اسلامک ڈیسک کی جانب سے
ہجرت کے دسویں (10th) سال کا سب سے اہم واقعہ حجۃ الوداع ہے۔ یہ آپﷺکا آخری حج تھا۔ لوگوں نے آپﷺکو پورا حج کرتے ہوئے دیکھا۔ ذوالقعدہ کے مہینے میں آپﷺنے حج کیلئے روانگی کا اعلان فرمایا۔ آپﷺنے اس حج میں اپنا مشہور "خطبہ وداع "ارشاد فرمایا۔ اللہ کے آخری نبیﷺکےحج کا اعلان فرماتے ہی مختلف علاقوں سے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار (124000) پروانے شمع رسالت ، تاجدارِ نبوتﷺکے گرد جمع ہوئے(1)۔ دنیا سے ظاہرا پر دہ فرمانے کا اشارہ بھی آپﷺنے اس حج میں دے دیا، چنانچہ جمرات کے قریب آپﷺنےارشاد فرمایا: مجھ سے حج کے مسائل سیکھ لو! شاید اس کے بعد میں دوسرا حج نہ کروں(2) ۔ آپﷺذوالقعدہ کی آخری جمعرات کو مدینہ شریف سے روانہ ہوئے اور ذوالحلیفہ جو کہ اہل مدینہ کا میقات ہے وہاں پہنچ کر احرام باندھا اور 4 ذوالحجہ کو مکہ شریف میں داخل ہوئے۔ طواف فرمایا، مقام ابراہیم میں نفل ادا فرمائے ، صفا و مروہ کی سعی فرمائی، 8 ذو الحجہ کو منی تشریف لے گئے، پھر 9 تاریخ کو عرفات گئے، یہاں آپﷺنے کمبل کے ایک خیمے میں قیام فرمایا۔ جب سورج ڈھل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ والہ اپنی اونٹنی "قصواء“ پر سوار ہوئے اور خطبہ پڑھا۔ اس خطبے میں آپﷺنے بہت سے ضروری احکامات کا اعلان فرمایا اور زمانہ جاہلیت کی تمام برائیوں اور بیہودہ رسموں کو مٹانے کا اعلان فرمایا(2).
(1)شرح الزرقاني على المواهب، وحجة الوداع ، 146/4۔
(2)مسلم ، کتاب الحج، باب استحباب رمى الجمرة العقبة الخ، ص 675 ، حدیث : 1297 ۔
(3) مسلم ، کتاب الحج، باب حجتہ النبی، ص 489، حدیث : 2950 ملتقطا و ملخصا ۔
آپﷺکےاس خطبے کے چند ارشادات یہ ہیں:
•• تمہارا رب ایک ہے اور بے شک تمہارے باپ (حضرت آدم علیہ السلام) ایک ہیں۔ کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی سفید کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی سفید پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کے سبب سے۔ * تمام انسان حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اور حضرت آدم علیہ السلام مٹی سے بنائے گئے۔ اب فضیلت و برتری کے سارے دعوے، خون و مال کے سارے مطالبے اور سارے انتقام میرے پاؤں تلے ہیں۔
•• اے لوگو! ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ ••کسی کیلئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے کچھ لے، مگر وہ کہ جس پر اس کا بھائی بھی راضی ہو اور خوشی سے دے۔ اے لوگو ! خود پر اور ایک دوسرے پر ظلم مت کرو۔
••تمہارا خون اور تمہارا مال تم پر تا قیامت اسی طرح حرام ہے جس طرح تمہارا یہ دن تمہارا یہ مہینہ ، تمہارا یہ شہر محترم ہے۔
••اے لوگو ! خواتین سے بہتر سلوک کرو! کیونکہ وہ تمہارے تابع ہیں، اور خود سے کچھ نہیں کر سکتیں۔
••پھر فرمایا: تم سے رب کریم میرے بارے میں پوچھے گا تو تم کیا کہو گے ؟ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا: آپﷺنےخدا کا پیغام پہنچا دیا اور رسالت کا حق ادا کر دیا، اللہ کے آخری نبیﷺنے آسمان کی طرف انگلی اٹھائی اور تین بار فرمایا: اے اللہ ! تو گواہ رہنا۔ اس کے بعد وحی کے ذریعے دین مکمل ہونے کی سند عطا فرمائی گئی اور پھر اپنے حج کی تکمیل فرمائی ۔
(مسلم ، کتاب الحج، باب حجتہ النبی، ص 490 ، حدیث :2950 ملتقطا و ملخصا.)
الوداعی خطبہ کی بہاریں:
اللہ کے آخری نبیﷺنے آج سے تقریبا ساڑھے چودہ سو سال پہلے یہ خطبہ ارشاد فرمایا تھا۔ کمال بات یہ ہے کہ جب آپﷺیہ خطبہ ارشاد فرمارہے تھے تو اس وقت آپﷺاونٹنی کے کجاوے پر تشریف فرما تھے۔ یہ آپﷺکی کمال سادگی کی شان تھی۔ آپﷺکا ارشاد فرمایا ہوا یہ خطبہ انسانی تاریخ کا سنہرا اور روشن باب ہے۔ اس خطبے میں انسانی حقوق بالخصوص حقوق نسواں، غلاموں کے حقوق، جان، مال، عزت آبرو کی حفاظت، معاشی اصلاحات، وراثت کے مسائل، قرض و مقروض سے متعلق احکامات، سیاست اور دین سے متعلق ایسی رہنمائی موجود ہے جس کی اس سے پہلے مثال نہیں ملتی۔ یہ خطبہ تمام اسلامی تعلیمات کا نچوڑ اور حقوق و فرائض کا عالمی منشور ہے۔ یہ خطبہ آج بھی مسلمانوں کیلئے گویا آئین اور ابدی پیغام کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ خطبہ آج بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے تھا۔ اس خطبے میں وہ روشنی ہے جس کی انسانیت کو ضرورت ہے۔ اس خطبے میں ایسا درس ہے جس پر عمل انسان کو انسانیت کی معراج پر لے جا سکتا ہے۔
(آخری نبی کی پیاری سیرت ص116.117)
حضرت انس رضی االله تعالٰی عنہ کا بیان ہے کہ ہم رسول اللّہ ﷺ کے ساتھ حضرت ابوسیف رضی اللہ تعالی عنہ کے مکان پر گئے تو یہ وہ وقت تھا کہ حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ جان کنی کے عالم میں تھے۔ یہ منظر دیکھ کر رحمت عالمﷺکی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ اس وقت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول الله ﷺ کیا آپ بھی روتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے عوف کے بیٹے ! یہ میرا رونا ایک شفقت کا رونا ہے۔ اس کے بعد پھر دوباره جب چشمان مبارک سے آنسو بہے تو آپ ﷺ کی زبان مبارک پریہ کلمات جاری ہوگئے کہ
*إِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ وَ الْقَلْبَ يَحْزَنُ وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبُّنَا وَإِنَّا بِفِرَاقِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ*
آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمزدہ ہے مگر ہم وہی بات زبان سے نکالتے ہیں جس سے ہمارا رب خوش ہو جائے اور بلاشبہ اے ابراہیم ہم تمہاری جدائی سے بہت زیادہ غمگین ہیں ۔ جس دن حضرت ابراہیم رضی الله تعالى عنہ انتقال ہوا اتفاق سے اسی دن سورج میں گرہن لگا۔ عربوں کے دلوں میں زمانہ جاہلیت کا یہ عقیدہ جما ہوا تھا کہ کسی بڑے آدمی کی موت سے چاند اور سورج میں گرہن لگتا ہے۔ چنانچہ بعض لوگوں نے یہ خیال کیا کہ غالباً یہ سورج گرہن حضرت ابراہیم رضی الله تعالى عنہ کی وفات کی وجہ سے ہوا ہے۔ حضور اقدسﷺ نے اس موقع پر ایک خطبہ دیا جس میں جاہلیت کے اس عقیدہ کا رد فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ *إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ أَيَتَانِ مِنْ " أَيَاتِ اللَّهِ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَادْعُو اللَّهَ وَ صَلُّوا حَتَّى يَنْجَلِي*
یقینا چاند اور سورج االلہ تعالی کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ۔ کسی کے مرنے یا جینے سے ان دونوں میں گرہن نہیں لگتا جب تم لوگ گرہن دیکھو تو دعائیں مانگو اور نماز کسوف پڑھو یہاں تک کہ گرہن ختم ہو جائے۔
(بخاری جلد ۱ ص ۱۴۵ باب الدعاء في الكسوف)
حضورﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ میرے فرزند ابراہیم(رضی اللہ عنہ)نے دودھ پینے کی مدت پوری نہیں کی اور دنیا سے چلا گیا۔ اس لیے اللہ تعالی نے اس کے لیے بہشت میں ک دودھ پلانے والی کو مقرر فرما دیا ہے جو مدت رضاعت بھر اس کو دودھ پلاتی رہے گی۔ 1 مدارج النبوة جلد ۲ ص ۲۵۴ روایت ہے کہ حضورﷺ نے حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالی عنہ کو جنت البقیع میں حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالی عنہ کی قبر کے پاس دفن فرمایا اور اپنے دست مبارک سے ان کی قبر پر پانی کا چھڑکاؤ کیا۔
(مدارج النبوة جلد ۲ ص ۴۵۳)
بوقت وفات حضرت ابراہیم رضی الله تعالى عنہ کی عمر شریف ۱۷ یا ۱۸ ماہ کی تھی۔
(المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی، باب فی ذکر اولادہ الکرام ، ج۴، ص۳۵۰)