اسلامک ڈیسک کی جانب سے
آپ ﷺ تقریباً چار سال تک قبیلہ بنو سعد میں برکتیں لٹاتے رہے۔ وہاں آپ ﷺ نے اپنے رضاعی بہن بھائیوں کے ساتھ بکریاں بھی چرائیں۔ بکریاں چراگاہوں میں لے جاکر ان کی دیکھ بھال کرنا یہ تقریباً تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت ہے۔ آپ ﷺ نے اپنے عمل سے بچپن ہی میں اپنی ایک نبوت کی خصلت کا اظہار فرمادیا۔
قبیلہ بنو سعد میں نبی پاک ﷺ کا پہلا شق صدر ہوا چنانچہ
حضرت سیّدُنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : رسولُ اللہ ﷺ بچّوں کے ساتھ موجود تھے کہ جبریلِ امین علیہ السّلام آئے ، آپ ﷺ کو پکڑ کر لٹایا ، سینہ چیر کر اس میں سے دل نکالا اور دل میں سے جما ہوا خون (خون کا لوتھڑا) نکال کر کہا : *هٰذَا حَظُّ الشَّيْطَانِ مِنْكَ* آپ کے اندر یہ شیطان کا حصہ تھا(1)۔ اس کے بعد جبریلِ امین علیہ السّلام نے مبارک دل کو سونے کے طَشْت میں آبِ زم زم سے دھویا اور سی کر دوبارہ اس کی جگہ رکھ دیا۔ (یہ منظر دیکھ کر) بچّے دوڑ کر حُضور ﷺ کی رضاعی والدہ (حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا ) کے پاس پہنچے اور کہا : محمد ﷺ کو قتل کردیا گیا ہے۔ یہ سُن کر لوگ جلدی جلدی آپ ﷺ کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ (مبارک چہرے کا) رنگ بدلا ہوا تھا۔ حضرت سیّدُنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں مبارک سینے پر اس سلائی کے نشان دیکھا کرتا تھا۔
(مسلم ، ص88 ، حدیث : 413)
اس سے گھبرا کر حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کو بی بی آمنہ رضی اللہ عنہا کے پاس لائیں اور ان کے سپرد کر دیا۔ اس کے بعد آپ ﷺ اپنی والدہ پاک کی گود میں پرورش پانے لگے۔
(آخری نبی کی پیاری سیرت ص23.2)
(1) یعنی اگر آپ ﷺ کی ذاتِ مقدسہ میں شیطان کا کوئی حصہ ہوتا تو یہی خون کا لوتھڑا ہوسکتا تھا ، مگر جب یہ بھی نہ رہا تو اب ممکن ہی نہیں کہ ذاتِ مُقَدَّسہ سے شیطان کا کوئی تعلق کسی طرح سے ہوسکے۔
(نسیم الریاض ، 3 / 38 مفہوماً ، مقالاتِ کاظمی ، 1 / 159)
شق صدر کا مطلب ہے سینے کو چیرنا۔ فرشتوں نے اللہ کے آخری نبی ﷺ کے سینہ مبارکہ کوچیر کر دل نکال کر اسے دھویا۔ اس عمل کو شق صدر کہتے ہیں۔ یہ عمل آپ ﷺ کی زندگی میں چار مرتبہ ہوا۔ پہلی دفعہ چار سال کی عمر میں، دوسری بار دس برس، تیسری دفعہ 40 سال کی عمر میں اور آخری بار معراج پر جانے سے پہلے۔ مشہور ہے کہ یہی بنو سعد کی وہ وادی ہے جہاں شق صدر ہوا تھا۔
(آخری نبی کی پیاری سیرت ص23)