اسلامک ڈیسک کی جانب سے
جب کفارانِ قریش مسلمانوں کو تکلیف دینے سے باز نہ آئے بلکہ ان کے مظالم میں اضافہ ہونے لگا تو اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے اپنے جان نثار صحابہ کرام علیھم الرضوان کو اجازت دی کہ وہ ہجرت کر کے حبشہ چلے جائیں۔
(شرت الزرقاني على المواهب، المقصد الاول، الهجرة الاولى الى الحديثية، 1 / 502)
حبشہ کا بادشاہ نجاشی عیسائی دین پر عمل کرتا تھا اور انصاف پسند اور نرم دل تھا۔ چنانچہ اعلان نبوت کے پانچویں سال گیارہ مرد اور چار عورتوں کے ایک قافلے نے اپنے پیارے وطن کو چھوڑ کر حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ اسے ہجرت اولی کہتے ہیں۔ کچھ دنوں کے بعد مزید کئی صحابہ و صحابیات علیھم الرضوان نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ یہاں تک کہ حبشہ ہجرت کرنے والوں کی تعداد 82افراد تک پہنچ گئی۔
(شرح الزرقاني على المواهب، المقصد الاول الحجرة الثانية إلى الحبشۃ - الخ ، 31/2)
یہ دیکھ کر قریش نے حبشہ کے بادشاہ کی طرف ایک وفد بھیجا، جس نے بادشاہ سے اصرار کیا کہ وہ ان مسلمانوں کو قریش کے حوالے کر دے مگر کفار کی یہ کوششیں ناکام ہوئیں۔
( شرح الزرقاني على المواهب، المقصد الاول، الحجرة الاولى الى العبرية، 1 / 506)
موجودہ افریقی ملک ایتھوپیا (Ethiopia) کے کچھ علاقے جنہیں اہل عرب حبشہ سے موسوم کرتے تھے۔ یہاں شاہ حبشہ نجاشی کی حکومت تھی جو بعد میں سعادت اسلام سے مشرف ہوئے، ان کا مزار ایتھوپیا میں ہی ہے۔
(آخری نبی کی پیاری سیرت ص47)