logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

نبی پاک کی حلف الفضول میں شرکت

نبی پاک ﷺکی حلف الفضول میں شرکت

شہر زبید کا ایک شخص اپنا مال بیچنے مکہ شہر میں آیا۔ عاص بن وائل نام کے ایک شخص نے اس سے مال خریدا مگر قیمت نہ دی۔ اس تاجر نے کچھ قبیلوں سے فریاد کی مگر کسی نے اسکی مدد نہ کی۔ پھر یہ شخص جبل ابی قبیس پر چڑھ گیا اور سب سے فریاد کی۔ اس پر قریش کے کچھ صلح پسند لوگوں نے ایک اصلاحی تحریک چلائی۔ قریش کے بڑے بڑے سردار عبد الله بن جدعان کے گھر پر جمع ہوئے ، وہاں نبی کریم علیہ السلام کے چچا زبیر بن عبد المطلب نے یہ رائے پیش کی کہ ہمیں باہمی معاہدہ کرنا چاہیے۔ چنانچہ قریش کے سرداروں نے ایک معاہدہ کیا اور پکا ارادہ کر لیا کہ ہم بے امنی کا خاتمہ، مسافروں کی حفاظت، غریبوں کی امداد، مظلوم کی حمایت اور ظالم کا محاسبہ کریں گے۔ اس معاہدہ میں آپ ﷺ بھی شریک ہوئے۔ اعلان نبوت کے بعد بھی آپ ﷺ اس معاہدہ میں شرکت پر مسرت کا اظہار کرتے اور فرماتے اس معاہدہ سے مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ اگر اس معاہدہ کے بدلے میں کوئی مجھے سرخ رنگ کے اونٹ بھی دیتا تو مجھے اتنی خوشی نہیں ہوتی۔ آج بھی اگر کوئی مظلوم اس معاہدے کے تحت مجھے مدد کیلئے پکارے تو میں اس کی مدد کیلئے تیار ہوں.

(تفسیر در منثور ، پ 4 آل عمران، تحت الآية : 266/2/96 بلد الامین، ص 206 ملخصا )

• اس معاہدہ کو ”حلف الفضول“ کے نام سے موسوم کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت پہلے مکہ میں ایک معاہدہ ہوا تھا۔ اس معاہدہ کا سبب بننے والوں میں سب کا نام "فضل" تھا۔ اس وجہ سے اس معاہدہ کا نام ”حلف الفضول“ یعنی ان چند آدمیوں کا معاہدہ جن کے نام ”فضل“ تھے۔

(الروض الانف ، حلف الفنول: 242/1-244 ملخصاً السيرة النبوية لابن هشام، حرب الفجار ، 1 / 265)

• ابو قبیس ایک پہاڑ ہے جو مسجد حرام کے باہر صفا و مروہ کے قریب واقع ہے۔ حکم الہی سے دنیا میں سب سے پہلے یہی پہاڑ پیدا ہوا۔ اس پہاڑ کو الامین “ بھی کہا جاتا ہے۔

(آخری نبی کی پیاری سیرت ص30)

سیرت کا حصہ:
1/1
نبی پاک کی حلف الفضول میں شرکت | Seerah Timeline - Seerat Ki Dunya