logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

مکہ میں قحط آپ ﷺ کی برکت سے دور ہو گیا

مکہ میں قحط آپ ﷺ کی برکت سے دور ہو گیا

ابن عساکر نے جلہمہ بن عرفطہ سے نقل کیا اس نے کہا کہ میں مکے ایا اہل مکہ قحط میں مبتلا تھے ایک شخص بولا کہ لات و عزہ کے پاس چلو کسی نے کہا منات کے پاس چلو یہ سن کر ایک خوبصورت اچھی رائے والے بوڑھے نے کہا تم کہاں ادھر ادھر جا رہے ہو حالانکہ ہمارے درمیان ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کی آل موجود ہے لوگوں نے کہا کیا تمہاری مراد ابو طالب ہے اس نے کہا ہاں چنانچہ وہ سب اٹھے اور میں بھی ساتھ چل پڑا جا کر ابو طالب کے گھر دستک دی ابو طالب باہر نکلے تو لوگوں نے کہا جنگل قحط زدہ ہو گیا ہے ہماری اولاد، خاندان قحط میں مبتلا ہیں چلو بارش کی دعا کرو۔

پس ابو طالب نکلا اس کے ساتھ ایک بچہ تھا گویا کہ آفتاب ہو جس سے ہلکا سیاہ بادل دور ہو گیا ہو اس کے گرد اور چھوٹے لڑکے بھی تھے ابو طالب نے اس لڑکے کو لیا اور اس کی پیٹھ کعبے سے لگائی اس لڑکے یعنی حضرت محمد ﷺ نے التجا کرنے والے کی طرح اپنی انگلی سے اسمان کی طرف اشارہ کیا حالانکہ اس وقت اسمان پر کوئی بادل کا ٹکڑا نہ تھا اشارہ کرنا تھا کہ چاروں طرف سے بادل آنے لگے بارش برسی اور خوب برسی جنگل میں پانی ہی پانی نظر آنے لگا آبادی، وادی سب سرسبز و شاداب ہو گئے۔

(المواہب اللدنیہ وشرح زرقانی ،ذکر وفات امہ ۔۔۔الخ،ج 1 ص355....358 ملخصا)

سیرت کا حصہ:
1/1
مکہ میں قحط آپ ﷺ کی برکت سے دور ہو گیا | Seerah Timeline - Seerat Ki Dunya