اسلامک ڈیسک کی جانب سے


آیت کی رو سے عور تیں اپنے ماں باپ اور قرابتیوں کی وارث ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے حجتہ الوداع کے خطبہ میں یوں ارشادفرمایا *"فَاتَّقُوا اللهَ فِي النِّسَاءِ فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانِ اللهِ"* پس عورتوں کے معاملہ میں تم خدا سے ڈرو کیونکہ تم نے ان کو عہدخدا کے ساتھ لیا ہے۔ اللہ پاک نے بیویوں کے متعلق شوہروں کو حکم فرمایا : *"وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِۚ"* ترجَمۂ کنز الایمان : اور ان سے اچھا برتاؤ کرو۔ (پارہ ۴ ، النساء : ۱۹) اسلام نے ہی بیویوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے والے کو سب سے بہترین قرار دیا۔ چنانچہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا ، سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل کے لئے بہتر ہو اور میں تم سب سے اپنے اہل کے لئے بہتر ہوں ۔ (ترمذی ) ایک روز عورتوں نے حضور ﷺکی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ آپ ﷺ کے ہاں مردوں کا ہر روز ہجوم رہتا ہے۔ آپ ﷺ ہمارے لئے ایک خاص دن مقرر فرمائیں۔ چنانچہ حضور ﷺ نے عورتوں کے لئے ایک دن خاص کردیا وہ اس دن حاضر خدمت اقدس ہوتیں،آپ ﷺان کو وعظ و نصیحت فرماتے۔ آقاکریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص 3 بیٹیوں یا بہنوں کی اس طرح پرورش کرے کہ ان کو ادب سکھائے اور ان سے مہربانی کا برتاؤ کرے یہاں تک کہ اللہ پاک انہیں بے نیاز کردے (مثلاً ان کا نکاح ہو جائے ) تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنّت واجب فرما دیتا ہے۔ یہ ارشادِ نبوی سن کر ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کی ، یارسول اللہ ﷺ اگر کوئی شخص 2 لڑکیوں کی پرورش کرے؟ تو ارشاد فرمایا : اس کے لئے بھی یہی اَجروثواب ہے۔ (راوی فرماتے ہیں)یہاں تک کہ اگر لوگ ایک(بیٹی) کا ذکر کرتے توآپ ﷺ اس کے بارے میں بھی یہی فرماتے۔ (شرح السنہ ، کتاب البر والصلۃ ، باب ثواب کافل الیتیم،)
لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ ۪- وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَؕ-نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا