اسلامک ڈیسک کی جانب سے
اللہ کے آخری نبی ﷺ کی عمر مبارک جب 35 برس ہوئی تو زبردست بارش سے حرم کعبہ میں سیلابی پانی آگیا۔ اس سے کعبہ شریف کی عمارت کو کافی نقصان پہنچا اور اس کا کچھ حصہ بھی گر گیا۔ قریش نے طے کیا کہ مکمل عمارت کو توڑ کر پھر سے کعبہ کی ایک مضبوط عمارت بنائی جائے جس کا دروازہ بھی بلند ہو اور اس کی چھت بھی ہو۔ چنانچہ قریش نے مل جل کر اس کام کو شروع کر دیا۔ اس تعمیر میں آپ ﷺ بھی شریک ہوئے اور پتھر اٹھا اٹھا کر لاتے رہے۔ مختلف قبیلوں نے کعبہ شریف کی عمارت کے مختلف حصے آپس میں تقسیم کر لیے۔
(آخری نبی کی پیاری سیرت ص36)
(تعمیر کعبہ کے وقت )جب حجر اسود رکھنے کا مرحلہ آیا تو فتنوں نے سر اٹھانا شروع کر دیا، قبیلوں کا آپس میں سخت اختلاف ہو گیا۔ ہر قبیلے کی خواہش تھی کہ حجر اسود کو نصب کرنے کا اعزاز اسے حاصل ہو ، اگر کوئی قبیلہ اس میں رکاوٹ بنے تو تلوار کے زور سے اس کا راستہ روکا جائے۔ چار دن اس بات میں گزر گئے کہ حجر اسود کون نصب کرے گا۔ ایک بوڑھے شخص نے اس جھگڑے کو ٹالنے کیلئے یہ تجویز پیش کی کہ کل جو شخص صبح سویرے سب سے پہلے حرم مکہ میں داخل ہو اسی سے ہم اپنا فیصلہ کروائیں گے۔ وہ جو فیصلہ دے سب قبائل اسے تسلیم کریں گے۔ اس بات پر تمام قبائل کا اتفاق ہو گیا۔ خدا کی شان کہ صبح کو جو شخص سب سے پہلے حرم مکہ میں داخل ہوئے وہ نبی کریم ﷺ ہی تھے ۔ آپ ﷺ کو دیکھتے ہی ان کی مسرت کی انتہانہ رہی، سب کہنے لگے : یہ امین ہیں، یہ جو بھی فیصلہ فرمائیں گے ہم تسلیم کریں گے۔ آپ ﷺ نے اس جھگڑے کو کمال دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس طرح ختم کیا کہ فرمایا: جو قبیلے حجر اسودک رکھنے کا تقاضا کرتے ہیں وہ اپنا ایک ایک سردار چن لیں۔ انہوں نے اپنے اپنے سردار چن لیے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنی چادر مبارک کو بچھا کر حجر اسود کو اس پر رکھا اور سرداروں سے فرمایا کہ وہ سب مل کر اس چادر کو تھام کر حجر اسود کو اٹھائیں۔ سب نے ایسے ہی کیا اور جب حجر اسود اپنے مقام تک پہنچ گیا تو آپ ﷺ نے برکت والے ہاتھوں سے اس مقدس پتھر کو اٹھا کر اس کی جگہ رکھ دیا۔ اس طرح آپ ﷺ کی حکمت اور دانشمندی سے فتنہ و فساد کے شعلے بھی بجھ گئے اور سب کے دلوں میں مسرت و شادمانی کی لہر بھی دوڑ گئی۔
*(السيرة النبوية لابن هشام، حديث بنيان الكعبة...الخ ، 13/2 لملخصا)
سیّدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی ولادتِ با سعادت اعلانِ نبوت سے 5 سال پہلے ہوئی۔
(شرح الزرقانی ، 4 / 331)