رول ماڈلز

بیٹا، سیرت مصطفٰی کی روشنی میں

4 حصے
نبی پاک ﷺکاماں باپ کو ان کا اصل مقام دینا۔
ایک اچھا اور نیک بیٹا ہونے کی حیثیت سے ہمارا اپنے والدین کے ساتھ کیسا سلوک ہونا چاہئے اس بارے میں رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات ہمارے لئے بہترین رہنما اور آپ ﷺکی زندگی ہمارے لئے بہترین نمونہ عمل ہے جس کو اپنا کر ہم دنیا اور آخرت کی سعادتوں کو اپنے دامن میں سمیٹ سکتے ہیں ۔ اور اس سے دوری میں سوائے تباہی وبربادی اور آخرت کی رسوائی وناکامی کے اور کچھ بھی نہیں ہے۔ رسول اکرم ﷺکی آمد سے قبل جس طرح لوگ اور بہت ساری برائیوں میں ملوث تھے اسی طرح والدین کے ساتھ بھی ان کا بہت گھٹیا اور ذلت آمیز سلوک تھا۔ان کی برائی کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ: جب اس دور میں باپ کا انتقال ہوجاتا تھا تو اس کے بیٹے جب اپنے درمیان باپ کے چھوڑے ہوئے مال و دولت کو بانٹتے تھے تو ’ ماں ‘ کو بھی ایک مال سمجھ کر بانٹ لیتے تھے اور ’ ماں‘ جس کے حصے میں آتی وہ یا تو اپنی ماں سے خود شادی کر لیتا تھا یا اسے بیچ کر مال ودولت حاصل کر لیتا تھا۔ رسول اکرم ﷺ نے اپنی پاکیزہ تعلیمات سے ان تمام برائیوں کا قلع قمع فرمایا اور اپنی امت کو والدین کے حقیقی مقام ومرتبہ سے آگاہ فرمایااور ان کی عزت و احترام اور خدمت کرنے کو جنت میں جانے کا ذریعہ بتایا:چنانچہ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :ایک شخص نے رسول اکرم ﷺسے پوچھا کہ:یارسول اللہ ﷺ!اولاد پر ماں باپ کے کیا حقوق ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: *ھماجنتک ونارک* وہ دونوں تیر ے جنت اور دوزخ ہیں،یعنی ان کی عزت واحترام اور خدمت کرنا تمہارے جنت میں جانے کا سبب ہے اور ان کی بے عزتی اور نافرمانبرداری کرنا تمہارے دوزخ میں جانے کا سبب ہے۔ [ابن ماجہ،حدیث: ۳۶۶۲] ایک حدیث میں فرمایا: * قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَغِمَ أَنْفُهٗ رَغِمَ أَنْفُهٗ . قِيلَ: مَنْ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: مَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ عِنْدَ الْكِبَرِ أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا ثُمَّ لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ . رَوَاهٗ مُسْلِمٌ* رسولِ اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ’’اس شخص کی ناک خاک آلود ہو، پھر اس شخص کی ناک خاک آلود ہو، پھر اس شخص کی ناک خاک آلود ہو۔ صحابۂ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے عرض کی :یا رسولَ اللّٰہﷺ!، کس کی ناک خاک آلود ہو؟ ارشاد فرمایا ’’جس نے اپنے ماں باپ دونوں یا ان میں سے کسی ایک کو بڑھاپے کی حالت میں پایا، پھر وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوا۔ (صحيح مسلم كتاب البر والصلة والاداب، حدیث نمبر: 6511 )
حصہ 1
1/4
نبی کریمﷺکی والدین سےمحبت ،اور احترام کرنا۔
اللہ پاک کے آخری نبیﷺ نے اپنی امت کو والدین کی خدمت کرنے کی تعلیم دی اسی طرح آپ ﷺنے خود اپنے والدین کے ساتھ کرکے دیکھایا بھی۔ چنانچہ آپ ﷺکے حقیقی والدین تو آپ کے بچپنے ہی میں اللہ کو پیارے ہوگئے مگر آپ کے رضاعی والدین(یعنی جس مقدس خاتون نے آپ ﷺکو دودھ پلایاوہ اور ان کے شوہر)زندہ تھے ،وہ جب آپ ﷺ کے پاس تشریف لاتے تو آپ ﷺ انکو خوب عزت اور محبت سے پیش آتے چنانچہ ایک مرتبہ غزوۂ حُنین کے موقع پر جب حضرت سیّدتنا حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا محبوبِِ خداﷺسے ملنے آئیں تو آپﷺ نے ان کے لئے اپنی چادر بچھائی۔ (الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب،ج 4،ص374)
حصہ 2
2/4
نبی پاک ﷺکااپنے والدین کی ضروریات کو پورا کرنا اور مالی خدمت کرنا
ایک مرتبہ سیدہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا تاجدارِ رسالتﷺ کے پاس آئیں اور قحط سالی کا بتایا تو نبیِ کریم ﷺ کے کہنے پر حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے حضرت حلیمہ کو 1اونٹ اور 40 بکریاں دیں۔ (الحدائق لابن جوزی،ج1،ص169)
حصہ 3
3/4
نبی پاک ﷺکااپنے والدین کے رشتہ داروں اور متعلقین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا۔
غزوہ حنین کے بعد جب آپ ﷺاموالِ غنیمت کی تقسیم سے فارغ ہو چکے تو قبیلہ بنی سعد کے رئیس زہیر ابو صردچند معززین کے ساتھ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور اسیران جنگ کی رہائی کے بارے میں درخواست پیش کی۔ اس موقع پر زہیر ابو صرد نے ایک بہت مؤثر تقریر کی، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اے محمد!(ﷺ )آپ نے ہمارے خاندان کی ایک عورت حلیمہ کا دودھ پیا ہے۔ آپ نے جن عورتوں کو ان چھپروں میں قید کر رکھا ہے ان میں سے بہت سی آپ کی(رضاعی)پھوپھیاں اور بہت سی آپ کی خالائیں ہیں ۔ خدا کی قسم! اگر عرب کے بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ نے ہمارے خاندان کی کسی عورت کا دودھ پیا ہوتا تو ہم کو اس سے بہت زیادہ امیدیں ہوتیں اور آپ سے تو اور بھی زیادہ ہماری توقعات وابستہ ہیں ۔ لہٰذا آپ ان سب قیدیوں کو رہا کر دیجئے۔ زہیر کی تقریر سن کر حضور ﷺ بہت زیادہ متأثر ہوئے اور آپ نے فرمایا کہ میں نے آپ لوگوں کا بہت زیادہ انتظار کیا مگر آپ لوگوں نے آنے میں بہت زیادہ دیر لگا دی۔ نماز ظہر کے وقت ان لوگوں نے یہ درخواست مجمع کے سامنے پیش کی اور حضورﷺنے مجمع کے سامنے یہ ارشاد فرمایا کہ مجھ کو صرف اپنے خاندان والوں پر اختیار ہے لیکن میں تمام مسلمانوں سے سفارش کرتا ہوں کہ قیدیوں کو رہا کر دیا جائے یہ سن کر تمام انصار و مہاجرین اور دوسرے تمام مجاہدین نے بھی عرض کیا کہ یارسول اﷲ!ﷺ ہمارا حصہ بھی حاضر ہے۔ آپ ان لوگوں کو بھی آزاد فرما دیں ۔ اس طرح دفعۃً چھ ہزار اسیران جنگ کی رہائی ہو گئی۔ (سیرتِ ابن ہشام ج۴ ص۴۸۸ و ص۴۸۹)
حصہ 4
4/4