اسلامک ڈیسک کی جانب سے
واقعہ معراج بعثت کے گيارہويں سال اور ہجرت سے دو سال پہلے، 27 رَجَبُ المرجَّب، پير شريف کي سُہانی اور نُور بھری رات پیش آیا
حضور ﷺ اپني چچا زاد بہن حضرتِ اُمِّ ہاني رَضِيَ اللہُ تَعَالي عَنہَا کے گھر آرام فرمارہے تھےکہ حضرتِ جبرائيل علیہ السلام حاضِر ہوئے اور آپ ﷺ کو حضرتِ اُمِّ ہاني رضي اللہ تعالي عنہا کے گھر سے مسجِدِ حرام ميں لے آئے اور آپ ﷺ کا شَقِّ صَدْر فرمايا ، حضرتِ جبرائيل علیہ السلام نے پيارے آقا ﷺ کے قلبِ اطہر کو آبِ زَم زَم سے غسل ديا اور پھر ايمان وحکمت سے بھر کر واپس اُس کي جگہ رکھ ديا
بُراق کي سواري:
اس کے بعد آپ ﷺ کي بارگاہِ اقدس ميں سواري کے لئے بُراق پيش کيا گيا،پھر سيِّدِ عالَم ﷺ بُراق پر سوار ہوئے اور بيت المقدس کي طرف روانہ ہوئے
دورانِ سفرآپ ﷺ نے تين مقامات پر نماز ادا فرمائي:
مدينہ شريف جس کي طرف آپ ﷺ ہجرت فرمائيں گے
طُورِ سِيْنا جہاں اللہ *عَزَّوَجَلَّ* نے حضرتِ موسي *عَلَيْہِ السلام* کو ہَم کلامي کا شَرَف عطا فرمايا تھا
بَيْتِ لَحْم : جہاں حضرتِ عيسي *عَلَيْہِ السَّلَام* کي وِلادت ہوئي تھي
بيت المقدس آمد اورانبيائے کِرَام عَلَيْہِمُ السلام کي امامت:
آپ ﷺ راستے ميں عجائباتِ قدرت کوديکھتے ہوئے، اس مقدس شہر ميں تشريف لے آئے جہاں مسجدِ اقصي واقِع ہےاور پھر مسجد اقصي ميں انبيائے کِرَام *عَلَيْہِمُ السلام* کي امامت فرمائي
آسمانوں کي طرف سفر:
بيت المقدس کے مُعَامَلات سے فارِغ ہونے کے بعد پيارے پيارے آقا، ميٹھے ميٹھے مصطفے ﷺ نے آسمان کي طرف سفر شروع فرمايا
پہلے آسمان پر حضرتِ آدم *عَلَيْہِ السلام* سے ملاقات ہوئي
دوسرے آسمان پر آپ ﷺ کي حضرتِ يحيي اور حضرتِ عيسي *عَلَيْہِمَا السلام* سے ملاقات ہوئي
تيسرے آسمان پر آپ ﷺ کي حضرتِ یوسف *عَلَيْہ السلام* سے ملاقات ہوئي
چوتھے آسمان پر آپ ﷺ کي حضرتِ اِدْرِيس *عَلَيْہ السلام* سے ملاقات ہوئي
پانچويں آسمان پر آپ ﷺ کي حضرتِ ہارون *عَلَيْہ السلام* سے ملاقات ہوئي
چھٹے آسمان پر آپ ﷺ کي حضرتِ موسي *عَلَيْہِمُ السلام* سے ملاقات ہوئي
ساتويں آسمان پر آپ ﷺ کي حضرتِ ابراہيم خَلِيْلُ اللہ *عَلَيْہِمُ السلام* سے ملاقات ہوئي
سدرۃ المنتہیٰ:
ساتویں آسمان پر حضرتِ ابراہیم خَلِیْلُ اللہ علیہ السلام سے ملاقات فرمانے کے بعد سیِّدِ والا تبار، دوعالَم کے تاجدار ﷺ *سِدْرَۃُ المنتہیٰ* کے پاس تشریف لائے۔یہ ایک نورانی بیری کا درخت ہے، جس کی جڑ چھٹے آسمان پر اور شاخیں ساتویں آسمان کے اُوپر ہیں
مقامِ مستویٰ:
جب پیارے آقا، میٹھے مصطفےٰ ﷺ سِدْرَۃُ المنتہیٰ سے آگے بڑھے تو حضرتِ جبرائیل علیہ السلام وہیں ٹھہر گئے اور آگے جانے سے مَعْذِرَت خواہ ہوئے۔پھر آپ ﷺ آگے بڑھے اور بلندی کی طرف سفر فرماتے ہوئے ایک مقام پر تشریف لائے جسے مستویٰ کہا جاتا ہے۔
عرشِ عُلیٰ سے بھی اُوپر:
پھر مستویٰ سے آگے بڑھے تو عرش آیا، آپ ﷺ اس سے بھی اُوپر تشریف لائے اور پھر وہاں پہنچے جہاں خُود ” کہاں“ اور ” کب“ بھی ختم ہو چکے تھے کیونکہ یہ الفاظ جگہ اور زمانے کے لئے بولے جاتے ہیں اور جہاں ہمارے حُضُورِ انور ﷺ رونق اَفْرَوز ہوئے وہاں جگہ تھی نہ زمانہ۔ اسی وجہ سے اسے لامکاں کہا جاتا ہے۔
یہاں اللہ *رَبُّ الْعِزّت عَزَّ وَجَلَّ* نے اپنے پیارے محبوب ﷺ کو وہ قربِ خاص عطا فرمایا کہ نہ کسی کو مِلا نہ ملے۔
دیدارِ الٰہی اور ہَم کَلامی کا شَرَف:
آپﷺ نے بیداری کی حالت میں سر کی آنکھوں سے اپنے پیارے *ربّ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی* کا دیدار کیا کہ پَردہ تھا نہ کوئی حجاب، زمانہ تھا نہ کوئی مکان، فِرِشتہ تھا نہ کوئی اِنسان، اور بےواسطہ کلام کا شَرَف بھی حاصِل کیا۔
پچاس سے پانچ نمازیں:
اللہ نے اپنے محبوب ﷺ کو ہر دِن رات 50 نمازوں کا تحفہ (بھی) عَطا فرمایا۔ (پھر اس کے بعد حضرت موسی علیہ السلام سے ملاقات اور پھر دوبار رب کی بارگاہ میں جانا اور نمازوں کا 50 سے 5 ہوجانے کا واقعہ پیش آیا)
جنت کی سیر اور جہنّم کا مُعَایَنہ
پھر آپ ﷺکو جنت میں لایا گیا اور آپ نے جنت کی سیر فرمائی اور اس میں وہ نعمتیں دیکھیں جو اللہ *عَزَّوَجَلَّ* نے اپنے نیک بندوں کے لئے تیار کر رکھی ہیں جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دِل میں اس کا خَیَال گزرا، جنت کی سیر کے بعد آپ ﷺ کو جہنّم کا مُعَاینہ کرایا گیا، وہ اس طرح کہ آپ ﷺ جنت میں ہی موجود تھے اور جہنّم پر سے پَردہ ہٹا دیا گیا جس سے آپ ﷺ نے اُسے مُلاحظہ فرما لیا۔
واپسی کا سفر
اس کے بعد واپسی کا سفر شروع ہوا ۔
(خلاصہ از فیضان معراج،مکتبۃ المدینہ)
دوسرے سال ۱۲ نبوی میں حج کے موقع پر مدینہ کے بارہ اشخاص مٹی کی اسی گھاٹی میں چھپ کر مشرف بہ اسلام ہوئے حضور ﷺ سے بیعت ہوئے ، تاریخ اسلام میں اس بیعت کا نام بیعت عقبہ اولیٰ ہے۔ ساتھ ہی ان لوگوں نے حضور ﷺ سے یہ درخواست بھی کی کہ احکام اسلام کی تعلیم کے لئے کوئی معلم بھی ان لوگوں کے ساتھ کر دیا جائے ، چنانچہ حضور ﷺ نے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ کو ان لوگوں کے ساتھ مدینہ منورہ بھیج دیا، وہ مدینہ میں حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ تعالی عنہ کے مکان پر ٹھہرے اور انصار کے ایک ایک گھر میں جا جا کر اسلام کی تبلیغ کرنے لگے اور روزانہ ایک دو نئے آدمی آغوش اسلام میں آنے لگے، یہاں تک کہ رفتہ رفتہ مدینہ سے قبا تک گھر گھر اسلام پھیل گیا۔
(سیرت مصطفی ص 115,116)
نماز(اعلانِ) نُبوّت کے بارھویں سال 27 رجب کو معراج کی رات میں فرض ہوئی
(خزائن العرفان، پ 15،بنٓی اسرآءیل، تحت الآیۃ:1، ص 525 ماخوذاً)