اسلامک ڈیسک کی جانب سے
حضرت مولیٰ علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہُ عنہما کا نکاح یقیناً بہت عمدہ اور شاندار تھا جس میں خود ربّ کریم کی رضا اور نبیِّ کریمﷺ کی دُعائیں ، نصیحتیں اور شفقتیں شامل تھیں ، یہ مبارک نکاح ایک قول کے مطابق 26 یا 27 صفرسن 2ھ میں ہوا۔
(تاریخ مدینہ دمشق ، 3 / 128)
رَمَضانُ المبارک کے روزے 10شعبان 2 ہجری میں فرض ہوئے تھے۔(خزائن العرفان، پ2، البقرۃ، تحت الآیۃ: 183، ص 60 ماخوذاً)
وہ جنگی لشکر جس میں اللہ کے آخری نبی ﷺ بذات خود تشریف لے جاتے اسے "غزوہ" کہتے ہیں۔ جبکہ وہ لشکر جس میں آپ ﷺ شامل نہیں ہوئے اسے "سرية “ کہتے ہیں۔ غزوہ کی جمع "غزوات" اور سریہ کی جمع "سرایا" آتی ہے۔
(مدارج النبوت، قسم سوم، باب دوم، 76/2)
غزوات و سرایا کی تعداد کے بارے میں اختلاف ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ کی روایت کے مطابق غزوات کی تعداد 19 ہے۔ ان میں سے صرف 9 ایسی غزوات ہیں جن میں جنگ کی نوبت پیش آئی جبکہ اکثر ایسی تھیں جن میں لڑائی کی ضرورت ہی نہ ہوئی۔ جبکہ سرایا کی تعداد 47 یا 56 ہے۔
(بخاری ، کتاب المغازی، باب غزوة العشيرة ... الخ ، 3 / 3 ، حدیث : 3949)
مسلمانوں کی کافروں کے ساتھ جو پہلی سب سے بڑی جنگ ہوئی اسے "غزوہ بدر" کہتے ہیں۔ بدر مدینہ شریف سے کچھ فاصلے پر ایک گاؤں کا نام ہے۔ وہاں ایک کنواں تھا جس کے مالک کا نام بدر تھا۔ اسی وجہ سے اس جگہ کا نام بدر مشہور ہو گیا۔
(الزرقانی علی المواهب، باب غزوة بدر الكبرى، 255/2 )
ہجری، 17رمضان المبارک جمعہ کا بابرکت دن تھا جب غزوۂ بدر رونما ہوا، قرآنِ مجید میں اسے ”یوم الفرقان“فرمایا گیا۔ (در منثور ،4/72،پ 10،الانفال تحت الآیہ:41) اس جنگ میں مسلمانوں کی تعداد 313 تھی جن کے پاس صرف 2 گھوڑے،70 اونٹ، 6 زرہیں(لوہے کا جنگی لباس) اور 8 تلواریں تھیں جبکہ ان کے مقابلے میں لشکرِ کفار 1000 افراد پر مشتمل تھا جن کے پاس 100گھوڑے، 700 اونٹ اور کثیر آلاتِ حرب تھے۔
غ (زرقانی علی المواھب، 2/260، معجم کبیر، 11/133، حدیث:11377، مدارج النبوۃ،2/81)
جنگ سے قبل رات حضورسرورعالمﷺنےاپنے چند جانثاروں کے ساتھ بدر کے میدان کو ملاحظہ فرمایا اور زمین پر جگہ جگہ ہاتھ رکھ کر فرماتے : یہ فلاں کافر کے قتل ہونے کی جگہ ہے اور کل یہاں فلاں کافر کی لاش پڑی ہوئی ملے گی۔ چنانچہ راوی فرماتے ہیں: ویسا ہی ہواجیسا فرمایا تھا اور ان میں سے کسی نےاس لکیر سے بال برابر بھی تجاوز نہ کیا۔ (مسلم، ص759، حدیث: 4621)
سُبْحٰنَ اللہ ! کیا شان ہےہمارے پیارے آقا ﷺ کی،کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا سے ایک دن پہلے ہی یہ بتادیا کہ کون کب اور کس جگہ مرے گا۔
اس رات اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مسلمانوں پر اونگھ طاری کر دی جس سے ان کی تھکاوٹ جاتی رہی اوراگلی صبح بارش بھی نازل فرمائی جس سے مسلمانوں کی طرف ریت جم گئی اور پانی کی کمی دور ہو گئی۔ ( الزرقانی علی المواہب ،2/271)
آقاﷺنے تمام رات اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کے حضور عجزو نیاز میں گزاری (دلائل النبوۃ للبیہقی،3/49)اور صبح مسلمانوں کو نمازِ فجر کے لئے بیدار فرمایا، نماز کے بعدایک خطبہ ارشاد فرمایا جس سے مسلمان شوق ِ شہادت سے سرشار ہوگئے۔
(سیرت حلبیہ، 2/212)
حضور رحمتِ دوعالم ﷺ نےپہلے مسلمانوں کے لشکر کی جانب نظر فرمائی پھر کفار کی طرف دیکھا اور دعا کی کہ یا رب! اپنا وعدہ سچ فرماجو تو نے مجھ سے کیا ہے ، اگرمسلمانوں کا یہ گروہ ہلاک ہوگیا تو روئے زمین پر تیری عبادت نہ کی جائے گی۔ (مسلم، ص750، حدیث:4588ملخصاً)
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مسلمانوں کی مدد کے لئے پہلے ایک ہزار فرشتے نازل فرمائے، اس کے بعد یہ تعداد بڑھ کر تین ہزار اور پھر پانچ ہزار ہو گئی۔
(پ 9،الانفال:9۔ پ4،اٰل عمران،124،125)
پیارےآقا ﷺ نے کنکریوں کی ایک مٹھی بھر کر کفار کی طرف پھینکی جو کفار کی آنکھوں میں پڑی۔
(درمنثور ،4/40،پ 9،الانفال ، تحت الآیہ:17)
جانثار مسلمان اس دلیری سے لڑے کہ لشکرِ کفار کو عبرتناک شکست ہوئی، 70 کفار واصلِ جہنم اور اسی قدر(یعنی70)گرفتار ہوئے (مسلم ، ص750، حدیث:4588ملخصاً)
جبکہ 14مسلمانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ (عمدۃ القاری،10/122)
••شہدائے غزوۂ بدر:
غزوۂ بدر میں جامِ شہادت نوش فرمانے والے صحابۂ کرام کے اسمائے مبارک یہ ہیں :(1) حضرت عبید ہ بن حارِث(2) حضرت عمیر بن ابی وَقَّاص (3) حضرت ذُوالشِّمالین عمیر بن عبد عمرو(4) حضرت عاقل بن ابی بکیر (5) حضرت مِہجَع مولیٰ عمر بن الخطاب (6) حضرت صَفْوان بن بیضاء (یہ 6مہاجرین ہیں) (7)حضرت سعد بن خَیْثَمَہ (8)حضرت مبشربن عبدالمُنْذِر (9)حضرت حارِثہ بن سُراقہ (10)حضرت عوف بن عفراء (11) حضرت معوذ بن عفراء (12)حضرت عمیر بن حُمام (13)حضرت رَافِع بن مُعلّٰی (14)حضرت یزید بن حارث بن فسحم(یہ8 انصار ہیں) ٭رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم اَجْمَعِیْن٭۔ (سیرت ابنِ ہشام، ص295)
غزوۂ بدرمیں مسلمان بظاہر بے سروسامان اور تعداد میں کم تھے مگر ایمان و اخلاص کی دولت سے مالامال تھے ، ان کے دل پیارے آقا ﷺ کے عشق و محبت اور جذبہ ٔاطاعت سے لبریز تھے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مدد اور پیارے آقا صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کی دعائیں ان کے شاملِ حال تھیں۔ یہی وہ اسباب تھے جنہوں نے اس معرکے کو یاد گار اور قیامت تک کے مسلمانوں کے لئے مشعلِ راہ بنادیا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں بھی اپنے پیارے حبیب ﷺ کی محبت اوراطاعت کا جذبہ عطا فرمائے۔
اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن ﷺ وسَلَّم
جس دن حضرت زيد بن حارثہ رضی اللہ عنہ جنگِ بدر میں مسلمانوں کی فتح کی خوش خبری لے کر مدینہ پہنچے تو اس وقت مسلمان حضرت سیدتنا بی بی رقیہ رضی اللہ عنہا کی جنّتُ البقیع میں تدفین کررہے تھے.
( طبقات ابن سعد ، 8 / 30)
زکوٰۃ 2 ہجری میں روزوں سے قبل فرض ہوئی ۔
(الدرالمختار، کتاب الزکوٰۃ، ج۳، ص۲۰۲)
(مدارج النبوت، قسم سوم ، باب دوم، 73/2 ملخصا)