اسلامک ڈیسک کی جانب سے
یہ حضور اکرمﷺکی اولاد مبارکہ میں سب سے آخری فرزند ہیں۔ یہ ذوالحجہ 8ھ میں مدینہ منورہ کے قریب مقام "" عالیہ "" کے اندر حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شکم مبارک سے پیدا ہوئے۔
(سیرت مصطفی ص688)
حدیبیہ میں ہونے والی صلح کے مطابق مسلمانوں اور کفار قریش کے درمیان 10 سال تک جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا۔ اس معاہدہ کی رو سے قبیلہ بنو بکر نے قریش سے اتحاد کر لیا اور بنو خزاعہ مسلمانوں سے مل گئے۔ ان دونوں قبیلوں کے درمیان کافی عرصے سے دشمنی تھی۔ ایک دفعہ بنو بکر نے قریش کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے اتحادی قبیلے بنو خزاعہ پر حملہ کر دیا۔ بنو خزاعہ کے لوگ بچنے کیلئے حرم کعبہ میں داخل ہوئے تو انہوں نے وہاں بھی انہیں نہ چھوڑا۔ اس حملے میں بنو خزاعہ کے 23 لوگ قتل ہوئے۔ بنو خزاعہ نے رسول خدا ﷺسے مدد کی درخواست کی۔
(شرح الزرقاني على المواهب، غزوة فتح الا عظم، 276/3-380 ملخصا)
آپﷺنے قریش کی طرف پیغام بھیجا کہ تین میں سے کوئی بات مان لو۔
1. مقتولوں کی دیت ادا کرو!
2.یا پھر بنو بکر سے اتحاد ختم کر دو !
3. یا پھر یہ اعلان کر دو کہ حدیبیہ کا معاہدہ ختم ہو گیا۔
یہ شرائط سن کر قریش کے نمائندے نے معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ اللہ کے آخری نبیﷺکے قاصد کے واپس جاتے ہی قریش کو احساس ہو گیا کہ ان سے بڑی غلطی ہو گئی ہے۔ انہوں نے فوراً ابو سفیان کو پہلے کی طرح نیا معاہدہ کرنے مدینہ شریف روانہ کر دیا۔ مگر ان کی نہ سنی گئی۔ مایوس ہو کر ابو سفیان نے مسجد نبوی میں کھڑے ہو کر اپنی طرف سے معاہدہ کی تجدید کا اعلان کیا مگر کسی نے بھی جواب نہ دیا۔ انہوں نے مکہ جاکر ساری صورت حال سرداران قریش کے سامنے رکھ دی۔ انہوں نے پوچھا: تمہارے اعلان کرنے کے بعد انہوں نے کوئی جواب دیا ؟ ابو سفیان نے کہا: نہیں۔ تو کفار قریش کہنے لگے: یہ تو کچھ بھی نہ ہوا، نہ تو یہ صلح ہے کہ ہمیں اطمینان ہو، نہ یہ اعلان جنگ ہے کہ ہم تیاری کریں۔ اس دوران اللہ کے آخری نبیﷺنے بڑی رازداری اور خاموشی سے جنگ کی تیاری فرمائی، مقصد یہ تھا کہ اہلِ مکہ کو خبر نہ ہونے پائے اور بے خبری میں ان پر حملہ کیا جائے۔
(شرح الزرقاني على المواهب، غزوة فتح الاعظم، 384/3-386 لملتقط و الحضا)
فتح مکہ سے اسلام کا حق ہونا پورے عرب پر ظاہر ہو گیا۔ یوں کئی قبائل اسلام قبول کرنے لگے۔ مگر اس خبر کے بعد قبیلہ ہوازن کے لوگ دیگر چند چھوٹے قبائل کے ساتھ مل کر مسلمانوں پر حملے کی نیت سے نکل پڑے۔ اللہ کے آخری نبیﷺکو جب خبر ملی تو آپﷺ 12 ہزار فوج لے کر روانہ ہوئے۔ مکہ اور طائف کے درمیان میں ”حنین نامی جگہ پر اسلامی لشکر کا کافروں سے سامنہ ہوا۔ شروع میں مسلمانوں نے خوب ہاتھ دکھائے اور ایسا حملہ کیا کہ کافروں کی فوج میدان چھوڑ کر بھاگنے لگی۔ مگر ان کی وہ فوج جو گھات لگائے ہوئے تھی اس نے جب حملہ کیا تو اسلامی لشکر میں افراتفری مچ گئی۔ بالآخر مسلمان غالب ہوئے۔ اس غزوہ میں ہزاروں قیدی اور ڈھیروں ڈھیر مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔
نوٹ: حنین ایک وادی ہے، جو مکہ شریف سے تقریبا 29 اور مدینہ شریف سے 462 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
شرح الزرقانی علی المواہب، باب غزوة حنين 496/3-31 5 امتطاء ملخصا.
اس کے بعد اللہ کے آخری نبیﷺطائف کی طرف روانہ ہوئے، طائف کے قلعے کا محاصرہ کیا، محاصرہ دو ہفتے سے زائد جاری رہا مگر خاطر خواہ فائدہ نہ ہوا توآپﷺنے محاصرہ ختم کرنے کا حکم دیا اور دعا فرمائی کہ اے اللہ!تو ثقیف یعنی طائف والوں کو ہدایت عطا فرما۔ دعائے نبی کی برکت سے 9 ہجری میں طائف کے لوگ مسلمان ہو گئے اور ان کی درخواست پر تمام قیدیوں کو چھوڑ دیا گیا۔ طائف سے واپسی پر غزوہ حنین کے مالِ غنیمت کو آپﷺنے مسلمانوں میں تقسیم فرمایا۔ آپﷺنے دو ہفتوں سے زائد مکہ شریف میں قیام فرمایا اور اس کے بعد واپس مدینہ شریف تشریف لے گئے۔
شرح الزرقانی علی المواہب، نبذة من قسم الغنائم ۔۔۔ الخ 6/4-19 ملتقطا و ملخصا۔
’موتہ‘‘ ملک شام میں ایک مقام کا نام ہے۔ یہاں ۸ھ میں کفرواسلام کا وہ عظیم الشان معرکہ ہوا جس میں ایک لاکھ لشکر کفار سے صرف تین ہزار جاں نثار مسلمانوں نے اپنی جان پر کھیل کر ایسی معرکہ آرائی کی کہ یہ لڑائی تاریخ اسلام میں ایک تاریخی یادگار بن کر قیامت تک باقی رہے گی اور اس جنگ میں صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کی بڑی بڑی اولوالعزم ہستیاں شرف شہادت سے سرفراز ہوئیں۔
(المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی، باب غزوۃ موتۃ، ج۳، ص۳۳۹۔۳۴۱، ۳۴۴)
اللہ کے آخری نبیﷺہجرت کے آٹھویں (8th) سال رمضان المبارک کی 10 تاریخ کو کم و بیش دس ہزار کا لشکر لے کر مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ بعض قبائل راستے میں ساتھ ہوئے تو لشکر کی تعداد بارہ ہزار تک پہنچ گئی(1)۔ مکہ میں داخلے سے پہلے رسول اکرم ﷺنے فوج کو دو حصوں میں تقسیم فرمایا۔ ایک حصے میں آپ خود موجود تھے جبکہ دوسرا حصہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں دے کر اسے دوسرے راستے سے مکہ میں داخلے کا حکم فرمایا (2)۔ مکہ شریف کی زمین پر پہنچتے ہی آپﷺنے جو پہلا فرمان جاری فرمایا وہ یہ تھا:
•جو شخص ہتھیار ڈال دے گا اس کیلئے امان ہے۔ •جو اپنا دروازہ بند کر لے اس کیلئے امان ہے۔
• جو کعبہ میں داخل ہو جائے اس کیلئے امان ہے۔ •جو ابو سفیان کے گھر داخل ہو جائے اسے امان ہے (3)۔
(1)شرح الزرقانی علی المواہب ، غزوة فتح الاعظم، 395/3
(2)بخاری، کتاب المغازی، باب این مرکز النبی، 102/3 ، حدیث : 4280
(3) شرح الزرقانی علی المواہب، غزوة فتح الا عظم ، 417/3-422 ملخصا۔
آپﷺکے اس اعلان رحمت نشان سے ہر طرف امن و امان کی فضا پیدا ہو گئی۔ خون کا ایک قطرہ بھی بہنے کا امکان نہ رہا۔ لیکن قریش کے بعض افراد نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے لشکر پر حملہ کر دیا جس سےتین مسلمان شہید ہوئے اور کم و بیش 12 کافر بھی قتل ہوئے۔ آپﷺنے جب دیکھا کہ تلواریں چل رہی ہیں اور تیر پھینکے جارہے ہیں تو اس بارےمیں پوچھا کہ جنگ سے منع کرنے کے باوجود تلواریں کیوں چل رہی ہیں تو عرض کی گئی: پہل کفار کی طرف سے ہوئی ہے۔ آپﷺنے فرمایا: رب کی تقدیر یہی ہے ، خدا نے جو چاہا وہی بہتر ہے(1)۔ اللہ کے آخری نبیﷺفاتح مکہ بن گئے مگر آپﷺکی عاجزی کا یہ عالم تھا کہ سورہ فتح کی آیات تلاوت فرماتے اس طرح سر مبارک جھکا کر اونٹنی پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپﷺکا سر اونٹنی کے پالان سے لگتا تھا(2)۔ آپﷺنے اونٹنی کوبٹھایا، طواف کیا اور حجر اسود کو بوسہ دیا۔ پھرحکم دیا کہ بیت اللہ شریف سے تمام بت نکال دیئےجائیں۔ جب تمام بتوں سے کعبہ پاک ہو گیا توآپﷺاندر تشریف لے گئے اور بیت اللہ کے تمام گوشوں میں تکبیر پڑھی اور دو رکعت نماز ادا فرمائی(3)۔
(1)شرح الزرقاني على المواهب، غزوة فتح الا عظم ، 416/3-417 ملخصا ۔
(2)شرح الزرقانی علی المواہب، غزوة فتح الاعظم ، 434/3
(3)بخاری ، کتاب المغازی، باب این رکز النبی، 102/3، حدیث: 4288 ملخصا.
اس کے بعد آپ ﷺ نےحرم کعبہ میں دربار عام لگایا، جس میں افواج اسلام کے ساتھ ہزاروں کا فر بھی موجود تھے۔ ان کافروں میں وہ لوگ بھی تھے جنہوں نے آپ ﷺ پر اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام علیہم الرضوان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے، راہ میں کانٹے بچھائے، جسم اطہر پر نجاستیں ڈالیں، قاتلانہ حملے کئے، آپ کے صحابہ کو شہید کیا، مکہ چھوڑنے پر مجبور کیا،
آپ ﷺ پربہتان لگائے اور گالیاں دیں، الغرض!وہ کونسا ظلم تھا جو انہوں نے نہ کیا ہو۔ آج وہ سب کے سب مجرموں کی حیثیت سے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سامنے تھے۔ آپﷺچاہتے تو ان سے زبر دست انتقام لیتے مگر اللہ کے آخری نبیﷺ نے کوئی انتقامی کاروائی نہ فرمائی، اپنے کریمانہ لہجے میں ارشاد فرمایا:
*لَا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ فَاذْهَبُوا أَنْتُمُ الطلقاء*
آج تم پر کوئی الزام نہیں ہے، جاؤ ! تم سب آزاد ہو (1)۔
طرح طرح کی ایذائیں دینے والے دشمنوں پر فتح پا کر ایسا حسنِ سلوک کرنا اس کی مثال نہیں ملتی۔ فتح مکہ کے دوسرے دن بھی آپ ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا جس میں حرم کعبہ کے احکامات بیان فرمائے اور قیامت تک کیلئے حرم میں جنگ اور لڑائی کو حرام فرمایا۔ اس موقع پر آپ ﷺ کے حسن سلوک کی وجہ سے لوگوں کی ایک بڑی جماعت نے اسلام قبول کیا۔ آپ ﷺ نے مکہ کے اطراف میں موجود دوسرے بت بھی ختم کروا دیئے(2)۔
(1)شرح الزرقانی علی المواہب، غزوة فتح الا عظم ، 449/3 ملخصا ۔
(2)شرح الزرقانی علی المواہب بدم العزى دسوان ومناة، 487/3-490 ملتقطا۔