logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

غزوہ تبوک۔۔۔۔وفود کی حاضری

غزوہ تبوک

ہجرت کے نویں سال ماہ رجب میں غزوہ تبوک کا معرکہ پیش آیا۔ مدینہ اور شام کے درمیان ایک جگہ ہے جس کا نام ” تبوک “ ہے۔ اسے جیش العسرة (تنگ دستی کا لشکر ) بھی کہا جاتا ہے۔

(شرح الزرقانی علی المواہب، غزوة تبوك ، 65/4 ملخصا)


اس کا سبب یہ بنا کہ مدینہ میں خبر پہنچی کہ رومیوں اور عرب عیسائیوں نے مدینہ پر حملہ کرنے کیلئے ایک بڑی فوج تیار کرلی ہے۔ اس کا مقابلہ کرنے کیلئے اللہ کے آخری نبیﷺنے فوج کی تیاری کا حکم فرمایا۔ اس وقت پورے حجاز میں شدید قحط تھا، سخت گرمی تھی اور گھر سے نکلنا مشکل تھا۔

یہ وہی غزوہ ہے جس میں حضرت ابو بکر نے گھر کا پورا اور حضرت عمر نے گھر کا آدها سامان لشکر کی تیاری کیلئے پیش کیا رضی اللہ عنھما (1)۔ جبکہ حضرت عثمان غنی اور حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما نے خصوصی تعاون فرمایا۔ آپﷺتیس ہزار کا لشکر لے کر تبوک روانہ ہوئے۔ تبوک پہنچ کر لشکر کو پڑاؤ کا حکم دیا، دور تک رومی لشکر کا کوئی پتا نہیں تھا۔ پھر معلوم ہوا کہ جاسوسوں نے قیصر کو جب لشکر اسلام کی شان و شوکت اور تعداد کا بتایا تو ہیبت اور رعب کی وجہ سے وہ لوگ جنگ سے ہمت ہار گئے اور اپنے گھروں سے باہر نہ نکل سکے۔ اللہ کے آخری نبیﷺبیسں دن تک تبوک میں قیام فرما کر مدینہ واپس تشریف لائے۔ تبوک اور قریب کے کچھ علاقے اسلامی سلطنت میں داخل ہو گئے(2)۔

(1)ترندی کتاب المناقب، باب فی مناقب ابی بکر و عمر کلیهما، 5 / 380، حدیث: 3695.

(2) مدارج النبوت : 2 / 349 ملخصا.

سیرت کا حصہ:
1/4
و فود کی آمد

9 ہجری کو وفود کا سال بھی کہا جاتا ہے۔ ”وفود “ عربی میں ”وفد “ کی جمع ہے۔ وفد ایک سے زائد افراد کے گروہ کو کہتے ہیں۔ اللہ کے آخری نبیﷺتبلیغ اسلام کیلئے ہر طرف مبلغین کو بھیجا کرتے تھے۔ ان میں سے بعض تو مبلغین کے سامنے دعوتِ اسلام قبول کر کے مسلمان ہو جاتے جبکہ بعض قبائل اس بات کے خواہش مند ہوتے کہ براہِ راست بارگاہِ نبوت میں حاضر ہو کر جمال نبوت کی زیارت کریں اور اپنے اسلام کا اظہار کریں۔ اسی لیے کچھ لوگ اپنے اپنے قبیلوں کے نمائندے بن کر مدینہ شریف آتے اور خود بانی اسلام، اللہ کے آخری نبیﷺکی زبان سے دعوت اسلام کا پیغام سن کر اپنے اسلام کا اعلان کرتے اور پھر واپس اپنے اپنے قبیلوں میں جا کر انہیں بھی مسلمان کرتے۔ اس طرح کے وفود مختلف زمانوں میں مدینہ شریف آتے رہے مگر فتح مکہ کے بعد تو گویا سارے عرب میں اسلام کا ڈنکہ بج اٹھا۔

(آخری نبی کی پیاری سیرت ص110)

اس قسم کے وفود کی تعداد میں مصنفین سیرت کا بہت زیادہ اختلاف ہے۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ نے ان وفود کی تعداد ساٹھ سے زیادہ بتائی ہے۔


(مدارج ج 2 ص 358)



سیرت کا حصہ:
2/4
کثرت سے وفود آنے کی وجہ

بہت سے قبائل پہلے ہی اسلام کی حقانیت کے قائل ہو چکے تھے مگر قریش کے ڈر اور دباؤ کی وجہ سے اسلام قبول نہیں کر سکتے تھے۔ فتح مکہ نے اس رکاوٹ کو دور کر دیا۔ اب اسلام کی تعلیمات اور قرآن کے مقدس پیغام نے ہر ایک کے دل پر سکہ بٹھا دیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ لوگ جو پہلے اسلام کی بات سننا گوارا نہیں کرتے تھے اب پروانوں کی طرح شمع رسالت، مصطفی جان رحمتﷺپر نثار ہونے لگے۔ سچے نبی کی تعلیمات اور کردار سے متاثر ہو کر یہ لوگ گروہ در گروہ آپﷺکی خدمت میں دور دراز سے وفود کی صورت میں حاضر ہوتے اور اپنی خوشی سے قبولیت اسلام کی سعادت پا کر شرف صحابیت کا تاج سر پر سجا کر ہمیشہ کی سعادتیں اپنے مقدر میں لکھواتے۔ فتح مکہ کے بعد 9 ہجری میں تو اتنی کثرت سے وفود آئے کہ اس سال کا نام ہی ” سَنَةُ الْوُفُود “ یعنی وفود کے آنے کا سال پڑ گیا۔ ایک قول کے مطابق اس سال تقریباً 60 و فود حضور علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ آپﷺقبائل سے آنے والے وفود کے استقبال اور ان سے ملاقات کیلئے خاص اہتمام فرماتے۔ ہر وفد کے آنے پر آپﷺنہایت عمدہ کپڑے زیب تن فرما کر تشریف لاتے ، ان سے ملاقات کیلئے مسجد نبوی میں ایک ستون سے ٹیک لگا کر نشست فرماتے، پھر ہر ایک وفد سے خندہ پیشانی کے ساتھ گفتگو فرماتے اور ضروری عقائد و احکام اسلام کی تعلیم و تلقین بھی فرماتے۔ ان مہمانوں کو اچھے سے اچھے مکانوں میں ٹھہراتے، ان کی مهمان نوازی کا خاص خیال فرماتے اور ہر وفد کو تحائف بھی عطا فرماتے۔

(مدارج النبوت / 2 / 358-359 ملتقطاو مختصرا)

سیرت کا حصہ:
3/4
حج کے فرض ہونے کا حکم

حج 9ہجری میں فرض ہوا، اس کی فرضیت قطعی ہے، جو اس کی فرضیت کا انکار کرے کافر ہے مگر عمر بھر میں صرف ایک بار فرض ہے۔

( ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الأول في تفسیر الحج و فرضیتہ ...إلخ ، ج۱، ص۲۱۶. و''الدرالمختار''معہ''ردالمحتار''، کتاب الحج، ج۳، ص۵۱۶-۵۱۸.)

سیرت کا حصہ:
4/4
غزوہ تبوک۔۔۔۔وفود کی حاضری | Seerah Timeline - Seerat Ki Dunya