logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

غزوہ خیبر،

غزوہ خیبر

محرم الحرام کے مہینے میں غزوہ خیبر کا معرکہ ہوا۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ سات ہجری کا واقعہ ہے۔ "خیبر" عرب میں یہودیوں کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ یہاں کے یہودی بڑے دولت مند ، مالدار اور جنگوں کے ماہر تھے۔ انہوں نے یہاں بہت سے مضبوط قلعے بنا رکھے تھے، جن میں سے آٹھ قلعے بڑے مشہور ہیں۔ ان آٹھ قلعوں کے مجموعے کو "خیبر" کہا جاتا ہے۔

(شرح الزرقانی علی المواہب ، باب غزوة خيبر ، 243/3 ملحقطا)

جنگ خندق میں جن کافروں نے مدینہ شریف پر حملہ کیا تھا ان میں خیبر کے یہودی سب سے آگے تھے۔ یہی اس جنگ کو بھڑ کانے والے اور اس جنگ کی بنیاد رکھنے والے تھے۔ انہوں نے ہی مکہ کے کافروں کو مدینہ شریف پر چڑھائی کرنے پر ابھارا تھا اور ان کی مالی امداد کی تھی۔ غزوۂ خندق میں ہونے والی رسوائی نے انہیں مزید غم و غصے میں مبتلا کر دیا۔ انہوں نے دوسرے قبائل کو ساتھ ملا کر پھر سے مدینہ شریف پر حملہ کی سازشیں شروع کر دیں۔ اللہ کے آخری نبیﷺکو جب ان کی سازشوں کا علم ہوا تو سولہ سو صحابہ کرام علیہم الضوان کے لشکر کے ساتھ خیبر روانہ ہوئے۔ رات کے وقت آپﷺخیبر کی حدود میں داخل ہوئے، آپﷺکی عادت مبارکہ تھی کہ رات کے وقت کسی بھی قوم پر حملہ نہیں فرماتے تھے ، نمازِ فجر کے بعد شہر میں داخل ہوئے۔ یہودیوں نے قلعوں میں رہ کر جنگ لڑنے کا منصوبہ بنایا۔ آہستہ آہستہ تمام قلعے فتح ہو گئے۔ خیبر کا سب سے بڑا اور مضبوط قلعہ "قموص" تھا جسے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فتح فرمایا۔ خیبر میں ہونے والے معرکوں میں 93 یہودی قتل ہوئے جبکہ 15 صحابہ کرام علیہم الرضوان شہید ہوئے۔

(شرح الزرقانی علی المواهب، باب غزوة خيبر ، 352/3-353 لملتقطاً)

فتح کے بعد یہودیوں نے درخواست کی کہ انہیں خیبر سے نہ نکالا جائے اور زمین بھی ان کے قبضے میں رہنے دی جائے، یہاں کی پیداوار کا آدھا حصہ ان سے لے لیا جائے۔ اللہ کے آخری نبیﷺنے ان کی درخواست منظور فرمائی۔ جب غلہ تیار ہو گیا تو آپﷺنے حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو اس کی تقسیم کیلئے بھیجا۔ انہوں نے غلہ کو دو حصوں میں برابر برابر تقسیم کیا اور یہود سے کہا جو حصہ چاہو لے لو۔ اس تقسیم پر وہ حیران ہو کر کہنے لگے : زمین و آسمان اسی عدل کی وجہ سے قائم ہیں۔

( فتوح البلدان، ص 33-35 لملتقطاً)

خیبر کی فتح کے ساتھ دیگر کئی علاقے بھی فتح ہوئے، بعض مقامات پر جنگ ہوئی اور بعض علاقے بغیر جنگوں کے فتح ہوئے۔

( شرح الزرقاني على المواهب، باب غزوة خيبر ، 303/3 ملخصاً)


نوٹ:خیبر (Khaybar) مدینہ شریف سے شمال کی جانب تبوک (Tabuk) جانے والے راستے پر واقع ہے، مدینہ شریف سے اس کا فاصلہ تقریباً 153 کلو میٹر ہے۔ یہاں کی زمین زرخیز اور علاقہ عمدہ کھجوروں کی پیداوار کیلئے مشہور تھا۔ یہاں اتنی کثرت سے باغات تھے کہ شہر نظر نہیں آتا تھا۔ اب نیا شہر قدیم علاقے سے ہٹ کر واقع ہے۔

(آخری نبی کی پیاری سیرت ص97)

سیرت کا حصہ:
1/5
عمرة القضا کی ادائیگی
حدیبیہ کے مقام پر جو صلح ہوئی تھی اس میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ مسلمان اگلے سال آکر عمرہ کریں گے اور تین دن تک مکہ شریف میں ٹھہریں گے۔ ایک سال مکمل ہونے پر ماہِ ذوالقعدہ سن 7 ہجری میں اللہ کے آخری نبی ﷺنے اعلان کر دیا کہ جو لوگ پچھلے سال حدیبیہ میں شریک تھے وہ سب چلیں۔ شہید ہونے والوں کے سوا باقی تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان نے یہ سعادت حاصل کی۔ آپﷺ2 ہزار مسلمانوں کے ساتھ مکہ شریف روانہ ہوئے, 60 اونٹ بھی قربانی کیلئے ساتھ تھے۔
( شرح الزرقاني على المواهب، باب غزوة خيبر، 314/3)
جب اللہ کے آخری نبیﷺحرم مکہ میں داخل ہوئے تو بعض کفار قریب کے پہاڑوں پر چڑھے یہ منظر دیکھ رہے تھے ، آپس میں کہنے لگے : یہ بھلا کیسے طواف کریں گے ان کو تو بھوک اور بخار نے کمزور کر دیا ہے۔ آپﷺنے حرم مکہ میں پہنچ کر چادر کو اس طرح اوڑھ لیا کہ آپﷺکا داہنا کندھا اور بازو کھل گیا (اس کو اضطباع کہتے ہیں) ۔
اور آپﷺنے فرمایا: خدا اس پر اپنی رحمت نازل فرمائے جو ان کفار کے سامنے اپنی قوت کا اظہار کرے۔ پھر آپﷺنے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ساتھ شروع کے تین پھیروں میں کندھوں کو ہلا ہلا کر اور خوب اکڑتے ہوئے چل کر طواف کیا (اس کو عربی زبان میں رمل “ کہتے ہیں).
یہ سنت آج بھی باقی ہے ، ہر طواف کرنے والا شروع کے تین پھیروں میں اس پر عمل کرتا ہے۔ پھر آپﷺنے صفا مروہ کی سعی فرمائی اور قربانی کے جانور ذبح فرمائے۔ تین دن تک آپﷺمکہ شریف میں تشریف فرمار ہے، اس کے بعد واپس مدینہ شریف تشریف لے گئے۔ چونکہ یہ عمرہ ایک سال پہلے والے عمرہ کہ وجہ سے تھا اس لیے اسے عمرۃ القضا کہتے ہیں۔
(شرح الزرقانی علی المواهب، باب غزوة خيبر ، 315/3-324 ملخصا)
سیرت کا حصہ:
2/5
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے حضور ﷺ کانکاح

جنگ خیبر کے موقع پر

قیدیوں میں حضرت بی بی صفیہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا بھی تھیں ۔ یہ بنو نضیر کے رئیس اعظم حیی بن اخطب کی بیٹی تھیں اور ان کا شوہر کنانہ بن ابی الحقیق بھی بنونضیر کا رئیس اعظم تھا۔

حضرت صفیہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کو آزاد کرکے آپﷺنے ان سے نکاح فرمالیا اور تین دن تک منزل صہبا میں ان کو اپنے خیمہ میں سرفراز فرمایا اور صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کو دعوت ولیمہ میں کھجور، گھی، پنیر کا مالیدہ کھلایا۔

(صحيح البخاري، كتاب الصلوة، باب ما يذكر في الفخذ، الحدیث: ٣٧١ ، ج ۱، ص ١٤٨ والمواهب اللدنية و شرح الزرقانی، باب غزوة خيبر، ج ۳، ص ٢٦٨ - ٢٧٣ ملتقطاً)

سیرت کا حصہ:
3/5
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کا حضور ﷺ سےنکاح

اسی عمرۃ القضاء کے سفر میں حضورﷺنے حضرت بی بی میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح فرمایا۔ یہ آپﷺکی چچی ام فضل زوجہ حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہما کی بہن تھیں ۔ عمرۃ القضاء سے واپسی میں جب آپﷺمقام "سرف“ میں پہنچے تو ان کو اپنے خیمہ میں رکھ کر اپنی صحبت سے سرفراز فرمایا اور عجیب اتفاق کہ اس واقعہ سے چوالیس برس کے بعد اسی مقام سرف میں حضرت بی بی میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا کا وصال ہوا اور ان کی قبر شریف بھی اسی مقام میں ہے۔ صحیح قول یہ ہے کہ ان کی وفات کا سال ۵۱ھ ہے۔

(المواهب اللدنية وشرح الزرقاني، باب عمرة القضاء، ج ۳، ص ۳۲۹،۳۲۸ ملخصاً)

سیرت کا حصہ:
4/5
ڈُوبا سورج پلٹ آیا

حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ " نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہورہی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر اقدس حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گود میں تھا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ عصر کی نماز نہ پڑھ سکے ۔ یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔ پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی : اے اللہ ! علی تیری اور تیرے رسول کی اطاعت میں تھا لہٰذا اس پر سورج واپس لوٹا دے۔ حضرت اسماء فرماتی ہیں : میں نے اسے غروب ہوتے ہوئے دیکھا تھا اور اسی کو دیکھا کہ وہ غروب ہونے کے بعد دوبارہ طلوع ہوا۔"

( زرقانی جلد ۵ ص ۱۱۳ و شفاء جلد ۱ ص ۱۸۵ و مدارج النبوۃ جلد۲ ص ۲۵۲

معجم کبیر ، 24 / 144 ، حدیث : 382))

سیرت کا حصہ:
5/5
غزوہ خیبر، | Seerah Timeline - Seerat Ki Dunya