اسلامک ڈیسک کی جانب سے
ایک دن آپ ﷺ’’غار حراء‘‘ کے اندر عبادت میں مشغول تھے کہ بالکل اچانک غار میں آپ ﷺ کے پاس ایک فرشتہ ظاہر ہوا۔(یہ حضرت جبریل *عَلَیْہِ السَّلام* تھے جو ہمیشہ خدا *عَزَّوَجَلَّ* کا پیغام اس کے رسولوں علیہم الصلاۃوالسلام تک پہنچاتے رہے ہیں ) فرشتے نے ایک دم کہا کہ ’’پڑھئیے‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں ’’پڑھنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ فرشتے نے آپ ﷺ کو پکڑا اور نہایت گرم جوشی کے ساتھ آپ ﷺ سے زور دار معانقہ کیا پھر چھوڑ کر کہا کہ ’’ پڑھئیے‘‘ آپ ﷺ نے پھر فرمایا کہ’’میں پڑھنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ فرشتہ نے دوسری مرتبہ پھر آپ ﷺ کو اپنے سینے سے چمٹایا اور چھوڑ کر کہا کہ ’’پڑھئیے‘‘ آپ ﷺ نے پھر وہی فرمایا کہ ’’میں پڑھنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ تیسری مرتبہ پھر فرشتہ نے آپ ﷺ کو بہت زور کے ساتھ اپنے سینے سے لگا کر چھوڑا اور کہا کہ
*اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ(۱) خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ(۲) اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ(۳) الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِۙ(۴) عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْؕ(۵)*
ترجمہ:
پڑھواپنے رب کے نام سے جس نے پیداکیا آدمی کو خون کی پھٹک سے بنایا پڑھو اور تمہارارب ہی سب سے بڑاکریم جس نے قلم سے لکھناسکھایا آدمی کوسکھایاجونہ جانتاتھا۔(پ۳۰، العلق : ۱۔۵)
یہی سب سے پہلی وحی تھی جو آپ ﷺ پر نازل ہوئی۔ ان آیتوں کو یاد کرکے حضور اقدس ﷺ اپنے گھر تشریف لائے۔ مگراس واقعہ سے جو بالکل ناگہانی طور پر آپ ﷺ کوپیش آیا اس سے آپ ﷺ کے قلب مبارک پر لرزہ طاری تھا۔ آپ ﷺ نے گھر والوں سے فرمایا کہ مجھے کمبل اوڑھاؤ۔ مجھے کمبل اوڑھاؤ۔ جب آپ ﷺ کا خوف دور ہوا اور کچھ سکون ہوا تو آپ ﷺ نے حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے غار میں پیش آنے والا واقعہ بیان کیااور فرمایا کہ ’’مجھے اپنی جان کا ڈر ہے۔‘‘ یہ سن کر حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے کہا کہ نہیں ، ہر گز نہیں ۔ آپ ﷺ کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ خدا کی قسم! اللہ تَعَالٰی کبھی بھی آپ ﷺ کو رسوا نہیں کرے گا۔ آپ ﷺ تو رشتہ داروں کے ساتھ بہترین سلوک کرتے ہیں ۔ دوسروں کا بار خوداٹھاتے ہیں ۔ خود کما کما کر مفلسوں اور محتاجوں کو عطا فرماتے ہیں ۔مسافروں کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق و انصاف کی خاطر سب کی مصیبتوں اور مشکلات میں کام آتے ہیں ۔
اس کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا آپ ﷺ کو اپنے چچا زاد بھائی ’’ورقہ بن نوفل‘‘ کے پاس لے گئیں ۔ ورقہ ان لوگوں میں سے تھے جو ’’موحد‘‘ تھے اور اہل مکہ کے شرک و بت پرستی سے بیزار ہو کر ’’نصرانی‘‘ ہو گئے تھے اور انجیل کا عبرانی زبان سے عربی میں ترجمہ کیا کرتے تھے۔ بہت بوڑھے اور نابینا ہو چکے تھے۔ حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے ان سے کہا کہ بھائی جان! آپ اپنے بھتیجے کی بات سنیے۔ ورقہ بن نوفل نے کہا کہ بتایئے ۔آپ نے کیا دیکھا ہے؟ حضور ﷺ نے غار حراء کا پورا واقعہ بیان فرمایا ۔یہ سن کر ورقہ بن نوفل نے کہا کہ یہ تو وہی فرشتہ ہے جس کو اللہ تَعَالٰی نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلام کے پاس بھیجا تھا۔ پھر ورقہ بن نوفل کہنے لگے کہ کاش! میں آپ ﷺ کے اعلانِ نبوت کے زمانے میں تندرست جوان ہوتا۔ کاش !میں اس وقت تک زندہ رہتا جب آپ کی قوم آپ کو مکہ سے باہر نکالے گی۔ یہ سن کر حضور ﷺ نے (تعجب سے)فرمایا کہ کیا مکہ والے مجھے مکہ سے نکال دیں گے تو ورقہ نے کہا جی ہاں !جو شخص بھی آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم کی طرح نبوت لے کر آیا لوگ اس کے ساتھ دشمنی پر کمربستہ ہو گئے۔
اس کے بعد کچھ دنوں تک وحی اترنے کا سلسلہ بند ہو گیا اور حضور ﷺ وحی کے انتظار میں مضطرب اور بے قرار رہنے لگے۔ یہاں تک کہ ایک دن حضور ﷺ کہیں گھر سے باہر تشریف لے جا رہے تھے کہ کسی نے ’’یا محمد‘‘ ﷺ کہہ کر پکارا۔ آپ ﷺ نے آسمان کی طرف سر اٹھا کر دیکھاتو یہ نظر آیا کہ وہی فرشتہ (حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلام)جو غار میں آیا تھا آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر آپ ﷺ کے قلب مبارک میں ایک خوف کی کیفیت پیدا ہو گئی اور آپ ﷺ مکان پر آکر لیٹ گئے اور گھر والوں سے فرمایا کہ مجھے کمبل اڑھاؤ۔ مجھے کمبل اڑھاؤ۔ چنانچہ آپ ﷺ کمبل اوڑھ کر لیٹے ہوئے تھے کہ ناگہاں آپ ﷺ پر سورہ ’’مدثر‘‘ کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں اور رب تعالٰی کا فرمان اتر پڑا کہ
*یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ(۱) قُمْ فَاَنْذِرْﭪ(۲) وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْﭪ(۳) وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْﭪ(۴) وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْﭪ(۵)*
(پ٢٩، المدثر : ۱)
یعنی اے بالاپوش اوڑھنے والے کھڑے ہو جاؤ پھر ڈرسناؤاوراپنے رب ہی کی بڑائی بولواوراپنے کپڑے پاک رکھواوربتوں سے دور رہو۔
ان آیات کے نزول کے بعد حضور ﷺ کو خداوند قدوس نے دعوتِ اسلام کے منصب پر مامور فرما دیا اور آپ خداوند تعالٰی کے حکم کے مطابق دعوت حق اور تبلیغ اسلام کے لئے کمر بستہ ہو گئے۔
(صحیح البخاری، کتاب بدء الوحی، باب ۳، الحدیث : ۳، ۴، ج۱، ص۷)
سیدہ رقیہ رضی اللہ عنھا کا پہلا نکاح بعثتِ نبوی سے قبل عتبہ بن ابو لہب سے ہوچکا تھا ، مگر رخصتی سے قبل سورۂ لہب نازل ہوئی جس میں اپنی دائمی ذلت و رسوائی کا بیان سُن کر ابو لہب آگ بگولا ہوگیا اور اپنے بیٹے عتبہ کو مجبور کردیا کہ وہ حضرت بی بی رقیہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دے ، بالآخر عتبہ نے انہیں طلاق دے دی ، اس کے بعد آپ رضی اللہ عنھا کا نکاح امیرُ المؤمنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوا۔
(مواہب اللدنیۃ ، 1 / 392 ، 393)