اسلامک ڈیسک کی جانب سے
اللہ کے آخری نبی ﷺابتدا سے ہی بہترین کردار کے مالک تھے۔ جب آپ ﷺ کی عمر مبارک 25 سال ہوئی تو آپ ﷺ کی صداقت اور دیانت کے ہر طرف چرچے ہونے لگے۔ مکہ کی فضاؤں میں آپ ﷺ کے لقب "صادق وامین “ ہر طرف گونجنے لگے۔ شہر مکہ کی ایک معزز اور مالدار خاتون تھیں جن کا نام ” خدیجہ “ تھا انہیں ایسے امانت دار شخص کی ضرورت تھی جو ان کا مال ملک شام لے کر جائے اور وہاں فروخت کر کے نفع کما کر لائے۔ آپ ﷺ کی امانت و صداقت کی شہرت جب حضرت خدیجہ تک پہنچی تو انہوں نے آپ ﷺ کو پیغام بھیجا کہ آپ ﷺ میر امالِ تجارت ملک شام لے کر جائیں جو تنخواہ میں دوسروں کو دیتی ہوں آپ ﷺ کو اس کا دگنا (Double) دوں گی۔ آپ ﷺ نے ان کی یہ درخواست قبول فرمائی اور تجارت کا سامان اور مال لے کر ملک شام روانہ ہو گئے۔ اس سفر میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا غلام مَیْسَرَہ بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھا جو آپ ﷺ کی خدمت اور دیگر ضروریات پوری کرتا تھا۔ ایک بار پھر جب آپ ﷺ ملک شام کے مشہور شہر بصرہ پہنچے تو وہاں نسطورا راہب کی عبادت گاہ کے قریب قیام فرمایا۔ وہ راہب میسرہ کو پہلے سے جانتا تھا، اسی بنیاد پر وہ اس کے پاس آیا اور آپ ﷺ کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگا یہ کون ہیں جو اس درخت کے نیچے اترے ہیں ؟ میسرہ نے جواب دیا: یہ شہر مکہ کے رہنے والے ہیں، بنو ہاشم سے تعلق ہے ، ان کا نام ”محمد ﷺ " ہے اور لقب ”امین “ ہے۔ راہب کہنے لگا سوائے نبی کے آج تک اس درخت کے نیچے کوئی نہیں اترا۔ پھر اس نے پوچھا کیا ان کی آنکھوں میں سرخی رہتی ہے ؟ میسرہ نے جواب دیا: ہاں، اور وہ ہر وقت رہتی ہے۔ یہ سن کر نسطورا کہنے لگا یہی اللہ کے آخری نبی ہیں ، مجھے ان میں وہ تمام نشانیاں نظر آرہی ہیں جو توریت و زبور میں پڑھی ہیں۔ کاش! میں اس وقت زندہ ہوں جب یہ اپنی نبوت کا اعلان فرمائیں گے ، اگر میں زندہ رہا تو ان کی بھر پور مدد کروں گا اور ان کی خدمت میں پوری زندگی گزار دیتا۔ اے میسرہ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ کبھی ان سے جدامت ہونا، ان کی خدمت کرتے رہنا، کیونکہ اللہ پاک نے انہیں نبوت کا شرف عطا فرمایا ہے۔ آپ ﷺ سامان تجارت بیچ کر جلد واپس تشریف لے آئے۔ جب آپ کا قافلہ مکہ واپس پہنچا تو اس وقت حضرت بی بی خدیجہ مکان کی چھت پر بیٹھی ہوئی تھیں۔ انہوں نے یہ منظر دیکھا کہ اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر دو فرشتے دھوپ سے سایہ کئے ہوئے ہیں، اس منظر نے حضرت خدیجہ کے دل پر گہرا اثر کیا۔ کچھ دن کے بعد انہوں نے اپنے غلام میسرہ سے اس بات کا ذکر کیا تو میسرہ نے بتایا کہ میں تو پورے سفر میں اسی طرح کے مناظر دیکھتا رہا ہوں، پھر میسرہ نے اس طویل سفر میں آپ ﷺ کی صداقت و دیانت، حُسن سلوک و غمخواری، معاملات کو سمجھنے اور کاروباری مہارت کے جو روح پرور مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے وہ بیان کئے، نسطورا راہب جس طرح آپ ﷺ پر فدا ہو گیا تھا اور آپ ﷺ کے مستقبل کے بارے پیش گوئیاں کی تھیں یہ بتایا، یہ سن کر حضرت خدیجہ کے دل میں آپ ﷺ کیلئے عقیدت و محبت پیدا ہو گئی۔
(آخری نبی کی پیاری سیرت ص34)
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا مکہ کی مالدار اور بہت محترم و معزز خاتون تھیں۔ آپ کا تعلق قبیلہ قریش کی شاخ بنو اسد بن عبد العزی سے تھا، ان کا سلسلہ نسب تین واسطوں سے رَسُولُ الله ﷺ سے ملتا ہے ۔
(فیضان خدیجة الکبری رضی اللہ عنھا، ص 35-38)
اہل مکہ انہیں ان کی پاکدامنی کہ وجہ سے طاہرہ یعنی پاکباز کے لقب سے یاد کرتے تھے۔ ان کی عمر اس وقت 40 سال ہو چکی تھی۔ انہوں نے دو شادیاں کی تھیں اور ان کے دونوں شوہر انتقال کر گئے تھے۔ بڑے امیر و کبیر افراد نے ان کو شادی کے پیغامات بھیجے لیکن انہوں نے تمام پیغامات کو واپس کر دیا اور یہ طے کر لیا تھا کہ اب نکاح نہیں کریں گی۔ لیکن آپ ﷺ کے اخلاق، عادات، برکات اور حیرت انگیز واقعات سن کر ان کا دل آپ سے نکاح کی طرف مائل ہوا۔ انہوں نے اللہ کے آخری نبی ﷺ کی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اللہ عنھا کو بلایا۔ حضرت صفیہ، بی بی خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بھائی عوام بن خویلد کی بیوی تھیں۔ انہیں بلا کر ان سے آپ ﷺ کے کچھ ذاتی حالات کے بارے میں معلومات لیں۔ پھر شام کے سفر سے واپسی کے تقریباً تین ماہ بعد انہوں نے آپ ﷺ کی طرف نکاح کا پیغام بھیجا۔ اس رشتہ کو پسند کرنے کی وجہ خود حضرت خدیجہ یوں بیان فرماتی ہیں: میں نے آپ ﷺ کے اچھے اخلاق اور آپ ﷺ کی سچائی کی وجہ سے آپ کو پسند کیا۔ آپ ﷺ نے اس درخواست کو اپنے خاندان کے بڑوں اور اپنے چچاؤں کے سامنے رکھا۔ انہوں نے یہ رشتہ منظور کر لیا۔ آپ ﷺ کا نکاح ہوا جس میں آپ ﷺ کے چچا ابو طالب نے خطبہ پڑھا اور اپنے مال میں سے اونٹ حق مہر مقرر کیا۔
( شرح الزرقانی علی المواہب، تزوجه من خديجة 370/1-376 مختصراً)
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا تقریباً 25 سال تک حضور علیہ السلام کی خدمت میں رہیں۔ ان کی زندگی میں آپ ﷺ نے کوئی دوسرا نکاح نہ فرمایا۔ رسول اللہ ﷺ کے ایک فرزند حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے سوا باقی ساری اولاد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے ہوئی۔ حضرت خدیجہ نے اپنی ساری دولت آپ ﷺ کے قدموں پر نثار کر دی اور ساری عمر آپ ﷺ کی خدمت کرتے گزاری۔
(آخری نبی کی پیاری سیرت ص35)