رول ماڈلز

سیرت رسول پاک ﷺبحیثیت والد(بیٹے کے حق میں)

4 حصے
نبی پاکﷺکی بیٹے پر شفقت اور محبت
*عَنْ أَنَسٍ قَالَ: دَخَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلیٰ أَبِي سَيْفٍ الْقَيْنِ وَكَانَ ظِئْرًا لِإِبْرَاهِيمَ فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِبْرَاهِيمَ فَقَبَّلَهٗ وَشَمَّهٗ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)* ترجمہ حدیث: روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللهﷺ کے ساتھ ابوسیف لوہار کے ہاں گئے جو حضرت ابراہیم کا رضاعی والد تھا رسول اللهﷺ نے ابراہیم کو لیا انہیں چوما اور سونگھا (مسلم،بخاری) ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:2 , حدیث نمبر:1722 )
حصہ 1
1/4
نبی کریمﷺکا اولاد کی جدائی پر صبر اور رضا بالقضا کے الفاظ
*وَإِبْرَاهِيمُ يَجُودُ بِنَفْسِهِ فَجَعَلَتْ عَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَدْرِفَانِ. فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ فَقَالَ: " يَا ابْنَ عَوْفِ إِنَّهَا رَحْمَةً ثُمَّ أَتْبَعَهَا بِأَخْرَى فَقَالَ: إِنَّ الْعَينَ تَدْمَعُ وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ وَلَا تَقُولُ إِلَّا مَا يُرْضِي رَبَّنَا وَإِنَّا بِفِرَاقِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ* (جب) حضرت ابراہیم جان دے رہے تھے تو رسول الله ﷺکی آنکھیں بہنے لگیں حضرت عبدالرحمان بن عوف نے خدمت عالیہ میں عرض کیا یا رسول اللهﷺ آپ بھی تو فرمایا اے ابن عوف یہ تو رحمت ہے پھر دوبارہ آنسو بہائے فرمایا آنکھیں بہتی ہیں ، دل غمگین ہے مگر ہم وہ ہی کریں گے جس سے ہمارا رب راضی ہو اے ابراہیم تمہاری جدائی سے ہم غمگین ہیں۔ (مسلم، بخاری) (کتاب مرآة المناجيح شرح مشكوة المصابيح جلد : 2, حدیث نمبر : 1722 )
حصہ 2
2/4
نبی کریمﷺنے اپنے مبارک عمل اور قول سے اولاد سے محبت اور شفقت کا حکم دیا
*وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال‏:‏ قبل النبي الحسن بن علي رضي الله عنهما، وعنده الأقرع بن حابس، فقال الأقرع‏:‏ إن لي عشرة من الولد ما قبلت منهم أحدًا‏.‏ فنظر إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم* *فقال‏:‏ من لا يرحم لا يرحم* ‏ (بخاری،کتاب الادب،حدیث:۵۹۹۷) ایک بار حضرت اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺسیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہما سے محبت فرمارہے ہیں اور انہیں پیار سے چوم رہے ہیں ۔ تو انہوں نے عرض کیا کہ:یارسول اللہ ﷺ! میرے پاس تو دس بچے ہیں لیکن میں نے ان میں سے کسی کو بھی آج تک نہیں چوما،آپ ﷺ نے ان کی طرف دیکھا اور ارشاد فر مایا:جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔
حصہ 3
3/4
نبی پاکﷺکی اولاد میں عدل کی تربیت فرمانا
رسول الله ﷺ صحابه کرام علیہم الرضوان کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک بچہ آیا اور وہاں موجود اپنے والد کے پاس چلا گیا۔ والد نے بچے کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اسے اپنی سیدھی ران پر بٹھالیا۔ کچھ دیر بعد ان کی بیٹی بھی اس مجلس میں حاضر ہوکر اپنے والد کے پاس پہنچی تو انہوں نے بچی کے سر پر ہاتھ پھیر کر زمین پر اپنے ساتھ بٹھالیا- رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: اسے اپنی دوسری ران پر کیوں نہیں بٹھالیا ؟ یہ سن کر انہوں نے بچی کو اپنی دوسری ران پر بٹھالیا۔ اللہ پاک کے آخری نبیﷺ نے ارشاد فرمایا اب تم نے عدل کیا ہے۔ (حوالہ: موسوعه ابن ابى الدنيا ، ج 8، ص 23 ، حدیث : 36) امام اہل سنت امام احمد رضا خان رحمة الله عليه فرماتے ہیں: اپنے چند بچے ہوں تو جو چیز دے سب کو برابر و یکساں دے ، ایک کو دوسرے پر بے فضیلت دینی یعنی دینی فضیلت کے بغیر ترجیح نہ دے۔ (حواله: اولاد کے حقوق ، ص19)
حصہ 4
4/4