں اور ہتھکنڈوں سے ورغلاتے ہیں ان ہتھکنڈوں میں سے چند یہ ہیں: کسی بھی جگہ پر لوگوں کو میڈیکل کی فیسلیٹی دے دینا، کھانے پینے کی اشیاء مہیا کر دینا، رفاہِ عامہ کے کام کروانا، لوگوں کو کاروبار اور مختلف مہنگے ممالک کے ویزے دلانا وغیرہ۔ شروع شروع میں اس طرح کے مختلف ناموں پر یہ لوگوں کو اپنے قریب کرتے ہیں اور پھر قادیانیت کے زہر سے بھرا ہوا انجکشن انہیں لگا دیتے ہیں۔ چونکہ عام عوام کو دین کا علم نہیں ہوتا، اس ارتداد اور کفر کی طرف جانے والے زیادہ تر وہی ہوتے ہیں جو دین سے جاہل ہوتے ہیں۔ البتہ جو دین سے واقف ہوتے ہیں اور علمائے حق کی صحبتوں سے فیض یافتہ ہوتے ہیں وہ اپنے عقائد سے آگاہ ہوتے ہیں چنانچہ وہ اللہ کی رحمت سے قادیانیوں کے فریب سے بچ جاتے ہیں اور ان کے دھوکوں کو بھی پہچان لیتے ہیں۔ لیکن اگر انسان دین سے جاہل ہو اور مال کی محبت اس میں غالب ہو تو پھر وہ اس فتنے کا جلد شکار ہو سکتا ہے۔ علمِ دین سے دوری اور مال کی محبت یہ دو چیزیں مل کر انسان کو تباہ کر دیتی ہیں۔ یاد رکھیے! دین اور ایمان کا معاملہ اس قدر حساس (Sensitive) ہے کہ حالتِ اکراہ کے بغیر جو بندہ بھی زبان سے اپنے آپ کو عیسائی (کرسچین)، یہودی، قادیانی یا کسی بھی کافر و مرتد گروہ کا "فرد" بول دے یا لکھ دے یا لکھوا دے شریعتِ اسلامیہ کی رو سے اس پر حکمِ کفر ہی لگے گا۔
قرآنِ کریم کے پارہ 22 سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر 40 میں واضح طور پر ہمارے پیارے نبی محمدِ عربی ﷺ کو خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ فرمایا گیا ہے۔ کثیر احادیثِ کریمہ، صحابۂ کرام، تابعینِ عظام اور ساری امت کے علما و فقہا کے ارشادات سے یہ واضح ہے کہ خاتم النبیین کا معنیٰ "آخری نبی" ہے، بلکہ رسولِ کریم ﷺ کی ظاہری حیات اور آپ کے بعد خلیفۂ اول جنابِ صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں تمام صحابۂ کرام کا اسی معنیٰ پر عملی اجماع رہا اور ان الفاظ کا ترجمہ صحابۂ کرام علیہم الرضوان سے لے کر اب تک مسلمانوں نے یہی سمجھا ہے۔ مگر قادیانی صحابۂ کرام سے لے کر اب تک کے تمام تر مسلمانوں کو غلط کہتے ہوئے ان الفاظ کا ترجمہ ایسا کرتے ہیں جو پوری تاریخِ اسلام میں کسی نے بیان نہیں کیا، اور نہ ہی وہ عربی زبان اور عربی اسلوب کے موافق بنتا ہے۔ پوری امت کو غلط کہہ کر قرآنِ کریم کی کسی آیت کا ایک نیا معنی اور ایک نئی تشریح لے کر آنا ہی ضلالت و گمراہی کا دروازہ ہے، بڑے بڑے فتنے اسی وجہ سے پیدا ہوئے اور ہوتے ہیں۔
دنیا جانتی ہے کہ مرزا قادیانی نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا مگر فی زمانہ قادیانیوں کے ہتھکنڈوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ دینِ اسلام سے متعلق تھوڑی بہت معلومات رکھنے والا شخص جب ان کے قریب ہوتا ہے تو یہ لوگ شروع شروع میں اس سے کہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے نبی ہونے کا دعویٰ تھوڑی کیا تھا، وہ تو مجدد تھے، مسیح تھے، وہ تو مسیحِ موعود تھے، وہ تو مہدی تھے۔ اور پھر جب باری آتی ہے بیعت کی تو اس وقت یہ لوگ اس سے بیعت میں یہ الفاظ بھی دہرواتے ہیں کہ "مرزا کو میں مانتا ہوں اور جو اُسے نہ مانے میں اسے کافر سمجھتا ہوں"، بلکہ خود مرزا نے بھی کئی جگہ لکھا ہے کہ "جو مجھے نہیں مانے گا وہ کافر ہے۔" انتہائی بدنصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جو دنیا کے لالچ، باہر ملکوں کے ویزے یا نیشنلٹی کے لیے خود کو کاغذات میں قادیانی یا کسی بھی دوسرے مذہب کا فرد ظاہر کرتے ہیں اور گلے میں کفر کی لعنت کا طوق ڈال لیتے ہیں۔
اپنے ایمان کی حفاظت کی فکر کیجیے، عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے اپنی کوششوں کو تیز کر دیجیے، اپنی اولاد، اپنے گھر والوں اور جہاں تک آپ سے ہو سکے اس عقیدے کو اچھے انداز سے پہنچائیے، اپنے پیارے اور آخری نبی ﷺ سے اپنی محبت کو مزید بڑھائیے، قادیانیوں کے ہتھکنڈوں سے بچیے۔ احادیثِ طیبہ کے مطابق یہ فتنوں کا دروازہ بند نہیں ہوگا، آج قادیانیت کا فتنہ ہے تو کل کوئی اور فتنہ سر اٹھا لے گا، لہٰذا عقیدے کے حوالے سے اپنا اور اپنی نسلوں کا تحفظ کیجیے۔ اللہ پاک ہمیں اور ہماری نسلوں کو ہر طرح کے فتنے سے محفوظ فرمائے۔ آمین
پچھلے دور میں ٹیکنالوجی نام کی کوئی چیز وجود میں نہیں تھی اور اس لیے دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک کچھ بھی ہوتا کسی کو کچھ پتا نہیں چلتا۔ اسی لیے ذکری مذہب کے پیروکار اپنے بے بنیاد عقائد کی بنیاد پر ایک بڑی تعداد میں سادہ انسانوں کو گمراہ کرتے جا رہے تھے اور اس میں سے اکثر پہاڑوں میں بسنے والے بے علم اور کم شعور لوگوں کے دلوں میں اپنا خوف بٹھا کر اپنے راستے پر لاتے گئے۔ اور کثیر تعداد اس بے بنیاد اور باطل مذہب میں ہو کر نورِ ایمان سے محروم ہوتی رہی۔ آہستہ آہستہ وقت گزرتا گیا، لوگوں میں شعور آتا گیا اور ٹیکنالوجی سے ان لوگوں کی حقیقت کا سامنا ہوتا گیا اور لوگ حق کو پہچان کر دینِ اسلام میں دوبارہ داخل ہوتے گئے اور اس بے بنیاد ذکری مذہب کے خلاف جنگ کرتے گئے۔ تو جدید دور کے ذکری ملاؤں نے سوچا کہ ایک تو ہم سرے سے دینِ اسلام سے بالکل دور ہیں اور آج کے دور میں لوگ باشعور ہوتے جا رہے ہیں؛ اگر اس طرح ہم اپنے مذہب کے بنیادی عقائد پر قائم رہے تو ہمارا مذہب کچھ ہی عرصے میں صفحۂ ہستی سے مٹ جائے گا۔ اور جس طرح ذکری ملاؤں کی کمائی کے ذرائع ہیں وہ تو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گے۔ تو پھر ان ذکری پیشواؤں نے ایک نئی ترتیب شروع کی اور اپنی جتنی عقائد کی کتابیں تھیں ان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھپا دیا اور نئی کتابیں لکھتے گئے۔ اگرچہ تحریر میں بھی ان کا کام اتنا زیادہ نہیں ہے اور جو کام تحریر میں لائے اس میں اپنے عقائد کو غلط قرار دے کر اپنے آپ کو اسلام کے قریب لانے کی کوشش کرتے گئے۔ لیکن اس کے باوجود اس مذہب کے انتہائی چاہنے والوں نے ان پیشواؤں پر اعتراض کیا کہ یہ لوگ مذہب سے برگشتہ ہو کر کافر ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود ابھی تک اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن پر بھی ایمان نہیں رکھتے ہیں۔ اور جو کلمہ ذکریوں کا تھا وہ ابھی تک اسی پر قائم ہیں۔
جہاں تک ان لوگوں کی کوشش تھی کہ ہم اپنے مذہب کو دینِ اسلام کا ایک فرقہ باور کرا سکیں۔ ایک تو ہماری بدقسمتی ہے کہ پاکستان میں ابھی ان کو اسلامی فرقہ کی حیثیت حاصل ہے۔ وہ اس لیے کہ ایک تو یہ اتنی کم تعداد اور مخصوص بلوچ قوم میں موجود ہیں۔ یہ اپنے آپ کو چھپا کر رکھتے ہیں، اور اپنے مذہب کی اعلانیہ تبلیغ بھی نہیں کرتے ہیں، یہاں تک کہ اس صوبے میں کئی علاقوں، شہروں میں عام مسلمان ان کے بارے میں جانتے تک نہیں۔ البتہ اس فتنے سے آگاہی کے لیے خاص اس صوبے کے اہلِ حق علماء نے ان کے فسادات اور فتنوں کو لوگوں پر ظاہر کر دیا ہے تاکہ عام مسلمان ان کے دامِ فریب سے محتاط ہو جائیں۔ اس کورس کے آخری لیول میں ملکِ پاکستان کے آئین کی روشنی میں خاص قادیانیوں کے لیے بنائے گئے قوانین کو ذکر کیا جا رہا ہے، تاکہ عقیدہ ختمِ نبوت کی حساسیت کو اور اہلِ حق علماء کی کوشش و کاوش کا اندازہ لگایا جا سکے کہ کس طرح سے ان قوانین کو بنا کر اسلام کی نظریاتی سرحدوں پر پہرا دیا ہے۔
عقیدۂ ختمِ نبوت اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے۔ مسلمان اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کسی نئے نبی کا آنا ممکن نہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت سے متعلق ایسے دعوے کیے جنہیں مسلمانوں کے جمہور علماء نے عقیدۂ ختمِ نبوت کے منافی قرار دیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد قادیانیوں کی مذہبی حیثیت کا مسئلہ قومی سطح پر زیرِ بحث آیا۔ اس مسئلے پر علماء، مذہبی رہنماؤں اور قومی اسمبلی کے ارکان نے گفتگو کی۔ طویل بحث کے بعد 7 ستمبر 1974ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے آئینی ترمیم کے ذریعے قادیانی گروہ، بشمول لاہوری گروہ، کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ یہ فیصلہ پاکستان کی آئینی تاریخ کا اہم واقعہ ہے۔ اس کے ذریعے قادیانی گروہوں کی آئینی مذہبی حیثیت متعین کی گئی۔
پاکستان میں پہلی مرتبہ 1953ء میں قادیانیت کے خلاف تحریک چلی، علماء اہلسنت نے مسئلہ ختمِ نبوت اور فتنہ قادیانیت کو طشت از بام کیا، جبکہ دوسری دفعہ 1974ء میں قادیانیت کے خلاف تحریک چلی اور کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ قومی اسمبلی میں موجود علماء اہلسنت (بریلوی) نے آئینی و قانونی طور پر قادیانیوں (احمدیوں، لاہوریوں) کو کافر قرار دلوانے کی قرارداد پیش کی اور انہیں کافر قرار دلوایا۔
عقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ اور قادیانیوں کے خلاف 1974ء کی عوامی تحریک اس قدر مضبوط، بھرپور، مسلسل اور مستحکم تھی کہ اس وقت کی حکومت بھی اس امر پر مجبور ہوئی کہ وہ قادیانیوں کا مسئلہ قومی اسمبلی میں لے کر جائے اور پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے۔ چنانچہ جب یہ بل پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیش ہوا تو اس وقت ایک جانب اس موضوع پر تحریک زوروں پر تھی تو دوسری طرف تمام سیاسی جماعتیں اور دینی قوتیں اس بل کو منظور کروانے کے لیے سرگرمِ عمل تھیں۔ چنانچہ اراکینِ قومی اسمبلی مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا شاہ تراب الحق اور راجہ محمد ظفر الحق نے اس بل کی منظوری کے لیے اہم کردار ادا کیا اور 1974ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پہلے دورِ حکومت میں قادیانیوں کو بالاتفاق پاکستان کی غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔ یہ ایک عظیم فیصلہ تھا جس کے نہ صرف برصغیر میں دور رس نتائج مرتب ہوئے اور قادیانی غیر مسلم اقلیت قرار پائے، بلکہ اس فیصلے کی روشنی میں قادیانیوں کو تمام مسلم ریاستوں اور سب مسلم معاشروں میں بھی غیر مسلم کے طور پر تسلیم کر لیا گیا۔ اسی وجہ سے نہ صرف قادیانی، لاہوری اور مرزائی غیر مسلم قرار پائے بلکہ عقیدہ ختمِ نبوت کا بھی عملاً تحفظ کیا گیا جو پاکستان کے لیے ایک اعزاز ہے۔ پاکستان میں عقیدہ نبوت ﷺ اور تحریکِ ختمِ نبوت ﷺ پر بہت کچھ لکھا گیا، بہت کچھ سنایا گیا۔ اس کورس میں ریاستِ پاکستان کے آئین و قانون کی روشنی میں ختمِ نبوت ﷺ پر چند اہم باتیں شامل کی جا رہی ہیں۔ پاکستان کے تمام مسلمانوں کے لیے آئین و قانون میں درج ان معلومات سے متعلق آگاہی بہت ضروری ہے۔
آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 260 کی شق (3) میں مسلمان کی تعریف (Definition) میں لکھا ہے کہ: "مسلم سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو وحدت و توحید قادرِ مطلق اللہ جل جلالہ، خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی ختمِ نبوت پر مکمل اور غیر مشروط طور پر ایمان رکھتا ہو اور پیغمبر یا مذہبی مصلح کے طور پر کسی ایسے شخص پر نہ ایمان رکھتا ہو، نہ اسے مانتا ہو جس نے حضرت محمد ﷺ کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا ہو یا جو دعویٰ کرے۔" اس آئینی تعریف کے مطابق مسلمان ہونے کے لیے حضرت محمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا آخری نبی تسلیم کرنا ضروری ہے۔ آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبوت ملنے کا عقیدہ رکھنا یا اسے ممکن ماننا، عقیدۂ ختمِ نبوت کے منافی ہے۔ اس اصول کی روشنی میں آئین نے قادیانی گروہ اور لاہوری گروہ کو غیر مسلم اقلیت کی حیثیت دی ہے۔ یہ آئینی درجہ بندی ہے؛ اس کے قانونی نتائج کو سمجھنے کے لیے آئین کی متعلقہ شقوں اور نافذ قوانین کا مطالعہ ضروری ہے۔
"غیر مسلم" سے ایسا شخص مراد ہے جو مسلمان نہ ہو اور اس میں عیسائی، ہندو، سکھ، بدھ یا پارسی فرقے سے تعلق رکھنے والا شخص، قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کا (جو خود کو "احمدی" یا کسی اور نام سے موسوم کرتے ہیں) کوئی شخص یا کوئی بہائی، اور کسی درج فہرست ذاتوں سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص شامل ہے۔
آئینِ پاکستان میں ختمِ نبوت ﷺ اور مسلمان کی واضح تعریف کے بعد کسی بھی قسم کے غیر آئینی اقدام کی روک تھام کے لیے مجموعہ تعزیراتِ پاکستان یعنی پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 298 میں 1984ء میں ایک آرڈیننس کے تحت ترمیم کی گئی۔
پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 298 (B) (1) کے مطابق: قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کا کوئی بھی فرد (جو اپنے آپ کو "احمدی" کہتے ہیں یا کسی دوسرے نام سے) جو الفاظ کے ذریعے، یا تو بولے یا لکھے، یا ظاہری نمائندگی کے ذریعے درج ذیل افعال کرے: (الف) حضرت محمد ﷺ کے خلیفہ یا صحابی کے علاوہ کسی بھی شخص کو "امیر المومنین"، "خلیفۃ المومنین"، "خلیفۃ المسلمین"، "صحابی" یا "رضی اللہ عنہ" کے طور پر منسوب یا مخاطب کرے۔ (ب) حضرت محمد ﷺ کی کسی زوجہ محترمہ کے علاوہ کسی ذات کو "ام المومنین" کے طور پر منسوب یا مخاطب کرے۔ (ج) حضرت محمد ﷺ کے خاندان "اہل بیت" کے کسی فرد کے علاوہ کسی بھی فرد کو "اہل بیت" کے طور پر منسوب یا مخاطب کرے۔ (د) اپنی عبادت گاہ کو "مسجد" کے طور پر منسوب کرے یا موسوم کرے یا پکارے۔ درج بالا جرائم کی صورت میں اس شخص کو قید کی سزا دی جائے گی جو کہ تین سال تک ہو سکتی ہے، اور جرمانے کے قابل بھی ہوگا۔
پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 298 (B) (2) کے مطابق: قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کا کوئی بھی فرد (جو اپنے آپ کو "احمدی" یا کسی اور نام سے پکارتا ہے) جو الفاظ کے ذریعے، یا تو بولے یا لکھے، یا ظاہری نمائندگی کے ذریعے، اپنے مذہب میں عبادت کے لیے بلانے کے طریقے یا صورت کو اذان کے طور پر منسوب کرے یا اس طرح اذان دے جس طرح مسلمان دیتے ہیں، اسے دونوں میں سے کسی ایک صورت میں قید کی سزا دی جائے گی جو کہ تین سال تک ہو سکتی ہے، اور جرمانے کے قابل بھی ہوگا۔
پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 298 (C) کے مطابق: قادیانی گروہ یا لاہوری گروہ کا کوئی فرد (جو اپنے آپ کو "احمدی" یا کسی اور نام سے پکارتا ہے)، جو بالواسطہ یا بلاواسطہ خود کو ایک مسلمان کی حیثیت سے ظاہر کرتا ہے، یا اپنے عقیدے کو اسلام کہتا ہے، یا اپنے عقیدے کی تبلیغ کرتا ہے، یا دوسروں کو اپنے عقیدے کو قبول کرنے کی دعوت دیتا ہے، الفاظ کے ذریعے، یا تو بولے یا تحریری، یا ظاہری نمائندگی کے ذریعے، یا کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرے، تو اسے قید کی سزا دی جائے گی جس کی مدت تین سال تک ہو سکتی ہے اور جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔
اللہ کریم ہم سب کو پکا سچا مسلمان بنائے اور زندگی کے آخری سانس تک عقیدہ ختمِ نبوت ﷺ پر قائم دائم اور اس عقیدہ کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین کورس کے اس آخری لیول کی تکمیل ہوئی۔ سیرت کی دنیا ایپ میں سیرتِ رسول سے متعلقہ کورسز کو شامل کیا جاتا رہے گا۔ سیرتِ رسول ﷺ کے بارے میں معلومات کا ہونا اس دور کی بنیادی ضرورت ہے، کہ ذاتِ رسول ﷺ ہی اساسِ ایمان ہیں۔ ہماری زندگی میں وہ نہ ہوں تو کچھ نہ ہو، ساری برکتیں، رحمتیں، بھلائیاں ذاتِ رسول ﷺ کے ساتھ وابستہ ہونے میں ہی پنہاں ہیں۔ سیرت کی دنیا ایپ اپنے متعلقین میں بھی عام کریں۔ اور یوں سیرتِ رسول ﷺ کے پیغام کو عام کرنے میں آپ بھی شامل ہو جائیں۔