اسلامک ڈیسک کی جانب سے


وَعَنْ جرير قَالَ: مَا حَجَبَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ۔
شمائل ترمذی، (حدیث 218)حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے میرے مسلمان ہونے کے بعد سے کسی وقت مجھے حاضری سے نہیں روکا۔ اورحضورﷺ جب بھی مجھےدیکھا تو مسکرا کر دیکھا۔
حضرت ربیعہ رضی اللہُ عنہ پیارے آقا ﷺ کےخادم تھے، فرماتے ہیں کہ میں رات کونبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر رہا کرتا تھا اور آپ ﷺ کے وضو وغیرہ کے لیے پانی لایا کرتا تھا، ایک دن آپ ﷺ نے کرم فرمایا حضور ﷺ مجھے دیکھ کر مسکرائے اور آپﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا : اے ربیعہ! مانگ کیا مانگتا ہے؟ میں نے عرض کی: یارسول اللہ ﷺ میں جنت میں آپ ﷺ کا ساتھ (یعنی جنّت میں آپ ﷺ کے قریب جگہ)مانگتا ہوں۔ آپ ﷺ نےفرمایا: اس کے علاوہ اور کچھ؟ میں نے عرض کی: بس یہی کافی ہے۔ تو آپﷺ نے فرمایا: تو پھر سجدوں کی کثرت(یعنی زیادہ نوافل پڑھ) کر اپنے اس معاملے میں میری مدد کرو۔ (مراۃ المناجیح حدیث 896) حضرت سیدنا نفیع اعمٰی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ سے مصافحہ فرمایا (یعنی ہاتھ ملائے ) اور مسکرا نے لگے۔ پھر پوچھا جانتے ہو میں نے ایسا کیوں کیا؟ میں نے عرض کی نہیں۔ فرمانے لگے نبی کریم رؤف الرحیمﷺ نے مجھے شرف ملاقات بخشا تو میرے ساتھ ایسے ہی کیا پھر مجھ سے پوچھا جانتے ہو میں نے ایسا کیوں کیا؟ میں نے عرض کی نہیں! آپ ﷺ نے فرمایا جب دو مسلمان ملاقات کرتے وقت مصافحہ کرتے (یعنی ہاتھ ملاتے ہیں) اور دونوں ایک دوسرے کے سامنے اللہ تعالی کے لیے مسکراتے ہیں تو ان کے جدا ہونے سے پہلے ہی ان کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔ (المعجم الاوسط حدیث 7635) حضرت سیدنا ام درداء رضی اللہ عنہا حضرت سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کے متعلق فرماتی ہیں کہ وہ ہر بات مسکراکر کیا کرتے۔ جب میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا میں نے حسن اخلاق کے پیکر، محبوب رب اکبر ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ دوران گفتگو مسکرا تے رہتے تھے۔