logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

سانحہ رجیع،بئر معونہ،اماحسین رضی اللہ عنہ کی ولادت اور دیگر اس سال کے واقعات

سانحہ رجیع

ہجرت کے چوتھے سال یہ دردناک واقعہ پیش آیا۔ قبیلہ "عضل وقارہ" کے چند آدمی اللہ کے آخری نبیﷺکی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ہمارے قبیلے نے اسلام قبول کر لیا ہے آپﷺ کچھ صحابہ کرام علیہم الرضوان کو بھیج دیں جو انہیں اسلام سکھائیں۔ آپ ﷺ نے دس صحابہ کرام علیہم الرضوان کی ایک جماعت کو ان کے ساتھ کر دیا۔ جب یہ قافلہ رجیع کے مقام پر پہنچا تو کافروں نے دھو کے بازی کر ڈالی۔ اور دھوکے سے ان میں سے آٹھ مسلمانوں کو شہید کر ڈالا جبکہ دو کو کفار نے مکہ لے جا کر فروخت کر ڈالا۔

(مدارج النبوت، قسم سوم ، باب چهارم ، 138/2 الملتقطاً)


نوٹ: رجیع عسفان اور مکہ کے درمیان ایک جگہ کا نام رجیع ہے۔ عسفان مدینہ سے 380 اور مکہ سے 93 کلو میٹر دور ہے۔

(آخری نبی کی پیاری سیرت ص 84)


سیرت کا حصہ:
1/8
سیدُنا امامِ حُسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ولادتِ با سعادت

سیدُنا امامِ حُسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ولادتِ با سعادت 5 شَعبانُ المُعظَّم 4 ھ کو مدینۂ منوَّرہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً میں ہوئی۔ (معجم الصحابہ للبغوی ج۲ ص۱۴ )

سیرت کا حصہ:
2/8
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنھاسے نکاح

سیدہ ام سلمہ ۔رضی اللہ عنھا

آپ کے شوہر حضرت ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو غزوہ احد میں ایک گہرا زخم لگا جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ شدید تکلیف میں مبتلا ہو کر صاحبِ فراش ہو گئے۔ اس زخم کے بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پانچ یا سات ماہ تک حیات رہ کر وصال فرماگئے ۔

( تھذیب التھذیب ،۱۲، ۴۵۶)


حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کے پاس کم عمراولاد کےعلاوہ عزیز و اقارب میں سے کوئی دیکھ بھال کرنے والا نہ تھا۔ اس صورت حال کے پیش نظر ایام عدت گزر جانے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ  نے نکاح کا پیغام بھیجا لیکن انہوں نے انکار کر دیا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پیش کش کی،وہ بھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنھا نے قبول نہ کی ، پھر چند دن  بعد رسول اللہﷺنے پیش کش کی تو اوّلاً آپ رضی اللہ تعالی عنہا نے پیارے آقا ﷺ کے مقام و مرتبہ کو دیکھتے ہوئے کچھ معروضات  پیش کیں جس پر پیارے آقا ﷺ کی لطف  و کرم سے بھر پور گفتگو سن کر بخوشی رضامند ہوگئیں او ام المومنین کے عظیم مرتبہ پر فائز ہوگئیں ۔

(صفۃ الصفوۃ،۱، ۳۲۴)


سیرت کا حصہ:
3/8
نماز خوف کا حکم

غزوۂ ذاتُ الرِّقاع میں جب رسولِ اکرم کو مشرکین نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے تمام صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے ساتھ نمازِ ظہر باجماعت ادا فرمائی تو انہیں افسوس ہوا کہ انہوں نے اس وقت میں کیوں نہ حملہ کیا اور آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ کیا ہی اچھا موقع تھا۔ ان میں بعضوں نے کہا کہ اس کے بعد ایک اور نماز ہے جو مسلمانوں کو اپنے ماں باپ سے زیادہ پیاری ہے یعنی نمازِ عصر، لہٰذا جب مسلمان اس نماز کے لیے کھڑے ہوں تو پوری قوت سے حملہ کرکے انہیں قتل کردو۔ اس وقت حضرت جبریلِ امین عَلَیْہِ السَّلَام نازل ہوئے اور انہوں نے حضور سیدُ المرسلین سے عرض کیا :یا رسولَ اللہ ! یہ نماز ِخوف ہے یعنی اب یوں نماز پڑھیں۔ٍ

*وَ اِذَا كُنْتَ فِیْهِمْ فَاَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلٰوةَ فَلْتَقُمْ طَآىٕفَةٌ مِّنْهُمْ مَّعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْۤا اَسْلِحَتَهُمْ- فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَكُوْنُوْا مِنْ وَّرَآىٕكُمْ ۪- وَ لْتَاْتِ طَآىٕفَةٌ اُخْرٰى لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْا حِذْرَهُمْ وَ اَسْلِحَتَهُمْۚ-وَدَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِكُمْ وَ اَمْتِعَتِكُمْ فَیَمِیْلُوْنَ عَلَیْكُمْ مَّیْلَةً وَّاحِدَةًؕ-وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ كَانَ بِكُمْ اَذًى مِّنْ مَّطَرٍ اَوْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَنْ تَضَعُوْۤا اَسْلِحَتَكُمْۚ-وَ خُذُوْا حِذْرَكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا* (102)

ترجمہ: اور اے حبیب! جب تم ان میں تشریف فرما ہو پھر نماز میں ان کی امامت کرو تو چاہئے کہ ان میں ایک جماعت تمہارے ساتھ ہو اور وہ اپنے ہتھیار لیے رہیں پھر جب وہ سجدہ کرلیں تو ہٹ کر تم سے پیچھے ہوجائیں اور اب دوسری جماعت آئے جو اس وقت تک نماز میں شریک نہ تھی اب وہ تمہارے ساتھ نماز پڑھیں اور (انہیں بھی) چاہئے کہ اپنی حفاظت کا سامان اور اپنے ہتھیار لیے رہیں ۔ کافر چاہتے ہیں کہ اگرتم اپنے ہتھیاروں اور اپنے سامان سے غافل ہو جاؤ تو ایک ہی دفعہ تم پرحملہ کردیں اور اگر تمہیں بارش کے سبب تکلیف ہو یا بیمار ہو توتم پرکوئی مضائقہ نہیں کہ اپنے ہتھیار کھول رکھو اور اپنی حفاظت کا سامان لئے رہو۔ بیشک اللہ نے کافروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔


(خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ۱ / ۴۲۳)


سیرت کا حصہ:
4/8
پردے کے حکم کا نزول

علامہ مخدوم ہاشم ٹھٹھوی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب سیرت سید الانبیاء میں فرماتے ہیں: 4 ہجری ذو القعدۃ الحرام کے مہینےمیں اُمُّ المومنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی کاشانَۂ نبوّت میں رخصتی کے دن مسلمان عورتوں کے لیے پردہ کا حکم نازل ہوا۔

(سیرت سید الانبیا، حصہ دوم، ص ۳۵۱)

سیرت کا حصہ:
5/8
واقعہ بئر معونه

ماہ صفر 4 ہجری میں ”بیر معونہ “ کا مشہور واقعہ پیش آیا۔ عامر بن مالک جو بہادری میں مشہور تھا وہ اللہ کے آخری نبیﷺکی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپﷺنے اس کو اسلام کی دعوت دی ، نہ تو اس نے قبول کی اور نہ ہی نفرت کا اظہار کیا۔ بلکہ اپنے ساتھ چند منتخب صحابہ علیھم الرضوان کو بھیجنے کی درخواست کی۔ آپﷺ نے فرمایا کہ مجھے نجد کے کافروں کی طرف سے خطرہ ہے۔ اس نے کہا کہ میں آپﷺ کے اصحاب کی جان و مال کی حفاظت کا ضامن ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے 70 صحابہ کرام علیہم الرضوان کو بھیج دیا۔ جب یہ صحابہ علیھم الرضوان مقام بئر معونہ پر پہنچے تو ان کے قافلہ سالار آپﷺ کا خط لے کر عامر بن طفیل کے پاس گئے جو عامر بن مالک کا بھتیجا تھا۔ اس نے انہیں بھی دھوکے سے شہید کروا دیا اور قریب کے قبائل کو ملا کر ان صحابہ کرام علیہم الرضوان پر حملہ کر دیا۔ صرف ایک صحابی حضرت عمرو بن امیہ کو انہوں نے چھوڑ دیا باقی تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان کو شہید کر دیا۔ انہوں نے مدینہ پہنچ کر جب یہ تمام واقعہ اللہ کے آخری نبیﷺ کو سنایا تو آپ کو شدید صدمہ ہوا۔

(آخری نبی کی پیاری سیرت ص84.85)

سیرت کا حصہ:
6/8
سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح

حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح ( ۳ھ یا ۵ ھ میں ) 35 برس کی عمر میں ہوگیا۔


سیرت کا حصہ:
7/8
غزوہ ذات الرقاع

سب سے پہلے قبائل ”انمار و ثعلبہ” نے مدینہ پر چڑھائی کرنے کا ارادہ کیا جب حضورﷺکو اِس کی اطلاع ملی توآپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے چار سو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا لشکر اپنے ساتھ لیا او ۱۰محرم ۵ھ؁کو مدینہ سے روانہ ہو کر مقامِ ”ذات الرقاع” تک تشریف لے گئے لیکن آپﷺکی آمد کا حال سن کر یہ کفار پہاڑوں میں بھاگ کر چھپ گئے اس لئے کوئی جنگ نہیں ہوئی۔ مشرکین کی چند عورتیں ملیں جن کو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے گرفتارکرلیا۔ اس وقت مسلمان بہت ہی مفلس اور تنگ دستی کی حالت میں تھے۔ چنانچہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ سواریوں کی اتنی کمی تھی کہ چھ چھ آدمیوں کی سواری کے لئے ایک ایک اونٹ تھا جس پر ہم لوگ باری باری سوار ہو کر سفر کرتے تھے پہاڑی زمین میں پیدل چلنے سے ہمارے قدم زخمی اور پاؤں کے ناخن جھڑ گئے تھے اس لئے ہم لوگوں نے اپنے پاؤں پر کپڑوں کے چیتھڑے لپیٹ لئے تھے یہی وجہ ہے کہ اس غزوہ کا نام ”غزوہ ذات الرقاع” (پیوندوں والا غزوہ) ہو گیا۔

(1) (بخاری غزوہ ذات الرقاع ج۲ ص۵۹۲)


سیرت کا حصہ:
8/8
سانحہ رجیع،بئر معونہ،اماحسین رضی اللہ عنہ کی ولادت اور دیگر اس سال کے واقعات | Seerah Timeline - Seerat Ki Dunya