logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

مرکبات سیکھیے قرآن سے
لائیوغیر فعال

مرکبات سیکھیے قرآن سے

اِس کورس میں آپ سیکھیں گے: • مرکب اضافی سمجھیے • مرکب توصیفی سمجھیے • جملہ اسمیہ سمجھیے • جملہ فعلیہ سمجھیے • افعال کی اقسام سمجھیے • توابع کی اقسام سمجھیے

5

انرولمنٹس

0

مکمل

N/A

ریٹنگ

اقسام

مرکب اضافی سمجھیے

مرکب اضافی کی تعریف:

جس میں ایک اسم کی اضافت (نسبت) دوسرے اسم کی طرف ہو۔ اس کے دو جزءِ ہوتے ہیں 1 مضاف: جس کی نسبت ہوگی 2 مضاف الیہ: جس کی طرف ہوگئ مثال: کتابُ اللّٰهِ اس مثال میں کتاب کی نسبت ھے اللّٰه پاک کی طرف تو {کتاب} بنے گی مضاف اور اسم جلالت { اللّٰه عزوجل} بنے گا مضاف الیہ آسان تعریف: مضاف: جو کسی کے لیے ہو مضاف الیہ: جس کے لیے ہو مثال رَسُولُ اللّٰه : اب {*رسول} مضاف ھے کیونکہ وہ کسی کے لیے ہے اور {اللّٰه} مضاف الیہ ہے کیونکہ اس کے لیے ہے۔ نوٹ: یہ دوسری تعریف تمام مثالوں میں صادق نہیں آتی بلکہ ابتدائ طالب علم کو سمجھانے کے لیے یہ تعریف کی جاتی ہے۔

مضاف اور مضاف الیہ کی علامتیں:

غور وفکر کرنے سے ہم مضاف اور مضاف الیہ کی بہت ساری علامتیں بنا سکتے ہیں لیکن ان میں سے 6 درج ذیل ہیں: 1.دو اسم ہو اور ان میں سے پہلا بغیر الف لام والا ہو اور دوسرا الف لام والا ہو تو عموماً مضاف ، مضاف الیہ ہوتے ہیں۔ بشرطیکہ علم ، اسم اشارہ ، ضمیر نہ ہو۔ مثال: رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ 2.اسم بعد ضمیر آجائے تو وہ آپس مضاف ، مضاف الیہ ہونگیں۔ مثال: عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْؕ 3.تین یا چار اسم ہوں پہلے سارے بغیر الف لام والے ہوں اور آخری الف لام والا ہو یا ضمیر ہو تو یہ بھی آپس میں مضاف مضاف الیہ ہونگے۔ مثال: مِّنْۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ 4.اسم اشارہ سے پہلے ایک یا دو یا تین اسماء آجائیں اور وہ اسماء نکرہ ہوں تو عموماً آپس میں مضاف ، مضاف الیہ ہونگے۔ مثال: مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ 5.تین سے لیکر دس تک اسمائے عدد بھی ہمیشہ مضاف ہوتے ہیں۔ مثال: فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَ سَبْعَةٍ اِس مثال میں ثَلٰثَةِ مصاف۔ 6.کسور اکثر مضاف ہوتے ہیں بشرطیکہ بغیر الف لام والا ہو۔ مثال: نصف ،ثلث وغیرہ نوٹ: کل کسریں نو ہیں: نصف، ثلث، ربع، خمس، سدس، سبع، ثمن، تسع، عشر

قوانین:

غور و فکر کرنے سے ہم مضاف ، مضاف الیہ کے بہت سارے قوانین بنا سکتے ہیں لیکن ان میں سے 4 درج ذیل ہیں: قاعدہ نمبر 1 جو نکرہ دوسرے نکرہ کی طرف مضاف ہو تو وہ نکرہ مخصوصہ بن جاتا ہے۔ مثال: عَذَابَ یَوْمٍ اور نکرہ معرفہ کی طرف مضاف ہو وہ معرفہ بن جاتا ہے۔ مثال: رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ قاعدہ نمبر 2 مضاف اگر تثنیہ یا جمع مذکر سالم کا صیغہ ہوتو اس کے آخر سے نون تثنیہ اور نون جمع گر جاتا ہے۔ مثال: عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ قاعدہ نمبر 3 مضاف پر نہ تنوین آتی ہے نہ الف لام مضاف الیہ پر دونوں آسکتے ہیں لیکن ایک وقت میں ایک چیز آئے گی۔ مثال: عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ قاعدہ نمبر 4 مضاف کا اعراب عامل کے مطابق ہوگا لیکن مضاف الیہ ہمیشہ مجرور ہوگا۔ مثال: بِكُلِّ شَیْءٍ

مرکب توصفی سمجھیے

مرکب توصفی کی تعریف:

دوسرا جزء پہلے جزء کی صفت (اچھائی ،برائی) کو بیان کرے۔ اس کے دو جزء ہوتے ہیں 1.موصوف (جس کی اچھائ ، برائ یا کوئ بھی صفت بیان کی جائے) 2.صفت (جو اچھائ ، برائ یا کوئی صفت کو بیان کرے) مثال: عَذَابٌ عَظِیْمٌ۠ مذکورہ مثال میں (عَذَابٌ) موصوف کیونکہ اس کی صفت بیان کی جارہی ہے اور (عَظِیْمٌ۠) صفت ہے کیونکہ صفت (بڑے) کو بیان کررہی ہے۔

علامتیں:

مرکب توصیفی کی 6 علامات درج ذیل ہیں: 1.دو اسم ہو دونوں پر الف لام ہوتو عموماً موصوف و صفت بنیں گے بشرطیکہ مفرد ، تثنیہ ، جمع میں برابر ہوں۔ مثال: الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۙ 2.دو اسم ہوں دونوں پر تنوین ہو تو عموماً موصوف صفت ہوتے ہیں بشرطیکہ کہ پہلا اسم (عَلَم) نہ ہو اور نہ ہی (کان ، حروف مشبہ بالفعل) وغیرہ کے بعد ہو۔ مثال: عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ 3.اسم موصول سے پہلے الف لام والا اسم ہو تو وہ موصوف و صفت بنیں گے۔ مثال: هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ 4.ایک اسم ضمیر کی طرف مضاف اور اس کے بعد اسم موصول ہوتو موصوف و صفت بنیں گے۔ مثال: نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ 5.تین یا چار اسماء پر الف لام ہو تو پہلے کو موصوف اور باقی صفات ہونگے۔ مثال: بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 6.نکرہ کے بعد (غَیْرُ) کا لفظ آجائے تو بھی موصوف صفت بنیں گے۔ مثال: قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ

قوانین:

مرکب توصیفی کے 4 قوانین درج ذیل ہیں: قاعدہ نمبر 1 موصوف و صفت کا اعراب ایک جیسا ہونگا۔ مثال: عَذَابٌ اَلِیْمٌ قاعدہ نمبر 2 موصوف و صفت کا دس چیزوں میں مطابقت ہونا ضروری ہے بیک وقت چار میں۔ (واحد ، تثنیہ ، جمع ، ضمہ ، فتحہ ، کسرہ ، مذکر و مونث ،معرفہ و نکرہ) مثال: الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ قاعدہ نمبر 3 صفت ، موصوف کے بعد آئے گی پہلے نہیں ہوسکتی۔ مثال: اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ اس مثال میں هُوَ سے مراد (اللّٰه) ہے تو بعد والے دونوں صفات اس سے پہلے نہیں آسکتے۔ قاعدہ نمبر 4 ضمیر نہ موصوف بنتی ہے نہ صفت اسی طرح علم بھی صفت نہیں بنے گی۔

جملہ اسمیہ سمجھیے

جملہ اسمیہ کی تعریف:

جس کا پہلا جزء اسم اور دوسرا جزء خواہ اسم یا فعل ہو۔ اس کے دو جزء ہوتے ہیں 1 پہلا جزء: مبتدأ اس کو مسند الیہ بھی کہتے ہیں. 2 دوسرا جزء: خبر اس کو مسند بھی کہتے ہیں۔ مثال: مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِؕ مذکورہ مثال میں مبتدا (مُحَمَّدٌ) اور (رَّسُوْلُ اللّٰهِؕ) خبر ہے۔

علامات:

جملہ اسمیہ کی 5 علامات درج ذیل ہیں: 1.کلام کے شروع میں الف لام والا اسم ہو اور اس کے بعد کوئ بھی فعل ہوتو وہ ہمیشہ مبتدا و خبر بنیں گے۔ مثال: اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ 2.کلام کے شروع میں الف لام والا اسم ہو اور اس کے بعد بغیر الف لام والا اسم ہو تو مبتدا و خبر بنیں گے۔ مثال: اللّٰهُ سَمِیْعٌ 3.عَلَم کے بعد کوئ بھی اسم ہو وہ مبتدأ و خبر بنیں گے۔ مثال: اِبْرٰهِیْمَ خَلِیْلُ اللّٰهِ 4.اگر کلام کے شروع میں معرفہ اور اس کے بعد مرکب توصفی ہوتو عموماً مبتدا و خبر بنیں گے۔ مثال: اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ 5.ضمیر مرفوع منفصل ہمیشہ مبتدا بنتی ہے اور اس کے بعد والا خبر بنے گا۔ مثال: هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ

قوانین:

جملہ اسمیہ کے 5 قوانین درج ذیل ہیں: قاعدہ نمبر1 مبتدا عموماً معرفہ اور خبر نکرہ ہوتی ہے۔ مثال: الصُلْحُ خَیْرٌ قاعدہ نمبر 2 مبتدا و خبر ہمیشہ مرفوع ہونگے۔ مثال: الجُرُوْحُ قِصَاصٌ قاعدہ نمبر 3 جب خبر اسم مشتق ، اسم منسوب یا خبر ایسی ضمیر پر مشتمل ہو جو مبتدا کی طرف لوٹ رہی ہو تو پانچ چیزوں میں مطابقت ہونا ضروری ہے۔ (مذکر و مؤنث واحد ، تثنیہ ، جمع) مثال: اللّٰهُ مُحِیْطٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ مذکورہ مثال میں (مُحِیْطٌۢ) اسم مشتق ہے۔ اللّٰهُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُؕ اس مثال میں خبر (یَخْتَصُّ۔۔۔الغ) ضمیر پر مشتمل ہے۔ قاعدہ نمبر 4 مبتدا و خبر دونوں معرفہ یا نکرہ مخصوصہ اور خبر جملہ فعلیہ ہوتو مبتدأ کا مقدم ہونا واجب ہے۔ مثال: اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ مذکورہ مثال مبتدا و خبر دونوں معرفہ ہیں۔ اللّٰهُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُۜطُ۪ مذکورہ مثال میں خبر (جملہ) ہے۔

جملہ فعلیہ سمجھیے

جملہ فعلیہ کی تعریف:

جس جملے کا لفظ کوئ فعل ہو عموماً اس کے تین اجزاء: 1.فعل (کام) 2.فاعل (کام کرنے والا) 3.مفعول (جس پر کام کیا جائے) مثال: یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ اس مثال میں فعل (دھوکہ) اور فاعل (کفار ، مشرکین) اور مفعول (ذات باری تعالیٰ) ہے۔ نوٹ: یاد رکھیں جملہ فعلیہ کو سمجھنے کے تین چیزیں ضروری ہیں 1.جملہ فعلیہ کی تعریف (اوپر مذکور ہے) 2.فاعل اور مفاعیل خمسہ (مفاعیل خمسہ کی بحت معمول کے اندر آئے گا) 3.ضمائر کی بحث

فاعل کو سمجھیں:

فاعل کا لغوی معنی (کام کرنے والا) اصطلاحی: ہر وہ اسم جو فعل یا شبہ فعل کے بعد ہو۔ مثال: قرآن مجید سے مثال اوپر مذکور ہے فقہ سے مثال: جَازَ الْوُضُوْءُ

فاعل کی صورتیں:

فاعل کی دو صورتیں ہیں: 1.اسم ظاہر یعنی ضمائر کے علاؤہ سارے اسم ظاہر ہے۔ مثال: خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ 2.ضمیر یعنی جس کے ذریعے مخاطب یا غائب اور متکم کا حال بیان کیا جائے. مثال: اَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ بِهِمْ

ضمائر کی اقسام:

ضمائر کی تین قسمیں ہیں: 1.مرفوع (فاعل ہوتی ہے خواہ فاعل حقیقی ہو یا حکمی) 2.منصوب (مفعول ہوتی ہے خواہ حقیقی ہو یا حکمی) 3.مجرور (یہ ظرف ہوتا ہے خواہ ظرف لغو یا مستر)

قوانین:

جملہ فعلیہ کے 5 قوانین درج ذیل ہیں: قاعدہ نمبر 1 فاعل ہمیشہ مرفوع اور مفعول منصوب ہوتا ہے۔ مثال: لا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا قاعدہ نمبر 2 جب فاعل مذکر ہو یا مؤنث حقیقی ہو تو فعل اور فاعل میں مطابقت ضروری ہے بشرطیکہ درمیان میں أِلَّا نہ ہو۔ مثال: خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ قاعدہ نمبر 3 جب فاعل اسم ظاہر ہو تو فعل ہمیشہ واحد ہوگا۔ مثال: لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْؕ قاعدہ نمبر 4 جب فاعل ضمیر ہوتو ضمیر فعل کے مطابق ہوگی۔ مثال: اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَؕ مذکورہ مثال میں فاعل (ھم) ضمیر ہے۔

افعال کی اقسام سمجھیے

افعال کی اقسام:

افعال کی چار قسمیں ہیں: 1.افعال ناقصہ 2.افعال مقاربہ 3.افعال مدح و ذم 4.افعال قلوب

1.افعال ناقصہ کی تعریف:

وہ افعال جو فاعل کے ساتھ خبر کے بھی محتاج ہوتے ہیں۔ مثال: كَیْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِی الْمَهْدِ صَبِیًّا ترجمہ: ہم کیسے بات کریں اس سے جو پالنے میں بچہ ہے۔ افعال ناقصہ کی تعداد: افعال ناقصہ 13 ہیں اور یہ درج ذیل ہیں مندرج ذیل ہیں: کَانَ ، صَارَ ، ظَلَّ ، بَاتَ ، أَصْبَحَ ، اَضْحٰی ، اَمْسٰی ، مَازَالَ ، مَاانْفَکَّ ، مَا بَرِحَ ، مَافَتِئَ ، مَادَامَ ، لَیْسَ عمل: یہ افعال مبتدا اور خبر پر داخل ہو کر مبتدأ کو رفع اور خبر کو نصب دیتے ہیں۔ مبتدا کو افعال ناقصہ کا اسم اور خبر کو خبر کہتے ہیں۔ مثال: كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً

2.افعال مقاربہ کی تعریف:

یہ وہ افعال جو خبر کی حالت یعنی (قریب ہے، امید ہے، شروع ہے) کے بارے میں خبر دیتے ہیں۔ مثال: کَرَبَ الْمَاءُ یَجْمَدُ (قریب ہے کہ پانی جم جائے) افعال مقاربہ کی تعداد: افعال مقاربہ 4 ہیں اور یہ درج ذیل ہیں مندرج ذیل ہیں: عَسٰی ، کَادَ ، کَرَبَ ، اَوْشَکَ عمل: یہ بھی افعال ناقصہ والا عمل کرتے ہیں لیکن ان افعال کی خبر فعل مضارع اور کبھی أَنْ کے ساتھ کبھی بغیر أَنْ کے ساتھ ہوتی ہے۔ مثال: عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْهُمْؕ

3.افعال مدح و ذم کی تعریف:

یہ وہ افعال جو کسی کی تعریف یا مذمت (برائ) کے لیے آتے ہیں۔ مثال: نِعْمَ الطَّالِبُ زَیْدٌ (زید اچھا طالب علم ہے) افعال مدح و ذم کی تعداد: افعال مدح و ذم 4 ہیں اور یہ درج ذیل ہیں مندرج ذیل ہیں: نِعْمَ ، حَبَّذَا، بِئْسَ ، سَاءَ عمل: یہ افعال اپنے فاعل کو رفع دیتے ہیں۔ مثال: بِئْسَ الْمَصِیْرُ اور فاعل کے بعد آنے والے اسم کو "مخصوص بالمدح" یا "مخصوص بالذم" کہتے ہیں۔ مثال: نِعْمَ الرُّجُلُ خَالِدٌ فاعل کی صورتیں: افعال مدح و ذم کے فاعل کی تین صورتیں ہیں: 1.معرف بالام ہوگا مثال: نِعْمَ الْعَبْدُ أَیَّاز 2.معرف بالام کی طرف مضاف ہوگا مثال: نِعْمَ جَلِیْسُ الْمَرْءِ الْکِتَابُ 3.ضمیر مستتر ہوگا مثال: نِعْمَ وَطَنًا الْحِجَازُ

4 .افعال قلوب کی تعریف:

وہ افعال جن کے اندر شک و یقین والا معنی ہوتا ہے. مثال: تَحْسَبُهُمْ اَیْقَاظًا (اور تم انھیں جاگتا سمجھو) افعال قلوب کی تعداد: افعال قلوب 7 ہیں اور یہ درج ذیل ہیں مندرج ذیل ہیں: علمتُ ، رأیتُ، وجدتُ، حسبتُ زعمتُ، خلتُ، ظننتُ عمل: یہ افعال بھی مبتدأ اور خبر پر داخل ہوکر دونوں کو مفعولیت کی بناء پر نصب دیتے ہیں۔ مثال: حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا قاعدہ: ان دونوں مفعول میں سے کسی ایک کو حذف کرنا جائز نہیں ہے یا دونوں ذکر یا دونوں حذف ایک ساتھ ہونگے۔

توابع کو سمجھیے

تابع کی تعریف:

ہر وہ اسم جس کو ماقبل والے اعراب کی بناء پر اعراب دیا گیا ہو۔

متبوع کی تعریف:

جو تابع سے پہلے ہو۔ مثال: اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۙ مذکورہ مثال میں (التَّوْرٰىةَ) متبوع اور (الْاِنْجِیْلَۙ) تابع ہے۔

توابع کی اقسام:

توابع کی پانچ قسمیں ہیں: 1.معطوف 2.بدل 3.صفت 4.تاکید 5.عطف بیان

معطوف کی تعریف:

معطوف وہ تابع ہے جو حرف عطف کے بعد واقع ہو۔ تابع کو معطوف اور متبوع کو معطوف علیہ کہتے ہیں۔ مثال: تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ تُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ٘ مذکورہ مثال میں (تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ) معطوف علیہ اور (تُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ٘) معطوف ہے۔ حروفِ عاطفہ کہ تعداد: حروف عاطفہ 10 درج ذیل ہیں: واؤ، فاء، ثم ، بل ، لکن ، لا، حتی، أو، أما، أم قاعدہ: مفرد کا مفرد اور جملے کا جملے پر عطف ہوتا ہے۔ مثال: تُخْرِ جُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ تُخْرِ جُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ٘ اِس مثال میں تُخْرِ جُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ معطوف علیہ اور تُخْرِ جُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ٘ معطوف ہے۔

بدل کی تعریف:

مقصود بالنسبہ صرف متبوع ہوتا ہے اور تابع کو بطورِ تمہید لایا جاتا ہے۔ تابع کو بدل اور متبوع کو مبدل منہ کہتے ہیں۔ مثال: اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ صٰلِحٌ اِس مثال میں اَخُوْهُمْ مبدل منہ اور صٰلِحٌ بدل ہے۔

بدل کی اقسام:

بدل کے چار اقسام ہیں: 1.بدل کل 2.بدل جزء 3.بدل اشتمال 4.بدل غلط 1.بدل کل: بدل و مبدل منہ برابر ہوں۔ مثال: اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۙ (٥)صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ اِس مثال میں صِرَاطَ ، الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۙ سے بدل کل ہے. کیونکہ صراط مستقیم اور اہلِ انعام کے راستے سے ایک ہی راستہ مراد ہے۔ 2.بدل جزء: بدل مبدل منہ کا جزء ہو۔ مثال: وَ لِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْهِ سَبِیْلًاؕ اِس مثال میں النَّاسِ مبدل منہ اور مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْهِ سَبِیْلًاؕ بدل بعض ہے۔ 3.بدل اشتمال: بدل مبدل منہ کا متعلق ہو۔ مثال: یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْهِؕ اِس مثال میں الشَّهْرِ الْحَرَامِ مبدل منہ اور قِتَالٍ فِیْهِؕ بدل اشتمال ہے۔ 4.بدل غلط: مبدل منہ کو غلطی سے ذکر کیا جائے۔ مثال: قَدِمَ الْأَمِیْرُ الْوَزِیْرُ اِس مثال میں الْأَمِیْرُ مبدل منہ اور الْوَزِیْرُ بدل غلط ہے۔

صفت کی تعریف:

جو اپنے موصوف یا موصوف کے متعلق کی وضاحت کرے۔ موصوف کو متبوع اور صفت کو تابع کہتے ہیں۔ مثال: رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ

صفت کی اقسام:

صفت کی دو قسمیں ہیں: 1.حقیقی یعنی جو موصوف کی وضاحت کرے۔ مثال: رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ 2.سببی یعنی جو موصوف کے متعلق کی وضاحت کرے مثال: جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ نوٹ: باقی اس کے وہی احکام جو موصوف و صفت کے ہیں۔

تاکید کی تعریف:

متبوع میں جو نسبت ہے اس کو پختہ کرنے کے لایا جائے۔ متبوع کو موکَّد اور تابع کو تاکید کہتے ہیں۔ مثال: فَسَجَدَ الْمَلٰٓىٕكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ

تاکید کی اقسام:

تاکید کی دو قسمیں ہیں: 1.لفظی یعنی لفظ کا تکرار ہو۔ 2.معنوی یعنی مخصوص الفاظ سے تاکید لائ جائے۔ مخصوص الفاظ: نَفْسٌ ، عَیْنٌ، کِلَا، کِلْتَا، کُلٌّ ، اَجْمَعُ، اَکْتَعُ، اَبْتَعُ، اَبْصَعُ قاعدہ نمبر 1 نَفْسٌ ، عَیْنٌ یہ دونوں کبھی خود صیغے اور کبھی ان کے بعد ضمیر واحد ، تثنیہ، جمع ہوتی ہیں۔ مثال: اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قاعدہ نمبر 2 کِلَا ،کِلْتَا صرف تثنیہ مذکر و مؤنث کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ مثال: جَاءَ الرَّجُلَانِ کِلَاھُمَا قاعدہ نمبر 3 کُلٌّ میں ضمیر اور باقیوں میں صیغہ واحد ،جمع ہوتے ہیں۔ مثال: فَسَجَدَ الْمَلٰٓىٕكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ

عطف بیان کی تعریف:

جو صفت نہ ہو لیکن متبوع کی وضاحت کرے۔ اس میں متبوع کو مبین اور اور تابع کو عطف بیان کہتے ہیں مثال: قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ مذکورہ مثال میں (بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ) مبین اور (رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ) عطف بیان ہے۔ بدل اور عطف بیان میں فرق: کلام میں بدل خود مقصود ہوتا ہے مبدل منہ مقصود نہیں ہوتا بلکہ برائے تمہید ہوتا ہے۔ جبکہ عطف بیان خود مقصود نہیں ہوتا بلکہ اِس کا متبوع مقصود ہوتا ہے اور عطف بیان اِس کی وضاحت کے لیے آتا ہے۔


مرکبات سیکھیے قرآن سے | Islamic Courses - Seerat Ki Dunya