اسلامک ڈیسک کی جانب سے

عبادت مصطفی کورس
11
انرولمنٹس
2
مکمل
4.5
ریٹنگ
ہر وہ کام جو اللہ پاک کی رِضا کی نِیّت سے کیا جائے اور شرعاً اس میں رِضا کی نیّت کرنا دُرُست بھی ہو ، وہ کام عِبَادت ہے۔ یعنی کسی بھی کام کے عِبَادت ہونے کے لئے یہ دونوں بنیادی شرطیں ہیں : ( 1 ) وہ کام کرنا شرعاً دُرُست ہو ، شریعت نے اس کام سے منع نہ کیا ہو (2) وہ کام اللہ پاک کی رِضا کی نِیّت سے کیا جائے۔
قرآن کریم میں اللہ پاک نے انسان اور جنات کی تخلیق کا سبب بیان کرتے ہوئے فرمایا : وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ ترجمہ : اور میں نے جن اور آدمی اسی لئے بنائے کہ میری عبادت کریں۔ (پارہ 27 , سورة الذریات، آیت 56) پیارے آقا ﷺ کی مکمل ظاہری زندگی اللہ پاک کی عبادت میں گزری ۔ اور ذات مصطفی ﷺ کو قرآن کریم میں ہمارے لئے رول ماڈل بنایا گیا ہے ۔ آئیں قرآن کی روشنی میں ہی نبی پاک ﷺ کے انداز عبادت کو سمجھتے ہیں ۔
نبی پاک ﷺ کو نماز سے بڑی محبت تھی۔ نماز کو نبی پاک ﷺ نے اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک فرمایا ۔ نماز کو اپنی راحت فرمایا ۔ اور نماز کو ہی جنت کی کنجی (چابی) فرمایا ۔ نماز کے نور ہونے کا ذکر فرمایا ۔ اسی طرح پیارے آقا ﷺ سفر میں بھی ہوتے تو نماز کا بڑا اہتمام فرماتے ۔ آپ جس مقام پر ہوتے اور نماز کا وقت ہوجاتا تو تمام کام ترک کرکے نماز کے لئے کھڑے ہوجاتے ۔ سرکار دو عالم ﷺ بعض اوقات ساری ساری را ت عبادت الہی میں گزاردیتے اور طویل قیام (نماز میں کھڑے ہونے) کی وجہ سے آپ ﷺ کے قدم مبارک پر ورم آجاتا تھا پھر بھی عبادت الہی میں مصروف رہتے ۔
حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : رسولِ کریم ﷺ نماز میں اس قدرقیام فرماتے کہ آپ ﷺ کے مُبارک پاؤں سُوج جاتے۔ ( ایک دن ) حضرت عائشہ صِدّیقہ رضی اللہ عنہا نے عَرض کی : یارسول اللہ ! ﷺ آپ ایسا کر رہے ہیں حالانکہ اللہ کریم نے آپ کے سبب آپ کے اگلوں اور پچھلوں کے گناہ بخش دئیے ہیں ! آقا کریمﷺنے ارشاد فرمایا : اے عائشہ ! ”اَفَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا“ کیا میں اللہ پاک کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
ضرت عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ کی کیفیتِ نماز کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا تو آپﷺ نماز پڑھ رہے تھے اور رونے کی وجہ سے آپ کے سینے سے ایسی آواز نکل رہی تھی جیسی ہنڈیا کی آواز ہوتی ہے۔ (ابو داؤد ، حدیث ۹۰۴)
وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ ۖ ترجمہ: اور رات کے کچھ حصے میں تہجد پڑھو، یہ خاص تمہارے لیے زیادہ ہے۔ (پارہ 15, سورہ بنی اسرائیل، آیت 79) جب کوئی مسلمان عشاء کے فرض ادا کرنے کے بعد کچھ دیر سوجائےاور رات میں بیدار ہوجائے تو اس کے لئے نماز تہجد کا وقت شروع ہوجاتا ہے اور یہ وقت اس کے لئے فجر کا وقت شروع ہونے سے پہلے تک باقی رہتا ہے۔ ہمارے پیارے نبی ﷺ پر تہجد کی نماز فرض تھیں۔
آقاکریم ﷺ کی نمازِ تہجد کی کیفیت بیان کرتے ہوئے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ایک رات میں نے نبیِّ پاک ﷺ کے ساتھ نماز ( تہجد ) پڑھی۔ آپ نے سورۂ بقرہ پڑھنی شروع کی۔ میں نے دل میں کہا کہ آپ ﷺ سو آیات پڑھ کر رکوع میں چلے جائیں گے ، لیکن آپ پڑھتے رہے۔ پھر میں نے دل میں کہا کہ آپ ﷺاسے ایک رکعت میں ختم کریں گے۔ مگر آپ ﷺ پڑھتے رہے۔ میں نے سوچا کہ آپ اسے پڑھ کر رکوع کریں گے۔ لیکن آپ ﷺنے سورۃ النساء شروع کردی اور اسے پورا پڑھ ڈالا۔ پھر آپ ﷺ نے اٰلِ عمراٰن شروع کی اور اسے بھی پورا پڑھ ڈالا۔ آپ ﷺٹھہر ٹھہر کر تلاوت کررہے تھے۔ جب آپ ﷺ کا گزر کسی ایسی آیت پر ہوتا جس میں تسبیح ( اللہ کی پاکی ) کا بیان ہوتا ، تو آپ ﷺتسبیح کرتے اور جب کسی ایسی آیت سے گزرتے ، جس میں ( اللہ سے ) مانگنے کا ذکر ہوتا ، تو مانگتےاور اگر کسی ایسی آیت سے گزرتے ، جس میں پناہ مانگنے کا ذکر ہوتا ، تو پناہ مانگتے۔ پھر آپ ﷺنے رکوع کیا اور سُبْحَانَ رَبِّي الْعَظِيم پڑھنے لگے۔ آپ ﷺ کا رکوع آپ ﷺ کے قیام کے بقدر تھا۔ پھر آپ نےسَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَه رَبَّنَا لَكَ الْحَمْد کہا اور طویل وقت تک کھڑے رہے ، جو رکوع کے لگ بھگ تھا۔ پھر آپ ﷺ نے سجدہ کیا اور سُبْحٰن رَبِّيَ الْاَعْلٰى پڑھنے لگے۔ آپ کا سجدہ آپ کے قیام کے بقدر تھا۔ (مصنف عبدالرزاق، حدیث ۲۸۴۵)
حضور جان عالم ﷺ کی نماز تہجد کی کیفیت کا بیان کرتے ہوئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتیں ہیں کہ رسولِ پاک ﷺ رات کے اوّل حصّے میں آرام فرماتے اور پھر رات کے تیسرے حصّہ میں کہ جب مرغا بانگ دیتا اس وقت اُٹھ کر تہجد کی نماز ادا فرمایا کرتے تھے کہ اس وقت اللہ پاک کی رَحمت نازل ہوتی ہے اور یہ وقت کافی سکون والا ہوتا ہے۔ جس میں بندہ شور نہ ہونے کے سبب سکون سے نماز ادا کرسکتا ہے۔ اپنے ربّ کی عِبادت کرنے کے بعد حضور ﷺ رات کے آخِری اور چھٹے حصّہ میں یعنی سحری کے وقت فجر کی نماز پر چُستی حاصل کرنے اور جسم و جان کو آرام پہنچانے کے لیے سوجاتے یا لیٹ جاتے تھے۔ (عمدة القاری )
پیارے آقا ﷺ کی نمازیں یقینا کامل نمازیں ہوتی تھیں ۔نفلی نمازوں میں بھی خشیت الٰہی سے اشک بار ہو جاتے اور اللہ کی طرف اتنی لگن اور محبت سے متوجہ ہوتے کہ دنیا کے ہر خیال سے بے نیاز اور بارگاہِ رب العزت کے بالکل قریب ہو جاتے۔ آپ جیسی کامل اور مقبول نماز نہ کوئی پڑھ سکا اور نہ کوئی پڑھ سکے گا۔ اللہ پاک ہمیں حضور جان عالم ﷺ کی کامل نمازوں کا صدقہ عطا فرمائے اور ہم بھی اچھے انداز سے اپنے رب کی عبادت کرنے والے بن جائیں ۔
استغفار بھی نماز اور تلاوت قرآن کی طرح ایک عبادت ہے ۔ اس لئے نبی پاک ﷺ بھی کثرت سے استغفار کرتے رہے ہیں حالانکہ نبی پاک ﷺ معصوم ہیں ، گناہ آپ کے قریب بھی نہیں آتا ۔ پیارے آقا ﷺ خود ارشاد فرماتے ہیں : وَاللہِ اِنِّی لَاَسْتَغْفِرُ اللہَ وَاَتُوبُ اِلَیْہِ فِی الْیَوْمِ اَکْثَرَ مِنْ سَبْعِینَ مَرَّۃً ترجمہ : خدا کی قسم! میں دن میں ستر سے زیادہ مرتبہ اللہ سے اِستغفار کرتا ہوں اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔ (مشکوة المصابیح، حدیث 2323)
قرآن پاک میں اللہ رب العزت نے بھی حضور سید عالم ﷺ کو استغفار کا حکم ارشاد فرمایا جیسا کہ سورۃ النصر میں ہے : فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ ۚ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا ترجمہ: تو اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بیان کرو اور اس سے بخشش چاہو، بے شک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔(سورۃ النصر ، آیت ۰۳) نبیِّ کریم ﷺ کےاِستِغفَار کرنے کی حکمتیں: علّامہ بدرُالدّین عَیْنی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: نبیِّ کریم ﷺ بطورِ عاجزی یا تعلیمِ اُمّت کیلئے اِستِغفَار کرتے تھے۔(عمدۃ القاری تحت الحدیث ۶۳۰۷) علّامہ ابنِ بطّال مالکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: انبیائے کرام علیہمُ السَّلام ( کسی گناہ پر نہیں بلکہ )لوگوں میں سب سے زیادہ شکر گزاری و عبادت گزاری کے باوجود اللہ پاک کا کما حقّہ حق ادا نہ ہوسکنے پر اِستِغفَار کرتے ہیں۔(شرح بخاری لابن بطال) امام محمدغزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: نبیِّ کریم ﷺ ہمیشہ بلند درجات کی طرف ترقی فرماتے ہیں اور جب آپ ﷺ ایک حال سے دوسرے حال کی طرف ترقی کرتے تو اپنے پہلے حال پر اِستِغفَار کرتے ہیں۔(فتح الباری)
اللہ پاک نے بھی ایمان والوں کو استغفار کرنے کا حکم دیا ۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے : وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ (پ 18، النور: 31) ترجمہ: اے ایمان والو تم سب مل کر اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔اس آیتِ مبارکہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ استغفار ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے انسان اپنے دلوں سے گناہوں کی سیاہی کو دور کر کے اللہ کا قرب حاصل کر سکتا ہے۔ جیسا کہ روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہ نبی رحمت ﷺ کا فرمان شفقت نشان ہے: ترجمہ: بے شک تانبے کی طرح دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے اور اس کی جلاء (یعنی صفائی) کرنا استغفار ہے۔ (مجمع الزوائد، حدیث: 17575) اللہ پاک ہمیں بھی کثرت استغفار کرنے والوں میں شامل فرمائے اور پیارے آقا ﷺ کی اس پیاری ادا کو بھی اختیار کرنا ہمارے لئے آسان فرمائے ۔ (آمین )
آقاﷺ کی قرآن سے محبت بے مثال تھی ؛ نبی پاک ﷺ قرآن کی تلاوت فرماتے تو آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے۔ آپ ﷺ خود بھی تلاوت فرماتے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے قرآن کی تلاوت سنا بھی کرتے تھے اور آپ ﷺ کے ذوق کا عالم یہ تھا کہ پڑھنے اور سننے کا انداز لطف والا ہوتا تھا۔ بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: جب سورہ مرسلات نازل ہوئی اور نبی اکرم ﷺ تلاوت فرما رہے تھے اور آپ کا چہرہ مبارک تر تھا ۔ یعنی قرآن پڑھتے ہوئے پیارے آقا ﷺ پر ایک کیفیت طاری ہوجاتی تھی۔ اسی طرح حضور اکرم ﷺاور صحابہ کرام جب آپس میں ملتے تو قرآن سننے کا بڑا اہتمام کرتے تھے۔ یعنی جب ملاقات فرماتے تو کہتے کچھ قرآن سناؤ۔ یہ انداز ہوا کرتا تھا۔ بخاری شریف میں موجود ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا: میرے سامنے قرآن پڑھو انہوں نے فرمایا کہ یا رسول اللہ ﷺ میں آپ کے سامنے قرآن کیسے پڑھوں۔۔۔؟ آپ ﷺپر تو قرآن نازل ہوا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پڑھو میں تم سے قرآن سننا چاہتا ہوں۔ انہوں نے سورۃ النساء کی تلاوت شروع کی اور نگاہیں جھکائے حضرت عبداللہ بن مسعود پڑھ رہے تھے۔ آپ فرماتے ہیں کہ جب میں اس حصے پر پہنچا۔ ترجمہ: ہم اُس دن آپ کو ان تمام لوگوں پر یعنی ہر اُمت میں سے ایک گروہ کو لے کر آئیں گے یعنی نبی کریم ﷺ کو لے کر آئیں گے اور ان تمام کے اوپر آپ کو گواہ لے کر آئیں گے۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کافی ہے! کافی ہے! حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ جب میں نے آنکھیں اٹھا کے دیکھا تو نبی کریم ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ اس کے علاوہ آپ ﷺنے فرمایا کہ قرآن حزن کے ساتھ نازل ہوا ۔ حزن کے ساتھ پڑھا کرو۔(مجمع الزوائد، حدیث: 11694) مذکورہ حدیثِ پاک میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ جس طرح قرآنِ پاک کی تلاوت کرنا ثواب کا کام ہے یوں ہی کسی دوسرے شخص سے قرآنِ پاک کی تلاوت سننا بھی ثواب کا کام ہے۔حضور ﷺ نے حضرت سَیِّدُنَا عبداﷲبن مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ سے ارشاد فرمایا: ”مجھے قرآنِ پاک سناؤ۔“ ”معلوم ہوا کہ قرآن شریف پڑھنا، پڑھوانا، سننا، سنانا سب عبادت اور سنتِ رسول ہے۔ حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا یہ پڑھوانا نہ تو تعلیم کےلیے تھا نہ اِصلاح کے لیے بلکہ صرف سننے کے لیے تھا۔“ (فیضان ریاض الصالحین، حدیث 1008)
ہمیں بھی چاہیئے کہ اپنی روزانہ کی عادت بنائیں کہ کچھ نہ کچھ قرآن کی تلاوت ضرور کیا کریں کیونکہ قرآن کی تلاوت للہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کی علامت ہے ۔ جیسا کہ حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:جو اس بات کو جاننا چاہتا ہے کہ وہ اللہ پاک اوراس کے رسول ﷺ سے مَحَبَّت کرتا ہے تو وہ دیکھے کہ اگروہ قرآن سے مَحَبَّت کرتاہے(یعنی اس کی تلاوت اور اس پر عمل کرتا ہے) تو وہ اللہ کریم اور اس کے رسول ﷺ سے بھی مَحَبَّت کرتا ہے۔ (المعجم الکبیر للطبرانی ، حدیث :۸۶۵۷ )
قرآن کریم کی تلاوت روحانی و باطنی امراض سے بھی خلاصی دلانے والی ہے ۔ ایک شخص نےنبیِ کریم ﷺَکی بارگاہ میں حَلْق میں دَرْد کی شکایت کی توآپ نے اِرْشاد فرمایا: قرآن پڑھنااختیار کرو۔(شعب الایمان،حدیث ٢٥٨٠)ایک شخص نے حاضرہوکرعرض کی: میرے سینےمیں تکلیف ہے۔ارشادفرمایا:قرآن پڑھو،اللہ فرماتاہے: وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِترجمہ :اور قرآن میں دلوں کی شفاء ہے۔(الدرالمنثور،٤/٣٦٦) بلکہ قرآن ِ کریم تو مختلف بیماریوں کی بہترین دَوابھی ہے۔جیساکہ فرمانِ مُصطفٰےﷺَہے: خَیْرُالدَّوَاءِ اَلْقُرْاٰنُ یعنی بہترین دَوا قرآنِ کریم ہے۔(سنن ابن ماجہ،حدیث:٣٥٠١) اللہ پاک ہمیں پیارے آقا ﷺ کی قرآن سے محبت کے صدقے و طفیل پابندی کے ساتھ تلاوت کرنے اسے سمجھنے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔