اسلامک ڈیسک کی جانب سے

قیادتِ مصطفیٰ ﷺ کورس
58
انرولمنٹس
2
مکمل
4.9
ریٹنگ
یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ انسانیت کی حقیقی فلاح، امن اور کامیابی کے لیے جو کامل اور جامع نظامِ زندگی درکار تھا، وہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ذریعے عطا فرمایا۔ آپ ﷺ نے اپنی بعثت کے بعد پوری زندگی نہایت اخلاص، حکمت، صبر اور ذمہ داری کے ساتھ اللہ کے دین کو نافذ فرمایا اور ایک ایسی مثالی قیادت پیش کی جس نے بکھرے ہوئے، متفرق اور کمزور معاشرے کو دنیا کی عظیم ترین اسلامی فلاحی ریاست، ریاستِ مدینہ میں تبدیل کر دیا۔ رسولِ اکرم ﷺ کی قیادت صرف ایک سیاسی یا انتظامی نمونہ نہیں، بلکہ ایمان، عدل، رحمت، مشاورت، دیانت، اخلاق اور خدمتِ خلق کا ایسا جامع نظام ہے جو قیامت تک تمام انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اس کورس کا مقصد بھی یہی ہے کہ ایک قاٸد کو اپنی رعایا کے ساتھ، ایک سرپرست کو اپنے گھر والوں کے ساتھ، ایک نگران کو اپنے ماتحت افراد کے ساتھ کیسا انداز رکھنا چاہیے ۔ تاکہ سیرت مصطفی ﷺ کی روشنی میں اسے سمجھ کر کامیاب قاٸد اور رہنماء بنا جاسکے۔ اس کورس میں ہم قیادتِ مصطفیٰ ﷺ کے تین بنیادی اور روشن پہلوؤں کا مطالعہ کریں گے۔ (01) مشاورت کرنا (02) مساوات (03) کردار سازی
مشورے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو بھی اِجتہادی اُمور میں صحابہ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے مشورہ کرنے کا حکم دیا ہے ،چنانچہ ارشاد فرمایا: وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِ ترجمہ: اور کاموں میں ان سے مشورہ لیتے رہو۔ (سورہ آل عمران ، آیت 159)
تفسیرقرطبی میں ہے : اللہ پاک نے نبیِّ کریم ﷺ کو اپنے اصحاب سے مشورہ کرنے کا حکم اس وجہ سے نہیں دیا کہ اللہ اور اس کے حبیب ﷺ کو ان کے مشورہ کی حاجت ہے ، حکم دینے کی وجہ یہ ہے کہ انہیں مشورے کی فضیلت کا علم ہوجاۓ اور آپ کے بعد آپ کی اُمّت مشورہ کرنے میں آپ کی اتّباع کرے۔ ( تفسیر قرطبی، تحت الآیت آل عمران ، آیت 159)
ایک روایت میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبیِّ کریم ﷺ نے فرمایا : اللہ اور اس کے رسول کو مشورہ کی ضرورت نہیں ہے لیکن اللہ پاک نے مشورہ کو میری اُمّت کے لئے رحمت بنایا ہے۔ (شعب الایمان) اس لٸے تاجدارِ رسالت ﷺ کے وصالِ ظاہری کے بعد صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ بھی دینی اور دُنْیَوی اہم اُمور باہمی مشورے سے طے کیا کرتے تھے ۔
قرآن کریم میں انصار صحابہ کرام کا ایک وصف اللہ پاک نے یہ بیان فرمایا : وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ ترجمہ: اور ان کا کام آپس کے مشورے سے چلتا ہے۔ (سورۃ الشوریٰ: 38) حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جب تمہارے حاکم اچھے لوگ ہوں ،تمہارے مالدار سخی لوگ اور تمہارے کام باہمی مشورے سے طے ہوں تو زمین کا ظاہر اس کے باطن سے تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے اور جب تمہارے حاکم شریر لوگ ہوں ، تمہارے مالدار بخیل ہوں اور تمہارے معاملات عورتوں کے سپرد ہوں تو اس وقت زمین کا پیٹ تمہارے لئے اس کے ظاہر سے زیادہ بہتر ہے۔ (ترمذی، حدیث 2273)
غزوۂ خندق کے موقع پر حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ کے گرد خندق کھودنے کا مشورہ دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی رائے کو قبول فرمایا اور اسی کے مطابق خندق کھدوائی، جس کے نتیجے میں مسلمانوں کو ایک بڑی دفاعی کامیابی حاصل ہوئی۔ ہمیں بھی حضور جان عالم ﷺ اور صحابہ کرام کی سیرت پر عمل کرتے ہوۓ اپنے اہم کاموں میں اچھے لوگوں سے مشورہ کرنا چاہیٸے۔ جو شخص کسی کام کا ارادہ کرے اور اس میں کسی مسلمان شخص سے مشورہ کرے اللہ پاک اسے دُرست کام کی ہدایت دے دیتا ہے۔ (تفسیر درمنثور)
کسی بھی نظام کی ترقی کے لٸے عدل و انصاف ، اور مساوات کا قیام بےحد ضروری ہے۔ عدل اور انصاف معاشرے کو امن و امان فراہم کرنے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ظلم و زیادتی کرنے سے روکنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔ حضور جان عالم ﷺ کی بعثت سے قبل عدل و انصاف کا معاملہ انتہاٸی کمزور تھا۔ معاشرے میں ظلم و زیادتی بھی عام تھی لیکن جب حضور علیہ السّلام کی تشریف آوری ہوئی تو آپ نے ان تمام ظالمانہ نظام کا خاتمہ کیا اور ان کے مدِّ مقابل ایسا بہترین اور زبردست قسم کا نظام متعارف کروایا کہ بڑے بڑے مجرم اور جرائم پیشہ افراد بھی اس کے سامنے سر نگوں ہونے پر مجبور ہو گئے اور لوگ اس آفاقی نظام اور اس کی مضبوط دیواروں کو تسلیم کئے بغیر نہ رہ سکے اور آج بھی اگر دنیا میں کوئی مضبوط عدل و انصاف کا نظام ہے تو حقیقی طور پر یہی اسلامی نظام ہے۔
اللہ پاک قرآن کریم میں ایک مقام پر ارشاد فرماتا ہے : وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِؕ ترجمہ : اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔(پارہ 05, سورة النساء، آیت 58)
َإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ ترجمہ: اور اگر آپ ان کے درمیان فیصلہ فرمائیں تو انصاف کے ساتھ فیصلہ فرمائیں۔(سورۃ المائدہ: 42) ایک مقام پر فرمایا : اِعْدِلُوْا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى٘ ترجمہ : انصاف کرو وہ پرہیزگاری سے زیادہ قریب ہے۔(پارہ 06, سورة الماٸدہ ،ایت 08)
نبی پاک ﷺ کے عدل و انصاف کیسا تھا اس کا اندازہ صرف اس ایک واقعے سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مخزومی عورت نے چوری کی تھی۔ قریش کے لوگوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے درخواست کی کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے اس کی سفارش کریں۔ جب حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے سفارش کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم اللہ کی مقرر کردہ حد(سزا) کے بارے میں سفارش کرتے ہو؟" پھر آپ ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: "تم سے پہلے کی قومیں اس لیے ہلاک ہوئیں کہ جب ان میں کوئی معزز شخص چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے، اور جب کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد جاری کرتے تھے۔ اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتیں تو محمد ﷺ ان کا بھی ہاتھ کاٹ دیتے۔" (صحیح بخاری و صحیح مسلم) اللہ پاک ہمیں بھی عدل و انصاف کو اختیار کرنے کی توفیق عطا فرماۓ۔آمین
کردار سازی سے مراد انسان کے اندر ایسے اخلاق، عادات اور صفات پیدا کرنا ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ بندہ اور معاشرے کا بہترین فرد بنائیں۔ حضور جان عالم ﷺ کی قیادت کی یہ خاص بات تھی کہ آپ نے طبیعت کو سنوارنے ، اخلاق کو بہتر بنانے ، کردار کو نکھارنے پر کافی توجہ دی جس کے باعث صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آج امت کے امام ہیں۔ ان کی سیرت ، ان کے پاکیزہ اخلاق، انکی آپس کی محبتیں ہمارے لٸے لاٸق تقلید ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے کردار سازی اور بہترین اخلاق کے لٸے گھر سے آغاز فرمایا ۔ اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کو یہ بتایا : وَعَنْ أَبِي هُرَيرَة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ : "أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، وَخِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسَائِهِمْ ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ فرمایا : مؤمنوں میں سے کامل تر ایمان والے وہ ہیں جو اچھے اخلاق والے ہیں اور تم میں بہترین وہ ہے جو اپنی بیویوں کے ساتھ اچھا ہو۔ (مشکوة المصابیح، حدیث 3264) ایک حدیث پاک میں ہے : إِنَّ مِنْ أَكْمَلِ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنَهُمْ خُلُقًا، وَأَلْطَفَهُمْ بِأَهْلِهِ ترجمہ : حضرت عائشہ سے رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلمانوں میں بڑے کامل ایمان والا وہ ہے جو سب میں اچھے اخلاق والا ہو اور اپنے بال بچوں پر مہربان ہو۔ (مشکوة المصابیح، حدیث 3263) ان احادیث میں غور کریں تو پتا چلتا ہے اخلاق حسنہ کی کتنی اہمیت ہے کہ نبی پاک ﷺ نے سب سے بہتر بھی اسی شخص کو فرمایا جو اخلاق کے اعتبار سے بہتر ہے اور بہترین اخلاق والے کو ہی کامل ایمان والا فرمایا۔
نبی پاک ﷺ کی کردار سازی ایسی تھی کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کا عمل محض رضاۓ الہی کے لٸے ہوتا ۔ اس کا اندازہ مولا علی مشکل کشاء رضی اللہ عنہ کے اس واقعے سے لگایا جاسکتا ہے : مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ ، حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ شیرِ خدا رضی اللہ عنہ نے ( دورانِ جنگ ) ایک دشمنِ دین کو پَچھاڑا اور اس کے قتل کے اِرادے سے اُس کے سینے پر بیٹھ گئے ، اُس نے آپ کی طرف تھوک دیا ، تو آپ اس کے سینے سے اُتر گئے ، اُسے چھوڑ دیا اور قتل نہ کیا ، اُس نے پوچھا کہ آپ تو مجھے قتل کرنے پر قادر تھے پھر بھی مجھے قتل کیوں نہیں کیا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جب تُو نے میرے ساتھ یہ بُرا معاملہ کیا تو میرے دل میں تجھے قتل کرنے کا مزید جوش اُبھرا ، مگر ساتھ ہی یہ خوف بھی لاحِق ہوا کہ اب تیرا قتل اپنے نفس کی وجہ سے ہوگا ، خالص اللہ کے لئے نہیں ہوگا ( اِس لئے میں نے تجھے چھوڑ دیا ) ، آپ رضی اللہ عنہ کے اس حُسنِ نیت اور اچھے کردار کی بدولت وہ کافر مسلمان ہوگیا۔ ( مرقاۃ المفاتیح ، 7/12 ، تحت الحدیث : 3451 )
یاد رہے کہ مولیٰ علی شیرِ ِخدا رضی اللہ عنہ کا اس دشمنِ اسلام پر غلبہ پانا چونکہ اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کے تحت ہی تھا اس لئے آپ کا وہ کردار بھی سو فیصد اچھا ہی تھا۔ اور پھر اس کی طرف سے ایک قبیح فعل کے اِرتکاب کے سبب اسے چھوڑ دینا اور اپنے نفس کے لئے اسے قتل نہ کرنا ، آپ کا یہ کردار بھی لائقِ صَد تحسین ہی تھا۔ کردار سازی ایک قاٸد کا اہم وصف یے جس میں وہ اپنے رفقاء اور ماتحت کی اچھی تربیت کرتا ہے۔ اور ایسے ہی قاٸد دنیا سے جانے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ اللہ پاک ہمیں ان اوصاف کا حامل بناۓ۔ آمین