logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

بیعت عقبہ ثانی

بیعت عقبہ ثانی

نوٹ: اس سال جون میں بیعت عقبہ ثانی ہوئ

اس کے ایک سال بعد ۱۳ نبوی میں حج کے موقع پر مدینہ کے تقریبا بہتر (۷۲) اشخاص نے مِنٰی کی اس گھاٹی میں اپنے بت پرست ساتھیوں سے چھپ کر حضور ﷺ کے دست حق پرست پر بیعت کی، اور یہ عہد کیا کہ ہم لوگ آپ ﷺ کی اور اسلام کی حفاظت کے لئے اپنی جان قربان کر دیں گے۔ اس موقع پر حضور ﷺ کے چچا حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ بھی موجود تھے، جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے ، انہوں نے مدینہ والوں سے کہا کہ دیکھو محمد ﷺ اپنے خاندان بنی ہاشم میں ہر طرح محترم اور باعزت ہیں ہم لوگوں نے دشمنوں کے مقابلہ میں ڈٹ کر

ہمیشہ ان کی حفاظت کی ہے اب تم لوگ ان کو اپنے وطن میں لے جانے کے خواہشمند ہو، تو سن لو اگر مرتے دم تک تم لوگ ان کا ساتھ دے سکو تو بہتر ہے ورنہ ابھی سے کنارہ کش ہو جاؤ ۔ یہ سن کر حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ طیش میں آکر کہنے لگے : " ہم لوگ تلواروں کی گود میں پلے ہیں" ۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ اتنا ہی کہنے پائے تھے کہ حضرت ابو الہیثم رضی اللہ تعالی عنہ نے بات کاٹتے ہوئے یہ کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! ہم لوگوں کے یہودیوں سے پرانے تعلقات ہیں اب ظاہر ہے کہ ہمارے مسلمان ہو جانے کے بعد یہ تعلقات ٹوٹ جائیں گے، کہیں ایسا نہ ہو کہ جب اللہ تعالی آپ کو غلبہ عطا فرمائے تو آپﷺ ہم لوگوں کو چھوڑ کر اپنے وطن مکہ چلے جائیں یہ سن کر حضور ﷺ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ تم لوگ اطمینان رکھو، کہ تمہارا خون میرا خون ہے، اور یقین رکھو میرا جینا مرنا تمہارے ساتھ ہے میں تمہارا ہوں اور تم میرے ہو، تمہارا دشمن میرا دشمن اور تمہارا دوست میرا دوست ہے۔

(سیرت مصطفی ص 116،سیرت ابن ہشام مع روض الانف، مترجم )

سیرت کا حصہ:
1/4
ہجرت مدینہ

مدینہ شریف میں اتنے لوگوں کے اسلام قبول کرنے سے گویا مسلمانوں کو ایک پناہ گاہ مل گئی۔ آپ ﷺ نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کو عام اجازت دے دی کہ وہ ہجرت کر کے مدینہ چلے جائیں ۔ چنانچہ سب سے پہلے حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے ہجرت کی۔ ان کے بعد دوسرے لوگ بھی مدینہ روانہ ہونے لگے۔ جب کفار کو پتہ چلا تو انہوں نے ہجرت کرنے والوں کو روکنے کی کوششیں شروع کر دیں مگر چھپ چھپ کر لوگوں نے ہجرت کا سلسلہ جاری رکھا یہاں تک کہ تھوڑے ہی عرصے میں بہت سے صحابہ کرام علیھم الرضوان مدینہ شریف ہجرت کر گئے۔ اب مکہ شریف میں صرف وہ لوگ رہ گئے جو یا تو کافروں کی قید میں تھے یا پھر غربت کی وجہ سے ہجرت نہیں کر سکتے تھے۔ اللہ کے آخری نبی ﷺ کی طرف سے ہجرت کا حکم نہیں ہوا تھا تو آپ ﷺ مکہ میں ہی رہے۔ آپ ﷺ کے حکم سے حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت علی رضی اللہ عنھما بھی ابھی تک مکہ شریف میں رکے ہوئے تھے۔


(1)المواہب اللدنية المقصد الاول، ذکر حجرته، 143/1



سیرت کا حصہ:
2/4
کافروں کا اجتماع

قریش کے کافر اس تمام صورتحال سے بڑے پریشان ہوئے، یہ دیکھ کر کہ مدینہ کے لوگ اسلام لا چکے ہیں اور بڑھتے جارہے ہیں جبکہ مکہ کے لوگ بھی وہاں ہجرت کر رہے ہیں ، ایسا نہ ہو کہ حضور علیہ السلام بھی مدینہ چلے جائیں اور وہاں سے اپنے حامیوں کی فوج لے کر مکہ پر چڑھائی کر دیں۔ یہ خطرہ محسوس کر کے کفار مکہ کے بڑے بڑے سرداروں نے "دار الندوہ" میں ایک مشورہ کیا۔ کفار کے تمام بڑے بڑے دانشور اس اجتماع میں شریک تھے۔ مختلف تجاویز دی گئیں جن میں سے ابو جہل کی دی گئی تجویز پر سب کا اتفاق ہوا۔ اس کا مشورہ یہ تھا ہر قبیلے سے ایک ایک جوان کو تلوار دی جائے وہ سب ایک ساتھ آپ پر حملہ کر کے معاذ اللہ آپ ﷺ کو شہید کر دیں۔ تمام قبائل کے لوگ اس میں شریک ہوں گے تو بنو ہاشم کسی سے بھی جنگ نہ کر سکیں گے اور خون بہا لینے پر راضی ہو جائیں گے۔ سب نے اس بات پر اتفاق کیا اور ان کی مجلس ختم ہو گئی۔ حضرت جبریل امین علیہ السلام اللہ کریم کا حکم لے کر نازل ہو گئے اور اس واقعے کی خبر دی اور کہا کہ آج رات آپ ﷺ اپنے بستر پر نہ سوئیں اور ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے جائیں۔

(المواهب اللدنية، المقصد الاول ، ذکر ہجرتہ ،

1 / 144 ملخصا)


سیرت کا حصہ:
3/4
ہجرت مصطفى ﷺ

کافروں نے رات کے وقت اپنے طے شدہ منصوبے کے مطابق آپ ﷺ کے مکان عالیشان کو گھیر لیا اور انتظار کرنے لگے کہ آپ ﷺ سو جائیں تو وہ حملہ آور ہوں۔ اس وقت صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ وہاں موجود تھے۔ کافر اگرچہ آپ صلیﷺ کے دشمن تھے مگر انہیں آپ ﷺ کی امانت و دیانت پر پورا بھروسہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اپنی امانتیں آپ ﷺ کے پاس رکھواتے تھے۔ اس وقت بھی کئی امانتیں آپ کے مکانِ عالیشان میں موجود تھیں۔ اللہ کے آخری نبی ﷺ نے حضرت علی سے فرمایا: تم میری چادر اوڑھ کر میرے بستر پر سو جاؤ! میرے چلے جانے کے بعد یہ تمام امانتیں ان کے مالکوں کو سونپ کر تم بھی مدینہ چلے آنا۔ آپ ﷺ نے خاک کی ایک مٹھی لی اور اس پر سورہ یسن شریف کی ابتدائی کچھ آیات تلاوت فرما کر وہ خاک کفار کی طرف پھینک دی اور اس مجمع میں سے صاف نکل گئے، کسی نے بھی آپ کو نہ پہچانا۔ پھر آپ ﷺ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ غار ثور پہنچے اور تین دن اور تین راتیں وہاں قیام فرمایا, اس کے بعد آپ ﷺ مدینہ شریف تشریف لے گئے۔


(1)المواهب اللدنية، المقصد الاول ، ذکر ہجرتہ ،1 / 144 ملخصا۔

(2)بخاری ، کتاب مناقب الانصار ، باب حجرة النبی ۔۔۔ الخ ، 2 / 593 ، حدیث : 3905 ملتقطا۔

سیرت کا حصہ:
4/4
بیعت عقبہ ثانی | Seerah Timeline - Seerat Ki Dunya