
پیارے آقا ﷺ کا سفرِ حج
255
انرولمنٹس
5
مکمل
4.7
ریٹنگ
11 رمضان المبارک سن 8 ہجری کو فتح مکہ ہوئی اور فتح مکہ کے اگلے سال یعنی 9 ہجری ذی قعدہ کے مہینے میں سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدارﷺ نے اپنی جگہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کو امیر الحج مقرر فرمایا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ تین سو(300 )مسلمانوں کے ساتھ فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے مدینہ منورہ سے روانہ ہوکر مکہ مکرمہ پہنچے۔ نبی پاک ﷺ نے آپ کے ساتھ بیس (20) اونٹ روانہ فرمائے ان کے گلوں میں اپنے دست اقدس سے ہار ڈالے اور ان پر نشان لگائے، ان اونٹوں پر حضرت سیدنا ناجیہ بن جندب اسلمی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو نگران مقرر فرمایا۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے پانچ (5)اونٹ اپنی طرف سے بھی ذبح کرنے کے لیے ساتھ لے لیے۔حضرت سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بھی اس سال حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ساتھ حج کیا اور ہدی کے کئی جانور ساتھ لے لیے۔ (صحیح البخاری، کتاب المغازی، حج ابی بکر بالناس۔۔۔ الخ، الحدیث : ۴۳۶۳، ج۳، ص۱۲۸، سیرت سید الانبیاء، ص۵۳۳، مدارج النبوۃ، ج۲، ص۳۷۷) پیارے آقا ﷺ نے اس سال حج کیوں نہ کیا؟ اس سال نبی اکرم ﷺ غزوات کے معاملے میں انہماک، مختلف وفود کی آمد اور ان کو احکام شرعیہ سکھانے کی مصروفیت کے باعث حج میں شرکت نہ فرماسکے، اس لیے اپنی جگہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کو امیر الحج مقرر فرمایا۔ (مدارج النبوت، ج۲، ص۳۷۷)
نبیٔ کریم رؤف رَّحیم ﷺ نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پیچھے حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کرّم اللہ تعالٰی وجْہہ الْکریم کو روانہ فرمایاتاکہ لوگوں کو سورت برأت پڑھ کر سنائیں اور یہ اعلان کریں کہ اس سال کے بعد آئندہ کوئی مشرک حج نہیں کرسکے گا اور نہ کوئی برہنہ ہوکر بیت اللہ کا طواف کرسکے گا۔حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حج کو روانہ ہونے سے تھوڑا عرصہ پہلے اسی سال پارہ 10 سورۃ التوبہ کی آیت نمبر28 نازل ہوئی : *( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَاۚ )* ترجمۂ کنزالایمان : ’’اے ایمان والو! مشرک نرے ناپاک ہیں تو اس برس کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس نہ آنےپائیں ۔ ‘‘ حضرت سیدنا علی المرتضی کرّم اللہ تعالٰی وجہہ الکرِیم عرج کے مقام پر حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ سے جاملے ۔عرج مدینہ منورہ سے دور 78 میل کے فاصلے پر ایک بستی کا نام ہے۔ (السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، اختصاص الرسول علیا۔۔۔الخ، المجلد الثانی، ص۴۶۱)
ہجرت کے بعد نبی کریم ﷺ نے سن، 10 ہجری میں اپنا پہلا اور آخری حج فرمایا۔ اسی حج کو اہل ایمان حجۃ الوداع کے نام سے پہچانتے ہیں۔ (ہجرت سے پہلے بھی نبی پاک ﷺ سے حج کرنا ثابت ہے، وہ حج کتنے تھے اس بارے میں روایات مختلف ہے، بعض میں دو اور بعض میں تین کا ذکر ہے، اور بعض میں اعلان، نبوت کے، بعد ہجرت سے پہلے ہر سال کا ذکر ہے لیکن ہجرت کے بعد جب حج فرض ہوا تو نبی پاک ﷺ نے ایک ہی حج فرمایا اس پر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا اجماع ہے) دس سن ہجری میں نبی پاک ﷺ نے جب حج کا ارادہ فرمایا تو مدینے کے قرب و جوار میں اعلان کروایا گیا کہ اس سال نبی پاک ﷺ حج فرمائیں گے لہذا تمام مسلمان اس سال حج کریں۔ یہ سننا تھا کہ مسلمانوں میں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ہر طرف سے، تیاریاں شروع ہوئی اور قافلے کے قافلے مدینہ منورہ میں جمع ہونا شروع ہوگئے۔ مسلم شریف کی ایک طویل حدیث پاک میں نبی کریم ﷺ کے اس حج کو تفصیلا بیان کیا گیا ہے، کورس کے قارئین کے ذوق کو بڑھانے کے لئے اسی حدیث کو ہم یہاں شامل کررہے ہیں۔
*" عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ مَكَثَ بِالمَدِينَةِ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ ثُمَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ فِي الْعَاشِرَةِ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ حَاجٌّ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ بَشَرٌ كَثِيرٌ فَخَرَجْنَا مَعَهٗ حَتّٰى إِذَا أَتَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ فَوَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْسَلَتْ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ ﷺ : كَيْفَ أَصْنَعُ؟ قَالَ: «اغْتَسِلِي وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ وَأَحْرِمِي» فَصَلّٰى رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتّٰى إِذَا اسْتَوَتْ بِهٖ نَاقَتُهٗ عَلَى البَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالتَّوْحِيدِ «لَبَّيْكَ اَللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ» . قَالَ جَابِرٌ: لَسْنَا نَنْوِي إِلَّا الْحَجَّ لَسْنَا نَعْرِفُ الْعُمْرَةَ حَتّٰى إِذَا أَتَيْنَا الْبَيْتَ مَعَهٗ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ فَطَافَ سَبْعًا فَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشٰى أَرْبَعًا ثُمَّ تَقَدَّمَ إِلٰى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ فَقَرَأَ: (وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلّٰى)فَصَلّٰى رَكْعَتَيْنِ فَجَعَلَ الْمَقَامَ بَيْنَهٗ وَبَيْنَ الْبَيْتِ وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّهٗ قَرَأَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ: (قُلْ هوَ اللّٰهُ أَحَدٌ و (قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ) ثُمَّ رَجَعَ إِلٰى الرُّكْنِ فَاسْتَلَمَهٗ ثُمَّ خَرَجَ مِنَ الْبَابِ إِلٰى الصَّفَا فَلَمَّا دَنَا مِنَ الصَّفَا قَرَأَ: (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰهِ)أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللّٰه بِهٖ فَبَدَأَ بِالصَّفَا فَرَقِيَ عَلَيْهِ حَتّٰى رَاٰى الْبَيْتَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَوَحَّدَ اللّٰهَ وَكَبَّرَهٗ وَقَالَ: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ أَنْجَزَ وَعْدَهٗ وَنَصَرَ عَبْدَهٗ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهٗ» . ثُمَّ دَعَا بَيْنَ ذٰلِكَ قَالَ مِثْلَ هٰذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ نَزَلَ وَمَشٰى إِلَى الْمَرْوَةِ حَتّٰى انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْوَادِي ثُمَّ سَعٰى حَتّٰى إِذَا صَعِدْنَا مَشٰى حَتّٰى أَتَى الْمَرْوَةَ فَفَعَلَ عَلَى المَرْوَةِ كَمَا فَعَلَ عَلَى الصَّفَا حَتّٰى إِذَا كَانَ آخِرُ طَوَافٍ عَلَى المَرْوَةِ نَادٰى وَهُوَ عَلَى المَرْوَةِ وَالنَّاسُ تَحْتَهٗ فَقَالَ: «لَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أَسُقِ الهَدْيَ وَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً فَمَنْ كَانَ مِنْكُم لَيْسَ مَعَهٗ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ وَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً» . فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَلِعَامِنَا هٰذَا أَمْ لِأَبَدٍ؟ فَشَبَّكَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهٗ وَاحِدَةً فِي الْأُخْرٰى وَقَالَ: «دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ مَرَّتَيْنِ لَا بَلْ لِأَبَدِ أَبَدٍ» . وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ بِبُدْنِ النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ لَهٗ: «مَاذَا قُلْتَ حِينَ فَرَضْتَ الْحَجَّ؟» قَالَ: قُلْتُ: اَللّٰهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُكَ، قَالَ: «فَإِنَّ مَعِي الْهَدْيَ فَلَا تَحِلَّ» . قَالَ: فَكَانَ جَمَاعَةُ الْهَدْيِ الَّذِي قَدِمَ بِهٖ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ وَالَّذِي أَتٰى بِهِ النَّبِيُّ ﷺ مِائَةً قَالَ: فَحَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ وَقَصَّرُوا إِلَّا النَّبِيَّﷺ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَمَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ تَوَجَّهُوا إِلٰى مِنًى فَأَهَلُّوا بِالحَجِّ وَرَكِبَ النَّبِيُّ صَلَّى ﷺ فَصَلّٰى بِهَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالْفَجْرَ ثُمَّ مَكَثَ قَلِيلًا حَتّٰى طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَأَمَرَ بِقُبَّةٍ مِنْ شَعَرٍ تُضْرَبُ لَهٗ بِنَمِرَةَ فَسَارَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ وَلَا تَشُكُّ قُرَيْشٌ إِلَّا أَنَّهٗ وَاقِفٌ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ كَمَا كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصْنَعُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأجَازَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ حَتّٰى أَتٰى عَرَفَةَ فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ لَهٗ بِنَمِرَةَ فَنَزَلَ بِهَا حَتّٰى إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِالقَصْوَاءِ فَرُحِلَتْ لَهٗ فَأَتٰى بَطْنَ الْوَادِي فَخَطَبَ النَّاسَ وَقَالَ: «إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هٰذَا فِي شَهْرِكُمْ هٰذَا فِي بَلَدِكُمْ هٰذَا أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمَيَّ مَوْضُوعٌ وَدِمَاءُ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ وَإِنَّ أَوَّلَ دَمٍ أَضَعُ مِنْ دِمَائِنَا دَمُ ابْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ وَكَانَ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي سَعْدٍ فَقَتَلَهٗ هُذَيْلٌ وَرِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ وَأَوَّلُ رِبًا أَضَعُ مِنْ رِبَانَا رِبَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَإِنَّهٗ مَوْضُوعٌ كُلُّهٗ فَاتَّقُوا اللّٰهَ فِي النِّسَاءِ فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانِ اللّٰه وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللّٰهِ وَلَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهٗ فَإِنْ فَعَلْنَ ذٰلِكَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالمَعْرُوفِ وَقَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهٗ إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهٖ كِتَابَ اللّٰهِ وَأَنْتُمْ تُسْأَلُونَ عَنِّي فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟» قَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ وَأَدَّيْتَ وَنَصَحْتَ. فَقَالَ بِإِصْبَعِهٖ السَّبَّابَةِ يَرْفَعُهَا إِلٰى السَّمَاءِ وَيَنْكُتُهَا إِلٰى النَّاسِ: «اَللّٰهُمَّ اشْهَدْ اَللّٰهُمَّ اشْهَدْ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلّٰى الظُّهْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلّٰى الْعَصْرَ وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا ثُمَّ رَكِبَ حَتّٰى أَتَى الْمَوْقِفَ فَجَعَلَ بَطْنَ نَاقَتِهِ القَصْوَاءِ إِلٰى الصَّخَرَاتِ وَجَعَلَ حَبْلَ الْمُشَاةِ بَيْنَ يَدَيْهِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتّٰى غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَذَهَبَتِ الصُّفْرَةُ قَلِيلًا حَتّٰى غَابَ الْقُرْصُ وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ وَدَفَعَ حَتّٰى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَصَلّٰى بِهَا الْمَغْرِبَ وَالْعَشَاءَ بِأَذَانٍ وَاحِدٍ وَإِقَامَتَيْنِ وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا شَيْئًا ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتّٰى طَلَعَ الْفَجْرُ فَصَلّٰى الْفَجْرَ حِينَ تَبَيَّنَ لَهُ الصُّبْحُ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتّٰى أَتَى الْمَشْعَرَ الْحَرَامَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَدَعَاهُ وَكَبَّرَهٗ وَهَلَّلَهٗ وَوَحَّدَهٗ فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتّٰى أَسْفَرَ جِدًّا فَدَفَعَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ حَتّٰى أَتٰى بَطْنَ مُحَسِّرٍ فَحَرَّكَ قَلِيلًا ثُمَّ سَلَكَ الطَّرِيقَ الْوُسْطٰى الَّتِي تَخْرُجُ عَلَى الجَمْرَةِ الْكُبْرٰى حَتّٰى أَتَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الشَّجَرَةِ فَرَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا مِثْلَ حَصَى الْخَذْفِ رَمٰى مِنْ بَطْنِ الْوَادِي ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمَنْحَرِ فَنَحَرَ ثَلَاثًا وَسِتِّينَ بُدْنَةً بِيَدِهٖ ثُمَّ أَعْطَى عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ وَأَشْرَكَهٗ فِي هَدْيِهٖ ثُمَّ أَمَرَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبُضْعَةٍ فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ فَطُبِخَتْ فَأَكَلَا مِنْ لَحْمِهَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَفَاضَ إِلَى الْبَيْتِ فَصَلّٰى بِمَكَّةَ الظُّهْرَ فَأَتٰى عَلٰى بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَسْقُونَ عَلٰى زَمْزَمَ فَقَالَ: «اَنْزِعُوا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَوْلَا أَنْ يَغْلِبَنَّكُمُ النَّاسُ عَلٰى سِقَايَتِكُمْ لَنَزَعْتُ مَعَكُمْ» . فَنَاوَلُوهُ دَلْوًا فَشَرِبَ مِنْهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ "*
ترجمہ : حضرت جابر ابن عبداللّٰه رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نو برس مدینہ پاک میں مقیم رہے کہ حج نہ کیا پھر دسویں سال لوگوں میں حج کا اعلان کیا گیا کہ رسول اللّٰه ﷺ حج کو تشریف لے جانے والے ہیں چنانچہ بہت ہی لوگ مدینہ پاک میں آگئے ہم آپ کے ہمراہ نکلے گے۔حتی کہ جب ذوالحلیفہ میں پہنچے تو حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے ہاں محمد ابن ابوبکر صدیق پیدا ہوئے انہوں نے رسول اللّٰه ﷺ کی خدمت میں کہلا بھیجا کہ اب میں کیا کروں۔ آپ ﷺ فرمایا نہالو اور کوئی کپڑا باندھ لو اور احرام باندھ لو پھر رسول اللّٰه ﷺ نے مسجد میں نماز ادا کی پھر قصواء اونٹنی پر سوار ہوئے حتی کہ جب اونٹنی آپ کو لے کر میدان میں سیدھی کھڑی ہوئی تو حضور ﷺ نے کلمہ توحید (تلبیہ) بلند آواز سے پکارا ِ *«لَبَّيْكَ اَللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ» * حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم صرف حج ہی کی نیت سے تھے عمرہ کوجانتے بھی نہ تھے حتی کہ ہم جب کعبہ شریف میں حضور ﷺ کے ساتھ پہنچے تو حضور ﷺ نے رکن (حجر اسود) کو بوسہ دیا پھر سات پھیرے طواف کیا جس میں تین چکروں میں رمل فرمایا اور چار میں معمولی چال چلے پھر مقام ابراہیم پرتشریف لائے تو یہ آیت *((وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلّٰى))* تلاوت کی یعنی "مقام ابراہیم کو جائے نماز بناؤ" پھر دو رکعتیں اس طرح پڑھیں کہ مقام ابراہیم کو اپنے اور بیت اللّٰه کے درمیان کرلیا ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے ان دونوں ر کعتوں میں *قل ھو اللّٰه احد* اور *قل یا ایہا الکافرون* پڑھیں پھر رکن اسود کی طرف لوٹے اسے چوما پھر دروازے سے صفا پہاڑ کی طرف تشریف لے گئے جب صفا سے قریب ہوئے تو یہ آیت تلاوت کی کہ صفا و مروہ اللّٰه کی دینی نشانیوں میں سے ہیں ہم اس سے ابتداء کریں گے جس سے رب نے ابتداء کی چنانچہ آپ نے صفا سے سعی شروع کی اس پر چڑھے حتی کہ کعبہ معظمہ کو دیکھ لیا تو کعبہ کو منہ کیا اللّٰه کی توحید و تکبیر بیان کی اور فرمایا اللّٰه کے سوا کوئی معبود نہیں اس کا کوئی شریک نہیں اسی کا ملک ہے اسی کی تعریف ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے اللّٰه اکیلے کے سوا کوئی معبود نہیں جس نے اپنا وعدہ پورا کردیا اپنے بندے کی مدد کی اس اکیلے نے احزاب کو بھگایا پھر ان ذکروں کے درمیان دعا مانگی تین بار یہ فرمایا پھر اترے پھر مروہ کی طرف چلے حتی کہ بطن وادی میں آپ کے قدم شریف برابر سیدھے ہوگئے پھر دوڑے حتی کہ جب آپ کے قدم چڑھنے لگے تو معمولی چال چلے حتی کہ مروہ پہنچے پھر مروہ پر وہ ہی کیا جیسا صفا پر کیا تھا حتی کہ جب مروہ پر آخری چکر ہوا تو آپ نے آواز دی حالانکہ آپ مروہ پر تھے اور لوگ آپ سے نیچے تو فرمایا اگر ہم اس کام کا پہلے سے خیال کرتے جس کا بعد میں خیال آیا تو ہم ہدی نہ لاتے اور اسے عمرہ قرار دیتے لہذا تم میں سے جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ احرام کھول دے اور اسے عمرہ بنالے تب حضرت سراقہ ابن مالک بن جعشم کھڑے ہو کر بولے یارسول اللّٰه ﷺ کیا یہ حکم ہمارے اس ہی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے تو رسول اللّٰه ﷺ نے اپنی ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل فرمائیں اور دوبارہ فرمایا کہ عمرہ حج میں داخل ہوگیا یہ حکم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے جناب علی یمن سے نبی کریم ﷺ کے ہدی کے اونٹ لے کر آئے تو ان سے حضور نے پوچھا کہ جب تم نے حج کی نیت کی تو کیا کہا تھا عرض کیا میں نے کہا تھا الٰہی میں اس کا احرام باندھتا ہوں جس کا احرام تیرے رسول نے باندھا فرمایا میرے ساتھ تو ہدی ہے لہذا تم حلال نہ ہونا (یعنی احرام ابھی نہ کھولنا) راوی فرماتے ہیں کہ مجموعہ ان ہدیوں کا جو جناب علی یمن سے لائے اور جو نبی کریم ﷺ لائے کل سو تھا فرماتے ہیں پھر تمام لوگ حلال ہوگئے اور بال کٹوالیے سوائے نبی کریم ﷺ کے اور ان حضرات کے جن کے ساتھ ہدی جانور تھا پھر جب آٹھویں بقرعید ہوئی تو لوگوں نے منی کا رخ کیا تب حج کا احرام باندھا نبی کریم ﷺ سوار ہوئے تو منی میں ظہر،عصر، مغرب،عشاء اور فجر پڑھی پھر تھوڑا ٹھہرے حتی کہ سورج نکل آئے اور حضور ﷺ نے حکم دیا تھا تو نمرہ میں حضور ﷺ کے لیے اونی خیمہ لگادیا گیا تھا چنانچہ رسول اللّٰه چلتے رہے قریش کو اس میں شک و تردد ہی نہ تھا کہ آپ مشعر حرام کے پاس قیام کریں گے ٹھہر جائیں گے جیسے اسلام سے پہلے قریش کرتے تھے مگر رسول ﷺ وہاں سے آگے بڑھ گئے حتی کہ عرفہ پہنچ گئے تو آپ نے مقام نمرہ میں خیمہ لگا ہوا پایا وہاں ہی اتر پڑے حتی کہ سورج ڈھل گیا تو اونٹنی قصواء کا حکم دیا اسے کجاوا کس دیا گیا آپ بطن وادی میں تشریف لائے لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا کہ تمہارے خون تمہارے آپس کے مال تم پر یوں ہی حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن کی اس مہینہ اور اس شہر میں حرمت خبردار رہو زمانہ جاہلیت کی تمام رسمیں میرے قدم کے نیچے روند دی گئیں اور جاہلیت کے زمانہ کے خون ختم کردیئے گئے میں اپنے خونوں میں سے پہلا خون ختم کرتا ہوں وہ ابن ربیعہ ابن حارثہ کا خون ہے یہ بنی سعد میں شیر خوار تھے تو انہیں قوم ہذیل نے قتل کردیا تھا اور جاہلیت کے زمانہ کے سود ختم ہیں میں اپنے سودوں میں سے پہلا سود ختم کرتاہوں وہ عباس ابن عبدالمطلب کا سود ہے وہ سارا ہی ختم عورتوں کے معاملہ میں اللّٰه سے ڈرو کہ تم نے انہیں اللّٰه تعالٰی کی امان میں لے لیا ہے اور کلمہ الہیہ سے ان کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے تمہارے ان پر یہ حقوق ہیں کہ وہ تمہارے بستروں کو ان سے پامال نہ کرائیں جنہیں تم ناپسند کرتے ہو پھر اگر وہ عورتیں ایسا کریں تو تم انہیں غیر مہلک مار مارو اور عورتوں کی تم پر بھلائی سے ان کی روزی اور بھلائی سے ان کا کپڑا ہے میں تم میں وہ چیز چھوڑتا ہوں کہ اس کے ہوتے تم کبھی گمراہ نہ ہو گے جب تک تم اسے تھامے رہے یعنی قرآن کریم اور تم سے میرے متعلق پوچھا جائے گا تو تم کیا کہو گے،سب بولے ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے تبلیغ فرمادی اور امانت ادا کردی اور خیر خواہی فرمائی تو آپ نے اپنے کلمہ کی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور لوگوں کی طرف جھکائی فرمایا خدایا گواہ ہوجا خدایا گواہ ہوجا (تین بار) فرمایا پھر حضرت بلال نے اذان دی پھر تکبیر کہی حضور انور ﷺ نے نماز ظہر پڑھی پھر تکبیر کہی تو عصر پڑھ لی ان دو نمازوں کے درمیان کچھ نہ پڑھا پھر سوار ہوئے حتی کہ عرفات کے جائے قیام پرتشریف لائے تو اپنی قصواء کا پیٹ بڑے پتھروں کی طرف کردیا اور حبل مشاۃ کو اپنے سامنے لیا اور قبلہ کو منہ کیا پھر وہاں اتنا ٹھہرے رہے کہ سورج ڈوب گیا اور کچھ زردی غائب ہوگئی یہاں تک کہ سورج کی ٹکیہ پوری چھپ گئی اور حضرت اسامہ کو ردیف بنایا اور روانہ ہوگئے حتی کہ مزدلفہ پہنچ گئے پھر وہاں ایک اذان اور دو تکبیروں سے نماز مغرب و عشاء پڑھی درمیان میں نوافل کچھ نہ پڑھے پھر کچھ لیٹ گئے حتی کہ فجر طلوع ہوگئی تو سویرا چمکتے ہی اذان و تکبیر کے ساتھ فجر پڑھی پھر قصواء پر سوار ہولیے حتی کہ مشعر پہاڑ کے پاس تشریف لائے پھر قبلہ کو منہ کیا اور رب سے دعا مانگی تکبیر وتہلیل و توحید کہتے رہے وہاں ٹھہرے رہے حتی کہ خوب اجالا ہوگیا تو سورج نکلنے سے پہلے روانہ ہوگئے اور حضرت فضل ابن عباس کو اپنے پیچھے سوار کرلیا حتی کہ بطن وادی میں آئے تو اپنی اونٹنی کو کچھ حرکت دی پھر درمیانی راستے پر پڑ گئے جو بڑے جمرے پر نکلتا ہے حتی کہ اس جمرہ پر پہنچے جو درخت کے پاس ہے تو اسے سات کنکر مارے جن میں سے ہر کنکر کے ساتھ تکبیر کہتے تھے جو کنکرٹھیکری جیسے تھے بطن وادی سے رمی کی پھر قربان گاہ کی طرف لوٹے تو تریسٹھ اونٹ اپنے ہاتھ سے قربانی کئے پھر حضرت علی کو مرحمت فرمائے تو بقیہ انہوں نے قربانی کئے اور حضور ﷺ نے انہیں اپنی ہدی میں شریک کر لیا پھر حکم دیا تو ہر اونٹ کی ایک بوٹی لے کر ہانڈی میں ڈالی اور پکائی گئی تو ان دونوں صاحبوں نے وہ گوشت کھایا اس کا شوربا پیا پھر رسول اللّٰه ﷺ سوار ہوئے اور بیت اللّٰه شریف چلے تو نماز ظہر مکہ میں پڑھی پھر بنی عبدالمطلب کے پاس تشریف لائے جو زمزم پر پانی کھینچ رہے تھے فرمایا اے بنی عبدالمطلب کھینچے جاؤ اگر یہ خطرہ نہ ہوتا کہ سب لوگ تمہارے پاس کھینچنے میں تم پر غلبہ کرلیں گے تو میں تمہارے ساتھ پانی کھینچتا لوگوں نے حضور کو ڈول پیش کیا آپ نے اس سے پیا۔
مسلم شریف کی جو تفصیلی حدیث کا ہم نے مطالعہ کیا اس روایت میں نبی کریم ﷺ کے حلق کروانے کا ذکر نہیں تھا۔ اس لئے علیحدہ سے اس کا ذکر کررہے ہیں کیونکہ احرام سے باہر آنے کے لئے حلق یا تقصیر کروانا ضروری ہے۔ مُسْلِم شریف میں ہے، حضرت انس بن مالک رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں: حجّۃُ الْوِدَاع کے موقع پر حضور اکرم ﷺ مِنیٰ میں تشریف لائے، جمرۃُ الْعقَبَہْ پر کنکریاں ماریں پھر قربانی کرکے اپنے مکان میں تشریف لائے، پھر پیارے آقا ﷺ نے حجام کو بلایا اور اپنے سر مبارک کے سیدھی طرف سے بال مبارَک منڈوائے اور حضرت ابو طلحہ انصاری رَضِیَ اللہُ عنہ کو عطا فرما دئیے پھر دِل کی جانِب والی طرف کے بال مبارَک منڈوائے اور وہ بھی حضرت ابو طلحہ انصاری رَضِیَ اللہُ عنہ کو عنایت کئےاور فرمایا:: *اقْسِمْهُ بَيْنَ النَّاسِ* یعنی : ان تمام بالوں کو لوگوں میں تقسیم کردو! (صحیح مسلم 1305) فیضان ریاض الصالحین میں اس حدیث پاک کی شرح میں لکھا ہے کہ : حضور ﷺ نے اپنے بال مبارک جن سے منڈوائے ان کا نام حضرت سیّدنا معْمرْ بن عبداللّٰہ ہے، قرشی عدوی ہیں اور قدیمُ الاسلام ہیں۔ جب حضرت معمرْ رضی اللہ تعالٰی عَنْہُ حاضر ہوئے اور ہاتھ میں استرہ پکڑ کر بال مونڈنے لگے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے مَعْمَرْ! تجھے اللہ عزوجل کے رسول نے اپنے کان کی لو پر قدرت دی ہے اور تیرے ہاتھ میں استرہ ہے۔“مطلب یہ کہ ہوشیار رہو اور اس نعمت کی قدر کرو۔ حضرت معمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کی:بیشک یہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ہے اور یہ اس کا مجھ پر احسان ہے، حضور ﷺ نے فرمایا: ”ہاں ایسا ہی ہے۔“
حدیثِ پاک میں بیان ہوا کہ حضور علیہ الصّلٰوۃُوالسّلام نے بال مبارک منڈوانے کے بعد حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو بلایا اور انہیں موئے مبارک عطا کرتے ہوئے فرمایا کہ انہیں لوگوں میں تقسیم کردو۔ مفسِّرشہِیرمحدّثِ کبیر حکیمُ الاُمّت مفتِی احمد یار خان علیہ رحمۃ الْحنّان فرماتے ہیں: ”اس موقعہ پر حضورِ اَنور نے اپنے ناخُن شریف بھی لوگوں میں تقسیم کرائے، یہ بال و ناخُن تبرک کے لیے ساروں میں تقسیم کیے گئے، ان میں سے بعض حضرات تو یہ تبرکات اپنی قبروں میں لے گئے تاکہ وہاں کی مشکلات آسان ہوں جیسے حضرت امیرِمعاویہ و عمرو ابنِ عاص وغیرہم اور بعض حضرات چھوڑ گئے تاکہ قیامت تک مسلمان ان کی زیارت کرتے رہیں۔ چنانچہ آج تک مختلف جگہ یہ بال شریف موجود ہیں اور ان کی زیارتیں ہورہی ہیں،صحابہ کرام ان بالوں کو پانی میں غوطہ دے کر دواءً پیتے تھے۔ اِس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ انسان کے بال جُدا ہوکر بھی پاک ہیں۔ دوسرے یہ کہ ﷲتعالیٰ نے حضور کے بعض اَجزاءِ بدن شریف محفوظ رکھے ہیں۔ تیسرے یہ کہ بزرگوں کے تبرکات خصوصاً حضور کے بال و ناخُن شریف سنبھال کر رکھنا، اُن کی زیارت کرنا، اُن سے شفا حاصل کرنا، اُن کے تَوَسُّل سے دعائیں مانگنا، قبر میں انہیں ساتھ لے جانا سب جائز و بہتر ہے کہ یہ تقسیم انہی مقاصد کے لیے ہوئی تھی۔ (فیضان ریاض الصالحین، حدیث7279)
نبی کریم ﷺ نے ہجرت کے بعد چار عمرے ادا فرمائے۔ ایک عمرہ تو آپ ﷺ نے حج کے ساتھ ادا فرمایا۔ یہ دس سن ہجری کا عمرہ ہے۔ سن 06 ہجری میں صلح حدیبیہ سے پہلے ہی عمرے کا احرام باندھ لیا تھا لیکن صلح حدیبیہ کے معاہدے کے مطابق آپ ﷺ نے اس عمرے کا احرام کھول دیا۔ اور معاہدے کے مطابق پھر آئندہ سال عمرے کی قضاء فرمائی۔ حدیبیہ والے سال اگرچہ سرکار ﷺ عمرہ ادا نہ کرسکے لیکن یہ بھی عمرہ ہی مانا گیا کیونکہ نبی پاک ﷺ نے عمرے کی نیت فرمالی تھی اور ثواب عمرے کا آپ کو عطا ہو چکا، اس لئے سرکار ﷺ کے اس عمرے کو بھی شمار کیا گیا۔ یہ تین عمرے ہوئے۔ یہ تینوں عمروں کے احرام نبی مکرم ﷺ نے مدینے کے راستے میں آنے والی میقات " ذوالحلیفہ " سے باندھے۔ چوتھا عمرہ جو سن آٹھ ہجری میں ادا فرمایا اس کا احرام نبی کریم ﷺ نے مسجد جعرانہ سے باندھا۔ *پہلا عمرہ* *صلح حدیبیہ اور عمرے کا احرام :* تفسیر صراط الجنان سے اس کا مکمل اور تفصیلی واقعہ : حدیبیہ مکہ ٔمکرمہ کے نزدیک ایک کنواں ہے۔ سرکارِ دو عالم ﷺ نے خواب دیکھا کہ آپ ﷺ اپنے صحابہ ٔکرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کے ہمراہ امن کے ساتھ مکہ ٔمکرمہ میں داخل ہوئے،ان میں سے کوئی حلق کئے ہوئے اور کوئی قصر کئے ہوئے تھا ،نیز آپ کعبۂ معظمہ میں داخل ہوئے، کعبہ کی چابی لی، طواف فرمایا اورعمرہ کیا۔نبی کریم ﷺ نے صحابہ ٔکرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کو اس خواب کی خبر دی تو سب خوش ہوئے۔ پھر حضورِ اقدس ﷺ نے عمرہ کا قصد فرمایا اور1400 صحابہ ٔکرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کے ساتھ ذی القعدہ کی پہلی تاریخ،سن 6 ہجری کو روانہ ہوگئے اور ذوالحُلَیْفَہ میں پہنچ کر وہاں مسجد میں دو رکعتیں پڑھیں ، عمرہ کا احرام باندھا اور حضور انور ﷺ کے ساتھ اکثرصحابہ ٔکرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے بھی احرام باندھا۔ بعض صحابہ ٔکرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے جُحْفَہ سے احرام باندھا ۔راستے میں پانی ختم ہوگیا تو صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی: لشکر میں پانی بالکل باقی نہیں ہے،صرف حضور ﷺ کے برتن میں تھوڑا ساپانی بچا ہے۔ حضورِاکرم ﷺ نے اپنے برتن میں دستِ مبارک ڈالا تو مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے جوش مارنے لگے، پھر سارے لشکر نے پانی پیا اوروضوکیا۔جب مقامِ عُسفان میں پہنچے تو خبر آئی کہ کفارِ قریش بڑے سازو سامان کے ساتھ جنگ کے لئے تیار ہیں ۔ جب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو پھر پانی ختم ہوگیا حتی کہ لشکر والوں کے پاس ایک قطرہ نہ رہا، اوپر سے گرمی بھی بہت شدید تھی۔رسولِ کریم ﷺ نے کنوئیں میں کلی فرمائی تو اس کی برکت سے کنواں پانی سے بھر گیا ،پھر سب نے وہ پانی پیا اور اونٹوں کو پلایا۔ یہاں کفارِ قریش کی طرف سے حال معلوم کرنے کے لئے کئی شخص بھیجے گئے اور سب نے جا کر یہی بیان کیا کہ حضورِ اقدس ﷺ عمرہ کے لئے تشریف لائے ہیں ،جنگ کا ارادہ نہیں ہے۔ لیکن انہیں یقین نہ آیا توآخر کار انہوں نے عُرْوَہْ بن مسعود ثَقَفِی کو حقیقت حال جاننے کے لئے بھیجا،یہ طائف کے بڑے سردار اور عرب کے انتہائی مالدار شخص تھے ، اُنہوں نے آکر دیکھا کہ حضورِ انور ﷺ دستِ مبارک دھوتے ہیں تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم تَبَرُّک کے طور پر غُسالَہ شریف حاصل کرنے کے لئے ٹوٹ پڑتے ہیں ۔اگر کبھی لعابِ دہن ڈالتے ہیں تو لوگ اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جس کو وہ حاصل ہوجاتا ہے وہ اپنے چہرے اور بدن پر برکت کے لئے مل لیتا ہے، جسمِ اقدس کا کوئی بال گرنے نہیں پاتا اگر کبھی جدا ہوا تو صحابہ ٔکرام رضی اللہ تعالٰی عنہم اس کو بہت ادب کے ساتھ لیتے اور جان سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں ،جب حضور پر نور ﷺ کلام فرماتے ہیں تو سب خاموش ہوجاتے ہیں ۔ حضورِ اکرم ﷺ کے ادب و تعظیم کی وجہ سے کوئی شخص اوپر کی طرف نظر نہیں اُٹھا سکتا۔ عُروَہ نے قریش سے جا کر یہ سب حال بیان کیا اور کہا: میں فارس ، روم اور مصر کے بادشاہوں کے درباروں میں گیا ہوں ، میں نے کسی بادشاہ کی یہ عظمت نہیں دیکھی جو محمد مصطفٰی ﷺ کی اُن کے اصحاب میں ہے ،مجھے اندیشہ ہے کہ تم ان کے مقابلے میں کامیاب نہ ہوسکو گے۔ قریش نے کہا ایسی بات مت کہو، ہم اس سال انہیں واپس کردیں گے وہ اگلے سال آئیں ۔ عُروَہ نے کہا: مجھے اندیشہ ہے کہ تمہیں کوئی مصیبت پہنچے گی۔ یہ کہہ کر وہ اپنے ہمراہیوں کے ساتھ طائف واپس چلے گئے اور اس واقعہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں مشرف بہ اسلام کیا۔ اسی مقام پر حضور پُر نور ﷺ نے اپنے اصحاب رضی اللہ تعالٰی عنہم سے بیعت لی، اسے ’’بیعتِ رضوان‘‘ کہتے ہیں ۔ بیعت کی خبر سے کفار خوف زدہ ہوئے اور ان کے رائے دینے والوں نے یہی مناسب سمجھا کہ صلح کرلیں ، چنانچہ صلح نامہ لکھا گیا اور آئندہ سال حضورِ اقدس ﷺ کا تشریف لانا قرار پایا اور یہ صلح مسلمانوں کے حق میں بہت نفع مند ہوئی بلکہ نتائج کے اعتبار سے فتح ثابت ہوئی۔ (تفسیر صراط الجنان، سورۃ الفتح، آیت 01) جب حدیبیہ کا یہ معاہدہ ہوگیا تو نبی کریم ﷺ نے بغیر عمرہ کے ہی احرام کھول دیا۔
*عمرۃ القضاء اور رمل کی سنت :* حدیبیہ کے صلح نامہ میں ایک دفعہ(condition) یہ بھی تھی کہ آئندہ سال حضور ﷺ مکہ آکر عمرہ ادا کریں گے اور تین دن مکہ میں ٹھہریں گے۔ اس دفعہ کے مطابق ماہ ذوالقعدہ 07 سن ہجری میں آپ ﷺ نے عمرہ ادا کرنے کے لئے مکہ روانہ ہونے کاعزم فرمایا اور اعلان کرا دیا کہ جو لوگ گزشتہ سال حدیبیہ میں شریک تھے وہ سب میرے ساتھ چلیں۔ چنانچہ سوائے ان لوگوں کے جو جنگ خیبر میں شہید یا وفات پاچکے تھے سب نے یہ سعادت حاصل کی۔ حضور ﷺ کو چونکہ کفارمکہ پر بھروسا نہیں تھا کہ وہ اپنے عہد(وعدے) کو پورا کریں گے اس لئے آپ ﷺ جنگ کی پوری تیاری کے ساتھ روانہ ہوئے۔ بوقت روانگی حضرت ابو رہم غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آپ ﷺ نے مدینہ پر حاکم بنا دیا اور دو ہزار مسلمانوں کے ساتھ جن میں ایک سو گھوڑوں پر سوار تھے آپ ﷺ مکہ کے لئے روانہ ہوئے۔ ساٹھ اونٹ قربانی کے لئے ساتھ تھے۔ جب کفارمکہ کو خبر لگی کہ حضور ﷺ ہتھیاروں اور سامان جنگ کے ساتھ مکہ آرہے ہیں تو وہ بہت گھبرائے اور انہوں نے چند آدمیوں کو صورت حال کی تحقیقات کے لئے ''مرالظہران'' تک بھیجا۔ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو اسپ سواروں کے افسر تھے قریش کے قاصدوں نے ان سے ملاقات کی۔ انہوں نے اطمینان دلایا کہ نبی ﷺ صلح نامہ کی شرط کے مطابق بغیر ہتھیار کے مکہ میں داخل ہوں گے یہ سن کر کفارقریش مطمئن ہوگئے۔ چنانچہ حضور ﷺ جب مقام ''یاجج'' میں پہنچے جو مکہ سے آٹھ میل دور ہے تو تمام ہتھیاروں کو اس جگہ رکھ دیا اور حضرت بشیر بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ماتحتی میں چند صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو ان ہتھیاروں کی حفاظت کے لئے متعین فرما دیا ۔ اور اپنے ساتھ ایک تلوار کے سوا کوئی ہتھیار نہیں رکھا اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مجمع کے ساتھ ''لبیک'' پڑھتے ہوئے حرم کی طرف بڑھے جب مکہ میں داخل ہونے لگے تو دربار نبوت کے شاعر حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اونٹ کی مہار تھامے ہوئے آگے آگے رجز کے یہ اشعار جوش و خروش کے ساتھ بلندآواز سے پڑھتے جاتے تھے کہ *خَلُّوْا بَنِی الْکُفَّارِ عَنْ سَبِیْلِہٖ* *اَلْیَوْمَ نَضْرِبُکُمْ عَلٰی تَنْزِیْلِہٖ* اے کافروں کے بیٹو!سامنے سے ہٹ جاؤ۔ آج جو تم نے اترنے سے روکا تو ہم تلوار چلائیں گے۔ *ضَرْبًا یُّزِیْلُ الْھَامَ عَنْ مَقِیْلِہٖ* *وَیُذْھِلُ الْخَلِیْلَ عَنْ خَلِیْلِہٖ* ہم تلوار کا ایسا وار کریں گے جو سر کو اس کی خوابگاہ سے الگ کردے اور دوست کی یاد اس کے دوست کے دل سے بھلا دے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ٹوکا اور کہا کہ اے عبداللہ بن رواحہ!رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ ﷺ کے آگے آگے اور اللہ تعالیٰ کے حرم میں تم اشعار پڑھتے ہو؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اے عمر !رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کو چھوڑ دو۔ یہ اشعار کفار کے حق میں تیروں سے بڑھ کر ہیں۔ (شمائل ترمذی ص ۱۷ و زرقانی ج ۲ ص ۲۵۵ تا ص ۲۵۷ ) جب رسول اکرم ﷺ خاص حرم کعبہ میں داخل ہوئے تو کچھ کفارقریش مارے جلن کے اس منظر کی تاب نہ لاسکے اور پہاڑوں پر چلے گئے۔ مگر کچھ کفار اپنے دارالندوہ(کمیٹی گھر) کے پاس کھڑے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر بادهٔ توحید و رسالت سے مست ہونے والے مسلمانوں کے طواف کا نظارہ کرنے لگے اور آپس میں کہنے لگے کہ یہ مسلمان بھلا کیا طواف کریں گے؟ ان کو تو بھوک اور مدینہ کے بخار نے کچل کر رکھ دیا ہے۔ حضور ﷺ نے مسجد حرام میں پہنچ کر ''اضطباع'' کرلیا۔ یعنی چادر کو اس طرح اوڑھ لیا کہ آپ کا داہنا شانہ اور بازو کھل گیا اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ خدا اس پر اپنی رحمت نازل فرمائے جو ان کفار کے سامنے اپنی قوت کا اظہار کرے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ساتھ شروع کے تین پھیروں میں شانوں کو ہلا ہلاکر اور خوب اکڑتے ہوئے چل کر طواف کیا۔ اس کو عربی زبان میں '' رمل '' کہتے ہیں۔ چنانچہ یہ سنت آج تک باقی ہے اور قیامت تک باقی رہے گی کہ ہر طواف کعبہ کرنے والا شروع طواف کے تین پھیروں میں ''رمل'' کرتا ہے۔ (سیرت مصطفی، بحوالہ بخاری شریف صفحہ 397، مکتبۃ المدینہ)
*مقام جعرانہ سے پیارے آقا ﷺ کا عمرہ :* مکّۂ مکرّمہ زادھا اللہُ شرفاً وّ تَعظیما سے جانِبِ طائف تقریباً 26 کلومیٹر پر واقِع ہے۔ آپ بھی یہاں سے عُمرے کا اِحرام باندھئے کہ فتحِ مکہ کے بعد طائف شریف فتح کر کے واپَسی پر ہمارے پیارے آقا ﷺ نے یہاں سےعُمرے کا اِحرام زیبِ تن فرمایا تھا۔یوسف بن ماہک علیہ رحمۃُ اللّٰہ الخالق فرماتے ہیں : مقامِ جِعِرّانہ سے300انبیائے کرام علیہم الصّلَاۃُوَالسّلام نے عُمرے کا احرام باندھا ہے ، سرکارِ نامدار ﷺ نے جِعِرّانہ پر اپنا عصا مبارک گاڑا جس سے پانی کا چشمہ اُبلا جو نہایت ٹھنڈا اور میٹھا تھا (بلد الامین ص ۲۲۱ ، اخبار مکہ ، جزء ۵ص۶۲ ، ۶۹) مشہور ہے اُس جگہ پر کُنواں ہے۔ سیِدنا ابنِ عبّاس رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں : حُضُورِ اکرم ﷺ نے طائف سے واپَسی پر یہاں قِیام کیا اوریَہیں مالِ غنیمت بھی تقسیم فرمایا ۔ آپ ﷺ نے 28شوالُ المکرم کو یہاں سے عُمرے کا احرام باندھا تھا۔ (بلد الامین ص ۲۲۰ ، ۲۲۱ ) اِس جگہ کی نسبت قُریش کی ایک عورت کی طرف ہے جس کا لقب جِعِرّانہ تھا ۔ (ایضاً ص۱۳۷) عوام اِس مقام کو ’’ بڑا عمرہ ‘‘ بولتے ہیں ۔یہ نہایت ہی پُرسوز مَقام ہے ، حضرتِ سیِّدُنا شیخ عبد الحقّ محدِث دِہلوی علیہ رحمۃ اللہِ الْقَوِی *’’ اخبارُ الاخیار ‘‘* میں نَقْل کرتے ہیں کہ میرے پیرو مرشدحضرتِ سیِّدُنا شیخ عبدُ الوہّاب متّقی علیہ رحمۃ اللہِ الْقَوِی نے مجھے تاکید فرمائی ہے کہ موقع ملنے پر جِعِرّانہ (جِ۔عِرْ۔رانہ) سے ضَرور عُمرے کا احرام باندھنا کہ یہ ایسا مُتَبَرَّک مقام ہے کہ میں نے یہاں ایک رات کے مختصر سے حصّے کے اندر سو سے زائد بار مدینے کے تاجدار ﷺ کا خواب میں دیدار کیا ہے * اَلحمدُ للّٰہ علٰی اِحْسانِہٖ* ۔ حضرتِ سیِّدُنا شیخ عبدُ الوہاب متّقی علیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا معمول تھا کہ عمرے کا احرام باندھنے کیلئے روزہ رکھ کر پیدل جِعِرّانہ جایا کرتے تھے۔ (رفیق الحرمین) چوتھا عمرہ : یہ چوتھا عمرہ نبی کریم ﷺ نے دس سن ہجری جب حج قران کا احرام باندھا، اس وقت ادا فرمایا۔ جس کی تفصیل پہلے گزرچکی۔۔۔
خطبہ حجۃ الوداع مختلف راویوں کی روایات کی صورت میں کتبِ حدیث و سیرت اور تاریخ میں موجود ہے۔ بعض مصنفین نے اس خطبہ کی روایات کو جمع کرکے مستقل کتب بھی ترتیب دی ہیں۔ اسے خطبہ حجۃ الوداع اس لئے کہتے ہیں کہ یہ رسولِ کریم ﷺ کا آخری حج تھا اور آپ نے ہجرت کے بعد یہی ایک حج فرمایا۔ اس کے آخری حج ہونے کی پیشن گوئی رسولِ پاک ﷺ نے خود ہی مختلف مقامات پر ارشاد فرمادی تھی۔ جیسا کہ جب حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو گورنر بنا کر یمن روانہ فرمایا تو ان سے فرمایا : يَا مُعَاذُ اِنَّكَ عَسىٰ اَنْ لَا تَلْقَانِي بَعْدَ عَامِي هَذَا وَلَعَلَّكَ اَن تَمُرَّ بِمَسْجِدِي هَذَا وَقَبْرِي یعنی اے معاذ ! غالبا تم مجھ سے میرے اس سال کے بعد نہ مل سکو گے اور شاید تم میری اس مسجد اور میری قبر کے پاس سے گزرو گے۔ حضرت معا ذ یہ سُن کر رسولُ اللہ ﷺ کی جدائی کے غم میں رونے لگے۔ (مسند احمد، حدیث 22052) آئیے! خطبۂ حجۃ الوداع میں بیان کردہ نبی کریم ﷺ کی قیمتی نصیحتوں کو سمجھیں اور اپنی زندگی میں اپنانے کی کوشش کریں۔
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسولِ کریم ﷺ نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں فرمایا : اپنے رب سے ڈرو اور نمازِ پنجگانہ ادا کرو ، رمضان کے روزے رکھو ، اپنے اموال کی زکوٰۃ دو ، اپنے اہلِ امر کی اطاعت کرو تو اپنے رب کی جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔ (ترمذی، حدیث 606)
رسولِ کریم ﷺ نے حمد و ثنا کے بعد فرمایا : بے شک اللہ کریم فرماتاہے : اے لوگو ! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں شاخیں اور قبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھو ، بےشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔ (پارہ 26، سورۃ الحجرات، آیت 13) (پس کسی عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں اور نہ ہی کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت ہے اور نہ کسی کالے کو گورے پر اور نہ کسی گورے کو کالے پر بَرتری ہے سوائے تقویٰ کے۔ (معجم کبیر، حدیث 16)
رسولِ کریم ﷺ نے یوم النحر کے خطبہ میں فرمایا : بےشک تمہارے خون ، تمہارے مال ( ایک راوی کہتے ہیں کہ شاید یہ فرمایا کہ ) اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لئے اُسی طرح حرام ہیں ( یعنی عزت والی ہیں ) جس طرح اس شہر ( مکہ ) میں ، اس ماہ ( ذوالحجۃ الحرام ) میں آج کا دن عزت و حرمت والا ہے۔ عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے تو وہ تم سے تمہارے اعمال کے متعلق سوال فرمائے گا۔ (بخاری، 4406)
حضرت عَمْرو بن احوص کی روایت میں ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں فرمایا : آگاہ رہو ! بےشک تمہاری عورتوں پر تمہارے کچھ حقوق ہیں اور تمہاری عورتوں کے بھی تم پر کچھ حقوق ہیں۔ پس تمہارا اپنی عورتوں پر یہ حق ہے کہ وہ اپنی عزت کی حفاظت کریں اور جو تمہیں پسند نہیں اسے گھر میں نہ آنے دیں ، آگاہ رہو کہ تمہاری عورتوں کا تم پر حق ہے کہ تم انہیں اچھا کھلاؤ اور اچھا پہناؤ۔(ترمذی، حدیث 1166)
حضرت سیّدنا جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسولِ کریم ﷺ نے عرفہ کے دن اپنی اونٹنی قصواء پر تشریف فرما ہو کر خطبہ دیا ، آپ نے فرمایا : اے لوگو ! بے شک میں تمہارے درمیان وہ چھوڑے جارہا ہوں کہ تم اسے تھامے رکھو تو کبھی گمراہ نہ ہوگے : اللہ کی کتاب اور میرے اہلِ بیت۔ ( ترمذی 3811)
یوم النحر کے خطبہ کے آخر میں رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا : پس جو حاضر ہے وہ غائب تک ( میراپیغام ) پہنچادے ، کیونکہ بہت مرتبہ سننے والے سے زیادہ محفوظ کرنے والا وہ ہوتا ہے جس تک پہنچایا گیا ہے۔ (بخاری، حدیث 1741)
خطبہ یوم النحر میں وعظ و نصیحت کے بعد آپ ﷺ نےفرمایا : پس میرے بعد کفار کے عمل کی طرف لوٹ نہ جانا کہ کہیں ایک دوسرے کو قتل کرنے لگو۔ (بخاری، حدیث 1739)
حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت میں ہے کہ خطبہ کے بعد رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا : اے لوگو ! تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا تو تم کیا کہو گے ؟ لوگوں نے کہا : ہم گواہی دیں گے کہ بے شک آپ نے پیغام پہنچا دیا اور حق اداکردیا اور نصیحت فرمادی۔ تو رسولِ کریم ﷺ نے اپنی شہادت کی انگلی آسمان کی طرف بلند فرمائی اور لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : ا ے اللہ تو گواہ رہ ، اے اللہ تو گواہ رہ ، یہ تین بار فرمایا۔ (مسلم، حدیث 2950)