اسلامک ڈیسک کی جانب سے
غزوۂ مُرَیسِیع (یعنی غزوۂ بنی مصطلق) کے بعد جب سیدہ جویریہ دیگر قیدیوں کے ساتھ مسلمانوں کی قید میں آئیں تو رسولِ کریمﷺ نے انہیں بدلِ کتابت اداکرنے اور نکاح کرنے کی پیشکش فرمائی، آپ رضی اللہ عنہا نے بخوشی قبول کرلیا اور رسولِ کریمﷺ کے نکاح میں آگئیں۔
(فیضان امہاتُ المؤمنین، ص236 ملخصاً)
نوٹ: بدل کتابت
بدلِ کتابت اُس مال کو کہتے ہیں جس کی ادائیگی کے عوض غلام یالونڈی نے اپنے مالک سے اپنی آزادی کامعاہدہ کیا ہو۔(حاشیہ بہار شریعت،ج2 ،ص212)
سن 5 ہجری میں غزوہ خندق کا واقعہ پیش آیا۔ اللہ کے آخری نبیﷺ نے بنو نضیر کے یہودیوں کو معاہدوں کی خلاف ورزی کی بنا پر مدینہ پاک سے نکال دیا تھا۔ ان میں سے کچھ خیبر جا کر آباد ہو گئے تھے۔ وہاں جا کر خیبر کے یہودیوں کو ساتھ ملا کر انہوں نے عرب کے مشرکین کو آپﷺ کے خلاف جنگ پر ابھارا اور ہر طرح کی امداد کا یقین دلایا۔ تمام کفار عرب نے اتحاد کر کے مسلمانوں سے جنگ لڑنے کا ارادہ کر لیا اسی وجہ سے اسے غزوہ احزاب ( تمام جماعتوں کی جنگ ) بھی کہتے ہیں۔ دشمن کی تعداد 10 ہزار تھی، اس لیے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے یہ مشورہ دیا کہ مناسب یہ ہے کہ شہر کے اندر رہ کر دفاع کیا جائے۔ جس طرف سے کافروں کے حملے کا خطرہ ہے اس طرف ایک خندق کھود لی جائے۔ مدینہ کے تین طرف چونکہ مکانات کی تنگ گلیاں اور کھجوروں کے جھنڈ تھے اس لئے ان تینوں جانب سے حملہ کا امکان نہیں تھا۔ صرف ایک طرف کا علاقہ تھا جو کھلا ہوا تھا لہذا یہ طے ہوا کہ اسی طرف گہری خندق کھودی جائے۔ چنانچہ 8 ذو القعده ، 5 ہجری کو اللہ کے آخری نبی ﷺ تین ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر خندق کھودنے میں مصروف ہو گئے۔ آپﷺ نے خود اپنے مبارک ہاتھوں سے خندق کی حد بندی فرمائی اور دس دس آدمیوں پر دس دس گز زمین تقسیم فرمادی۔ تقریباً بیس دن میں دن میں یہ خندق تیار ہو گئی ۔ خندق 300 میٹر لمبی اور 9 میٹر چوڑی تھی جبکہ خندق کی گہرائی 5 میٹر تھی ۔
اس زمانے میں خندق کا جنگ میں استعمال اہل عرب کے لئے ایک نیا تجربہ ثابت ہوا اور اس غزوہ میں کامیابی کے اسباب میں سے ایک سبب یہ خندق بنی۔ کافروں کا لشکر جب آگے بڑھا تو سامنے خندق دیکھ کر کافر حیران رہ گئے۔ انہوں نے مدینہ شریف کا محاصرہ کر لیا اور تقریباً ایک مہینے تک گھیر اڈالے رہے۔ یہ محاصرہ اس سختی کے ساتھ قائم رہا کہ اللہ کے آخری نبیﷺ اور صحابہ کرام علیہم الرضوان نے کئی کئی فاقے کئے۔ چند کافروں نے ایک جگہ سے خندق پار کر لی مگر جب ان کے بڑے بڑے لڑا کے قتل کر دیئے گئے تو باقی واپس بھاگ گئے۔ اس جنگ میں مسلمانوں میں سے چھ افراد نے جام شہادت نوش کیا۔ ابو سفیان جو اس وقت کافروں کے لشکر کے سالار تھے ، شدید سردی، طویل محاصرے اور فوج کے راشن کے ختم ہو جانے سے تنگ آگئے۔ ایسے میں اللہ پاک نے ان پر ایسی آندھی مسلط فرمادی جن سے کافروں کے لشکر کی دیگیں الٹ پلٹ ہو گئیں، خیمے اکھڑ گئے۔ الغرض ! ایسی صور تحال پیش آئی کہ کافروں کے پاس سوائے بھاگنے کے اور کوئی راستہ نہ بچا۔
(آخری نبی کی پیاری سیرت ص88.89)
شهر مدینہ سے کافی دور قبیلہ خزاعہ کا ایک خاندان بنو مصطلق آباد تھا۔ ماہِ شعبان سن 5 ہجری میں اس قبیلے کے سردار نے مدینہ شریف پر چڑھائی کا ارادہ کیا تو آپﷺ لشکر لے کر اس کے مقابلے کیلئے نکلے ۔ جب ان لوگوں کو آپﷺ کی آمد کی خبر ہوئی تو ان کا سردار ڈر کر بھاگ گیا، قبیلہ کے دوسرے لوگوں نے مقابلہ کرنے کی کوشش کی مگر جب مسلمانوں نے ایک ساتھ مل کر حملہ کیا تو دس کافرمارے گئے۔ ایک مسلمان نے جام شہادت نوش کیا۔ جبکہ کثیر مال غنیمت ہاتھ آیا۔ اس غزوہ میں قیدیوں کے ساتھ ام المومنین جویریہ بنت حارث بھی تھیں جنہیں حضور اکرمﷺنے اپنی زوجیت میں قبول فرمایا اور مسلمانوں نے اس خوشی میں تمام قیدیوں کو رہا کر دیا۔
اسی غزوہ سے جب آپﷺواپس آنے لگے تو ایک مقام پر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کسی سبب پیچھے رہ گئیں۔ بعد میں اللہ کے آخری نبیﷺسے آکر مل گئیں۔ اس کو بنیاد بنا کر منافقین نے معاذ اللہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگائے اور اللہ پاک نے خود قرآن کریم کی سورہ نور کی آیت نمبر 11 تا 20 میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی پاکی بیان کی اور منافقین کے بہتانوں کو جھوٹ قرار دیا۔
(آخری نبی کی پیاری سیرت ص86.87)
ابن عبدالبر و ابن سعد و ابن حبان وغیرہ محدثین و علماء سیرت رحمھم اللہ کا قول ہے کہ تیمم کی آیت اسی غزوہ مریسیع ( غزوۂ بنو مصطلق) میں نازل ہوئی مگر روضۃ الاحباب میں لکھا ہے کہ آیت تیمم کسی دوسرے غزوہ میں اتری ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(مدارج النبوۃ ج ۲ ص۱۵۷)
غزوہ خندق کے دوران ہی بنو قریظہ نے معاہدہ توڑ کر کافروں کا ساتھ دیا۔ اس کی سزا دینے کیلئے آپ ﷺ غزوۂ خندق کے فوراً بعد بنو قریظہ کی طرف لشکر لے کر روانہ ہوئے۔ 25 دن کے محاصرے کے بعد انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے اور کہا کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ان کے بارے میں جو فیصلہ کریں گے وہ یہ تسلیم کریں گے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے فیصلےکے مطابق ان کے لڑنے والوں کو قتل کر دیا گیا ، خواتین اور بچوں کو قیدی بنالیا گیا اور ان کے اموال کو مجاہدین میں تقسیم کر دیا گیا۔ یاد رہے کہ بنو قریظہ نے خود ہی حضرت سعد بن معاذ کو بطور ثالث منتخب کیا تھا اور پھر ان کے فیصلے پر عملد رآمد ہوا، جبکہ حضرت سعد کا فیصلہ بنو قریظہ کی مذہبی تعلیمات کی روشنی میں تھا۔
(آخری نبی کی پیاری سیرت ص89.90)