اسلامک ڈیسک کی جانب سے
حضرت حلیمہ رضی اللہ عنھا اور ان کا خاندان قدم قدم پر اللہ کے آخری نبی ﷺ کی برکتوں کو دیکھتا رہا، ان سے خوب فیض پاتا رہا اور اپنا مقدر سنوارتا رہا۔ دیکھتے ہی دیکھتے دو سال مکمل ہوگئے، حضرت حلیمہ نے آپ ﷺ کا دودھ چھڑا دیا اور معاہدے کے مطابق آپ ﷺ کو آپ ﷺ کی والدہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنھا کے پاس لے گئیں، انہوں نے حسب توفیق حضرت حلیمہ کو انعام و اکرام سے نوازا۔ آپ ﷺ کی برکتیں دیکھ کر حضرت حلیمہ کا دل مچلتا کہ آپ ﷺ مزید ان کے پاس ان کے قبیلے میں رہیں، عجب اتفاق کہ انہی ایام میں مکہ شریف میں ایک وبائی مرض پھیلا ہوا تھا۔ حضرت حلیمہ نے وبائی بیماری سے بچانے کیلئے حضرت آمنہ کو اس بات پر راضی کر لیا کہ وہ حضورﷺ کو مزید کچھ مدت کیلئے ان کے قبیلے بھیج دیں۔ یوں حضرت حلیمہ کی دلی مراد پوری ہوئی (یعنی مقصد پورا ہوا) اور ایک بار پھر بی بی آمنہ کے چاند سے ان کا آنگن روشن ہو گیا اور اللہ کے آخری نبی علیہ السلام کے برکت والے وجود کی بدولت ان کا مکان دوبارہ سے رحمتوں اور برکتوں کی کان بن گیا۔
(آخری نبی کی پیاری سیرت ص23)