logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

صلح حدیبیہ ،بیعت رضوان،بادشاہوں کو مکتوب ارسال

عمرہ کا ارادہ ، بیعت رضوان اور صلح حدیبیہ


اس سال کے تمام واقعات میں سب سے زیادہ اہم اور شاندار واقعہ ’’بیعۃ الرضوان‘‘ اور ’’صلح حدیبیہ‘‘ ہے۔ تاریخ اسلام میں اس واقعہ کی بڑی اہمیت ہے۔ کیونکہ اسلام کی تمام آئندہ ترقیوں کا راز اسی کے دامن سے وابستہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گوبظاہر یہ ایک مغلوبانہ صلح تھی مگر قرآن مجید میں خداوند عالم نے اس کو ’’فتح مبین‘‘ کا لقب عطا فرمایا ہے۔

ذوالقعدہ ۶ھ میں حضور ﷺ چودہ سو صحابۂ کرام کے ساتھ عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ کے لئے روانہ ہوئے۔ حضور ﷺ کو اندیشہ تھا کہ شاید کفار مکہ ہمیں عمرہ ادا کرنے سے روکیں گے اس لئے آپ ﷺ نے پہلے ہی قبیلۂ خزاعہ کے ایک شخص کو مکہ بھیج دیا تھا تاکہ وہ کفارمکہ کے ارادوں کی خبر لائے۔ جب آپ ﷺ کا قافلہ مقام ’’عسفان‘‘ کے قریب پہنچا تو وہ شخص یہ خبر لے کر آیا کہ کفارمکہ نے تمام قبائل عرب کے کافروں کو جمع کرکے یہ کہہ دیا ہے کہ مسلمانوں کو ہرگز ہرگز مکہ میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔ چنانچہ کفارقریش نے اپنے تمام ہمنوا قبائل کو جمع کرکے ایک فوج تیار کرلی اور مسلمانوں کا راستہ روکنے کے لئے مکہ سے باہر نکل کر مقامِ ’’بلدح‘‘ میں پڑاؤ ڈال دیا۔ اور خالد بن الولید اور ابوجہل کا بیٹا عکرمہ یہ دونوں دو سوچنے ہوئے سواروں کا دستہ لے کر مقام ’’غمیم‘‘ تک پہنچ گئے۔ جب حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو راستہ میں خالد بن ولید کے سواروں کی گرد نظر آئی تو آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے شاہراہ سے ہٹ کر سفر شروع کردیا اور عام راستہ سے کٹ کر آگے بڑھے اور مقام ’’حدیبیہ‘‘ میں پہنچ کر پڑاؤ ڈالا۔ یہاں پانی کی بے حد کمی تھی۔ ایک ہی کنواں تھا۔ وہ چند گھنٹوں ہی میں خشک ہوگیا۔ جب صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم پیاس سے بے تاب ہونے لگے تو حضور ﷺ نے ایک بڑے پیالہ میں اپنا دست مبارک ڈال دیا اور آپ ﷺ کی مقدس انگلیوں سے پانی کا چشمہ جاری ہوگیا۔ پھر آپ ﷺ نے خشک کنویں میں اپنے وضو کا غسالہ اور اپنا ایک تیر ڈال دیا تو کنویں میں اس قدر پانی ابل پڑا کہ پورا لشکر اور تمام جانور اس کنویں سے کئی دنوں تک سیراب ہوتے رہے

(بخاری غزوۂ حدیبیہ ج ۲ ص ۵۹۸و بخاری ج۱ص۳۷۸ )


مقام حدیبیہ میں پہنچ کر حضور ﷺ نے یہ دیکھا کہ کفار قریش کا ایک عظیم لشکر جنگ کے لئے آمادہ ہے اور ادھر یہ حال ہے کہ سب لوگ احرام باندھے ہوئے ہیں اس حالت میں جوئیں بھی نہیں مار سکتے تو آپ ﷺ نے مناسب سمجھا کہ کفارمکہ سے مصالحت کی گفتگو کرنے کے لئے کسی کو مکہ بھیج دیا جائے۔ چنانچہ اس کام کے لئے آپ نے حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو منتخب فرمایا۔ لیکن انہوں نے یہ کہہ کر معذرت کردی کہ یارسول اللہ ! ﷺ کفارقریش میرے بہت ہی سخت دشمن ہیں اور مکہ میں میرے قبیلہ کا کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ہے جو مجھ کو ان کافروں سے بچا سکے۔ یہ سن کر آپ ﷺ نے حضرت عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو مکہ بھیجا۔ انہوں نے مکہ پہنچ کر کفارقریش کو حضور ﷺ کی طرف سے صلح کا پیغام پہنچایا۔ حضرت عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ اپنی مالداری اور اپنے قبیلہ والوں کی حمایت و پاسداری کی وجہ سے کفار قریش کی نگاہوں میں بہت زیادہ معزز تھے۔ اس لئے کفارقریش ان پر کوئی درازدستی نہیں کرسکے۔ بلکہ ان سے یہ کہا کہ ہم آپ کو اجازت دیتے ہیں کہ آپ کعبہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کرکے اپنا عمرہ ادا کرلیں مگر ہم محمد(ﷺ) کو کبھی ہرگز ہرگز کعبہ کے قریب نہ آنے دیں گے۔ حضرت عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے انکار کردیا اور کہا کہ میں بغیر رسول اللہ ﷺ کو ساتھ لئے کبھی ہرگز ہرگز اکیلے اپنا عمرہ نہیں ادا کرسکتا۔ اس پر بات بڑھ گئی اور کفار نے آپ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو مکہ میں روک لیا۔ مگر حدیبیہ کے میدان میں یہ خبر مشہور ہوگئی کہ کفار قریش نے ان کو شہید کردیا۔ حضور ﷺ کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے خون کا بدلہ لینا فرض ہے۔ یہ فرماکر آپ ﷺ ایک ببول کے درخت کے نیچے بیٹھ گئے اور صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے فرمایا کہ تم سب لوگ میرے ہاتھ پر اس بات کی بیعت کرو کہ آخری دم تک تم لوگ میرے وفادار اور جاں نثارر ہوگے۔ تمام صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم نے نہایت ہی ولولہ انگیز جوش و خروش کے ساتھ جاں نثاری کا عہد کرتے ہوئے حضور ﷺ کے دست حق پرست پر بیعت کرلی۔ یہی وہ بیعت ہے جس کا نام تاریخ اسلام میں ’’بیعۃ الرضوان‘‘ ہے۔ حضرت حق جل مجدہ نے اس بیعت اور اس درخت کا تذکرہ قرآن مجید کی سورۂ فتح میں اس طرح فرمایا ہے کہ


*اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَؕ-یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْۚ*

(پ۲۶الفتح : ۱۰)

یقینا جو لوگ (اے رسول) تمہاری بیعت کرتے ہیں وہ تو اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے۔ اسی سورۂ فتح میں دوسری جگہ ان بیعت کرنے والوں کی فضیلت اور ان کے اجروثواب کا قرآن مجید میں اس طرح خطبہ پڑھا کہ


*لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ عَلَیْهِمْ وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاۙ* (۱۸) 3


بے شک اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ درخت کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے تو اللہ نے جانا جوان کے دلوں میں ہے پھر ان پر اطمینان اتار دیا اور انہیں جلد آنے والی فتح کا انعام دیا۔


لیکن ’’بیعۃ الرضوان‘‘ ہوجانے کے بعد پتا چلا کہ حضرت عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی شہادت کی خبر غلط تھی۔ وہ باعزت طورپر مکہ میں زندہ و سلامت تھے اور پھر وہ بخیروعافیت حضور ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر بھی ہوگئے۔4

سیرت کا حصہ:
1/4
صلح حدیبیہ اور اس کی وجوہات

اللہ کے آخری نبیﷺاور آپ کے صحابہ کرام علیہم الرضوان عمرہ کے ارادے سے چلے تھے۔ اسی وجہ سے قربانی کے جانور بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھے۔ مگر کافروں نے قسمیں اٹھا لیں کہ ہم اپنے جیتے جی مسلمانوں کو کعبہ شریف تک نہیں پہنچنے دیں گے۔ جب آپ ﷺ کی طرف سے صلح کا پیغام لے کر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ مکہ تشریف لے گئے تو قریش نے بھی آپ ﷺ کی خدمت میں کچھ لوگ بات چیت کیلئے بھیجے مگر بات نہ بن سکی۔ پھر قریش نے سہیل بن عمرو کو صلح کی شرائط طے کرنے کیلئے بھیجا جس کے نتیجے میں صلح حدیبیہ کا معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کی کچھ شرائط یہ ہیں:

1.مسلمان اس سال بغیر عمرہ کے واپس چلے جائیں۔

2.آئندہ سال عمرہ کیلئے آسکتے ہیں مگر مکہ میں صرف تین دن رکیں۔

3.آئندہ 10 سال تک کوئی لڑائی نہیں کی جائے گی۔

4.قبائل عرب جس کے ساتھ چاہیں دوستی کا معاہدہ کر سکتے ہیں۔

5.مکہ سے کوئی مسلمان مدینہ چلا گیا تو اسے واپس کرنا ضروری ہو گا۔

قرآن پاک میں اس صلح کو "فتح مبین" فرمایا گیا۔ بظاہر یہ معاہدہ مسلمانوں کے خلاف تھا مگر اس کے بعد ہونے والے واقعات نے بتا دیا کہ یہی صلح بعد میں ہونے والی فتوحات کی کنجی ثابت ہوئی۔

(آخری نبی کی پیاری سیرت ص 93)

سیرت کا حصہ:
2/4
سلاطین کے نام دعوت اسلام

صلح حدیبیہ کے بعد ہر طرف امن و سکون کی فضا ہو گئی۔ اللہ کے آخری نبی ﷺ چونکہ تمام جہان کی طرف نبی ہیں ، اس لیے آپ ﷺ نے ارادہ فرمایا کہ اسلام کا پیغام تمام دنیا میں پہنچایا جائے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے مختلف بادشاہوں کی طرف قاصدوں کے ذریعے خط روانہ فرمائے۔


سیرت کا حصہ:
3/4
حضرت نجاشی رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

مواہب لدنیہ میں لکھا ہوا ہے کہ یہ نجاشی جن کے پاس اعلان نبوت کے پانچویں سال مسلمان مکہ سے ہجرت کرکے گئے تھے اور ؁ 6ھ میں جن کے پاس حضور ﷺ نے خط بھیجا اور ۹ھ میں جن کا انتقال ہوا اور مدینہ میں حضور ﷺ نے جس کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھائی ان کا نام ’’اصمحہ رضی اللہ عنہ‘‘ تھا اور یہ بلاشبہ مسلمان ہوگیا تھا۔

(مدارج النبوۃ ج ۲ص ۲۲۰ )

سیرت کا حصہ:
4/4
صلح حدیبیہ ،بیعت رضوان،بادشاہوں کو مکتوب ارسال | Seerah Timeline - Seerat Ki Dunya