اسلامک ڈیسک کی جانب سے
آپ ﷺ کی عمر مبارک جب 12 برس ہوئی تو آپ ﷺ نے اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ شام کی طرف پہلا تجارتی سفر فرمایا۔ جب قافلہ شہر پہنچا تو وہاں کے ایک راہب بحیرہ جس کا اصل نام ”بر جیس“ تھا اس سے آپ ﷺ کی ملاقات ہوئی۔ اس نے آپ ﷺ کو علامات نبوت سے پہچان لیا اور آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑ کر یہ اعلان کرنے لگا یہ تمام جہانوں کے سردار ہیں ، یہ رب العالمین کے رسول ہیں، اللہ کریم انہیں رحمۃ للعالمین (تمام جہانوں کیلئے رحمت) بنا کر بھیجے گا۔ پھر اس نے آپ ﷺ اور اہلِ قافلہ کیلئے کھانے کی دعوت کا اہتمام کیا۔ اس دعوت میں اس نے مزید کچھ نبوت کی علامات دیکھیں۔ اس نے ابو طالب سے کہا: انہیں شام مت لے جاؤ۔ اگر اہل شام نے انہیں نبوت کی علامات سے پہچان لیا تو انہیں قتل کرنے کی کوشش کریں گے۔ لہذا آپ ﷺ اسی مقام سے واپس تشریف لے آئے۔ اس راہب نے آپ ﷺ کو سفر کیلئے کچھ سامان بھی دیا۔
(ترمذی، کتاب المناقب، باب ما جاء في بدء نبوة النبي ، 356/5-357، حدیث : 3640 ماخوذاً)