logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

پیارے نبی ﷺ کا دوستی نبھانا

پیارے نبی ﷺ کا دوستی نبھانا

نبی پاک ﷺ کی حسن معاشرت

حدیث

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الرَّجُلُ عَلَى دِيْنِ خَلِيْلِهِ فَلْيَنْظُرْ اَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ۔

ریاض الصالحین (حدیث 367)

ترجمہ

حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی پاک، صاحب لولاک ﷺ نے ارشاد فرمایا : آدمی اپنے دوست کے دِین پر ہوتا ہے لہٰذا تم میں سے ہر ایک دیکھ لے وہ کس سے دوستی کررہا ہے ۔

حکایت

*دوست کو مشکل وقت میں حوصلہ دینا : * حضور ﷺ اپنے یارِ غارویارِمزارحضرتِ سیدنا صدِیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ساتھ بوقت ہجرت یہاں تین رات قِیام پذیر رہے۔ جب دشمن تلاش کرتے ہوئے غارِ ثور کے منہ پر آپہنچے تو حضرتِ سیدنا صدِیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ غمزدہ ہو گئے اور عرض کی: یارسول اللہﷺ! دشمن اتنے قریب آچکے ہیں کہ اگر وہ اپنے قدموں کی طرف نظر ڈالیں گے تو ہمیں دیکھ لیں گے، سرکارِ نامدارﷺ نے انہیں تسلّی دیتے ہوئے فرمایا: *"لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَاۚ۔"* ترجَمۂ کنزالایمان:غم نہ کھا بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ (پ10،التوبہ: 40) حضرت سیِدنا ابو ہریرہ رضی اللہُ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی پاکﷺ نے ارشادفرمایا : ’’آدمی اپنے دوست کے دِین پر ہوتا ہے لہٰذا تم میں سے ہر ایک دیکھ لے وہ کس سے دوستی کررہا ہے مفَسِرشہیرمحدث کبیرحکیم الامت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنان فرماتے ہیں : دین سے مراد یا تو ملت و مذہب ہے یا سیرت و اخلاق ، دوسرے معنیٰ زیادہ ظاہر ہیں ۔ یعنی عمومًا انسان اپنے دوست کی سیرت و اخلاق اختیار کرلیتا ہے کبھی اس کا مذہب بھی اختیار کرلیتا ہے لہٰذا اچھوں سے دوستی رکھو تاکہ تم بھی اچھے بن جاؤ ۔ صوفیاء فرماتے ہیں، *"لَاتُصَاحِبْ اِلَّا مُطِیْعًا وَلَا تُخَالِلْ اِلَّا تَقِیًّا"* یعنی نہ ساتھ رہو مگر اللہ رسول کی فرمانبرداری کرنے والے کے نہ دوستی کرو مگر متقی سے ۔ (فیضان ریاض الصالحیں حدیث 367) روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے وہ نبی ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ سارے انسانوں میں مجھ پر بڑا احسان کرنے والے اپنی صحبت اپنی محبت و مال میں ابوبکر ہیں اور بخاری کے نزدیک ابابکر ہے اور اگر میں کسی کو دلی دوست بناتا تو میں ابوبکر کو دوست بناتا لیکن اسلام کا بھائی چارا اور اس کی دوستی ہے۔ فرمانِ مصطفیٰ ﷺ ہے: اچھے برے ساتھی کی مثال مُشک کے اٹھانے اور بھٹی دھونکنے(آگ بھڑکانے) والے کی طرح ہے، مُشک اٹھانے والا یا تجھے ویسے ہی دے گا یا تُو اس سے کچھ خرید لے گا یا اس سے اچھی خوشبو پائے گا اور بھٹی دھونکنے والا یا تیرے کپڑے جلادے گا یا تُو اس سے بدبو پائے گا۔ (فیضان ریاض الصالحین حدیث 363) اچھے دوست کے بارے میں دو فرامینِ مصطفیٰ ﷺ مزید ملاحظہ کیجئے: (1) اچھا ہم نشیں وہ ہے کہ اس کے دیکھنے سے تمہیں خدا یاد آئے اور اس کی گفتگو سے تمہارے عمل میں اضافہ ہو اور اس کا عمل تمہیں آخرت کی یاد دلائے۔ (2) اچھا ساتھی وہ ہے کہ جب تو خدا کو یاد کرے وہ تیری مدد کرے اور جب تو بُھولے تو یاد دلا دے۔ (جامع صغیر حدیث 4063/3999) حضرت سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :مسلمانوں کی آپس میں دوستی ، رحمت اور شفقت کی مثال ایک جسم کی طرح ہے جب جسم کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتاہے تو پورا جسم بخار اور بے خوابی کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ (فیضان ریاض الصالحیں حدیث 224) ایک اور مقام پر آقا کریم ﷺ نے فرمایا : دوست تین قسم کے ہیں ایک وہ دوست جو کہے: تیرا وہ ہے جو تو نے خرچ کیا اور جو تو نے روکا وہ تیرا نہیں، یہ تیرا مال ہے۔ ایک وہ دوست جو کہتا ہے: میں تیرے مرنے تک تیرے ساتھ ہوں پھر میں لَوٹ جاؤں گا اور تجھے چھوڑ دوں گا، یہ تیرے اہل وعیال اور خاندان والے ہیں جو تیرے ساتھ زندگی گزارتے ہیں یہاں تک کہ تو اپنی قبر میں پہنچ جاتا ہے اور وہ تجھے چھوڑ جاتے ہیں۔ ایک دوست وہ ہے جو کہے گا: میں تیرے آنے میں بھی تیرے ساتھ ہوں اور جانے میں بھی، وہ تیرا عمل ہے، تَو انسان(حسرت سے ) کہے گا: اللہ کی قسم! (دنیا میں) تُو میرے لئے ان تینوں سے زیادہ آسان تھا۔ (مستدرک حدیث 256)

اہم نکات

  • کسی بھی شخص کو اپنا رفیق بنانے سے پہلے اس کے دینی اور دنیاوی حالات کا جائزہ لے لینا چاہیے ۔
  • انسان کے اخلاق و کردار پر اس کے ساتھ رہنے والے لوگوں کا بہت زیادہ اثر پڑتا ہے۔
پیارے نبی ﷺ کا دوستی نبھانا | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya