اسلامک ڈیسک کی جانب سے
اللہ کے آخری ﷺ کی آمد کی خبر اہل مدینہ کو مل چکی تھی اور وہ آپﷺ کے انتظار میں اپنی پلکیں بچھائے ہوئے تھے ، مدینہ کی خواتین اور بچوں تک کی زبانوں پر آپﷺ کی آمد کا ذکر ہوتا۔ مکہ شریف سے مدینہ کا فاصلہ عموماً 12 دن میں طے ہوتا تھا، یہ دن تو انہوں نے انتظار کرتے ہوئے گزار دیئے۔ اس کے بعد ان سے رہا نہ گیا اور وہ اپنے شوق کی تکمیل کیلئے بے قرار ہو کر اجتماعی شکل میں اپنے آقاﷺ کے استقبال کیلئے مدینہ سے باہر ایک میدان میں جمع ہو جاتے اور جب دھوپ تیز ہو جاتی تو حسرت کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس لوٹ جاتے۔ ہر نئے دن ان کا یہی معمول تھا کہ نئے عزم و یقین کے ساتھ آتے اور راستے میں سراپا شوق بن کر استقبال کیلئے کھڑے ہو جاتے۔ ایک دن اپنے معمول کے مطابق اہلِ مدینہ آپﷺ کی راہ دیکھ کر واپس جاچکے تھے۔ اچانک ایک یہودی نے اپنے قلعہ سے دیکھا کہ کچھ افراد کا قافلہ آرہا ہے تو وہ سمجھ گیا اور اس نے زور سے پکار کر کہا: اے مدینہ والو ! تم جس کا روزانہ انتظار کرتے تھے وہ کاروانِ رحمت آگیا۔ یہ سن کر تمام انصار بدن پر ہتھیار سجا کر خوشی کے عالم میں اللہ کے آخری نبیﷺ کا استقبال کرنے کے لئے اپنے گھروں سے نکل پڑے ۔ مدینہ شریف سے تین میل کے فاصلہ پر جہاں آج مسجد قبا ہے آقا کریم عليه السلام وہاں 12 ربیع الاول کو تشریف لائے اور قبیلہ عمرو بن عوف وہ خوش بخت قبیلہ تھا جسے سرکارِ دو عالمﷺ نے سب سے پہلے اپنی میز بانی کا شرف بخشا۔ اس قبیلے کے ایک سردار حضرت کلثوم بن ہذم رضی اللہ عنہ کے مکان میں آپ نے قیام فرمایا۔ اکثر صحابہ کرام جو پہلے ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تھے وہ لوگ بھی اس مکان میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی قریش کی امانتیں لوٹا کر کچھ دن بعد مکہ سے چل پڑے تھے اور وہ بھی اس مکان میں قیام فرما ہوئے۔
(دلائل النبوة البيرقي، باب من استقبل رسول الله .. الخ 499/2-500 محطاً و مدارج النبوت، قسم دوم ، باب چهارم، 2/ 63 ملخصاً)
اللہ کے آخریﷺ نے قبا شریف میں سب سے پہلا کام یہ فرمایا کہ وہاں مسجد تعمیر فرمائی۔ حضرت کلثوم بن ہدم رضی اللہ عنہ کی ایک ناکارہ زمین تھی جہاں کھجوریں خشک کی جاتی تھیں آپﷺ نے وہ زمین لے کر وہاں مسجد کی بنیاد رکھی۔ یہ مسجد آج بھی مسجد قبا کے نام سے مشہور ہے۔
( وفاء الوفاء، الباب الثالث الفصل العاشر في دخول النبي ... الخ 250/1 ملتقطاً )
جب حضورِ اقدس ﷺ ہجرت کرکے مدینہ طیبہ تشریف لائے تو 12 ربیع الاوّل ،پیر کے دن، چاشت کے وقت قباء کے مقام پر ٹھہرے،پیر سے لے کر جمعرات تک یہاں قیام فرمایا اور مسجد کی بنیاد رکھی ، جمعہ کے دن مدینہ طیبہ جانے کا عزم فرمایا، بنی سالم بن عوف کی وادی کے درمیان جمعہ کا وقت آیا، اس جگہ کو لوگوں نے مسجد بنایا اور سرکارِ دو عالَمﷺ نے وہاں جمعہ پڑھایا اور خطبہ فرمایا۔یہ پہلا جمعہ ہے جو نبی کریم ﷺ نے اپنے اَصحاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے ساتھ پڑھا۔( خازن، الجمعۃ، تحت الآیۃ: ۹، ۴ / ۲۶۶)
اللہ کے آخری نبیﷺ جب قبا سے مدینہ تشریف لائے تو کئی انصاری صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی : ہمارے ہاں قیام فرمائیں۔ مگر آپﷺ ارشاد فرماتے کہ جس جگہ خدا کو منظور ہو گا اسی جگہ میری اونٹنی بیٹھ جائے گی۔ جہاں آج مسجد نبوی ہے یہاں پر آپﷺ کی سواری بیٹھی۔ اس کے قریب حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا مکان تھا۔ حضرت ابو ایوب انصاری آپﷺ کی اجازت سے آپﷺ کا سامان اپنے گھر لے گئے اور رسول الله ﷺ نے ان کے گھر قیام فرمایا۔ سات مہینے تک حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے آپﷺ کی میزبانی کا شرف حاصل کیا۔ جب مسجد نبوی اور اس کے آس پاس کے کمرے تیار ہو گئے تو آپﷺ اپنی ازواج کے ساتھ وہاں قیام فرما ہوئے۔
(زرقانی علی المواہب ، ج۱، ص۳۵۷ )
مدینہ شریف میں کوئی ایسی جگہ نہیں تھی جہاں مسلمان با جماعت نماز پڑھ سکیں اس لیے مسجد کی تعمیر وہاں بہت ضروری تھی۔ اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی قیام گاہ کے قریب ہی ”بنو نجار “ کا ایک باغ تھا۔ اس کی زمین اصل میں دو یتیموں کی تھی آپ ﷺنے ان دونوں یتیم بچوں کو بلایا، انہوں نے زمین مسجد کے لئے نذر کرنی چاہی مگر اللہ کے آخری نبی صلی الله علیه والله وسلم نے اسے پسند نہیں فرمایا اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مال سے آپﷺ نے اس کی قیمت ادا فرمائی۔ زمین ہموار کر کے خود آپﷺ نے اپنے دست مبارک سے مسجد کی بنیاد ڈالی اور کچی اینٹوں کی دیوار اور کھجور کے ستونوں پر کھجور کی پتیوں سے چھت بنائی جو بارش میں ٹپکتی تھی اس مسجد کی تعمیر میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ خود رَسُولُ اللهﷺ بھی اینٹیں اٹھا اٹھا کر لاتے تھے۔
(بخاری ، کتاب الصلوة، باب هل تنبش قبور مشر کی الجاهلية.. الخ، 165/1 حدیث: 428 والمواہب اللدنیہ، ہجرتہ 161156/1 محتقطاً ملخصا)
یہیں پر اذان کی ابتدا ہوئی۔ شروع میں حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ مسلمانوں کو نماز کیلئے بلایا کرتے تھے پھر حضرت عبداللہ بن زید انصاری اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنھم نے خواب میں اذان کے الفاظ سنے۔ آپﷺ کے حکم سے حضرت عبداللہ بن زید رضی عنہ نے وہ الفاظ حضرت بلال رضی عنہ کو سکھائے اور وہ اذان دینے لگے۔
(مواہب الله نية والزرقانی، باب بدء الأذان، 163/2)
اس دن سے شرعی اذان کا طریقہ شروع ہوا جو آج تک جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا۔
اس وقت تک مدینہ شریف میں مہاجرین کی تعداد 45 یا 50 تھی۔ حال ان کا یہ تھا کہ بے سرو سامانی تھی، اہل و عیال ، مال اسباب سب مکہ میں رہ گئے تھے ، انصار نے اگر چہ ان کی بڑی مہمان نوازی کی تھی لیکن مہاجرین دیر تک دوسروں کے سہارے زندگی گزارنا پسند نہیں کرتے تھے، اس لیے اللہ کے آخری نبیﷺ نے اس کا یہ حل نکالا کہ مہاجرین و انصار کے درمیان رشتہ اخوت قائم کر کے انہیں آپس میں بھائی بھائی بنا دیا جائے تاکہ یہ آپس میں ایک دوسرے کے مددگار بن جائیں۔ چنانچہ مسجد نبوی علی صاحبھا الصلوۃ والسلام کی تعمیر کے بعد ایک دن حضور علیہ السلام نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے مکان میں انصار و مہاجرین صحابہ کو جمع فرمایا۔ آپﷺ نے انصار کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ مہاجرین تمہارے بھائی ہیں۔ پھر مہاجرین و انصار میں سے دو دو لوگوں کو بلا کر فرماتے گئے کہ یہ اور تم بھائی بھائی ہو۔ آپﷺ کے ارشاد فرماتے ہی یہ رشته اخوت بالکل حقیقی بھائی جیسا رشتہ بن گیا۔ چنانچہ انصار نے اپنے مہاجر بھائیوں کو ساتھ لے جاکر اپنے گھر کی ایک ایک چیز سامنے لاکر رکھ دی اور کہہ دیا کہ آپ ہمارے بھائی ہیں اس لئے ہمارے گھروں کا سامان بھی آدھا آپ کا ہوا اور آدھا ہمارا۔
(بخاری، کتاب مناقب الانصار ، باب الاء النبي الي 2/ 555 حدیث: 3781 ملخصا)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ چھ برس کی تھیں جب حضور ﷺ نے اعلانِ نبوت کے دسویں سال ماہ شوال میں ہجرت سے تین سال قبل نکاح فرمایا اور شوال ۲ ھ میں مدینہ منورہ کے اندر یہ کاشانہ نبوت میں داخل ہو گئیں اور نو برس تک حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم کی صحبت سے سرفراز رہیں ۔ ازواجِ مطہرات میں یہی کنواری تھیں اور سب سے زیادہ بارگاہ نبوت میں محبوب ترین بیوی تھیں ۔ حضورِ اقدس ﷺ کا ان کے بارے میں ارشاد ہے کہ کسی بیوی کے لحاف میں میرے اوپر وحی نازل نہیں ہوئی مگر حضرت عائشہ جب میرے ساتھ بستر نبوت پر سوتی رہتی ہیں تو اس حالت میں بھی مجھ پر وحی الٰہی اترتی رہتی ہے۔
(بخاری جلد۱ ص۵۳۲ فضل عائشہ