اسلامک ڈیسک کی جانب سے
اس لشکر کا دوسرا نام ” سریہ اسامہ "بھی ہے ۔ یہ سب سے آخری فوج ہے جس کے روانہ کرنے کا رسول اللّہ ﷺنے حکم دیا ۔ 26صفر،11ہجری دوشنبہ کے دن حضور اقدسﷺنے رومیوں سے جنگ کی تیاری کا حکم دیا اور دوسرے دن حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہما کو بلا کر فرمایا کہ میں نے تم کو اس فوج کا امیر لشکر مقرر کیا تم اپنے باپ کی شہادت گاہ مقام ” اپنی “ میں جاؤ اور نہایت تیزی کے ساتھ سفر کر کے ان کفار پر اچانک حملہ کر دو تا کہ وہ لوگ جنگ کی تیاری نہ کرسکیں۔ با وجود یکہ مزاج اقدس ناساز تھا مگر اسی حالت میں آپﷺنے خود اپنے دست مبارک سے جھنڈا باندھا اور یہ نشانِ اسلام حضرت اُسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ ہات میں دے کر ارشاد فرمایا: "اغْزُ بِسْمِ اللهِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَاتِلُ مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ اللہ کے نام سے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو اور کافروں کیساتھ جنگ کرو۔ حضرت اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت بریدہ بن الحضيب رضی اللہ تعالی عنہ کو علمبردار بنایا اور مدینہ سے نکل کر ایک کوس دور مقام ” جرف "میں پڑاؤ کیا تا کہ وہاں پورا لشکر جمع ہو جائے ۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے انصار و مہاجرین کے تمام معززین کو بھی اس لشکر میں شامل ہو جانے کا حکم دے دیا۔ بعض لوگوں پر یہ شاق گزرا کہ ایسا لشکر جس میں انصار و مہاجرین کے اکابر و عمائدہ موجود ہیں ایک نو عمر لڑکا جس کی عمر بیس برس سے زائد نہیں کس طرح امیر لشکر بنا دیا گیا ؟ جب حضورﷺکو اس اعتراض کی خبر ملی تو آپﷺوسلم کے قلب نازک پر صدمہ گزرا اور آپ ﷺنے علالت کے باوجود سر میں پٹی باندھے ہوئے ایک چادر اوڑھ کر منبر پر ایک خطبہ دیا جس میں ارشاد فرمایا کہ اگر تم لوگوں نے اسامہ کی سپہ سالاری پر طعنہ زنی کی ہے تو تم لوگوں نے اس سے قبل اس کے باپ کے سپہ سالا ر ہونے پر بھی طعنہ زنی کی تھی حالانکہ خدا کی قسم ! اس کا باپ ( زید بن حارثہ ) سپہ سالار ہونے کے لائق تھا اور اس کے بعد اس کا بیٹا ( اسامہ بن زید ) بھی سپہ سالار ہونے کے قابل ہے اور یہ میرے نزدیک میرے محبوب ترین صحابہ میں سے ہے جیسا کہ اس کا باپ میرے محبوب ترین اصحاب میں سے تھا لہذا اسامہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے بارے میں تم لوگ میری نیک وصیت کو قبول کرو کہ وہ تمہارے بہترین لوگوں میں سے ہے۔ حضورﷺیہ خطبہ دے کر مکان میں تشریف لے گئے اور آپ کی علالت میں کچھ اور بھی اضافہ ہو گیا۔ حضرت اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ حکم نبوی کی تکمیل کرتے ہوئے مقام جرف میں پہنچ گئے تھے اور وہاں لشکر اسلام کا اجتماع ہوتا رہا یہاں تک کہ ایک عظیم لشکر تیار ہو گیا۔10ربیع الاول 11ہجری کو جہاد میں جانے والے خواص حضورﷺسے رخصت ہونے کے لئے آئے اور رخصت ہو کر مقام جرف میں پہنچ گئے ۔ اس کے دوسرے دن حضورﷺکی علالت نے اور زیادہ شدت اختیار کر لی ۔ حضرت اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی آپﷺکی مزاج پرسی اور رخصت ہونے کے لئے خدمت اقدس میں حاضر ہوئے آپﷺنے حضرت اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ کو دیکھا مگر ضعف کی وجہ سے کچھ بول نہ سکے، بار بار دست مبارک کو آسمان کی طرف اٹھاتے تھے اور ان کے بدن پر اپنا مقدس ہاتھ پھیرتے تھے۔ حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ اس سے میں نے یہ سمجھا کہ حضورﷺمیرے لئے دعا فر مار ہے ہیں ۔ اس کے بعد حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رخصت ہو کر اپنی فوج میں تشریف لے گئے اور ۱۲ ربیع الاول ۱۱ھ کو کوچ کرنے کا اعلان بھی فرما دیا۔ اب سوار ہونے کے لئے تیاری کر رہے تھے کہ ان کی والدہ حضرت اُم ایمن رضی اللہ تعالی عنہا کا فرستادہ آدمی پہنچا کہ حضورﷺنزع کی حالت میں ہیں۔ یہ ہوش ربا خبر سن کر حضرت اسامہ و حضرت عمر و حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالی عنہم وغیرہ فوراً ہی مدینہ آئے تو یہ دیکھا کہ آپﷺسکرات کے عالم میں ہیں اور اسی دن دو پہر کو یا سہ پہر کے وقت آپﷺکا وصال ہو گیا ۔ اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ۔ یہ خبر سن کر حضرت اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ کا لشکر مدینہ واپس چلا آیا مگر جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ مسند خلافت پر رونق افروز ہو گئے تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے بعض لوگوں کی مخالفت کے باوجود ربیع الآخر کی آخری تاریخوں میں اس لشکر کو روانہ فرمایا اور حضرت اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ مقام "ابنی" میں تشریف لے لے گئے اور وہاں بہت ہی خونریز جنگ کے بعد لشکر اسلام فتح یاب ہوا اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے باپ کے قاتل اور دوسرے کفار کو قتل کیا اور بے شمار مال غنیمت لے کر چالیس دن کے بعد مدینہ واپس تشریف لائے ۔
(مدارج النبوة ج ۲ ص ۴۰۹ تا ص ۴۱۱ وزرقانی ج ۳ ص ۱۰۷ تا ۱۱۲)
ہجرت کے گیارہویں سال 20 یا 22 صفر کو اللہ کے آخری نبی جنت البقیع آدھی رات کو تشریف لے گئے ، وہاں سے واپس تشریف لائے تو مزاج مبارک ناساز ہو گیا۔ کچھ دن تک علالت بہت بڑھ گئی (1)۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم تمام ازواج مطہرات کی اجازت سے حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ مبارکہ میں تشریف فرما ہوئے(2) ۔ جب کمزوری بہت زیادہ بڑھ گئی تو آپﷺنے حکم دیا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ میرے مصلی پر نماز پڑھائیں۔ چنانچہ سترہ نمازیں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پڑھائیں (3)۔ وفات سے تھوڑی دیر پہلے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر رضی الله عنه تازه مسواک ہاتھ میں لئے حاضر ہوئے۔ آپﷺنے ان کی طرف نظر جما کر دیکھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے سمجھا کہ مسواک کی خواہش ہے۔ انہوں نے فورا ہی مسواک لے کر اپنے دانتوں سے نرم کی اور دستِ اقدس میں دے دی آپﷺنے مسواک فرمائی(4) ۔ پیر کے دن، ربیع الاول کے مہینے میں آپﷺنے رحلت فرمائی۔ مشہور قول کے مطابق 12 ربیع الاول ہجرت کے گیارہویں سال آپﷺنے ظاہری طور پر اس دنیا سے پردہ فرمایا (5)۔ آپﷺکے وصالِ ظاہری سے صحابہ کرام علیہم الرضوان کو بڑا صدمہ ہوا۔ آپﷺکی وصیت کے مطابق آپ کے اہل بیت و اہلِ خاندان نے آپﷺ کی تجہیز و تکفین کی خدمت انجام دی۔ آپﷺکا جنازہ مبارکہ حجرہ شریف کے اندر ہی رہا (6).حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے نبی علیہ السلام کی نماز جنازہ ادا کرنے کی تفصیل یوں بیان فرمائی کہ جب اللہ کے آخری نبی ﷺوصال فرما گئے تو مر د داخل ہوئے اور انہوں نے بغیر امام کے انفرادی طور پر صلوۃ و سلام پڑھا، پھر عور تیں داخل ہوئیں تو انہوں نے بھی آپﷺپر صلوۃ و سلام پڑھا۔ پھر بچے گئے انہوں نے بھی ایسے ہی کیا۔ پھر غلام گئے انہوں نے بھی آپﷺپر صلوۃ و سلام پڑھا۔ کسی کسی نے بھی آپﷺپر امامت نہ کروائی۔ شروع میں صحابہ کرام علیہم الرضوان میں اختلاف ہوا کہ آقا کریمﷺکو کہاں دفن کیا جائے، اس موقع پر حضرت ابو بکر صدیق رضی عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول خداﷺسے یہ سنا ہے کہ ہر نبی اپنی وفات کے بعد اسی جگہ دفن کیا جاتا ہے جس جگہ اس کی وفات ہوئی ہو۔ اس حدیث کو سن کر لوگوں نے اسی جگہ (حجرہ عائشہ) میں آپﷺکی قبر تیار کی اور آپﷺ اسی میں مدفون ہوئے۔ حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ نے بغلی قبر شریف تیار کی، حضرت علی، حضرت فضل بن عباس، حضرت قم بن عباس اور حضرت عباس رضی اللہ عنھم اجمعین نے جسم اقدس کو قبر منور میں اتارا۔
(1)سبل الهدی والرشاد، ابواب مرض رسول الله ووفاته، الباب الرابع - الخ ، 12 / 233 و سیرت مصطفیٰ ، ص 542۔
(2)مواہب اللدنية وشرح الزرقانی، الفصل الاول في اتمامه ... الخ 83/12 ملخصاً.
(3)مواہب اللدنية وشرح الزرقاني، الفصل الاول في.... الخ 12 / 108-10 ملتقطا و ملخصا ۔
(4)مواہب الله نية وشرح الزرقانی، الفصل الأول في اتمامه ... الخ 12 / 95 ملخصا ۔
(5)طبقات ابن سعد، ذکر کم مرض رسول 2/ 208 و فتاوی رضویہ ، 416/26.
(6)مدارج النبوت ، 437/2 ملخصاً
(7)سنن ابن ماجه ، کتاب الجنائز، باب ذکر وفاته و رفته ( 284/2-286، حدیث: 1628 ملتقطا ۔