اسلامک ڈیسک کی جانب سے
👈 ضمیر سمجھیے 👈 اسمِ اشارہ سمجھیے 👈 اسمِ موصول سمجھیے 👈 اسمِ ظروف سمجھیے 👈 اسمِ استفہام سمجھیے 👈 اسمِ شرط سمجھیے 👈 اسمِ کنایہ سمجھیے 👈 اسمِ فعل سمجھیے
1
انرولمنٹس
0
مکمل
N/A
ریٹنگ
وہ کلمہ جو کسی اسم کی جگہ استعمال ہو تاکہ بار بار اُس اسم کو دہرانا نہ پڑے۔ اِس کی تین قسمیں ہیں: غائب ، حاضر ، متکلم
ضمیر کی پانچ قسمیں ہیں: 1. مرفوع متصل 2. مرفوع منفصل 3. منصوب متصل 4. منصوب منفصل 5. مجرور متصل
وہ ضمیر جو کلمہ کے ساتھ ملی ہوئ ہو۔ مثال: نَصَرْتُ مرفوع متصل کی دو قسمیں ہیں: 1. مرفوع متصل مستتر 2. مرفوع متصل بارز
یعنی وہ ضمیر جو پوشیدہ (چھپی ہوئ) ہو۔ جیسے: اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ مرفوع متصل مستتر کی دو صورتیں ہیں: 1. وجوبًا 2. جوازًا
یعنی جن ضمائر کا پوشیدہ ہونا ضروری ہے۔ مثال: وَ ادْعُوْاشُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ نوٹ: مضارع کے تین صیغوں میں وجوبًا مستتر ہوتی ہے: • واحد مذکر حاضر • واحد متکلم • جمع متکلم
یعنی جن کا پوشیدہ ہونا یا نہ ہونا دونوں برابر ہیں۔ مثال: الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا نوٹ: ماضی و مضارع کے دو صیغوں میں جوازًا مستتر ہوتی ہے: • واحد مذکر غائب • واحد مؤنث غائب
یعنی وہ ضمیر جو بالکل ظاہر ہو۔ مثال: اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ نوٹ: ماضی کے دو اور مضارع کے پانچ صیغوں کے علاوہ باقی سب صیغوں میں ضمیر بارز ہوتی ہے۔
وہ ضمیر جو کلمہ کے ساتھ ملی ہوئ نہ ہو۔ مثال: ھُوَ
وہ ضمیر جو کلمہ کے ساتھ ملی ہوئ ہو۔ مثال: نَصَرَهٗ
وہ ضمیر جو کلمہ کے ساتھ ملی ہوئ نہ ہو۔ مثال: اِیَّاهٗ
وہ ضمیر جو کلمہ کے ساتھ ملی ہوئ ہو۔ مثال: لَهٗ
ضمیر مرفوع متصل ترکیبِ کلام میں فاعل بنے گی۔ مثال: اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ
ضمیر مرفوع منفصل ترکیبِ کلام میں مبتدا بنے گی۔ مثال: بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ
ضمیر منصوب متصل ترکیبِ کلام میں مفعول بنے گی۔ مثال: وَ یَتَعَلَّمُوْنَ مَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ
ضمیر منصوب منفصل ترکیبِ کلام میں مفعول بنے گی۔ مثال: اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ
ضمیر مجرور متصل ترکیبِ کلام میں مضاف الیہ یا مجرور بنے گی۔ مثال: فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْهُمَا مَا یُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ زَوْجِهٖ
وہ کلمہ جن سے کسی حاضر چیز کی طرف اشارہ کیا جائے۔ اور جس کی طرف اشارہ کیا جائے اسے مشار الیہ کہتے ہیں۔ مثال: هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ یہاں ھٰذَا اسم اشارہ ہے اور صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ مشار الیہ ہے۔
1. قریب: جس اسم کے ذریعے قریب کی طرف اشارہ کیا جائے۔ مثال: هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ 2. بعید: جس اسم کے ذریعے دور کی طرف اشارہ کیا جائے۔ مثال: اُولٰئِکَ عَلٰی ھُدًی مِّنْ رَّبِّھِمْ
قریب کے لیے درج ذیل الفاظ استعمال ہونگے: 1. ھٰذَا: مفرد مذکر قریب مثال: هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ 2. ھٰذِہٖ: مفرد مؤنث قریب مثال: ھٰذِہٖ نَاقَۃُ اللّٰه 3. ھٰذَانِ: تثنیہ مذکر قریب مثال: ھٰذَانِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا 4. ھٰتَانِ: تثنیہ مؤنث قریب مثال: اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ اُنْکِحَکَ اِحْدَی ابْنَتَیَّ ھٰتَیْنِ 5. ھٰۤؤُلَاءِ: جمع مذکر و مؤنث قریب مثال: ھٰۤؤُلَاءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖۤ اٰلِہَۃً
دور کے لیے درج ذیل الفاظ استعمال ہونگے: 1. ذٰلِکَ: مفرد مذکر بعید مثال: ذٰلِکَ الْکِتَابُ لَا رَیْبَ فِیْہِ 2. تِلْکَ: مفرد مؤنث بعید مثال: تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ 3. ذٰنِکَ: تثنیہ مذکر بعید مثال: فَذٰنِکَ بُرْھَانٰنِ مِنْ رَّبِّکَ 4. تَانِکَ: تثنیہ مؤنث بعید 5. اُولٰئِکَ: جمع مذکر و مؤنث بعید مثال: اُولٰئِکَ عَلٰی ھُدًی مِّنْ رَّبِّھِمْ
ھُنَا، ھٰھُنَا یہ قریب شئی کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اور ھُنَاکَ، ھُنَالِکَ، ثَمَّ یہ بعید شئی کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ مثال: فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ
اسم اشارہ کا مشار الیہ واحد، تثنیہ، جمع اور مذکر و مؤنث میں مطابق ہونا ضروری ہے۔ مثال: ھٰذِہٖ بِضَاعَتُنَا یہاں ھٰذِہٖ مؤنث ہے کیونکہ بِضَاعَۃ مؤنث ہے۔ اور دونوں افراد (واحد) میں بھی برابر ہیں۔
غیر عاقل کی جمع کے لیے اسم اشارہ واحد مؤنث لایا جائے گا۔ مثال: ھٰذِہٖ الْاَنْعَامُ یہاں اَنْعَام جمع غیر عاقل ہے اس لیے ھٰذِہٖ واحد مؤنث آیا۔
اسماء اشارہ بعید میں (ک) حرف خطاب ہے اور یہ مخاطب کے مطابق ہوگا۔ یعنی اگر مخاطب مذکر ہو تو حرف خطاب بھی مذکر ہوگا اور اگر تثنیہ یا جمع ہو تو حرف خطاب بھی تثنیہ یا جمع ہوگا۔ مثال: ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ یہاں کُمْ جمع کے لیے ہے۔
مشار الیہ اگر معرفہ ہو تو "بدل" یا "صفت" بنے گا۔ مثال: اِنَّ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ یَھْدِیْ یہاں پر الْقُرْاٰنَ ترکیب میں بدل یا صفت دونوں بن سکتا ہے۔
وہ کلمہ جو اپنے سے پہلے والے اسم کی وضاحت کے لیے آتا ہے اور خود جملے کے ساتھ مل کر پورا معنی دیتا ہے۔ ان کے بعد آنے والے جملے کو صلہ کہتے ہیں اور صلہ کے بغیر اسم موصول کا معنی پورا نہیں ہوتا۔ مثال: الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ یہاں الَّذِیْنَ اسم موصول اور یُؤْمِنُوْنَ صلہ ہے۔
اسماءِ موصولہ کے لیے درج ذیل الفاظ استعمال ہوتے ہیں: 1. الَّذِیْ: مفرد مذکر مثال: اَلَّذِیْ خَلَقَکُمْ 2. الَّتِیْ: مفرد مؤنث مثال: الَّتِیْٓ اَحْصَنَتْ فَرْجَھَا 3. الَّذَانِ: تثنیہ مذکر 4. الَّتَانِ: تثنیہ مؤنث مثال: فَالَّتَانِ تَاْتِیَانِھَا 5. الَّذِیْنَ: جمع مذکر مثال: الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا 6. اللَّائِیْ / اللَّاتِیْ: جمع مؤنث مثال: وَاللَّائِیْ یَئِسْنَ
اسمِ موصول مَنْ عاقل کے لیے اور مَا غیر عاقل کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مثال عاقل: وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ مثال غیر عاقل: وَالسَّمَآءِ وَمَا بَنٰھَا
الَّذِیْنَ اور اللَّائِیْ جمع کے لیے خاص ہیں۔ عاقل جمع مذکر کے لیے الَّذِیْنَ اور عاقل جمع مؤنث کے لیے اللَّائِیْ / اللَّاتِیْ آتا ہے۔ مثال مذکر: اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مثال مؤنث: وَاللَّائِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ
صلہ ہمیشہ جملہ ہوتا ہے اور اس میں اسم موصول کے مطابق ضمیر کا ہونا ضروری ہے جسے عائد کہتے ہیں۔ مثال: وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا یہاں مَنْ اسم موصول ہے اور یَقُوْلُ صلہ ہے اور یہ جملہ ہے۔ یَقُوْلُ میں ھُوَ ضمیر عائد ہے اور مَنْ کی طرف لوٹ رہی ہے۔ نیز: عائد اگر صلہ کے شروع میں ہو تو اسے صدرِ صلہ کہتے ہیں۔ مثال: وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمٰنٰتِھِمْ رٰعُوْنَ یہاں ھُمْ ضمیر صلہ کے بالکل شروع میں ہے۔
اَیٌّ اور اَیَّۃٌ یہ بھی اسم موصول ہیں لیکن اَیٌّ مذکر کے لیے اور اَیَّۃٌ مؤنث کے لیے آتا ہے۔ مذکر کی مثال: ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ کُلِّ شِیْعَۃٍ اَیُّھُمْ اَشَدُّ عَلَی الرَّحْمٰنِ عِتِیًّا مؤنث کی مثال: اَیَّۃُ امْرَأَۃٍ تَزَوَّجَتْ
اسم موصول صلہ سے مل کر فاعل، نائب فاعل، مبتدا، خبر اور صفت وغیرہ بنتا ہے۔ مثال: قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی یہاں پر مَنْ تَزَکّٰی پورا مل کر فاعل ہے۔ اسی طرح: وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ یہاں پر وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ پورا مل کر مبتدا ہے۔ • اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ یہاں الَّذِیْنَ کَفَرُوْا پورا مل کر اِنَّ کا اسم ہے۔ • ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ یہاں پر الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ، الْمُتَّقِیْنَ کی صفت ہے۔
وہ کلمہ جو کسی کام کے ہونے کا زمانہ یا مکان بتائے۔ مثال: اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ یہاں پر اَلْیَوْمَ اسم ظرف ہے اور زمانہ پر دلالت کر رہا ہے۔
1. ظرفِ زمان: جو وقت بتائے۔ مثال: اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ 2. ظرفِ مکان: جو جگہ بتائے۔ مثال: مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ یَلْبِسَكُمْ شِیَعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَكُمْ
مبنی اسماءِ ظروف درج ذیل ہیں: اِذْ، اِذَا، مَتٰی، اَنّٰی، اَیَّانَ، مُنْذُ، مُذْ، اَمْسِ، لَدٰی، لَدُنْ، کَیْفَ، حَیْثُ مثال: وَاذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآءً یہاں پر اِذْ ظرف زمان مبنی ہے۔
ظرف ہمیشہ منصوب ہوتا ہے کیونکہ یہ مفعول فیہ بنتا ہے۔ مثال: وَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَۃَ اَشْھُرٍ اس مثال میں اَرْبَعَۃَ اَشْھُرٍ ظرف زمان منصوب ہے۔
ظرف مضاف بھی ہو سکتا ہے اور اس کے بعد مضاف الیہ آتا ہے۔ مثال: قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِھَا اس مثال میں قَبْلَ مضاف اور طُلُوْعِ مضاف الیہ ہے۔
ظرف اکیلا نہیں آتا بلکہ کسی فعل یا خبر سے متعلق ہوتا ہے۔ مثال: اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی اس مثال میں عَلَی الْعَرْشِ ظرف مکان ہے اور یہ فعل اسْتَوٰی کا متعلق ہے۔
قَبْلُ، بَعْدُ، تَحْتُ، فَوْقُ اگر مضاف ہوں اور مضاف الیہ محذوف ہو تو مبنی ہوتے ہیں۔ مثال: لِلّٰہِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ اس مثال میں قَبْلُ اور بَعْدُ مضاف الیہ محذوف ہونے کی وجہ سے مبنی علی الضم ہیں۔ اگر مضاف الیہ مذکور ہو تو معرب ہوتے ہیں۔ مثال: مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ اس مثال میں قَبْلِ معرب ہے کیونکہ مضاف الیہ مذکور ہے۔
اسمِ ظرف معرب اگر کسی جملے کی طرف یا اِذْ کی طرف مضاف ہو تو اسے مبنی علی الفتح پڑھنا جائز ہے۔ مثال: یَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا اس مثال میں یَوْمَ کو مبنی علی الفتح پڑھا گیا ہے اور پڑھنا جائز بھی ہے۔
وہ کلمہ جن سے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا جائے۔ یہ مبنی ہوتے ہیں۔
اسماءِ استفہام کی تفصیل درج ذیل ہے: 1. مَنْ: عاقل کے لیے مثال: مَنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ 2. مَا: غیر عاقل کے لیے مثال: مَا ھٰذَا 3. کَمْ: تعداد کے لیے مثال: کَمْ لَبِثْتُمْ 4. اَیُّ: تعین کے لیے مثال: اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا 5. مَتٰی: زمانے کے لیے مثال: مَتٰی نَصْرُ اللّٰہِ 6. اَیَّانَ: مستقبل کے بعید زمانے کے لیے مثال: اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَۃِ 7. اَیْنَ: مکان کے لیے مثال: اَیْنَ شُرَکَآؤُکُمُ 8. کَیْفَ: حالت کے لیے مثال: کَیْفَ خَلَقْنٰھَا 9. اَنّٰی: مکان، زمانہ، حالت کے لیے مثال: اَنّٰی لَھُمُ الذِّکْرٰی
اسماءِ استفہام ہمیشہ جملے کے شروع میں آتے ہیں۔ مثال: مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یہاں مَنْ سب سے پہلے آیا۔
مَنْ عاقل کے لیے اور مَا غیر عاقل کے لیے آتا ہے۔ مثال عاقل: مَنْ ھٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُکُمْ مثال غیر عاقل: وَمَا تِلْکَ بِیَمِیْنِکَ یٰمُوْسٰی
اگر اسمِ استفہام کے بعد کوئ فعل ہو تو پھر اسمِ استفہام حالت نصب میں ہو کر مفعول مقدم بنے گا۔ مثال: مَاذَا یُنْفِقُوْنَ
اگر اس سے پہلے حرف جر یا مضاف ہو تو پھر حالت جر میں ہو کر مجرور یا مضاف الیہ بنے گا۔ مثال: فِیْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَا
اگر اس کے بعد نہ کوئ فعل ہو اور نہ اس سے پہلے حرف جر یا مضاف ہو تو پھر حالت رفع میں ہو کر مبتدا یا خبر بنے گا۔ مثال: مَنْ مَّعَکُمْ
ہمزہ (أ) اور (ھَلْ) کے ذریعے بھی سوال ہوتا ہے، انہیں حروفِ استفہام کہتے ہیں۔
وہ کلمہ جو دو جملوں کو آپس میں جوڑتے ہیں۔ اور یہ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ جواب کا ہونا، شرط کے ہونے پر موقوف ہے۔ مثال: اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰہَ یَنْصُرْکُمْ
اسماءِ شرط کی تفصیل درج ذیل ہے: 1. اِنْ: اگر مثال: اِنْ یَّنْصُرْکُمُ اللّٰہُ فَلَا غَالِبَ لَکُمْ 2. اِذْمَا: جب کبھی مثال: اِذْمَا جِئْتَھُمْ بِاٰیَۃٍ قَالُوْا لَوْلَا اجْتَبَیْتَھَا 3. مَنْ: جو، کوئ (عاقل کے لیے) مثال: مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا یُّجْزَ بِہٖ 4. مَا: جو، کوئ (غیر عاقل کے لیے) مثال: مَا تَزْرَعْ تَحْصُدْ 5. مَھْمَا: جو بھی مثال: وَ قَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِہٖ مِنْ اٰیَۃٍ لِّتَسْحَرَنَا بِہَا فَمَا نَحْنُ لَکَ بِمُؤْمِنِیْنَ 6. مَتٰی، اَیَّانَ: کب / جب مثال: یَسْئَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَۃِ 7. اَیْنَ، اَنّٰی، حَیْثُ: کہاں / جہاں مثال: اَیْنَ مَا تَکُوْنُوْا یُدْرِکْکُمُ الْمَوْتُ 8. کَیْفَمَا: جیسا بھی مثال: کَیْفَمَا تَکُوْنُوْا یُوَلَّ عَلَیْکُمْ 9. اَیُّ: جو بھی / جو کوئ مثال: اَیًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَہُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی
اگر اسمِ شرط کے بعد کوئ فعل ہو تو اس صورت میں اسمِ شرط محلاً منصوب مفعول مقدم بنے گا۔ مثال: مَاذَا اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَۃٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُہٗ اس مثال میں مَاذَا کے بعد فعل اَنْفَقْتُمْ ہے اس لیے مفعول مقدم ہے۔
اگر اسمِ شرط سے پہلے کوئ حرف جر یا مضاف ہو تو پھر مجرور یا مضاف الیہ بنے گا۔ مثال: بِمَنْ تَمُرُّ أَمُرُّ
اگر نہ کوئ فعل ہو اور نہ اس سے پہلے حرف جر یا مضاف ہو تو پھر محلاً مرفوع ہو کر مبتدا یا خبر بنے گا۔ مثال: مَنْ مَّعَکُمْ اس مثال میں مَنْ کے بعد ظرف مَعَکُمْ ہے، کوئ فعل نہیں۔ اس لیے مبتدا مرفوع ہے۔
اسمِ شرط دو فعلوں پر عمل کرتا ہے۔ ایک فعل شرط پر اور دوسرا جواب شرط پر اور اگر دونوں مضارع ہوں تو ان کو جزم دیتا ہے۔ مثال: وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا اس مثال میں مَنْ نے یَتَّقِ اور یَجْعَلْ دونوں کو جزم دیا۔
فعل کو جزم دینے یا نہ دینے کے اعتبار سے اس کی دو قسمیں ہیں: 1. جازمہ: وہ اسماء جو فعل کو جزم دیں گے: اِنْ، مَنْ، مَا، مَھْمَا، اَیْنَ، اَیُّ مثال: اِنْ تُبْدُوْا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا ھِیَ 2. غیر جازمہ: جو فعل کو جزم نہیں دیں گے: لَوْ، لَوْلَا، لَوْمَا، کُلَّمَا، لَمَّا، اَمَّا، اِذَا مثال: لَوْ کَانَ فِیْھِمَآ اٰلِھَۃٌ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا
اِنْ، لَوْ، اَمَّا حروف شرط ہیں، انہیں حروفِ شرطیہ کہا جاتا ہے۔
وہ کلمہ جو کسی پوشیدہ عدد یا پوشیدہ بات پر دلالت کرے۔ مثال: قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ
پوشیدہ بات پر دلالت کرنے والے اسماء دو ہیں: 1. کَیْتَ 2. ذَیْتَ مثال: قُلْتُ لَہٗ کَیْتَ کَیْتَ
پوشیدہ عدد پر دلالت کرنے والے اسماء تین ہیں: 1. کَمْ 2. کَذَا 3. کَاَیِّنْ مثال: كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّهَا
کَذَا سے شئی کی قلیل و کثیر معلوم کی جاتی ہے، اس کی تمییز مفرد منصوب ہوتی ہے۔ مثال: جَاء کذا مدرسًا اور کَاَیِّنْ سے شئی کثیر معلوم کی جاتی ہے، اس کی تمییز مجرور ہوتی ہے۔ مثال: كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّهَا اور کَیْتَ و ذَیْتَ تکرار کے ساتھ آتے ہیں اور ان کی تمییز مفرد منصوب ہوتی ہے۔ مثال: قُلْتُ کَیْتَ وَ کَیْتَ حَدِیْثًا
کَمْ کی دو قسمیں ہیں: 1. کَمْ استفہامیہ: یعنی کَمْ سے کسی چیز کی تعداد کے متعلق سوال کیا جائے۔ مثال: قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ 2. کَمْ خبریہ: یعنی کَمْ سے کسی چیز کی تعداد کے متعلق خبر دی جائے۔ مثال: كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍ
کَمْ کے بعد جو اسم آتا ہے وہ کَمْ کی تمییز کہلاتا ہے۔ مثال: كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ اس مثال میں مِنْ فِئَةٍ تمییز ہے۔
کَمْ استفہامیہ کی تمییز مفرد اور منصوب ہوتی ہے۔ مثال: یَا رِسُولَ اللّٰہِ کَمْ مَرَّۃً یَحُجُّ العَبْد
کَمْ خبریہ کی تمییز مِنْ کی وجہ سے یا کَمْ کا مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے مجرور ہوتی ہے اور یہ مفرد اور جمع دونوں طرح آ سکتی ہے۔ مثال: كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ یہاں فِئَةٍ تمییز ہے۔
وہ کلمہ جو فعل کا معنی دے اور اس کا زمانہ بھی بتائے لیکن وہ فعل کی علامات قبول نہ کرے۔ یعنی شکل اسم کی ہے، کام فعل کا کرتا ہے۔ مثال: ھَلُمَّ شُھَدَآءَکُمُ الَّذِیْنَ یَشْھَدُوْنَ
اسم فعل کی دو قسمیں ہیں: 1. اسم فعل بمعنی ماضی مثال: ھَیْھَاتَ ھَیْھَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ 2. اسم فعل بمعنی امر مثال: ھَلُمَّ شُھَدَآءَکُمُ الَّذِیْنَ یَشْھَدُوْنَ
اسمِ فعل بمعنی ماضی اپنے فاعل کو رفع دیتا ہے۔ مثال: ھَیْھَاتُ الْیَأْسُ یہاں اسم فعل نے اپنے فاعل الْیَأْسُ کو رفع دیا ہے۔
اسمِ فعل بمعنی امر اپنے مفعول کو نصب دیتا ہے۔ مثال: ھَلُمَّ شُھَدَآءَکُمُ الَّذِیْنَ یَشْھَدُوْنَ یہاں پر ھَلُمَّ اسم فعل بمعنی امر (لاؤ) نے اپنے مفعول شُھَدَآءَکُمْ کو نصب دیا ہے۔
اسمِ فعل کی تین اقسام ہیں: 1. منقول: یعنی اسم فعل کو ظرف، جار مجرور، مصدر یا تنبیہ سے بنایا گیا ہو۔ مثال: عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ 2. معدول: یعنی اسم فعل کو فعل کے صیغے سے پھیر کر بنایا گیا ہو۔ مثال: نَزَالِ اَیُّھَا الْفَارِسُ 3. مرتجل: یعنی جو اسم ان کے علاوہ ہو۔
اسمِ فعل کا صیغہ واحد ہی رہتا ہے۔ ہاں اگر اس کے آخر میں حرف خطاب ہو تو وہ مخاطب کے مطابق ہی آئے گا۔ مثال: عَلَیْكَ بِالْحَقِّ
اسمِ فعل ھَاءَ (یعنی لو) کو واحد ہی رکھنا اور مخاطب کے مطابق لانا دونوں صورتیں جائز ہیں۔ مثال: هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِیَهْ